Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

حقیقی تبدیلی کا ایک سچا نشان

(حیات نو پر واعظ نمبر 7)
A TRUE SIGN OF REAL CONVERSION
(SERMON NUMBER 7 ON REVIVAL)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 14ستمبر، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, September 14, 2014

’’یوحنا کی طرف سے اُن سات کلیسیاؤں کے نام جو ایشیا میں ہیں: تمہیں فضل اور اطمینان حاصل ہوتا رہے، اُس کی طرف سے جو ہے جو تھا اور جو آنے والا ہے؛ اور اُن سات روحوں کی طرف سے جو اُس کے تخت کے سامنے ہیں؛ اور یسوع مسیح کی طرف سے جو سچا گواہ اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں سے پہلوٹھا اور دُنیا کے بادشاہوں پر حاکم ہے۔ جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور جس نے اپنے خون کے وسیلہ سے ہمیں ہمارے سارے گناہوں سے مخلصی بخشی‘‘ (مکاشفہ1:4۔5)۔

1970 سے ڈاکٹر پیٹر ماسٹرز Dr. Peter Masters سپرجیئن کی عبادت گاہ Spurgeon’s Tabernacle کے پادری رہے ہیں۔ وہ وہاں پر 44 سالوں تک خوشخبری کی منادی کر چکے ہیں، اور اُن کا گرجہ گھر ساری دُنیا میں مسیح کی پُختہ تصدیق کے لیے گواہ رہا ہے۔ ڈاکٹر ماسٹرز نے حقیقی تبدیلی کے سات یقینی نشانات Seven Certain Signs of True Conversion (سورڈ اور ٹروول Sword and Trowel، 2009 ایڈیشن) کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ میں وہ سات نشانات پیش کرنے جا رہا تھا جو اُنہوں نے کہا کہ اُس شخص میں نمودار ہوں گے جو سچے طور پر تبدیل ہوتا ہے۔ مگر میں نے صرف پہلا نقطہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پینتیکوست کے روز تقریباً 3,000 لوگوں پر تبدیلی واقع ہوئی تھی۔ یہ میسحیت کی تاریخ میں پہلا حیات نو تھا۔

ڈاکٹر جوئیل ہاوس Dr. Joel Hawes نے جو کہ ابتدائی 19ویں صدی میں نیو انگلستان کے مشہور پادری تھے حیات نو کی ایک اچھی تعریف بیان کی۔ اُنہوں نے کہا،

حیات انواع کا نظریہ انتہائی سادہ ہے۔ یہ ایک ہی وقت میں گنہگاروں کی تعداد میں صرف اضافہ اور توسیع ہے، پاک روح کے اُس تاثر کا جو کہ ہر انفرادی شخص کی تبدیلی میں وقوع پزیر ہوتا ہے... (جوئیل ہاوس، ڈی۔ڈی۔ Joel Hawes, D.D.، ڈاکٹر ولیم بی۔ سپریگ Dr. William B. Sprague کی جانب سے مذھب کے حیات انواع پر لیکچروں Lectures on Revivals of Religion میں حوالہ دیا گیا، دی بینر اور ٹُرتھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، 2007 ایڈیشن، صفحہ290)۔

میں اُس بیان کے ساتھ مکمل طور پر متفق ہوں۔ ایک انفرادی تبدیلی میں جو ایک گنہگار کے ساتھ ہوتا ہے وہی خُدا کے بھیجے ہوئے حیات نو میں گنہگاروں کی ایک تعداد کے ساتھ ہوتا ہے۔ اِس لیے ڈاکٹر ماسٹرز کا تبدیلی کے نشانات کو ظاہر کرنے کے لیے پینتیکوست کا استعمال صیحح ہے۔ ایک حقیقی تبدیلی میں کیا رونما ہوتا ہے اِس پر یہ ہے ڈاکٹر ماسٹرز کا پہلا اور سب سے زیادہ اہم نقطہ: گناہ کی سزایابی اور مسیح کے خون کے وسیلے سے معافی۔ پینتیکوست کے موقع پر، پطرس نے کہا،

’’خدا نے اُسی یسوع کو، جسے تم نے صلیب پر چڑھایا، خداوند بھی ٹھہرایا اور مسیح بھی‘‘ (اعمال 2:36).

’’یہ باتیں سُن کر اُن کے دل پر چوٹ لگی، تب انھوں نے پطرس اور دوسرے رسولوں سے کہا، کہ اے بھائیو، ہم کیا کریں؟‘‘ (اعمال 2:37).

اِس حوالے میں فضل کا پہلا نشان گناہ کی سزایابی ہے۔ اُن کے ’’دِل پر چوٹ لگی‘‘ تھی – یا جیسا کہ یونانی تلاوت اِس کو لکھتی ہے ’’دِل تک چِیر جانا۔‘‘ تبدیلیاں اُس وقت رونما ہوتی ہیں جب خُدا کا روح شدید احساسات تخلیق کرتا ہے، تبدیل ہونے والے کو اُس کے گناہ کے بارے میں شدت کے ساتھ فکرمند کر دیتا ہے اور وہ شدت کے ساتھ معافی کا متلاشی ہو جاتا ہے۔ ہر کسی کو اُس شرمندگی کی گہرائی کا احساس اور ملال نہیں ہوتا ہے جو بعنیئن Bunyan، وائٹ فیلڈ Whitefield اور سپرجیئن Spurgeon کو ہوا تھا۔ مگر دُکھ اور گناہ کے احساس میں کچھ فرق بھی ہونا چاہیے ورنہ کوئی بھی حقیقی تبدیلی رونما نہیں ہوئے گی۔

کسی نے حال ہی میں مجھ سے پوچھا آیا میں بھی اُسی طرح سے گناہ کی سزایابی میں سے گزرا تھا جیسے وائٹ فیلڈ گزرا تھا۔ میں نے اُس کے بارے میں چند لمحات کے لیے سوچا۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ میرا تجربہ بہت طرح سے اُس کے ساتھ مشہابت رکھتا تھا۔ میں اِس قدر زیادہ دُکھ اور تکلیف میں مہینوں تک رہا تھا کہ آخر کار، پاک خُدا کی نظر میں اپنے گناہ سے مُبّرا ہونے کے لیے میں کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔ پھر میں نے چارلس ویزلی Charles Wesley (1707۔1788) کے حمدوثنا کے گیت ’’حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے، کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا۔‘‘ خُداوند نے مجھے میسح کی محبت دکھائی، میری جگہ پر مرتے ہوئے، میرے گناہ کی معافی کے لیے، اور اپنے خون سے اِسے پاک صاف کرتے ہوئے! ایک ہی لمحے میں میں نے مسیح پر بھروسہ کیا! میں ’’حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے، کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا!‘‘ گاتے ہوئے گھر کی جانب گیا

مگر سزایابی بذات خود تبدیلی کا ایک نشان نہیں ہے۔ اوہ، جی نہیں! یہ گناہ کی سزایابی کے بعد مسیح کے کفاراتی خون میں ایمان کے وسیلے سے ہے۔ سزایابی جو مسیح کے وسیلے سے نگل لی جاتی ہے! سزایابی جو اُس کے قیمتی خون میں غرق ہو جاتی ہے! یہ ہے جو ایک حقیقی تبدیلی میں ہوتا ہے! جب وہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے تو وہ آپ کی زندگی بدل دے گا! مسیح ایک منصف کے مذید نظر نہیں آئے گا۔ اوہ، جی نہیں! آپ کاؤنٹ زِنزینڈورف Count ZinZendorf جو موراویعئن Moravian مشنریوں کے رہنما ہیں اُن کے ساتھ پکار اُٹھیں گے، جنہوں نےکہا،

مسیحی خدا کے لوگ ہیں، اُس کی روح کے اکلوتے، اُس کے فرمانبردار، اُس کی آگ میں بھڑکتے ہوئے؛ اُس کا خون اُن کا جلال ہے!

اُس کا خون اُن کا جلال ہے! اُس کا خون اُن کا جلال ہے! اُس کا خون اُن کا جلال ہے!

صلیب میں، صلیب میں،
   ہمیشہ میرا جلال ہو؛
جب تک کہ میری بے خود جان پا نہ لے
   دریا سے پرے آرام!
(صلیب کے نزدیک Near the Cross‘‘ شاعر فینی جے۔ کراسبیFanny J. Crosby    ، 1820۔1915)۔

اِس کو گائیں!

صلیب میں، صلیب میں،
   ہمیشہ میرا جلال ہو؛
جب تک کہ میری بے خود جان پا نہ لے
   دریا سے پرے آرام!

کاؤنٹ زِنزینڈورف نے کہا،

مسیح کا خون نا صرف گناہ کے لیے خودمختیار علاج ہے؛ یہ مسیحی زندگی کی اہم غذا بھی ہے۔

صلیب کے نزدیک! اے خُدا کے برّے،
   اُس کے نظارے میرے سامنے لے آ؛
میری روبروز چلنے کے لیے مدد کر،
   مجھ پر اُس کے سائے کے ساتھ۔

اِس کو گائیں!

صلیب میں، صلیب میں،
   ہمیشہ میرا جلال ہو؛
جب تک میری بیخود روح پا نہ لے
   اُس دریا سے پرے سکون!

یہ ہی ایک حقیقی تبدیلی کا نشان ہے – گناہ کی سزایابی اور مسیح کی صلیب کے خون کے وسیلے سے نجات! آپ کے گیتوں کے ورق پر نمبر6! اِس کو گائیں!

کیا چیز میرے گناہ کو دھو سکتی ہے؟ کچھ بھی نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے؛
   کیا چیز مجھے دوبارہ مکمل کر سکتی ہے؟ کچھ بھی نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔
اوہ! کس قدر قیمتی ہے وہ بہاؤ جومجھے برف کی مانند سفید بناتا ہے؛
   کوئی دوسرا چشمہ میں نہیں جانتا، کچھ بھی نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔

اپنے معافی کے لیے، یہ میں دیکھ سکتا ہوں، کچھ نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے؛
   میرے دُھو ڈالنے کے لیے، یہ میری التجا ہے، کچھ نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔
اوہ! کس قدر قیمتی ہے وہ بہاؤ جومجھے برف کی مانند سفید بناتا ہے؛
   کوئی دوسرا چشمہ میں نہیں جانتا، کچھ بھی نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔

کچھ بھی گناہ کا کفارہ نہیں ہوسکتا، کچھ نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے؛
   نیکی کا کچھ نہیں جو میں کر چُکا ہوں، کچھ نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔
اوہ! قیمتی ہے وہ بہاؤ جو مجھے برف کی مانند سفید بناتا ہے؛
   اور کوئی دوسرا چشمہ میں نہیں جانتا، کچھ نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔

یہ ہی میری تمام اُمید اور سکون ہے، کچھ نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے؛
   یہ ہی میری تمام راستبازی ہے، کچھ نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔
اوہ! قیمتی ہے وہ بہاؤ جو مجھے برف کی مانند سفید بناتا ہے؛
   اور کوئی دوسرا چشمہ میں نہیں جانتا، کچھ نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔
(’’کچھ بھی نہیں ماسو ائے خون کے Nothing But the Blood‘‘ شاعر رابرٹ لوری Robert Lowry، 1826۔1899).

یہ ہی حقیقی تبدیلی کا پہلا نشان ہے – گناہ کی سزایابی اور مسیح کے خون کے وسیلے سے پاک صاف ہونا! آئیے جو فخر کرتا ہے کرنے دیجیے، میسح کے خون کے بارے میں فخر! جو جلال بخشتا ہے اُس جلال بخشنے دیجیے، صلیب میں جلال ہو! آئیے جو گواہی دیتا ہے دے لینے دیجیے، اُس کے بارے میں گواہی

’’مگر اُس کے فضل کے سبب اُس مخلصی کے وسیلہ سے جو یسوع مسیح میں ہے: مُفت راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں۔ خدا نے یسوع کو مقرر کیا کہ وہ اپنا خُون بہائے اور انسان کے گناہوں کا کفارہ بن جائے‘‘ (رومیوں 3:24۔25).

’’پس جب ہم نے مسیح کے خون بہانے کے باعث راستباز ٹھہرائے جانے کی توفیق پائی تو ہمیں اور بھی زیادہ یقین ہے کہ ہم اُس کے وسیلہ سے غضبِ الٰہی سے ضرور بچیں گے‘‘ (رومیوں 5:9).

مصلوب کیے گئے کے خون سے بچایا گیا!
   اب گناہ سے بخشا گیا اور ایک نئے کام کا آغاز ہوا،
باپ کے لیے گاؤ ستائش کرو اور بیٹے کے لیے ستائش کرو،
   مصلوب کیے گئے کے خون سے بچایا گیا ہوں!
بچایا گیا! بچایا گیا! میرے تمام گناہ معاف کیے گئے ہیں، میرے تمام قصور جا چکے ہیں!
بچایا گیا! بچایا گیا! میں مصلوب کیے گئے کے خون سے بچایا گیا ہوں!
   (’’خون کے وسیلے سے بچایا گیا Saved by the Blood‘‘ شاعر ایس۔ جے۔ ھینڈرسن S. J. Henderson، 1902)۔

تنہا تیرا ہی کام ہے، او مسیح،
   جو گناہ کا یہ بوجھ ہلکا کر سکتا ہے؛
واحد تیرا ہی خون، اے خُدا کے برّے،
   مجھ میں اندرونی سکون برپا کر سکتا ہے۔
(’’کچھ بھی نہیں اِن ہاتھوں نے جو کچھ بھی کیا Not What These Hands Have Done‘‘ شاعر ھوریٹیئس بونار Horatius Bonar، 1808۔1889)۔

یہ ہی حقیقی تبدیلی کا پہلا نشان ہے – گناہ کی سزایابی اور خون کے وسیلے سے امن! بوڑھے موڈی Moody کہا کرتے تھے،

برگشتگی سے تباہ ہوا تھا،
خون کے وسیلے سے مخلصی پا لی!

نجات پائی، نجات پائی،
   برّے کے خون کے وسیلے سے نجات پائی؛
نجات پائی، نجات پائی،
   اُس کے بچے اور میں نے ہمیشہ کے لیے!
(نجات پائی Redeemed‘‘ شاعر فینی جے۔ کراسبی Fanny J. Crosby، 1820۔1915)۔

اِس کو گائیں!

نجات پائی، نجات پائی،
   برّے کے خون کے وسیلے سے نجات پائی؛
نجات پائی، نجات پائی،
   اُس کے بچے اور میں نے ہمیشہ کے لیے!

میں معزرت خواہ ہوں! ڈاکٹر ماسٹرز نے حقیقی تبدیلی کے سات نشانات پیش کیے! مگر میں تو پہلے سے ہی نہیں نکل پا رہا ہوں! اِس کو گائیں!

نجات پائی، نجات پائی،
   برّے کے خون کے وسیلے سے نجات پائی؛
نجات پائی، نجات پائی،
   اُس کے بچے اور میں نے ہمیشہ کے لیے!

ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونزDr. Martyn Lloyd-Jones نے کہا،

بِنا مُستثنیٰ قرار دیے، حیات نو کے ہر دور میں آپ اِس کو جان جائیں گےکہ مسیح کے خون پر نہایت شدید زور رہا ہے... میں بالکل مکمل طور پر جانتا ہوں جب میں اِس قسم کی باتیں کرتا ہوں کہ میں کچھ ایسا کہہ رہا ہوں جو کہ موجودہ دور میں غیرمعمولی بالکل ہی غیرشہرت یافتہ ہے۔ کچھ میسحی مبلغین ایسے بھی ہیں جو سوچتے ہیں کہ وہ خون کے اِس الہٰیاتی علم کا مذاق اُڑانے میں ماہر ہیں۔ وہ اِس کی حقارت کے ساتھ توہین کرتے ہیں... بیشک وہ ایسا [کرتے] ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ کلیسیا جو ہے وہ ایسی ہے۔ مگر حیات نو کے عرصے میں [کلیسیاؤں] کا جلال صلیب میں ہوگا، [وہ] خون میں اپنا فخر کریں گی... کیونکہ جیسا کہ عبرانیوں کے مراسلے کے منصف نے اِس کو بیان کیا کہ صرف ایک ہی طریقہ ہے جس سے ہم پاک مقَدِس میں بے باکی کے ساتھ داخل ہو سکتے ہیں، اور وہ یسوع کے خون کے وسیلے سے ہے (دیکھیں عبرانیوں10:19)۔ یہ وہ ایک بات ہے جس کی تعظیم پاک [روح] کرتا ہے... مسیحی خوشخبری کا مرکز اور دِل یہ ہی ہے، ’’خُدا نے یسوع کو مقرر کیا کہ وہ اپنا خون بہائے اور انسان کے گناہ کا کفارہ بن جائے اور اُس پر ایمان لانے والے فائدہ اُٹھائیں‘‘ (رومیوں3:25)… مجھے حیات نو کے لیے کوئی اُمید نظر نہیں آتی جبکہ مرد اور خواتین صلیب کے خون کو مسترد کر رہے ہیں (مارٹن لائیڈ جونز، ایم۔ ڈی۔ Martyn Lloyd-Jones, M.D.، حیات نو Revival، کراسوے کُتب Crossway Books، 1987، صفحات48 ، 49)۔

کافی عرصہ پہلے، ایک موراویعئن Moravian مشنری نے بتایا جو ایک بوڑھے انڈین سردار نے امریکہ میں اپنے تبدیل ہونے کے بعد کہا تھا۔ اُس بوڑھے انڈین سردار نے کہا،

     ایک مبلغ ایک مرتبہ ہمارے پاس آیا، ہمیں تعلیم دینے کی خواہش کے ساتھ، اور ہمیں آغاز یہ ثابت کرنے سے کیا کہ ایک خُدا تھا۔ ہم نے اُس سے کہا، ’’کیا تو یہ سوچتا ہے کہ ہم اِس بات سے ناواقف ہیں؟ دفع ہو جا!‘‘ ایک اور مبلغ آیا اور ہمیں بتایا، تمہیں چوری نہیں کرنی چاہیے، نا ہی شراب یا نشیلا مشروب پینا چاہیے، نا ہی جھوٹ بولنا چاہیے۔‘‘ ہم نے اُس کو جواب دیا، ’’کیا تو سوچتا ہے کہ ہم یہ بات نہیں جانتے ہیں؟ جا اور جا کر اپنے لوگوں کو یہ بات بتا۔ وہ سفید فام لوگ ہمارے سے زیادہ شرابی، چور اور جھوٹے ہیں۔‘‘ اِس لیے ہم نے اُس کو بھی پرے کر دیا۔ بعد میں، موراویعئن مشنریوں میں سے ایک میری جھونپڑی میں آیا، اور میرے قریب بیٹھ گیا۔ اُس نے مجھ سے کہا، ’’میں تمہارے پاس آسمان اور زمین کے خُدا کے نام پر آیا ہوں۔ وہ مجھ سے چاہتا ہے کہ آپ کو بتاؤں کہ وہ آپ کو بچا لے گا، اور آپ کو آپ کی دِل سوز حالت سے باہر نکال لے گا۔ آپ کو بچانے کے لیے وہ ایک انسان بنا، اور آپ کو گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے اپنا خون بہایا۔‘‘ پھر وہ مشنری میری جھونپڑی میں لیٹ گیا اور سو گیا، کیونکہ وہ اپنے طویل سفر کی وجہ سے بہت تھکا ہوا تھا۔ میں نے خود اپنے آپ میں سوچا، ’’یہ کس قسم کا شخص ہے؟ یہ یہاں پڑا ہوا ہے اور کتنی میٹھی نیند سو رہا ہے۔ میں شاید اِس کو قتل کر دوں اور اِس کے جسم کو باہر جنگل میں پھینک دوں۔ کس کو پتا چلے گا یہ کون پرواہ کرے گا؟ مگر یہ میری روح کے بارے میں فکرمند ہے۔‘‘ میں اُس کے الفاظ کو اپنے ذہن میں سے نہ نکال پایا۔ جب میں سو گیا تو میں نے خواب میں اُس خون کو دیکھا جو مسیح نے میرے لیے بہایا تھا۔ میں نے سوچا، ’’یہ ایک نیا پیغام ہے، جو کہ ہمارے لیے انتہائی عجیب سا تھا۔‘‘ میں باہر گیا اور دوسرے انڈینزIndians کو اُس مشنری کے الفاظ بتائے۔ پھر، خُداوند کے فضل سے، ہمارے درمیان حیات نو وقوع پزیر ہوا۔ اے مشنریوں میں آپ کو بتاتا ہوں، ’’بھائیوں، مسیح کی منادی کافروں کو کرو، مسیح، اور اُس کے خون اور اُن کے گناہوں کے لیے موت، اگر آپ اُن کے درمیان برکت پیدا کرنا چاہتے ہیں‘‘ (جان گرین فیلڈ John Greenfield سے اخذ کیا ہوا، جب پاک روح آیا: موراویعئن حیات نو When the Spirir Came: The Moravian Revival، سٹریٹیجک پریس Strategic Press، n.d.، صفحات36، 37)۔

اپنی زندگی کے اختتام پر، تقریباً 90 برس کی عمر سے زیادہ ہونے پر، یوحنا رسول نے مکاشفہ کی کتاب لکھنا شروع کی۔ اُس نے مسیح کے بارے میں بات کرتے ہوئے آغاز کیا اور کہا،

’’جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور جس نے اپنے خون کے وسیلہ سے ہمیں ہمارے سارے گناہوں سے مخلصی بخشی‘‘ (مکاشفہ 1:5).

یوحنا رسول 70 سالوں سے زیادہ عرصے تک مسیحی رہ چکا تھا – اِس کے باوجود اُس نے یسوع کی محبت کے بارےمیں، اور اُس کے خون کی اہمیت کے بارے میں جو اُس نے ہمیں بچانے کے لیے صلیب پر بہایا تھا اِس قدر زیادہ سوچا تھا کہ یہ سب سے پہلی بات تھی جس کے بارے میں اُس نے بتایا جب اُس نے مکاشفہ کی کتاب کو لکھنا شروع کیا تھا۔

اُس بوڑھے انڈین سردار نے یسوع کے خون کے بارے میں خواب دیکھا تھا۔ بوڑھے یوحنا رسول نے یسوع کے خون کے بارے میں 70 سالوں سے زیادہ عرصے تک سوچا تھا۔ اوہ، خُدا کرے کہ آپ بھی گناہ کی سزایابی کے تحت آئیں، اور پھر یسوع پر بھروسہ کریں اور ’’خود یسوع کے اپنے خون میں‘‘ اپنے گناہوں سے دُھل جائیں۔ آپ اُسی لمحے نجات پا لیں گے جس لمحے آپ یسوع پر بھروسہ کریں گے اور اُس خون کے وسیلے سے جو اُس نے صلیب پر بہایا اپنے تمام گناہوں سے پاک صاف ہو جائیں گے! یہ حقیقی تبدیلی کا سچا نشان ہے! تب آپ بُلند آواز کے ساتھ گانے کے قابل ہو جائیں گے،

بچایا گیا! بچایا گیا! میرے تمام گناہ معاف کیے گئے ہیں، میرے تمام قصور جا چکے ہیں!
بچایا گیا! بچایا گیا! میں مصلوب کیے گئے کے خون سے بچایا گیا ہوں!

ڈاکٹر چعین، مہربانی سے دعا میں رہنمائی کریں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: اعمال 2:37۔38.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’خون کے وسیلے سے بچایا گیا Saved by the Blood‘‘ (شاعر ایس۔ جے۔ ھینڈرسن S. J. Henderson، 1902)\
’’کچھ بھی نہیں اِن ہاتھوں نے جو کچھ بھی کیا Not What These Hands Have Done‘‘ شاعر ھوریٹیئس بونار Horatius Bonar، 1808۔1889)۔