Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

جس دِن یسوع مرا

THE DAY JESUS DIED
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 13 اپریل، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, April 13, 2014

’’اِس پر پیلاطُس نے یسُوع کو اُن کے حوالہ کردیا تاکہ اُسے صلیب پر لٹکا دیا جائے اور وہ اُسے اپنے قبضہ میں لے کر وہاں سے چلے گئے۔ اور یسوع اپنی صلیب اُٹھا کر کھوپڑی کے مقام کی طرف روانہ ہُوا جسے عبرانی زبان میں گُلگُتا کہتے ہیں۔ وہاں اُنہوں نے یسوع کو اور اُس کے ساتھ دو اور آدمیوں کو بھی مصلوب کیا، ایک کو یسوع کی ایک طرف اور دوسرے کو دوسری طرف اور یسوع کو بیچ میں‘‘ (یوحنا 19:16۔18).

نسلِ انسانی کی تاریخ میں جس دِن یسوع صلیب پر مرا چوتھا سب سے اہم ترین دِن ہے۔ پہلا وہ دِن تھا جب خُداوند نے پہلا انسان تخلیق کیا۔ دوسرا انسان کے گناہ میں گرنے کا دِن تھا، جب آدمی نے گناہ کیا اور دُنیا میں موت اور تباہی لایا۔ تیسرا وہ دِن تھا جب نوح کے زمانے میں سیلاب شروع ہوا تھا۔ مگر چوتھا سب سے اہم ترین دِن وہ تھا جب یروشلم شہر کی دیواروں کے بالکل باہر ایک پہاڑی پر یسوع صلیب پر مرا تھا۔

جس دِن یسوع صلیب پر مراتھا تو انسانی تاریخ کا تمام رُخ تبدیل ہو گیا تھا – ہمیشہ کے لیے! انسانی زندگی ہزاروں کی تعداد سے بدل گئی تھیں۔ انسان تبدیل ہو گئے، اور دُنیا پھر کبھی بھی ویسی نہ رہی تھی۔ آج شب ہم ماضی میں اُس دِن کو دیکھیں گے جب یسوع مرا تھا اور اُن چار اہم واقعات پر غور کریں گے جو رونما ہوئے تھے۔

I۔ اوّل، اُس دِن تاریکی چھا گئی تھی۔

بائبل کہتی ہے:

’’اب چھٹے پہر سے [بارہ بجے سے] لے کر نویں پہر[تین بجے دوپہر] تک سارے ملک میں اندھیرا چھایا رہا‘‘ (متی 27:45).

ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا:

ہمارے خُداوند کو تیسرے پہر صلیب پر لٹکایا گیا تھا، جوکہ صبح کے نو بجے کا وقت ہوگا۔ دوپہر بارہ بجے تک، انسان نے جو کچھ وہ خُدا کے بیٹے کے ساتھ کر سکتا تھا کیا۔ پھر دوپہر کے پہر تاریکی چھا گئی، اور وہ صلیب ایک الطار بن گئی جس پر خُدا کا وہ برّہ جو جہاں کے گناہ اُٹھا لے جاتا ہے قربان کیا گیا (بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن Thomas Nelson، 1983، جلد چہارم، صفحہ 148)۔

متی، مرقس اور لوقا ہمیں بتاتے ہیں کہ دوپہر سے لیکر تین بجے تک ’’تمام زمین پر‘‘ تاریکی چھا گئی تھی جب یسوع مرا۔ ڈاکٹر جان میک آرتھر Dr. John MacArthur، حالانکہ وہ مسیح کے خون کے بارے میں غلط ہیں، پر جب اُنہوں نے اِس تاریکی کے بارے میں بات کی تو دُرست تھے:

یہ چاند یا سورج گرہن کی وجہ سے نہیں ہوا ہوگا، کیونکہ یہودی قمری کیلنڈر استعمال کرتے تھے اور فسح ہمیشہ چودھویں کے چاند پر ہوتی تھی، جو کہ چاند گرہن لگنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہونے دیتی۔ یہ ایک مافوق الفطرت تاریکی تھی (میک آرتھر کا مطالعۂ بائبل MacArthur Study Bible، لوقا23:44 پر غور طلب بات)۔

وہ مافوق الفطرت تاریکی جو ساری زمین پر چھا گئی تھی جب مسیح مرا، ہمیں اُس بارھویں معجزے کے بارے میں یاد دلاتی ہے جو موسیٰ کے تحت اسرائیل کے بچوں کے مصر چھوڑنے سے پہلے رونما ہوا تھا:

’’تب خداوند نے مُوسٰی سے کہا کہ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا تاکہ مِصر میں تاریکی پھیل جائے۔ ایسی گہری تاریکی جِسے چھُو سکیں۔ لہٰذا مُوسٰی نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھایا اور تین دِن تک سارے مِصر میں گہری تاریکی پھیلی رہی‘‘ (خروج 10:21۔22).

خُدا نے وہ تاریکی موسیٰ کے زمانے میں بھیجی۔ اور خُدا نے وہی تاریکی ساری زمین پر اُس وقت بھیجی جب یسوع صلیب پر مرا تھا۔ جسا کہ ڈاکٹر واٹز Dr. Watts اِسے لکھتے ہیں:

سورج تاریکی میں چھپ جائے، اور اپنی حشمتوں کو چھپا لے،
جب مسیح، عظیم ترین خالق، انسان کے لیے مرا، جو مخلوق کا گناہ تھا۔
     (’’افسوس! اور کیا میرے نجات دہندہ نے خون بہایا؟Alas! And Did My Saviour Bleed? ‘‘ شاعر آئزک واٹز، ڈی۔ڈی۔ Isaac Watts, D.D.، 1674۔1748)۔

II۔ دوئم، اُس دِن ہیکل میں پردہ پھٹ گیا تھا۔

بائبل کہتی ہے،

’’اور ہیکل کا پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا‘‘ (متی 27:51).

ہیکل کے اندر ایک بہت بڑا موٹا پردہ تھا۔ ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice ہمیں ہیکل کے بارے میں بتاتے ہیں:

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مقدس جگہ، یا ہیکل کا مناسب مقام تقریباً نوے فٹ لمبا، تیس فٹ چوڑا اور نوے فٹ بُلند تھا... اُس مقدس جگہ کو دو حصوں میں تبدیل کیا گیا تھا۔ پہلے ساٹھ فٹ مقدس مقام تھے... ایک بہت بڑے پردے نے مقدس مقام کو عمارت کے ایک تہائی دوسرے حصے سے علیحدہ کیا ہوا تھا، جو پاک ترین یا سب سے زیادہ مقدس جگہ تھی (ڈاکٹرجان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، یہودیوں کا بادشاہ: متی پر ایک تبصرہ The King of the Jews: A Commentary on Mathew، خداوند کی تلوار Sword of the Lord، 1955، صفحہ 479)۔

ڈاکٹر رائس جاری رہتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ ماسوائے سردار کاہن کے کوئی اور پاک ترین جگہ پر نہیں جا سکتا تھا۔ اور سردار کاہن بھی وہاں پر صرف سال میں ایک مرتبہ جا سکتا تھا، روزِ کفارہ پر۔ پھر ڈاکٹر رائس نے کہا:

جب یسوع صلیب پرمرا، اِس لیے، ’’ہیکل کا پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا‘‘(متی 27:51)۔ اوپر سے پھٹنے کا آغاز ہونا ایک اشارہ تھا کہ خُود خُدا نے پردے کو [پھاڑا] تھا... جب پردہ پھٹ گیا، تب خُدا اور انسان کے درمیان ہر ایک رکاوٹ اُن کے لیے جو [مسیح کے] وسیلے سے آنے کے لیے راضی تھے ہٹا دی گئی (ibid.، صفحہ 480)۔

III۔ سوئم، اُس دِن زمین پر ایک زلزلہ آیا تھا۔

بائبل کہتی ہے،

’’زمین لرز اُٹھی، اور چٹانیں تڑخ [منقسم ہو] گئیں‘‘ (متی 27:51).

ہو سکتا ہے کہ پردے کے چاک کیے جانے میں اِس زلزلے کا سبب رہا ہو۔ میرے خیال میں یہ تھا۔ مگر جیسا کہ ایڈرشائیم Edersheim نے واضح کیا، ’’حالانکہ زلزلہ شاید زورآور بنیاد فراہم کر سکتا ہے، ہییکل کے پردے کا چاک ہونا… واقعی میں خُدا کے ہاتھ کے سبب سے ہوا تھا‘‘ (الفریڈ ایڈرشائیم Alfred Adersheim، یسوع مسیحا کا زمانہ اور زندگی The Life and Times of Jesus the Messiah، عیئرڈمینز Eerdmans، 1945، جلد دوئم، صفحہ611)۔ ایڈرشائیم نے واضح کیا کہ پردہ ایک آدمی کی ہتھیلی کی موٹائی جتنا تھا (تقریباً ڈھائی انچ موٹا)۔ ’’اگر پردہ واقعی میں جیسا کہ تالمود Talmud میں بیان کیا گیا ویسا ہی تھا تو یہ محض ایک زلزلے سے دو ٹکروں میں پھٹ نہیں سکا ہو گا‘‘ (ibid.)۔

پردے کا پھٹنا عین اُسی وقت ہوا تھا ’’جب شام کی قربانی کے وقت مقررہ کاہن پاک ترین جگہ میں داخل ہوا تھا، یا تو لوبان جلانے کے لیے یا پھر کوئی دوسری عبادت وہاں پر کرنے کے لیے‘‘ (ibid.)۔ پردے کے چاک ہونے نے اِن یہودی کاہنوں پر ایک ہولناک تاثر چھوڑا تھا۔ ڈاکٹر چارلس سی۔ رائیری Dr. Charles C. Ryrie کہتے ہیں کہ ’’اِس پردے کے مافوق الفطرت چاک ہونے کا ایک نتیجہ اعمال6:7 میں درج ہے، جہاں پر ہمیں بتایا گیا ہے، ’کاہنوں کا ایک بہت بڑا گروہ ایمان کے ساتھ فرمانبردار ہو گیا تھا‘‘‘ (حوالہ دیکھیں رائیری کا مطالعۂ بائبل Ryrie Study Bible، متی27:51 پر غور طلب بات)۔

جب یسوع مرا، پردہ دو حصوں میں پھٹ گیا تھا۔ آپ اب خُدا کے پاس آ سکتے ہیں کیونکہ مسیح مصالحت کرانے والا ہے۔ اب آپ کے اور خُدا کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔ یسوع آپ کے اور خُدا کے درمیان ہے۔ یسوع کے پاس آئیں اور وہ آپ کو براہ راست خُدا کی حضوری میں لے جائے گا۔

’’کیونکہ خدا ایک ہے اور خدا اور اِنسانوں کے درمیان اک صُلح کرانے والا بھی موجود ہے یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے‘‘ (1۔ تیموتاؤس 2:5).

IV۔ چہارم، یسوع نے اُس دِن صلیب پر سے بات کی تھی۔

ہیکل کے نگرانوں نے یسوع کو جھوٹے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ وہ اُس کو گھسیٹ کر سردار کاہن کے پاس لے گئے تھے، اُنہوں نے اُس کے منہ پر تھوکا تھا اور اپنے مکّوں سے اُس کے چہرے پر مارا تھا۔ چونکہ یہودیوں کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں تھی، وہ یسوع کو رومی گورنر پینطُوس پیلاطوس کے پاس لے گئے۔ پیلاطوس نے یسوع سے سوال پوچھا اور اُس کو بےقصور قرار دیا اور اُس کی زندگی بچانے کی کوشش کی۔ اُس نے یسوع کو کوڑے لگوائے یہ سوچ کر کہ یہ سردار کاہنوں کو ٹھنڈا کر دے گا۔ سپاہیوں نے اُس کی کمر پر کوڑے برسائے، اُنہوں نے کانٹوں کا ایک تاج بنایا اور اُس کو اُس کے سر پر رکھ دیا، اور اُس پر ایک جامنی لبادہ ڈال دیا۔ پیلاطوس اُس کو لوگ کے سامنے یہ دیکھانے کے لیے لایا کہ اُس کو کس قدر مارا گیا تھا، یہ سوچ کر کہ وہ اُس پر رحم کھائیں گے۔ پیلاطوس نے اُن سے کہا، ’’میں اِس پرکوئی فرد جرم عائد نہیں کر سکتا‘‘ (یوحنا19:4)۔ جب سردار کاہنوں نے اُسے دیکھا تو وہ چلائے، ’’اِسے صلیب دو! اِسے صلیب دو!‘‘ پیلاطوس نے اُن سے کہا، ’’تم اِسے لے جاؤ اور صلیب دو؛ کیونکہ میں اِس پر کوئی جرم عائد نہیں کر سکتا۔‘‘ یہودی رہنما چلائے، ’’اگر تم نے اِس آدمی کو چھوڑ دیا تو تم قیصر کے خیرخواہ نہیں ہو۔ جو کوئی خود کو بادشاہ کہلوانے کا اعلان کرتا ہے وہ قیصر کا مخالف سمجھا جاتا ہے۔‘‘ پیلاطوس نے کہا، ’’کیا میں تمہارے بادشاہ کو مصلوب کر دوں؟‘‘ سردار کاہن چلائے، ’’ہمارا قیصر کے علاوہ کوئی بادشاہ نہیں ہے۔‘‘ تب پیلاطوس نے یسوع کو سپاہیوں کے حوالے کر دیا، اور وہ اُس کو مصلوب کرنے کے لیے وہاں سے لے کر چلے گئے۔

یسوع نے صلیب پر کیلوں سے جڑے جانے پر ہولناک درد اور ھیبت ناک اذیت اُٹھائی تھی۔ مگر جس وقت وہ دُکھ اُٹھا رہا تھا تو اُس نے یہ الفاظ ادا کیے،

پہلا کلمہ – معافی

’’جب وہ اُس مقام پر پہنچے جسے کلوری کہتے ہیں تو وہاں اُنہوں نے یسوع کو مصلوب کیا اور اُن دو مجرموں کو بھی، ایک کو یسوع کی داہنی طرف اور دوسرے کو بائیں طرف۔ تب یسوع نے کہا، اَے باپ! اِنہیں معاف کر کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کررہے ہیں اور اُنہوں نے اُس کے کپڑوں پر قُرعہ ڈال کر اُنہیں بانٹ لیا‘‘ (لوقا 23:33۔34).

یہ وجہ ہے کہ یسوع صلیب پر گیا تھا – ہمارے گناہوں کو معاف کروانے کے لیے۔ یسوع جان بوجھ کر ہمارے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر گیا تھا۔

دوسرا کلمہ – نجات

’’دو مجرم جو مصلوب کیے گئے تھے، اُن میں سے ایک نے یسوع کو طعنہ دے کر کہا، اگر تُومسیح ہے تو اپنے آپ کو اور ہمیں بچا۔ لیکن دوسرے نے اُسے جھِڑکا اور کہا، کیا تجھے خدا کا خوف نہیں حالانکہ تُو خود بھی وہی سزا پا رہا ہے؟ ہم تو اپنے جرموں کی سزا پا رہے ہیں اور ہمارا قتل کیا جانا واجب ہے لیکن اِس نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ اَے یسوع! جب تُو بادشاہ بن کر آئے تو مجھے بھی یاد کرنا۔ اور یسوع نے اُس سے کہا، میں تجھے یقین دلاتا ہُوں کہ تُو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہوگا‘‘ (لوقا 23:39۔43)۔

یسوع صلیب پر گنہگاروں کو بچانے کے لیے مرا۔ پہلا گنہگار جو اُس نے بچایا صلیب پر اُس کے قریب ایک یقین رکھنے والا ڈاکو تھا۔ بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ وہ بچایا جانا سیکھ سکتے ہیں۔ مگر اِس ڈاکو نے تو کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ نہیں سیکھا تھا۔ اُس نے محض یسوع پر بھروسہ کیا تھا۔ دوسرے سوچتے ہیں کہ اُنہیں کوئی نہ کوئی مخصوص احساس یا اندرونی تبدیلی ضرور ہونی چاہیے۔ مگر ڈاکو کے پاس اُن میں سے کچھ بھی نہیں تھا۔ اُس نے محض یسوع پر بھروسہ کیا تھا۔

تیسرا کلمہ – چاہت

’’یسوع کی صلیب کے پاس اُس کی ماں، ماں کی بہن مریم جو کلوپاس کی بیوی تھی اور مرم مگدلینی کھڑی تھیں۔ جب یسوع نے اپنی ماں کو اور اپنے ایک عزیز شاگرد کو نزدیک ہی کھڑے دیکھا تو ماں سے کہا، اَے خاتُون! اب سے تیرا بیٹا یہ ہے۔ پھر شاگرد سے کہا، اب سے تیری ماں یہ ہے۔ وہ شاگرد اُسی وقت اُسے اپنے گھر لے گیا‘‘ (یوحنا 19:25۔27).

یسوع نے یوحنا سے اپنی ماں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے کہا۔ یسوع ہم سے چاہتا ہے کہ مقامی گرجہ گھر کی رفاقت میں ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔

چوتھا کلمہ – متبادلیاتی کفارہ

’’بارہ بجے سے لے کر تین بجے تک سارے ملک میں اندھیرا چھایا رہا اور تین بجے کے قریب یسوع بڑی اونچی آواز سے چلایا، ایلی، ایلی، لما شبقتانی، جس کا مطلب ہے، اَے میرے خدا، اَے میرے خدا، تونے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‘‘ (متی 27:45۔46).

یسوع کی ناراض چیخ ظاہر کرتی ہے کہ جب وہ ہمارے گناہ کے لیے متبادلیاتی قربانی بنا تو اُس کو خُدا باپ سے جُدا کر دیا گیا۔

پانچواں کلمہ – دُکھ

’’جب یسوع نے جان لیا کہ اب سب باتیں تمام ہوئیں تو اِس لیے کہ پاک کلام کا لکھا پُورا ہو اُس نے کہا، ’’میں پیاسا ہُوں‘‘ نزدیک ہی ایک مرتبان سِرکے سے بھرا رکھا تھا۔ اُنہوں نے اِسفنج کو سِرکے میں ڈبو کر سَرکنڈے کے سِرے پر رکھ کر یسوع کے ہونٹوں سے لگایا‘‘ (یوحنا 19:28۔29).

یہ اُس عظیم اذیت کو ظاہر کرتی ہے جس میں سے یسوع ہمارے گناہوں کے کفارے کی ادائیگی کے لیے گزرا۔

چھٹا کلمہ – کفارہ

’’جب یسوع نے سرکہ پیا تو پیتے ہی کہا، ’’پورا ہوا‘‘ اور سر جھکا کر جان دے دی‘‘ (یوحنا 19:30).

ہر چیز جس کی ہماری نجات کے لیے ضرورت تھی اب ختم ہو گئی تھی۔ ایک کھوئے ہوئے شخص کے لیے ماسوائے یسوع پر بھروسہ کرنے کے اور کچھ بھی نہیں بچا تھا۔

ساتواں کلمہ – باپ کے لیے عزم

’’اور یسوع نے اونچی آواز سے پُکار کر کہا، اَے باپ! میں اپنی رُوح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہُوں اور یہ کہہ کر دم توڑ دیا‘‘ (لوقا 23:46).

رومی فوج کے ایک اکھڑ افسر نے بہت سوں کو مصلوب ہوتے دیکھا تھا۔ اُس کا دِل سخت تھا۔ مگر اُس نے کسی کو بھی اِس طرح سے مرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا جیسے یسوع مرا تھا۔ رومی فوج کے افسر نے صلیب پر یسوع کے لٹکتے مُردہ جسم کی جانب اوپر دیکھا۔ اپنے گالوں پر بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ اُس نے کہا،

’’یہ شخص درحقیقت خدا کا بیٹا تھا‘‘ (مرقس 15:39).

خُدا کرے کہ آپ خُدا کے بیٹے پر بھروسہ کریں اور اُس کے خون کے وسیلے سے اور اُس کی قربانی کے وسیلے سے اپنے گناہوں سے بچائے جائیں۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: مرقس15:25۔39 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’کانٹوں کا ایک تاج A Crown of Thorns‘‘ (شاعرہ عائرہ ایف۔ سٹینفل پادری نے ترمیم کیا)۔
Ira F. Stanphill، 1914۔1993؛

لُبِ لُباب

جس دِن یسوع مرا

THE DAY JESUS DIED

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اِس پر پیلاطُس نے یسُوع کو اُن کے حوالہ کردیا تاکہ اُسے صلیب پر لٹکا دیا جائے اور وہ اُسے اپنے قبضہ میں لے کر وہاں سے چلے گئے۔ اور یسوع اپنی صلیب اُٹھا کر کھوپڑی کے مقام کی طرف روانہ ہُوا جسے عبرانی زبان میں گُلگُتا کہتے ہیں۔ وہاں اُنہوں نے یسوع کو اور اُس کے ساتھ دو اور آدمیوں کو بھی مصلوب کیا، ایک کو یسوع کی ایک طرف اور دوسرے کو دوسری طرف اور یسوع کو بیچ میں‘‘ (یوحنا 19:16۔18).

I. اوّل، اُس دِن تاریکی چھا گئی تھی، متی27:45؛ خروج10:21۔22 .

II. دوئم، اُس دِن ہیکل میں پردہ پھٹ گیا تھا، متی27:51 الف۔

III۔ سوئم، اُس دِن زمین پر ایک زلزلہ آیا تھا، متی 27:51ب؛ 1تیموتاؤس 2:5 .

III. چہارم، یسوع نے اُس دِن صلیب پر سے بات کی تھی، یوحنا19:4؛
لوقا23:33۔34، 39۔43؛ یوحنا19:25۔27؛ متی27:45۔46؛
یوحنا19:28۔29، 30؛ لوقا23:46؛ مرقس15:39 .