Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

جب آپ صلیب پر نظر ڈالتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں؟

?WHAT DO YOU SEE WHEN YOU LOOK AT THE CROSS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 13 اپریل، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, April 13, 2014

’’اور وہیں بیٹھ کر وہ اُس کی نگہبانی کرنے لگے‘‘ (متی 27:36).

جب میں ایک نوعمر تھا تو مجھے ہچکی لگ جاتی تھی اور میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے جب میں مصلوبیت کے بارے میں سُنتا تھا حالانکہ میں ابھی تک بچایا نہیں گیا تھا۔ میں تقریباً کیلوں کو مسیح کے ہاتھوں اور پیروں میں ٹھکتے ہوئے محسوس کر سکتا تھا۔ جب میں نے وہ گیت سُنا جو مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے بالکل ابھی گایا تو میں تقریباً رو پڑا تھا۔ مجھے اپنے سر کو دوسری جانب کرنا پڑا کیونکہ مجھے شرمساری ہو رہی تھی۔ میں مسیح کی اذیت کو محسوس کر سکتا تھا۔ میں اُس کے دُکھوں سے رنجیدہ ہو گیا تھا۔ یہ کوئی ڈھونگ نہیں تھا۔ اِس میں کہیں کوئی بناوٹ نہیں تھی۔ میں نے اپنے پیٹ کی اتھاہ گہرائی میں تکلیف دہ درد محسوس کیا جب میں نے مسیح کے بارے میں صلیب پر اذیت کا سوچا۔

میں نے اتوار کی عبادت کے دوران نوجوان لوگوں میں ایسا محسوس ہوتا ہوا آج کے زمانے میں کبھی بھی نہیں سُنا۔ اور مجھے تعجب ہوتا ہے کیونکہ کبھی نہیں سُنا۔ لوگوں کے لیے مسیح کے دکھوں کے لیے ہمدردی محسوس کرنا کیوں اِس قدر مشکل ہوتا ہے؟ ہمدردی کا مطلب ہوتا ہے کہ اُس درد کو محسوس کرنا جو کوئی دوسرا محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ آج کسی اور کی جانب جو اذیت میں ہوتا ہے ترس، دُکھ یا رحم دلی کے احساسات سے بے حس دکھائی دیتے ہیں۔ بہت سال پہلے مجھے ششدر رہ جانا یاد ہے جب نوجوان لوگوں کا ایک گروہ ہنس پڑا تھا کیونکہ اُنہوں نے ایک چھوٹے سے کتے کے بچے کے پیٹ پر ٹھوکر مارتے ہوئے دیکھا۔ اُن کا ہنسنا اِس قدر نامناسب تھا کہ اِس نے مجھے دھشت زدہ کر دیا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں، اُن میں سے ہر ایک نے ہمارے گرجہ گھر کو چھوڑ دیا تھا۔ اُن لوگوں کا مسیحی بننے کے لیے جو اِس قدر سخت دِل ہوتے ہیں ایک حقیقی معجزے کی ضرورت پڑتی ہے!

میں یقین کرتا ہوں کہ اِس سخت دلی کے سبب کا تعاقب اُس سے کیا جا سکتا ہے جو نوجوان لوگ ٹیلی ویژن پر اور فلموں میں اور بہت زیادہ حد تک ہمارے معاشرے میں دیکھتے ہیں۔ مشی گن Michigan کی یونیورسٹی نے 1999 میں ایک مطالعہ جاری کیا جو ظاہرکرتا تھا کہ 18 برس کی عمر تک نوجوان لوگ 16,000 سے زیادہ قتل و غارت گری دیکھتے ہیں – تقریباً ٹیلی ویژن پر 900 قتل ہر سال۔ اور یہ صرف ٹیلی ویژن ہے! اِس میں وہ قتل اور اموات شامل نہیں ہیں جو وہ فلموں، ویڈیو گیمز اور مختلف قسم کی خبروں کے پروگراموں میں دیکھتے ہیں! اُس تمام دھشت اور قتل و غارت گری سے بالا تر، نوجوان لوگ انتہائی حد تک آگاہ ہیں کہ مُلک میں ہر روز ایک اسقاط حمل کرنے والے کی چھری کے نیچے 3,000 نوزائیدہ مر جاتے ہیں! جی ہاں، ہر روز 3,000 – ساڑھے بارہ لاکھ ہر سال! اِس قدر زیادہ خونریزی کو نوجوان لوگوں کے ذہنوں میں اُنڈیلے جانے کا اُن کے جذبات کے ساتھ کچھ نہ کچھ تعلق تو بنتا ہی ہے۔ میں قائل ہو چکا ہوں کہ اِس نے آج کی نسل کو اُن لوگوں کے احساسات کے لیے جو دُکھ برداشت کر رہے ہیں پتھر دِل اور جذباتی طور پر بے حس کر دیا ہے۔

آج کی صبح میں آپ سے مسیح کی اُس دھشت کو جس سے وہ صلیب پر گزرا کوشش کر کے محسوس کرنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ جب آپ مسیح کی صلیب کی جانب دیکھتے ہیں تو آپ کو کیا نظر آتا ہے؟ جس روز مسیح نے اذیتیں سہیں، تو وہاں پر اُس کی صلیب کے قریب بہت سے لوگ تھے۔ ہماری تلاوت کہتی ہے کہ وہ سپاہی جنہوں نے اُس کو صلیب پر کیلوں سے جڑا تھا وہیں پر بیٹھ کر ’’اُس کی نگہبانی‘‘ کرنے لگے (متی27:36)۔ بہت سے دوسرے بھی وہیں پر اُس کو دیکھ رہے تھے۔ اُن میں سے کون سے لوگ آپ کی مانند ہیں؟ اِس کے بارے میں سوچیں۔ جب آپ مسیح کو صلیب پر دیکھتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں؟

I۔ اوّل، کاہنوں اور بزرگوں نے صلیب پر ایک دشمن کو مرتے ہوئے دیکھا تھا۔

’’اِسی طرح سردار کاہن، شریعت کے عالم اور بزرگ بھی اُس کی ہنسی اُڑاتے تھے اور کہتے تھے، اِس نے اوروں کو بچایا لیکن اپنے آپ کو نہیں بچا سکا۔ یہ تو اِسرائیل کا بادشاہ ہے! اگر اب بھی صلیب پر سے اُتر آئے تو ہم اُس پر ایمان لے آئیں گے۔ اِس کا توکل خدا پر ہے۔ اگر خدا اِسے چاہتا ہے تو اب بھی اِسے بچا لے۔ کیونکہ اِس نے کہا تھا کہ میں خدا کا بیٹا ہُوں‘‘ (متی 27:41۔43).

اُنہوں نے اُس کا تمسخر اُڑایا اور اُسے مذاق کا نشانہ بنایا جب وہ صلیب پر اذیت میں تھا۔ اُنہوں نے اُس کو ایک دشمن کے طور پر دیکھا تھا، اور وہ اُس سے چھٹکارہ پا کر بہت خوش تھے۔ آج بھی اِس قسم کے لوگ ہیں۔ ایچ بی او HBO اصل میں بِل ماحر Bill Maher جیسے شخص کو پیسے دیتا ہے کہ وہ خُدا کا مذاق اُڑائے اور مسیح کو مذاق کا نشانہ بنائے۔ رچرڈ ڈاؤکنز Richard Dawkins اور کرسٹوفر حیچنز Christopher Hitchens نے اچھا خاصا ذریعہ معاش مسیح اور بائبل اور خود خُدا پر حملے کرنے سے بنا لیا ہے! وہ دہریت کے کاہن اور بزرگان بن چکے ہیں۔ میڈالِن میورے او ھیئر Madalyn Murray O’Hair ، وہ دہریہ جس نے دعا اور بائبل کی تلاوت کو ہمارے سکولوں میں ممنوع قرار دیا، نے کہا،

’’یہ تمام ممکن دُنیاؤں میں سے بہتر ترین ہوگی اگر ہر شخص ایک دہریہ ہو۔‘‘

’’میں ایک دہریہ ہوں کیونکہ مذہب ایک بیساکھی ہے اور صرف اپاہجوں کو بیساکھیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

’’میں کسی بھی رضامند آدمی کے ساتھ کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ جہاں پر مجھے ذرا سی بھی خوشی ہو گی جنسی کاروائی میں ملوث ہو جاؤں گا۔‘‘

یہ ہے جو دہریت کے سردار کاہن سوچتے ہیں! یہ ہے جو آپ کے کالج کے بہت سے پروفیسرز، دُنیاوی سکولوں میں پروفیسر سوچتے ہیں۔ خُدا اُنہیں نظر انداز کرتا ہے، جیسا کہ اُس نے واقعی میں اُن بے دین لوگوں کو جو صلیب کے نیچے تھے نظر انداز کیا۔ وہ صرف اتنا کہتا ہے، ’’احمق اپنے دِل میں کہتا ہے کوئی خُدا ہے ہی نہیں‘‘ (زبور14:1)۔ کیا آپ اُن کی مانند ہیں؟ جب آپ صلیب کی جانب نظر اُٹھاتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں؟

II۔ دوئم، رومی سپاہیوں نے صلیب کے پیروں تلے ایک لبادے پر جوّا کھیلنے کو دیکھا تھا۔

’’اور جب وہ اُسے صلیب پر چڑھا چُکے تو قُرعہ ڈال کر اُس کے کپڑوں کو آپس میں بانٹ لیا: کہ نبی کی معرفت جو کہا گیا تھا وہ پورا ہو، اُنہوں نے آپس میں میرے کپڑے بانٹ لیے، اور میرے لباس پر قرعہ ڈالا۔ اور وہیں بیٹھ کر اُس کی نگہبانی کرنے لگے‘‘ (متی 27:35۔36).

یہ لوگ اِس قدر مادہ پرست تھے کہ اگر وہ کچھ سوچ سکے تو وہ مسیح کے کپڑوں کے بارے میں تھا۔ وہ تھوڑے پیسوں کے قابل تھا، اور اُن کے ذہن اِس قدر بے حس تھے کہ اگر وہ اِس بارے میں کچھ سوچ سکتے تھے تو وہ مسیح کے لباس سے جتنے بھی پیسے حاصل کر سکیں کر لیں! آپ کے ذہن کی توجہ کہاں پر مرکوز ہے؟ جب آپ صلیب کی جانب دیکھتے ہیں تو آپ کو کیا نظر آتا ہے؟

بہت سے کالج کے طالب علم خوفزدہ ہوتے ہیں کہ اگر وہ مسیحی ہوگئے تو یہ اُن کی تعلیم کے ساتھ مداخلت کرے گا، اور جب وہ تعلیم مکمل کر لیں گے تو اُنہیں اتنی اچھی ملازمت نہیں ملے گی۔ دولت! دولت! دولت! یہی ہے جس کے بارے میں بہت سے چینی لوگ سوچتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’اگر میں مسیحی بن گیا تو اِس کی مجھے قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘‘

کافی عرصہ پہلے، جب میں ایک چینی گرجہ گھر کا رُکن تھا، میں نے زندگی بدل ڈالنے والا ایک فیصلہ کیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں مسیح کی پیروی کروں گا چاہے مجھے اِس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے! یسوع نے ایک بہت بڑا سوال پوچھا تھا جب اُس نے کہا،

’’آدمی اگر ساری دنیا حاصل کرلے مگر اپنی جان کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟‘‘ (مرقس 8:36).

واررن بوفٹ Warren buffett تمام دُنیا کے پانچ امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہے۔ مگر وہ خاندانی منصوبہ بندی کے لیے، ماؤں کی کوکھ ہی میں بے یارومددگار نوزائیدوں کو قتل کرنے میں مدد دینے کے لیے، ہر سال کروڑوں ڈالرز دیتا ہے۔ اُس کی جان کے ساتھ کیا ہوگا جب وہ مرتا ہے؟ وہ اب 80 سال سے زیادہ عمر کا ہوگیا ہے۔ اس سے اُس کو کیا منافع ہوگا کہ وہ اس قدر دولت جمع کر لے اور خود اپنی جان کو ابدیت تک کے لیے جہنم کی گہرائیوں میں کھو دے؟

رومی سپاہیوں نے صرف اُس دولت کو دیکھا تھا جو وہ مسیح کے لباس سے حاصل کر سکتے تھے۔ جب آپ مسیح کی صلیب کی جانب دیکھتے ہیں تو آپ کو کیا دکھائی دیتا ہے؟

III۔ سوئم، مسیح کے ساتھ مصلوب ڈاکوؤں میں سے ایک نے اُسے صلیب پر ایک ہارے ہوئے شخص کے طور پر دیکھا تھا۔

وہاں پر یسوع کی دونوں جانب صلیبوں پرکیلوں سے جڑے ہوئے دو ڈاکو تھے۔ پہلے والے نے یسوع پر نظر ڈالی اور سوچا کہ وہ صرف کوئی دوسرا مجرم ہے۔ اُس نے سوچا کہ یسوع محض ایک دیوانہ ہے جو یقین کرتا ہے کہ وہ خُدا کا بیٹا ہے۔ اُس نے یسوع کو ایک مذہبی انتہا پسند کے طور پر نظرانداز کر دیا، اور یسوع کا تمسخر اُڑاتے ہوئے اور بدنام کرتے ہوئے منہ موڑ لیا۔

سالوں پہلے میرا ایک دوست تھا جو ایک اچھا انسان تھا۔ میں ہمیشہ اُسے پسند کرتا تھا۔ ایک رات میں نے اُس سے التجا کی کہ میرے ساتھ گرجہ گھر انجیل سُننے کے لیے آئے۔ اُس نے کہا، ’’جی نہیں۔‘‘ پھر اُس نے کہا، ’’ہر ایک کو خود اپنا اپنا، رابرٹ۔ ہر ایک کا خود اپنا اپنا۔‘‘ جب میں تک زندہ رہوں گا میں اُسے یہ کہتا ہوا کبھی بھی نہیں بھول پاؤں گا۔ اُس کا مطلب تھا کہ میرے پاس ایک گرجہ گھر تھا اور اُس کے پاس شراب نوشی کرنے والے دوستوں کا ایک گروہ تھا۔ جو میرے لیے اچھا تھا وہ اُس کے مقابلے میں مختلف تھا جو اُس کے لیے اچھا تھا۔ ’’ہر ایک کا خود اپنا اپنا، رابرٹ۔ ہر ایک کا خود اپنا اپنا۔‘‘ کچھ سالوں کے بعد میں نے اُس کے کفن میں جھانک کر دیکھا۔ اُس کے سر پر ایک بھی سفید بال نہیں تھا۔ اُس کے چہرے پر ایک بھی جُھری نہیں تھی۔ وہ صرف ابھی اپنی چالیس کی دہائی میں تھا۔ کسی نہ کسی طرح وہ جانتا تھا کہ یہ اِسی طرح اختتام پزیر ہوگا۔ حالانکہ اُس کی صحت اچھی تھی، وہ مجھے بتایا کرتا تھا، ’’میں کبھی بھی پچاس کا نہیں ہو پاؤں گا، رابرٹ۔ میں کبھی بھی پچاس کا نہیں ہو پاؤں گا۔‘‘ وہ اڑتالیس برس کا تھا جب وہ اچانک اپنے گھر ہی میں مر گیا تھا۔ میں نے اُس کفن میں اُس پر نظر ڈالی اور اُس کے الفاظ میرے ذہن میں گردش کر گئے، ’’ہر ایک کا خود اپنا اپنا، رابرٹ۔ ہر ایک کا خود اپنا اپنا۔‘‘ جب میں نے اُس کا جنازہ ادا کیا تو میں اُس کے گھر والوں اور دوستوں کو اُمید کا ایک لفظ بھی نہیں پیش کر پایا – اُمید کا ایک لفظ بھی نہیں! میں صرف اُنہیں جن کو وہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا تھا انجیل کی منادی کر پایا۔

وہ پہلا چور جو یسوع کے پہلو میں مصلوب تھا، اور گُستاخانہ الفاظ بُڑبُڑا رہا تھا۔ اُس نے سوچا تھا کہ یسوع محض ایک اور انتہا پسند مذہبی شخص تھا۔ اُس دِن سورج کے غروب ہونے سے پہلے یہ شخص جہنم میں تھا۔ جب آپ صلیب مسیح کی صلیب کی جانب دیکھتے ہیں تو آپ کو کیا دکھائی دیتا ہے؟

IV۔ چہارم، دوسرے ڈاکو نے اُس کو صلیب پر خُداوند کی حیثیت سے اور نجات دہندہ کے طور پر دیکھا تھا

وہ آدمی اُس ساری صبح باقی کے تمام ہجوم کے ساتھ یسوع کے خلاف کفر بکتا رہا تھا۔ مگر دوپہر کو ایک عجیب تاریکی زمین پر چھا گئی تھی۔ اُس نے یسوع کو اُن کے لیے جنہوں نے اُس کو مصلوب کیا تھا دعا کرتے ہوئے سُنا۔

’’تب یسوع نے کہا، اَے باپ! اِنہیں معاف کر کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کررہے ہیں‘‘ (لوقا 23:34).

یسوع کا اُن لوگوں کے لیے دعا مانگنا جو اُس کو مار رہے تھے اِس نے اُس دوسرے چور کے دِل کو شدت کے ساتھ جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اُس نے یسوع کا مذاق اُڑانا بند کردیا۔ اپنے سر کو گھماتے ہوئے، اُس نے نجات دہندہ پر نظر ڈالی، اور اُس کا دِل پگھل گیا۔ وہ کسی بھی ایسے شخص کو نہیں جانتا تھا جس نے اپنے دشمنوں کی معافی کے لیے دعا مانگی ہو۔

’’اے باپ، اِنہیں معاف کر!‘‘ یوں اُس نے دعا مانگی،
جبکہ اُس کا زندگی بچانے والا خون تیزی سے بہہ رہا تھا؛
اِس قدر شدید رنج و غم میں بھی وہ گنہگاروں کے لیے دعا مانگ رہا تھا –
کسی نے بھی نہیں ماسوائے یسوع کے کبھی ایسا پیار کیا۔
مبارک مُنّجی! بیش قیمت مخلصی دلانے والا!
ظاہر ہوتا ہے کہ میں نے اب اُسے کلوری کی صلیب پر دیکھ لیا ہے؛
زخموں سے چور، گنہگاروں کے لیے التجا کرتے ہوئے –
اندھا اور بے دھیان – میرے لیے مرتا ہوا!
(مبارک منّجی Blessed Redeemer‘‘ شاعر ایوِز برجیسن کرسچنسن
      Avis Burgeson Christiansen، 1895۔1985)۔

ڈاکو صرف ہجوم کی سفاکی کے بارے میں جانتا تھا، اُن کے لیے یسوع کی حساس محبت کو جانتا تھا، اور یسوع کے سر پر کُنندہ عبارت کو جانتا تھا جو کہتی تھی، ’’یہ یہودیوں کا بادشاہ ہے‘‘ (لوقا23:38)۔ اچانک اِس شخص نے اِس بات کا یقین کر لیا! وہ یقیناً یسوع کے ذریعے سے لوگوں کے شفایاب ہونے اور بحال ہونے کے بارے میں سُن چکا تھا۔ وہ یقیناً سُن چکا تھا جس کی یسوع منادی کرتا رہا تھا۔ اب یہ سب کچھ اکٹھا ہی اُس کے ذہن میں آ گیا تھا۔ یہ یہودیوں کا بادشاہ ہے! یہ ہی مسیحا ہے! یہ ہی نجات دلانے والا ہے! اُس کے پاس تمام کے تمام حقائق نہیں تھے۔ مگر ہم میں سے کتنوں کے پاس یسوع کے بارے میں تمام کے تمام حقائق ہوتے ہیں؟ میں جانتا ہوں کہ میرے پاس تمام کے تمام حقائق نہیں ہیں – اور میری رائے میں نہ ہی کسی اور کے پاس ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز Dr. Lloyd-Jones نے کہا، ’’حقائق کافی نہیں ہیں۔‘‘ مسیح کے بارے میں جاننے کے لیے بہت کچھ باقی ہے جو کہ ہم اپنے چھوٹے سے ذہنوں کے ساتھ کبھی بھی مکمل طور پر نہیں سمجھ پائیں گے! مگر یہ ڈاکو جانتا تھا کہ وہ ایک گنہگار تھا۔ اُس نے اپنے دِل میں محسوس کیا تھا! اُسی نے بے اعتقادے ڈاکو سے کہا تھا، ’’ہم تو اپنے جرموں کی سزا پا رہے ہیں اور ہمارا قتل کیا جانا واجب ہے لیکن اِس نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے – کوئی ایک بھی نہیں‘‘ (لوقا23:41)۔ بِلاشُبہ، ’’حقائق کافی نہیں ہیں۔‘‘ یہ ہے جہاں پر میں سوچتا ہوں کہ ہمارے اصلاحی بھائی غلطی پر ہیں۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز Dr. Lloyd-Jones سچے تھے، ’’حقائق کافی نہیں ہیں۔‘‘ اگر آپ خود پر ثابت کرنے کے لیے حقائق کی تلاش کر رہے ہیں، تو آپ اپنے گناہوں ہی میں مر جائیں گے اور کبھی بھی بچائے نہیں جائیں گے۔ بائبل بالکل واضح کہتی ہے، ’’انسان دِل سے ایمان لا کر راستباز ٹھہرایا جاتا ہے‘‘ (رومیوں10:10)۔

یہ ہے جہاں پر میرے جدید مبلغین غلطی پر ہوتے ہیں۔ وہ دِل کو نہیں بلکہ سر کو تبلیغ کرتے ہیں۔ اوہ، مہربانی سے خُدایا، مجھے ایسا مت کرنے دینا! مہربانی سے اے باپ، مجھے اُن کے دِلوں کے لیے منادی کرنے کے لیے مدد دینا! ’’کیونکہ انسان دِل سے ایمان لا کر راستباز ٹھہرایا جاتا ہے۔‘‘ اِس بیچارے مرتے ہوئے ڈاکو نے پھر اپنے سر کو گھومایا اور یسوع پر نظر ڈالی – اور اُس نے کہا

،

’’اَے یسوع! جب تُو بادشاہ بن کر آئے تو مجھے بھی یاد کرنا‘‘ (لوقا 23:42).

اُن کے منہ سے اُن الفاظ کے ادا ہونے سے پہلے، دوسرا ڈاکو پہلے ہی بچایا جا چکا تھا! وہ بہت کم عقیدے کو جانتا تھا۔ اُس کو کوئی خاص احساس نہیں تھا یا اُس کے پاس کوئی خاص ثبوت نہیں تھا کہ یسوع ہی خُداوند اور نجات دہندہ تھا۔ مگر اُس نے یسوع پر بھروسہ کیا تھا، اور انسان دِل سے ایمان لا کر راستباز ٹھہرایا جاتا ہے۔‘‘ اُس نے سادگی سے یسوع پر بھروسہ کیا تھا! یہی سب کچھ ہے جو خُدا کو چاہیے!

جس لمحے ایک گنہگار یقین کرتا ہے،
اور اپنے مصلوب خُدا میں بھروسہ کرتا ہے،
اُس کی معافی ایک دم وہ قبول کرتا ہے،
اُس کے خون میں نجات مکمل ہوتی ہے!
   (’’جس لمحے ایک گنہگار یقین کرتا ہے
   The Moment a Sinner Believes‘‘ شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart، 1712۔1768)۔

ڈاکو نے یسوع میں یقین کیا تھا، اور ایک ہی لمحے میں بچایا گیا تھا! آپ جانتے ہیں کہ اِس ہی طرح سے ہم تمام کے تمام نجات پاتے ہیں! ہم یسوع میں یقین کرتے ہیں۔ ہم اُس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہم بچا لیے جاتے ہیں! اور یسوع نے اُس ڈاکو سے جو بچایا گیا تھا کہا،

’’میں تجھے یقین دلاتا ہُوں کہ تُو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہوگا‘‘(لوقا23:43).

ٹھیک اُس ہی دِن وہ ڈاکو صلیب پر مرے گا اور یسوع کے ساتھ فردوس میں ہوگا!

مصلوب کیے گئے کے خون سے بچایا گیا!
اب گناہ سے بخشا گیا اور ایک نئی [زندگی] کا آغاز ہوا،
باپ کے لیے گاؤ ستائش کرو اور بیٹے کے لیے ستائش کرو،
میں مصلوب کیے گئے کے خون سے بچایا گیا ہوں!
بچایا گیا! بچایا گیا! میرے تمام گناہ معاف کیے گئے ہیں،
میرے تمام قصور جا چکے ہیں!
بچایا گیا! بچایا گیا! میں مصلوب کیے گئے کے خون سے بچایا گیا ہوں!
   (’’خون کے وسیلے سے بچایا گیا Saved by the Blood‘‘ شاعر ایس۔ جے۔ ھینڈرسن
    S. J. Henderson، 1902)۔

جس لمحے آپ یسوع میں یقین کرتے ہیں، اور اپنے دِل میں اُس پر بھروسہ کرتے ہیں، تو جیسے وہ ڈاکو – منجی کے ساتھ صلیب پر بچایا گیا تھا آپ بھی ہر طرح سے بچائے جاتے ہیں۔ یسوع نے ڈاکو کو بچا لیا تھا۔ اُس دِن اُس خون کے ساتھ جو اُس نے صلیب پر بہایا تھا انسان کے تمام گناہ دھو ڈالے تھے! اور آج صبح اُس کا خون آپ کے گناہ دھو ڈالنے کے لیے میسر ہے! کبھی کسی مبلغ کا یقین مت کریں جو آپ سے کہتا ہے کہ کوئی خون نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’موت اور صلیب کے بارے میں بات کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ امتحان تو ’خون‘ ہوتا ہے!‘‘

اگر آپ سادگی کے ساتھ اِس صبح یسوع پر بھروسہ کریں گے تو آپ اُس کے خون کے وسیلے سے اپنے تمام گناہوں سے پاک صاف ہو جائیں گے! آپ بچا لیے جائیں گے! آپ ایک حقیقی مسیحی ہونگے! آپ آسمان کے لیے تیار ہونگے! آپ مسیح میں ایک نئی زندگی پائیں گے! توبہ کریں اور نجات دہندہ پر ابھی بھروسہ کریں!

اگر آپ بچائے جانے اور ایک حقیقی مسیحی بننے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہیں تو مہربانی سے اپنی نشست چھوڑیں اور ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کی ایک اور کمرے تک رہنمائی کریں گے جہاں پر ہم بات چیت اور دعا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ یہاں پر پہلی مرتبہ آئے ہیں، اور آپ کے پاس کوئی سوال ہے جو آپ اِس واعظ کے بارے میں مجھ سے پوچھنا چاہتے ہیں تو بالکل ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ میں بذاتِ خود آپ کے ساتھ بیٹھوں گا اور آپ سے بات چیت کروں گا۔ جلدی سے جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan مہربانی سے دعا کریں کہ اِس صبح کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: متی27:35۔44 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
(مبارک منّجی Blessed Redeemer‘‘ شاعر ایوِز بی. کرسچنسن Avis B. Christiansen، 1895۔1985)

لُبِ لُباب

جب آپ صلیب پر نظر ڈالتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں؟

?WHAT DO YOU SEE WHEN YOU LOOK AT THE CROSS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اور وہیں بیٹھ کر وہ اُس کی نگہبانی کرنے لگے‘‘ (متی 27:36).

I. اوّل، کاہنوں اور بزرگوں نے صلیب پر ایک دشمن کو مرتے ہوئے دیکھا تھا، متی 27:41-43؛ زبور 14:1۔

II. دوئم، رومی سپاہیوں نے صلیب کے پیروں تلے ایک لبادے پر جوّا کھیلنے کو دیکھا تھا، متی 27:35۔36؛ مرقس 8:36۔

III. سوئم، مسیح کے ساتھ مصلوب ڈاکوؤں میں سے ایک نے اُسے صلیب پر ایک ہارے ہوئے شخص کے طور پر دیکھا تھا۔

IV. چہارم، دوسرے ڈاکو نے اُس کو صلیب پر خُداوند کی حیثیت سے اور نجات دہندہ کے طور پر دیکھا تھا، لوقا 23:34، 38، 41؛ رومیوں 10:10؛ لوقا 23:42، 43۔