Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

وہ میرا جلال ظاہر کرے گا

(حیاتِ نو پر واعظ نمبر 5)
HE SHALL GLORIFY ME
(SERMON NUMBER 5 ON REVIVAL)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 17 اگست، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, August 17, 2014

ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones حیات نو کے ایک محتاط طالب علم تھے۔ اُنہوں نے حیات نو کے تاریخ کا مطالعہ کیا تھا، اور حتیٰ کہ وھیلزWales میں 1931 میں اپنی مذہبی جماعت میں حیات نو کا تجربہ کیا تھا۔ اپنے ایک لیکچر میں جو اُنہوں نے انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے عظیم حوویل ھیرس Howell Harris (1714۔1773) پر دیا تھا ’’ڈاکٹر‘‘ نے کہا، ’’ہم ایک مرتبہ دوبارہ 18ویں صدی کے ابتدائی سالوں کی جیسی تاریکی اور مُردہ پن کی حالت میں ہیں‘‘ (ڈی۔ ایم۔ لائیڈ جونز D. M. Lloyd-Jones، پیوریٹنز: اُن کی شروعات اور جانشین The Puritans: Their Origins and Successors، دی بینر اور ٹرٹھ ٹرسٹ، 1996 ایڈیشن، صفحہ 302)۔ ایک اور کتاب میں ڈاکٹر لائیڈ جونز نے اُس ہولناک اِرتداد کے بارے میں جو گذشتہ سو [اب 150] سالوں سے کلیسیا کی خصوصیت بن چکا ہے‘‘ (حیات نو Revival، کراس وے کُتب Crossway Books، 1987، صفحہ 55)۔

منادی میں خود میرے اپنے 55 سالوں کے تجربے میں، میں ہمارے گرجہ گھروں کی قوت اور زندگی میں ڈرامائی تنزلی دیکھ چکا ہوں۔ آج کل کے گرجہ گھر، زیادہ تر موقعوں پر، مشکل سے ہی میرے نوجوانی کے گرجہ گھروں سے مشہابت رکھتے ہیں – اور وہ تبدیلی ایک اچھی والی نہیں رہی ہے۔ بِلاشُبہ، ’’ہم دوبارہ تاریکی اور مُردہ پن کی حالت میں ہیں۔‘‘ بے شک، ’’ہم ایک ہولناک اِرتداد‘‘ میں ہیں۔

میں قائل ہو چکا ہوں کہ یہ ناخوشگوار صورت حال زیادہ تر اِس وجہ سے آئی ہے کیونکہ پادری یہ بھول چکے ہیں کہ کیا بات ایک شخص کو مسیحی بناتی ہے۔ میرے تجربے میں، بہت کم مبلغین عملی طور پر نئے سرے سے جنم اور تبدیلی کے بارے میں جانتے ہیں، مگر میں اِس بارے میں آج رات کو بات کروں گا۔

اُن میں سے بہت سے جو حیات نو کے بارے میں بات کرتے ہیں جانتے ہیں کہ ہماری کلیسیاؤں کو بے ہوشی سے ہوش میں لانے کے لیے ہمیں پاک روح کے کچھ نہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے! مگر انتہائی کم صحیح طور پر جانتے ہیں کہ وہ کیا بات ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے کہ پاک روح کرے۔ وہ نہیں جانتے کہ اُنہیں کس بات کی ضرورت ہے جو پاک روح کرے کیونکہ اُنہیں جس مسٔلے کا سامنا ہے وہ اُس کی خوفناک گہرائی کا احساس نہیں کر پاتے۔ وہ سوچتے ہیں کہ اُن کے زیادہ تر لوگ نجات پا چکے ہیں اور وہ سوچتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ کیسے نئے لوگوں کی رہنمائی نجات کے تجربے کے لیے کرنی ہوتی ہے۔ اِس کے باوجود میں کسی ایسے اہم مبلغ کو نہیں جانتا جس کے پاس ضرورت کے مطابق اِس موضوع پر روشنی ڈالنے کے لیے ہو۔ نتیجے کے طور پر، ہمارے گرجہ گھروں کی ایک کثیر تعداد، کھچا کھچ کھوئے ہوئے لوگوں کے ساتھ بھری پڑی ہے! ہم اِس مسٔلے پر ہماری کتاب آج کا اِرتداد Today’s Apostasy (اِسے پڑھنے کے لیے یہاں پر کِلک کیجیے)۔ میں گہرائی سے لکھ چکے ہیں!

میں آج کی رات حیات نو کے مسٔلے پر عام فہم میں بات کرنے نہیں جا رہا ہوں۔ میری توجہ کا مرکز ہوگا کہ میں بات کروں ہمیں کیا دعا مانگنی چاہیے اگر ہم خُدا سے چاہتے ہیں کہ ہماری مقامی کلیسیا میں حیات نو بھیجے۔ پھندوں میں سے ایک جس میں ہم پھنس سکتے ہیں جب حیات نو پر کتابیں پڑھتے ہیں یہ ہے کہ ہم تمام کلیسیاؤں میں ایک بہت بڑی تبدیلی کی توقع کریں – کم از کم اُن کی ایک بہت بڑی تعداد میں۔ اور جب ہم ایسا رونما ہوتا ہوا نہیں دیکھتے ہیں تو ہم نااُمیدی محسوس کرتے ہیں۔

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہر سچی تبدیلی ایک معجزہ ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan اُن کی ایک فہرست میں سے گزر چکے ہیں جو اُمید کی بھرپوری کے ساتھ تبدیل ہوئے تھے۔ ہم نے پایا کہ ہر مہینے میں اُمید سے بھرپور لوگوں میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ یعنی کہ، ایک سال سے زیادہ عرصے میں ہمارے گرجہ گھر میں ہر ماہ تبدیلی کا معجزہ رونما ہوتا ہے۔ میں بِلاشُبہ ’’فیصلوں‘‘ کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہوں، میں حقیقی تبدیلیوں کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ ہم حیات نو میں جس بات کے بارے میں دعائیں مانگ رہے ہیں وہ اور زیادہ مسیح میں تبدیلیوں کے معجزوں کی ہیں کہ خُداوند نیچے آئے اور زیادہ لوگوں کو مسیح کے لیے تبدیل کرے۔

اب، ہمیں صحیح طور پر کس بات کے لیے دعا مانگنی چاہیے؟ میں یقین کرتا ہوں کہ ہماری اہم ترین فکر پاک روح کے لیے دعا مانگنی ہونی چاہیے کہ وہ عظیم ترین قوت میں نیچے آئے۔ مجھے احساس ہے کہ بے شمار لوگ اِس بات کو مسترد کریں گے جو کچھ بھی میں اُس موضوع پر کہتا ہوں۔ بیسویں صدی میں پاک روح پر اِس قدر زیادہ جھوٹی تعلیم تھی کہ میں اُن کو موردِ اِلزام نہیں ٹھہرا سکتا۔ اور اِس کے باوجود پاک روح ہی انفرادی تبدیلیوں اور اِس کے ساتھ ساتھ حیات نو کے لیے ذریعہ ہے۔ آج گرجہ گھر کے افراد پاک روح کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ ’’لوگوں کا ’’اجنبی زبانوں میں بولنے‘‘ کے لیے سبب ہے، یہ بے شمار پیسہ بنانے کا سبب ہے، یا جسمانی طور پر شفا پانے کا سبب ہے۔ مگر اِس میں سے ایک بھی بات کا تعلق مرکزی کام کے ساتھ نہیں ہے، جو کہ پاک روح کا اہم ترین کام ہے۔ مہربانی سے اپنی بائبل یوحنا16:14 کے لیے کھولیں۔ یہاں پر ہم خُداوند کے روح کا اہم کام دیکھتے ہیں۔ یسوع نے کہا،

’’وہ میرا جلال ظاہر کرے گا‘‘ (یوحنا 16:14).

یونانی لفظ میں ’’جلال ظاہر کرنے glorify‘‘ کے ترجمے کا مطلب ہوتا ہے ’’عزت بخشنا، وقار بڑھانا، بڑا ظاہر کرنا، ستائش کرنا‘‘ (سٹرانگ Strong نمبر 1392)۔ پاک روح کا کام مسیح کا جلال ظاہر کرنا ہے، ہمارے لیے سبب بننا کہ مسیح کا وقار بڑھے، مسیح کو بڑا ظاہر کرنا، ہمارے لیے سبب بننا کہ اُس یسوع کو تعظیم بخشی جائے۔

جب لوگوں کی جھوٹی تبدیلی ہوتی ہے تو یہ ہمیشہ اِس لیے ہوتی ہے کہ اُنہوں نے یسوع بخود کو مسترد کیا ہوتا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر کیگن نے ہماری کتاب آج کا اِرتداد Today’s Apostasy میں نشاندہی کی،

کاتھولک پس منظر کے ساتھ نیکیوں کے وسیلے سے نجات کی اصطلاحات میں لوگ عام طور پر سوچیں گے: چند گناہوں کو خیرآباد کہہ دینا، گرجہ گھر کے لیے جانا، یسوع کی پیروی کرنا، یسوع سے پیار کرنا، اعتراف کرنا، اور عمومی طور پر ’’نیک رہنا۔‘‘

بپتسمہ یافتہ، انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے یا اصلاح شُدہ پس منظر کے ساتھ لوگ اکثر بپتسمہ پر بھروسہ کریں گے، ’’گنہگاروں کی دعا‘‘ پڑھنے پر بھروسہ کریں گے یا ذہنی طور پر مسیحی عقائد میں یقین کرنے پر بھروسہ کریں، جیسا کہ ’’نجات کے منصوبے‘‘ کا تفصیلی بیان بتانے کے قابل ہونا یا ’’ویسٹ منسٹر کی مذہبی تعلیم‘‘ کا معلوم ہونا۔

کرشماتی یا پینتیکوسٹل پس منظر کے ساتھ لوگ عام طور تجربات اور احساسات کی اصطلاحات میں سوچتے ہیں۔ اگر ایک شخص کا تجربہ اُس کے ساتھ جسے وہ ’’پاک روح‘‘ سمجھتا ہے ہو گیا ہوتا ہے تو وہ اپنی زندگی میں خُدا کی برکات کو محسوس کرتا ہے، یا اپنے دِل میں سکون اور خوشی محسوس کرتا ہے، وہ خود کو نجات یافتہ سمجھتا ہے۔

بہت مرتبہ ایسے لوگ ہمارے پاس مشاورت کے لیے، یقین دہانی کی تلاش میں، یا کسی اور احساس کے لیے آتے ہیں جب کہ حقیقت میں وہ کبھی بھی مسیح پر بھروسے کے وسیلے سے نجات پائے ہوئے نہیں ہوتے ہیں (آج کا اِرتداد Today’s Apostasy، ہارٹ سٹون اشاعت خانے Heartstone Publishing، 2001 ایڈیشن، صفحہ 141)۔

یہ طریقہ ہوتا ہے جو اکثر ہمارے گرجہ گھر میں نظر آتا ہے۔ جب پادری اُن سے اُس دِن کے بارے میں بتانے کے لیے پوچھتا ہے جب اُنہوں نے نجات پائی تھی، تو وہ بِلا اِمتیاز مبالغہ آمیزی کے ساتھ واقعات والی ایک طویل کہانی سُنانا شروع کر دیتے ہیں، اکثر اپنے خیالات کو ایک پہلے سُنے گئے واعظ میں سے پیش کرتے ہیں، اور بے شمار دوسری تفصیلات، جس میں حتیٰ کہ یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ وہ گنہگار محسوس کر رہے ہیں۔ وہ اکثر ایک عمدہ کہانی سُناتے ہیں، عام طور پر بہت زیادہ تفصیلات کے ساتھ، جو کہ اُن کی کہلائی جانے والی تبدیلی پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ پھر وہ یکدم تھم جاتے ہیں۔ وہ اکثر یہ کہنے سے ختم کرتے ہیں، ’’اور پھر میں نے یسوع پر بھروسہ کیا،‘‘ یا اور پھر میں یسوع کے پاس آیا۔‘‘

پھر ہم اُن سے تھوڑا بہت یسوع کے بارے میں بتانے کے لیے پوچھتے ہیں، اور اِس بارے میں پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا جب وہ اُس کے پاس آئے (یا اُس پر بھروسہ کیا)۔ یہی وقت ہوتا ہے جب سارا کا سارا کھیل سامنے آ جاتا ہے۔ وہ زیادہ کچھ نہیں کہہ پاتے، اگر کچھ بھی یسوع بخود کے بارے میں کہنے کے لیے ہو۔ اپنی کتاب چھوٹے پھاٹک سے گھوم کر Around the Wicket Gate، میں سپرجیئن Spurgeon نے کہا، ’’یہاں خوشخبری میں سے مسیح بخود کو چھوڑ دینے کا لوگوں میں ایک تباہ کُن رُجحان ہے‘‘ (پِلگرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، 1992 ایڈیشن، صفحہ 24)۔ میں اُنہیں بتاتا ہوں کہ میں چاہتا ہوں وہ آتے رہیں اور خوشخبری کو سُنتے رہیں۔ میں اِس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ اُن کی گواہیوں میں یسوع مرکزی حیثیت رکھتا ہو۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی کی گواہی کتنی دلچسپ ہوتی ہے، اگر مسیح مرکزی نہیں ہے تو وہ ابھی تک غیر نجات یافتہ ہیں!

پاک روح ہر حقیقی تبدیلی میں دو اہم باتیں کرتا ہے۔ پہلی بات یوحنا 16:8۔9 میں ہے،

’’جب وہ مددگار آجائے گا، تو جہاں تک گناہ، راستبازی اور اِنصاف کا تعلق ہے وہ دنیا کو مُجرم قرار دے گا۔ گناہ کے بارے میں اِس لیے کہ لوگ مجھ پر ایمان نہیں لاتے‘‘ (یوحنا 16:8۔9).

گناہ کی سزایابی خُدا کی روح کا پہلا کام ہے۔ ہم مسیح میں تبدیلی کو ایک معمولی بات، ایک چھوٹی سی بات جو کہ ایک شخص چند ایک الفاظ کے بُڑبُڑانے یا مخصوص باتیں کہنی سیکھنے کے ذریعے سے پا سکتا ہے بنانے کی خدمت سرانجام دیتے ہیں۔ خُدا ہماری مدد کرے! ہم پاک روح کو چھوڑ چکے ہیں! ہم بھول چکے ہیں کہ اُس کو ہمیں ہمارے گہری تہہ میں پڑے ہوئے گناہ اور خُدا کے خلاف بغاوت کے بارے میں سزایابی کے تحت لانا چاہیے! ڈاکٹر لائیڈ جونز نے سزایابی کو خود اپنے دِل کی وبا کو دیکھنے کے طور پر اور آدم سے جو آپ نے وراثت میں طبعیت کے طعفن کو پایا ہے اُس کی حیثیت سے بیان کیا ہے۔ سزایابی، اُس پاک، مُتقی خُدا کی حضوری میں جو کہ اپنی تمام وجودیت کے ساتھ گناہ سے نفرت کرتا ہے، اپنی نااُمیدی اور اپنی کُل مایوسی کو دیکھنا ہے (حیات نو Revival سے توضیح کی گئی، کراس وے کُتب Crossway Books، 1987، صفحہ 42)۔ یہ کم یا زیادہ اُن میں ہوتا ہے جو سچے طور پر مسیح میں تبدیل ہوئے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’کوئی بھی شخص جو بیدار ہوتا ہے اور گناہ کی سزایابی میں آتا ہے وہ اُسے اِس بارے میں پریشانی میں ہونا چاہیے۔ وہ کیسے مرتا اور خُدا کا سامنا کر سکتا ہے؟‘‘ (یقین دہانی، رومیوں5 Assurance, Romans 5، دی بینر اور ٹُرٹھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، 1971، صفحہ 18)۔

تو یہ وہ پہلی بات ہوتی ہے جو پاک روح ایک مسیح میں ایک تبدیلی میں کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو پریشان کرتا ہے۔ اگر آپ شدت کے ساتھ اپنی گنہگار طبعیت کے بارے میں پریشان نہیں ہوتے ہیں تو آپ خُداوند یسوع مسیح کے بارے میں زیادہ نہیں سوچیں گے۔ آپ صلیب پر اُس کے مرنے کے بارے میں الفاظ سُنتے ہیں، مگر وہ آپ کے لیے بہت کم معنی رکھتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ آپ کبھی بھی ’’گناہ کی، اور راستبازی کی اور انصاف کی‘‘ سزایابی میں نہیں آئے ہوتے ہیں (یوحنا16:8)۔ اور اِس کے باوجود اُس کھوئے ہوئے گنہگار کو تنہا سزایابی میں سکون نہیں پانا چاہیے! تنہا سزایابی ہی آپ کو نجات نہیں دلائے گی!

حال ہی میں مَیں نے ایک نوجوان آدمی سے بات کی جو کئی دِنوں سے گناہ کی گہری سزایابی کے تحت رہ رہا تھا۔ میں نے اُسے نجات کے لیے یسوع کے پاس اُس کے خون کے ذریعے سے جانے کا بتایا۔ وہ ایسا کرتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ یسوع کے پاس آتا ہوا دکھائی دیا۔ میں نے چند ایک ہفتے انتظار کیا اور پھر اُس سے بتانے کے لیے کہا کہ اُس نے کیسے نجات پائی تھی۔ وہ اپنے گناہ کے بارے میں بتاتا چلا گیا۔ اِس میں کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ گہری سزایابی کے تحت رہا تھا۔ مگر اُس نے یہ کہتے ہوئے اختتام کیا، ’’اور پھر میں یسوع کے پاس چلا آیا۔‘‘ میں نے اُس سے یسوع کے بارے میں ذرا کچھ مذید اور بتانے کے لیے کہا۔ وہ اِدھر اُدھر کی ہانکتا رہا، میں یہ انتہائی واضح تھا کہ حالانکہ وہ سزایابی میں رہا تھا، اُس نے نجات دہندہ اور اُس کے خون کے ذریعے سے سکون نہیں پایا تھا!

اکثر لوگ مجھ سے پوچھیں گے، ’’آپ یسوع کے پاس کیسے آتے ہیں؟‘‘ اِس سوال کا جواب دینے کے لیے، ہمیں یوحنا 6:44 پر نظر ڈالنی چاہیے،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 6:44الف).

آپ کو پاک روح کے ذریعے سے خُدا باپ کے وسیلے سے یسوع کے لیے کھینچے چلے آنا چاہیے۔ عام طور پر بات کی جائے تو خُدا کا روح صرف گنہگار کو یسوع کے لیے کھینچے گا جب وہ گناہ کی سزایابی کے تحت ہوتا ہے اور رحم کے لیے پکار رہا ہوتا ہے۔ جب پاک روح کسی کو یسوع کی جانب کھینچتا ہے تو اکثر یوں لگتا ہے جیسے وہ پہلے اندھے تھے، اور اب اُن کی آنکھیں کُھل گئیں ہیں – اور وہ ایک خوبصورت نجات دہندہ کو دیکھتے ہیں، جو اُنہیں گلے سے لگانے کے لیے اپنی بانہیں پھیلائی کھڑا ہوتا ہے! وہ جان نیوٹن John Newton (1725۔1807) کے ساتھ مِل کر گا سکتے ہیں،

میں کبھی کھویا ہوا تھا، مگر اب مِل چکا ہوں،
اندھا تھا، مگر اب مجھے دِکھتا ہے۔
      (’’حیرت انگیز فضل Amazing Grace‘‘)۔

لٰہذا، جب ہم حیات نو کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہمیں خوشخبری کی اصطلاحات میں سوچنا چاہیے۔ حیات نو اِس سے کم یا زیادہ کچھ بھی نہیں ہے کہ خُدا کے پاک روح کا لوگوں کو اُن کے گناہوں کا احساس دلانے اور پھر اُنہیں نجات کے لیے یسوع کی جانب اُس کے خون کے ذریعے سے کھینچنا ہوتا ہے۔ جب ایسا ایک شخص کے ساتھ ہوتا ہے جیسا کہ یہ ہر چند ہفتوں میں ہمارے گرجہ گھر میں ہوتا ہے، تو یہ مسیح میں تبدیلی ہوتی ہے جو مسیح میں تبدیلی کا معجزہ ہوتا ہے! جان ڈبلیو پیٹرسن John W. Peterson نے اِس بات کو اپنے گیتوں میں سے ایک میں واضح کیا ہے،

ستاروں کو اپنی جگہ پر رکھنے کے لیے ایک معجزہ ہوا تھا؛
   خلا میں دُنیا کو لٹکانے کے لیے ایک معجزہ ہوا تھا۔
لیکن جب اُس نے میری جان کو بچایا،
   پاک صاف کیا اور مجھے مکمل کیا،
تو پیار اور فضل کا ایک معجزہ ہوا تھا!
(’’ایک معجزہ ہوا تھا It Took a Miracle‘‘ شاعر جان ڈبلیو۔ پیٹرسن John W. Peterson، 1921۔2006)۔

اور جب وہ معجزہ یکدم لوگوں کی ایک تعداد کے ساتھ رونما ہوتا ہے، کہہ لیں 10 یا 12 لوگوں کے ساتھ یکدم ایک مقامی گرجہ گھر میں، تو وہ حیات نو ہوتا ہے! یہ اتنا ہی سادہ ہے جتنا کہ وہ ہے! جو ایک انفرادی تبدیلی میں رونما ہوتا ہے وہ ایک چھوٹے سے عرصے میں حیات نو میں کئی لوگوں کےساتھ ہوتا ہے۔ جب پاک روح حیات نو کی قوت کے ساتھ آتا ہے تو وہ ہمیشہ بے شمار مسیح میں تبدیل شُدہ لوگوں کی زندگیوں میں جلال ظاہر کرتا ہے!

’’وہ میرا جلال ظاہر کرے گا‘‘ (یوحنا 16:14).

ڈاکٹر لائیڈ جونز کو ایک مرتبہ دوبارہ سُنیں۔

     حیات نو، سب باتوں سے بڑھ کر، خُداوند یسوع مسیح، خُدا کے بیٹے کی جلالیت ہے۔ یہ کلیسیا کی زندگی کے مرکز کے لیے اُس یسوع کی بحالی ہے... ایسی مسیحیت کہلائی جانے میں کوئی قدروقیمت نہیں ہے جو اُس کو تعظیم نہیں بخشتی، اور اُس کے لیے زندگی نہیں گزارتی، اور اُس [کی] گواہی کے لیے زندگی نہیں بسر کرتی... خاص طور پر اُس کے کفارے کے لیے، صلیب پر اُس کی موت کے لیے، اُس کے ٹوٹے ہوئے جسم اور بہائے ہوئے خون کے لیے۔ دوبارہ میں آپ کو ایک خالص حقیقت کا حوالہ دے رہا ہوں جس کی آپ خود سے بھی پڑتال کر سکتے ہیں۔ آپ پائیں گے کہ حیات نو کے ہر دورانیے میں، بغیر کسی گنجائش کے، مسیح کے خون پر انتہائی شدید زور دیا جاتا رہا ہے۔ وہ حمد و ثنا کے گیت جو حیات نو کے زمانے میں زیادہ تر گائے جاتے رہے خون کے بارے ہی میں تھے... مسیح خوشخبری کا وہ انتہائی... دِل یہ ہے، ’’خُدا نے یسوع کو مقرر کیا کہ وہ اپنا خون بہائے اور انسان کے گناہ کا کفارہ بن جائے اور اُس پر ایمان لانے والے فائدہ اُٹھائیں‘‘ (رومیوں3:25)... میں حیات نو کے لیے کوئی اُمید نہیں دیکھتا ہوں جب کہ آدمی اور عورتیں صلیب کے خون کے انکاری ہو رہے ہیں... (حیات نو Revival، ibid.، صفحات47، 48، 49)۔

وہاں خون سے بھرا ایک چشمہ ہے
   عمانوئیل کی رگوں سے کھینچا گیا؛
اور گنہگار، اُس سیلاب کے نیچے ڈبکی لگاتے ہیں،
   اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں؛
اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں
   (’’وہاں ایک چشمہ ہےThere Is a Fountain ‘‘ شاعر ولیم کاؤپر William Cowper، 1731۔1800؛’’اُرٹون وائیلی Ortonville‘‘ کے گیت ’’شاہانہ مٹھاس تخت پر بیٹھتی ہے Majestic Sweetness Sits Enthroned‘‘)۔

جب میں حیرت انگیز صلیب کا جائزہ لیتا ہوں
   جس پر جلال کا شہزادہ مرا تھا،
اپنا سب سے زیادہ منافع میں گنتا ہوں مگر نقصان میں ہوں،
   اور میرے تمام غرور پر حقارت اُنڈلی جاتی ہے۔

دیکھو، اُس کے سر، ہاتھوں، اور اُس کے پیروں سے،
   دُکھ اور محبت باہم مل کر نیچے بہتے ہیں:
کیا کبھی ایسے، محبت اور دُکھ ملے ہیں،
   یا کانٹوں نے اِس قدر اعلٰی تاج بنایا ہو؟
(جب میں حیرت انگیز صلیب کا جائزہ لیتا ہوں When I Survey the Wondrous Cross‘‘ شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز،Dr. Isaac Watts، 1674۔1748)۔

غلط سمجھے جانے کے خدشے کے پیش نظر، میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے ضرور کہنا چاہیے کہ یہیں پر ہے جہاں کرشماتی Charismatics مشن والے اور پینتیکوست مشن والے غلطی پر رہے ہیں۔ وہ پان رُجحان پاک روح بذات خود پر مرکوز کرتے ہیں۔ صلیب پر یسوع کی موت اہم بات نہیں ہے۔ وہ شفائیں دینے، روح میں قتل کرنے، علامات اورمعجزات کے بارے میں دیوانے رہتے ہیں۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ جو میں کہتا ہوں اُس پر کتنا احتجاج کرتے ہیں، وہ صلیب پر مسیح کی تبدلیاتی موت کو اہم موضوع نہیں بناتے ہیں! گناہ کی سزا یابی، اور مسیح کے خون کے ذریعے سے معافی مرکزی نہیں ہیں۔ مگر میں یہ بھی ضرور کہوں گا کہ ہم جو کہ انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے ہیں اور قدامت پسند ہیں کوئی بہتر نہیں ہیں! ہم کھوئے ہوئے اُن لوگوں کو ہمارے گرجہ گھروں میں مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں بائبل کی آیت بہ آیت تعلیم دینے میں مصروف ہیں۔ یہ ہے جہاں پر ہم سب غلطی پر ہیں۔ مسیحی خوشخبری کا انتہائی مرکز یسوع مسیح یعنی مسیح مصلوب ہے۔ وہ عظیم ترین مبلغ جو مسیحیت نے آج تک پیدا کیا، اُس نے کہا،

’’میں نے فیصلہ کیا ہُوا تھا کہ جب تک تمہارے درمیان رہوں گا مسیح یعنی مسیحِ مصلوب کی منادی کے سِوا کسی اور بات پر زور نہ دوں گا‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:2).

ہم کبھی بھی حیات نو نہیں پا سکتے جب آدمی اور عورتیں صرف یہ کہہ پاتے ہوں، ’’اور پھر میں یسوع کے پاس آیا۔‘‘ خُدا ہماری مدد کرے! اگر یہی ہے جو آپ خُدا کے برّے کے بارے میں کہہ سکتے ہیں جسے آپ کو بچانے کے لیے اذیت دی گئی اور مصلوب کیا گیا، تب میں سوچتا ہوں آپ اتنے ہی اندھے ہیں جتنے کہ یہوواہ کے گواہی Jehovah’s Witness والے ہیں! وہ بھی یسوع ہی کی بات کرتے ہیں! خون کہاں پر ہے؟ وہ بے لوث محبت کہاں پر ہے جس نے اُس کو عالم بالا کی اعلٰی عدالتوں سے کوڑے کھانے، تھوکے جانے اور صلیب پر کیلوں سے جڑے جانے کے لیے مجبور کیا؟

کبھی کبھار میں سوچتا ہوں کہ میں ناکام ہو چکا ہوں۔ کسی نہ کسی طور میں نے آپ کو تعلیم نہیں دی کہ یسوع کو اتنا پیار کریں کہ کم از کم تھوڑا بہت ہی اُس کے بارے میں بتا سکیں۔ کسی نہ کسی طور میں آپ کو تیار نہیں کر پایا کہ یسوع سے محبت کر پائیں۔ میں آپ کو تیار نہیں کر پایا کہ واقعی میں محسوس کریں اور یہ کہنے کے قابل ہو جائیں،

میں نے تجھ سے محبت کی، کیونکہ پہلے تو نے مجھ سے محبت کی،
اور کلوری کی صلیب پر میری معافی کو خریدا؛
میں تجھ سے تیری پیشانی پر کانٹے پہننے کے لیے محبت کرتا ہوں،
اگر میں نے کبھی بھی تجھ سے پیار کیا ہے، میرے یسوع، تو وہ اب ہے۔
(’’میرے یسوع، میں نے تجھ سے محبت کی My Jesus, I Love Thee‘‘ شاعر ولیم فیدرسٹون William Featherstone، 1842۔1878)۔

اوہ، پیارے دوستو، آیئے اگلے اِتوار کو 5:00 بجے تک کے لیے دوبارہ روزہ رکھیں اور دعا مانگیں۔ آئیے پاک روح کے لیے کہ وہ دو باتیں کرے – گناہ کی سزایابی، اور گنہگاروں کو یسوع کے پاس یسوع کے خون میں پاک صاف ہو کر کھینچنے کے وسیلے سے یسوع کا جلال ظاہر ہو، روزہ رکھیں اور دعا مانگیں۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: یوحنا16:7۔14.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر مسٹر بینجمن کنکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا:
(’’وہاں ایک چشمہ ہےThere Is a Fountain ‘‘ شاعر ولیم کاؤپر
William Cowper، 1731۔1800؛ ’’اُرٹون وائیلی Ortonville‘‘ کے گیت ’’شاہانہ مٹھاس تخت پر بیٹھتی ہے Majestic Sweetness Sits Enthroned‘‘ کی طرز پر گایا گیا)۔