Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

بے اعتقادی – حیاتِ نو کے لیے ایک رکاوٹ

(حیاتِ نو پر واعظ نمبر 11)
UNBELIEF – A HINDRANCE TO REVIVAL
(SERMON NUMBER 11 ON REVIVAL)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دن کی شام، 12 اکتوبر، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, October 12, 2014

’’وہ اپنے گلّوں اور ریوڑوں کے ساتھ خداوند کو ڈھونڈنے نکلتے ہیں، تو وہ اسے نہیں پائیں گے؛ کیونکہ وہ ان سے دُور ہو چُکا ہے‘‘ (ہوسیع 5:6).

اسرائیلیوں نے اُس خطرے کو دیکھ لیا تھا جو اُنہیں اسوریوں کا سامنا کرنے سے تھا۔ تب اُنہوں نے خُداوند کو تلاش کیا۔ خُداوند کے قہر کو ٹھنڈا کرنے کے لیے، وہ قربانی کے لیے بے شمار بھیڑیں اور بیل لائے۔ مگر اُنہیں خُداوند کی جانب سے کوئی رحم نہیں ملا۔ ’’اُس نے خود کو اُن سے دور کر لیا تھا‘‘ زناکاری اور دوسرے گناہوں کی وجہ سے۔ اُنہوں نے خُداوند کو اُس وقت تلاش نہیں کیا تھا جس وقت اُس کو ڈھونڈا جا سکتا تھا۔ اب انتہائی تاخیر ہو چکی تھی۔ خُداوند نے اُن سے اپنی موجودگی کو دور کر دیا تھا۔

’’وہ اپنے گلّوں اور ریوڑوں کے ساتھ خداوند کو ڈھونڈنے نکلتے ہیں، تو وہ اسے نہیں پائیں گے؛ کیونکہ وہ ان سے دُور ہو چُکا ہے‘‘ (ہوسیع 5:6).

گذشتہ بُدھ کی شب جب میں بلی گراھم Billy Graham کی ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا تو میں نے اُس آیت کے بارے میں سوچا۔ وہ تقریباً 1983 کے لگ بھگ کیلیفورنیا کے شہر ساکرامنٹو Sacramento میں منادی کر رہا تھا۔ اُس کا موضوع ’’پاک روح‘‘ تھا۔ جب وہ منادی کر رہا تھا تو میں نے اپنی تلاوت کے بارے میں سوچا، ’’اُس نے خود کو اُن سے کنارہ کش کر لیا۔‘‘

اب، آپ کو سمجھ جانا چاہیے کہ میں بلی گراھم کو پیار کرتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ ہی کیا ہے، اور میں ہمیشہ کرتا رہوں گا۔ مگر مجھے 1963 کے اگست میں لاس اینجلز کے اکھاڑے Coliseum میں اُس کی منادی کو سُننے کے لیے جانا یاد ہے۔ جب میں گاڑیاں پارک کرنے والی جگہ پر اپنی گاڑی میں سے باہر نکلا، میں واقعی میں پاک روح کو ہوا میں موجود بجلی کی مانند’’محسوس‘‘ کر پایا تھا۔ جوں جوں میں اکھاڑے کی جانب بڑھا، میرے رونگٹھے کھڑے ہوتے گئے۔ میں نے محسوس کیا کہ پاک روح اِس قدر شدت کے ساتھ موجود تھا کہ وہ تمام کا تمام تجربہ جھنجھوڑ ڈالنے والا تھا۔ اُس بڑے سے سٹیڈیم میں ہر کوئی مکمل طور پر خاموش تھا۔ آپ ایک پِن کو گِرتے ہوئے سُن سکتے تھے جب بہت بڑی کوائر ’’تو کتنا عظیم ہے How Great Thou Art‘‘ گانے کے لیے کھڑی ہوئی تھی۔ مسٹر گراھم کا واعظ اِس قدر قوت سے بھرپور تھا کہ مجھے آج کے دِن تک اُس کا زیادہ تر حصہ یاد ہے!

آنے والی دہائیوں میں نے بلی گراھم کے مختلف شہروں میں چھ اور صلیبی جلسوں میں شرکت کی۔ مگر جب میں 70 کی ابتدائی دہائی میں کیلیفورنیا کے شہر اوک لینڈ Oakland میں اُن کے صلیبی جلسے کے لیے گیا، تو اُن کی منادی میں کافی کم قوت تھی۔ تب، 1980 کی ابتدائی دہائی میں، مجھے مسٹر گراھم کو اپنے پادری ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin کے ساتھ ٹیلی ویژن پر دیکھنے کا موقع ملا۔ تقریباً آدھے واعظ کے دوران، ڈاکٹر لِن نے کہا، ’’یوں لگتا ہے جسے اُس کے پاس کوئی قوت باقی نہیں رہی۔‘‘ میرا نہیں خیال کہ مسٹر یہ اِس لیے تھا کیونکہ مسٹر گراھم بوڑھے ہو چکے تھے۔ وہ کافی جوشیلے دکھائی دیتے تھے۔ مگر کچھ نہ کچھ ناپید تھا۔ میں نے بالکل اُسی طرح سے محسوس کیا تھا جب میں نے گذشتہ شب اُن کی منادی کرنے والی ویڈیو کو دیکھا تھا۔ وہ پاک روح پر منادی کر رہے تھے۔ مگر کچھ نہ کچھ ناپید تھا۔ مجھے یوں لگتا تھا کہ جیسے پاک روح ناپید تھا۔ مجھے یوں لگتا تھا جیسے کہ ’’اُس [پاک روح] نے خود کو اُن سے کنارہ کش [کر دیا تھا]‘‘ (ہوسیع5:6)۔ یہ ایسا صرف اُس وقت ہی نہیں ہوتا جب مسٹر گراھم منادی کرتے ہیں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ مغربی دُنیا میں گرجہ گھروں میں آج میں زیادہ تر جو منادی سُنتا ہوں اُس میں پاک روح ناپید ہے۔ یہ مجھے دِل سے بیمار کر دیتا ہے – کیونکہ مجھے احساس ہوتا ہے جیسے خود خُداوند نے جب ہم منادی کرتے ہیں تو اپنے آپ کو ہمارے گرجہ گھروں سے علیحدہ کر دیا ہے! کس قدر افسوسناک بات ہے۔ قطعی طور پر کتنے دُکھ کی بات ہے! کبھی کبھار تو یہ میری آنکھوں میں آنسو لے آتا ہے جب میں اِس کے بارے میں سوچتا ہوں! ڈٓاکٹر لائیڈ جونز Dr. Lloyd-Jones نے کہا، ’’انسان پاک روح کے بغیر منادی کر سکتا ہے۔ میں دانائی کے ساتھ اِس کلام کی وضاحت کر سکتا ہوں، مگر یہ ہی کافی نہیں ہے۔ ہمیں پاک روح اور قوت کے مظاہرے کی ضرورت ہے‘‘ (مارٹن لائیڈ جونز، ایم۔ ڈی۔ Martyn Lloyd-Jones, M. D.، حیاتِ نو Revival، کراسوے کُتب Crossway Books، 1987، صفحہ 185)۔ ہائے، خود مجھے اُس قوت کی کس قدر شدت سے ضرورت ہے! مہربانی سے میری منادی کے لیے دعا کیجیے!

آپ جانتے ہیں کہ 1859 سے لیکر اب تک انگریزی بولی جانی والی دُنیا میں کوئی بہت بڑا حیاتِ نو نہیں آیا ہے۔ یہ 150 سال سے زیادہ کا عرصہ بنتا ہے۔ 1859 سے پہلے، ہمارے گرجہ گھروں نے ہر دس سال میں یا کچھ میں خُدا کے بھیجے ہوئے حیاتِ انواع کا تجربہ کیا تھا۔ مگر ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز نے کہا،

1958 سے لیکر اب تک صرف ایک ہی بہت بڑا حیاتِ نو آ چکا ہے۔ اوہ، ہم ایک بنجر عرصے میں سے گزر چکے ہیں… لوگوں اِس جیتے جاگتے خُدا میں اور کفارے میں اور صلح میں اپنا یقین کھو چکے ہیں اور دانشمندی، فلسفے اور عِلمیت کی جانب رُخ کر چکے ہیں۔ ہم کلیسیا کی طویل تاریخ میں سب سے زیادہ بنجر عرصوں میں سے ایک میں سے گزر چکے ہیں… ہم اب بھی بیابان ہی میں ہیں۔ کسی بھی ایسی بات پر یقین مت کیجیے جو رائے دے کہ ہم اِس میں سے باہر آ چکے ہیں، ہم نہیں آئے ہیں (مارٹن لائیڈ جونز، ایم۔ ڈی۔ Martyn Lloyd-Jones, M.D.، حیاتِ نو Revival، ibid.، صفحہ 129)۔

اور یہ ہی وجہ تھی کہ میں نے آپ کو چین میں قوت سے بھرپور حیاتِ نو کو وہ ویڈیوز (وہ صلیب – چین میں یسوع The Cross – Jesus in China (چائنہ سول فار کرائسٹ فاؤنڈیشن China Soul for Christ Foundation، اس کا آرڈر کرنے کے لیے یہاں پر کِلک کیجیے Click here to order it) دیکھائی تھی۔ میں آپ کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ آج حیاتِ نو ناصرف ممکن ہے – یہ بالکل اِسی وقت رونما ہو رہا ہے دُنیا کے دوسرے حصوں میں۔ مگر چونکہ مغربی دُنیا میں کوئی بھی اعلٰی معیاری حیاتِ نو نہیں ہوا ہے، تو میں آپ کو خود آپ کی اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے نہیں بھیج سکتا۔ میں آپ کو صرف ایک ویڈیو دکھا سکتا ہوں جو بہت دور چین میں بنائی گئی تھی۔ میری اُمیدیں برقرار ہیں کہ آپ حیاتِ نو کے لیے چاہت کریں گے اگر آپ چین سے اُن ویڈیوز کو دیکھ لیں۔ سُلیمان بادشاہ King Solomon نے کہا،

’’جیسے تھکی ماندہ جان کے لیے ٹھنڈا پانی، دُور کے ملک سے آئی ہُوئی خوش خبری ایسی ہی ہوتی ہے‘‘ (امثال 25:25).

میں چاہتا تھا کہ آپ دیکھیں خُدا آج کیا کر سکتا ہے، بالکل ابھی، حیاتِ نو میں۔ برائن ایچ۔ ایڈورڈز Brian H. Edwards نے کہا،

یہ ایسا نہیں ہے کہ حیاتِ نو کو کسی ایک بیماری کی مانند پکڑا جا سکتا ہے، مگر یہ کہ اِس کے تاثرات ایک چاہت اور پیاس کو جنم دیتے ہیں اُن کے درمیان جنہیں اُن کے بارے میں بتایا جاتا ہے یا جنہوں نے اُنکو دیکھا ہوتا ہے۔ اُن میں سے زیادہ تر کو جنہیں خُداوند حیاتِ نو میں استعمال کرتا ہے اُنہوں نے خود کو اُس بات سے آگاہ کیا ہوتا ہے کہ خُداوند ماضی میں کیا کچھ کر چکا ہے… ہم احمق ہیں کہ اُن تمام معلومات سے جو ماضی میں حیاتِ انواع کے بارے میں حاصل کی جا سکتی ہیں مستفید نہیں ہوتے ہیں کہ ہم خُدا کی ہمارے لیے ممکنات کے لیے جواب دہ نہ بن جائیں۔ ہمیں اُس پر اپنی نظریں جمائی رکھنی چاہیں جو خُداوند خُدا کر سکتا ہے، ہمارے ذہنوں کو وسیع اور ہماری سوچ کو خُدا کے عظیم کارناموں پر مرکوز ہونا چاہیے۔ خُداوند شاید ہمارے ذمہ دار ہونے کے لیے انتظار کر رہا ہے جو وہ ماضی میں کر چکا ہے (برائن ایچ۔ ایڈورڈز Brian H. Edwards، حیاتِ نو! – خُدا کے ساتھ لبریز لوگ Revival! – A People Saturated with God، ایونجیلیکل پریس Evangelical Press، 1991 ایڈیشن، صفحات 91، 92)۔

ماضِی کے حیاتِ انواع اور دوسرے مقامات پر ابھی رونما ہونے والے حیاتِ انواع کے بارے میں کہانیاں سُننے سے ہمیں ایمان پانے میں مدد ملنی چاہیے کہ خدا یہاں خود ہمارے اپنے گرجہ گھروں میں یہ کام کر سکتا ہے۔ ہمارے درمیان حیاتِ نو کے لیے بے اعتقادی ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

یسوع ناصرت اپنی جائے پیدائش میں واپس آیا تھا۔ لوگ ’’حیرت زدہ‘‘ رہ گئے تھے جب اُنہوں نے اُس کو ہیکل میں منادی کرتے ہوئے سُنا تھا۔ مگر اُن میں سے کچھ نے کہا یہ تو صرف ایک بڑھئی کا بیٹا ہے۔ اُس [یسوع] سے اُن کی عزت نفس مجروع ہوتی تھی۔ پھر بائبل کہتی ہے، ’’اُس نے اُن کے بےاعتقادی کے باعث وہاں پر زیادہ معجزے نہیں دکھائے‘‘ (متی13:58)۔ ڈاکٹر جان گِلDr. John Gill نے کہا، ’’قوت کی چاہت [قلت] کے لیے نہیں، یا ایسے جیسے قابو پانے کے لیے اُن کی بے اعتقادی اُس کے لیے انتہائی شدید تھی؛ مگر اُس نے ایسا کیا نہیں کیونکہ اُنہیں اِس لائق نہ سمجھا‘‘ (جان گِل، ڈی۔ڈی۔ John Gill, D.D.، نئے عہد نامے کی ایک تفسیر An Exposition of the New Testament، جلد اوّل، بپتسمہ دینے والے معیاری بیئرر The Baptist Standard Bearer، دوبارہ اشاعت 1989، صفحہ159؛ متی13:58 پر غور طلب بات)۔

میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو درحقیقت ایک عظیم حیاتِ نو میں سے گزرا مگر اُس نے کہا کہ اُس نے تو یہاں تک کہ اِس پر غور تک نہیں کیا کیونکہ اُس کی ابھی ابھی شادی ہوئی تھی! میں ایک دوسرے شخص کو بھی جانتا ہوں جو ورجینیا میں واقعی میں ایک سچے حیات نو میں سے گزرا تھا، مگر اُس نے کہا وہ تو صرف ایک ’’طویل بُلاوا‘‘ تھا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ لوگ جب حیاتِ نو آیا تو اُسکو سراھانے کے لیے ضرورت سے زیادہ ہے دُنیادار تھے! اور وہ یقینی طور پر حیاتِ نو کے لیے دعا مانگنے کے لیے انتہائی بے اعتقادے تھے! اُس کی قوت میں زیادہ ایمان پانے کے لیے خُدا ہماری مدد کرے!

پولوس رسول نے کہا، ’’پاک روح کو مت بُجھاؤ‘‘ (1۔تسالونیکیوں5:19)۔ بے اعتقادی اور دُنیاداری روح کو بُجھا دیتی ہے! ڈاکٹر لائیڈ جونز Dr. Lloyd-Jones نے مخصوص عالمین الٰہیات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا جو ’’روح کو بُجھاتے‘‘اور حیاتِ نو میں دلچسپی کھو دیتے ہیں (دی پیوریٹنز The Puritans، بینر آف ٹُرٹھ Banner of Truth، 1996 ایڈیشن، صفحہ 9) ۔

شاگرد اپنی بے اعتقادی کے باعث طاقتور آسیبوں کو نہ نکال پائے تھے (متی17:20)۔ ’’اپنی بے اعتقادی کے سبب سے‘‘ یہودی وعدے کی سرزمین میں داخل نہیں ہو پائے تھے (عبرانیوں3:19)۔ میرے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ بے اعتقادی کے گناہ کے ذریعے سے حیات نو کو ’’بُجھایا‘‘ جا سکتا ہے۔

بائبل صفحہ کے بعد صفحہ پیش کرتی ہے، جو خُدا کے عظیم معجزوں کو ظاہر کرتے ہیں، کہ ہمارا اُس میں ایمان شدت کے ساتھ بڑھے۔ عبرانیوں کا 11 باب خُدا میں ایمان کے وسیلے سے حاصل کرنے والی باتوں کے بارے میں ہے۔ میرے خیال میں اہم وجوہات میں سے ایک کہ ہمارے پاس حیات نو نہیں آتا بے اعتقادی کی وجہ سے ہے جو کہ خدا ابھی بھیج سکتا ہے، ہمارے ہی زمانے میں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ماضی میں ہوئے حیاتِ انواع، اور آج دُنیا کے دوسرے مقامات پر ہو رہے حیاتِ انواع کے واقعات کو سُننے کی ضرورت ہے۔ تب ہم اُس آسیب زدہ لڑکے کے باپ کے ساتھ مل کر کہہ سکتے ہیں، ’’خُداوند، میں اعتقاد رکھتا ہوں، تو میرے اعتقاد کو اور بھی پختہ کر دے‘‘ (مرقس9:24)۔ جب خُداوند حیاتِ نو بھیجنے کے قریب ہوتا ہے تو وہ شاید آپ کے ایمان کو بڑھا دے جب آپ پاک روح کے نازل کیے جانے کے لیے دعا مانگتے ہیں۔ جب آپ حیات انواع کے بارے میں سُنتے ہیں تو شدید توجہ دیں۔ پھر خُدا سے ہمارے گرجہ گھر میں بھی حیات نو بھیجنے کے لیے دعا مانگیں۔ اور میرے خیال میں آپ کے لیے دعا مانگنا، ’’خُداوند، میں اعتقاد رکھتا ہوں، تو میرے اعتقاد کو اور بھی پختہ کر دے‘‘ بجا طور پر دُرست ہے۔

ایک اور بات جسے آپ کو جاننے کی ضرورت ہے یہ حقیقت ہے کہ زیادہ تر حیات نو مقامی گرجہ گھروں میں ہوتے ہیں، جیسا کہ ہمارا ہے، یا دوسرے چھوٹے دعائیہ اجلاسوں میں۔ حیاتِ نو کے بارے میں زیادہ تر کتابیں بڑے شاندار واقعات پر توجہ مرکوز کرتی ہیں – سارے کا سارا ضلع خُدا کے لیے دھک جاتا ہے، حیات نو تاریخ کا رُخ بدل رہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ میرے خیال میں اُن کُتب کے مصنفین کا مطلب بہتر تھا، مگر میرے خیال میں اُنہیں اِس بات کے نقصان پہنچنے کا احساس نہیں ہوا جو کہ یہ حیات نو شروع کیسے ہوئے اِس بارے میں نا بتانے سے ہو سکتا ہے۔ اُن تمام شاندار واقعات کے بارے میں پڑھنے سے، آپ شاید بے اعتقادی میں گِھر جائیں۔ یہ شاید شیطان کو یہ کہنے کے لیے ایک موقع فراہم کر دے، ’’کچھ ایسا جو بہت بڑا ہو یہاں پر کبھی بھی رونما نہیں ہوگا!‘‘ یہ ہی وجہ ہے کہ میں خواہش کرتا ہوں کہ اُن مصنفین میں سے کچھ نے اُس پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہوتی کہ ایک مقامی گرجہ میں کیا رونما ہوتا ہےجب یہ پاک روح کے نزول کا تجربہ ہونا شروع ہوتا ہے۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے اِس کو محسوس کیا تھا جب اُنہوں نے کہا،

ہم اتوار کے روز گرجہ گھر میں لوگوں کے اکٹھے ہونے کے لیے اب مذید تیاریاں نہیں کرتے ہیں… مقامی گرجہ گھر کی اصطلاح میں سوچنے کے بجائے بڑے دعائیہ اجلاسوں اور تحریکوں کے بارے میں سوچنے کا رجحان جوں جوں بڑھا ہے، ویسے ہی حیاتِ انواع کا رُجحان گھٹ گیا ہے (حیات نو Revival، ibid.، صفحہ 61)۔

مجھے تعجب ہوگا اگر وہ رونما نہیں ہوا جب میں نے آپ کو چین میں حیات نو پر وہ ویڈیوز دکھائیں تھی۔ وہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہاں پر حیاتِ نو شدید بڑا ہے – دراصل پوری قوم میں۔ میں حیران ہوتا ہوں اگر شیطان نے آپ سے کہا ہوتا، ’’کچھ ایسا جو بہت بڑا ہو یہاں پر کبھی بھی رونما نہیں ہوگا!‘‘ حقیقت یہ ہے کہ غالباً یہ سچ ہے! ہم غالباً کبھی بھی امریکہ میں قومی حیاتِ نو حاصل نہیں کر پائیں گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ کو کبھی بھی قومی حیاتِ نو کے لیے دعا نہیں مانگنی چاہیے، مگر مہربانی سے اِس مقامی گرجہ گھر پر توجہ مرکوز کریں! زکریا نبی نے کہا، ’’کون ہے جس نے چھوٹی چیزوں کے دِن کی تحقیر کی ہے؟‘‘ (زکریا4:10)۔ ڈٓاکٹر میگی Dr. McGee نے کہا، ’’ہم چھوٹی چیزوں کے دِن کی تحقیر کرتے ہیں۔ ہم امریکی بڑی اور نمائشی چیزوں کے ساتھ متاثر ہوتے ہیں… ہم کامیابی کی پیمائش عمارت کے سائز اور اُس میں آنے والے ہجوم کے ساتھ کرتے ہیں‘‘ (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، جلد سوئم، تھامس نیلسن پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، 1983، صفحہ 924؛ زکریا4:10 پر غور طلب بات)۔

جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خُدا عموماً اُس طرح سے کام نہیں کرتا ہے؟ اُس نے تمام کی تمام نسل انسانی کو صرف 8 لوگوں سے نوح کے دِنوں میں بچایا۔ وہاں کوئی بھی بڑے اجلاس نہیں ہوئے تھے – صرف افراد تھے – عبرانیوں کے گیارہویں باب میں۔ خُداوند نے جدعونیوں کے ہجوم کو گھر بھیج دینے کے لیے کہا تھا کیونکہ اُس کو مدیانیوں کو فتح کرنے کے لیے صرف 300 لوگوں کی ضرورت تھی۔ تاریخ کے اہم حیاتِ انواع مُٹھی بھر لوگوں سے شروع ہوئے تھے۔

دوسری طرف، بہت بڑے ’’حیاتِ نو‘‘ کے اِجلاسوں نے ہمارے زمانے میں حقیقی حیاتِ نو پیدا نہیں کیے ہیں۔ میں نے پڑھا جہاں پر بلی گراھم نے اقرار کیا کہ حیاتِ نو اُس کی انجیلی بشارت کے پرچار کے صلیبی اجلاسوں کے سبب سے نہیں آئے تھے۔ Explo’72 پر نظر ڈالیں – ٹیکساس کے شہر ڈالاس میں مسیح کے لیے صلیبی اجلاس کے کیمپس میں 200,000 نوجوان لوگ چھ راتوں تک بلی گراھم کی منادی سُننے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ اِس کا نتیجہ کیا نکلا تھا؟ کچھ زیادہ نہیں۔ ایک سال بعد مسٹر گراھم جون 1973 میں کوریا کے شہر سی اول Seoul میں مسٹر گراھم نے ایک ملین سے بھی زیادہ لوگوں کو منادی کی تھی۔ اُس وقت تک دُنیا کی تاریخ میں کسی مبلغ کو ذاتی طور پر سُننے کے لیے سب سے بڑا ہجوم تھا۔ اِس کا نتیجہ کیا نکلا تھا؟ کچھ زیادہ نہیں۔ میں پُریقین ہوں کہ ڈلاس اور سی اول میں کچھ لوگ بچا لیے گئے ہوں – مگر اُن انتہائی شدید بڑے جلسوں سے کوئی حیاتِ نو رونما نہیں ہوا تھا۔

اِس کے باوجود بڑا حیاتِ نو چند ایک لوگوں سے ہی شروع ہوتا ہے۔ نارتھیمپٹن Northampton میں، جو میساشوسیٹزMassachusetts کا شہر ہے، جاناتھن ایڈورڈز کے گرجہ گھر میں، صرف چند سو لوگ ہی موجود تھے جب وہاں پر پہلی عظیم بیداری کا آغاز ہوا تھا، جس نے تمام کی تمام انگریزی بولی جانے والی دُنیا کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ 1738 میں نئے سال کی شام کے موقع پر سات آکسفورڈ کے گریجوایٹ اور تقریبا ساٹھ دوسرے لوگ لندن میں ایک کمرے میں دعا کے لیے اکٹھے ہوئے۔ عالمگیر طور پر پھیل جانے والی پہلی عظیم بیداری یہاں سے شروع ہوئی تھی۔ 1806 میں کالج کے پانچ طالب علموں نے بھوسے کے ڈھیر کے نیچے دعا مانگی اور عالمگیر طور پر پھیل جانے والی مشنری تحریک کا آغاز امریکہ سے ہوا، جو تمام زمانوں کے عظیم حیاتِ انواع میں سے ایک تھا۔ 1727 میں تقریباً جس کو اب زیک ریپبلک Czech Republic کہا جاتا ہے وہاں پر نواب نیکولس وان زینزن ڈورف Count Nicholas von Zinzendorf کی ریاست میں 400 لوگ دعا مانگنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔ ایک حیاتِ نو کا آغاز ہوا جس نے ہزاروں مشنریوں کو دُنیا کے کونے کونے میں بھیج دیا۔ اِس کے علاوہ، اِس موریوئین دعائیہ اجلاس سے، جان اور چارلس ویزلی John and Charles Wesley بچائے گئے تھے۔ پس بہت بڑا میتھوڈسٹ حیات نو، اِس کے ساتھ ساتھ سیلویشن آرمی کا حیاتِ نو چیکوسلواکیہ میں صرف 400 لوگوں کے اس دعائیہ اجلاس سے شروع ہوا تھا! 1857 کے 23 ستمبر کو، چھے لوگوں نے نیویارک شہر میں فُلٹن Fulton کی سڑک پر نارتھ ڈچ گرجہ گھر North Dutch Church میں ایک گھنٹے تک اکٹھے دعا مانگی تھی۔ اُنہوں نے ہر بُدھ کے روز ایک گھنٹے تک دعا مانگنے کے لیے اتفاق کیا تھا۔ تیسری عظیم بیداری شروع ہو چکی تھی، اور سینکڑوں ہزاروں ساری دُنیا میں تبدیل کیے گئے تھے۔ نیویارک میں فُلٹن سٹریٹ کے حیات نو نے تین ہزار میل دور انگلستان کے شہر لندن میں سی۔ ایچ۔ سپرجیئن کی منسٹری کو متاثر کرنے میں بھی مدد دی تھی!

میں کئی سالوں سے حیاتِ انواع کے بارے میں پڑھتا رہا ہوں۔ پہلی عظیم بیداری کے بعد سے مجھے ایک بھی ایسا یاد نہیں ہے کہ جو ایک بہت بڑی انجیلی بشارت کے پرچار کے دعائیہ اجلاس میں شروع ہوا ہو۔ کوئی ایک بھی نہیں! یاد رکھیں کہ صرف بالا خانے میں 120 لوگ دعا مانگ رہے تھے جب خُدا کا روح پینتیکوست کے روز نازل کیا گیا تھا! مسیحیت اُس چھوٹے سے دعائیہ اجلاس سے دُنیا کے کونے کونے میں پھیل گئی تھی!

ہم یہاں پر ہر اِتوار کو خوشخبری کی منادی کرتے ہیں۔ ہم برگشتہ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ یسوع اُن کے گناہوں کی ادائیگی کے لیے صلیب پر مرا تھا۔ ہم اُنہیں بتاتے ہیں کہ اُنہیں دائمی زندگی دینے کے لیے یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ مگر اُن حقائق کو پاک روح کے وسیلے سے اُن کے لیے حقیقی بننا چاہیے۔ اُسے اُنہیں گناہ کی سزایابی میں لانا چاہیے۔ اُسے اُنہیں مسیح کی جانب راغب کرنا چاہیے تاکہ اُس کے خون کے وسیلے سے اُن کے گناہوں کو پاک صاف کیا جا سکے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ خُدا سے دعا مانگیں گے کہ وہ اپنا روح ہمارے گرجہ گھر پر ایک حقیقی حیاتِ نو میں اُنڈیلے گا! میں اُمید کرتا ہوں کہ ہر مرتبہ جب آپ دعا مانگیں گے تو آپ حیاتِ نو کے لیے بھی دعا مانگیں گے۔ گنہگاروں کے دِلوں میں اِس کام کو کرنے کے لیے پاک روح کے اُنڈیلے جانے کی دعا مانگیں۔ اوہ خُدایا، ہم گناہ سے برگشتہ لوگوں کی سزایابی اور اُنہیں تیرے بیٹے کی جانب راغب کرنے کے لیے تیرے روح کے نازل کیے جانے کی دعا مانگتے ہیں۔ ہم یہ اُس کے نام میں مانگتے ہیں۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’مجھ پر سانس پھونک دے Breathe on Me‘‘
(شاعر ایڈوِن ہیچ Edwin Hatch، 1835۔1889؛ بی۔ بی۔ میکینی B.B. McKinney، 1886۔1952 نے ترمیم کی)۔