Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


بُرائی – دیوانگی – اور موت

EVIL – MADNESS – AND DEATH
(Urdu)

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتے کی شام، 21 جون، 2014

’’بنی آدم کے دِل بدی سے اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں اور اُس کے بعد وہ مُردوں میں جا ملتے ہیں‘‘ (واعظ 9: 3)۔

واعظ کا یہ حوالہ ہمیں بتاتا ہے کہ اچھی اور بری باتیں نیک اور بد دونوں [قسم کے] لوگوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ یہ موت کی حقیقت کے باوجود زندگی سے لطف اندوز ہونے کے لیے بھی کہتا ہے۔ لیکن اب ہم براہ راست تلاوت کی طرف چلتے ہیں۔

I۔ پہلی بات، ’’بنی آدم کے دل برائی سے بھرے ہوئے ہیں۔‘‘

مبصر چارلس برجزCharles Bridges (1794۔1869) نے اس بات کی ایک بہت واضح تصویر پیش کی کہ جو ہمیں نسل انسانی کے دل کے بارے میں بتاتی ہے۔

دل کو برائی سے تعبیر کیا گیا ہے – ہاں، برائی سے بھرا ہوا – برائی کی عادت – جان بوجھ کر – بغیر ملاوٹ کے – یہاں تک کہ چشمے کے پُوٹھنے کی جگہ سے – آئینے کے سامنے کھڑے ہو جائیں! اپنے نفس پر یقین کرنا کتنا مشکل ہے جیسا کہ یہاں بیان کیا گیا ہے! اور پھر بھی، جب خُدا کی روح کی گہری تعلیم کے تحت، کوئی اقرار کو کیسے رد کر سکتا ہے – ’’دیکھو! میں گھٹیا ہوں،‘‘ (ایوب 1: 4) ... اس میں کوئی مبالغہ یا غلطی نہیں ہو سکتی۔ یہ خدا ہے – دل کا عظیم تلاش کرنے والا – وہی جو اسے جانتا ہے – یہ وہی ہے جو لکھتا ہے، اور تصویر کھینچتا ہے۔ – نا جی، وہ برائی کی وسعتوں کی فہرست دیتا ہے – دل سے نکلنا – جسم کے ہر عضو کو ناپاک کرتا ہے – روح کے ہر گوشے کو – نہ ہی وہ تصویر کسی خاص زمانے یا قوم تک محدود ہے۔ یہ بنی نوع انسان کا دل ہے – انسان کے ہر بچے کی اپنی فطری غیر تبدیل شدہ حالت کی تاریخ۔ تمام لوگ ایک ہی قید میں بند ہیں – گناہ کے اندھے اسیر! کیا انسان کی اس سے زیادہ ذلت آمیز تصویر ہو سکتی ہے؟ (چارلس بریجز، ایم۔ اے، Charles Bridges, M.A.، واعظ Ecclesiastes، دی بینر اور ٹرُتھ ٹرسٹ، 1998 ایڈیشن، صفحہ 214)۔

درحقیقت، بائبل میں بہت سی دوسری آیات اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ [مسیح میں ایمان نہ لائے ہوئے] غیر تبدیل شدہ مرد اور عورتیں اس ہی حالت میں ہیں، کیونکہ ’’بنی آدم کا دل برائی سے بھرا ہوا ہے۔‘‘ یرمیاہ نے کہا، ’’دل ہر چیز سے بڑھ کر دھوکے باز اور سخت شریر ہے‘‘ (یرمیاہ 17: 9)۔ خُداوند یسوع مسیح نے کہا، ’’کیونکہ دل سے بُرے خیالات نکلتے ہیں‘‘ (متی 15: 19)۔

جارج وائٹ فیلڈ (1714-1770) انگریزی زبان میں اب تک کے سب سے بڑے مبشر تھے۔ بلی گراہم نے ہمارے گرجا گھروں کے لیے کوئی اچھا کام نہیں کیا! بلی گراہم نے صرف چند گمراہ ہوئے لوگوں کو ہمارے گرجا گھروں میں بھیجا۔ لیکن جارج وائٹ فیلڈ کی منادی نے پہلی عظیم بیداری کا آغاز کیا، اور گرجا گھروں کو حقیقی معنوں میں تبدیل ہونے والے ہزاروں لوگوں سے بھر دیا! میں وائٹ فیلڈ کو اُن کے واعظ سے بیان کر رہا ہوں، ’’دنیا کو قائل کرنے والا روح القدس۔‘‘ اس نے کہا

     یہ ہمیشہ روح القدس ہی ہوتا ہے جو باطنی روحانی پریشانی لاتا ہے، یعنی آپ کے دل میں ناامیدی اور پریشانی کا احساس۔
     عام طور پر وہ آپ کو کسی بڑے گناہ کا مجرم ٹھہراتا ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جسے روح القدس عام طور پر گنہگاروں کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ وہ پہلے انہیں کسی خوفناک گناہ کے بارے میں قائل کرتا ہے، اور پھر ان کے تمام گناہوں کو یاد کراتا ہے۔ کیا آپ کے گناہ کبھی آپ کے سامنے اس طرح ظاہر ہوئے؟ اگر نہیں، تو آپ کو کبھی بھی سزایابی کے تحت نہیں لایا گیا یا آپ کو مسیح میں ایمان دِلا کر تبدیل نہیں کیا گیا! آپ ابھی تک گمراہ یا کھوئے ہوئے ہیں!
     میرے دوست، کیا آپ نے کبھی اپنے گنہگار دل کے بارے میں [مجرم ٹھہرائے جانے یا] سزایابی کا تجربہ کیا ہے؟ کیا آپ کو کبھی یہ محسوس ہوا کہ آپ میں کوئی بات اچھی نہیں ہے؟ کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ آپ فطرتاً گنہگار ہیں؟ کیا یہ گناہ آپ کو کبھی بھیانک محسوس ہوئے؟ اگر نہیں، تو آپ اب بھی گمراہ یا کھوئے ہوئے ہیں۔ آپ کبھی تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ آپ کو کبھی بیدار یا مجرم نہیں ٹھہرایا گیا۔ آپ ابھی تک گمراہ یا کھوئے ہوئے ہیں۔

ہمارے گرجا گھر میں ایک چینی لڑکے کو یہ تجربہ ہوا۔ اُس نے کہا،

     میں اچانک گناہ کی بہت بھاری سزایابی کے تحت آ گیا۔ وہ آیت، ’’میرے گناہ ہمیشہ میرے سامنے ہیں،‘‘ میرے لیے بہت زیادہ حقیقی تھی۔ میرے ذہن میں بس یہی تھا کہ میں نے ایک مقدس خُدا کے خلاف کیسے گناہ کیا تھا۔ میں نے جو کچھ کیا وہ اس کی نظر میں غلیظ چیتھڑوں کی طرح تھا۔ میری اپنے گناہوں پر سزایابی کی مقدار تقریباً لبریز ہو چکی تھی۔ اپنے گناہوں کے علاوہ اور کچھ سوچنا مشکل تھا۔ میری سزایابی اِس قدر شدید تھی کہ میں صرف ایک ہی بات کے بارے میں سوچ سکتا تھا کہ مجھے میرے اپنے ہی گناہوں سے نجات دلائی جانی چاہیے تھی۔

ایک دوسرے چینی لڑکے نے کہا،

اُس ہی وقت سے میں جانتا تھا کہ میرے ساتھ کچھ غلط تھا۔ میں جانتا تھا کہ میں ایک بدچلن گنہگار تھا۔ میں نے کتنی ہی کوشش کی پھر بھی میں خود کو نہیں بدل سکا۔ بہت سے واعظ سننے کے بعد، آخرکار میں نے محسوس کیا کہ میں ایک برگشتہ گنہگار تھا۔ میرے گناہ مجھ پر اتنے واضح تھے کہ مجھے لگا جیسے میں ہی وہ شخص ہوں جس نے یسوع کو مارا تھا۔ یسوع کی صلیب کے سامنے گھٹنے ٹیک کر روتے ہوئے، میں پھر بھی اس کے پاس نہیں آؤں گا۔ اکثر میں نے محسوس کیا کہ میں ناامید ہوں، کہ شاید میں خدا کے چنے ہوئے لوگوں میں سے نہیں ہوں۔

کیا آپ اس طرح گناہ کی سزایابی کے تحت رہے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ کا دل گنہگار اور خُدا کے لیے مردہ تھا؟ کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ میں کوئی امید نہیں تھی؟ جیسا کہ وائٹ فیلڈ نے کہا، ’’اگر نہیں، تو آپ اب بھی کھوئے ہوئے ہیں۔‘‘ آپ مسیحی نہیں ہیں۔

’’بنی آدم کے دِل بدی سے اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں اور اُس کے بعد وہ مُردوں میں جا ملتے ہیں‘‘ (واعظ 9: 3)۔

II۔ دوسری بات، ’’جب تک وہ زندہ رہتے ہیں ان کے دل میں دیوانگی رہتی ہے۔‘‘

معتبر مبصر چارلس بریجز کو دوبارہ سنیں، جیسا کہ وہ تلاوت کے اس حصے پر بولتے ہیں، ’’اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں،‘‘

[انسان] جنون کی طرف دوڑتا ہے [پاگل پن] – ذمہ دار پاگل پن – گناہ کرنے کی رضامندی – اس سے پیار کرنے والا دل – گنہگار کو ایک لمحہ سوچنے دو۔ کیا خدا کے خلاف بغاوت کا ہر عمل پاگل پن نہیں ہے؟ کیونکہ ’’کس نے اپنے آپ کو خدا کے خلاف سخت کیا، اور کامیاب ہوا؟‘‘ (ایوب 9: 4)۔ آسمانی چیزوں کے بجائے اس کا دنیاوی چیزوں کا انتخاب اس کی سمجھ میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ پاگل ہے جو اپنا سونا پھینک دیتا ہے، اور موتیوں پر بھوسے کو ترجیح دیتا ہے۔ آپ ایک آدمی کو بدنصیب گمراہی اور غلط سوچ میں دیکھتے ہیں – چالبازی سے دھوکہ کھایا ہویا۔ – ’’ان کے دلوں میں دیوانگی کے سوا اور کیا ہے جو انہیں خود اپنی ہی تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے؟ انسان کی فطرت کس قدر بدتر دیوانگی کی صلاحیت رکھتی ہے؟ خدا سے بھاگنا – رحمت سے بھاگنا – آسمان سے بھاگنا – شیطان کی خدمت کرنا – خدا کی لعنت کے تحت زندگی گزارنا، اور ابدی لعنت کے کنارے زندگی گزارنا۔ اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں۔ وہ آخر تک اسی راستے پر چلتے رہتے ہیں۔

سنو وہ پاگل پن، روحانی پاگل پن، جو ہمارے کچھ لوگوں کو نجات دلائے جانے سے پہلے تھا۔ ہمارے ایک نوجوان نے کہا،

میں مسیح کے خلاف کشتی لڑتا رہا، اپنے عزائم، لالچ اور گناہوں میں جاری رہنا چاہتا تھا۔ [میں جانتا تھا] میرے تمام عزائم غلط تھے [ابھی تک] میں نے بار بار مسیح سے منہ موڑا تھا۔ میں خالی پن میں چلا گیا، اب بھی اپنی آزادی اور بغاوت سے چمٹا ہوا، مسیح کے بغیر، نجات کے بغیر، اپنی زندگی میں کسی حقیقی امید کے بغیر۔

پاگل پن! اگر دل میں دیوانگی نہیں ہے تو وہ کیا ہے؟ ایک اور شخص نے کہا،

یسوع پر یقین کرنے کے بجائے، میں احساسات اور یقین دہانی کی تلاش میں رہا۔ میں بار بار یہی کرتا رہا۔

کیا وہ پاگل پن نہیں ہے؟ ایک اور بندے نے کہا،

جیسے ہی میں ڈاکٹر ہائیمرز کی تبلیغ کو سنتا تھا، میرا دماغ دھندلا جاتا تھا اور میں ہمیشہ کچھ اور سوچتا رہتا تھا۔

پاگل پن! روحانی دیوانگی! پھر بھی دوبارہ وہ کہتا،

جب میں تفتیشی کمرے میں آتا، تو میں واعظ کو یاد کرتے ہوئے کچھ کہنے کے بارے میں سوچنے کی کوشش کرتا، اور کچھ الفاظ کہتا... میں اپنے گناہوں کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتا تھا، بلکہ کسی اور کے گناہوں، یا کسی اور کی تبدیلی کے بارے میں سوچنا چاہتا تھا [تاکہ میں اسے نقل کر سکوں]۔

مذید پاگل پن! دل میں مذید دیوانگی! پھر ایک نے کہا،

میں نے اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوشش کی۔ یہ یسوع کے پاس نہ آنے کا میرا بہانہ تھا۔

’’دیوانگی ان کے دل میں رہتی ہے‘‘! ایک نوجوان عورت نے کہا،

مسیح کے لیے جدوجہد کرنے کے بجائے، میں اپنے ایمان کو ثابت کرنے کے لیے نجات کے احساس، یا کسی قسم کے ’’تجربے‘‘ کی تلاش میں تھا۔ آپ کو یہ احساس، اور وہ تجربہ ہے اور پھر آپ ’’بچائے گئے‘‘ ہیں۔ میں یہ بار بار کرتا رہا، حالانکہ مشیروں نے مجھے بتایا کہ یہ کبھی کام نہیں کرے گا۔

دل میں مذید پاگل پن!

کیا آپ کو کبھی ایسے دیوانے خیالات آئے ہیں؟ پھر، میں آپ سے پوچھتا ہوں، کیا انہوں نے آپ کی مدد کی ہے؟ اور اگر انہوں نے آپ کی مدد نہیں کی ہے تو کیوں بار بار ایک ہی خیالات سوچتے رہتے ہیں؟ کیا ایسا کرنا پاگل پن نہیں ہے؟

’’بنی آدم کے دِل بدی سے اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں اور اُس کے بعد وہ مُردوں میں جا ملتے ہیں‘‘ (واعظ 9: 3)۔

III۔ تیسری بات، ’’اور اُس کے بعد وہ مُردوں سے جا ملتے ہیں۔‘‘

تبصرہ نگار بریجز نے کہا،

اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ خوفناک سوچ یہ ہے کہ وہ آخری دِن تک اسی طرح جاری رکھے رہتے ہیں۔ اس کے بعد وہ میت کے پاس جاتے ہیں۔ – افسوس! اُن مبارک مُردوں کے لیے نہیں جو خُداوند میں مرتے ہیں (مکاشفہ 14: 13)۔ یہ بیچارے خالی الذہن گنہگار جہنم میں ڈالے جاتے ہیں، مایوسی کے اندھیرے کے علاقے – ’’رونے اور دانت پیسنے‘‘ کی دنیا میں (متی 22: 13)۔ خیال یا تصور سے پرے خوفناک ہوتی ہے جہنم کی لافانیت۔ کیا بات ہے انجیل میں رحمت اور فضل کی کس قدر حیرت انگیز طاقت ہوتی ہے – جو ایک گنہگار کو ایسی ناامید بربادی سے چھپا سکتی ہے، اور اسے نجات میں لا سکتی ہے (گذشتی بات کے تسلسل میں ibid.، صفحہ 216)۔

بچنے کا واحد راستہ، آپ کے گناہوں کا کفارہ صلیب پر مسیح کی موت کے ذریعے ہے، اور مسیح کے خون سے آپ کے گناہوں کا دُھلنا یا صفائی ہے۔ ہمارے گرجا گھر میں ایک نوجوان نے کہا،

خوشخبری کی منادی مجھ پر واضح ہو گئی – کہ نجات خُداوند یسوع مسیح کی طرف سے ہے۔ میں یقین کرتا تھا کہ یسوع صلیب پر مرنے کے لیے آیا تھا تاکہ میرے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کر سکے۔ میں یسوع کے پاس ایک بدبخت گنہگار کے طور پر آیا تھا جس میں اپنے آپ میں کوئی امید نہیں تھی، لیکن میری امید اب یسوع مسیح میں تھی۔ میرے لیے سب سے اہم چیز یسوع کے پاس آنا اور میرے گناہوں کا اس کے خون سے دھل جانا تھا۔ میں نے اس کے خون پر بھروسہ کیا۔

’’مسیح یسوع: جسے خدا نے مقرر کیا کہ وہ اپنا خون بہائے اور انسان کے گناہ کا کفارہ بن جائے‘‘ (رومیوں 3: 24، 25)۔

ڈاکٹر جان سنگ کو سنیں جب وہ مسیح میں ایمان لانے کی اپنی تبدیلی کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ بعد میں وہ چین میں انجیلی بشارت کے سب توں اہم مبشر بن گئے۔ درج ذیل بتایا گیا ہے اُنہوں نے کیسے نجات پائی،

     ’’دنیا مکمل طور پر باطل اور زندگی صرف پریشانی اور مصائب لگ رہی تھی ... میرا دل شدید ناخوشی سے بھر گیا تھا۔‘‘
     اس رات وہ سو نہیں سکا کیونکہ وہ دنیاوی حکمت اور انسانی صلاحیت کے خالی پن کے بارے میں سوچتا تھا...لیکن ڈاکٹر سُنگ کے دل کو ابھی تک سکون نہیں ملا تھا۔ ڈاکٹر سُنگ نے کہا، ’’میری روح کا بھاری بوجھ اس وقت تک بھاری تھا جب تک میں اس مقام تک نہ پہنچ گیا جہاں مجھے جینے کی کوئی خواہش نہیں تھی۔‘‘
     پھر 10 فروری کی شام کو اس کی تاریک روح میں نور پھوٹ پڑا۔ اس نے اپنی زندگی کے تمام گناہوں کو اپنے سامنے پھیلتے دیکھا۔ پہلے تو ایسا لگتا تھا کہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے اور اسے جہنم میں جانا چاہیے۔ اس نے اپنے گناہوں کو بھلانے کی کوشش کی، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکا۔ اُنہوں نے اُس کے انتہائی دل کو چھید ڈالا۔ اس نے اپنی بائبل تلاش کی اور صلیب پر مسیح کی موت کی کہانی پڑھی۔ اپنے ذہن میں وہ صلیب کے سامنے کھڑا ہوا اور یسوع سے التجا کی کہ وہ قیمتی خون کے ذریعے اپنے تمام گناہوں سے دھل جائے۔ وہ روتا اور دعا کرتا رہا۔ پھر اچانک اس کے گناہ کا سارا بوجھ اس کے کندھوں سے گرتا ہوا نظر آیا۔ وہ ’’ھیلیلویاہ!‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے اپنے پیروں پر اُچھلا۔ یہ بھول کر کہ یہ آدھی رات تھی اور دوسرے سو رہے تھے، وہ ہاسٹل میں سونے کے بڑے کے کمروں میں چلا گیا، چیختا ہوا اور گناہ سے نجات کے لیے خُدا کی ستائش کرتا رہا!
     اب اس کی واحد خواہش مسیح کے لیے گواہی دینا تھی۔ اس نے ہر اُس شخص سے بات کرنا شروع کی جس سے وہ ملتا تھا، آنسوؤں کے ساتھ انہیں مسیح کے پاس آنے کی تاکید کرتا تھا۔ خوشی کے گیت اس کے منہ سے بھر گئے اور اس کے لبوں سے تعریفیں بہہ رہی تھیں۔ وہ ایک بدلی ہوئی شخصیت تھے۔ (لیسلی ٹی لائل Leslie T. Lyall، جان سُنگ John Sung، اوورسیز مشنری فیلوشپ، 1965 ایڈیشن، صفحہ 31-35 سے اخذ کردہ)۔

میں اس واعظ کا اختتام ہمارے گرجہ گھر کی ایک نوجوان عورت کے چند جملے اس رات کے حوالے سے کروں گا جس رات وہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئی تھی۔ اس نے کہا

     میں نے محسوس کیا کہ مسیح مجھ سے بات کر رہا ہے، مجھے اپنے پاس آنے کے لیے بلا رہا ہے۔ اس رات ڈاکٹر ہائیمرز نے خداوند کے فریب کرنے کے لیے گمراہ ہوئے لوگوں کی سختی سے سرزنش کی۔ میں خوف سے کانپتے ہوئے اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔ میں جانتا تھا کہ وہ تو میں ہی ہوں۔ ایک بگڑے ہوئے بچے کی طرح میں نے خُدا کی محبت اور رحم کی تحقیر کی تھی اور حقارت زدہ جانا تھا، اور سب سے بُری بات، میں نے اُس کے بیٹے، یسوع کو ٹھکرا دیا تھا۔ پھر ڈاکٹر ہائیمرز نے خدا کی محبت کے بارے میں بات کی۔ جیسے ہی اُس [یسوع] نے بات کی تو میں نے محسوس کیا کہ مصائب، زندگی کی ناامیدی، دنیا کا ٹھنڈا خالی پن، گناہ کا کچلتا ہوا وزن – یہ سب کچھ اس لیے تھا کہ خُدا مجھ سے پیار کرتا تھا اور یسوع کے لیے میری ضرورت کو دیکھنے کے لیے مجھے عاجز کر رہا تھا۔ میں تفتیشی کمرے میں گیا اور میرے سامنے گناہ کی ایک دیوار اٹھتی دکھائی دی، وہ بھیانک گناہ جو میں نے کیے، میرے دل کی شرارت اور کالا پن، میرے دماغ کے بُرے خیالات، اور یسوع کو مسلسل ٹھکرانے کا عمل۔
     میرا گناہ ایک اتھاہ سمندر کی طرح تھا۔ میں اسے مزید برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔ میرے پاس مسیح ہونا ہی چاہیے تھا! مجھے اُس کا خون اپنا لینا ہی چاہیے تھا! میں اپنے گھٹنوں کے بل گِر گیا اور یسوع، بخود پر بھروسہ کیا۔ خدا نے مجھے احساس، نفسیاتی تجزیہ اور یقین دہانی کی خواہش کے بتوں سے آزاد کیا۔ خدا کے فضل سے میں نے انہیں جانے دیا اور انتظار کرتے ہوئے نجات دہندہ کے سامنے ہار مان لی۔ بزدلانہ خوف میں یسوع سے پیچھے ہٹنے کے بجائے، ایک اور جھوٹی تبدیلی سے ڈرنے، یا غلطی کرنے، یا اپنے جذبات کی جانچ کرنے، اپنے اندر جھانکنے، اندھیرے میں ٹٹولنے کے بجائے، جیسا کہ میں نے ہمیشہ پہلے کیا تھا، میں نے مسیح کی طرف ایمان کے ساتھ دیکھا۔ وہ وہاں تھا! زندہ مسیح! اس نے مجھے نجات دلائی۔ اس نے اپنے قیمتی خون سے میرے گناہوں کو دھویا۔ اس نے [میرے] گناہ کا بھاری بوجھ اُٹھا لیا!
     یسوع نے خُدا کے قہروغضب کو جذب کیا جو مجھ پر نازل ہونا چاہیے تھا۔ اس نے مجھے معاف کر دیا اور میرے تمام گناہوں کو معاف کر دیا۔ میرے ریکارڈ پر اُس [یسوع] کے اپنے خون کے ساتھ ’’مجرم نہیں‘‘ کی مہر لگائی گئی تھی...اب جب میں یسوع کے بارے میں واعظ سنتا ہوں تو میرا دل خوشی اور شکرگزاری سے پھول جاتا ہے۔ میں پولوس رسول کے ساتھ صرف یہ کہہ سکتا ہوں، ’’خدا کا اُس کے ناقابل بیان تحفے کے لیے شکر ہے‘‘ (II کرنتھیوں 9: 15)۔

یہ تمام شہادتیں، سوائے ڈاکٹر جان سُنگ کے، ہمارے اپنے گرجہ گھر کے نوجوانوں کی طرف سے تھیں۔ وہ سب، بشمول ڈاکٹر سُنگ، آپ کو بتائیں گی کہ ان کے دل برائی سے بھرے ہوئے تھے، اور جنون ان کے دلوں میں تھا – جب تک کہ خُدا نے اُنہیں شدت سے گناہ کی سزا نہیں دی تھی – جب تک کہ وہ اپنے گناہ کو مزید برداشت نہیں کر سکتے تھے – اور تب ہی وہ روح القدس کے ذریعے یسوع کی طرف کھینچے گئے تھے۔

کیا آپ نے گناہ کی ایسی کسی سزا کو محسوس کیا ہے جو اُنہوں نے محسوس کی تھی؟ کیا آپ اپنے ہی گناہ کے خوفناک بادل کے تحت رہنے سے تھک گئے ہیں؟ پھر ابھی تفتیشی کمرے میں جائیں اور یسوع پر بھروسہ کریں۔ کیا چیز آپ کے گناہ کو دھو سکتی ہے؟ یسوع کے خون کے سوا کچھ نہیں! آمین۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

بُرائی – دیوانگی – اور موت

EVIL – MADNESS – AND DEATH

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’بنی آدم کے دِل بدی سے اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں اور اُس کے بعد وہ مُردوں میں جا ملتے ہیں‘‘ (واعظ 9: 3)۔

I.    پہلی بات، ’’بنی آدم کے دل برائی سے بھرے ہوئے ہیں،‘‘ واعظ 9: 3الف؛
ایوب 40: 4؛ یرمیاہ 17: 9؛ متی 15: 19۔

II.   دوسری بات، ’’جب تک وہ زندہ رہتے ہیں ان کے دل میں دیوانگی رہتی ہے‘‘، واعظ 9: 3ب ایوب 9: 4۔

III.  تیسری بات، ’’اور اس کے بعد وہ مُردوں میں جا ملتے ہیں،‘‘ واعظ 9: 3ج؛
مکاشفہ 14: 13؛ متی 22: 13؛ رومیوں 3: 24، 25؛
II کرنتھیوں 9: 15۔