Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

ایک جملے میں انجیل

THE GOSPEL IN ONE SENTENCE
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 14 ستمبر، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, September 14, 2014

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تیموتاؤس1:15)۔

13 جولائی سے آغاز کرتے ہوئے میں نے تنہائی پر واعظوں کے ایک سلسلے پر تبلیغ کی۔ میں نے اُن کی لگاتار سات اِتواروں کی صبح تبلیغ کی۔ میں اُس تنہائی کے مسئلے پر منادی کر رہا تھا جس کا آج کل زیادہ تر نوجوان لوگ تجربہ کرتے ہیں۔ میں نے بارہا کہا، ’’تنہا کیوں رہا جائے؟ گرجہ گھر کے لیے – گھر آئیں۔‘‘ اور میں اپنے گرجہ گھر کو تنہائی کے علاج کے لیے پیش کرتا رہا تھا۔ وہ واعظ گرجہ گھر پر واعظ تھے – جس کو عالمین الہٰیات ’’علم الہٰیات کی وہ شاخ جس کا تعلق کلیسیا کے افعال، فطرت اور آئیں کے ساتھ ہوتا ہے ecclesiology‘‘ کہتے ہیں۔ میں نے بارہا ظاہر کیا کہ ایک محبت کرنے والا گرجہ گھر نوجوان ہائی سکول اور کالج کی عمر کے طالب علموں کے لیے انتہائی مددگار ہو سکتا ہے۔ ایک اچھا، جاندار گرجہ گھر آپ کو تنہائی اور بیگانگی پر قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے۔ آپ میں سے بہت سوں نے ہمارے گرجہ گھر میں آنا شروع کر دیا تھا جب میں نے اُن واعظوں کی تبلیغ کی تھی۔ مگر واضح طور پر میرے لیے وقت آ گیا ہے کہ میں دوسرے موضوع پر آ جاؤں۔ اور دوسرے موضوع کی توجہ کا مرکز دوسری بات پر ہوگا جس کو میں نے بار بار سات اِتواروں تک کہا۔ ’’کھوئے کیوں رہیں؟ خُدا کے بیٹے – یسوع کے لیے گھر آئیں!‘‘ اور یہ ہمیں آج کی صبح ہماری تلاوت پر لے جاتا ہے۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور 1تیموتاؤس1:15 باآوازِ بُلند پڑھیں۔ یہ سیکوفیلڈ مطالعۂ بائبل Scofield Study Bible میں صفحہ 1274 پر ہے۔

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تیموتاؤس1:15)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

زیادہ تر میری ابتدائی تربیت چینی بپتسمہ دینے والی گرجہ گھر پر میرے پادری ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin، اور ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee جو ریڈیو پر بائبل کے عظیم اُستاد ہیں اُنہوں نے کی تھی اور جنہیں میں کئی سالوں تک ہر روز سُنتا رہا۔ ہماری تلاوت سے تعلق رکھتے ہوئے، ڈاکٹر میگی نے کہا،

یہ کلام پاک کی انتہائی اہم آیت ہے کیونکہ یہ اِس بات کو پختہ کرتی ہے کہ ’’مسیح یسوع اِس دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا۔‘‘ وہ اِس دُنیا میں سب سے زیادہ مانا جانے والا عظیم ترین اُستاد ہونے کے لیے نہیں آیا تھا، حالانکہ وہ وہی تھا۔ وہ [صرف] ایک اخلاقی مثال قائم کرنے کے لیے ہی نہیں آیا تھا، مگر اُس نےایسا کیا۔ وہ دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا تھا؛ ’’جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈیJ. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، جلد پنجم، تھامس نیلسن پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، 1983، صفحہ 434؛ 1تیموتاؤس1:15 پر غور طلب بات)۔

’’یہ بات سچ ہے۔‘‘ رسول کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک قابل اعتماد بات ہے، ایک ایسی بات جس پر آپ یقین کر سکتے ہیں اور بھروسہ رکھ سکتے ہیں۔ یہ ’’پوری طرح قبول کرنے کے لائق‘‘ ایک بات ہے۔ یہ قبول کیے جانے کی مستحق ہے کیونکہ یہ ایک سچی بات ہے۔ یہ کیا بات ہے جس پر آپ بھروسہ کر سکتے ہیں اور قبول کر سکتے ہیں؟ یہ بات یہ ہے – ’’مسیح یسوع اِس دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں۔‘‘ آپ اِس پر یقین کر سکتے ہیں۔ آپ اِس پر انحصار کر سکتے ہیں۔ اور آپ کو اِس کو ایک سچائی کے طور پر قبول کرنا چاہیے! ’’مسیح یسوع اِس دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں۔‘‘ آپ کو اُس بیان کو قبول کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہی سچائی ہے – ایک کُلی سچائی – ’’مسیح یسوع اِس دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا‘‘! ہم اُس آیت سے تین عظیم سچائیاں سیکھتے ہیں۔

I۔ اوّل، ہم مسیح کی ہستی کے بارے میں سیکھتے ہیں۔

’’میسح اِس دُنیا میں آیا۔‘‘ وہ ’’آیا۔‘‘ وہ تخلیق نہیں کیا گیا تھا جیسے ہمیں تخلیق کیا گیا تھا۔ ہم اِس دُنیا میں آئے نہیں تھے۔ ہم یہاں، اِس دُنیا میں ہی تخلیق کیے گئے تھے۔ مگر مسیح ’’اِس دُنیا میں ۔‘‘ وہ کہاں سے آیا تھا؟ وہ آسمان سے نیچے ہمارے درمیان رہنے کے لیے آیا تھا۔ یوحنا رسول کی انجیل کہتی ہے،

ابتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام ہی خُدا تھا… اور کلام مجّسم ہوا اور ہمارے درمیان خیمہ زن ہوا...‘‘ (یوحنا1:1، 14)۔

مسیح اوپر آسمان میں خدا باپ کے ساتھ تھا۔ پھر وہ نیچے آیا، اور وہ مجّسم ہوا، اور ہمارے درمیان خیمہ زن ہوا! اِس کو ’’متجسم ہونا incarnation‘‘ کہتے ہیں۔ اِس کا مطلب وہ ’’انسانی جسم میں‘‘ خُدا تھا۔ یہ چارلس ویزلی Charles Wesley (1707۔1788) نے اپنے خوبصورت کرسمس کے حمد و ثنا کے گیت میں کہا، ’’جسم میں چُھپا ہوا خُدائے برتر دیکھتا ہے؛ اُس مجسم خُدائی کی ستائش ہو، انسان کے طور پر انسانوں میں بسنے کے لیے خوش ہوا، یسوع، ہمارا عمانوئیل؛ توجہ سے سُنیں، قاصد فرشتے گاتے ہیں، نوزائیدہ بادشاہ کو جلال ہو‘‘(’’ توجہ سے سُنیں، قاصد فرشتے گاتے ہیں Hark, the Herald Angels Sing‘‘ شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley، 1707۔1788)۔ یا جیسا کہ ایملی ایلیٹ نے اِس کو لکھا، ’’تو نے واقعی میں اپنا تخت اور اپنا شاہی تاج چھوڑا جب تو میرے لیے زمین پر آیا‘‘ (تو نے واقعی میں اپنا تخت چھوڑا Thou Didst Leave thy Throne‘‘ شاعری ایملی ای۔ ایس۔ ایلیٹ Emily E. S. Elliott، 1836۔1897)۔

مگر کیوں اُس نے آسمان کو چھوڑا اور اِس زمین پر نیچے آیا؟ کیوں وہ کنواری مریم کے رَحَم میں آیا؟ کیوں وہ ہمارے درمیان خیمہ زن ہوا؟ کیوں اُس نے اِس قدر شدید اذیت اور دُکھ برداشت کیا؟ کیوں وہ مصلوب ہونے کے لیے گیا اور اپنے ہاتھوں اور پیروں میں صلیب پرکیل ٹھونکوائے؟ کیوں اُس متجسم خُدا، انسانی جسم میں خُدا نے ہمارے لیے اُس صلیب پر اذیت برداشت کی؟ ہماری تلاوت کہتی ہے، ’’مسیح یسوع اِس دُنیا میں آیا،‘‘ مگر کیوں وہ اِس دُنیا میں آیا؟ جو کہ ہمیں اگلے نقطے پر لے جاتا ہے۔

II۔ دوئم، ہم مسیح کے مقصد کے بارے میں جانتے ہیں۔

پہلے نقطے میں مَیں نے آپ کو بتایا وہ کون تھا جو اِس دُنیا میں آیا – وہ متجسم خُدا تھا – تثلیث کی دوسری ہستی۔ اب ہم دیکھیں گے کیوں وہ اِس دُنیا میں آیا،

’’مسیح یسوع اِس دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا‘‘ (1 تیموتاؤس1:15)۔

اِس دُنیا میں اُس کے آنے کا مقصد گنہگاروں کو بچانا تھا۔ ہمیں واضح طور پر بتایا گیا کہ میسح نے بھی، ’’راستباز نے ناراستوں کے گناہوں کے بدلہ میں ایک ہی بار دُکھ اُٹھایا تاکہ وہ تمہیں خُدا تک پہنچائے‘‘ (1 پطرس3:18)۔ دوبارہ پطرس رسول نے کہا کہ میسح ’’خود اپنے ہی بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ لیے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا‘‘ (1پطرس2:24)۔ اور پولوس رسول نے کہا، ’’مسیح ہمارے گناہوں کے لیے مرا‘‘ (1کرنتھیوں15:3)۔ مسیح اپنی مرضی سے صلیب کے لیے گیا، ہماری جگہ پر مصائب برداشت کرنے کے لیے، آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے، خود اپنے خون سے آپ کے گناہ کو پاک صاف کرنے کے لیے، کہ خُدا کے لیے یہ ممکن بنائے کہ آپ کو آسمان میں قبول کیا جائے۔ مسیح اِس دُنیا میں گنہگاروں کو گناہ کے جرم سے بچانے کے لیے آیا، آپ کے گناہ دور لے جانے کے لیے آیا، ’’آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے آیا‘‘ (1یوحنا1:7)۔ خود مسیح نے کہا، ’’میں دُنیا کو مجرم ٹھہرانے نہیں آیا بلکہ نجات دینے آیا ہوں‘‘ (یوحنا12:47)۔ اشعیا نبی نے یہ کچھ انتہائی واضح کر دیا تھا جب اُس نے کہا،

’’وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کیا گیا، وہ ہماری بداعمالی کے باعث کُچلا گیا... اور اُس کے کوڑے کھانے سے ہم شفایاب ہوئے‘‘ (اشعیا53:5)۔

مسیح کا گناہ بدترین گنہگار کو اُس کے گناہ سے بچانے کے قابل ہے۔ مسیح کے خون میں یہ قوت ہے کیونکہ وہ اِس ہی قدر عظیم انسان ہے! مسیح خُدا کا اکلوتا بیٹا ہے!

سپرجیئن Spurgeon نے کہا کہ مسیح کو آسمان سے ہم گنہگاروں کو بچانے کے لیے آنا پڑا۔ سپرجیئن نے کہا،

     مسیح یسوع انسان کو بچا نہ پایا ہوتا اگر وہ آسمان میں ہی رہ جاتا۔ وہ ’’اِس دُنیا میں آیا‘‘ گنہگاروں کو بچانے کے لیے۔ وہ برگشتگی اِس قدر سنگین تھی کہ اُس کو ہماری تباہی کی جگہ پر ٹھیک نیچے آنا ہی پڑا... وہ آسمان میں بیٹھ کر گنہگاروں کو بچا نہیں سکتا تھا؛ اُس کو ایسا کرنے کے لیے اِس دُنیا میں آنا [ہی پڑا] تھا؛ نیچے اِس آلودہ تخلیق میں اُس دائمی خالق کو خود اُترنا پڑا... وہ گنہگاروں کو بچا نہیں سکتا تھا، اُن کی تباہی ہی اِس قدر شدید تھی، جب تک کہ وہ متجسم نہ ہوتا، اور ہماری فطرت خود پر نہ لیتا... اور یہاں پر ہونے سے... وہ [آسمان میں] یہ کہتے ہوئے واپس نہیں جا سکتا تھا، ’’یہ تمام ہوا،‘‘ جب تک کہ سب سے پہلے وہ مرتا نہیں۔ [اُس کے] سر پر کانٹوں کا تاج دھرنا ہی تھا، [اُس کی] آنکھوں کو قبر کی تاریکی میں بند ہونا ہی تھا، ... [اِس سے پہلےکہ انسان کی مخلصی ہوتی... او گہنگار، تو ہولناک طور پر کھو چکا ہے، تو غیر محدود طور پر کھو چکا ہے، چونکہ اِس کے لیے ایک غیرمحدود نجات دہندہ کی [ضرورت پڑتی ہے] کہ خود اپنے بدن کا کفارہ گنہگاروں کو اُن کے گناہ سے بچانے کے لیے پیش کرتا (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، یہ بات سچ ہے The Faithful Saying،‘‘ میٹروپولیٹین عبادت گاہ کی واعظ گاہ سے The Metropolitan Tabernacle Pulpit، جلد 24، پلگرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، 1972 ایڈیشن، صفحہ 304)۔

III۔ سوئم، ہم مسیح کی قوت کے بارے میں جانتے ہیں۔

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تیموتاؤس1:15)۔

پولوس رسول کہتا ہے کہ ’’سب سے بڑا‘‘ گنہگار وہ تھا – تمام میں سے بدترین گنہگار۔ اُس نے کافی مدت تک مسیح کے سخت خلاف باتیں کی تھیں۔ پولوس بے شمار مسیحیوں کو مارنے کا بھی ذمہ دار تھا۔ پولوس ایک گنہگار کی شدید ترین مثال ہے۔ تمام کے تمام گنہگار پولوس کی مثال سے دیکھ سکتے ہیں، ایک بہت بڑا گنہگار ایک عظیم مسیحی بن سکتا ہے۔ مسیح کا سب سے بڑا دشمن اُس کا بہترین خادم بن سکتا ہے۔ یہ ہی تھا جو پولوس کے ساتھ رونما ہوا تھا – اور یہ آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ مسیح کی قوت آپ کو ایک گنہگار سے ایک مقدس میں تبدیل کر سکتی ہے! مسیح یسوع اِس دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا؛ جس میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں۔‘‘

پہلی مرتبہ مجھے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں لے جایا گیا تھا جب میں پہلے سے ہی ایک نو عمر تھا، جب میں تیرہ برس کی عمر کا تھا۔ وہ لوگ جو میرے گھر کے ساتھ رہتے تھے وہ مجھے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں لے کر گئے تھے۔ میں جانتا تھا کہ مسیح اِس دُنیا میں مجھ جیسے گنہگار کو بچانے کے لیے آیا تھا۔ مجھے یہ جانے بغیر ہی بپتسمہ دے دیا گیا تھا۔ میں نے یسوع کے بارے میں ایک المیاتی ہستی کے طور پر سوچا تھا جس کو حادثاتی طور پر صلیب پر کیلوں سے جڑ دیا گیا تھا۔ میں یقین کرتا ہوں کہ میں نے ضرور مسیح میں ایمان کے وسیلے سے نجات پر واعظ سُنے ہوں گے۔ مگر میں نے اُس واعظوں کو سمجھا نہیں تھا۔ پولوس رسول نے کہا،

’’اگر ہماری خوشخبری ابھی بھی پوشیدہ ہے تو صرف ہلاک ہونے والوں کے لیے پوشیدہ ہے‘‘ (2کرنتھیوں4:3)۔

میں یقینی طور پر کھویا ہوا تھا! اور خوشخبری یقینی طور پر میرے سے پوشیدہ تھی!

میں نے تو یہاں تک کہ ایسٹر کے ایک ڈرامے میں گرجہ گھر میں یہوداہ کا کردار بھی ادا کیا۔ یہوداہ وہ شاگرد تھا جس نے مسیح کو دھوکہ دیا تھا۔ میں نے اصل میں یہوداہ کا کردار تین مختلف سالوں میں کیا تھا۔ مگر میں پھر بھی اندھا ہی تھا۔ میں پھر بھی سمجھ نہ پایا کہ یسوع نے مجھے میرے گناہ سے بچانے کے لیے مصائب برداشت کیے اور مر گیا۔ ایسٹر کے ڈرامے میں ایک موقع پر، میں نے یہوداہ کے مکالمے چیخ کر بولے،

’’میں نے گناہ کیا کہ ایک بے قصور کو قتل کے لیے پکڑوایا‘‘ (متی27:4)۔

اُس نے مجھے میرے گناہ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ گناہ میرے لیے ایک ہولناک بات بن گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ خود میں نے مسیح کو دھوکہ دیا، جوکہ بیشک سچ تھا۔ ہر گنہگار مسیح کو دھوکہ دیتا ہے۔

مگر میں نے محسوس کیا کہ واحد طریقہ جس سے میں ایک حقیقی مسیحی ہو سکتا ہوں وہ مذید اور ’’نیک‘‘ کام کرنا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے واقعی میں نیک ہونا چاہیے ورنہ میں ایک مسیحی نہیں ہو پاؤں گا۔ تقریباً 1958 یا 1959 میں مَیں نے لائف Life میگزین میں ڈاکٹر البرٹ شیوٹزر Dr. Albert Schweitzer کے بارے میں کہانی پڑھی۔ شیوٹزر افریقہ میں ایک طبعی مشنری تھا۔ اُس کی انسانیت کا ایک عظیم پرستار ہونے پر لائف میگیزین میں ستائش کی گئی تھی، جو کہ افریقہ میں ایک شفیق اور نیک مشنری ڈاکٹر تھا۔ میں نے خود ایک مشنری بننے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ کہ یہ وہ مجھے ایک حقیقی مسیحی بنا دے گا۔ میں نے ڈاکٹر ٹام ڈولی Dr. Tom Dooley کے بارے میں سُنا، جو ویت نام اور کمبوڈیا کے لیے ایک مشنری تھے۔ پھر میں نے ڈاکٹر جیمس ہڈسن ٹیلر Dr. James Hudson Taylor کے بارے میں پڑھا، جو کہ 19 ویں صدی میں چین میں ایک طبعی مشنری تھے۔ میں نے سوچا، ’’یہی ہے جو میں کروں گا۔ میں چینیوں کے لیے ایک مشنری بنوں گا۔ تب میں ایک حقیقی مسیحی بن جاؤں گا اور میں یہوداہ کی مانند گنہگار نہیں رہوں گا۔‘‘ اِس لیے میں نے پہلے چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر First Chines Baptist Church میں شمولیت اختیار کر لی۔ میں 19 برس کا تھا۔ اُس خزاں میں مَیں منادی کے مطالعے کے لیے بائیولا کالج Biola College میں پڑھنے کے لیے گیا، تاکہ میں ایک مشنری بن سکوں۔ میں نے سوچا وہ مجھے بچا لے گا۔

بائیولا کالج میں چھوٹے گرجہ گھر کے اجلاسوں کے ایک سلسلے میں، ہر عبادت کے آغٓاز میں، ہم چارلس ویزلی Charles Wesley (1707۔1788) کا لکھا ہوا ایک گیت گایا کرتے تھے۔ میں نے پہلے کبھی بھی وہ گیت نہیں سُنا تھا۔ اِس نے مجھ پر ایک بہت گہرا اثر چھوڑا تھا۔ دوسرے دِن تک اُس گیت نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے تھے! وہ میرے جسم میں بجلی کے ایک جھٹکے کی مانند لگتا تھا جب ہم اُس کو ہر صبح گایا کرتے تھے۔

کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ مجھے پانا چاہیے
   نجات دہندہ کے خون میں ایک منافع؟
وہ میرے لیے مرا، کون اُس کے دُکھ کا سبب بنا؟
   میرے لیے، کس نے اُس کو موت کے تعاقب میں ڈالا؟
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا؟
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا؟

اُس نے اپنے باپ کا تخت عالم بالا ہی میں چھوڑ دیا،
   اُس کا فضل اِس قدر آزاد، اِس قدر لا محدود؛
ماسوائے محبت کے خود کو تمام کے لیے خالی کر دیا،
   اور آدم کی بےبس نسل کے لیے خون بہایا؛
یہ تمام رحم، اِس قدر شدید اور مفت میں،
   کیونکہ اے میرے خُداوند، اِس نے مجھے ڈھونڈ لیا!
حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے،
   کہ تجھے، اے میرے خُداوند، میرے لیے مرنا پڑا۔
(’’ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ مجھے پانا چاہیے؟ And Can It Be That I Should Gain?‘‘
شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley، 1707۔1788)۔

میں نے اِس کو گایا اور اِس کو گایا۔ میں نے الفاظ کو ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھ لیا اور اِس کو بار بار اور دوبارہ بار بار گایا۔ ’’حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے، کہ تجھے، میرے خُداوند، میرے لیے مرنا چاہیے۔‘‘ ہر روز ڈاکٹر چارلس جے۔ ووڈبریج Dr. Charles J. Woodbridge (1902۔1995) بات کیا کرتے تھے۔ وہ دوسرے پطرس میں سے منادی کیا کرتے تھے۔ ہفتے کے اختتام تک میں بالاآخر نجات پا چکا تھا! میں گھر کے سارے راستے میں گاتا رہا، ’’حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے، کہ تجھے، میرے خُداوند، میرے لیے مرنا چاہیے۔‘‘

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تیموتاؤس1:15)۔

میں آپ کے لیے دعا مانگ رہا ہوں! میں دعا مانگ رہا ہوں کہ آپ مسیح یسوع پر بھروسہ کریں – اور اُس کے وسیلے سے اپنے گناہ سے نجات پائیں۔ میں دعا مانگ رہا ہوں کہ آپ مسیح کے وسیلے سے گناہ سے نجات پا جائیں گے – اور کہ آپ اپنے دِل کے ساتھ گانے کے قابل ہو جائیں گے، ’’حیرت انگیز محبت! یہ ہو کیسے سکتی ہے، کہ تجھے، میرے خُداوند، میرے لیے مرنا چاہیے۔‘‘ اور اگر آپ اِس کو مکمل طور پر بالکل بھی نہیں سمجھ پاتے تو فکر مت کریں۔ میں اِس پر دوبارہ منادی کروں گا۔ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ مذید اور سُننے کے لیے واپس آئیں گے! آمین۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں رہنمائی کریں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: 1 تیموتاؤس1:12۔16 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’اب میں یسوع کا ہو چکا ہوں Now I Belong to Jesus‘‘ (شاعر نارمن جے۔ کلےٹن Norman J. Clayton ، 1903۔1992)۔

لُبِ لُباب

ایک جملے میں انجیل

THE GOSPEL IN ONE SENTENCE

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تیموتاؤس1:15)۔

I. اوّل، ہم مسیح کی ہستی کے بارے میں جانتے ہیں، یوحنا1:1، 14 .

II. دوئم، ہم مسیح کے مقصد کے بارے میں جانتے ہیں،
1پطرس3:18؛ 2:24؛ 1کرنتھیوں15:3؛ 1یوحنا1:7؛
یوحنا12:47؛ اشعیا53:5 .

III. سوئم، ہم مسیح کی قوت کے بارے میں جانتے ہیں،
2کرنتھیوں4:3؛ متی27:4 .