Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

حیاتِ نو کا خُدا

(حیاتِ نو پر واعظ نمبر 14)
THE GOD OF REVIVAL
(SERMON NUMBER 14 ON REVIVAL)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 2 نومبر، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, November 2, 2014

’’کاش کہ تُو آسمان کو چاک کردے اور نیچے اُتر آئے، کہ پہاڑ تیرے حضور میں لرزنے لگیں، جس طرح دہکتی آگ سوکھی ٹہنیوں کو جلا دیتی ہے اور پانی میں اُبال لاتی ہے، اُسی طرح تُو نیچے آکر اپنا نام اپنے دشمنوں میں مشہور کر اور تیری حضوری میں قوموں پر کپکپی طاری ہوجائے! جب تُو نے ایسے بھیانک کام کیے جن کی ہمیں توقع نہ تھی، تب تُو نیچے اُتر آیا اور پہاڑ تیرے سامنے تھر تھرا اُٹھے‘‘ (اشعیا 64:1۔3).

اسرائیل کے لوگ بہت بُری حالت میں تھے۔ وہ خوفزدہ اور دُکھ سے بھرپور تھے۔ مگر نبی نے اُنہیں بحال کرنے کے لیے خُداوند سے دعا مانگی۔ اُس نے خُدا کو یاد دلایا کہ ماضی میں اُس نے اُن کے ساتھ کیا کِیا تھا۔ اُس نے خُداوند سے وہی دوبارہ کرنے کو کہا۔ خُدا کبھی بھی نہیں بدلتا۔ وہ کل بھی وہی تھا، آج بھی اور ہمیشہ بھی وہی ہے۔ اُس نے جو ماضی میں کیا وہ دوبارہ کر سکتا ہے۔ یوں، نبی نے خُداوند کو یاد دلایا،

’’جب تُو نے ایسے بھیانک کام کیے جن کی ہمیں توقع نہ تھی، تب تُو نیچے اُتر آیا اور پہاڑ تیرے سامنے تھر تھرا اُٹھے‘‘ (اشعیا 64:3).

اِس تلاوت سے ہم تین باتیں دیکھتے ہیں۔

I۔ اوّل، خُداوند کی حضوری ہماری واحد اُمید ہے۔

اشعیا نے یہ دیکھا تھا جب اُس نے پہلی آیت میں دعا مانگی تھی، ’’کاش کہ تو آسمان کو چاک کر دے اور نیچے اُتر آئے‘‘ (اشعیا64:1)۔ اِس سے تھوڑی ہی دیر قبل اُس نے خُداوند سے ’’آسمان سے نیچے دیکھنے کی‘‘ دعا مانگی تھی (اشعیا63:15)۔ لیکن اُس کی دعائیں بڑھتی گئیں۔ اُس نے خُداوند سے نیچے دیکھنے سے آغاز کیا۔ مگر اب وہ پکار اُٹھتا ہے، ’’نیچے اُتر آ۔‘‘ اب وہ خُداوند سے دعا مانگتا ہے کہ آسمان کو دو حصوں میں چیر ڈال – اور آسمان سے نیچے اپنے لوگوں کی مدد کے لیے اُتر آ۔

مسیح نے ہمارے لیے خُداوند کے پاس جانے کے لیے راہ ہموار کی ہے۔ اُس نے ہیکل کے پردہ کو اُٹھایا نہیں تھا۔ جی نہیں! اُس نے اِس کو اُوپر سے لے کر نیچے تک دو حصوں میں پھاڑ ڈٓالا تھا۔ اِس طرح خُدا کے لیے راہ ہمیشہ کے لیے کُھلی چھوڑی گئی! میسح کُھلے آسمانوں سے فردوس میں چلا گیا! کُھلے آسمانوں سے ہی پاک روح پینتیکوست کے موقع پر کلیسیا پر نازل ہوا۔

ہمیں خُدا کے روح کے لیے دعا مانگنی چاہیے کہ وہ ہمارے پاس دوبارہ نیچے نازل ہو! آئیے آج ہم اپنے تمام دِل کے ساتھ خُداوند سے نیچے اُتر آنے اور ہمارے درمیان موجود رہنے کے لیے دعا مانگیں! چینی گرجہ گھر میں میرے دیرینہ پادری ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin تھے۔ ڈاکٹر لِن نے کہا،

پرانے عہد نامے کے دور میں خُدا کے لوگوں کو برکت پانے کے لیے خُداوند کی موجودگی کی [ضرورت] پڑتی تھی…
     ایک اچھی مثال اضحاق ہے۔ اُس کے [دور میں] فلسطین کی سرزمین پر وہ نسلی امتیاز اور ستائے جانے کے باوجود سو گُنا فصل کاشت کرنے کے قابل تھا – خُداوند کی حضوری کی وجہ سے… یہاں تک کہ فلسطین کے بادشاہ نے اُس سے کہا، ’’ہم نے خُوب جان لیا کہ خُداوند تیرے ساتھ ہے‘‘ (پیدائش26:28)…
     یہی یوسف کے لیے سچ تھا۔ ایک غلام کی حیثیت سے بیچے جانے… اور غیرمنصفانہ قید میں ڈالے جانے کے باوجود، یوسف بالاآخر اپنے قید کے [لبادے] کو اُتار پھینک کر کتان کے باریک کپڑے کو پہننے اور مصر کی تمام سرزمین پر حکمرانی کرنے کے قابل ہوا تھا۔ اِس طرح کے ڈرامائی انجام کی [واحد] وجہ یہ تھی کہ خُداوند اُس کے ساتھ تھا۔ ’’خُداوند یوسف کے ساتھ تھا، اور جو کچھ وہ کرتا تھا، اُس میں خُداوند ہی اُس کو کامیابی عطا فرماتا تھا‘‘ (پیدائش39:23)…
     یہاں تک کہ خُداوند کی حضوری کے ہونے کی اہمیت کلیسیا کے ابتدائی دور میں اور زیادہ واضح ہو گئی تھی… کلیسیا کے ابتدائی دور میں کلیسیا کے بڑھنے کا راز خُدا کی حضوری تھا اور پاک روح کا معجزہ اُس کی موجودگی کا یقینی ثبوت تھا۔ آخری ایام کی کلیسا کے لیے اگر وہ بڑھنا چاہتی ہے تو خُداوند کی حضوری کا ہونا لازمی ہے، ورنہ تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی (ٹموتھی لِن، پی ایچ۔ ڈی۔ Timothy Lin, Ph.D.، کلیسا کے بڑھنے کا راز The Secret of Church Growth، FCBC، 1992، صفحات 2۔6)۔

’’کاش کہ تُو آسمان کو چاک کردے اور نیچے اُتر آئے…‘‘ (اشعیا 64:1).

خُداوند کی موجودگی موسیٰ کے ساتھ تھی – اور خُداوند نے اُس کے لوگوں کو مصر میں غلامی سے آزاد کیا تھا۔ خُداوند کی موجودگی اُن کے ساتھ تھی جب وہ بیابان میں بھٹکتے پھر رہے تھے۔ وہ وہاں پر بادل کے ستون اور آگ کے ستون میں تھا جس نے اُن کی رہنمائی کی تھی۔ جب اسرائیل کے عَلم پر ’’خُداوند ہمارے ساتھ‘‘ ہے لکھا گیا تو اُنہوں نے ایک سے دوسرے سمندر تک فتح کے جھنڈے گاڑ دیے۔ مگر جب اُنہوں نے خُداوند کو رنجیدہ کیا تو وہ ایک کمزور قوم بن گئے۔ وہ غلاموں کی حیثیت سے بابلیوں کی اسیری میں ڈالے گئے۔ خُدا کی موجودگی اسرائیل کا جلال تھا۔ مگر خُداوند کی موجودگی کے بغیر وہ کچھ بھی نہیں کر پائے۔

یہ تاریکی اور ہولناک دِن ہیں۔ ہماری کلیسیائیں کمزور ہیں۔ ہمارے مبلغین بے طاقت ہیں۔ ہم یہاں اِس بدکار اور بہت بڑے شہر کے دِل میں ہیں – مغربی دُنیا کے اِس تاریک اور کافر صیدوم میں! جہنم کی انتہائی قوتوں نے ہمیں روکنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کر لیں ہیں۔ مگر خُداوند ہمارے ساتھ تھا! اب ہمارے گرجہ گھر کی عمارت کی ادائیگی کی جا چکی ہے – جس کے لیے ایک معجزے کی ضرورت تھی! خُداوند ہمارے ساتھ تھا اور اب یہ واعظ انٹرنیٹ پر ہر ماہ 80,000 لوگوں تک پہنچتے ہیں! خُداوند ہمارے ساتھ تھا۔ مگر اب ہمیں بے شمار نوجوان لوگوں کو آگے لانا چاہیے اور گرجہ گھر کی تعمیر کرنی چاہیے۔ آپ کہتے ہیں، ’’یہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔‘‘ جی ہاں، میں احساسات کو جانتا ہوں۔ مگر وہ احساس ہماری حیوانی فطرت اور شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے خُداوند نے ہمارے لیے کیا کِیا جب اُس نے ہمارے گرجہ گھر کی عمارت کو بچایا۔ اور، نوجوان لوگوں، آپ کو ہمارے انجیلی بشارت کے پرچار کے لیے، اور ہماری عبادتوں میں ایسے دعا مانگنی چاہیے جیسے آپ نے پہلے کبھی بھی نہیں مانگی!

’’کاش کہ تُو آسمان کو چاک کردے اور نیچے اُتر آئے…‘‘ (اشعیا 64:1).

خُداوند کی موجودگی ہی ہماری واحد اُمید ہے! کوئی بھی نہیں رُکے گا۔ کوئی بھی تبدیل نہیں ہوگا۔ کوئی بھی ہمارے گرجہ گھر کا مضبوط رُکن نہیں بنے گا – جب تک کہ خُداوند آسمانوں سے ہمارے درمیان نیچے نہیں آ جاتا!

II۔ دوئم، خُداوند کی موجودگی حیرانگیوں کو جنم دیتی ہے۔

وہ تلاوت کہتی ہے، ’’جب تو نے ایسے بھیانک کام کیے، جن کی ہمیں توقع نہ تھی تب تو نیچے اُتر آیا۔‘‘ جدید نسخۂ بائبل ’’ہولناک‘‘ کا ترجمہ بطور ’’حیران کُن‘‘ کرتے ہیں۔ مجھے اُس لفظ کی پرواہ نہیں ہے کیونکہ زیادتی استعمال سے یہ گھس پِٹ چکا ہے۔ اِس کے بارے میں اِس حیثیت سے یہ سوچنا بہتر ہوگا کہ ’’حیران کُن باتیں جن کی ہمیں توقع نہیں ہوتی۔‘‘ اسرائیلیوں نے اکثر کہا، ’’تو وہ خُداوند ہے جو عجیب کام کرتا ہے‘‘ (زبور 77:14)۔

کیا آپ سوچتے ہیں کہ اسرائیلی بحرِ قلزم میں سے دونوں اطراف میں پانیوں کے انبار کے ساتھ گزرنے کی توقع کر سکتے تھے؟ اِس کے باوجود اُنہوں نے یہ کام کیا – اور وہ مصری جو اُن کے تعاقب میں تھے غرق ہو گئے جب پانی دوبارہ جُڑا۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ بیابان میں اُنہوں نے اپنے خیموں میں ہر روز رات کو ہماری بجلی کی روشنیوں کے مقابلے میں بہتر روشنیاں جگمگانے کی توقع کی تھی؟ اِس کے باوجود ہر روز رات کو وہ بھڑکتے شعلوں کے ستون سے منور ہوتے تھے۔ جب وہ بھوکے تھے تو کیا اُنہوں نے آسمان سے برسے من کو کھانے کی توقع کی تھی؟ جب وہ پیاسے تھے تو کیا اُنہوں نے اچانک چٹان میں سے پانی پھوٹ پڑنے کی توقع کی تھی؟ جب وہ یریحو کے اردگرد چل رہے تھے تو جب اُنہوں نے مینڈھے کے سینگ سے بگل بجایا اور پُکارے تو اُس شہر کی دیواروں کے گرنے کی توقع کی تھی؟ جی نہیں، اسرائیل کی تاریخ اِس قسم کی ہولناک، تعجب زدہ کر دینے والی باتوں سے بھری پڑی ہے ’’جس کی ہم توقع نہیں کرتے‘‘ جب خُداوند نیچے اُتر آتا ہے۔

کس نے کبھی توقع کی تھی کہ خُداوند مسیح کی ہستی میں نیچے اُتر آئے گا؟ کس نے کبھی توقع کی تھی کہ ہمیں آسمان میں لانے کے لیے ’’وہ راستباز ناراستوں کے لیے‘‘ صلیب پرمصلوب ہو جائے گا؟ (1پطرس3:18)۔ کس نے کبھی سوچا تھا کہ وہ خوفزدہ شاگرد، جو ایک بند کمرے میں چُھپے ہوئے تھے، ساری رومی دُنیا میں مسیح کی خوشخبری کو لے کر جائیں گے؟ کس نے سوچا تھا کہ ایک چھوٹا سا ناکافی ہتھیاروں سے لیس جزیرہ، جس کی رہنمائی ایک بوڑھا آدمی کر رہا تھا جس کو چھڑی استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی تھی، وہ ھٹلر اور اُس کی عظیم فوج کے ساتھ جنگ کرے گا – اور جیت جائے گا؟ کس نے سوچا تھا کہ یہودی جو ساری دُنیا میں بکھرے پڑے تھے، جِلا وطنی میں دو ہزار سال گزارنے کے بعد واپس اسرائیل کی جانب لوٹ آئیں گے؟ کس نے سوچ تھا کہ چند ایک چینی مسیحی ماؤ سی ٹُنگ Mao Tse Tung اور اُس کے سُرخ نگرانوں کی شدید اذیتوں کے تحت آدھی سے زیادہ صدی گزار جائیں گے؟ کس نے سوچا تھا کہ اُن کے چھوٹے ’’گھریلو گرجہ گھروں‘‘ سے دُنیا کی تاریخ میں سب سے عظیم ترین حیاتِ نو پھوٹے گا؟ کس نے سوچا تھا کہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد 1960 کی آخری دہائی میں اور 1970 کی ابتدائی دہائی میں آدھے ننگے چرسی ہیپیوں کی مدد کے لیے سامنے اُبھرے گا؟ کس نے سوچا تھا کہ ہماری کلیسا بدترین منقسم ہونے کو برداشت کر جائے گی جس کے بارے میں مَیں نے کبھی سُنا ہو؟ کس نے سوچا ہوگا کہ ہمارے گرجہ گھر کے اُنتالیس لوگ سولہ ہزار ڈالر ہر ماہ بیس سالوں تک اِس عمارت کی ادائیگی کے لیے جمع کر لیں؟ کس نے سوچا ہوگا کہ خُداوند مجھے ساری دُنیا میں سب سے شاندار پادری کی بیوی عنایت کرے گا؟ کس نے سوچا تھا کہ میرے ساتھ ہر اِتوار کو گرجہ گھر میں دو مضبوط بیٹے ہونگے؟ کس نے سوچا تھا کہ خُداوند ہمیں دو پی ایچ۔ ڈی کی ڈگریوں کے ساتھ ایک شخص اور ایک طبعی ڈاکٹر بھیج دے گا جو ہمارے گرجہ گھر کی رہنمائی میں مدد کریں گے؟ اور کسی نے اپنے خوابوں میں بھی کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ میری بیچاری، بڑھاپے سے شکست خوردہ اور ذہنی دباؤ میں جکڑی ماں اَسی برس کی عمر میں ایک شاندار مسیحی بن جائے گی؟

’’جب تُو نے ایسے بھیانک کام کیے جن کی ہمیں توقع نہ تھی، تب تُو نیچے اُتر آیا… ‘‘ (اشعیا 64:3).

جب خُداوند نیچے اُترتا ہے تو وہ پُرتعجب باتیں کرتا ہے جن کی کوئی توقع بھی نہیں کر سکتا!

اے میرے خُداوند، تو کس قدر شاندار ہے،
تیری شہانت کس قدر منور ہے؛
تیرے رحم کا تخت کتنا خوبصورت ہے
جلتی ہوئی روشنیوں کی گہرائیوں میں،
جلتی ہوئی روشنیوں کی گہرائیوں میں!

کس قدر شاندار، کتنا خوبصورت،
تیرا نظارہ ہونا چاہیے؛
وہ لامتناہی حکمت، لامحدود قوت،
اور خوفناک پاکیزگی،
اور خوفناک پاکیزگی!
      (’’اے میرے خُداوند، تو کس قدر شاندار ہے My God, How Wonderful Thou Art‘‘ شاعر فریڈرک ڈبلیو۔ فیبر Frederick W. Faber، 1814۔1863)۔

میں آپ کو اِس شام اشعیا کے کلام پر سپرجیئن Spurgeon کے واعظ کا کچھ حصّہ پیش کر رہا ہوں۔ میں اُس کا محض خاکہ اور اُس کے چند ایک خیالات ہی استمال کر رہا ہوں۔ اُس عظیم ’’مبلغین کے شہزادے‘‘ نے کہا،

جب خُدا لوگوں کے درمیان نیچے اُتر آتا ہے تو وہ ایسے کام کرتا ہے جن کی ہمیں توقع بھی نہیں ہوتی… وہ سب سے زیادہ خود سر کو نجات دے سکتا ہے اور مخالفین کو یسوع کے قدموں میں لا سکتا ہے۔ اُس کے ایسا کرنے کے لیے [دعا مانگیں] (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، ’’الٰہی حیرانگیاں Divine Surprises‘‘، MTP، جلد XXVI، پِلگرِم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت 1972، صفحہ 298)۔

III۔ سوئم، خُداوند کی حضوری بہت بڑے بڑے مسائل اور رکاوٹوں پر قابو پا لیتی ہے۔

’’جب تُو نے ایسے بھیانک کام کیے جن کی ہمیں توقع نہ تھی، تب تُو نیچے اُتر آیا اور پہاڑ تیرے سامنے تھر تھرا اُٹھے‘‘ (اشعیا 64:3).

وہ ایک شاندار فقرہ تھا، ’’پہاڑ تیرے سامنے تھرتھرا اُٹھے۔‘‘

جب خُداوند اسرائیل کے پاس نیچے اُترا تھا تو وہ طاقتور دُشمن جو اُن پر بہت بڑے بڑے پہاڑوں کی مانند چھائے ہوئے، اُن پر فتح پائی گئی، اور یہ پہاڑ ڈھے گئے کیونکہ خُداوند کی موجودگی تھی۔ حیاتِ نو میں جب روح پاک نازل ہوتا ہے تو خُداوند کی حضوری میں سخت دِل بھی تھرتھرا اُٹھتے ہیں! ہمارے پاس ہمارے درمیان کچھ ایسے لوگ ہیں جن کے دِل اتنے ہی سخت ہیں جتنی کہ چٹان۔ ہم اُن کے لیے دعا مانگتے ہیں، ہم اُن کو منادی کرتے ہیں، مگر کچھ بھی رونما نہیں ہوتا۔ یوں لگتا ہے کہ وہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہونگے۔ مگر جب خُداوند نیچے اُترتا ہے، تو سخت ترین دِل بھی توڑ دیے جائیں گے۔ وہ اچانک اپنے گناہوں کو محسوس کریں گے۔ وہ اچانک دیکھیں گے کہ یسوع اُن کو نجات دلا سکتا ہے۔ جب خُداوند نیچے اُترتا تو وہ اپنے گناہ کو پاک صاف کرنے کے لیے یسوع کے خون کے اُن کی ضرورت کو محسوس کریں گے۔ سزایابی کے آنسو سخت ترین دِلوں کو نرم کر دیں گے۔ وہ تب جان پائیں گے کہ اِس چھوٹی سی نظم کا کیا مطلب ہوتا ہے،

تیرے رحم سے تحلیل ہو کر، میں زمین پر گرتا ہوں،
اور اُس رحم کی ستائش کے لیے جو میں نے پایا آنسو بہاتا ہوں۔

یہی ہے جو حیاتِ نو میں ہمیشہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز Dr. Lloyd-Jones نے حیاتِ نو کی یہ تعریف پیش کی،

حیاتِ نو خُداوند کے روح کا اُنڈیلا جانا ہے… یہ روح ہوتا ہے جو لوگوں پر نازل ہوتا ہے۔

پھر اُنہوں نے ہاول ہیرس Howell Harris کے بارے میں بتایا جو ایک عظیم ویلش Welsh مناد تھے۔ ہاول ہیرس ایک شراکتی عبادت میں تبدیل ہوئے تھے۔ وہ کافی عرصے سے ایک اندرونی جِدوجَہد سے گزر رہے تھے۔ شیطان ہر بات میں اُن کے ایمان کو ڈگمگانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر جب وہ عشائے ربانی میں شرکت کے لیے آئے تو ’’[خُدا کے] سامنے پہاڑ تھرتھرا اُٹھے۔‘‘ ہاول ہیرس نے کہا،

صلیب پر خون بہاتا ہوا مسیح مسلسل میری آنکھوں کے سامنے رکھا گیا تھا؛ اور مجھے قوت بخشی گئی تھی کہ یقین کرتا کہ [میرے گناہوں کے لیے] اُس خون کے بدلے میں مجھے معافی مل رہی تھی۔ میں نے اپنا بوجھ کھو دیا؛ میں خوشی سے پھلانگتا ہوا گھر گیا… ایسا نہیں ہوگا کہ میں اس کو شکرگزاری سے بھر پور ہو کر اور زیادہ ہمیشہ کے لیے یاد رکھ پاؤں گا (مارٹن لائیڈ جونز، ایم۔ ڈی۔ Martyn Lloyd-Jones, M.D.، ’’حیاتِ نو اور ہاول ہیرس Howell Harris and Revival،‘‘ پیوریٹن: اُن کے نقطعۂ آغاز اور جانشین The Puritans: Their Origins and Successors، بینر اور ٹرتھ Banner of Truth، اشاعت 1996، صفحات 289، 285)۔

پہلی عظیم بیداری میں ہاول ہیرس سب سے زیادہ قوت سے بھرپور مانے جانے والے مبلغین میں سے ایک بن گیا۔ اگر آپ اُن کی ڈٓائریاں پڑھیں، تو آپ بارہا دیکھیں گے کہ حیاتِ نو کیسے آیا۔ کھوئے ہوئے لوگ تبدیل ہو جاتے ہیں جب پاک روح قوت میں نازل ہوتا ہے۔ ہیرس نے کہا، ’’وہ عظیم جھکڑ [روح کی تیز ہوا] نازل ہوا جب میں نے نجات دہندہ کی بے انتہا موت کو ظاہر کیا۔‘‘ خُداوند قوت کے ساتھ نیچے اُتر آیا۔‘‘ ایک تیز جھکڑ نازل ہوا جب میں نے نجات کی عظمت کو ظاہر کیا۔ اِس سادہ سے شخص نے منادی کی اور واقعی میں انگلستان کے ساتھ ساتھ وھیلز میں بھی ہزاروں مسیح میں تبدیل ہو گئے۔

کیا ہم اپنے گرجہ گھر میں حیات نو لا سکتے ہیں؟ جی ہاں، مگر ہمیں اِس کو واقعی میں شدت کے ساتھ چاہنا چاہیے۔ میں ایک ناویجیئن خاتون کی لکھی ہوئی چھوٹی سی شاندار کتاب پڑھتا رہا ہوں جو 1900 سے لے کر 1927 تک چین کے لیے ایک مشنری تھیں۔ اُنہوں نے سالوں سال حیاتِ نو کے لیے دعائیں مانگیں۔ اُنہوں نے روزے رکھے اور دعائیں مانگیں۔ 1907 میں اُنہوں نے کوریہ میں جاری حیاتِ نو کے بارے میں پڑھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ چین میں حیاتِ نو آئے۔ وہ واقعی میں حیاتِ نو چاہتی تھیں۔ وہ انتہائی اچانک آ گیا، چینی عورتوں کے ایک گروہ کے درمیان۔ پھر وہ پھیل گیا اور اُن کے چین چھوڑنے اور واپس ناروے جانے سے کچھ ہی دیر پہلے سینکڑوں مسیح میں تبدیل ہو گئے۔

کیا ہم اُس میں سے تھوڑا سا یہاں ہمارے گرجہ گھر میں پا سکتے ہیں؟ جی ہاں، مگر ہمیں ایسے دعا مانگنی پڑے گی جیسے ہم نے پہلے کبھی بھی نہیں مانگی۔ ہمیں ایسے دعا مانگنی چاہیے جیسے اشعیا نے پہلی آیت میں مانگی تھی۔

’’کاش کہ تُو آسمان کو چاک کردے اور نیچے اُتر آئے، اور پہاڑ تیرے حضور میں لرزنے لگیں، کہ تیرے سامنے پہاڑ تھرتھرا اُٹھیں‘‘ (اشعیا 64:1).

اگر آپ ابھی تک تبدیل نہیں ہوئے ہیں تو ہم آپ کے لیے دعائیں مانگیں گے۔ ہم دعا مانگیں گے کہ خُداوند آپکو آپ کے گناہ کی سزایابی میں لائے اور کہ وہ آپ کو مسیح کے پاس کھینچ لائے۔

مسیح صلیب پر آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرا۔ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا اورآسمان میں اوپر زندہ آپ کے لیے دعائیں مانگ رہا ہے۔ مگر آپ کو اپنے گناہ سے نجات پانے کے لیے توبہ کرنی اور اُس پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

آپ کہہ سکتے ہیں، ’’میں ایک گنہگار نہیں ہوں۔ میں ایک نیک انسان ہوں۔‘‘ مگر بائبل کہتی ہے، ’’اگر ہم کہتے ہیں ہم نے گناہ نہیں کیا تو ہم اُس کو جھوٹا قرار دیتے ہیں اور اُس کا کلام ہم میں نہیں ہوتا‘‘ (1۔یوحنا1:10)۔ ہم دعا مانگ رہے ہیں کہ خُدا کا روح آپ کو آپ کا گناہ دکھائے اور پھر آپ کو اُس کے خون سے پاک صاف ہونے کے لیے یسوع کے پاس کھینچ لائے۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan ، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: اشعیا64:1۔4.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
      ’’اے میرے خُداوند، تو کس قدر شاندار ہے My God, How Wonderful Thou Art‘‘ شاعر فریڈرک ڈبلیو۔ فیبر Frederick W. Faber، 1814۔1863؛       شاہانہ مٹھاس تخت پر براجماں Majestic Sweetness Sits Enthroned‘‘ کے طرز پر گایا گیا)۔

لُبِ لُباب

حیاتِ نو کا خُدا

(حیاتِ نو پر واعظ نمبر 14)
THE GOD OF REVIVAL
(SERMON NUMBER 14 ON REVIVAL)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’کاش کہ تُو آسمان کو چاک کردے اور نیچے اُتر آئے، کہ پہاڑ تیرے حضور میں لرزنے لگیں، جس طرح دہکتی آگ سوکھی ٹہنیوں کو جلا دیتی ہے اور پانی میں اُبال لاتی ہے، اُسی طرح تُو نیچے آکر اپنا نام اپنے دشمنوں میں مشہور کر اور تیری حضوری میں قوموں پر کپکپی طاری ہوجائے! جب تُو نے ایسے بھیانک کام کیے جن کی ہمیں توقع نہ تھی، تب تُو نیچے اُتر آیا اور پہاڑ تیرے سامنے تھر تھرا اُٹھے‘‘ (اشعیا 64:1۔3).

I.   اوّل، خُداوند کی حضوری ہماری واحد اُمید ہے، اشعیا64:1؛ 63:15؛
پیدائش26:28؛ 39:23 .

II.  ۔ دوئم، خُداوند کی حضوری حیرانگیوں کو جنم دیتی ہے، زبور 77:14؛
1۔پطرس 3:18؛ اشعیا64:3.

III. سوئم، خُداوند کی حضوری بہت بڑے بڑے مسائل اور رکاوٹوں پر قابو پا لیتی ہے،
اشعیا64:3؛ 1؛ 1۔یوحنا1:10 .