Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

سزایابی اور چُھٹکارہ

CONVICTION AND DELIVERANCE
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
جمعہ کی شام، 27 جون، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Friday Evening, June 27, 2014

’’ہائے! میں کیسا بد بخت آدمی ہُوں! اِس مُوت کے بدن سے مجھے کون چھُڑائے گا؟‘‘ (رومیوں 7:24).

ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونزDr. Martyn Lloyd-Jones نے کہا کہ یہ ایک ایسے آدمی یا عورت کی تصویر ہے جس کو گناہ کی سزا ملی ہوئی ہے۔ اُنہوں نےکہا،

جان بنعین John Bunyan ہمیں فضل کے بکثرت ہونےGrace Abounding میں بتاتے ہیں کہ اٹھارہ مہینوں تک روح کی اذیت میں اور اِس حالت میں تھے۔ وقت کا عنصر کوئی وقعت نہیں رکھتا، مگر کوئی بھی شخص جو بیدار ہوتا ہے اور گناہ کا سزایاب ہوتا ہے وہ اِس بارے میں ضرور پریشان ہوتا ہے۔ وہ کیسے مر سکتا ہے خُدا کا سامنا کر سکتا ہے؟ (یقین دہانی Assurance، صفحہ18)۔

بہت پیچھے 1630 کے ماضی میں، ایک حیات نو میں، وہ ہمیں سکاٹ لینڈ میں کچھ لوگوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ایک واعظ کے نتیجے میں جو اُنہوں نے ایک دِن پہلے سُنا تھا ’’وہاں پر بہت سے لوگ تھے جو سزایابی کی اذیت میں تھے جیسا کہ [ہماری تلاوت] میں رومیوں 7 کے دوسرے حصے میں کامل طور پر بیان کیا گیا ہے… اُنہوں نے مکمل طور پر کھویا ہوا محسوس کیا تھا… وہ تلاش نہیں کر پائے تھے… سکون و چین… ماتم، تسکین کے لیے رونا جو اُنہیں نہیں مل سکا تھا۔ وہ، مجھے یوں لگتا ہے، وہ حالت ہے جس کو اِس قدر جامع طور پر پولوس رسول نے رومیوں7:13۔25 میں بیان کیا۔ یہ روحانی زندگی کا انتہائی ابتدائی اظہار ہے؛ مگراِس سے زیادہ نہیں – سزایابی مگر تبدیلی نہیں‘‘ (شریعت: اُس کے فرائض اور بندشیں The Law: Its Functions and Limits، صفحہ262)۔

’’ہائے! میں کیسا بد بخت آدمی ہُوں! اِس مُوت کے بدن سے مجھے کون چھُڑائے گا؟‘‘ (رومیوں 7:24).

ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا کہ یہ احساس صرف پاک روح سے ہی آ سکتا ہے۔ اور اُنہوں نے کہا کہ آپ کو اُس کا کچھ نہ کچھ محسوس ہونا چاہیے ورنہ آپ ایک حقیقی تبدیلی میں بدل نہیں سکتے ہیں۔ یوں ہے کیسے ہمارے گرجہ گھر میں ایک نوجوان خاتون نے گناہ کی سزایابی کے اپنے احساسات کو بیان کیا،

[جس دِن میں تبدیل ہوئی تھی اُس سے پہلے کے وقت میں] میں اپنی زندگی کے سب سے زیادہ خستہ حال دور کے طور پر صرف بیان کر سکتی ہوں… میں جانتی تھی کہ میں ایک ہولناک گنہگار تھی، مگر میں اپنے گناہ کے ساتھ فکرمندی سے خود ترسی میں شدید طرح سے گھری ہوئی تھی۔ مگر آخرکار پاک روح مجھ میں سمایا اور مجھے میرے ماضی کے گناہوں کے بارے میں قصور وار ٹھہرایا۔ وہ میرا پیچھا آسیبوں کی طرح کرتے تھے اور میں کبھی بھی اُن سے دور نہ بھاگ سکی… پاک روح نے مجھ پر آشکارہ کیا کہ یہ گناہ میرے بدکار، فریبی دِل اور میری فطرت کے مکمل اور کُل اِخلاقی زوال سے نکلے ہیں… میں کراہت آمیز تھی اور اِس قدر زیادہ شرمندہ تھی جو کچھ میں جانتی تھی اُسے خُدا نے دیکھا تھا [میرے دِل میں]… ہر مرتبہ جب میں گرجہ گھر گئی، میں نے پاک صاف مسیحیوں کے درمیان کوڑھی کی طرح محسوس کیا۔ لیکن میں اب بھی مسیح پر بھروسہ نہیں کر سکی۔ ’’یسوع‘‘ محض ایک لفظ تھا، ایک عقیدہ، کوئی ایسا جسے میں جانتی تھی کہ وجود رکھتا تھا، لیکن اِس کے باوجود انتہائی دور تھا [مجھ سے انتہائی دور تھا]۔ مسیح پر [بھروسہ] کرنے کے بجائے، میں نجات کے ایک احساس کو ڈھونڈ رہی تھی یا اپنے ایمان کو [ثابت کرنے] کے لیے کسی قسم کے ’’تجربے کو ڈھونڈ رہی تھی۔

ہمارے گرجہ گھر میں ایک نوجوان شخص نے اپنے گناہ کی سزایابی کو کچھ یوں بیان کیا،

پاک روح میرے دِل پر مذید اور گہرائی اور سختی کے ساتھ دباؤ ڈالتا ہوا لگتا تھا۔ میں اُس کے خلاف مذید اور بحث نہیں کر سکتا تھا… میں جانتا تھا کہ گنہگاروں میں بدترین اور غلیظ ترین تھا، مگر میں خود کو یسوع کی اُس کے پاس آنے کے لیے بُلاہٹ کے حوالے نہیں کر پاؤں گا۔ میں اپنے آپ سے اِس قدر تھک گیا تھا۔ میں اپنی زندگی سے اِس قدر زیادہ اُکتا چکا تھا، جو کچھ میں تھا اُس کے بارے میں، جو کچھ میں بن چکا تھا اُس کے بارے میں … میں رونے سے باز نہیں رہ پایا… میں خود ایک بیماری تھا۔ میں نے خُدا کی نظر میں ناپاک اور بدکار محسوس کیا۔

دوسرے لفظوں میں، اِس نوجوان خاتون اور اِس نوجوان شخص نے رسول کی مانند محسوس کیا جب اُس نے کہا،

’’ہائے! میں کیسا بد بخت آدمی ہُوں! اِس مُوت کے بدن سے مجھے کون چھُڑائے گا؟‘‘ (رومیوں 7:24).

اُنہوں نے جیمس پروکٹرJames Procter (1913) کی مانند محسوس کیا تھا جب اُس نے کہا،

میری روح رات ہے اور میرا دِل سخت لوہا ہے –
   میں دیکھ نہیں سکتا، میں محسوس نہیں کر سکتا؛
نور کے لیے، زندگی کے لیے، مجھے التجا کرنی چاہیے
   سادہ سے ایمان میں یسوع سے!
(’’یسوع میں In Jesus‘‘ شاعر جیمس پروکٹر James Procter، 1913)۔

ہمارے گرجہ گھر میں ایک اور نوجوان خاتون نے کہا،

منادی کے ذریعے سے اور تفتیشی کمرے سے، میں نے اپنے گناہوں کے بارے میں بدترین محسوس کیا۔ میں نے اُن سے نفرت کی، میں نے غلیظ، بدکار، بےکار محسوس کیا… اور کہ مجھ میں کچھ بھی اچھا نہیں تھا… میں نے قصوروار محسوس کیا کیونکہ میں خُدا کو خوش کرنا بھول چکا تھا۔ جوں جوں میں زیادہ منادی کو سُنتا جاتا میں خود کو اپنے گناہوں میں زیادہ اور زیادہ مردہ محسوس کرتا اور جہنم میرے لیے حقیقی بن گئی تھی۔ اپنے گناہوں کی وجہ سے میں جانتا تھا کہ میں جہنم کا مستحق ہوں۔ [مگر] میں نے ایک کے بعد دوسری جھوٹی تبدیلی کی۔ ڈاکٹر ہائیمرز اور ڈاکٹر کیگن جانتے تھے کہ میں ایک احساس کی تلاش میں تھا۔ جب مجھے یسوع کے پاس آنے کے لیے کہا جاتا تومیں نہیں جا پاتا…

میں بے کار ہزاروں طرح سے کوشش کر چکا ہوں
   اپنے خدشوں کوکُچلنے کے لیے، اپنی اُمیدوں کو بڑھانے کے لیے؛
لیکن جس کی مجھے ضرورت تھی، بائبل کہتی ہے،
   وہ ہمیشہ سے صرف یسوع ہی ہے۔

’’ہائے! میں کیسا بد بخت آدمی ہُوں! اِس مُوت کے بدن سے مجھے کون چھُڑائے گا؟‘‘ (رومیوں 7:24).

یہاں ایک اور ہے، ہمارے گرجہ گھر میں ایک اور نوجوان خاتون کی جانب سے۔

آخرکار اُس اِتوار کو میں نے بیمار سا محسوس کیا، جسمانی طور پر نہیں، بلکہ اپنے گناہوں کے بارے میں۔ میں نے اِس قدر شرمندہ اور قصور وار محسوس کیا۔ میں فرش پر گر جانا اور آنسوؤں میں بکھر جانا چاہتی تھی۔ اُس اِتوار کو میں تفتیشی کمرے میں گئی اور یہاں تک کہ ڈاکٹر کیگن اور خصوصی طور پر ڈاکٹر ہائیمرز کو اپنا چہرہ تک دیکھانے میں شرمندگی محسوس کی۔ میں رو رہی تھی اور چپ نہیں ہو پا رہی تھی۔ میں نے خود سے اِس قدر کراہت محسوس کی… تب ڈاکٹر ہائیمرز نے مجھے یسوع کا خوبصورت چہرہ دکھایا، جو اُس کے خون سے تر تھا۔ اُس کے بارے میں سوچتے ہوئے میں اب بھی پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوں۔ میں کبھی بھی اُس چہرے کو بُھلا نہیں پاؤں گی، اُس کا چہرہ جو نہایت محبت کے ساتھ میرے لیے مرا۔ میں اپنی اذیت کو ختم کرنا چاہتی تھی۔ تب ڈاکٹر کیگن نے مجھ سے پوچھا، ’’کیا تم یسوع کے پاس آؤ گی؟‘‘ میں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ سے جواب دیا، ’’میں اُس کے پاس جاؤں گی! میں اُس کے پاس جاؤں گی!‘‘ میں نے خود کو اُس دِن یسوع پر ڈال دیا۔ میں نے خود کو اُس کے حوالے کر دیا… یسوع نے مکمل طور پر مجھے گلے سے لگا لیا اور [اپنے خون کے ساتھ] میرے گناہوں کو دھو ڈالا۔

جوزف ہارٹ بالکل ٹھیک طور پر جانتے ہیں اُس نے کیا محسوس کیا، کیونکہ کئی سالوں تک یسوع کو مسترد کرنے کے بعد اُن کا بھی یہی تجربہ ہوا تھا۔ اُنہوں نے کہا،

آؤ، اے گنہگارو، غریب اور خستہ حال، کمزور اور زخمی، بیمار اور دُکھی؛
   یسوع تمہیں بچانے کے لیے تیار کھڑا ہے، ہمدرردی، محبت اور قوت سے بھرپور:
وہ لائق ہے، وہ لائق ہے، وہ رضامند ہے، مذید اور شک مت کرو۔
   وہ رضامند ہے، وہ رضامند ہے، وہ رضامند ہے، مذید اور شک مت کرو۔

خُداوندا! میں آ رہا ہوں، میں ابھی تیرے پاس آ رہا ہوں!
مجھے دُھو ڈال، مجھے خون میں پاک صاف کر ڈال جو کلوری پر بہا تھا۔

حالانکہ کچھ کو حقارت بھرے انداز میں بولنا چاہیے، اور کچھ کو الزام لگانا چاہیے،
   میں اپنے تمام قصور اور شرمندگی کے ساتھ جاؤں گا،
میں اُس کے پاس جاؤں گا کیونکہ اُس کا نام،
   تمام ناموں سے بالا تر، یسوع ہے۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔