Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

یہ آخری زمانے کے دِن ہیں!

(بائبل کی پیشن گوئی پر نمبر4)
!THESE ARE THE LAST DAYS
(NUMBER 4 ON BIBLE PROPHECY)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 31 اگست، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, August 31, 2014

مہربانی سے اپنی بائبل 2 پطرس، تین باب، آیت 3 کے لیے کھولیں۔ آئیے کھڑے ہو جائیں جب ہم 2پطرس3:3 میں سے تلاوت پڑھیں گے۔

’’سب سے پہلے تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ آخری دِنوں میں ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزاریں گے اور تمہاری ہنسی اُڑائیں گے اور کہیں گے کہ، مسیح کے آنے کا وعدہ کہاں گیا؟‘‘ (2۔پطرس 3:3۔4).

اِس صبح میں ’’یہ آخری زمانے کے دِن ہیں!‘‘ کے موضوع پر بات کروں گا۔ ایسی بہت سی علامات ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ہم بالکل اِسی وقت زمانے کے اُس دور میں سے گزر رہے ہیں۔

2پطرس 3:3 میں اُس تاثر پر غور کریں، ’’آخری زمانے کے دِنوں میں ایسے لوگ آئیں گے۔‘‘ الفاظ ’’آخری زمانے کے دِنوں‘‘ پر توجہ مرکوز کریں۔ آپ اُس تاثر اور اُس تصور کو بائبل میں بے شمار مرتبہ پائیں گے۔ پولوس رسول نے کہا، ’’آخری زمانے میں بُرے دِن آئیں گے‘‘ (2تیموتاؤس3:1)۔ یعقوب رسول نے کہا، دُنیا کے خاتمے پر تم نے دولت کے انبار لگا لیے ہیں‘‘ (یعقوب5:3)۔ یہوداہ رسول نے اِسی زمانے کے بارے میں بات کی جب اُس نے کہا ’’آخری دِنوں میں ٹھٹھہ کرنے والے ظاہر ہوں گے جو اپنی بے دینی کی خواہشوں کے مطابق چلیں گے‘‘(یہوداہ 18)۔ دوبارہ، پولوس رسول نے بڑھتے ہوئے شیطانی حملوں کے بارے میں خبردار کیا ’’آنے والے دِنوں میں‘‘ (1تیموتاؤس4:1)۔ اور خُداوند یسوع مسیح نے آخری زمانے کے دِنوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُن کا موازنہ عظیم سیلاب سے پہلے دِنوں کے ساتھ کیا۔ مسیح نے کہا، ’’جیسا نوح کے دِنوں میں ہوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی24:37)۔

بائبل تعلیم دیتی ہے کہ تاریخ میں ایک مقام آتا ہے جو جیسا کہ آخری زمانے کے دِنوں میں کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بہت سے بائبل کے عالمین سوچتے ہیں ہم اُس زمانے میں اب ہیں۔ میرے خیال میں وہ دُرست ہیں۔ بائبل تاریخیں ترتیب دینے سے خبردار کرتی ہے۔ مگر زمانے کا ایک دور ’’زمانے کے آخری دِنوں‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ ’’زمانے کے آخری دِن‘‘ محض چند ایک دِن یا ہفتے نہیں ہیں۔ یہ اصطلاح ’’زمانے کے آخری دِن‘‘ اختتام سے پہلے زمانے کے ایک دور کی جانب حوالہ دیتی ہے۔ ہر علامت یہ نشاندہی کرتی ہوئی ظاہر ہوتی ہے کہ ہم بالکل ابھی اُسی آفاقی دورانیے میں ہیں۔ چند ایک سال قبل انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے برطانوی لیونارڈ ریونحل Leonard Ravenhill نے کہا، ’’یہ ہیں زمانے کے آخری دِن۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کتنے عرصے تک قائم رہیں گے؟‘‘ (لیونارڈ ریونحل Leonard Ravenhill، مرنے کے لیے امریکہ انتہائی نوجوان ہے America is Too Young to Die، بیت عنیاہ اشاعتی گھر Bethany House Publishers، 1979، صفحہ 50)۔ ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan نے کہا، ’’ہم یقین کرتے ہیں کہ ہم اِس پیشن گوئی کے پورے ہونے کے انتہائی دِنوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں‘‘ (ایم۔ آر۔ ڈیحان، ایم۔ ڈی۔ M. R. DeHaan, M.D.، پیشن گوئی میں یہودی اور فلسطین The Jew and Palestine in Prophecy، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1978، صفحہ170)۔

’’سب سے پہلے تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ آخری دِنوں میں ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزاریں گے اور تمہاری ہنسی اُڑائیں گے اور کہیں گے کہ، مسیح کے آنے کا وعدہ کہاں گیا؟‘‘ (2۔ پطرس 3:3۔4).

تلاوت میں اگلا لفظ ’’ٹھٹھہ اُڑانے والے‘‘ ہے۔ یہ لوگ مسیح کی آمد ثانی اور دُنیا کے خاتمے کے تصور کا مذاق اُڑائیں گے۔ وہ مذاق اُڑائیں گے اور ہنسیں گے۔ وہ طعنہ زن اور بے اعتقادے ہیں۔ وہ مسیح کی آمد ثانی کے انتہائی تصور کا مذاق اُڑائیں گے۔ وہ دُنیا کے خاتمے کے بارے میں کسی بھی بات کو مسترد کر دیں گے۔ وہ اِس کو ’’منفی سوچ‘‘ کہتے ہیں – اور وہ اِس کو اپنے ذہنوں سے باہر نکال پھینکتے ہیں۔

وہ کیوں ٹھٹھہ اُڑاتے اور ہنستے ہیں؟ اگلے چند الفاظ ہمیں بتاتے ہیں، ’’وہ اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزاریں گے۔‘‘ وہ خودغرضی اور گناہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ مسیح آئے۔ وہ اُن کی گناہ سے بھرپور طرز زندگی میں مداخلت کرے گا۔ یہ ٹھٹھہ اُڑانے والے واقعات کا تجزیہ نہیں کریں۔ وہ بائبل کو نہیں پڑھیں گے۔ وہ سچائی جاننا نہیں چاہیں گے – کیونکہ وہ ٹھٹھہ اُڑانے والے ہیں جو اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل میں نے یوسی ایل اے UCLA میں ایک گریجوایشن کی تقریب میں شرکت کی تھی۔ وہاں پر ہزاروں لوگ تھے۔ گریجوایشن پر بات کرنے والے نے دھشت زدہ کر دینے والے واقعات اور سانحات کی جو آجکل دُنیا میں وقوع پزیر ہو رہے ہیں ایک طویل فہرست پیش کی – عالمگیری گرمی، آبادی کا بڑھنا، آلودگی، ماحولیات عدم توازن، بارشوں والے جنگلات کی تباہی و بربادی، تھرمو نیوکلیائی جنگ کی دھمکی، سینکڑوں نسلوں کا ناپید ہونا، اور عالمگیری دھشت گردی۔ مگر پھر اُس نے کہا، ’’بدنصیبی کے انبیاء کا یقین مت کریں۔ دُنیا کا خاتمہ نہیں ہو رہا ہے۔‘‘ بالکل یہ ہی اُس کے الفاظ تھے! میں نے جو کچھ اُس نے کہا تھا ایک کاغذ پر لکھ لیا تھا اور اُسے اپنی جیب میں رکھ لیا تھا! اُن دھشت میں مبتلا کر دینے والے حالات کی فہرست بتا چکنے کے بالکل ہی بعد، اُس نے کہا، ’’دُنیا ختم ہونے نہیں جا رہی ہے۔ بدنصیبی کے انبیاء کا یقین مت کریں۔‘‘ میں ماسوائے اپنی تلاوت کے کچھ اور نہ سوچ سکا،

’’سب سے پہلے تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ آخری دِنوں میں ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزاریں گے اور تمہاری ہنسی اُڑائیں گے اور کہیں گے کہ، مسیح کے آنے کا وعدہ کہاں گیا؟‘‘ (2۔ پطرس 3:3۔4).

گریجوایشن پر گفتگو کرنے والے اُس شخص نے کہا، ’’دُنیا کا خاتمہ ہونے نہیں جا رہا ہے۔‘‘ 1965 میں بیری میگوائر Barry McGuire کے گیت نے کہا، ’’آپ یقین نہیں کرتے ہیں کہ ہم تباہی و برباد کے دھانے پر ہیں۔‘‘ میں نے اُس وقت اِس بات کا یقین کیا تھا، اور میں اب بھی اِس کا یقین کرتا ہوں! ہم یہاں تک کہ ویت نام کی جنگ سے پہلے ہی ’’زمانے کے آخری دِنوں‘‘ میں تھے۔ اسرائیل کی قوم 1948 میں پیدا ہوئی۔ اشتراکیت پسندوں نے چین پر قبضہ 1949 میں کیا۔ 1950 کی دہائی میں سرد جنگ تھرمو نیوکلیائی قتل عام کے انتہائی سرے تک پہنچ گئی تھی۔ صدر کینیڈی کو 1963 میں سر میں گولی مار دی گئی تھی۔ پھر مالکوم ایکس Malcolm X کو گولی ماری گئی تھی۔ پھر ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ Dr. Martin Luther King۔ پھر بوبی کینیڈی Bobby Kennedy۔ بے ہنگم روک موسیقی اور منشیات نے تمام نسل کے ذہنوں کو اُڑا کر رکھ دیا تھا۔ حالات کبھی بھی ایک جیسے نہیں رہے۔ اُس وقت سے لیکر ہماری تہذیب بوسیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ جیسا کہ لیونارڈ ریونحل نے کہا، ’’یہ ہیں زمانے کے آخری دِن۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کتنے عرصے تک قائم رہیں گے؟‘‘

شاگرد جاننا چاہتے تھے کہ دُنیا کا خاتمہ کب ہوگا، کب یہ زمانہ ختم ہو جائے گا۔ اُنہوں نے مسیح سے اُنہیں نشانی دینے کے لیے پوچھا۔ اُس نے اُنہیں بہت سی علامات پیش کیں، جو کہ متی 24 باب میں درج ہیں، اور اُس کے متماثل حوالے لوقا21باب میں درج ہیں۔ متی 24 باب مسیح کے جواب کا کچھ حصہ پیش کرتا ہے، یہ خاتمے کی بہت سی علامات کو پیش کرتا ہے۔ اور لوقا 21 باب اِس سے بھی زیادہ علامات کو پیش کرتا ہے۔ اِس صبح میں لوقا 21 باب میں مسیح کی پیش کی گئی علامات پر توجہ مرکوز کروں گا۔ ’’تیری آمد اور دُنیا کے خاتمہ کا کیا نشان ہوگا؟‘‘ (متی 24:3)۔ مسیح نے اُس سوال کے بے شمار جوابات لوقا کے اکیسویں باب میں پیش کیے۔

I۔ اوّل، ماحولیاتی نشانیاں ہونگی۔

یسوع نے کہا اُس وقت وہاں پر

’’جگہ جگہ بڑے بڑے بھونچال آئیں گے … سورج، چاند اور ستاروں میں نشان ظاہر ہوں گے اور زمین پر قوموں کو اذیت پہنچے گی کیونکہ سمندر اور اُس کی لہروں کا زوروشور اُنہیں خوف زدہ کردے گا۔ ڈرکے مارے اور آنے والی مصیبتوں کا انتظار کرتے کرتے اُن کے ہوش و حواس باقی نہ رہیں گے‘‘ (لوقا 21:11،25۔26).

اِس کے بارے میں سوچیں! یسوع نے کہا کہ لوگوں کے حواس باقی نہ رہیں گے جب وہ دیکھیں گے کہ ’’زمیں پر‘‘ کیا ہو رہا ہے۔ اُس نے کہا رنج والم اور سراسیمگی اور ڈر اور شدید خوف ہوگا کیونکہ اِس دُنیا کے ساتھ کیا ہو رہا ہے،

’’اور آنے والی مصیبتوں کا انتظار کرتے کرتے اُن کے ہوش و حواس باقی نہ رہیں گے‘‘ (لوقا 21:26).

جب آپ قطبِ شمالی کے پگھلے جانے پر نظر ڈالتے ہیں، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اسباب پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ خوفزدہ کر دینے والا ہوتا ہے۔ جب آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ایڈز AIDS کی وبا افریقہ کو تباہ کر رہی ہے اور جس کا اختتام ہونے کو ہی نظر نہیں آتا – تو یہ خوفزدہ کر دیتا ہے۔ جب آپ ٹی بی کے اینٹی بائیوٹک مزاحمت کی تجدید پر نظر ڈالتے ہیں اور دوسری نئی ’’عفریتی‘‘ بیماریوں جیسے ایبولہEbola ، پینڈیمکس pandemics جو کہ کسی بھی نئے نشے کے لیے ردعمل ظاہر نہیں کرتی پر نظر ڈالتے ہیں تو – یہ خوفزدہ کر دیتا ہے۔

کوئی تعجب نہیں کہ بے شمار نوجوان لوگ مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ حال ہی کی رائے شماری ظاہر کرتی ہے کہ آج کل کے نوعمر لوگوں کی 80 فیصد تعداد سوچتی ہی نہیں کہ اُن کا مستقبل اچھا ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ نوجوان لوگ اکثر ماحولیات مسائل کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں، جیسا کہ قطبِ شمالی کا پگھلنا، اور وہ تباہی جو یہ ساری دُنیا میں پھیلا سکتا ہے!

اور خوف میں مبتلا کر دینے والے مسائل جو ہم ماحول میں دیکھتے ہیں اخبارات میں ہر روز لکھے جاتے ہیں۔ وہ نشانیاں ہیں کہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں دُنیا کا خاتمہ اور مسیح کی آمد ثانی شدید نزدیک ہیں۔

II۔ پھر، دوئم، سامیوں کے خلاف یہودیوں سے نفرت کے بارے میں نشانیاں ہیں۔

بہت سے لوگ یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں، اور یہودی قوم سے نفرت کرتے ہیں۔ یہودیوں کے بارے میں سامیوں کے خلاف نفرت آج عالمگیری مسئلہ ہے۔ یسوع نے کہا،

’’اور جب یروشلیم کو فوجوں کے محاصرہ [گھیرے] میں دیکھو تو جان لینا کہ اُس کی ویرانی کے دِن نزدیک آ گئے ہیں‘‘ (لوقا 21:20).

آخری دِنوں میں یہودیوں کے خلاف نفرت اِس قدر شدید ہو جائے گی کہ غیر قوموں کی بہت بڑی بڑی فوجیں یہودیوں کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کے خلاف اُٹھ کھڑی ہونگی۔ ھٹلر نے یہودیوں کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر وہ ناکام رہا تھا کیونکہ زمین پر یہودی لوگ خُدا کے چُنے ہوئے لوگ ہیں۔ بائبل کہتی ہے،

’’ہمارے آبا و اجداد کی وجہ سے وہ خدا کے عزیز ہیں‘‘ (رومیوں 11:28).

بائبل پر یقین رکھنے والے بپتسمہ یافتہ لوگ اسرائیل کے مضبوط حامی ہیں۔ ہمیں یہودی لوگوں اور اسرائیل کی ریاست کے ساتھ کھڑے رہنا جاری رکھنا چاہیے۔ مگر بائبل تعلیم دیتی ہے کہ آخری زمانے کے دِنوں میں بے اعتقادی دُنیا یہودیوں کے خلاف ہو جائے گی۔ بائبل کہتی ہے،

’’میں یروشلیم کو ساری قوموں کے لیے جنبش نہ کھانے والی چٹان بنا دُوں گا‘‘ (زکریاہ 12:3).

بالکل یہی اِس وقت ہو رہا ہے۔ یہ ایک علامت ہے کہ ہم اِس زمانے کے اختتام کے دِنوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مسیحی لوگوں کو اسرائیل اور یہودیوں کے ساتھ کھڑے رہنا چاہیے یہاں تک کہ اِن ’’زمانے کے آخری دِنوں‘‘ کی بڑھتی ہوئی تاریکی میں بھی۔

III۔ اور پھر، سوئم، مذہبی نشانیاں ہیں – جھوٹے مذھب میں گمراہی کی نشانیاں۔

یسوع نے کہا،

’’دھیان کرنا کہ کہیں تو گمراہ نہ ہو جانا کیونکہ کئی لوگ میرے نام سے آئیں گے... تُم اُن کے پیچھے نہ چلے جانا‘‘ (لوقا 21:8).

دوبارہ مسیح نے کہا:

’’کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے بڑے نشان اور عجیب عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہوتو چُنے ہُوئے لوگوں کو بھی گمراہ کردیں‘‘ (متی 24:24).

بہت سی باتیں جو آپ ٹی بی این TBN پر دیکھتے ہیں گمراہ کُن ہیں۔ بہت سے انجیلی بشارت کے پروگرام گمراہ کرتے ہیں اور پریشان کُن ہیں۔ پولوس رسول نے کہا،

’’ایسا وقت آرہا ہے کہ لوگ صحیح تعلیم برداشت نہیں کریں گے بلکہ اپنی خواہشوں کے مطابق بہت سے اُستاد بنالیں گے تاکہ وہ وہی کچھ بتائیں جو اُن کے کانوں کو بھلا معلوم ہو‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:3).

IV۔ چہارم، مسیحیوں کے خلاف ظلم و ستم کی علامتیں ہیں۔

بے مثل شرع پر ساری دُنیا میں مسیحیوں کے خلاف ظلم و ستم جاری ہے۔ مثال کے طور پر، چین میں حقیقی مسیحیوں کو زیر زمین ’’گھریلو گرجہ گھروں‘‘ میں رازداری کے ساتھ ملنا پڑتا ہے۔ سینکڑوں چینی مسیحیوں کو اُن کے ایمان کی وجہ سے قید میں ڈالا جا چکا ہے، خاص طور پر تہذیب انقلاب کے دوران۔ یسوع نے اِس عالمگیری ظلم و ستم کے بارے میں پیشن گوئی کی تھی جو آج جاری ہے۔ یسوع نے کہا،

’’لیکن اِن سب باتوں کے ہونے سے پہلے تمہارے دشمن تہمیں محض میرے نام کی وجہ سے گرفتار کریں گے، ستائیں گے، عبادت خانوں کی عدالتوں میں حاضر کریں گے، قید خانوں میں ڈلوائیں گے اور بادشاہوں اور گورنروں کے حضور میں پیش کریں گے‘‘ (لوقا 21:12).

پھر اُس نے کہا کہ مسیح میں غیر تبدیل شُدہ والدین اور رشتہ دار خود اپنے ہی بچوں پر جو حقیقی مسیحی بن چکے ہیں ظلم و ستم ڈھائیں گے۔ یہ اکثر اُس وقت ہوتا ہے جب ایک نوجوان بُدھ مت کا پیروکار یا ہندو مسیحیت کو قبول کرتا ہے۔ مگر ہم ایسا بار بار اور کئی مرتبہ یہاں امریکہ ہی میں ہوتا ہوا دیکھ چکے ہیں۔ مسیح نے کہا تھا:

’’اور تمہارے والدین، بھائی، رشتہ دار اور دوست تُم سے بے وفائی کریں گے اور تُم میں سے بعض کو قتل بھی کروائیں گے۔ اور میرے نام کی وجہ سے سارے لوگ تم سے نفرت کرنے لگیں گے‘‘ (لوقا 21:16۔17).

قیمت کا اندازہ لگائیں! کوئی یہ پسند نہیں کرتا ہے اگر آپ ایک حقیقی مسیحی بن جاتے ہیں! کوئی نہ کوئی آپ کے خلاف ہو جائے گا! اِن تاریک دِنوں میں ایک حقیقی مسیحی بننے پر آپ کو کوئی نہ کوئی قیمت چکانی پڑے گی! یہ نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ ہم زمانے کے آخری ایام میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

V۔ پنجم، مسیح نے ہمیں نشانیاں بتائیں جنہیں ہم نفسیاتی نشانیاں کہہ سکتے ہیں۔

مسیح نے کہا:

’’پس تم خود سے خبردار رہو[توجہ دو]، کہیں ایسا نہ ہوکہ تمہارے دل شکم پُری اور شراب نوشی اور اِس زندگی کی فکروں سے [وزنی ہو جائیں یا وزنی کر دیے جائیں] سُست پڑ جائیں اور وہ دِن تُم پر پھندے کی طرح ناگہاں آ پڑے۔ کیونکہ وہ روئے زمین پر موجود تمام لوگوں پر اِسی طرح آٓ پڑے گا‘‘ (لوقا 21:34۔35).

ایک نوجوان شخص نے جو یہاں پر عبادت کرنے کے لیے آیا اُس نے کہا، ’’میں اگلے اِتوار کو نہیں آ سکتا۔ مجھے اپنی خالہ کی گھر تبدیل کروانے میں مدد کروانی ہے۔‘‘ اُس کے پاس ایسا کرنے کے لیے چھے دِن موجود تھے، مگر اِس کام کو اِتوار کی صبح ہی ہونا ’’تھا‘‘۔ وہ زندگی کے مسائل تلے دب گیا تھا۔ بہت سے لوگ گرجہ گھر میں عبادت سرسری اور بیوقوفانہ وجوہات کے سبب سے کر نہیں پاتے ہیں۔ وہ زندگی کے مسائل تلے دب جاتے ہیں۔ اور اُن پر فیصلے کا دِن ناگہاں ہی آ جائے گا۔ وہ تیار نہیں ہونگے جب خُداوند کا انصاف نازل ہوگا!

آپ منشیات اور جنسی ملاپ سے پرھیز کر سکتے ہیں، مگر کام اور پیشے تلے دب جانا، تب ’’اِس زندگی کی دیکھ بھال‘‘ آپ کو اندر ہی اندر گھائل کر ڈالتی ہے۔ میں گزرتے ہوئے سالوں کے دوران بہت سے نوجوان لوگوں کے ساتھ ایسا رونما ہوتا ہوا دیکھ چکا ہوں۔

اور پھر یسوع نے کہا:

’’پس ہر وقت بیدار رہو اور دعا میں لگے رہو تاکہ تُم اِن سب باتوں سے جو ہونے والی ہیں، بچ کر اِبنِ آدم کے حضور میں کھڑے ہونے کے لائق ٹھہرو‘‘ (لوقا 21:36).

اور یہ ہی ہے جس کی آپ کو اِس زمانے کے خاتمے پر اور آنے والے انصاف پر تیار رہنے کے لیے کرنے کی ضرورت ہے: یہاں پر دو باتیں ہیں جنہیں آپ کو کرنے کی ضرورت ہے:

(1) گرجہ گھر میں عبادت کے لیے واپس آئیں۔ ایسا کچھ نہیں ہے جو ہم کر پائیں کہ آپ کی مدد ہو جائے اگر آپ واپس نہیں آتے ہیں۔ (2) مسیح کے پاس آئیں۔ وہ آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرا۔ وہ واقعی میں اور جسمانی طور پر مُردوں میں سے زندہ ہوا۔ وہ بالکل ابھی خُداوند کے داھنے ہاتھ پر زندہ ہے۔ وہ آپ کے لیے وہاں پر موجود ہے۔ اُس کے پاس آئیں اور وہ خود اپنے خون سے آپ کو گناہ سے پاک صاف کر دے گا۔

VI۔ ششم، یہاں پر مسیحی محبت کے بغیر گرجہ گھروں کی علامت ہے۔

شاگردوں نے اُس سے پوچھا،

’’تیری آمد اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے؟‘‘ (متی 24:3).

نشانیوں میں سے ایک جو مسیح نے متی 24 باب میں پیش کیں یہ تھی – دُنیا کے بہت سے حصوں میں گرجہ گھروں میں کھوئے ہوئے لوگوں کے لیے کوئی حقیقی محبت نہیں ہوگی۔ یہ چاہت کے بغیر، دوستی کے بغیر، محبت کے بغیر مسیحیت ہے۔ جب اُنہوں نے اُس کی آمد اوردُنیا کے خاتمے کے بارے میں نشانی مانگی تو یسوع نے کہا،

’’اور کیونکہ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی 24:12).

آج بے شمار گرجہ گھر اُن کے لیے جو وہاں پر عبادت کرنے کے لیے آتے ہیں انتہائی سرد مہر ہیں۔ یہ انتہائی دشوار گزار ہوتا ہے کہ آپ ایک سچے دوستانہ شخص کو تلاش کر پائیں جب آپ اُن کے گرجہ گھروں میں سے کسی ایک میں جاتے ہیں۔ خُداوند ہماری مدد کرے! خُداوند کی روح کی قوت کے بغیر خود ہمارا اپنا گرجہ گھر بھی اتنا ہی غیر دوستانہ اور غیر محبتانہ ہوگا جتنا کہ اُن کے گرجہ گھر ہیں!

’’کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘ (متی 24:12).

خُداوند کی موجودگی کے بغیر ایک گرجہ گھر میں کھوئے ہوئے لوگوں کے لیے محبت نہیں ہوگی۔ اور وہ گرجہ گھر جہاں پر کھوئے ہوئے لوگوں کے لیے کوئی محبت نہ ہو ایک مرتا ہوا گرجہ گھر ہے، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کتنے دروازوں پر دستک دیتے ہیں، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ لوگوں کو لانے کے لیے کتنی بسیں استعمال کرتے ہیں، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس قدر انجیلی بشارت کا پرچار کرتے ہیں! وہ مرتے ہوئے گرجہ گھر ہوتے ہیں کیونکہ اُن میں شاید ہی تھوڑی سی مسیحی محبت ہوتی ہے وہ بھی اگر ہو تب۔

خُداوند ہمارے گرجھ گھر کو ’’زمانے کے آخری ایام‘‘ میں بغیر محبت کی مسیحیت کے ذریعے سے اندر ہی اندر گھائل ہونے سے محفوظ رکھے۔ ہر آنے والے کی ایک شہزادے کی مانند خدمت کی جائے، اور ہر کوئی جو چند ایک مہینے کے لیے آتا ہے اُس کی بادشاہ کی مانند خدمت کی جائے، اور ہم میں سے ہر ایک کو دعا میں زور دینا چاہیے کہ خُداوند ہمارے گرجہ گھر کو گنہگاروں کے لیے خُدا کی محبت کے ساتھ ایک بھرپور جگہ بنا دے۔ ورنہ کسی دِن ہمارے گرجہ گھر کے بارے میں بھی کہا جائے گا،

’’تو زندہ کہلاتا ہے مگر ہے مُردہ‘‘ (مکاشفہ 3:1).

اِس ہفتے میں کھوئے ہوؤں کے پیچھے جوش کے ساتھ جائیں۔ ذاتی انجیلی بشارت کے پرچار سے بُدھ اور جمعرات کی شام ڈھیر سارے نام لائیں تاکہ ہم اُنہیں ٹیلی فون کر سکیں اور گرجہ گھر کے لیے مدعو کر سکیں۔ پھر زیادہ اور زیادہ نام لائیں جب آپ اپنے طور پر انجیلی بشارت کے لیے جائیں۔ اپنے طور پر مذید اور زیادہ نام اور فون نمبر لائیں – ہمارے لیے کہ ہم اُن سے رابطہ کریں، اور مسیح کی خوشخبری سُننے کے لیے اُنہیں گرجہ گھر آنے کے لیے کہیں۔

مگر یہ تو حقیقی انجیلی بشارت کے پرچار کا آغاز ہے۔ جب وہ آخر کار یہاں پر گرجہ گھر میں عبادت کرنے کے لیے پہنچیں گے، تو ہمیں اُنہیں ڈھیر ساری محبت دینی ہے کہ وہ اُنہیں ہمارے گرجہ گھر کی رفاقت میں آنے کے لیے مدد دے۔ آئیے عبادت کے بعد اُن میں سے کسی کو بھی تنہا کھڑا نہ رہنے دیں۔ اپنی آنکھیں اُن کے لیے کُھلی رکھیں جن کی آپ کو ہمارے گرجہ گھر میں رفاقت کی تلاش کے لیے مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ ہفتے کے دوران خُدا سے شدت کے ساتھ دعا مانگیں کہ وہ آپ کی اُنہیں شدید محبت ظاہر کرنے کے لیے مدد کرے۔

یہ اُن کے لیے جن کے پاس کوئی اُمید نہیں ہے دشوار اور خوف میں مبتلا کر دینے والے دِن ہیں۔ ہم دعا مانگتے ہیں کہ آپ یسوع کے پاس آئیں گے اور صلیب پر آپ کی جگہ اُس کی موت کے وسیلے سے گناہ سے معافی پائیں گے۔ ہم دعا مانگتے ہیں کہ آپ ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے خُدا کے ساتھ امن و صلح تلاش کر پائیں! ہم دعا مانگتے ہیں کہ آپ اگلے ہفتے کے اختتام پر واپس ہمارے گرجہ گھر میں خُداوند کے بیٹے یسوع کے ذریعے سے نجات کے بارے میں اور زیادہ جاننے کے لیے آئیں گے! ڈاکٹر چعین، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی کریں۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: 2۔ پطرس3:3۔9.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’تباہی کی شام The Eve of Destruction‘‘ (شاعر بیری میگوائر Barry McGuire، ذرا سی تبدیل شُدہ نقل 1965)\
      ’’ایسے وقتوں کے دوران In Times Like These‘‘ (شاعرہ رُوتھ کائی جونز Ruth Caye Jones، 1902۔1972)۔

لُبِ لُباب

یہ آخری زمانے کے دِن ہیں!

!THESE ARE THE LAST DAYS
(بائبل کی پیشن گوئی پر نمبر4)
(NUMBER 4 ON BIBLE PROPHECY)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’سب سے پہلے تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ آخری دِنوں میں ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزاریں گے اور تمہاری ہنسی اُڑائیں گے اور کہیں گے کہ، مسیح کے آنے کا وعدہ کہاں گیا؟‘‘ (2۔پطرس 3:3۔4).

(2 تیموتاؤس3:1؛ یعقوب5:3؛ یہوداہ 18؛ 1۔ تیموتاؤس4:1؛
متی24:37، 3)

وہ غلط تھے کیونکہ بہت سی نشانیاں ظاہر کرتی ہیں کہ خاتمہ نزدیک ہی ہے!

I.    ماحولیاتی نشانیاں ہونگی، لوقا21:11، 25۔26 .

II.   دوئم، سامیوں کے خلاف یہودیوں سے نفرت کی نشانیاں، لوقا21:20؛ رومیوں11:28؛ زکریا12:3 .

III.  سوئم، جھوٹے مذھب کی نشانیاں، لوقا21:8؛ متی24:24؛ 2تیموتاؤس4:3 .

IV.  چہارم، مسیحیوں کے خلاف ظلم و ستم کی نشانیاں، لوقا21:12، 16۔17 .

V.   پنجم، نفسیاتی نشانیاں، لوقا21:34۔35، 36 .

VI.  مسیحی محبت کے بغیر گرجہ گھروں کی نشانی؛ متی24:3، 12؛ مکاشفہ 3:1 .