Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مُنّجی کی شرمندگی

THE SAVIOUR’S SHAME
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 30 مارچ، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, March 30, 2014

’’جس نے اُس خُوشی کے لیے جو اُس کی نظروں کے سامنے تھی شرمندگی کی پرواہ نہ کی بلکہ صلیب کا دُکھ سہا اور خدا کے تخت کی دائیں طرف جا بیٹھا‘‘ (عبرانیوں 12:‏2).

اِس واعظ کو سپرجیئن کے تین نکاتی واعظ ’’مبلغین کا شہزادہ the Prince of Preachers‘‘ کے صرف ایک نقطے سے اخذ کیا گیا تھا۔ خُدا کرے اِس سے آپ کو برکت ملے!

میں نے ہمیشہ تعجب کیا ہے کہ زیادہ تر جدید مبلغین اتواروں سے لیکر ایسٹر کے اتوار تک مسیح کے دُکھوں کے بارے میں کیوں بات نہیں کرتے۔ وہ ایسٹر سنڈے تک اپنی تفسیروں اور اپنی مدد آپ کے تحت باتوں کو کرنا جاری رکھتے ہیں۔ پھر اچانک ہی بغیر کسی وجہ کے وہ یسوع کے قبر میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں بات کرتے ہیں!

ڈاکٹر مائیکل ہارٹن Dr. Michael Horton نے نشاندہی کی کہ بہت سے انجیلی بشارت کے پادری تو ایسٹر کے موقع پر یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے پر تبلیغ تک نہیں کرتے! اُنہوں نے ایک آزاد خیال عالم الہٰیات کے بارے میں بتایا جو ایک بہت بڑے انجیلی بشارت کے گرجہ گھر میں جاتے تھے۔ اُنہوں نے سوچا کہ وہ انجیل کو سُنیں گے۔ اِس کے بجائے اُنہوں نے ’’یسوع ہمیں کیسے اپنی رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے قوت بخشتا ہے‘‘ کے موضوع پر ایک واعظ سُنا۔ پھر ڈاکٹر ہارٹن نے ایک آزاد خیال میتھوڈسٹ عالم الہٰیات کے بارے میں بتایا جو ایک دوسرے ’’بائبل پر یقین کرنے والے‘‘ گرجہ گھر میں گئے جہاں پر ’’واعظ کچھ اِس بارے میں تھا کہ یسوع نے اپنی مشکلات پر کیسے قابو پایا اور ہم بھی پا سکتے ہیں۔‘‘ وہ میتھوڈسٹ پروفیسر یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا کہ وہ تجربہ اِس بات کو پختہ کرتا ہے کہ اُس کی سوچ کہ بائبل پر یقین کرنے والوں کا ’’خوشخبری کے بجائے مشہور نفسیات، سیاسیات یا اخلاقیات کے بارے میں بات کرنے کا اتنا ہی امکان ہوتا ہے جتنا کہ آزاد خیال والوں کا ہوتا ہے‘‘ (مائیکل ہارٹن، پی ایچ۔ ڈی۔ Michael Horton, Ph. D.، مسیح کے بغیر مسیحیت: امریکی گرجہ گھر کی متبادل انجیل Christless Christianity: The Alternative Gospel of the American Church، بیکر کُتب Baker Books، 2008، صفحات29، 30)۔

آج یسوع کے دُکھوں اور موت پر انتہائی کم منادی ہوتی ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مبلغین فرض کر لیتے ہیں کہ ہر کوئی جو اُن کے گرجہ گھر میں آتا ہے پہلے سے ہی مسیحی ہوتا ہے – اور اِسی لیے مسیح کے دُکھوں کے بارے میں سُننے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ یہ وہی غلطی تھی جو انیسویں صدی کے آغاز میں جرمنی کے گرجہ گھروں نے کی تھی۔ لوئیس او براسٹو Lewis O. Brastow نے کہا کہ اُس زمانے میں جرمنی میں منادی کرنا اِس سوچ کی وجہ سے غلط ہو گیا کہ ہر کوئی جو اُن کی عبادتوں میں شرکت کر رہا تھا بچایا ہوا تھا۔ ڈاکٹر براسٹو نے کہا، ’’ایک بپتسمہ یافتہ مذہبی جماعت کے بارے میں فرض کر لیا جاتا ہے کہ وہ ایک مسیحی مذہبی جماعت ہے اور اِس کو اِسی طرح سے بُلانا چاہیے... یہ شاید کسی حد تک جرمنی میں منادی کرنے کی اُس متعلقہ بے تاثری کی وضاحت کر دے‘‘ (جدید مبلغین کے ترجمان Representative Modern Preachers، میک میلن Macmillan، 1904، صفحہ 11)۔ زیادہ تر بپتسمہ یافتہ منادی کرنے والے آج فرض کرلیتے ہیں کہ اُن کے اراکین پہلے سے ہی مسیحی ہیں، اِس لیے مسیح کے دُکھوں اور موت پر منادی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ میں پُریقین ہوں کہ اِسی نے ہمارے گرجہ گھروں میں آیت بہ آیت منادی کرنے کے انتہائی کمزور انداز کو جنم دیا ہے۔

میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ نجات پائے ہوئے لوگوں کو مسیح کے دُکھوں کے بارے میں بھی سُننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پطرس رسول نے کہا،

’’مسیح نے تمہارے لیے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کردی تاکہ تُم اُس کے نقشِ قدم پر چل سکو‘‘ (1۔ پطرس 2:‏21).

ہمارے گرجہ گھروں میں زیادہ تر لوگ آج کسی قسم کے دُکھوں میں سے گزرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حتیٰ کہ وہ تو اتوار کی شام کی عبادت یا وسط ہفتہ کے دعائیہ اِجلاس میں بھی نہیں آتے۔ ایک وجہ اِس حقیقت کو ہونا چاہیے کہ اُن کو مسیح کے عظیم دُکھوں کے بارے میں یاد ہی نہیں دلایا جاتا ہے – جن کے بارے میں پطرس رسول نے کہا ’’تمہارے لیے ایک مثال ہے کہ تم اِس کے نقش قدم پر چل سکو۔‘‘ ایک شخص نے مجھ سے شکایت کی کہ اُس کو گرجہ گھر میں حاضر ہونے کے لیے آنے اور جانے کے لیے چالیس چالیس منٹ کی ڈرائیونگ کرنی پڑتی ہے۔ میں نے اُس سے کہا کہ اِس کا اُس کو فائدہ ہوگا۔ آخرکو، مسیح نے ’’تمہارے لیے دُکھ اُٹھا کر ایک مثال قائم کردی تاکہ تُم اُس کے نقشِ قدم پر چل سکو‘‘ ہم صرف مسیح کے لیے دُکھوں میں سے گزرنے سے ہی مضبوط شاگرد بن سکتے ہیں، جیسا کہ ہمیں رومیوں5:‏3۔5 میں بتایا گیا۔ یہ ہمیں دوبارہ واپس ہماری تلاوت کی طرف لے آتی ہے، جو ہمیں اُس شرمندگی اور اُن دُکھوں کے بارے میں بتاتی ہے جن میں سے ہمیں بچانے کے لیے مسیح گزرا،

’’جس نے اُس خُوشی کے لیے جو اُس کی نظروں کے سامنے تھی شرمندگی کی پرواہ نہ کی بلکہ صلیب کا دُکھ سہا اور خدا کے تخت کی دائیں طرف جا بیٹھا‘‘ (عبرانیوں 12:‏2).

میں اُن الفاظ ’’شرمندگی کی پرواہ نہ کی‘‘ کو اُٹھا رہا ہوں۔ وہ یونانی لفظ جس نے ’’پرواہ نہ کرنے‘‘ کا ترجمہ کیا اُس کا مطلب ’’لحاظ نہ کیا‘‘ یا ’’اہمیت نہ دی‘‘ ہوتا ہے۔ ایلی کاٹ Ellicott ہمیں بتاتا ہے، ’’اِس کا لفظی معنی انتہائی زورآور ہے، شرمندگی کی پرواہ نہ کی بلکہ صلیب کا دُکھ سہا؛ ایسی موت کی شرمندگی جس کو اُس خوشی کے خلاف جو اُس کے سامنے تھی ترتیب دیا گیا‘‘ (چارلس جان ایلی کاٹ Charles John Ellicott، ایڈیٹر، تمام بائبل پر ایلی کاٹ کا تبصرہ Ellicott’s Commentary on the Whole Bible، جلد VIII، ژونڈروان پبلیشنگ ہاؤس Zondervan Publishing House، دیکھیے صفحہ 336؛ عبرانیوں12:‏2 پر غور طلب بات)۔

آج شام یہ میرا مقصد ہے کہ آپ پر یسوع کا شرمندگی میں دُکھ سہنا ظاہر کروں۔ کس قدر ہولناک بات کہ یسوع کو اُس دِن جب اُس نے ہمیں بچایا اِس قدر شرمندگی سے گزرنا پڑا! جوزف ہارٹ نے اِس کو سمجھ لیا تھا۔ اُس نے کہا،

دیکھیں یسوع کس قدر صبر سے کھڑا ہے،
   اس قدر ہولناک جگہ پر ذلت کی حالت میں!
جہاں گنہگاروں نے قادرِ مطلق کے ہاتھوں کو باندھ دیا،
   اور اپنے خالق کے منہ پر تھوک دیا۔
(’’اُس کے شدید دُکھ His Passion ‘‘ شاعر جوزف ہارٹ، 1712۔1768؛ پادری سے ترمیم کیا ہوا)۔

ہماری بہتری اور ہماری نجات کے لیے، یسوع کو چار طرح سے شرمندگی میں ڈالا گیا۔

I۔ اوّل، یسوع کے خلاف شرمندگی سے بھرپور الزامات کے بارے میں سوچیں۔

وہ گناہ سے ناآشنا تھا۔ اُس نے کوئی خطا نہیں کی تھی۔ حتیٰ کہ رومی گورنر پیلاطوس جس نے اُس کو مصلوب کروایا، ایسا کہا۔ پیلاطوس نے اُس پر الزام لگانے والوں کو کہا، ’’میں اِس شخص میں کوئی قصور نہیں پاتا‘‘ (لوقا23:‏4)۔ میں تو اِس شخص کو مجرم نہیں سمجھتا‘‘ (یوحنا18:‏38)۔ اِس کے باوجود یسوع پر بدترین قسم کے گناہ کا الزام لگایا گیا۔ اُس پر عدالتِ عالیہ کی طرف سے کفر بکنے پر سزا سُنائی گئی تھی۔ کیا وہ خُدا کے لیے کفر کہہ سکتا تھا؟ وہ جس نے خُدا کو پکار کر کہا تھا جب اُس کا پسینہ خون کی مانند بہا، ’’اے باپ... میری نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو‘‘ (لوقا22:‏42)۔ جی نہیں، یسوع نے کبھی بھی اپنے باپ، خُدا کے لیے کفر نہیں کہا۔ اور یہ اِس لیے ہے کیونکہ یہ اِس قدر اُس کے کردار کے خلاف ہے کہ اُس نے اِس الزام کی بھرپور شرمندگی کے ڈنگ کو محسوس کیا۔

اِس کے بعد اُنہوں نے اُس پر غداری کا الزام لگایا۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ ایک غدار تھا، جو کہ رومی شہنشاہ کے خلاف تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ اُس نے لوگوں کو جذباتی طور پر بھڑکایا ہے اور اُن سے کہا ہے کہ وہ ایک بادشاہ ہے۔ بِلاشُبہ وہ مکمل طور پر معصوم تھا۔ جب لوگوں نے اُس کو اُن کا بادشاہ ہونے کے لیے مجبور کیا، تو وہ اُن کو چھوڑ کر دعا کرنے کے لیے بیابان میں چلا گیا۔ اُس نے پیلاطوس کو بتایا، ’’میری بادشاہت اِس دُنیا کی نہیں ہے‘‘ (یوحنا18:‏36)۔ وہ کبھی بھی حکومت کے خلاف بغاوت کی رہنمائی نہیں کرے گا۔ اِس کے باوجود اُنہوں نے اُس پر الزام لگایا۔

II۔ دوئم، اُس شرمندگی سے بھرپور ٹھٹھوں کے بارے میں سوچیں جنہیں یسوع نے برداشت کیا۔

وہ شرمندگی سے بھرپور ٹھٹھوں سے بھی گزرا۔ اُس کو سپاہیوں نے برہنہ کر دیا تھا۔ اُس کے برہنہ بدن پر دو مرتبہ کوڑے مارے گئے۔ حالانکہ مصوروں نے صلیب پر اُس کی تصویر کو لنگوٹ کے ساتھ بنایا، وہ اصل میں پوری طرح ننگا تھا۔ اُس کے پاس گھورتی ہوئی آنکھوں اور بدکار ہجوم کے تمسخر اُڑاتے ہوئے لوگوں سے اپنے برہنہ بدن کو چُھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ اُنہوں نے اُس کے لبادے پر جوّا کھیلا جبکہ اُس کے پاس صلیب پر اپنی برھنگی کی شرمندگی چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔

اُنہوں نے اُس کا بطور خُدا کا بیٹا ہونے کی قدرت کا بھی مذاق اُڑایا۔ اُنہوں نے کہا، ’’اگر تو خُدا کا بیٹا ہے تو صلیب پر سے نیچے اُتر آ‘‘ (متی27:‏40)۔ وہ اُس پر چلائے،

’’اُس نے خُدا پر توّکل کیا۔ اگر خدا اِسے چاہتا ہے تو اب بھی اِسے بچالے۔ کیونکہ اِس نے کہا تھا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔ اِسی طرح وہ ڈاکو بھی جو اُس کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے اُسے بُرا بھلا کہتے تھے‘‘ (متی 27:‏43۔44).

اُس نے کچھ بھی نہیں کہا جب وہ اِس قدر بے شرمی سے اُس کا تمسخر اُڑا رہے تھے – کیونکہ اُس نے ’’شرمندگی کی پرواہ نہ کی اور صلیب کا بوجھ سہا‘‘ (عبرانیوں12:‏2)۔

دوبارہ، اُنہوں نے اُس کا تمسخر اُڑایا اور اُس پر اسرائیل کا بادشاہ ہونے کی حیثیت سے بےشرمی سے ہنسے۔ وہ اُن کا بادشاہ تھا، مگراُنہوں نے اُس کا تمسخر اُڑایا، اُس پر ہنسے، اور اُس کو شرمندہ کیا۔ وہ بادشاہوں کا بادشاہ اور خُداؤں کا خُدا تھا۔ اُس نے اُن تمام کو تباہ کرنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں بدلہ لینے والے فرشتوں کو بُلا لیا ہوتا۔ وہ زور سے پکارتا اور اُن کے پیروں تلے کی زمین کُھل گئی ہوتی اور وہ کورح کے ساتھ جس نے موسیٰ کے خلاف بات کی تھی، جیسے اُنہوں نے مسیح کے خلاف بات کی تھی ’’کھائی میں زندہ ہی‘‘ ہڑپ کر لیے جاتے (گنتی16:‏33)۔ اُس نے آسمان سے آگ نازل کردی ہوتی اور اُنہیں زندہ بھسم کر دیا ہوتا، جیسا کہ ایلیاہ نے اخزیاہ بادشاہ کے سپاہیوں کے ساتھ کیا تھا (2سلاطین 1:‏9۔10)۔ خود اپنے دفاع میں ’’پھر بھی اُس نے اپنا منہ نہ کھولا‘‘ (اشعیا53:‏7)۔

اُنہوں نے یہاں تک کہ ایک نبی کی حیثیت سے اُس کا بےشرمی سے تمسخر اُڑایا۔ اُنہوں نے اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھی۔ پھر اُنہوں نے اپنے مکّوں سے اُس کے چہرے پر مارا، اور کہا، ’’اگر تو نبی ہے تو بتا کس نے تجھے مارا؟‘‘ (متی26:‏68)۔ ہم اب انبیا سے پیارکرتے ہیں۔ اشعیا مسیح کے بارے میں اپنی پیشن گوئیوں سے اور ہماری جانوں کے لیے نجات پر اُس کی گہری بصیرت سے ہمارے دِلوں میں ہیجان برپا کر دیتا ہے۔ ہمیں کس قدر دُکھ سے بھرپوری کے ساتھ محسوس کرنا چاہیے، یسوع اُس نبی کے بارے میں سوچ کر، کہ جس کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور مارا گیا، تمسخر اُڑایا گیا اور سردار کاہن کے محل میں بے عزت کیا گیا۔

مگر اُس نے ہمارا کاہن ہونے کی حیثت سے بھی مذاق کو برداشت کیا۔ یسوع اِس دُنیا میں ہمارا کاہن بننے اور ایک قربانی گزراننے کے لیے آیا تھا۔ مگر اُنہوں نے اُس کی کاہنت کا بھی مذاق اُڑایا۔ ساری نجات کاہنوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی۔ اب وہ اُس سے کہتے ہیں، ’’اگر تو مسیح ہے تو خود کو اور ہمیں بچا۔‘‘ وہ عظیم سردار کاہن تھا۔ وہ پاشکا کا برّہ تھا۔ وہ خُدا کا برّہ تھا جو جہاں کے گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔ کس قدر ہولناک تھا کہ اُس کو اُن کے بےحِس تمسخر کو برداشت کرنا پڑا! پھر بھی ’’شرمندگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے‘‘ اُس نے صلیب کا دُکھ سہا (عبرانیوں12:‏2)۔

III۔ سوئم، اُس شرم سے بھرپور کوڑے کھانے اور مصلوبیت کی سزا کے بارے میں سوچیں جس کو اُس نے برداشت کیا۔

کوڑے لگانے سے اُس کا مذید اور مذاق اُڑایا گیا تھا۔ بہت سے ابتدائی کلیسیاؤں کے آباؤاِجداد مسیح کے کوڑے لگانے کے بارے میں دھشتناک تفصیل پیش کرتے ہیں۔ آیا جو کچھ اُنہوں نے کہا اُس کی بنیاد حقیقت پر مشتمل تھی اِس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ مگر اُس کو کوڑے مارے جانا ناخوشگوار رہا ہوگا، کیونکہ نبی نے کہا،

’’لیکن وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کیا گیا، اور ہماری بداعمالی کے باعث کُچلا گیا، جو سزا ہماری سلامتی کا باعث ہُوئی وہ اُس نے اُٹھائی، اور اُس کے کوڑے کھانے سے ہم شفایاب ہُوئے‘‘ (اشعیا 53:‏5).

اُس کی کمر پر پڑنے والے کوڑے کو شدید کربناک ہونا چاہیے – کیونکہ نبی نے اِس کو ’’زخمی کرنے والا،‘‘ ’’ٹھیس دینے والا،‘‘ ’’سرزنش کرنے والا،‘‘ اور ’’نشان چھوڑ دینے والا‘‘ کہا۔ اور ہر مرتبہ جب کوڑا انتہائی شدید ضرب کے ساتھ اُس کی کمر کو چیرتا تھا، تو اذیت دینے والا جہنمی مسکراہٹ کے ساتھ ہنستا تھا۔ ہر مرتبہ جب یسوع کا خون اُس کے تازہ زخموں میں سے پُھوٹ نکلتا تھا، اور پسلیوں پر سے گوشت اُکھڑتا تھا، تو یسوع کی اذیت کو مذید ہولناک بنانے کے لیے وہاں پر ایک بے شرم سی ہنسی اور تمسخر اور مذاق کیا جاتا تھا۔ اِس کے باوجود ہماری بہتری اور ہماری نجات کے لیے یسوع نے شرمندگی کی پرواہ نہ کی!

اور پھر وہ صلیب پر آتا ہے۔ وہ یسوع کو اِس کے ساتھ کیلوں سے جڑتے ہیں۔ اپنے شیطانی غصے میں وہ اُس کے دُکھوں پر ہنسنا اور تمسخر اُڑانا جاری رکھتے ہیں! سردار کاہن اور کاتب وہاں پر بیٹھے رہے اور اُس کو صلیب پر تلملاتے ہوئے دیکھتے رہے۔ میں اُن کو کہتے ہوئے تصور کر سکتا ہوں، ’’وہ دوبارہ کبھی بھی کثیر تعداد سے لوگوں کا ہجوم نہیں کر پائے گا!‘‘ ہا، ہا، ہا، وہ ہاتھ جنہوں نے کوڑھیوں کو چھوا اور اُنہیں شفا بخشی، اور جس نے مُردوں کو زندہ کیا، دوبارہ پھر کبھی نہیں کر پائے گا!‘‘ اُنہوں نے یسوع کا تمسخر اُڑایا۔ اور آخرکار، جب اُس نے کہا، ’’میں پیاسا ہوں،‘‘ اُنہوں نے اُس کو کٹھا سِرکہ پینے کے لیے دیا – حتیٰ کہ اُس کے سوختہ منہ اور سُوجی ہوئی زبان کا مذاق اُڑایا!

دیکھو کتنے صبر سے یسوع کھڑا ہے،
   اِس ناخوشگوار جگہ پر بے عزت ہوا!
گنہگاروں نے قادرمطلق کے ہاتھ باندھ دیے،
   اور اپنے خالق کے منہ پر تھوکا۔

کانٹوں کےساتھ اُس کی پیشانی زخموں سے چور تھی
   ہر حصے سے خون کی ندیاں جاری تھیں:
اُس کی کمر پر بہت شدید کوڑے برسائے،
   لیکن تیز کوڑوں نے اُس کا دِل چیر دیا۔

وہ صلیب! وہ صلیب! جب ہم آج اُن الفاظ کو سُنتے ہیں تو اِن سے ہمیں شرمندہ ہونے کے خیالات نہیں آتے۔ مگر مسیح کے زمانے میں صلیب کو تمام سزاؤں میں سے سب سے زیادہ ہولناک اور دھشتناک مانا جاتا تھا۔ مصلوبیت کا یہ دھلا دینے والا طریقہ کار صرف بدترین مجرموں کے لیے مخصوص تھا، مخصوص تھا صرف – ایک غلام کے لیے جس نے اپنے آقا کو قتل کر دیا ہو، ایک غدار کے لیے، جو مجرموں میں بدترین مانا جاتا تھا۔ صلیب موت کو دونوں ہولناک اور انتہائی اذیت سے بھرپور بنا دیتی ہے۔ مصلوبیت صرف بدذاتوں کے لیے تھی – ایک قاتل، کسی مشہور شخصیت کا قاتل، ایک سرکش باغی۔ یہ مرنے کے لیے ایک انتہائی طویل اور اذیت سے بھرپور طریقہ تھا۔ ہم مکمل طور پر سمجھنے کے لائق نہیں ہیں کہ صلیب پر مرنا کس قدر شرمناک ہوتا تھا۔ مگر یہودی یہ جانتے تھے اور رومی یہ جانتے تھے۔ اور مسیح جانتا تھا کہ برہنہ کوڑے کھانا اور صلیب پر کیلوں سے جڑا جانا کتنے شرم کی بات تھی۔ اور مسیح کی مصلوبیت تو دوسروں کے مقابلے میں مذید اور بدترین تھی۔ اُس کو تو خود اپنی صلیب اُٹھا کر سڑکوں پر سے گزرنا پڑا تھا۔ اُس کو دو ڈاکوؤں کے درمیان مصلوب کیا گیا، جس کا مطلب تھا کہ وہ اتنا ہی بُرا تھا جتنا کہ ایک عام مجرم ہوتا تھا۔ اِس نے اُس کی موت کو اور بھی شرمناک بنا ڈالا۔ مگر اُس نے شرمندگی کی پرواہ نہ کی اور صلیب کے دُکھ سہے – ہماری نجات کے لیے اور ہمارے لیے مثال کے لیے!

IV۔ چہارم، آئیے یسوع کی صلیب کے مذید اور نزدیک آئیں اور اِس کی مذید اور شرمندگی کو دیکھیں۔

وہ صلیب! وہ صلیب! اِس کے خیال سے ہی ہمارے دِلوں میں رنج و الم بھر جاتے ہیں! وہ کھردری لکڑی زمین پر ڈالی جاتی ہے۔ مسیح کو کمر کے بل اُس پر گرایا جاتا ہے۔ چار سپاہی اُس کے ہاتھوں اور پیروں کو پکڑتے ہیں اور گوشت میں سے کیلیں ٹھوک ٹھوک کر گزارتے ہیں۔ اُس کا خون بہنا شروع ہوتا ہے۔ اُس کو ہوا میں بُلند کیا جاتا ہے۔ صلیب کے آخری سرے کو اُس کھڈے میں ڈال دیا جاتا ہے جو اِس کے لیے بنایا گیا تھا۔ اُس کے بازوؤں کے جوڑ اُتر جاتے ہیں۔ انتہائی شدید جھٹکے کی وجہ سے ہر ہڈی کا جوڑ اُکھڑ جاتا ہے۔ وہ وہاں پر برہنہ شرمندگی میں لٹکتا ہے، جس پر لوگوں کا ایک بڑا ہجوم نظر ڈالتا ہے جو وہاں پر اکٹھا ہوا تھا۔ جُھلستا ہوا سورج تپش کے ساتھ اُس کی کھال پر پڑتا ہے۔ اُس کے جسم میں بخار چڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ اُس کی زبان سوکھ جاتی ہے اور اُس کے تالو سے جا چپکتی ہے۔ وہ درد اِس قدر شدید دلدوز اور اندوہناک ہوتا ہے کہ وہ تقریباً ناقابل برداشت ہوتا ہے۔

اُس سب سے بھی بدتر، وہ اُس بات کو کھو چکا تھا جو شہیدوں کو اُن کی قوت بخشتی ہے۔ اُس نے خُدا کی موجودگی کو کھو دیا تھا۔ اب باپ اُس کو ہمارے گناہوں کے لیے گناہ کی ایک قربانی بنا رہا تھا۔ اب باپ کی ’’مرضی تھی... اُس کو کُچلے؛ اُس نے اُس کو غم سے آشنا کیا؛ اُس کی جان کو گناہ کے لیے ایک قربانی[اُس نے بنا ڈالا]‘‘ (اشعیا 53:‏10)۔ یہ ہے یسوع – جس کو خُدا نے ترک کر دیا اور جس کو اُس کے دوستوں نے چھوڑ دیا!

معلون صلیب پر ننگا مصلوب ہوا،
   زمین اور اوپر آسمان پر ننگا دیکھا گیا،
زخموں اور خون کا ایک نظارہ،
   زخمی پیارکا ایک اُداس نظارہ!

غور سے دیکھو! کس قدر اُس کی ہولناک چیخیں خوفزدہ کرتی ہیں!
   فرشتوں کو متاثر کرتی ہیں، جب وہ نظارہ کرتے ہیں؛
اُس کے دوستوں نے رات ہی میں اُس کو چھوڑ دیا،
   اور اب اُس کے خُدا نے بھی اُس کو ترک کر دیا!

یہ ہے تنہا یسوع۔ اُس کے شاگرد خوف سے بھاگ چکے ہیں۔ خُدا نے اُس کو سزا دی ہے اور منہ موڑ لیا ہے۔ یسوع کو مَے بنانے والے کولہو میں کُچلا جانے کے لیے اور خود اپنے ہی خون میں اپنے لبادے کو ڈبونے کے لیے تنہا چھوڑا جا چکا ہے! ہماری بہتری اور ہماری نجات کے لیے، وہ زخمی کیا جاتا ہے، کُچلا جاتا ہے، تباہ کیا جاتا ہے، اُس کی جان کو موت تک کے لیے غم سے لبریز کر دیا جاتا ہے۔

پرانے زمانے میں مرد اور عورتیں روتی تھیں جب یسوع کا بیان اِس طرح سے کیا جاتا تھا۔ کبھی کبھار تو وہ عبادات میں چیخ چیخ کر روتے تھے۔ مگر ہم اِس بارے میں اب صرف تاریخ کی کتابوں میں ہی پڑھ سکتے ہیں۔ آپ کی نسل، ٹیلی وژن پر ہزاروں لاکھوں قتل ہوتے دیکھنے کے بعد، اب ایک آنسو بھی نہیں بہا سکتی۔ آپ کی نسل، جو پچپن ملین نوزائیدہ اسقاط حمل کے بچوں کے خون میں ڈوبی ہوئی ہے، غم کی ایک آہ بھی نہیں نکال سکتی ہے، کیونکہ آپ کی نسل قدرتی محبت کی محتاج ہے اور صرف ایک خالی نظر ہی پیش کر سکتی ہے! اگر آپ کی نسل ایک روایتی نسل ہوتی، تو آپ اپنے دِل میں عظیم اذیت محسوس کرتے کہ یسوع آپ کی جان کو بچانے کے لیے اِس سب میں سے گزرا۔

مہربانی سے سوچیں، میرے دوستو، وہ یسوع اُس تمام اذیت اور اُس تمام شرمندگی سے آپ کے لیے گزرا، آپ کی نجات کے لیے گزرا اور آپ کی مثال کی حیثیت سے گزرا۔ اُس نے آپ کے لیے شرمندگی کی پرواہ نہ کی اور صلیب کا دُکھ سہا۔

’’جب کہ ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح نے ہماری خاطر اپنی جان قربان کردی۔ پس جب ہم نے مسیح کے خُون بہانے کے باعث راستباز ٹھہرائے جانے کی توفیق پائی تو ہمیں اور بھی زیادہ یقین ہے کہ ہم اُس کے وسیلہ سے غضب اِلٰہی سے ضرور بچیں گے‘‘ (رومیوں 5:‏8۔9).

مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور اپنے گانوں کے ورق پر سے آخری گیت گائیں۔

جب میں حیرت انگیز صلیب کا جائزہ لیتا ہوں،
   جب پُر جلال کا شہزادہ مرا تھا،
اپنا سب سے زیادہ منافع میں گنتا ہوں مگر نقصان میں ہوں،
   اور میرے تمام غرور پر حقارت اُنڈل جاتی ہے۔

اِسے روک دے، اے خداوند، کہ میں بڑائی ظاہر کروں،
   ماسوائے مسیح کی موت میں، میرے خداوند؛
وہ تمام بے مقصد باتیں جو مجھے سب سے زیادہ دلکش لگتی تھیں،
   میں اُن کو اُس کے خون کے لیے قربان کرتا ہوں۔

دیکھو، اُس کے سر، ہاتھوں، اور اُس کے پیروں سے،
   دُکھ اور محبت باہم مل کر نیچے بہتی ہے:
کیا کبھی ایسے، محبت اور دُکھ ملے ہیں،
   یا کانٹوں نے اِس قدر اعلٰی تاج بنایا ہو؟

کیا قدرت کی تمام سلطنت میری ہے،
   وہ ایک اِس قدر چھوٹا سا تحفہ تھا؛
محبت اِس قدر حیرت انگیز، اِس قدر الہٰی،
   میری جان، میری زندگی، میرے سب کچھ کا تقاضہ کرتی ہے۔
(جب میں حیرت انگیز صلیب کا جائزہ لیتا ہوں When I Survey the Wondrous Cross‘‘
      شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts:‏، 1674۔1748)۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: متی26:‏59۔68)۔
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’اُس کے دُکھ His Passion‘‘ (شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart:‏، 1712۔1768)۔

لُبِ لُباب

مُنّجی کی شرمندگی

THE SAVIOUR’S SHAME

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جس نے اُس خُوشی کے لیے جو اُس کی نظروں کے سامنے تھی شرمندگی کی پرواہ نہ کی بلکہ صلیب کا دُکھ سہا اور خدا کے تخت کی دائیں طرف جا بیٹھا‘‘ (عبرانیوں 12:‏2).

(1 پطرس 2:‏21)

I.   اوّل، یسوع کے خلاف شرمندگی سے بھرپور اِلزامات کے بارے میں سوچیں، لوقا23:‏4 ؛
یوحنا18:‏38؛ لوقا22:‏42؛ یوحنا18:‏36 .

II.  دوئم، اُس شرمندگی سے بھرپور ٹھٹھوں کے بارے میں سوچیں جنہیں یسوع نے برداشت کیا،
متی27:‏40، 43۔44؛ گنتی16:‏33؛ 2سلاطین 1:‏9۔10؛
اشعیا53:‏7؛ متی26:‏68 .

III. سوئم، اُس شرم سے بھرپور کوڑے کھانے اور مصلوبیت کی سزا کے بارے میں
سوچیں، جس کو اُس نے برداشت کیا، اشعیا 53:‏5 .

IV. چہارم، آئیے یسوع کی صلیب کے مذید اور نزدیک آئیں اور اِس کی مذید اور
شرمندگی کو دیکھیں، اشعیا53:‏10؛ رومیوں5:‏8۔9 .