Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

نوح کے دِن اور لوط کے دِن

THE DAYS OF NOAH AND THE DAYS OF LOT
(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 77)
(SERMON #77 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لا س اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 18 مئی، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, May 18, 2014

’’اور جیسا نُوح کے دنوں میں ہوا تھا ویسا ہی اِبنِ آدم کے دنوں میں ہوگا۔ کہ لوگ کھاتے پیتے تھے اور شادی بیاہ کرتے کراتے تھے اور نوح کے کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ پھر طوفان آیا اور اُس نے سب کو ہلاک کردیا۔ اور جیسا لُوط کے دِنوں میں ہُوا تھا کہ لوگ کھانے پینے، خرید و فروخت کرنے، درخت لگانے اور مکان تعمیر کرنے میں مشغول تھے۔ لیکن جس دِن لُوط سدوم سے باہر نکلا آگ اور گندھک نے آسمان سے برس کر سب کو ہلاک کر ڈالا۔ اِبنِ آدم کے ظہور کے دِن بھی ایسا ہی ہوگا‘‘ (لوقا 17:‏26۔30).

اِس تلاوت کے بارے میں آپ کو تین باتوں پر غور کرنا چاہیے۔ پہلی، اُن دو عظیم باتوں کو نقش کر لیجیے جنہیں یسوع نے استعمال کیا – نوح کے دِنوں میں سیلاب، اور صدوم کے شہر پر جو آگ اور گندھک کی بارش ہوئی تھی۔ دوسری، آیت 27 کے آخری چار الفاظ پر نظر ڈالیے، ’’اور سب کو ہلاک کر ڈالا۔‘‘ اب آیت 29 کے آخری چار الفاظ پر نظر ڈالیں، ’’اور سب کو ہلاک کر ڈالا۔‘‘ اب آیت 30 پر نظر ڈالیں، ’’اِبن آدم کے ظہور کے دِن بھی ایسا ہی ہوگا۔‘‘ یہ اِس بے اعتقادی دُنیا پر فیصلے کی سزا سُنانے کے لیے یسوع کی آمد ثانی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

نوح کے دنوں میں لوگ تیار نہیں تھے – اِس لیے وہ سب ہلاک ہوگئے۔ نوح کے زمانے میں لوگ تیار نہیں تھے – اِس لیے وہ سب ہلاک ہو گئے۔ اُن میں کھانا پینا اور شراب نوشی کرنا اور شادیاں کرنا کرانا غلط نہیں تھا، مگر یہی سب کچھ تھا جس کے بارے میں لوگ فکر مند ہوتے تھے! اُنہوں نے نوح یا لوط کی بات نہیں سُنی تھی، اور اِس لیے وہ سب ہلاک کر دیئے گئے۔

اب ہم اُن لوگوں کے دو گروہوں پر نظر ڈالیں گے اور دیکھیں گے کہ کیوں وہ عدل کے دِن کے لیے تیار نہیں تھے۔ لیکن پہلے مجھے کہہ دینا چاہیے کہ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ خُداوند عدل اور قہروغضب کا ایک خُدا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ نہیں ہے جس پر آج کل لوگ یقین کرتے ہیں۔ وہ اکثر کہتے ہیں، ’’میں عدل کے خُدا میں یقین نہیں رکھتا ہوں۔‘‘ مگر اِس سے واقعی میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیا یقین کرتے ہیں۔ خُدا محض آپ کے تصور کا کوئی شاہکار نہیں ہے۔ خُدا آپ سے باہر وجود رکھتا ہے۔ وہ وجود رکھتا ہے چاہے آپ اُس پر یقین کریں یا نہ کریں۔ لہذٰا اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ’’عدل کے خُدا میں یقین نہیں رکھتے۔‘‘ چونکہ خُدا کی وجودیت کا انحصار اِس بات پر نہیں ہے کہ آپ کیا یقین کرتے ہیں، جو آپ سوچتے ہیں وہ کسی بات کو بھی نہیں بدلتا! فرض کریں کہ آپ کہتے ہیں، ’’میں سان فرانسسکو میں یقین نہیں کرتا۔‘‘ تو کیا اِس سے سان فرانسسکو غائب ہو جائے گا؟ بِلاشُبہ بالکل بھی نہیں! فرض کریں کہ آپ نے کہا، ’’میں یقین نہیں کرتا کہ وہاں سان فرانسسکو میں ٹرالی والی گاڑیاں ہیں۔‘‘ تو کیا اِس سے اُس شہر میں سے تمام کی تمام ٹرالی والی گاڑیاں ہٹا لی جائیں گی؟ بِلاشُبہ بالکل بھی نہیں! اور اِیسا ہی خُدا کے ساتھ بھی ہے۔ اگر آپ کہتے ہیں، ’’میں عدل کے خُدا میں یقین نہیں کرتا ہوں،‘‘ تو اِس سے کچھ بھی نہیں بدلتا ہے۔ چاہے آپ اِس کا یقین کریں یا نہ کریں، خُدا آپ کے ذہن سے باہر وجود رکھتا ہے – اور وہ گناہ کے خلاف عدل اور قہر و غضب کا خُدا ہے – چاہے آپ اِس کا یقین کریں یا نہ کریں۔

دراصل نوح کے دِنوں میں بھی لوگوں نے بالکل آپ ہی کی مانند سوچا تھا۔ اُن کے پاس خُدا کا کوئی نہ کوئی تصور تھا – مگر آپ ہی کی طرح، اُنہوں نے بھی سوچا تھا کہ خُدا عدل کا خُدا نہیں ہے! اور بالکل آپ ہی کی طرح، وہ بھی غلط تھے – بالکل ہی غلط تھے! اور اِس ہی لیے خُدا نے عظیم سیلاب بھیجا، ’’اور سب کو ہلاک کر دیا‘‘ (لوقا17:‏27)۔

اور اِس ہی طرح سے یہ سب کچھ صدوم کے شہر میں بھی ہوا تھا۔ صدوم کے شہر میں لوگوں نے سوچا تھا کہ خُدا کبھی بھی اُن کا انصاف نہیں کرے گا۔ نوح کے زمانے میں لوگوں نے اُس کی منادی پر توجہ نہیں دی تھی۔ نا ہی صدوم کے لوگوں نے اُن اِنتبہات کو سُنا تھا جو لوط نے اُنہیں دی تھیں۔ خود اُس کے اپنے دامادوں نے سوچا تھا کہ وہ صرف ’’مذاق کر رہا‘‘ تھا جب اُس نے اُنہیں خبردار کیا تھا کہ سزا کا فیصلہ آ رہا ہے۔ مگر وہ غلطی پر تھے۔ عدل ہوا ’’اور سب کو ہلاک کر ڈالا‘‘ (لوقا17:29)۔

یسوع نے یہ کہتے ہوئے اِس تنبیہہ کو ختم کیا،

’’ اِبنِ آدم کے ظہور کے دِن بھی ایسا ہی ہوگا‘‘ (لوقا 17:‏30).

میں یقین کرتا ہوں کہ ہم آج اُسی زمانے میں رہ رہے ہیں۔ کوئی بھی اُس دِن یا لمحے کے بارے میں نہیں جانتا جب خُدا کا عدل اِس گناہ سے بھرپور نسل پر پڑے گا۔ مگر ہر علامت یہ اشارہ کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ ہم اب اِس زمانے کے بالکل اختتام پر زندگی گزار رہے ہیں۔ اور بائبل کہتی ہے، ’’اپنے خُدا کو ملنے کی تیاری کر‘‘ (عاموس4:‏12)۔ لبرٹی یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایڈ ھِنڈسن Dr. Ed Hindson نے کہا،

      مسیحی اتفاقِ رائے ہے کہ کسی زمانے میں غالب آئی ہوئی مغربی ثقافت اب بکھر چکی ہے اور بحال ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ہم پہلے سے ہی لادینیت، علاقیت و نسبیت اور پُراسراریت کے دلدل میں دھنس چکے ہیں...
      زمانے کے اختتام کی حتمی علامتوں کے لیے سٹیج اب تیار ہو چکا ہے۔ تبدیلیاں اور ترقیاں اب اِس قدر تیزی سے رونما ہو رہی ہیں کہ ہم انتہائی تیز رفتاری سے اُن بہت بڑے بحرانوں کی جانب بڑھ رہے ہیں جنہیں دُنیا نے کبھی بھی جانا ہے۔ واقعات کا ہررُخ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ’’وہ برترِ اعلٰی‘‘ موڑ کی دوسری جانب ہی ہوگا (ایڈ ھِنڈسن، پی ایچ۔ ڈی۔ Ed Hindson, Ph.D.، حتمی علامتیں Final Signs، ھارویسٹ ہاؤس پبلیشرز Harvest House Publishers، 1996، صفحہ 65، 7)۔

کیا آپ خُدا سے ملنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا آپ اِس زمانے کے خاتمے اور مسیح کی آمد کے لیے تیار ہیں؟ شاگردوں نے یسوع سے پوچھا تھا، ’’تیری آمد اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟‘‘ (متی24:‏3)۔ یسوع نے اُن کی مذمت نہیں کی تھی۔ اِس کے بجائے اُس نے اُنہیں بے شمار علامتیں پیش کیں کہ جو اُن زمین پر رہنے والوں کو ظاہر کر رہی تھیں کہ وقت نزدیک ہی تھا۔ میں قائل ہوں کہ ہم اب اُس زمانے میں رہ رہے ہیں – بالکل ابھی۔ یسوع نے کہا کہ وہ عظیم سیلاب کے فیصلے سے پہلے نوح کے ہی زمانے جیسا ایک وقت ہوگا – اور خُدا کا اُن پر خوفناک فیصلہ صادر ہونے سے پہلے، لوط کے زمانے جیسا وقت ہوگا ۔ ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan نے کہا،

      مسیح کے آنے کی علامتوں سے تعلق رکھتے ہوئے لاعلمی کا کوئی بہانہ ہی نہیں ہے۔ اپنے سامنے کھلی ہوئی بائبل کے ساتھ ہم اُن تمام کے تمام پانچ ابواب کو تیس منٹوں میں پڑھ سکتے ہیں جن کے بارے میں یسوع نے ’’نوح کے دِن اور لوط کے دِنوں‘‘ کی حیثیت سے اشارہ دیا۔ نوح کے دِنوں اور لوط کے دِنوں میں بہت کچھ ایک سا تھا۔ وہ فراوانی کے عظیم دِن تھے۔ یسوع کہتا ہے کہ وہ کھاتے پیتے اور شراب نوشی کرتے تھے... یہ ندیدے پن اور شراب کی لت کے لیے لاگو ہوتا ہے۔ اگر کبھی کوئی ایسا وقت تھا جو کہ اُن دِنوں کو دُھرا رہا ہے، تو وہ یہ موجودہ زمانہ ہی ہے؛ کیونکہ کسی اور زمانے کے مقابلے میں نوح اور لوط کے دِنوں سے لیکر، یہ ہے ’’ندیدے پن اور شراب کی لت‘‘ کا زمانہ ہے۔
      دوسری بات جس کا یسوع نے نوح اور لوط کے زمانے کے بارے میں تزکرہ کیا وہ یہ تھی ... جنس کا غلط استعمال... اِن جدید دِنوں میں حیرت انگیز مماثلتوں کے تزکرے کے لیے ہمیں کچھ زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک نسل میں ہم تاریخ کی تمام صدیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خاندان کے مقدس رواج کا شیرازہ ہوتا ہوا دیکھ چکے ہیں... بدکاری پر آنکھیں موند لی گئی ہیں، اور طلاق کی شرع نسل میں دو گُنا، تین گُنا اور چار گُنا بڑھ چکی ہے... عام بدکاری کا گناہ [صدوم] پر خُدا کے عدل کے لیے موقع تھا... بالکل جیسے سیلاب سے پہلے کے دِنوں میں خُدا کے بیٹوں اور انسان کی بیٹوں کی مباشرت قانون کے خلاف آخری تنکا تھا (ایم۔ آر۔ ڈیحان، ایم۔ ڈی۔ M. R. DeHaan, M.D.، نوح کا زمانہ The Days of Noah، ژونڈروان پبلیشنگ ہاؤس، 1963، صفحات 80۔82)۔

مجھے آپ کو یاد دلا لینے دیجیے کہ یسوع نے کہا،

’’اور جیسا نُوح کے دنوں میں ہوا تھا... جیسا لُوط کے دِنوں میں ہُوا تھا ... اِبنِ آدم کے ظہور کے دِن بھی ایسا ہی ہوگا‘‘(لوقا 17:‏26، 28، 30).

اور مسیح نے پیشن گوئی کی تھی کہ اِس مسیح کو انکار کرنےوالی بے دین نسل پر ہولناک عدل نازل ہونے جا رہا ہے۔ مسیح نے کہا،

’’کیونکہ اُس وقت کی مصیبت ایسی بڑی ہوگی کہ دنیا کے شروع سے نہ تو اب تک آئی ہے اور نہ پھر کبھی آئے گی۔ اگر اُن دِنوں کی تعداد گھٹائی نہ جاتی تو کوئی شخص نہ بچتا...‘‘ (متی 24:‏21،22).

اُس وقت کی ایسی بڑی مصیبت میں دُنیا پر خُدا سات مرتبان (یا پیالے) اُنڈیلنے کے بارے میں بائبل بتاتی ہے۔ اِس کی مکاشفہ کے سولہویں باب میں پیشن گوئی کی گئی ہے (NASV میں سے)،

پہلا فرشتہ گیا اور اُس نے اپنا پیالہ خشکی پر اُنڈیل دیا۔ تب جن لوگوں پر اُس حیوان کا نشان لگا تھا اور جنہوں نے اُس کی مُورت کو سجدہ کیا تھا، اُن کے جسموں پر ایک ایک بہت بُرا تکلیف دہ ناسور پیدا ہوگیا (آیت 2).

پھر دُوسرے فرشتہ نے اپنا پیالہ سُمندر پر اُنڈیل دیا اور سارا سمندر مُردہ کے خُون جیسا ہوگیا (آیت 3).

پھر تیسرے فرشتہ نے اپنا پیالہ دریاؤں اور پانی کے چشموں پر اُنڈیل دیا اور اُن کا پانی بھی خُون بن گیا (آیت 4).

پھر چوتھے فرشتہ نے اپنا پیالہ سورج پر اُنڈیل دیا اور سورج کو اِختیار دیا گیا کہ وہ لوگوں کو آگ سے جُھلس ڈالے۔ اور وہ حرارت کی شِدّت کے باعث جُھلس گئے (آیات 8،9).

پھر پانچویں فرشتہ نے اپنا پیالہ حیوان کے تخت پر اُنڈیل دیا جس سے اُس حیوان کی بادشاہی میں تاریکی چھا گئی۔ اور لوگ درد کے مارے اپنی زبانیں کاٹنے لگے (آیت 10).

پھر چھٹے فرشتہ نے اپنا پیالہ بڑے دریائے فرات پر اُنڈیل دیا اور دریا کا پانی خشک ہو گیا (آیت 12).

ساتویں فرشتے نے بڑا پیالہ ہوا میں اُنڈیل دیا اور ایک ایسا بڑا زلزلہ آیا کہ اِنسان کے زمین پر پیدا ہونے کے وقت سے لے کر ایسا بڑا زلزلہ کبھی نہیں آیا تھا اور اُس نے بہت ساری زمین کو تباہ کردیا، اور آسمان سے دُنیا کے لوگوں پر مَن مَن بھر کے بڑے بڑے اولے گرے (آیات 19، 21)۔

کیا لوگ توبہ کریں گے؟ جی نہیں! توبہ کرنے کے لیے انتہائی دیر ہو چکی ہوگی! ’’لوگ اولوں کی آفت کی وجہ سے خُدا کی نسبت کفر بکنے لگے‘‘ (مکاشفہ16:‏21)۔ بائبل کہتی ہے،

’’خداوند کا دِن اِس طرح آنے والا ہے جس طرح چوررات کو اچانک آتا ہے۔ جب لوگ کہتے ہوں گے کہ اب امن اور سلامتی ہے اُس وقت اچانک ہلاکت اِس طرح آ جائے گی جس طرح حاملہ عورت کو دردِ زہ شروع ہوجاتا ہے اور وہ ہرگز نہ بچیں گے‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 5:‏2۔3).

صرف سچے مسیحی جنہوں نے حقیقی تبدیلی کا تجربہ کیا ہوگا اُن کے پاس ہولناک واقعات سے پہلے خُداوند کو آسمان میں بادلوں پر خوش آمدید کہنے کے لیے اُٹھا لیے جانے کی اُمید ہوگی۔ مگر زیادہ تر ’’مسیحی‘‘ کہلانے والے پیچھے چھوڑ دیے جائیں گے۔ مسیح اُن سے کہے گا، ’’میں تمہیں جانتا ہی نہیں‘‘ (متی25:‏12)۔

ہم اِن موضوعات پر اکثر منادی سُنا کرتے تھے۔ مگر حیرت انگیز طور پر اِن حالیہ سالوں کے دوران اِس موضوعات پر خاموشی چھا چکی ہے۔ 1969 میں ماضی میں بلی گراھم Billy Graham نے کہا،

بائبل تعلیم دیتی ہے کہ زمانے کے خاتمے پر، یہ اِس قدر شدید مشکلات، جنگ، تباہی، لا قانونیت، بدکاری کا دور ہوگا کہ خُدا کو مداخلت کرنی پڑے گی... نیوزی لینڈ میں انسانی سوسائٹی نے ہماری صلیبی جنگ پر نگرانی لگا دی ہے، جو علامتوں کے ساتھ کہہ رہی ہے، ’’بلی گراھم کو تمہیں خوفزدہ مت کرنے دو‘‘ (بلی گراھم Billy Grahan ، آنے والے دِن The Day to Come،‘‘ وہ للکار: میڈیسن سکوائر گارڈن سے واعظ The Challenge: Sermons from Madison Square Garden، ڈبل ڈے اور کمپنی Doubleday and Company، 1969، صفحہ 164)۔

اُن کے وفات پانے سے کچھ عرصہ ہی قبل ایک انجیلی بشارت کے رہنما نے مجھے اور میرے خاندان کو بتایا کہ ماضی کے اُن دِنوں میں بلی گراھم کی منادی ’’لرزہ خیز‘‘ ہوتی تھی۔ جی ہاں، مگر آج کل اُس طرح کے مبلغین کہاں پر ہیں؟ زیادہ تر مبلغین تو انتہائی بزدل ہیں کہ لوگوں کو آنے والے عدل اور جہنم کی آگ کے بارے میں خبردار کرسکیں! ایک آدمی نے مجھے بتایا کہ میں انتہائی پرانے زمانے کا ہوں، ایک ڈائینو سار، کہ مجھے جوئیل آسٹن Joel Osteen یا جیسے کہ ہمارے زیادہ تر قدامت پسند یا یہاں تک کہ بنیاد پرست مبلغین ہیں، کی مانند ہلکے پھلکے چھوٹے چھوٹے پیغامات دینے چاہیں۔ میں نے اُس کو 2 تیموتاؤس4:‏2۔4 کا حوالہ دیتے ہوئے جواب دیا،

’’کلام کی منادی کر، وقت بے وقت تیار رہ، بڑے صبر اور تعلیم کے ساتھ لوگوں کو سمجھا، ملامت اور نصیحت کر۔ کیونکہ ایسا وقت آرہا ہے کہ لوگ صحیح تعلیم کی برداشت نہیں کریں گے بلکہ اپنی خواہشوں کے مطابق بہت سے اُستاد بنالیں گے تاکہ وہ وہی کچھ بتائیں جو اُن کے کانوں کو بھلا معلوم ہو۔ وہ سچائی کی طرف سے کان بند کرلیں گے اور کہانیوں کی طرف توجہ دینے لگیں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:‏2۔4).

تعجب کی کوئی بات نہیں کہ ہمارے گرجہ گھر کھوئے ہوئے گمراہ لوگوں سے بھرے پڑے ہیں! جیسا پرانے زمانے میں مبلغین منادی کرتے تھے ویسے ہی پرانے زمانے کے مذہب کی مانند پادری منادی کرنے سے انتہائی خوفزدہ ہیں!

میرا خُدا کی طرف سے عنایت کیا گیا کام آیت بہ آیت بائبل کی تعلیم دینا نہیں ہے۔ میرا کام ’’کلام کی منادی‘‘ کرنا ہے۔ اِس کو قبول کریں یا چھوڑ دیں! میں آپ کو جو بائبل کہتی ہے پیش کر چکا ہوں!

’’اور جیسا نُوح کے دنوں میں ہوا تھا... جیسا لُوط کے دِنوں میں ہُوا تھا ... اِبنِ آدم کے ظہور کے دِن بھی ایسا ہی ہوگا‘‘ (لوقا 17:‏26، 28، 30).

اگر یہ آپ کے لیے انتہائی ’’لرزہ خیز‘‘ ہے تو خُداوند آپ کی مدد فرمائے! جب عدل نازل ہوگا تو آپ بہت بڑی مشکل میں پڑے ہونگے!

اب آپ کو خُدا کے عدل سے بچنے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟ آپ کو بالکل وہی کرنا ہوگا جو نوح اور لوط نے کیا تھا!

خُدا نے لوط سے کہا تھا کہ صدوم سے بھاگ جا۔ خُدا نے کہا، ’’اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ؛ تو پیچھے مُڑ کر مت دیکھنا... ورنہ تم تباہ ہو جاؤ گے‘‘ پیدائش19:‏17)۔ اگر آپ بچائے جانے کی اُمید رکھتے ہیں، تو یہی ہے جو آپ کو بھی کرنا ہے۔ بے دین طرز زندگی سے باہر نکلیں۔ خُدا کہتا ہے، ’’اُن میں سے نکل کر الگ رہو… اور میں تمہیں قبول کروں گا‘‘ (2۔کرنتھیوں6:‏17)۔ اُن لوگوں سے دور چلے جائیں جو گرجہ گھر نہیں جاتے ہیں۔ اُن لوگوں سے پرے ہٹ جائیں جو گناہ میں زندگی گزار رہے ہیں اور خُدا کے بارے میں کوئی سوچ نہیں رکھتے۔ یہ تھا جو لوط کو کرنا پڑا تھا، اور یہی ہے جو آپ کو بھی کرنا پڑے گا۔ گناہ سے بھرپور دُنیا میں سے باہر نکلیں اور ہر مرتبہ جب دروازہ کھلا ہوتا ہے گرجہ گھر میں آئیں! اور گرجہ گھر میں دوستوں کا ایک نیا حلقہ بنائیں!

لیکن یہی صرف کافی نہیں ہے! آپ کو وہ بھی کرنا ہوگا جو نوح نے کیا تھا۔ خُدا نے نوح سے کہا،

’’تو چلا آ... کشتی میں‘‘ (پیدائش 7:‏1).

’’اور خدا نے نوح سے کہا، میں سب لوگوں کا خاتمہ کرنے کو ہوں کیونکہ زمین اُن کی وجہ سے ظلم سے بھر گئی ہے۔ اِس لیے میں یقیناً نوعِ اِنسان اور زمین دونوں کو تباہ کر ڈالوں گا‘‘ (پیدائش 6:‏13).

’’تو چلا آ... کشتی میں‘‘ (پیدائش 7:‏1).

کشتی مسیح کی تشبیہہ یا ایک تصویر ہے۔ مسیح کے پاس آئیں۔ مسیح نے کہا، ’’میرے پاس آؤ‘‘ (متی11:‏28)۔ نوح تمام راستہ طے کر کے اندر آیا تھا – اور وہ عدل یعنی سزا کے فیصلے سے بچا لیا گیا تھا۔ آپ کو تمام راستہ طے کر کے اندر تک آنا چاہیے – مسیح کے لیے۔ مسیح آپ کو اپنے خون کے ساتھ جو اُس نے صلیب پر بہایا تمام گناہ سے پاک صاف کر دے گا۔ ایمان کے وسیلے سے تمام راستہ طے کرتے ہوئے مسیح کے پاس آئیں! وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ وہ آپ کو دائمی زندگی بخشے گا – اور آپ کو آنے والے قہر سے بچائے گا۔

گناہ کو پیچھے چھوڑ دیں جیسا کہ لوط نے کیا تھا۔ مسیح میں آئیں جیسا کہ نوح نے کیا تھا۔ اور خُدا آپ کو بیدار کرے اور ایسا کرنے کے لیے آپ کو کھینچے!

اگر آپ اِس بارے میں ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہیں تو مہربانی سے اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کوایک اور کمرے میں لے جائیں گے جہاں پر ہم بات چیت کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ آج کی صبح کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا! آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: 2۔پطرس2:‏4۔9 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ایسے وقتوں کے دوران In Times Like These‘‘ (شاعر رُوتھ کائی جونز
Ruth Caye Jones‏، 1902-1972)۔