Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

ضرورت ہے – لڑنے والے لوگوں کی

(یومِ والد پر ایک واعظ)
!NEEDED – FIGHTING MEN
(A FATHER’S DAY SERMON)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 15 جون، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, June 15, 2014

’’اب پاک رُوح صاف طور پر فرماتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں بعض لوگ مسیحی ایمان سے مُنہ موڑ کر گُمراہ کرنے والی رُوحوں اور شیاطین کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہونے لگیں گے۔ یہ باتیں جھوٹے آدمیوں کی ریاکاری کے باعث ہوں گی جن کا دل گرم لوہے سے داغا گیا ہے‘‘ (1۔ تیموتاؤس 4:1۔2).

آج یومِ والد ہے۔ مجھ سے توقع کی جا رہی ہے کہ میں ایک اچھا باپ ہونے کے بارے میں کچھ منادی کروں۔ مگر میں محسوس نہیں کرتا کہ خُدا مجھ سے چاہتا ہے کہ یہ کروں۔ اگر میں آپ کو بتاتا کہ ایک اچھا باپ ہونے کے لیے کیا کرنا ہوتا ہے تو آپ غالباً پھر بھی اِس میں سے زیادہ کچھ نہ جان پاتے۔ زیادہ تر یومِ والد پر واعظ صرف اخلاقیات پر تھوڑی بہت بات چیت ہوتے ہیں۔ مسٹر ڈیوڈ میورو Mr. David Murrow نے کیوں لوگ گرجہ گھر جانے سے نفرت کرتے ہیں Why Men Hate Going to Church نامی ایک کتاب لکھی ہے (ڈیوڈ میورو David Murrow، تھامس نیلسن پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، 2004)۔ میرے خیال میں ہر مبلغ کو اِسے ضرور پڑھنا چاہیے۔ باتوں میں سے ایک جو لوگوں کو گرجہ گھر جانے سے نفرت کراتی ہے، بمطابق میورو، چھوٹے چھوٹے اخلاقی واعظ ہیں، جو اُنہیں اچھا بچہ ہونے کے لیے کہتے ہیں – الفاظ اتنے اثر کے لیے۔ لوگ اچھا بننے کے بارے میں لیکچر سُننا پسند نہیں کرتے۔ اُن کی ماؤں نے اُن کے سارے بچپن میں یہی کیا تھا – اور وہ اِس کو بُھلا دینا سیکھ چکے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اُن کی مائیں ایسا کچھ کرنے پر غلطی پر تھیں۔ یہ ماؤں کا اپنے بیٹوں کو تعلیم دینے کا قدرتی طریقہ ہے۔ مگر ایک بالغ مرد اِس طریقے سے نہیں سیکھتا۔ ایک آدمی زیادہ بہتر طور پر دوسرے آدمی کی مثال کی تقلید کرنےسے سیکھتا ہے۔ اگر لوگ مسیح کی پیروی کر رہے ہیں، تو میں نے پایا ہے کہ وہ زندگی کی تفصیلات پر زیادہ دیر تک غلطی پر نہیں رہتے۔ اِس لیے میں یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ وہ بچائے گئے ہیں اور اُس کی پیروی کر رہے ہیں۔ مسٹر میورو نے کہا کہ لوگ للکارا جانا پسند کرتے ہیں، فوج میں بھرتی ہونا چاہتے ہیں، خُدا کے لیے بطور صلیب کے سپاہی لڑنا چاہتے ہیں! میرے خیال میں مسٹر میورو بالکل درست تھے! یہی ہے جس کی میں منادی کرتا ہوں، اور اِس ہی وجہ سے ہمارے پاس گرجہ گھر میں لوگ بھرے ہوئے ہیں، وہ لوگ جو ’’ایمان کی اچھی کُشتی لڑنے [اور] دائمی زندگی پر قبضہ کرنے‘‘ کے لیے مشتاق ہیں (1تیموتاؤس6:12)۔ ہمارے گرجہ گھروں میں ایسے لوگوں کی آج سے زیادہ کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔ ہم ایک جنگ میں ہیں – اور ہمیں لڑنے والے لوگوں کی ضرورت ہے – لوگ جو خُدا کے لیے لڑنے سے خوفزدہ نہیں ہیں اور ہمارے شیطانوں کے قابو میں آئے ہوئے اِس مُلک میں اِس تباہ حال شہر میں کیا دُرست ہے اُس کے لیے لڑنے سے خوفزدہ نہیں ہیں!

بدقسمتی سے بہت سے گرجہ گھر کے لوگ تو جانتے تک نہیں ہیں کہ ہم جنگ میں ہیں! اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ دشمن کون ہے! زیادہ تر پادری اُنہیں کبھی بتاتے ہی نہیں ہیں! میں آج کی صبح یہ کرنے جا رہا ہوں! تو لیجیے چلیں! تلاوت کو دوبارہ سُنیں،

’’اب پاک رُوح صاف طور پر فرماتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں بعض لوگ مسیحی ایمان سے مُنہ موڑ کر گُمراہ کرنے والی رُوحوں اور شیاطین کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہونے لگیں گے۔ یہ باتیں جھوٹے آدمیوں کی ریاکاری کے باعث ہوں گی جن کا دل گرم لوہے سے داغا گیا ہے‘‘ (1۔ تیموتاؤس 4:1۔2).

پولوس رسول یہاں پر ’’آنے والے دِنوں‘‘ کے بارے میں بات کرتا ہے۔ میں یقین کرتا ہوں کہ یہ ’’آخری ایام‘‘ کے لیے حوالہ ہے جس کے بارے میں 2تیموتاؤس3:1 میں بتایا گیا ہے۔ میں 55 سالوں سے بھی زیادہ عرصے سے بائبل کا مطالعۂ کر رہا ہوں، اور میں قائل ہو چکا ہوں کہ ہم بالکل ابھی وقت کے اُسی زمانے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہم ’’آنے والے دِنوں‘‘ ہی میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہم ’’آخری ایام‘‘ ہی میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں مسیح کی دوسری آمد اور اِس دُنیا کے خاتمے کےنزدیک زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور ہم اُس وقت میں زندگی بسر کر رہے ہیں جب ساری کی ساری جہنم اُمڈتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ شیطان اور اُس کے چیلے ہماری سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں، ہمارے گھروں میں گھسے چلے آ رہے ہیں اور ہماری طرز زندگی کو تباہ کر رہے ہیں۔

یہاں تک کہ ریاست ہائے متحدہ کے صدر کو بھی سمجھ آتا دکھائی دے رہا ہے کہ کچھ نہ کچھ غلط ہے۔ گذشتہ بُدھ کو ہمارے ہاں ایک اور فائرنگ کا واقعہ ہوا۔ ایک 15 سالہ لڑکا اوریگان Oregon میں سکول کے لیے ایک بندوق کے ساتھ گیا اور فائر کھول دیا۔ مُبینہ طور پر خود کو گولی مارنے سے پہلے، اُس نے ایک دوسرے لڑکے کو گولی مار کر قتل کر دیا، اور ایک اُستاد کو زخمی کر دیا، صدر اُوباما نے کہا،

یہ اب ہفتے میں ایک مرتبہ ہوتا ہے۔ ہمارا بندوق کےساتھ تشّدد کے پیمانے کا چارٹ حد سے گزر گیا ہے… ریاست ہائے متحدہ کی دیوانے لوگوں پر کوئی اجارہ داری نہیں ہوتی ہے… اِس کے باوجود ہم بہت بڑی تعداد میں ایک دوسرے کو گولیوں سے قتل کر رہے ہیں جو کہ کسی دوسری جگہ کے مقابلے میں [انتہائی زیادہ] ہے (باراک اُوباما Barack Obama، دی لاس اینجلز ٹائمز The Los Angeles Times، بُدھ، 11جون، 2014)۔

بِلا شُبہ اُوباما کا جواب بندوقوں سے چھٹکارہ پانا ہے۔ مگر میں اتفاق نہیں کرتا۔ وہ ہمارے مُلک میں ہر بندوق سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں، مگر ظلم و ستم ایسے ہی جاری رہے گا۔ چند ایک ہفتے پیشتر ایک لڑکے نے شکاری چاقو لیا اور 20 طالب علموں کو اپنے ہی سکول میں ذبح کر ڈالا۔ اگر وہ شکاری چاقوؤں سے چھٹکارہ پاتے ہیں، تو وہ ایک دوسرے کو پتھروں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں سے قتل کریں گے – یا دوسروں کو آگ میں جلا ڈالیں گے جیسا کہ اُنہوں نے یہاں لاس اینجلز میں کچھ عرصہ قبل کیا تھا۔ بندوقوں کی دریافت سے انتہائی پہلے قائِن نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا!

میرے خیال میں اِس میں بندوقوں سے زیادہ کچھ ہے۔ میں مکمل طور پر قائل ہوں کہ شیطان اور اُس کی آسیبی قوتیں اِس دیوانگی اور تشّدد کے پیچھے ہیں۔ اور یہیں پر ہے جہاں ہم ایسے ہی خُدا کا تحفظ کھو دیتے ہیں اور ظلم و ستم کا آغاز ہوتا ہے۔ ہم خُدا کے تحفظ کو کھونا شروع کر چکے تھے جب عدالت عالیہ [سپریم کورٹ] نے کہا کہ نیویارک میں طالب علم سکول میں اب مذید اور سادہ سی دعا بھی نہیں کر سکتے۔ 1962 میں کورٹ نے کہا کہ یہ کہنا طالب علموں کے لیے خلافِ قانون تھا،

اے قادرِمطلق خُدا ہم تجھ ہی پر اپنے انحصار کا اظہار کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے اپنے لیے، اپنے والدین، اپنے اساتذہ اور اپنے مُلک کے لیے برکات کی التجا کرتے ہیں

پھر 1963 میں کورٹ نے سکول کے ننھے بچوں کے لیے کھانے سے پہلے یہ دعا کہنے سے کالعدم قرار دے دیا،

ہم اِس قدر خوبصورت پھولوں کے لیے تیرا شکر ادا کرتے ہیں؛
ہم جو کھانا کھاتے ہیں اُس کے لیے تیرا شکر ادا کرتے ہیں؛
ہم اُن پرندوں کے لیے جو گاتے ہیں تیرا شکر ادا کرتے ہیں؛
ہم ہر بات کے لیے تیرا شکر ادا کرتے ہیں۔

اُس نظم میں تو یہاں تک کہ خُدا کا ذکر بھی نہیں ہے مگر کورٹ نے کہا کہ اِس سے شاید وہ خُدا کےبارے میں سوچنا شروع کر دیں! ایک اِختلاف رائے رکھنے والی منصف نے اتفاق نہیں کیا اور کہا، ’’یوں تو ہم عدالت سے ناصرف جو یہ بچے کہہ رہے ہیں اُسکی بلکہ جو بچے سوچ رہے ہیں… مانگ کر رہے ہیں جو کہ بنیاد رکھنے والے آباؤاِجداد کو حیرت میں مبتلا کر دے گا۔‘‘ اُسی سال، 1963 ہی میں کورٹ نے قانون جاری کیا کہ خود کی مرضی سے سکولوں میں بائبل کا مطالعہ قانون کے خلاف تھا۔ کورٹ کا انحصار ایک نفسیات دان پر تھا جس نے کہا کہ بائبل پڑھنے سے ’’ہو سکتا ہے اور نفسیاتی طور پر [بچوں] کے لیے نقصان دہ رہ چکا ہے۔‘‘ اِس کے بارے میں سوچیں! اُن نام نہاد نفسیات دان نے کہا کہ بائبل پڑھنی بچوں کے لیے ’’نفسیاتی طور پر نقصان دہ‘‘ ہو سکتی ہے! اور یہ 1962 اور 63 کو رونما ہوا تھا۔ اُسی خزاں میں خُدا نے اپنا تحفظ اُٹھا لیا اور صدر جان ایف کینیڈی کا واقعی میں ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں بھیجہ اُڑا دیا گیا۔ اُس کے بعد سے اب تک امریکہ ہچکولے کھاتا رہا اور ماریں کھاتا رہا اور ظلم و تششدد سے ٹکڑے ٹکڑے ہوتا رہا! اُس وقت سے لیکر ہر صدر کا انصاف ہوتا رہا۔ ماسوائے ایک صدر رونلڈ ریگن کے، ہر دوسرے صدر کو صدارت شرمندگی اور ناکامی کے ساتھ چھوڑنی پڑی۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ ہمارا مُلک جیسا کبھی ہوا کرتا تھا اب بہت مختلف ہے۔ اور ہمارے گرجہ بھر بھی مختلف ہیں۔ مگر بہت سے لوگ اِس بات کا احساس نہیں کرتے کہ اِس تضاد کا منبع شیطانی ہے۔ ڈاکٹر میرل ایف۔ اُونگر Dr. Merrill F. Unger، جو کہ کافی عرصہ سے ڈلاس کی علم الٰہیات کی سیمنری میں پروفیسر ہیں اُنہوں نےکہا،

ایک خطرناک حد تک بیسویں صدی کے اقراری گرجہ گھر بُری مافوق الفطرت قوتوں کی وجودیت کو ماننے سے انکار کرتے رہے ہیں۔ بے اعتقادی کی اِس حالت کو گرجہ گھر میں صرف نچلے درجے کی روحانی زندگی اور قوت کے ساتھ منسوب کیا جا سکتا ہے… کلام پاک میں پیش کیے گئے مکاشفے کے مطابق ہوا کی قوت کے شہزادے [شیطان] کے ذریعے سے اندھے کیے گئے (میرل ایف۔ اُونگر، ٹی ایچ۔ ڈی۔، پی ایچ۔ ڈی۔ Merrill F. Unger, Th.D., Ph.D.، بائبلی آسیبیت Biblical Demonology، کریگل اشاعت خانے Kregel Publications، 1994، صفحہ 201)۔

ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونزDr. Martyn Lloyd-Jones انگلستان کے شہر لندن میں چھوٹے ویسٹ منسٹر گرجہ گھر کے کئی سالوں کے لیے پادری رہے تھے۔ اُنہیں بیسویں صدی کے انجیلی بشارت کے اعلٰی ترین مبلغین میں سے ایک منا جاتا ہے۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا،

شیطانی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ ٹھیک، میں کہوں گا کہ بنیادی طور پر یہ کمی ہوتی ہوئی روحانیت اور سارے مُلک کی بے دینی کی وجہ سے ہے… جوں جوں بے دینی بڑھتی ہے اور عوام کے ذہن میں خُدا کا تمام تصور غائب ہوتا جاتا ہے، تو آپ بُرائی کی قوتوں کی توضیحات میں اضافے کی توقع کریں گے (ڈی۔ مارٹن لائیڈ جونز، ایم۔ ڈی۔ D. Martyn Lloyd-Joes, M.D.، کلام پاک اور شفائیں Healing and the Scriptures، اولیور بیلسن بُکس Oliver-Belson Books، 1988، صفحات159۔160)۔

ڈاکٹر لائیڈ جونز نے یہ بھی کہا، ’’شیطان اپنی عیاری کے عروج پر ہوتا ہے جب وہ لوگوں کو قائل کر دیتا ہے کہ کوئی شیطان ہے ہی نہیں۔ [یوں] کلیسیا نشے اور جھانسے میں آ جاتی ہے؛ وہ سوئی ہوتی ہے اور بالکل بھی جنگ سے آگاہ نہیں ہوتی‘‘ (لائیڈ۔ جونز Lloyd-Jones، مسیحی فوجی مدبھیڑ The Christian Warfare، دی بنیر اور ٹرٹھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، 1976، صفحہ 106)۔

مگر ہمیں شیطان کے ذریعے سے ’’نشے میں اور جھانسے میں‘‘ نہیں آنا چاہیے۔ ہمیں باخبر ہونا چاہیے، لوتھر کے ساتھ کہ

… بےشک یہ دُنیا شیاطین سے بھر گئی ہے،
   جو ہمیں نقصان پہنچانے کی دھمکی دیتے ہیں،
ہم خوف نہیں کریں گے، کیونکہ خُدا کہہ چکا ہے
   کہ خُدا کی سچائی ہمارے ذریعے سے ظاہر ہوگی۔
(’’خُداوند ہمارا قوی قلعہ ہےA Mighty Fortress Is Our God ‘‘ شاعر مارٹن لوتھر
      Martin Luther، 1483۔1546)۔

ہم ایک تصادم میں ہیں، ایک جنگ، جو شیطان اور اُس کی آسیبی قوتوں کے ساتھ ہے۔

I۔ اوّل، یہ ایمان کے لیے ایک جنگ ہے جو کبھی مقدسین کو سونپی گئی تھی!

یہوداہ رسول نے کہا،

’’… تُم مسیحی ایمان کے لیے جو مُقدسوں کو ایک ہی بار سونپ دیا گیا ہے خُوب جانفشانی کرو‘‘ (یہوداہ 3).

لفظ ’’مزاحمت contend‘‘ کا مطلب ’’جِدوجہد کرنا‘‘ ہوتا ہے، ایمانداری کے ساتھ لڑنا ہوتا ہے (سٹرانگ Strong 1864)۔ ہم کلام پاک میں دیے گئے مسیحی ایمان کے اصولوں کا اعلان کرنے اور اُنہیں محفوظ کرنے کے لیے لڑائی کے لیے بُلائے گئے ہیں۔ ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell نے کہا، ’’وہ اصطلاح [مزاحمت contend] سب سے زیادہ شدید اور متعین انواع کے مسیحی ایمان کے بنیادی اصولوں [کے لیے] جنگ اور تصادم کے ساتھ منسوب ہے…‘‘

خود ڈاکٹر کرسویل نے ایک لمبی مدت تک اور شدت کے ساتھ بائبل کے بے خطا ہونے کے لیے لڑائی لڑی۔ اُن کے جانی مانی کتاب میں کیوں منادی کرتا ہوں کہ بائبل واقعی میں سچی ہے: ایک جوشیلی بُلاہٹ جو ہر مسیحی سے کلام پاک کو آسمان کے خُدا کی پھونکی ہوئی سچائی کے طور پر قبول کرنے کے لیے پوچھتی ہے Why I Preach That the Bible is Literally True: A Fervent Call that Asks Every Christian to Accept the Scriptures as the God-breathed Truth of Heaven (ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل، پی ایچ۔ ڈی۔ W. A. Criswell, Ph.D.، بروڈمین پریس Broadman Press، 1969)۔ 1970 اور 1980 کی دہائی میں ’’بائبل کے لیے جنگ‘‘ میں میرا تھوڑا سا حصہ تھا۔ ہمارا گرجہ گھر ماہانہ 600 ڈالر (جو اُس زمانے میں کوئی چھوٹی رقم نہیں تھی) ڈاکٹر بِل پوول Dr. Bill Powell کو اُن کو ’’مغربی بپتسمہ دینے والوں کا شمارہ Southern Baptist Journal‘‘ چھاپنے میں مدد دینے کے لیے دیا کرتا تھا – جو کہ چھے مغربی بپتسمہ دینے والوں کی سیمنریوں میں جھوٹی تعلیمات کا راز افشا کرتا تھا اور جس کو امریکہ میں ہر مغربی بپتسمہ دینے والے پادری کو پوسٹ کیا جاتا تھا۔ میری بیوی اور میں نے مغربی بپتسمہ دینے والوں کے اجتماعات کے بے شمار قومی اجلاسوں میں ڈاکٹر پوویل کے شمارے کو پھیلانے کے لیے شرکت کی۔ پٹسبرگ Pittsburgh کے اجتماع میں آزاد خیال اراکین نے اُس شمارے کو مڑورا اور میری بیوی کے منہ پر دے مارا، اور حقیقت میں اُن کے منہ پر تھوکا، حالانکہ وہ چند ماہ کے پیٹ سے تھیں، جو واضح دکھائی دیتا تھا! یہ ایمان کے لیے لڑنے کا ہمارا طریقہ تھا۔

اُس وقت سے لیکر، ہم نے رُکمین اِزم کی شیطانی تعلیمات اور شیطانی فلم ’’مسیح کی آخری آزمائش The Last Temptation of Christ‘‘ کے خلاف انتہائی شدت سے کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے گرجہ گھر نے، ساری ہماری کوششوں سے، لاس اینجلز کے علاقے میں تین اسقاط حمل کے کلینکوں کو بند کروایا۔

میں اب 73 سالوں کا ہوں۔ مگر خُداوند نے مجھے ایک آخری جنگ میں ملوث ہونے کے لیے بُلایا ہے – ’’فیصلہ سازیتDecisionism‘‘ کے خلاف جنگ – حقیقی تبدیلی کے لیے – کیونکہ ہمارے گرجہ گھر لاکھوں کی تعداد میں خفیہ طور پر غیرنجات یافتہ لوگوں سے بھرے پرے ہیں۔ ہم مسیح کے دائمی خون کی ضرورت اور مرکزیت کی واپسی کے لیے بھی لڑائی لڑ رہے ہیں، جو کہ پاک خُدا کی نظروں میں ہمارے گناہ کو پاک صاف کرنے کا واحد ذریعہ ہے!

ہم جانتے ہیں کہ اِن جھوٹی تعلیمات کا منبع شیطانی ہے، کیونکہ ہماری تلاوت کہتی ہے،

’’اب پاک رُوح صاف طور پر فرماتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں بعض لوگ مسیحی ایمان سے مُنہ موڑ کر گُمراہ کرنے والی رُوحوں اور شیاطین کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہونے لگیں گے۔ یہ باتیں جھوٹے آدمیوں کی ریاکاری کے باعث ہوں گی جن کا دل گرم لوہے سے داغا گیا ہے‘‘ (1۔ تیموتاؤس 4:1۔2).

میں آج صبح یہاں پر ہر شخص سے ہمارے ساتھ اُن ’’گمراہ کرنے والی روحوں‘‘ سے – جو خود میں آسیب ہیں – جو مسیحی ایمان کی عظیم تعلیمات کا دِل چیرنے کے لیے اپنی بہترین کوششیں کر رہے ہیں، اِس جنگ میں شامل ہونے کے لیے پوچھ رہا ہوں! آپ لوگ – آئیں اور ہماری مدد کریں!

بڑھتے چلو، مسیحی فوجیوں، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
   یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو:
مسیح جو شاہی حاکم ہے دشمن کے خلاف رہنمائی کرتا ہے؛
   جنگ میں اُس کے جھنڈے کو آگے بڑھتا ہوا دیکھو۔
بڑھتے چلو، مسیحی فوجیوں، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
   یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو۔
(’’بڑھتے چلو، مسیحی فوجیوں Onward, Christian Soldiers‘‘ شاعرہ سابین بارنگ گوولڈ Sabine Baring-Gould، 1834۔1924)۔

II۔ دوئم، یہ ایک جنگ ہے جو روحانی ہے – اور اِس کو دعا میں لڑا جانا چاہیے!

مہربانی سے افسیوں6:10۔12 کھولیے۔ اِس کو باآواز بُلند پڑھیں،

’’آخری بات یہ ہے، میرے بھائیو کہ تُم خداوند میں اور اُس کی قُوت سے معمور ہوکر مضبوط بن جاؤ۔ خدا کے دیئے ہُوئے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو جاؤ تاکہ تُم اِبلیس کے منصوبوں کا مقابلہ کر سکو۔ کیونکہ ہمیں خُون اور گوشت یعنی اِنسان سے نہیں بلکہ تاریکی کی دُنیا کے حاکموں، اِختیار والوں اور شرارت کی رُوحانی فوجوں سے لڑنا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں‘‘ (افسیوں 6:10۔12).

یہ کلام پاک کا ایک عظیم حوالہ ہے۔ یہ ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ہم ’’گوشت اور خون یعنی انسان‘‘ کے خلاف نہیں لڑ رہے ہیں۔ ہماری جنگ ’’ابلیس‘‘ اور اُس کی شیطانی فوجوں کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا،

ہم دشمن کی جگہ اور شناخت کو پہچان چکے ہیں۔ یہ شیطان ہے جو اپنی شیطانی قوتوں کے انبار لگا رہا ہے۔ اب ہمیں یہ پہچاننے کی ضرورت ہے کہ جنگ کہاں پر ہے۔ میرے خیال میں گرجہ گھر روحانی جنگ کی بصیرت کو بہت زیادہ کھو چکا ہے (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن اشاعت خانےThomas Nelson Publishers، 1983، جلد پنجم، صفحات279۔280؛ افسیوں6:12 پر غور طلب بات)۔

ہم اصل میں باراک اوباما کے ساتھ جنگ نہیں کر رہے ہیں، یا خود کو تباہ کرنے والی ’’ٹی پارٹی‘‘ جمہوریہ کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں۔ ہم اصل میں فوجی ہم جنسوں کے ساتھ جنگ نہیں کر رہے ہیں۔ یہ تھی اور ہے ایک روحانی جنگ۔ ہمیں دعا کے ساتھ شیطانی قوتوں سے جنگ کرنی چاہیے! دعا اُن جنگوں کو جیت جائے گی جو کوئی بھی فوجی کبھی نہیں جیت پائے گا! مہربانی سے افسیوں6:18 کھولیے۔ اِس کو با آوازِ بُلند پڑھیں،

’’پاک رُوح کی ہدایت سے ہر وقت اور ہر طرح دعا اور منّت کرتے رہو اور اِس غرض سے جاگتے رہوں اور سب مُقدسوں کے لیے بلاناغہ دعا کرتے رہو‘‘ (افسیوں 6:18).

دیکھا آپ نے، ہم آیت 11 اور 12 میں حقیقی دشمن کو پہچانتے ہیں۔ ہم آیت 13۔17 میں خُدا کے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو جانے کی ضرورت کو دیکھتے ہیں۔ مگر اب آیت 18 میں ہم شیطان اور اُس کے آسیبوں کے ساتھ جنگ لڑنے جا رہے ہیں۔ دعا ہی وہ جنگ ہے!!!

میں چاہتا ہوں کہ آج کی صبح یہاں پر ہر شخص اِس تصور کو جکڑ لے کہ دعا عورتوں کے لیے نہیں ہے! جس قسم کی دعا کے بارے میں پولوس رسول بات کر رہا ہے وہ ایک جنگ ہے – شیطان اور اُس کی ابلیسی فوج کے ساتھ! ’’پاک روح کی ہدایت سے ہر وقت اور ہر طرح دعا اور منت کرتے رہو‘‘ یہ کمزور چھوٹے چھوٹے شرمانے والوں کے لیے نہیں ہے! نازک، نفیس، بےبس، لاغر چھوٹے لوگ کپکپا جائیں گے، اور یہاں تک کہ خوفزدہ بھی ہو جائیں، اگر اُنہوں نے ہمارے گرجہ گھر میں ہر ہفتے کے تین میں سے ایک بھی دعائیہ اجلاس میں شمولیت کر لی۔ ہم پرانی پیوریٹن کے مثال کی پیروی کرتے ہیں – صرف آدمی دعا میں رہنمائی کرتے ہیں! خواتین اپنی ’’آمین‘‘ کے ساتھ ہماری دعاؤں کی تائید کرتی ہیں۔ مگر آدمی دعا کرتے ہیں – جیسے میں نے آدمیوں کو شمالی آئرلینڈ میں ڈاکٹر پیزلی Dr. Paisley کے گرجہ گھر میں سُنا تھا۔ وہ آدمی جانتے تھے کہ کیسے فضل کے تخت کے لیے جرأت کے ساتھ جانا چاہیے! ہم اُس مثال کی پیروی کرتے ہیں۔ ہم اپنے دعاؤں کے اجلاس میں جنت کے پھاٹکوں پر ھلا بول دیتے ہیں۔ آئیں اور ہمارے ساتھ شامل ہوں اگر آپ میں دعا میں خود شیطان کے ساتھ لڑنے کے لیے خُدا کی بخشی ہوئی جرأت ہے! آمین! ہم بُدھ کی شام 7:00 بجے دعا کرتے ہیں۔ ہم جمعرات کی شام 7:00 بجے دعا مانگتے ہیں۔ ہم ہفتے کی شام کو 6:00 بجے دعا مانگتے ہیں۔ کیوں اِس قدر زیادہ دعا؟ ہمارا گرجہ گھر یہاں لاس اینجلز کے مرکز میں دو مہینے بھی نہیں پنپ سکتا اگر ہمارے پاس دعا مانگنے والے لوگوں کی فوج نہ ہوتی! آئیں اور ہمارے ساتھ شامل ہوں!

جیسے ایک طاقتور فوج خُدا کے گرجہ گھر کو چلاتی ہے؛
   بھائیو، ہم قدم بڑھا رہے ہیں جہاں مقدسین نے قدم بڑھائے تھے؛
ہم منقسم نہیں ہیں، ہم سب ایک بدن ہیں،
   عقیدے اور اُمید میں ایک، صدقے میں ایک۔
بڑھتے چلو، مسیحی فوجیوں، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
   یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو۔

III۔ سوئم، آپ کو اِس جنگ میں شامل ہونے کے لیے نجات یافتہ ہونا پڑے گا!

جنگ عظیم دوئم کے آغاز میں چرچل نئے وزیراعظم تھے۔ اُنہوں نے ریڈیو پر جا کر برطانیہ کے لوگوں کو بتایا، ’’میرے پاس آپ کو پیش کرنے کے لیے خون، مشقت، آنسوؤں اور پسینے کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘‘ اُنہوں نے اُس کی پیروی کی اور ھٹلر اور نازیوں کے چھکے چُھڑا دیے!

میں آج صبح کہہ سکتا ہوں کہ میرے پاس آپ کو پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے ماسوائے بدی کی قوتوں کے ساتھ ایک طویل سخت لڑائی کے۔ یہ آسان نہیں ہوگا۔ قیمت چکانی پڑے گی۔ آپ کو اپنے دِل اور زندگی کا تجزیہ کرنا چاہیے اور اپنے گناہ سے توبہ کرنی چاہیے۔ آپ کو اپنے آپ کو یسوع کے قدموں میں نچھاور کرنا چاہیے، اور اپنے تمام دِل کے ساتھ اُسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ آپ کو گرجہ گھر میں آنا چاہیے، اور ہر مرتبہ یہاں ہونا چاہیے۔ آپ کو اپنی زندگی مسیح کے حوالے کر دینی چاہیے، اور اُس کے پاک اور ابدالاآباد خون کے وسیلے سے اپنے گناہوں سے پاک صاف ہونا چاہیے! بائبل کہتی ہے:

’’تو اِس لیے مسیح یسوع کے اچھے سپاہی کی طرح دُکھ سہنے میں میرا شریک ہو‘‘ (2۔ تیموتاؤس 2:3).

اُٹھ کھڑے ہوؤ، پھر، صلیب اُٹھا لو اور مسیح کی پیروی کرو! آئیں اور اِس بہت بڑے اور بدکار شہر میں شیطان سے جنگ کرنے میں ہماری مدد کریں!

آگے بڑھو پھر، تم لوگو، ہمارے مسرور ہجوم میں شامل ہو،
   فاتحانہ گیت میں ہماری آوازوں کے ساتھ اپنی آوازیں مدخم کر لو؛
جلال، ستائش اور تعظیم یسوع بادشاہ کی ہی ہو؛
   ان گنت زمانوں سے یہ ہی لوگ اور فرشتے گاتے آئے۔
بڑھتے چلو، مسیحی فوجیوں، جنگ کے لیے قدم بڑھاتے چلو،
   یسوع کی صلیب کی قیادت میں بڑھتے چلو۔

میرے ساتھ کھڑے ہوں اور اِس کو گائیں! اُس کورس کو گائیں!

اُس کی فوج میں شامل ہونے کے لیے آپ کو یسوع کے وسیلے سے گناہ سے بچایا جانا چاہیے۔ آپ کو اُس کے خون کے وسیلے سے اپنے گناہ سے پاک صاف ہونا چاہیے۔ اگر آپ یسوع کے وسیلے سے اپنے گناہوں سے بچائے جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو مہربانی سے ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک اور کمرے میں لے جائیں گے جہاں پر ہم بات چیت کر سکتے ہیں۔ جلدی جائیں۔ خُدایا، میں دعا مانگتا ہوں آج صبح کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا اور بچایا جائے گا۔ اُسی کے نام میں، آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: 2تیموتاؤس4:1۔5 .

لُبِ لُباب

ضرورت ہے – لڑنے والے لوگوں کی

(یومِ والد پر ایک واعظ)
!NEEDED – FIGHTING MEN
(A FATHER’S DAY SERMON)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اب پاک رُوح صاف طور پر فرماتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں بعض لوگ مسیحی ایمان سے مُنہ موڑ کر گُمراہ کرنے والی رُوحوں اور شیاطین کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہونے لگیں گے۔ یہ باتیں جھوٹے آدمیوں کی ریاکاری کے باعث ہوں گی جن کا دل گرم لوہے سے داغا گیا ہے‘‘ (1۔ تیموتاؤس 4:1۔2).

(1تیموتاؤس6:12؛ 2تیموتاؤس3:1)

I.   اوّل، یہ ایمان کے لیے ایک جنگ ہے جو کبھی مقدسین کو سونپی گئی تھی! یہوداہ3 .

II. دوئم، یہ ایک جنگ ہے جو روحانی ہے – اور اِس کو دعا میں لڑا جانا چاہیے! افسیوں6:10۔12، 18 .

III. سوئم، آپ کو اِس جنگ میں شامل ہونے کے لیے نجات یافتہ ہونا پڑے گا! 2تیموتاؤس2:3۔