Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

لُوتھر کی تلاوت

LUTHER’S TEXT
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 26 اکتوبر، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, October 26, 2014

’’کیونکہ میں مسیح کی خوشخبری سے نہیں شرماتا کیونکہ وہ ہر ایمان لانے والے کی نجات کے لیے خدا کی قدرت ہے۔ پہلے یہودی کے لیے، پھر غیر یہودی کے لیے۔ کیونکہ اِس میں خدا کی طرف سے اُس راستبازی کو ظاہر کیا گیا ہے جو شروع سے آخر تک ایمان ہی کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ جیسا کہ پاک کلام میں لکھا ہے کہ، راستباز ایمان سے جیتا رہے گا‘‘ (رومیوں 1:16، 17).

یہاں پر پولوس رسول روم میں مسیحیوں سے بات کر رہا تھا۔ اُس زمانے میں روم کا شہر دُنیا کا دارالحکومت تھا۔ اُس عظیم شہر میں سنگِ مرمر کی عبادت گاہیں اور رومی خُداؤں کے بہت بڑے بڑے بُت تھے۔ وہاں پر کوئی گرجہ گھر کی عمارتیں نہیں تھیں۔ وہاں روم میں مسیحی نفرت کی نگاہ سے دیکھا جانے والا ایک چھوٹا سا فرقہ تھا – جو کہ جانا مانا مذھب بالکل بھی نہیں تھا۔ مگر پولوس نے بڑی جرأت سے کہا، ’’میں مسیح کی خوشخبری سے نہیں شرماتا۔‘‘

وہ ایسا کیسے کہہ سکتا تھا؟ اُس کے پاس یہ کہنے کے لیے ایسا اعتماد کہاں سے آیا تھا؟ ’’میں مسیح کی خوشخبری سے نہیں شرماتا۔‘‘ مسیح کی خوشخبری ہمارے گناہوں کی ادائیگی کے لیے صلیب پر اُس کی موت اور ہمیں زندگی بخشنے کے لیے مُردوں میں سے اُس کے دوبارہ جی اُٹھنے کے بارے میں بات کرتی ہے۔ پولوس نے کہا، ’’میں بالکل بھی اِس سے نہیں شرماتا۔‘‘ کیوں نہیں؟ ’’کیونکہ اِس میں ہر ایمان والے کی نجات کے لیے خُداوند کی قدرت ہے۔ وہ یونانی لفظ جس نے ’’قدرت power‘‘ کا ترجمہ کیا ’’ڈیونامس dunamis‘‘ ہے۔ ہم اُس یونانی لفظ سے لفظ ’’بارود dynamite‘‘ حاصل کرتے ہیں۔ یہاں خوشخبری میں قدرت ہے! ڈٓاکٹر ماروِن آر۔ ونسنٹ Dr. Marvin R. Vincent نے اِس کو ’’الٰہی قوت divine energy‘‘ کہا۔ مسیح کی خوشخبری قوت سے بھرپور ہے! خوشخبری مُردہ لوگوں کو دوبارہ احیاء بخشتی ہے۔ خوشخبری کے ذریعے سے مُردہ لوگ زندگی کی جانب آتے ہیں!

آپ یہاں گرجہ گھر میں آتے ہیں اور خُدا اور مسیح کے بارے میں آپ جو باتیں سُنتے ہیں وہ آپ کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ مگر میں آپ کو خوشخبری کی منادی کرتا ہوں۔ آپ کہتے ہیں، ’’وہ کیوں اِس ہی کے بارے میں باتیں کرتا رہتا ہے؟ وہ بولتا ہی رہتا ہے، صلیب پر مسیح اور مُردوں میں سے مسیح کے جے اُٹھنے کے بارے میں باتیں کرتا ہی رہتا ہے۔ وہ کسی اور کے بارے میں کیوں بات نہیں کرتا؟‘‘ ٹھیک ہے، میرے دوست، میں جانتا ہوں کہ کوئی بھی اور بات آپ کو ایک گنہگار سے ایک حقیقی مسیحی میں نہیں بدل سکتی! میں آپ کو مسیحی بننے کی تعلیم نہیں دے سکتا! مگر میں خوشخبری کی منادی آپ کو کر سکتا ہوں۔ اگر آپ چُنیدہ لوگوں میں سے ایک ہیں، تو خُدا مسیح کی خوشخبری کو لے گا اور اِس کو بارود کی مانند استعمال کرے گا – آپ کے جھوٹے تصورات کو توڑنے کے لیے – مسیح کے لیے آپ کا دِل کھولنے کے لیے – آپ کی جان میں زندگی ڈالنے کے لیے! جب خوشخبری آپ میں سما جاتی ہے تو آپ روح میں زندگی پاتے ہیں – آپ مسیح پر بھروسہ کرتے ہیں اور نئے سرے سے دوبارہ جنم لیتے ہیں! ماسوائے مسیح کی خوشخبری کے کسی اور میں ایسا کرنے کی قوت نہیں ہے! چارلس ویزلی Charles Wesley سے بہتر اِس بات کو کسی اور نے کبھی بھی نہیں کہا،

وہ تنسیخ شُدہ گناہ کی قوت کو توڑتا ہے،
   وہ قیدی کو آزادی دیتا ہے؛
اُس کا خون غلیظ ترین کو پاک صاف کر دیتا ہے؛
   اُس کا خون میرے لیے فائدہ مند ہے!
(’’اوہ ہزار زبانوں کے لیے O For a Thousand Tongues‘‘ شاعر چارلس ویزلی
      Charles Wesley، 1707۔1788)۔

پھر رسول نے کہا، ’’وہ ہر ایمان لانے والے کی نجات کے لیے خُدا کی قدرت ہے۔‘‘ مسیح کی خوشخبری کی قوت ہر ایمان لانے والے کے لیے نجات اور زندگی لاتی ہے۔ خوشخبری ہر ایک کو نہیں بچاتی۔ بہت سے لوگ اِس بات پر ہنستے ہیں۔ بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ وہ کسی دوسرے طریقے سے بچائے جا سکتے ہیں۔ مسیح صرف اُنہی کو بچاتا ہے جو خوشخبری پر یقین کرتے ہیں اور اُس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہی واحد ہیں جو ’’نجات میں خدا کی قدرت‘‘ کا تجربہ کرتے ہیں۔

پھر رسول نے کہا، ’’کیونکہ اِس میں خُدا کی طرف سے راستبازی کو ظاہر کیا گیا ہے۔‘‘ یہاں پر ’’اِس میں Therein‘‘ خوشخبری یا انجیل کی جانب نشاندہی کرتا ہے۔ مسیح کی خوشخبری میں خُدا کی راستبازی کو ظاہر کیا گیا ہے۔ خُداوند نے اپنے بیٹے یسوع مسیح کو صلیب پر ہمارے گناہوں کے کفارے کے لیے بھیجا۔ خُدا راستباز نہ ہوتا اگر اُس نے محض ہمارے گناہ کو نظر انداز کر دیا ہوتا۔ اُس نے ہمارے متبادل کے طور پر، ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے، صلیب پر مرنے کے لیے یسوع کو بھیجا۔ جب آپ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں، تو آپ اُس لبادے میں ڈٓھانپے جاتے ہیں جس کو لوتھر ایک ’’غیر اَرضی راستبازی alien righteousness‘‘ کہتے ہیں۔ آپ ’’نیک‘‘ ہونے کے ذریعے سے، خود اپنی ہی راستبازی کا لبادہ نہیں پہنے ہوئے ہوتے۔ جب آپ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں تو آپ اُس یسوع کی راستبازی کے لبادے میں ڈھانپے جاتے ہیں۔ یہ ایک ’’غیر اَرضی راستبازی‘‘ ہے کیونکہ یہ آپ کی اپنی نہیں ہے – یہ مسیح کی راستبازی ہے جو آپ کو بچاتی ہے۔ وہ اپنی راستبازی کے لبادے میں آپ کو ڈھانپتا ہے۔

اور پھر رسول نے کہا، ’’جیسا کہ پاک کلام میں لکھا ہے ، راستباز ایمان سے جیتا رہے گا‘‘ (رومیوں1:17)۔ ’’جیسا کہ پاک کلام میں لکھا ہے۔‘‘ وہ پرانے عہد نامے کی حبقوق کی کتاب میں سے حوالہ دے رہا ہے۔ وہاں حبقوق نبی نے کہا، ’’راستباز اپنے ایمان سے جیتا رہے گا‘‘ (حبقوق2:4)۔ حبقوق میں سے پولوس نے نئے عہد نامے میں اُس آیت کا تین مرتبہ حوالہ دیا – رومیوں1:17، گلِتیوں3:11، اور عبرانیوں10:38۔ ہر معاملے میں یہ کہتی ہے، ’’راستباز ایمان سے جیتا رہے گا۔‘‘یہی تلاوت ہے جسے خُداوند نے مارٹن لوتھر کی آنکھیں کھولنے کے لیے استعمال کیا۔ یہی تلاوت ہے جس نے دُنیا کو تبدیل کیا اور اُس عظیم حیاتِ نو کا آغاز کیا جو ’’اصلاحReformation‘‘ کہلائی۔ درج ذیل وہ ہے جو ڈاکٹر میگی Dr. McGee نے اِن الفاظ ’’راستباز ایمان سے جیتا رہے گا‘‘ کے بارے میں کہا،

ایمان سے راستبازی کا مطلب ہوتا ہے کہ ایک گنہگار جو مسیح پر بھروسہ کرتا ہے ناصرف معاف کیا جاتا ہے کیونکہ مسیح مرا تھا بلکہ وہ مسیح میں مکمل ہو کر خدا کی حضوری میں بھی کھڑا ہوتا ہے۔ اِس کا مطلب نہ صرف گناہ سے خلاْصی بلکہ راستبازی سے قُربت ہے۔ مسیح ’’ہمارے گناہوں کے لیے موت کے حوالہ کیا گیا اور پھر زندہ کیا گیا تاکہ ہم راستباز کہلائے جائیں‘‘ (رومیوں4:25) – کہ ہم مسیح میں مکمل ہو کر خُدا کی حضوری میں کھڑے ہو پائیں (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، جلد چہارم، صفحہ 651؛ رومیوں1:17 پر غور طلب بات) ۔

آپ شاید کہیں، ’’یہ یاد رکھنے کے لیے ڈھیر ساری باتیں ہیں!‘‘ جی ہاں، مگر وہ سب کچھ مارٹن لوتھر کی زندگی میں واضح کر دی گئیں تھیں۔ وہ 1483 سے لے کر 1546 تک حیات رہے۔ لوتھر کا شمار اُن لوگوں کے زمرے میں آتا ہے جس میں بہت کم لوگ آتے ہیں۔ وہ پولوس، کولمبس، میگیلانMagellan، ایڈیسن یا آئینسٹائین کی مانند ہے – ایک ایسا شخص جس نے دُنیا کو بدل دیا اور انسانی تاریخ کا رُخ مُوڑ دیا۔ مگر نجات کے لیے اُس کی ضرورت آپ سے مختلف نہیں تھی۔

جدید مصنفین لوتھر کو ’’قرون وسطیٰ‘‘ کا ایک شخص کہتے ہیں۔ وہ فرشتوں، آسیبوں اور شیطان میں اُس کے اعتقاد پر تنقیدی ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اُس کا نظریہ کہ نسل انسانی خُدا اور ابلیس کے مابین ایک جنگ میں جکڑی ہوئی ہے مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ وہ خصوصی طور پر اُس کے خُدا کے غضب کے خوف اور اُس کی اپنے گناہ پر گہری ذہنی اذیت کے خلاف ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ میرے لیے، یہ لوتھر کے بارے میں بتانے کے مقابلے میں خود جدید مصنفین کے بارے میں بہت کچھ ظاہر کرتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ’’نئے انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے‘‘ مصنفین فرشتوں، آسیبوں اور شیطان میں یقین نہیں رکھتے ہیں! یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ اُس پر یقین نہیں رکھتے جو بائبل نیکی اور بدی کے مابین کشمکش کے بارے میں تعلیم دیتی ہے! خصوصی طور پر، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اِن ’’نئے انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والوں‘‘ کو کوئی خُدا کا خوف نہیں ہے اور گناہ کی سزایابی نہیں چاہتے ہیں! لوتھر ایک عام مسیحی کی مانند سامنے اُبھرتا ہے! وہ نئے انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے جو اُس پر تنقید کرتے ہیں وہ کھوئے ہوئے بےدین لوگوں کی مانند نظر آتے ہیں – جو بالکل بھی مسیحی نہیں ہیں!خُدا ہماری مدد کرے!

میں نے پایا کہ رومیوں کی کتاب پر لوتھر کے تبصرے تقریباً رعایت کے بغیر ہیں، واضح اور دُرست۔ مجھے اِس بات نے چونکا دیا تھا کہ وہ تو حتیٰ کہ یہودیوں کے بارے میں بھی صحیح تھا۔ اُس نے کہا، ’’اِس حوالے سے عمومی طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ دُنیا کے خاتمہ پر یہودی مسیح میں ایمان کے لیے تبدیل ہو جائیں گے… جب تک خُدا کے پاس چُنیدہ لوگوں کی تعداد پوری نہیں ہو جاتی اُس کے مطابق غیر یہودیوں کے بعد، وہ یہودی جو اب برگشتہ ہیں، مسیح میں تبدیل ہو جائیں گے اور بچا لیے جائیں گے۔ وہ ہمیشہ کے لیے باہر ہی نہیں رہ جائیں گے، مگر خود اُن کے اپنے زمانے میں وہ مسیح میں تبدیل ہو جائیں گے‘‘ (رومیوں پر لوتھر کا تبصرہ Luther’s Commentary on Romans، کریگل اشاعت خانے Kregel Publications، 1976 ایڈیشن، صفحات 161، 162؛ رومیوں11:25۔36 پر غور طلب بات)۔

یہ اُس کے انتہائی قریب دکھائی دیتا ہے جو بائبل تعلیم دیتی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اُس نے بعد میں کچھ سخت باتیں کہیں، جب وہ بوڑھا اور بیمار تھا، مگر ہمیں اُس کو معاف کر دینا چاہیے۔ اُس کے نظریات کاتھولک ’’متبادل علمِ الٰہیات‘‘ سے نکلے ہیں، وہ اعتقاد کہ کلیسیا اسرائیل کی جگہ لیتی ہے – ایک جھوٹا عقیدہ جس پر کہ آج بھی بے شمار کیلونسٹ اور دوسرے لوگ قائم ہیں۔ خُدا ہم پر رحم فرمائے! خُدا کا اب بھی اسرائیل کے ساتھ اور یہودی لوگوں کے ساتھ زمینی عہد قائم ہے، جیسا کہ واضح طور پر رومیوں11:25۔27 میں بیان کیا گیا۔

لوتھر کا باپ ایک کان کُن تھا، جو چاہتا تھا کہ لوتھر ایک وکیل بنے۔ اُس نے اُس مقصد کے لیے تعلیم حاصل کرنی شروع کر دی۔ مگر ایک دِن وہ ایک طوفان میں سے گزر رھا تھا۔ بجلی بالکل اُس کے قریب ہی گری۔ وہ زمین پر گر پڑا اور پکار اُٹھا، ’’مقدسہ اینی [مقدسہ مریم کی ماں کا نام] میری مدد کر۔ میں ایک راہب بن جاؤں گا!‘‘ اِس کا مطلب تھا کہ وہ ایک خانقاہ میں شمولیت کر لے گا اور دُنیاداری سے کنارہ کشی کر لے گا۔ مگر مذہبی باتوں میں اُس کی گہری وابستگی نے اُس کو خُدا کے ساتھ سکون پانے میں مدد فراہم نہ کی۔ جدید ’’نئے انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے‘‘ مصنفین کے کہنے کا رُجحان ہے کہ خُدا کے لیے اُس کا خوف غلط تھا اور ’’قرون وسطیٰ‘‘ کا تھا۔ کتنا جھوٹ! قطعی طور پر کتنا جھوٹ! خُدا کے لیے لوتھر کا خوف مکمل طور پر دُرست تھا۔ بائبل غیرنجات یافتہ لوگوں کے بارے میں بتاتی ہے جو یہ کہتی ہے، ’’نا ہی اُن کی آنکھوں میں خُدا کا خوف تھا‘‘ (رومیوں3:18)۔ لوتھر نے کہا، ’’فطرتاً ہم ناراست اور خُدا کے خوف کے بغیر ہیں۔ اِس لیے، ہمیں خود کو شدید عاجز کر لینا چاہیے خُدا کی حضوری میں اپنی خباثت اور جاہلت کا اقرار کر لینا چاہیے‘‘ (لوتھر Luther، ibid. ، صفحہ 74؛ رومیوں3:18 پر غور طلب بات)۔ یہ خُدا کا فضل ہے جو ایک کھوئے ہوئے گنہگار کو اُس کی کھوئی ہوئی حالت کے بارے میں بتاتا ہے۔ جیسا کہ جان نیوٹن John Newton (1725۔1807) اِس کو لکھتے ہیں، ’’یہ فضل ہی تھا جس نے میرے دِل کو خوف کھانا سیکھایا‘‘ (’’حیرت انگیز فضل Amazing Grace‘‘)۔ خوف کی غیرموجودگی عملی طور پر دہریت کی علامت ہوتی ہے۔

لوتھر اپنے گناہ کے بارے میں شدید فکرمند تھا۔ اُس نے اِس کو خُود اپنے ہی دِل کی وبا کہا تھا۔ ایسا کچھ بھی نہیں تھا جو اُس کو جرم کے احساس سے مُبرا کرتا۔ جب اُس نے بائبل کا مطالعہ کیا تو اُس نے اپنے اُستاد جوہان سٹاؤپیٹز Johann Staupitz کے الفاط کے بارے میں سوچا، جس نے اُس کو بتایا تھا، ’’پیارے نجات دہندہ کے زخموں پر نظر ڈالو۔‘‘ وہاں اپنی مطالعہ گاہ میں اُس نے مسیح کی صلیب دیکھی۔ اُس نے دیکھا کہ کیسے خُدا کا غضب اور محبت صلیب پر مسیح میں اکٹھے شامل ہیں۔ لوتھر نے اپنی والدہ کو خط لکھا،

دِن اور رات میں نے غور کیا جب تک کہ میں نے اُس رابطے کو نہیں دیکھ لیا جو خُدا کے انصاف اور اُس بیان کے مابین ہے کہ ’’راستباز ایمان سے جیتا رہے گا۔‘‘ پھر میری سمجھ میں آ گیا کہ خُدا کا انصاف وہ راستبازی ہے جس کے ذریعے سے فضل اور انتہائی رحم کے وسیلے سے خُدا [مسیح میں] ایمان کے ذریعے سے ہمارا انصاف کرتا ہے۔ یوں میں نے خود میں نئے سرے سے جنم لیا ہوا اور فردوس میں کھلے دروازوں سے گزرتا ہوا محسوس کیا۔ تمام کے تمام کلام پاک نے ایک نیا معنی اپنا لیا (رولینڈ ایچ۔ بینٹن Roland H. Bainton، میں یہاں کھڑا ہوں Here I Stand، مینٹر کُتب خانے Mentor Books، 1977، صفحہ 49) ۔

اُس وقت سے لیکر لوتھر کا علم الٰہیات ’’صلیب کا علم الٰہیات‘‘ کہلایا گیا تھا۔ اُس نے کہا، ’’تنہا صلیب ہی ہمارا علم الٰہیات ہے۔‘‘ اگر آپ اپنے گناہ سے بچا لیے جاتے ہیں تو یہ صرف مسیح مصلوب میں ایمان کے وسیلے سے ہونا چاہیے! صلیب پر مسیح! پاک خُدا کی حضوری میں آنے کا اِس کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

وہاں اپنی مطالعہ گاہ میں لوتھر نے یہ دیکھا تھا۔ اُس نے دیکھا تھا کہ ہماری تلاوت میں خُدا کی وہ راستبازی خُدا کی ایک خاصیت کے لیے نشاندہی نہیں کرتی ہے – یہ ایک راستبازی ہے جو خُدا ہمیں پیش کرتا ہے، اور یہ وہ ہمیں مسیح میں ایمان کے وسیلے سے پیش کرتا ہے۔ ’’راستباز ایمان سے جیتا رہے گا‘‘ (رومیوں1:17)۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز Dr. Lloyd-Jones نے کہا، ’’ہمارا ایمان ہمیں راستباز نہیں ٹھہراتا ہے۔ یہ یسوع مسیح کی راستبازی ہے جو راستباز ٹھہراتی ہے – اور اِس کے علاوہ کچھ بھی نہیں! ... خُدا ہمیں ایمان کو معجزوں میں بدلنے اور خود کو اپنے ایمان کے وسیلے سے راستباز ٹھہرانے کی کوشش سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ [مسیح کی] راستبازی ہے جو مجھے دُرست رکھتی ہے، اور یہ مجھ میں ایمان کے ذریعے سے آتی ہے۔ ایمان ہی وہ… گزرگاہ ہے، جس کے ذریعے سے مسیح کی یہ راستبازی مجھے پیش کی گئی ہے…‘‘ (مارٹن لائیڈ جونز، ایم۔ ڈی۔ Martyn Lloyd-Jones, M.D.، رومیوں – پہلے باب کی تفسیر، خُدا کی انجیل Romans – Exposition of Chapter 1, The Gospel of God، بینر اور ٹُرتھ Banner of Truth، ایڈیشن 1985، صفحہ 307)۔

جب لوتھر نے الفاظ پڑھے، ’’راستباز ایمان سے جیتا رہے گا‘‘ تو اُس نے کہا، ’’پولوس کا یہ تاثر میرے لیے … فردوس کے لیے ایک پھاٹک بن گیا۔‘‘ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’کیسا ایک انکشاف! کیسا ایک بدلاؤ! ایک بدنصیب، تباہ حال، ناخوش راہب سے جو اپنی مالا جپتا اور روزے رکھتا اور پسینہ بہتا اور دعائیں مانگتا ہے، اور اِس کے باوجود زیادہ اور زیادہ ضمیر کی ناکامی، اُس اصلاح کے قاصد کے لیے! خوشخبری کے اُس جلالی مبلغ کے لیے، جو ’خُدا کے بچوں کی جلالی آزادی‘ میں خوش ہو رہا ہے!‘‘ (لائیڈ جونز Lloyd-Jones، ibid.، صفحہ 309)۔ اُن الفاظ میں جو مسٹر گریفتھ Mr. Griffith ایک لمحہ پہلے گائے، اُس مقدس کاؤنٹ زِینزینڈورف Count Zinzendorf نے کہا،

یسوع، تیرا خون اور راستبازی
   میرا خوبصورت، میرا جلالی لباس ہے؛
اِن صِفوں میں، جلتی ہوئی دُنیاؤں کے درمیان،
   خُوشی کے ساتھ میں اپنا سر بُلند کرتا ہوں۔
   (’’یسوع، تیری راستبازی اور خون Jesus, Thy Blood and Righteousness‘‘
      شاعر کاؤنٹ نیکولس زنزنڈورف Count Nicolaus Zinzendorf، 1700۔1760)۔

یا، جیسا کہ اِس کو ایڈورڈ موٹ Edward Mote لکھتے ہیں،

میری اُمید کسی کم ترین چیز پر نہیں بنی ہوئی
   ماسوائے یسوع کے خون اور راستبازی پر…
تنہا اُس کی راستبازی کو زیب تن کیے ہوئے،
   تخت کے سامنے بے عیب کھڑا ہوں۔
میں اُس مضبوط چٹان مسیح پر کھڑا ہوں،
   باقی کی تمام زمین دلدلی ریت ہے،
باقی کی تمام زمین دلدلی ریت ہے،
   (’’ٹھوس چٹان The Solid Rock،‘‘ شاعر ایڈورڈ موٹ Edward Mote، 1797۔1874)۔

میں آپ سے آج کی شام یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے کہہ رہا ہوں، ’’وہ خُدا کا برّہ جو جہاں کے گناہ اُٹھا لے جاتا ہے‘‘ (یوحنا1:29)۔ وہ لمحہ جب آپ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں، آپ بچا لیے جاتے ہیں، راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں اور ہمیشہ اور ہمیشہ کے لیے محفوظ کیے جاتے ہیں۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ آج رات یسوع پر بھروسہ کریں گے۔ لوتھر کی مانند، آپ بھی نئے سرے سے جنم لیں گے اور فردوس میں کُھلے پھاٹکوں میں سے گزر [جائیں] گے۔‘‘ جیسا کہ جوہان سٹاؤپیٹز Johann Staupitz نے لوتھر کو بتایا، ’’پیارے نجات دہندہ کے زخموں پر نظر ڈالو۔‘‘

’’ راستباز ایمان سے جیتا رہے گا‘‘ (رومیوں 1:17).

ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا مانگیں کہ کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا اور بچایا جائے گا! آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: رومیوں1:15۔17.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’یسوع، تیری راستبازی اور خون Jesus, Thy Blood and Righteousness‘‘
شاعر کاؤنٹ نیکولس زنزنڈورف Count Nicolaus Zinzendorf،
1700۔1760؛ جان ویزلی John Wesley، 1703۔1791 نے ترجمہ کیا)۔