Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

تنہائی کی زنجیروں کو توڑنا

BREAKING THE CHAINS OF LONELINESS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
 .by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 13 جولائی، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, July 13, 2014

’’افسوس اُس آدمی پر جو تنہا ہوتا ہے‘‘ (واعظ 4:10).

ڈاکٹر لیونارڈ زونن Dr. Leonard Zunin کے مطابق، جو کہ لاس اینجلز کے ایک نفسیات دان ہیں، نوع انسانی کا سب سے بڑا مسٔلہ تنہائی ہے۔ سند یافتہ ماہر تحلیل نفسی اینریچ فرام Enrich Fromm نے کہا، ’’انسان کی سب سے گہری ضرورت اپنی جُدائی پر قابو پانے کی ضرورت ہے، اپنے اکیلے پن کی قید کو چھوڑنا ہے۔‘‘ بائبل کہتی ہے، ’’انسان کا اکیلا رہنا اچھا نہیں‘‘ (پیدائش2:18)۔ انگریز شاعر جان مِلٹن John Milton ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تنہائی پہلی چیز تھی جس کے لیے خُدا نے کہا کہ اچھی نہیں تھی۔

اور لاس اینجلز جیسے بڑے شہر کے مقابلے میں کوئی اور جگہ اتنی زیادہ تنہا نہیں ہے۔ ہربرٹ پروچناؤ Herbert Prochnow نے کہا، ’’شہر ایک وسیع سماج ہوتا ہے جہاں لوگ اکیلے پن میں اکٹھے ہوتے ہیں۔‘‘ مدر ٹریزا Mother Teresa جنہوں نے انڈیا میں کلکتہ کے پسماندہ لوگوں کے علاقے میں زندگی گزاری، اُنہوں نے کہا، ’’تنہائی سب سے زیادہ ہولناک قسم کی غُربت ہوتی ہے۔‘‘ اگر یہ سچ ہے، تو زمین پر لوگوں میں سب سے زیادہ امریکی کنگال ہیں! لاس اینجلز میں کروڑوں لوگ تنہا ہیں۔ آپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ کوئی بھی آپ کی پرواہ نہیں کرتا ہے – کہ کوئی بھی آپ کو نہیں سمجھتا یا آپ سے ہمدردی نہیں کرتا؟

میں یقین کرتا ہوں کہ وہ نفسیات دان، ڈاکٹر زونن اور ڈاکٹر فرام سچے تھے۔ میں یقین کرتا ہوں کہ آج تنہائی سب سے بڑا مسٔلہ ہے جس کا سامنا لوگ کرتے ہیں – خصوصی طور پر لاس اینجلز میں – اور ساری دُنیا میں۔ آج کی صبح آپ سے بہت سے تنہائی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں! اور میں اِس واعظ میں تنہائی کے موضوع پر بات چیت کرنے جا رہا ہوں۔

I. اوّل، ہماری قوم اور ہماری تہذیب کی تنہائی کے بارے میں سوچیں۔

سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہماری تمام تر ترقیوں کے ساتھ، ہم ماضی کی نسلوں کے لوگوں کے مقابلے میں کئی گناہ زیادہ تنہا ہیں۔ اپنی پینسٹھویں سالگرہ کے موقع پر سائنس فیکشن کے مصنف ایچ۔ جی۔ ویلز H. G. Wells نے کہا، ’’میں تنہا ہوں، اور کبھی بھی امن نہیں پا سکا۔‘‘ وہ دُکھی اور تنہا بزرگ آدمی ایک دہریہ اور مسیحیت کا دشمن تھا۔

ہماری تنہائی کے پیچھے زیادہ تر ٹیکنالوجی ہے۔ مثال کے طور پر، ٹیلی ویژن ہی کو لے لیجیے۔ کالم نگار این لینڈرز Ann Landers نے کہا، ’’ٹیلی ویژن نے ثابت کر دیا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے کے بجائے کسی اور چیز پر نظر ڈالیں گے۔‘‘ لوگ گھنٹوں ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں یا کئی کئی گھنٹے ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں۔ ہم اب کبھی بھی دوستوں کی حیثیت سے یا ایک خاندان کی حیثیت سے اکٹھے بیٹھ کر کھانا نہیں کھاتے ہیں۔ ہم تقریباً گفتگو کیسے کرنی چاہیے بھول ہی چکے ہیں۔ ایک بامعنی درجے تک – ہم ٹیلی ویژن دیکھنے یا ایک دوسرے سے آئی پوڈ iPod پر بات چیت کرنے میں بے انتہا مصروف رہتے ہیں!

لوگ اپنے کانوں میں ٹوٹیاں ٹھونس لیتے ہیں اور اپنے دماغوں میں موسیقی کو ٹھونستے ہیں۔ وہ خود کو ایک گاڑی میں بند کر لیتے ہیں۔ فی بندے کے لیے ایک گاڑی۔ تنہا – وہ کمپیوٹر پر ’’نیٹ کے ذریعے‘‘ مصروف رہتے ہیں۔

ٹیلی ویژن، کمپوٹرز، گاڑیاں، کیسیٹیں – اِس تمام کی تمام ٹیکنالوجی – نے ہمیں خوشی نہیں دی ہے۔ اِس نے ہمیں مذید اور تنہا کر دیا ہے۔ البرٹ آئینسٹائین نے کہا، ’’یہ ہولناک طور پر واضح ہو چکا ہے کہ ہماری ٹیکنالوجی ہماری انسانیت سے بڑھ چکی ہے۔‘‘ آج بے شمار نوجوان لوگوں کے لیے ویڈیو گیمز بدترین قسم کی تنہائی تخلیق کرتی ہے!

بائبل کہتی ہے، ’’افسوس اُس آدمی پر جو تنہا ہوتا ہے جب وہ گِرتا ہے: کیونکہ اُس کی اُٹھنے میں مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ہے‘‘ (واعظ 4:10)۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ یہ اُن اہم وجوہات میں سے ایک ہے جو بے شمار نوجوان لوگ منشیات کی طرف رُخ کرتے ہیں۔ وہ تنہا ہوتے ہیں۔ دوسرے ایک گروہ کا رُخ کرتے ہیں – جہاں پر وہ رفاقت کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایک ناکارہ خاندان میں ہونا محسوس نہ کریں۔ دوسرے باہر جاتے ہیں جمعہ یا ہفتے کی شب کو پارٹی مناتے ہیں – اپنی تنہائی پر قابو پانے کی تلاش میں۔ مگر کسی نہ کسی طرح یہ کام ہوتا ہی نہیں ہے۔ وہ گروہ اکٹھا نہیں رہتا ہے۔ پارٹی ختم ہو جاتی ہے – اور آپ گھر چلے جاتے ہیں – دوبارہ تنہا۔

خود غرضی دیرینہ تعلق داری کو پنپنے سے روکتی ہے۔ بائبل کہتی ہے:

’’آخری زمانہ میں بُرے دِن آئیں گے لوگ خُودغرض، زَردوست، شیخی باز، مغرور، بدگو، ماں باپ کے نافرمان، ناشکرے، ناپاک، محبت سے خالی، بے رحم، بدنام کرنے والے، بے ضبط، تُند مزاج، نیکی کے دشمن، دغاباز، بے حیا، گھمنڈی، خدا کی نسبت عیش و عشرت کو زیادہ پسند کرنے والے ہوں گے‘‘ (2:تیموتاؤس3:1۔4).

کلام پاک کا وہ حوالہ ہمارے تنہائی کے زمانے کی پیشن گوئی کے طور پر پیش کیا گیا تھا – اور یہ واضع کرتا ہے کہ کیوں اِس قدر زیادہ لوگ تنہا ہوتے ہیں۔

’’خود اپنی ذات سے محبت کرنے والے [خودغرض]۔‘‘ آپ دوسروں کے نزدیک نہیں ہو سکتے اگر آپ انتہائی شدید محبت صرف خود سے ہی کرتے ہیں۔ ’’خُدا کی نسبت عیش و عشرت کو زیادہ پسند کرنے والے۔‘‘ اِس کا سامنا کریں! بہت سوں کو عیش و عشرت کی خودغرضانہ محبت ہوتی ہے اور خُدا کی محبت نہیں ہوتی ہے! کیا آپ ایسے ہیں؟ کیا آپ روح تک خودغرض ہیں؟ خودغرضی گناہ کی انتہائی روح رواں ہے – آپ کا خود سے پیار کرنا، خُدا سے نہیں کرنا۔ اپنی خود محبتی میں، آپ خُدا کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں۔ آپ خُدا کو اپنی سوچوں سے باہر نکال دیتے ہیں۔ اور نتیجے کے طور پر آپ تنہائی سے لعنتی کیے جاتے ہیں۔ آپ شاید کبھی بھی خُدا کے پیار کو نہ جان پائیں۔ آپ دُنیا میں بغیر کسی دیرینہ دوست کے زندگی گزارتے رہتے ہیں۔ بائبل کہتی ہے، ’’بہت سے دوست رکھنے والا شخص تباہ و برباد ہو سکتا ہے‘‘ (امثال18:24)۔ اگر آپ دوستانہ نہیں ہیں، تو آپ کے کوئی بھی حقیقی دوست نہیں ہوں گے۔ ہمارے زمانے میں یہ کھوئے ہوئے اور تنہا اور بے دین لوگوں کی غمگین پریشانی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آپ کو اپنے گھنٹوں کے کاموں کو ترتیب دینا پڑتا ہے تاکہ آپ کو گرجہ گھر میں عبادت کے دوران کام نہ کرنا پڑے۔ آپ کو خُدا کی ضرورت ہے! آپکو اِتواروں کو کام کرنے سے کسی بھی تعداد میں پیسے کمانے کے مقابلے میں گرجہ گھر میں جو آپ دوست بنائیں گے اُن کی زیادہ ضرورت ہے۔

کچھ بھی آپ کی تنہائی کا علاج نہیں ہو سکتا ما سوائے مسیح کے اور مقامی گرجہ گھر کے! آپ کو ضرور بہ ضرور مسیح کے حوالے ہو جانا چاہیے، اور اُس کے خون کے وسیلے سے پاک صاف ہو جانا چاہیے! پھر آپ کو اِس مقامی گرجہ میں آنا چاہیے اور یہاں پر دیرپا دوست بنانے چاہیے! کیونکہ تنہا رہیں؟ گھر آئیں – گرجہ گھر میں!

اِس بارے میں بائبل ہمیں ابتدائی مسیحیوں کا بتاتی ہے:

’’وہ ہر روز ایک دل ہوکر ہیکل میں جمع ہوتے تھے اور گھروں میں روٹی توڑتے تھے اور اِکٹھے ہوکر خُوشی اور صاف دلی سے اُسے [اپنے کھانے کو] کھاتے تھے۔ وہ خدا کی تمجید کرتے تھے اور سب لوگوں کی نظر میں مقبول تھے اور خداوند نجات پانے والوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ کرتا رہتا تھا‘‘ (اعمال 2:46۔47).

یہی وجہ ہے کہ گرجہ گھر میں ہونے نے اُنہیں ’’دِل کی خوشی‘‘ سے بھرپور رکھا تھا – اور اُنہیں تنہائی سے دور رکھا تھا۔ وہ ہر مرتبہ جب دروازہ کھلا ہوتا تھا گرجہ گھر میں ہوتے تھے۔ اُن کی مثال کی پیروی کریں! اگلے اِتوار کو یہاں پر آئیں! ہمارے گرجہ گھر کی بھرپور رفاقت کے لیے تمام راہیں طے کر کے آئیں! یہ آپ کی تنہائی کا علاج کرے گا! مسیح تنہائی کی زنجیروں کو توڑ دے گا! اِس گرجہ گھر میں آئیں اور اپنے دِل کو مسیح کے حوالے کر دیں!

II. دوئم، موت کی تنہائی کے بارے میں سوچیں۔

بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ یعقوب نے کہا:

’’میرا بیٹا تمہارے ساتھ وہاں [مصر کے لیے] نہیں جائے گا۔ کیونکہ اُس کا بھائی مرچکا ہے اور صرف وہی باقی رہ گیا ہے… ‘‘ (پیدائش 42:38).

کسی دِن آپ کے رشتے دار بھی مر جائیں گے – اور آپ تنہا پیچھے رہ جائیں گے۔

موت ایک ہولناک بات ہے – اور یہ ہر کسی کو آتی ہے – بشمول آپ کے۔ اور موت آپ کو بے انتہا تنہا اور ذہنی دباؤ میں ڈالتی ہے۔ آپ کو شاید بہت اچھی طرح سے اُس جگہ کے لیے آنا چاہیے جہاں پر آپ کہتے ہیں،

’’میں پڑا جاگتا رہتا ہُوں، اُس پرندہ کی مانند جو چھت پر اکیلا ہو‘‘ (زبور 102:7).

آپ اتنا ہی تنہا محسوس کر سکتے ہیں جتنا کہ ایک پرندہ – جو گھر کی چھت پر تنہا ہوتا ہے – تنہا، کسی کے پاس نا جا سکنے کے احساس کے ساتھ!

خُدا نے پطرس کو آزاد کروانے کے لیے ایک فرشتہ کو بھیجا تھا جب وہ قید میں پڑا تھا۔ فرشتے نے کہا، ’’اُٹھ، جلدی کر۔ اور زنجیریں اُس کے ہاتھ میں کُھل پڑیں‘‘ (اعمال12:7)۔ یہی ہے جو آپ کے ساتھ ہوگا جب آپ مسیح کے پاس آتے اور تبدیل ہوتے ہیں۔ موت کی اسیری کی زنجیریں کُھل جائیں گی – اور آپ آزاد ہو جائیں گے۔ مسیح آیا

’’تاکہ اپنی موت کے وسیلہ سے موت کے مالک یعنی اِبلیس کو تباہ کردے۔ اور اُنہیں جو عمر بھر موت کے ڈر سے غُلامی میں گرفتار رہے [آزاد کرے] چھُڑا لے‘‘ (عبرانیوں 2:14۔15).

جیسا کہ چارلس ویزلی Charles Wesley اِسے لکھتے ہیں:

میری زنجیریں کھل گئی تھیں، میرا دِل آزاد تھا؛
میں اُٹھا، آگے بڑھا،اور اُس کی پیروی کی۔
حیرت انگیز پیار! یہ کیسے ہو سکتا ہے
وہ تم تھے، میرے خُداوند، جو میرے لیے مرے تھے۔
(’’اور یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ And Can It Be? ‘‘ شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley، 1707۔1788).

جب آپ سچے طور پر مسیح کے پاس آتے ہیں تو موت کی تنہائی کی زنجیریں آپ پر سے کُھل کر گِر جاتی ہیں!

III. سوئم، جہنم کی تنہائی کے بارے میں سوچیں۔

بائبل ہمیں ایک امیر آدمی کے بارے میں بتاتی ہے جو مسیحی نہیں تھا۔ وہ مر گیا اور جہنم میں گیا۔ بائبل کہتی ہے:

’’جب اُس نے عالمِ ارواح میں عذاب میں مبتلا ہوکر اپنی آنکھیں اوپر اُٹھائیں تو دُور سے ابرہام کو دیکھا… اور اُس نے چلا کر کہا: اَے باپ ابرہام! مجھ پر رحم کر اور لعزر کو بھیج تاکہ وہ اپنی اُنگلی کا سرا پانی سے تر کرکے میری زبان کو ٹھنڈک پہنچائے کیونکہ میں اِس آگ میں تڑپ رہا ہوں‘‘ (لوقا 16:23۔24).

جہنم میں وہ اپنے سوختہ منہ کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے تھوڑے سے پانی کے خیال کے ساتھ دیوانہ ہوا جاتا تھا۔ مگر وہ جہنم میں بالکل تنہا تھا۔ اُس کی مدد کرنے کے لیے کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ کسی کے آنے کے لیے چلایا تھا کہ اُس کو پانی کے چند قطرے ہی لا دے۔

اِس آدمی کی اذیت جہنم کی شدید تنہائی کو ظاہر کرتی ہے۔ آپ کے دوست، اگر وہ بھی جہنم ہی میں ہیں، کسی طور بھی آپ کی مدد کرنے کے قابل نہیں ہونگے اُن کے مقابلے میں وہ جو اُس کے پرانے دوست ہیں اُ سکے مصائب کی شدت کو کم کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ وہ آپ سے تاریکی اور اندھیرے اور آگ میں جُدا کر دیے جائیں گے۔ آپ بالکل تنہا ہونگے، جیسے وہ تھا، تنہائی میں ہمیشہ کے لیے اذیتیں برداشت کرتا ہوا۔

صرف یسوع ہی آپ سے جہنم کی زنجیروں کو توڑ سکتا ہے!اور وہ ایسا صرف ابھی ہی کر سکتا ہے – جب کہ آپ زندہ ہی ہیں۔ اگر آپ انتظار کرتے ہیں اپنے مرنے کے بعد تک کا، تو یہ ہمیشہ کے لیے انتہائی تاخیر ہو جائے گی۔ مسیح کے پاس ابھی آئیں – اور آپ گائیں گے،

خُداوندا، تیرے کوڑے کھانے کے سبب سے جنہوں نے تجھے زخمی کیا،
موت کے ہولناک ڈنگ سے تیرے خادم آزاد ہوئے،
کہ ہم زندہ رہ سکیں اور تیرے لیے گائیں۔ ھیلیلویا!
   (’’اختلاف ختم ہو گیا The Strife Is O’er ،‘‘ فرانس پاٹ Francis Pott نے ترجمہ کیا، 1832۔1909)

موت اپنے شکار کو نہیں رکھ سکتی – یسوع میرے نجات دہندہ!
اُس نے سلاخوں کو توڑ دیا – یسوع میرے خُداوندا!
   (’’مسیح جی اُٹھا Christ Arose‘‘ شاعر رابرٹ لوری Robert Lowry، 1826۔1899)۔

جہنم کی تنہائی کی زنجیریں ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتی ہیں اگر آپ مکمل طور پر یسوع مسیح کی جانب رُخ کرتے ہیں! اُس کے پاس آئیں! گناہ سے باہر نکلیں! گرجہ گھر میں آئیں! یسوع مسیح، خُدا کے بیٹے کے وسیلے سے جہنم کی تنہائی کی زنجیریں توڑ دی جائیں گی!

پھر، چہارم، مسیح کی تنہائی کے بارے میں سوچیں۔

مسیح زمین پر اپنی منادی کے دوران اکثر تنہا تھا۔ بائبل کہتی ہے:

’’جب وہ اُنہیں [ہجوم کو] رخصت کر چُکا تو اکیلا دعا کرنے کے لیے ایک پہاڑی پر چلا گیا۔ رات ہوچُکی تھی اور وہ وہاں اکیلا تھا‘‘ (متی 14:23).

لوگوں کے بہت بڑے بڑے ہجوم یسوع کا پیچھا کرتے تھے، مگر وہ اکثر خُدا کے ساتھ تنہائی میں چلا جایا کرتا تھا – ہجوم سے بہت دور۔ مگر اُس نے اکثر کہا، ’’اُس باپ نے مجھے تنہا نہیں چھوڑا‘‘ (یوحنا8:29)۔ زمین پر اپنی منادی کے دوران، خُدا ہمیشہ یسوع کے نزدیک تھا۔ مگر اُنہوں نے اُس کو پکڑا اور اُسے مارا، اور اُس کے سر پر کانٹوں کا ایک تاج رکھا، اور اُس کا تمسخر اُڑایا۔ وہ اُس کو گھسیٹ کر اوپر پہاڑ پر لے گئے اور ایک صلیب پر کیلوں سے جڑ دیا۔ اور جب وہ اُس صلیب پر مر رہا تھا تو خُدا اپنے اکلوتے بیٹے سے جُدا ہوگیا۔ اور یسوع پکار اُٹھا:

’’اَے میرے خدا! اَے میرے خدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ (متی27:46).

اِس ناخوشگوار لمحے میں یسوع مسیح، خُدا کے بیٹے کو صلیب پر تنہا چھوڑ دیا گیا تھا۔ وہ مکمل طور پر تنہا تھا۔ خُدا نے اپنے محبوب بیٹے سے منہ موڑ لیا تھا – اور مسیح نے ہمارے گناہ سارے کے سارے خود اُٹھائے – تنہا اُس صلیب پر۔ لوتھر Luther ایک بہت بڑے عالم الٰہیات تھے، مگر اُنہوں نے کہا وہ اِس کو مکمل طور سمجھ نہیں پائے یا اِس کو انسانی اصطلاح میں سمجھا نہیں سکتے۔

خُدا تو یہاں تک کہ گناہ پر نظر تک نہیں ڈال سکتا – اِس لیے خُدا نے اپنا منہ موڑ لیا جبکہ یسوع ’’خود اپنے ہی بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ لیے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا‘‘ (1پطرس2:24)۔ یہی وجہ ہے یسوع ہی وہ واحد ہستی ہے جو گناہ کی زنجیروں کو توڑ سکتا ہے جنہوں نے آپ کو ایک گناہ سے بھرپور، تنہا، کھوئی ہوئی حالت میں جکڑا ہوا ہے۔ مسیح آپ کو گناہ کی سزا سے بچا سکتا ہے کیونکہ اُس نے اُس صلیب پر تنہا آپ کے گناہوں کو اُٹھایا تھا!

وہ تنہائی تھی جہاں نجات دہندہ نے دعا کی تاریک گتسمنی میں،
تنہا ہی اُس نے وہ کڑوا پیالہ پی کر خالی کیا اور وہاں پر میرے لیے دُکھ اُٹھایا۔
تنہا، تنہا، اُس نے تنہا یہ سب کچھ برداشت کیا۔
اُس نے خود کو پیش کردیا اپنوں کو بچانے کے لیے،
اُس نے دُکھ اُٹھائے، خون بہایا، اور مرگیا، تنہا، تنہا۔
   (’’تنہا Alone‘‘ شاعر بعن ایچ۔ پرائس Ben H. Price، 1914)۔

مسیح صلیب پر تنہا آپ کو اُس تنہائی سے جو انسان کی روح پر گناہ لاتا ہے بچانے کے لیے مرا تھا۔ وہ آپ کی جگہ پر مرا تھا، آپ کے گناہ کی ادائیگی کے لیے۔ مسیح گناہ کی زنجیروں کو توڑ سکتا ہے کیونکہ وہ آپ کے لیے صلیب پر اپنی موت کی جانب گیا! یسوع کی طرف مکمل طور پر رُخ کریں اور آپ گناہ کے جرم سے آزاد کر دیے جائیں گے!

V. مگر پجنم، تبدیلی کی تنہائی کے بارے میں سوچیں۔

آپ میرے وسیلے سے مسیح کے لیے تبدیل نہیں ہونگے۔ میں تو صرف ایک آلہ ہوں – ایک مبلغ – جو آپ کو دُرست سمت کی نشاندہی کرتا ہے – مسیح کی جانب – جیسے کہ زائر کی پیش قدمی Pilgrim’s Progress میں وہ انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والا۔ مگر آپ کو خود سے ہی مسیح کو تلاش کرنا چاہیے۔ آپ کو تنہا ہی یسوع کے پاس جانا چاہیے۔ یعقوب کے نجات کے تجربے میں تبدیلی کی تنہائی کی کیسی ایک جامع تصویر ہم دیکھتے ہیں:

’’اور یعقوب اکیلا رہ گیا اور ایک آدمی پو پھٹنے تک اُس سے کُشتی لڑتا رہا‘‘ (پیدائش 32: 24).

وہ آدمی جس نے اُس رات یعقوب کے ساتھ کُشتی کی تھی قبل ازیں متجسم مسیح تھا، جو تاریکی میں یعقوب کے پاس جب وہ تنہا تھا آیا۔

آپ میں سے کچھ کی مانند، یعقوب بھی ابھی تک ذاتی طور پر مسیح کو نہیں جانتا تھا۔ اُس تنہا گھنٹے میں اُس نے تمام رات مسیح کے ساتھ کُشتی کی تھی۔ اور آپ کو بھی، سارا کا سارا خود سے ہی یسوع کے پاس آنا ہوگا۔ دیکھا آپ نے، میں آپ کو تبدیل نہیں کر سکتا ہوں۔ میں آپ کو حقیقی مسیحی نہیں بنا سکتا ہوں۔ یہ تنہا آپ اور مسیح کے درمیان ہی ہے۔

’’اور یعقوب اکیلا رہ گیا اور ایک آدمی پو پھٹنے تک اُس سے کُشتی لڑتا رہا‘‘ (پیدائش 32:24).

مسیح آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرا تھا۔ مگر آپ کو ’’خود کو‘‘ مسیح کے ’’حوالے‘‘ کر دینا چاہیے۔ آپ کو مسیح کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے چاہیے۔ آپ کو اپنے مغرور اور باغی دِل کی نہیں سُننی چاہیے۔ آپ کو ایک بے بس گنہگار کی مانند یسوع کے قدموں میں گِر جانا چاہیے۔ آپ کو اُس کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے چاہیے، اور مکمل طور پر اپنا بھروسہ اُسی پر ڈال دینا چاہیے۔ وہ آپ کے دِل کو تبدیل کر دے گا! وہ گناہ کی زنجیروں کو توڑ دے گا! وہ اپنے خون کے ساتھ آپ کے گناہ کو دھو ڈالے گا!

اور آپ مسیح کے سامنے سرنگوں ہونے اور ایک حقیقی مسیحی بننے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی سے ابھی اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک دوسرے کمرے میں لے جائیں گے جہاں پر ہم بات چیت کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا مانگیں کہ آج کی صبح کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: واعظ کی کتاب 4:8۔12 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’دس ہزار فرشتے Ten Thousand Angels‘‘ (شاعر رے اوورہولٹ Ray Overholt، 1959)۔

لُبِ لُباب

تنہائی کی زنجیروں کو توڑنا

BREAKING THE CHAINS OF LONELINESS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’افسوس اُس آدمی پر جو تنہا ہوتا ہے‘‘ (واعظ 4:10).

(پیدائش2:18)

I. اوّل، ہماری قوم اور ہماری تہذیب کی تنہائی، واعظ4:10؛ 2 تیموتاؤس3:1۔4؛
 امثال18:24؛ اعمال2:46۔47 .

II۔ دوئم، موت کی تنہائی، پیدائش 42:38؛ زبور102:7؛ اعمال12:7؛
عبرانیوں2:14۔15 .

III۔ سوئم، جہنم کی تنہائی، لوقا16:23۔24 .

IV۔ چہارم، مسیح کی تنہائی، متی14:23؛ یوحنا8:29؛
 متی27:46؛ 1پطرس2:24 .

V۔ پنجم، تبدیلی کی تنہائی، پیدائش32:24 .