Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

نئی فلم ’’خروج‘‘ کے لیے میرا جواب
اور بائبل پر اِس کا حملہ!

MY ANSWER TO THE NEW “EXODUS” MOVIE
!AND ITS ATTACK ON THE BIBLE
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 28 دسمبر، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, December 28, 2014

’’تُم مُوسٰی کا یقین کرتے ہوتو میرا بھی کرتے، اِس لیے کہ اُس نے میرے بارے میں لکھا ہے لیکن جب تُم اُس کی لکھی ہوئی باتوں کا یقین نہیں کرتے تو میرے مُنہ سے نکلی ہُوئی باتوں کا کیسے یقین کرو گے؟‘‘ (یوحنا 5:46، 47).

جب میں سترہ برس کی عمر کا تھا تو میں نے یقینی طور پر مذھبی خدمات کے لیے بُلایا جانا محسوس کیا تھا۔ میں ابھی تک بچایا نہیں گیا تھا، لیکن میں جانتا تھا کہ خُدا مجھے ایک مبلغ بنانا چاہتا تھا۔ اُنہوں نے مجھے بتایا کہ میرے پاس کالج کی ڈگری کا ہونا لازمی تھا۔ میں نے کافی عرصے تک اِس پر سوچ بچار کی۔ میں ہائی سکول کو چھوڑ چکا تھا اِس لیے کوئی بھی کالج مجھے نہیں لے گا۔ میں واپس ہائی سکول میں گیا۔ میں ایک ریگیولر ہائی سکول میں جانے کے لیے عمر میں کافی بڑا تھا، اِس لیے میں ’’بگڑے ہوئے بچوں‘‘ کے لیے ایک خصوصی سکول میں گیا۔ میں ایک بگڑا ہوا لڑکا نہیں تھا مگر یہی وہ واحد سکول تھا جو مجھے لے سکتا تھا۔ ایک سال یا تھوڑا عرصہ زیادہ کے بعد میں نے گریجوایشن مکمل کی اور کالج میں جانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ اِس وقت کے دوران میں نے جیمس ہڈسن ٹیلر James Hudson Taylor کے بارے میں ایک کتاب پڑھی، جو چین کے لیے نئی راہ دکھانے والے ایک بہت عظیم مشنری تھے۔ میں نے سوچا، ’’یہی ہے جو میں کرنے جا رہا ہوں۔ میں چینی لوگوں کے لیے ایک مشنری بنوں گا۔‘‘

میں اُنیس برس کا تھا جب میں نے لاس اینجلز میں پہلے چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں شمولیت اختیار کی۔ وہ ڈٓاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin کے پادری بننے سے ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ پہلے کی بات تھی۔ اُسی سال موسمِ خزان میں، میں نے بائیولا کالج (جو اب یونیورسٹی ہے) میں داخلہ لیا۔ میرا پاس کوئی روپے نہیں تھے اور میرے خاندان کی طرف سے کوئی مدد حاصل نہیں تھی، اِس لیے میں نے دوپہر میں ایک جُزوقتی ملازمت اختیار کی اور صبح میں کالج گیا۔ میرے پاس گاڑی نہیں تھی، لٰہذا مجھے لاس اینجلز سے لا میرادا La Mirada کے لیے جہاں پر میرا کالج واقع تھا بس لینی پڑتی۔ میں نہیں جانتا تھا کہ بہت اچھی پڑھائی کیسے کی جاتی تھی۔ علی الصبح کا طویل بس کا سفر اور دوپہر میں گھنٹوں کا کام میرے سنبھالنے کے لیے انتہائی زیادہ تھے۔ میں نے بائیولا میں اپنی زیادہ تر کلاسز میں ناکامی پائی اور ایک سیمسٹر کے بعد سکول جانا چھوڑ دیا۔ مگر بائیولا میں کچھ ایسا ہوا جس نے میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

ہر سیمسٹر میں بائیولا ایک مخصوص سپیکر کو ایک ہفتے تک کے لیے چھوٹے گرجہ گھر میں ہر صبح واعظ دینے کے لیے بُلایا کرتا تھا اُس سیمسٹر کے سپیکر ڈاکٹر چارلس جے۔ ووڈبریج Dr. Charles J. Woodbridge (1902-1995) تھے۔ وہ کیلیفورنیا کے شہر پاسادینہ Pasadena میں فُلر علم الٰہیات کی سیمنری Fuller Theological Seminary کی بنیاد رکھنے والے پروفیسروں میں سے ایک تھے۔ مگر ڈاکٹر ووڈبریج چند ایک مہینوں قبل فُلر میں پڑھانے سے استیفٰی دے چکے تھے کیونکہ وہ دیکھ چکے تھے کہ سیمنری تو پہلے سے ہی آزادی خیالی کی جانب گامزن تھی۔

بائیولا میں چھوٹے گرجہ گھر کی عبادات کے دوران، ڈاکٹر ووڈ بریج نے آیت بہ آیت 2پطرس میں سے تبلیغ کی۔ وہ چین میں پیدا ہوئے تھے کیونکہ اُن کے والدین مشنری تھے۔ اِس بات نے اُنہیں میرے لیے نہایت اہم بنا دیا۔ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی دوسرے مبلغ کو سُننے کے مقابلے میں مَیں نے اُن کو زیادہ توجہ کے ساتھ سُنا تھا۔ جب وہ 2 پطرس2:1۔3 آیت پر پہنچے، اُنہوں نے فُلر میں ناقص انداز سے پیدا ہوئی آزاد خیالی اور دوسرے بے شمار سیمنریوں میں پورے طور سے پنپتی ہوئی آزاد خیالی کے خلاف سختی سے زور دیا۔ وہ کوئی احمق نہیں تھے۔ اُنہوں نے پرنسٹن یونیورسٹی سے کلیسیا کی تاریخ پر گریجوایشن کے ساتھ پی۔ ایچ۔ ڈی کیا تھا اور ڈیوک یونیورسٹی میں مذید تعلیم حاصل کی تھی۔ اُنہیں ڈاکٹر جے۔ گریشام میکحن Dr. J. Gresham Machen نے پریسبائٹیرئین غیرمُلکی مشنوں Presbyterian Foreign Missions کے لیے خودمختیار بورڈ کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ اُنہیں ایک ہفتہ تک سُنتے رہنے کے بعد میں تبدیل ہو گیا تھا۔ میں ناصرف بچا لیا گیا تھا بلکہ میں نے بائبل کی لفظ بہ لفظ الٰہامیت، عبرانی پرانے عہد نامے اور یونانی نئے عہد نامے کے بے خطا ہونے میں بھی یقین کیا تھا۔ میں نے صرف ایک سیمسٹر کے لیے بائیولا میں مطالعہ کیا تھا۔ لیکن یہ وہیں پر تھا کہ یسوع نے مجھے بچایا تھا، اور یہ وہیں پر تھا کہ میں نے پاک کلام کے الفاظ پر بھروسہ کرنا سیکھا تھا۔ پہلی صدی میں فریسیوں نے کہا کہ وہ پرانے عہد نامے پر یقین کرتے ہیں مگر دراصل اُنہوں نے مسیح سے تعلق رکھتی ہوئی اُس کی پیشنگوئیوں کو مسترد کیا تھا۔ اور اُس [یسوع] نے اُن سے کہا،

’’تُم مُوسٰی کا یقین کرتے ہوتو میرا بھی کرتے، اِس لیے کہ اُس نے میرے بارے میں لکھا ہے لیکن جب تُم اُس کی لکھی ہوئی باتوں کا یقین نہیں کرتے تو میرے مُنہ سے نکلی ہُوئی باتوں کا کیسے یقین کرو گے؟‘‘ (یوحنا5:46،47).

ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell نے نشاندہی کی کہ ’’یسوع کے [بیان میں] جو کم سے کم نتیجہ نکالا گیا وہ یہ ہے کہ موسیٰ نے بِلاشُبہ کلام پاک لکھا اور کہ یہودی جانتے تھے کہ وہ کونسا تھا جس کا اُس نے حوالہ دیا‘‘ (دی کرسویل مطالعۂ بائبل The Criswell Study Bible؛ یوحنا5:45۔47 پر غور طلب بات)۔ ڈاکٹر آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسکی R. C. H. Lenski نے کہا، ’’… جو موسیٰ نے کہا یہودی اُس پر یقین نہیں کر رہے ہیں اور یوں اُس پر بھی یقین نہیں کر رہے جو یسوع نے کہا ہے‘‘ (مقدس یوحنا کی انجیل کی تاویلThe Interpretation of St. John’s Gospel؛ یوحنا5:46 پر غور طلب بات)۔ اور ڈاکٹر چارلس جان ایلیکاٹ Dr. Charles John Ellicot کہتے ہیں، ’’اُنہوں نے موسیٰ کا یقین نہیں کیا اور اِسی لیے وہ اُس [یسوع] کا یقین بھی نہیں کرتے‘‘ (ایلیکاٹ کا تمام بائبل پر تبصرہ Ellicot’s Commentary on the Whole Bible؛ یوحنا5:46 پر غور طلب بات)۔

’’تُم مُوسٰی کا یقین کرتے ہوتو میرا بھی کرتے، اِس لیے کہ اُس نے میرے بارے میں لکھا ہے لیکن جب تُم اُس کی لکھی ہوئی باتوں کا یقین نہیں کرتے تو میرے مُنہ سے نکلی ہُوئی باتوں کا کیسے یقین کرو گے؟‘‘ (یوحنا5:46،47).

ڈاکٹر لینسکی نے کہا کہ یسوع کے الفاظ… ’’تمام کی تمام کہلائی جانے والی ’’ریسرچ‘‘ جو کہ کبھی بھی کی گئی اُس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں اور یہ اِن تنقید نگاروں کے مدِمقابل [خلاف] کھڑی ہوتی ہے‘‘ (لینسکی، ibid.)۔ ’’تم موسیٰ کا یقین کرتے ہو تو میرا بھی کرتے اِس لیے کہ اُس نے میرے بارے میں لکھا ہے‘‘ (یوحنا5:46)۔

اب ہمارے پاس ہے یہ فلم جو ’’خروج: خُدا اور بادشاہ Exodus: Gods and Kings‘‘ کہلاتی ہے – جس کو رِیڈلی سکاٹ Ridley Scott نے ڈائریکٹ کیا اور تھوڑا سے پیسہ بھی لگایا۔ وِکی پیڈیا کے مطابق، ’’2013 میں رِیڈلی نے بیان دیا کہ وہ ایک دہریا ہے۔‘‘ اِس لیے ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے کہ جو ڈاکٹر البرٹ موحلر Dr. Albert Mohler نے کہا، ’’ہم جو فلم میں دیکھتے ہیں وہ موسیٰ بغیر فوق الفطرت کے ہے‘‘ (www.Albertmohler.com)۔ کوئی تعجب نہیں کہ فلم کا ساتھی پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ایک دہریے ہیں!کیسے ایک شخص جو خُدا پر یقین نہیں کرتا خروج پر ایک فلم بنا سکتا ہے جو کہ کلام پاک کے مطابق اور خُداوند یسوع مسیح کی گواہی کے مطابق ہوگی؟ کوئی تعجب نہیں کہ رِیڈلی سکاٹ خُدا کی عکاسی ایک گیارہ سالہ لڑکے کے طور پر کرتا ہے! کوئی تعجب نہیں کہ وہ ’’وباؤں اور معجزات کو بطور غیر فوق الفطرت واقعات کے قدرتی وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے‘‘ (موحلر Mohler، ibid.)۔ مگر ڈاکٹر موحلر نے کہا، ’’بائبل واضح طور پر خروج کو تاریخ کی حیثیت سے پیش کرتی ہے، اور مسیحیت کی تاریخ، تاریخی بنیاد پر کھڑی ہوئی ہے‘‘ (ibid.)۔

مگر رِیڈلی سکاٹ ’’… نے واضح کیا کہ وہ یقین نہیں کرتا کہ موسیٰ کبھی حیات بھی رہا تھا – اور کہ خروج کے واقعہ کو تاریخی طور پرسچا نہیں لینا چاہیے۔ اُنہوں نے مذھبی خبروں کی سروس کو بتایا کہ وہ [اپنی] فلم کو ایسے ہی دیکھتے ہیں جیسا کہ وہ ایک سائنس فکشن فلم کو دیکھتے ہیں، ’کیونکہ میں نے کبھی بھی اِس میں یقین نہیں کیا…‘‘ (موحلر Mohler، ibid.)۔ یوں مسٹر سکاٹ نے جو خُداوند یسوع مسیح کے بارے میں کہا اُس کے خلاف خود اپنا ہی فیصلہ لکھتے ہیں،

’’تُم مُوسٰی کا یقین کرتے ہوتو میرا بھی کرتے، اِس لیے کہ اُس نے میرے بارے میں لکھا ہے لیکن جب تُم اُس کی لکھی ہوئی باتوں کا یقین نہیں کرتے تو میرے مُنہ سے نکلی ہُوئی باتوں کا کیسے یقین کرو گے؟‘‘ (یوحنا5:46،47).

13 اپریل، 2001 کو (صفحہ A-1) لاس اینجلز ٹائمزLos Angeles Times میں صفحۂ اوّل پر ’’خروج کی کہانی پر شک Doubting the Story of Exodus‘‘ کے عنوان سے ٹریسہ واٹناب Teresa Watanabe جو ٹائمزTimes کی مذھبی رائٹر ہیں اُن کا لکھا ہوا آرٹیلکل چھپا۔

خروج کی کہانی پر شک

بے شمار عالمین خاموشی سے نتیجہ اخذ کر چکے ہیں کہ موسیٰ کے طویل واقعہ کا کبھی وجود ہی نہیں تھا، اور یہاں تک کہ یہودی مذھبی پیشوا سوال اُٹھا رہے ہیں…

تاہم، اِن عالمین کے نام نہیں دیے گئے تھے۔ اور لاس اینجلز کے قریب ویسٹ ووڈ میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ میں صرف ایک ہی یہودی ’’مذھبی پیشوا‘‘ کا حوالہ ’’ربّی‘‘ کہہ کر دیا گیا تھا۔ لیکن آرٹیکل یہ نہیں کہتا کہ یہ ایک تقلید پسند یہودیوں کی عبادت گاہ نہیں ہے۔ اور آرٹیکل نہیں کہتا کہ وہ ربّی ایک آزاد خیال ہے جس نے کبھی بھی پرانے عہد نامے کو سنجیدگی سے نہیں لیا، جیسا کہ تقلید پسند ربّی کرتے ہیں۔ اور آرٹیکل نہیں کہتا کہ وہاں پر بے شمار پرانے عہد نامے کی انجیلی بشارت کے پرچار کے الوہیاتی تثلیثی سکول کے ڈاکٹر گلیسن آرچر Dr.Gleason Archer ہیں، ٹالبوٹ سکول کے علم الٰہیات کے ڈاکٹر چارلس ایل۔ فعئین برگ Dr. Charles L. Feinberg ہیں، اور ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin ہیں جو کہ تائیوان میں چینی انجیلی بشارت کے پرچار کی سیمنری کے صدر تھے۔ اِن لوگوں نے سیکھایا کہ خروج کی کتاب واقعی میں سچی تھی۔ مگر اُن جیسے لوگوں کا ٹائمزTimes کے آرٹیکل میں کوئی تزکرہ نہیں تھا۔ صرف آزاد خیال الٰہیاتی علم کے عالمین کا تزکرہ تھا، جو تاثر دے رہا تھا کہ کوئی بھی قدامت پسند عالم وجود نہیں رکھتا۔ آرٹیکل بات جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے،

ماہرینِ آثار قدیمہ کہتے ہیں کہ کوئی ایسا نتیجہ ور ثبوت نہیں کہ اسرائیلی کبھی مصر میں تھے بھی، وہ کبھی غلام بھی تھے، کبھی وہ 40 سال تک سینائی کے بیابان میں بھٹکتے پھرے تھے یا کبھی اُنہوں نے کنعان کی سرزمین کو فتح کیا تھا (ibid.)۔

میں نے یہ اپنے بیٹے لیزلیLeslie کو پڑھ کر سُنایا۔ جب اخبار میں خبر چھپی تھی تو وہ 17 برس کا تھا۔ میرے وہ بالکل پڑھنے کے بعد میرے بیٹے نے کہا، ’’اگر [خروج میں] یہ واقعات دُنیا کے کسی عام سے حصے میں رونما ہوئے ہوتے جیسے کہ چین یا انگلستان تو اُنہیں کافی عرصہ پہلے ہی ثبوت مل گیا ہوتا۔ مگر قرن وسطیٰ میں یہ عام بات نہیں تھی۔ اُن کے ہاں مسلسل جنگ اور مزاحمت تھی۔ جب سے خروج کی کتاب لکھی گئی تھی، یہودی ساری دُنیا میں دو مرتبہ بکھرے ہیں۔ [خروج میں] بائبل کی وہ جگہیں ہزاروں سالوں سے تباہ کی جاتی اور توڑی جاتی اور چھینی جاتی رہی ہیں۔ اُس تمام کے بعد ہمیں توقع نہیں کرنی چاہیے کہ وہاں بالکل ٹھیک ٹھاک حالت میں ثبوت پڑے ہوئے مِل جائیں گے۔‘‘ جب اُس نے یہ کہا، میں نے خود اپنی ذات میں سوچا، ’’اِس سترہ سالہ لڑکے میں ایک آزاد خیال تنقید نگار سے زیادہ دماغ ہے۔‘‘

ربّی ڈیوڈ علییزرائی Rabbi David Eliezrie جو کہ اُورنج کاؤنٹی کے ربّیوں کے کونسل کے صدر ہیں اُن کے بارے میں آرٹیکل کے چھپنے کے وقت حوالہ دیا گیا کہ وہ کہہ رہے ہیں،

صرف چند ایک سال ہی پہلے، انہی ماہرینِ آثار قدیمہ نے جنہوں نے خروج پر شک کیا ہمیں بتایا تھا کہ داؤد بادشاہ کبھی تھا ہی نہیں۔ اِس نظریے کی [ہار ہوئی تھی] جب داؤد کے بارے میں اسرائیل میں ایک چھپی ہوئی دستاویز دریافت ہوئی تھی (ایک یہودی جریدے Jewish Journal میں حوالہ دیا گیا، 4 / 20 / 01 ، صفحہ11)۔

اسرائیل میں میرے ایک دوست نے مجھے خط لکھا جس میں اُنہوں نے کہا کہ ٹائمز آرٹیکل سے صرف چند ایک سال ہی پہلے، ماہرین آثار قدیمہ نے مٹی کے برتن کا ایک ٹکڑا کھدائی میں دریافت کیا جو بالکل داؤد کے دورِ حیات سے تھا، جس پر واضح طور سے ’’داؤد بادشاہ‘‘ کے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔

ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل ایک شاندار عالم تھے۔ اُنہوں نے کینٹکی Kentucky کے شہر لوئیس وِلےLouisville میں مغربی بپتسمہ دینے والی علم الٰہیات کی سیمنری Southern Baptist Theological Seminary سے بائبل کی زبانوں میں پی ایچ۔ ڈی۔ Ph. D. کی تھی۔ وہ بے شمار کتابوں کے مصنف رہے تھے جن میں بائبل کے بہت سے کتابوں پر تبصرے بھی شامل ہیں۔ وہ 50 سال سے بھی زیادہ عرصہ تک ٹیکساس کے شہر ڈلاس کے پہلے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر First Baptist Church کے پادری تھے۔ وہ دو مرتبہ امریکہ کے سب سے بڑے ’’پروٹسٹنٹ‘‘ فرقے کے مغربی بپتسمہ دینے والوں کی کنونشن کے صدر منتخت ہوئے۔ وہ آسانی سے علم الٰہیات کی سیمنری کے صدر بن چکے ہوتے! اپنی شاہکار کتاب، کیوں میں تبلیغ دیتا ہوں کہ بائبل واقعی میں سچی ہے Why I Preach that the Bible is Literally True (بروڈمین پریس Broadman Press، 1969)۔ ڈاکٹر کرسویل نے کہا،

     ماضی میں یہ سوچا جانا شاندار تھا کہ شاید موسیٰ نے ہی پینٹاٹیاک Pentateuch [بائبل کی پہلی پانچ کتابیں] لکھی ہونگی کیونکہ وہ لکھائی کی ایجاد سے پہلے حیات تھا۔ یہ دورِ حاضر کی [آزاد خیال] تنقیدنگاری کے یقینی نتائج میں سے ایک تھا۔ تاہم، ہم اب جانتے ہیں، کہ قریبی قرن وسطیٰ میں لکھائی مسیح سے 2,000 سال پہلے ایک بخوبی تسلیم شُدہ فن تھی۔ موسیٰ کے زمانے میں لکھائی کے انجانے ہونے کے بجائے، ہم نے دریافت کیا کہ موسیٰ کے زمانے سے بھی صدیوں اور صدیوں پہلے لکھائی ایک خوب مانا ہوا فن تھی، موسیٰ کے زمانے سے کہیں بہت [پہلے]…
     بائبل کی سچائی کے لیے ایک اور ماہرین آثار قدیمہ کی گواہی پتھوم Pithom کے خزانے کے شہر میں پائی گئی ہے جس کو کہ مصر میں عبرانیوں کی شدید اسیری کے زمانے کے دوران اُن کے ذریعے سے رامیسس دوئم Ramses II کے لیے تعمیر کروایا گیا تھا۔ اِس شہر کو ابھی حال میں میں کھودا گیا ہے اور گھروں کی دیواروں کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ سورج سے پکائی گئی اینٹوں سے بنی ہوئی ہیں، کچھ بھوسے کے ساتھ اور کچھ اُن کے بغیر، بالکل بمطابق خروج5:7 میں درج … ایک مرتبہ پھر سے بائبل کی تاریخ سچی ثابت ہو چکی ہے، جبکہ [آزاد خیال] تنقیدنگاروں کی ٹھٹھے بازیاں تمسخرانہ اور نامعقول ثابت ہو چکی ہیں۔

مگر میں مذید اور آگے جاؤں گا۔ اُن آزاد خیال لوگوں نے، جو کہ گولڈن گیٹ بپتسمہ دینے والوں کی سیمنری میں پروفیسر تھے، جب میں نے وہاں پر تعلیم پائی تھی اوروہاں سے گریجوایشن کیا تھا تو ہم طالب علموں کو بتایا تھا کہ عبرانیوں کے کبھی مصر میں ہونے کا ریکارڈ ہی نہیں پایا گیا۔ میں اُن کے پاس کیمرے سے کھینچی گئی ایک تصویر لے کر گیا، جو داڑھی والے لوگوں کو اینٹیں بناتے ہوئے ظاہر کر رہی تھی، جیسا کہ ہمیں خروج کے پانچویں باب میں بتایا گیا ہے کہ اُنہوں نے کیا۔ میں نے پروفیسروں کو وہ تصویریں دکھائیں۔ جو کہ ایک اہرام مصر کی دیوار پر سے کھنیچی گئی تھیں۔ مگر اِن داڑھی والے لوگوں کی ایک تصویر کو یہودی لوگوں کے تاریخ اٹلس Historical Atlas of the Jewish People میں بھی دیکھا جا سکتا ہے (حوالہ دیکھیں یہودی جریدہ The Jewish Journal، 4 / 20 / 01 ، صفحہ11)۔ چونکہ تمام کے تمام مصری کلین شیو ہوتے تھے، انیٹیں بناتے ہوئے داڑھی والے وہ لوگ، خروج کے زمانے میں مصر کی سرزمین میں عبرانی لوگوں کی طرف واضح طور پر نشاندہی کرتے ہیں! تقلید پسند ربّی ڈیوڈ علییزرائی David Eliezrie نے خروج کے آزاد خیال تنقیدنگاروں سے تعلق رکھتے ہوئے ٹائمز کے آرٹیکل کے بارے میں کہا،

اُنکی طرزِ زندگی اور تعلیم ایک ذہنیت پیدا کرتی ہے جو خروج کے خلاف کسی بھی ثبوت کے لیے ایک توجہ طلب نقطۂ نظر کو تخلیق کرتی ہے۔ صرف جب اُن کے پاس بجا طور پر کوئی بھی متبادل بات نہیں ہوتی تو وہ قبول کرتے [تسلیم کرے] ہے کہ توریت میں [پرانے عہد نامے میں] کچھ نہ کچھ شاید سچ ہو (یہودی جریدہ The Jewish Journal، 4 / 20 / 01 ، صفحہ11)۔

دوبارہ، ٹائمز Times کا آرٹیکل ھنسی کے ساتھ اور بیوقوفانہ طور پر غلط تھا جب اِس نے کہا، ’’تقریباً 13 سال پہلے ہی خروج کے خلاف معاملہ شفاف ہونا شروع ہو چکا تھا… دس سال سے بھی زیادہ عرصہ کے لیے جو عالمین جانتے رہے تھے۔‘‘ وہ واضح طور پر ایک جھوٹ ہے۔ بائبل پر تنقید کرنے والے لوگ ایسی باتیں 200 سالوں سے بھی زیادہ عرصے سے کرتے چلے آ رہے ہیں! جوھان سیملر Johann Semler (1725۔1791) نے 18ویں صدی میں جرمنی میں بائبل کے بارے میں یہ تنقیدنگاری شروع کی تھی۔ ڈاکٹر ھیرالڈ لِنڈسل Dr. Harold Lindsell نے کہا،

1757 میں وہ ہالے Halle میں علم الٰہیات کے اُستادوں کا سربراہ [بنا] تھا۔ یہ وہی تھا جس نے بائبل کی تحریری تنقید کے اصولوں کو بنایا تھا۔ اُس نے اپنے باپ کی تقلید پسندی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جب اُس نے کلام پاک کی زبانی الوہیت کے تصور کو للکارا تھا (ھیرالڈ لِنڈسل، پی ایچ۔ ڈی۔ Harold Lindsell, Ph.D.، ترازو میں بائبل The Bible in the Balance، ژونڈروان اشاعت گھرZondervan Publishing House، 1979، صفحہ 280)۔

اُس ٹائمزTimes کے آرٹیکل نے کہا کہ خروجExodus میں کہلائے جانے والی اِن ’’غلطیوں‘‘ کے بارے میں آزاد خیال عالمین کو صرف چند ایک سال – 10 سے 13 پہلے ہی پتا چلا ہے جب 2001 میں آرٹیکل لکھا گیا تھا۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ تنقید نگاروں نے خروج کو تقریباً 1988 یا 1991 تک بےنقاب کرنا شروع نہیں کیا تھا۔ پھر کیوں میں نے گولڈن گیٹ سیمنری میں تقریباً 15 سال پہلے – 1972 اور 1973 میں یہ سب کچھ سُنا تھا؟ اور کیوں ٹائمز Times آرٹیکل کے چھپنے سے تقریباً 50 سال پہلے ڈاکٹر ھنری ایم۔ مورس Dr. Henry M. Morris نے 1951 میں درج ذیل سوال پوچھا تھا؟ 1951 میں ڈاکٹر مورس نے کہا،

یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کوئی بھی، صدیاں گزرنے پر، اُن تحاریر پرہلکا سے بھی مشکوک ہوتا دکھائی نہ دیتا ہو کہ وہ موسیٰ کا خالص کام نہیں تھیں جب تک کہ دورِ حاضر کے مانے ہوئے تنقیدنگاروں نے اُن پر کام نہ کیا؟ (ھنری ایم۔ مورس، پی ایچ۔ڈی۔Henry M. Morris, Ph.D.، بائبل اور دورحاضر کی سائنس The Bible and Modern Science، شیکاگو، موڈی پریسMoody Press، 1951، صفحہ102)۔

اور اگر خروجExodus پر یہ حملے صرف چند ایک سال پہلے ہی شروع ہوئے تھے، تو پھر کیوں 1932 میں ونسٹن چرچل نے اُن کے بارے میں لکھا تھا؟ اپنے زمانے میں بائبل کے اِن آزاد خیال تنقیدنگاروں کے خلاف چرچل نے 82 سال سے بھی زیادہ پہلے موسیٰ اور خروجExodus کا دفاع کیا تھا۔ چرچل نے کہا،

ہم حقارت کے ساتھ اُن تمام جانی مانی اور منصوبے کے ساتھ بنی ہوئی طلسماتی کہانیوں کو رد کرتے ہیں کہ موسیٰ محض ایک افسانوی شخصیت تھا جس پر کاہانت نے اور لوگوں نے اپنے نہایت ضروری معاشرتی، اخلاقی اور مذھبی ضابطے لاد دیے تھے۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ سب سے حالیہ سائنسی نظریہ، سب سے زیادہ جدید ترین اور معقول ذہن سازی، واقعی میں بائبل کی کہانی [خروج میں] کو تمام تر کامل تسلی سے اپنانے کو تلاش کر لے گی، اور انسانی کہانی میں کبھی بھی سب سے زیادہ فیصلہ کُن لی جانے والی قابل مشاہدہ چھلانگ کے ساتھ [موسیٰ کو] انسانوں میں عظیم ترین لوگوں میں سے ایک کے طور پر شناخت کرنے میں یقین کرتے ہیں۔ ہم پروفیسر گریڈگرینڈ Gradgrind اور ڈاکٹر ڈریاسڈسٹ Dr. Dryasdust [جو بائبل کے آزاد خیال تنقید نگار ہیں] کی [تحاریر] سے متاثر نہیں ہونگے۔ ہم پُریقین ہونگے کہ [خروج میں] وہ تمام کی تمام باتیں ویسے ہی رونما ہوئیں جیسے کہ اُنہیں پاک تحاریر کے مطابق ترتیب دیا گیا… ہم کامل یقین کے ساتھ ’کلام پاک کی ناقابلِ تسخیر چٹان‘ پر قائم ہیں (ونسٹن ایس۔ چرچل Winston S. Churchill، ’’موسیٰ Moses،‘‘ اِن طوفانوں کے درمیان Amid These Storms میں، نیویارک، Scribners، 1932، صفحہ293)۔

چرچل کوئی بائبل کا عالم نہیں تھا۔ مگر وہ نوبل انعام جیتنے والا ایک تاریخ دان (1953) تھا۔ ایک تاریخ دان کی حیثیت سے وہ جانتا تھا کہ خروج Exodus کی کتاب کو طلسماتی کہانیوں کے بجائے حقیقی واقعات پر مشتمل ہونا چاہیے۔ ’’ڈاکٹر ڈریاسڈسٹDr. Dryasdust‘‘ یا کسی اور بائبل کے تنقید نگار کے مقابلے میں اُس کی تاریخی بصیرت نے اُس کہیں زیادہ بہتر سمجھ بوجھ عطا کی۔ یہ اُسی قسم کی بصیرت تھی جس نے اُسے ھٹلر کو ایک خطرناک دیوانے کی حیثیت سے دیکھنے کا موقع دیا، جب 1930 کی دہائی میں باقی کا تمام انگلستان اور امریکہ کے رہنما جن میں جان ایف کینیڈی کا باپ بھی شامل تھا ھٹلر کو ایک عظیم ’’ریاستدان‘‘ کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے۔

وہ سچی وجہ کہ وہ تنقید نگار اور رِیڈلی سکاٹ جیسے لوگ اپنی فلم خروج Exodus میں بائبل کا یقین نہیں کرتے ہیں یہ ہے کیونکہ وہ روحانی طور پر اندھے ہو چکے ہیں۔ بائبل کہتی ہے،

’’جس میں خدا کا پاک رُوح نہیں وہ خدا کی باتیں قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اُس کے نزدیک بے وقوفی کی باتیں ہیں اور نہ ہی اُنہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ صرف پاک رُوح کے ذریعہ سمجھی جاسکتی ہیں‘‘ (1۔کرنتھیوں2:14).

خُدا کی باتیں ’’قدرتی انسان‘‘ سے چھپی ہوئی ہیں۔ اُس وقت تک ظاہر نہیں ہوتی جب تک کہ انسان خود کو عاجز نہیں کرتا اور مسیح پر بھروسہ نہیں کرتا تب اُس کی روحانی آنکھیں کلام پاک کی سچائی کو دیکھنے کے لیے کھولتی ہیں۔

’’تُم مُوسٰی کا یقین کرتے ہوتو میرا بھی کرتے، اِس لیے کہ اُس نے میرے بارے میں لکھا ہے لیکن جب تُم اُس کی لکھی ہوئی باتوں کا یقین نہیں کرتے تو میرے مُنہ سے نکلی ہُوئی باتوں کا کیسے یقین کرو گے؟‘‘ (یوحنا5:46،47).

یسوع مسیح صلیب پر آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرا۔ وہ آپ کو زندگی دینے کے لیے جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ مسیح نے کہا، ’’تمہیں نئے سرے سے جنم لینا چاہیے‘‘ (یوحنا3:7)۔ صرف جب آپ خُدا کے وسیلے سے، نئے سرے سے جنم لیتے ہیں تب ہی آپ خروجExodus اور تمام بائبل کی عظیم سچائیوں کو سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے۔ آمین۔ ڈاکٹر چعینDr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: یوحنا5:39۔47.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’میں جانتا ہوں بائبل سچی ہے I Know the Bible is True‘‘ (شاعر ڈاکٹر بی۔ بی۔ میکینی Dr. B. B. McKinney، 1886-1952)۔