Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

گتسمنی کی دھشتناکی

THE HORROR OF GETHSEMANE
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 30 مارچ، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, March 30, 2014

’’یسوع نے ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دِنوں میں پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے موت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی‘‘ (عبرانیوں 5:‏7).

یسوع کے صلیب پر مرنے سے ایک رات پہلے وہ اپنے شاگردوں کو گتسمنی کے باغ میں لے گیا۔ بہت رات کا وقت تھا، شاید آدھی رات۔ یسوع نے آٹھ کر شاگردوں کو باغ کے کنارے پر ہی چھوڑا۔ وہ پطرس اور یعقوب اور یوحنا کو باغ میں اندر تک لے گیا۔ وہ ’’بہت بیقرار اور پریشان ہونے لگا‘‘ (مرقس14:‏33)۔ پھر چند قدم ذرا آگے جا کر وہ زمین پر سجدے میں گِر پڑا۔ اُس نے اذیت میں دعا کی کہ اگر ممکن ہو تو ’’یہ گھڑی مجھ سے ٹل جائے‘‘ (مرقس14:‏35)۔ میں یقین کرتا ہوں کہ گتسمنی کے باغ میں دعا کا کُل دورانیہ تقریباً ایک گھنٹے کے قریب تھا – کیونکہ یسوع نے جب اُنہیں سوتے ہوئے پایا تو اُن سے کہا، ’’کیا تم گھنٹہ بھر بھی میرے ساتھ بیدار نہ رہ سکے؟‘‘ (متی26:‏40)۔

گتسمنی کے باغ میں آدھی رات کے وقت – یسوع کے ساتھ کچھ ہولناک ہوا تھا۔ یسوع نے کہا، ’’غم کی شدت سے میری جان نکلی جا رہی ہے‘‘ (متی26:‏38)۔ یونانی لفظ ’’پیری لوپس perilupos‘‘ کا مطلب ہوتا ہے ’’غم کے ساتھ گِھر جانا۔‘‘ وہ زبور نویس کے ساتھ کہہ سکتا ہے، ’’پاتال کی اذیتیں مجھ پر آ پڑیں‘‘ (زبور116:‏3)۔ غم کی لہریں اور موجیں اُس پر سے گزر گئیں۔ اُس کے اوپر، اُس کے نیچے، اُس کے اردگرد، اُس کے ظاہر میں اور اُس کے باطن میں – سب غم ہی غم تھا – حتیٰ کہ مرنے تک – ایسا غم کہ وہ اُس سے تقریباً مارا ہی گیا تھا! اُس اذیت سے کوئی فرار نہیں تھا! کوئی رنج اِس کے مقابلے میں بدترین نہیں ہو سکتا ہے! وہ اِس کی ہولناکی سے اِس قدر نچوڑا گیا تھا کہ ’’اُس کا پسینہ خون کی بڑی بڑی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپک رہا تھا‘‘ (لوقا22:‏44)۔

جی ہاں، بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ یسوع ’’ایک غمگین انسان تھا جو غم سے آشنا نہ تھا‘‘ (اشعیا53:‏3)۔ مگر وہ سارا وقت منہ لٹکائے اُداس چہرے کے ساتھ نہیں پھرتا تھا۔ وہ رنج سے آشنا تھا۔ وہ غم کو جانتا تھا۔ مگر زیادہ تر یسوع ایک پُرامن، خوش مزاج شخص تھا۔ وہ اتنی زیادہ ضیافتوں میں گیا تھا کہ فریسیوں نے گِلہ کیا اور کہا، ’’یہ شرابی، محصول لینے والوں اور گنہگاروں کے ساتھ کھاتا پیتا ہے‘‘ (متی11:‏19، وغیرہ وغیرہ)۔

مگر گتسمنی میں سب کچھ بدل گیا ہے۔ اُس کا سکون جا چکا ہے۔ اُس کی خوشی انتشار میں بدل جاتی ہے۔ ’’پیری لوپس perilupos‘‘ – غم سے گِھر جانا، اِس کی وجہ سے ادھ موا ہو کر نچڑ جانا!

یسوع نے مشکل سے ہی اپنی تمام زندگی کے دوران غم یا ذہنی دباؤ کے بارے میں ایک لفظ کہا۔ مگر اب، اُس باغ میں، سب کچھ بدل جاتا ہے۔ وہ خُدا کے آگے پکارتا ہے، ’’اگر ممکن ہو تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے‘‘ (متی26:‏39)۔ اُس نے پہلے کبھی گِلہ نہیں کیا تھا۔ مگر اب ’’وہ سخت درد و کرب میں مبتلا ہو کر اور بھی دلسوزی سے دعا کرنے لگا اور اُس کا پسینہ خون کی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپکنے لگا‘‘ (لوقا22:‏44)۔ کیوں؟ یسوع کیوں؟ آپ کے مصائب کی وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر جان گِل Dr. John Gill نے کہا یہ اِس لیے تھا کیونکہ باغ میں شیطان آیا تھا۔ ہمارے زمانے میں فلم ’’مسیح کے شدید دُکھ‘‘ میں مَیل گیبسن Mel Gibson نے گتسمنی میں شیطان کے آنے کی منظر کشی بطور شیطان کی، کہ تاریکی میں یسوع کو اذیت دے۔ لیکن اِس میں سے کچھ بھی بائبل میں نہیں۔ کچھ لوگ لوقا22:‏53 کا حوالہ دیتے ہیں، جب یسوع نے اُن سپاہیوں جو اُس کو گرفتار کرنے باغ میں آئے تھے سے کہا تھا، ’’یہ تمہارے اور تاریکی کے اختیار کا وقت ہے‘‘ (لوقا22:‏53)۔ وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ شیطان کے لیے نشاندہی کرتا ہے۔ مگر اِس پر غور کریں کہ یسوع نے اُن سپاہیوں کو جو اُس کو گرفتار کرنے کے لیے باغ میں آئے تھے گتسمنی میں اُس کی کشمکش اور خونی پسینہ بہانے کے بعد کہا تھا۔ باغ میں اپنی اذیت کے آخر میں، اُس نے سپاہیوں سے کہا، ’’یہ تمہارے اور تاریکی کے اختیار کا وقت ہے۔‘‘ لہٰذا شیطان باغ میں مسیح کی اذیت کے بعد آیا تھا۔ یہوداہ چند دِن پہلے آسیب زدہ ہو گیا تھا (دراصل، شیطان زدہ)۔ ہمیں لوقا 22:‏3 میں بتایا گیا ہے، ’’اور شیطان یہودہ میں سما گیا۔‘‘شیطان باغ میں مسیح کی ہولناک جدوجہد کے بعد آیا تھا، یہودہ کی آسیب زدہ حالت میں اور سپاہیوں کو مسیح کو گرفتار کرنے اور اُس کے ساتھ شرمناک سلوک کرنے کے لیے کھینچ کر لایا تھا۔

لہٰذا، ہم ابھی تک تعجب ہی کا شکار ہیں کہ کیوں اُس نے اِس قدر اذیت برداشت کی کہ جب اُس نے نجات کے لیے دعا مانگی تو اپنا خونی پسینہ بہایا۔ میں قائل ہوں کہ جواب ہماری تلاوت میں پیش کیا گیا ہے۔ باغ میں یسوع نے ’’یہ کہتے ہوئے دعا مانگی، اے میرے باپ، اگر ممکن ہو تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے، پھر بھی جو میں چاہتا ہوں وہ نہیں بلکہ جو تو چاہتا ہے وہی ہو‘‘ (متی26:‏39)۔ ’’پیالہ‘‘ کیا تھا؟ اگر وہ اگلے دِن صلیب پر اُس کے مصائب تھے، تو اُس کی دعا کا جواب نہیں مِلا تھا، اگر وہ ’’پیالہ‘‘ اُس رات شیطان سے چُھٹکارہ تھا تو اُس کی دعا کا جواب نہیں ملا تھا کیونکہ آسیب زدہ لوگ اُس کو مصلوب کرنے کے لیے گھسیٹ کر لے گئے تھے۔ عبرانیوں 5:‏7 میں ہماری تلاوت جواب کا کچھ حصہ پیش کرتی ہے۔ مہربانی سے کھڑیں ہوں اور اِس کو باآوازِ بُلند پڑھیں۔

’’یسوع نے ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے دِنوں میں پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے موت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی‘‘ (عبرانیوں5:‏7).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ اب، آیت ہمیں بتاتی ہے کہ یسوع نے یہ دعا ’’ایک بشر کی حیثیت سے زندگی گزرانے کے دِنوں‘‘ میں مانگی تھی – یعنی کہ، جب کہ وہ اِس دُنیا پر زندگی گزار رہا تھا۔ ہم نے یہ بھی جانا کہ اُس نے ’’چیخ چیخ کر اور آنسوؤں کے ساتھ‘‘ موت سے بچائے جانے کے لیے دعا مانگی تھی – اِس لیے یہ دعا اُس کے مصلوب ہونے سے پہلے مانگی گئی تھی۔ یہ آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ اُسکی دُعا سُنی گئی تھی، اور خُدا نے اُس کو موت سے بچا لیا تھا۔ ڈاکٹر جے۔ اولیور بسویل Dr. J. Oliver Buswell، ایک جانے مانے عالم الہٰیات نے کہا،

اِس قدر وافر پسینے کا بہنا جیسا کہ لوقا نے [گتسمنی کے باغ میں] بیان کیا یہ سکتے کے عالم میں آنے کی ایک خصوصیت ہے جس میں مصیبت زدہ بے ہوش ہونے اور یہاں تک کہ مرنے کے خطرے کا انتہائی قریب ہوتا ہے... ہمارے خداوند یسوع مسیح اپنے آپ کو اِس شدید سکتے کے عالم میں محسوس کرکے، باغ میں موت سے چُھٹکارے کی دعا مانگی، اِس مقصد کے تحت کہ وہ صلیب پر اپنے مقصد کو پورا کر سکے (جے اولیور بسویل، پی ایچ۔ ڈی۔ J. Oliver Buswel, Ph. D.، مسیحی مذہب کی درجہ بہ درجہ علم الہٰیات Systematic Theology of the Christian Religion، ژونڈروان اشاعت گھرZondervan Publishing House، 1971، حصہ سوئم، صفحہ 62)۔

ڈاکٹر جان آر۔ رائس نے لگ بھگ ایسی ہی بات کہی،

یسوع رنج سے بھرپور اور دِل شکستہ تھا اور اُس کی جان ’’یہاں تک کہ موت کے غم سے لبریز تھی،‘‘ یعنی کہ وہ واقعی میں رنج کے سبب سے مر رہا تھا... یسوع نے دعا مانگی تھی کہ موت کا پیالہ اُس رات اُس سے ٹل جائے تاکہ وہ اگلے دِن تک صلیب پر مرنے کے لیے زندہ رہ سکے (جان آر۔ رائس، ڈی۔ ڈی۔ انجیل بمطابق متی The Gospel According to Matthew، سورڈ آف دی لارڈ Sword of the Lord ، 1980، صفحہ 441)۔

ڈاکٹر بسویل Dr. Buswell نے کہا،

یہ تاویل عبرانیوں5:‏7 کے ساتھ ہم آہنگی رکھتی ہے، اور مجھے یوں ہم آہنگی کے لیے یہی ایک واحد تاویل لگتی ہے (ibid.)۔

ڈاکٹر رائس نے کہا،

اِس کو عبرانیوں 5:‏7 میں واضح کیا گیا ہے جہاں پر ہمیں بتایا گیا ہے کہ یسوع نے ’’پُکار پُکار کر اور آنسو بہا بہا کر خدا سے دعائیں اور اِلتجائیں کیں جو اُسے موت سے بچا سکتا تھا اور اُس کی خدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی۔‘‘ گتسمنی کے باغ میں مرنے کے قریب ہونے پر، یسوع نے دعا مانگی کہ اُس رات موت کا پیالہ اُس سے ٹل جائے تاکہ وہ اگلے دِن صلیب پر مرنے کے لیے زندہ رہ سکے۔ کلام پاک کہتا ہے کہ ، ’’اُس کی سُنی گئی تھی‘‘! خُدا نے اُس کی دعا کا جواب دیا تھا (ibid.)۔

خُدا کے تکلیف زدہ بیٹے کو دیکھو،
   ہانپتا، کراہتا، خون پسینے کی مانند بہاتا ہوا!
الٰہی پیار کی لا محدود گہرائیاں!
   یسوع، تیرا پیار کیسا تھا!
(’’تیرے انجانے مصائب Thine Unknown Sufferings‘‘ شاعر
     جوزف ہارٹJoseph Hart:‏، 1712۔1768 )۔

مگر پھر بھی ہمیں وضاحت کرنی چاہیے کہ کیوں اُس رات یسوع نے اِس قدر دُکھ سہے۔ یہ ہے جو میں یقین کرتا ہوں گتسمنی میں یسوع کے ساتھ ہوا تھا۔ میں یقین کرتا ہوں کہ یہ وہاں پر ہوا تھا کہ

’’خداوند … نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی‘‘ (اشعیا 53:‏6).

’’یقیناً اُس نے ہماری بیماریاں برداشت کیں، اور ہمارے غم اُٹھا لیے‘‘
       (اشعیا 53:‏4).

مگر اُس نے کب اُنہیں اُٹھایا تھا؟ اُس نے اُنہیں گتسمنی میں اُٹھایا، اور اگلی صبح صلیب تک اُنہیں اُٹھا کر لے گیا۔

’’وہ خُود اپنے ہی بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ لیے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا‘‘
       (1۔ پطرس 2:‏24).

مگر گتسمنی کے باغ میں ایک رات پہلے ہمارے گناہ ’’خود اُس کے اپنے بدن پر‘‘ لاد دیے گئے۔ اُس نے گتسمنی سے لیکر صلیب تک ہمارے گناہوں کو اُٹھایا تھا!

وہ تنہائی تھی جہاں نجات دہندہ نے تاریک گتسمنی میں دعا کی؛
   تنہا ہی اُس نے وہ کڑوا پیالہ پی کر خالی کیا، اور وہاں پر میرے لیے دُکھ اُٹھایا؛
تنہا، تنہا، اُس نے تنہا یہ سب کچھ برداشت کیا؛
   اُس نے خود کو اپنوں کو بچانے کے لیے پیش کردیا؛
اُس نے دُکھ اُٹھائے، خون بہایا، اور مرگیا، تنہا، تنہا۔
     (’’تنہا Alone‘‘ شاعر بعن ایچ۔ پرائس Ben H. Price:‏، 1914)۔

عظیم ڈاکٹر جان گِل نے (1697۔1771) کہا،

اب وہ زخمی ہو چکا ہے اور اپنے باپ کے ذریعے سے غم میں مبتلا کیا گیا ہے: اُس کے دُکھ اب شروع ہوتے ہیں، کیونکہ وہ وہاں پر ختم نہیں ہوتے، بلکہ صلیب پر ختم ہوتے ہیں، ... اور شدید غم زدہ ہونے کے لیے؛ اپنے لوگوں کے گناہوں کے وزن کے ساتھ، اور الہٰی قہر کے احساس کے ساتھ، جو اُس پر اِس قدر غالب آ چکا تھا اور وہ کچلا گیا تھا، کہ اُس کی روح تقریباً اُس کا ساتھ چھوڑ ہی چکی تھی؛ وہ بے ہوش ہونے، ڈوبنے اور مرنے کے قریب ہی تھا؛ اُس کے دِل نے اُس کو ناکام کیا تھا... اُس کے لوگوں کے گناہوں کے ساتھ اُس کی جان ہر طرف سے ہراساں تھی؛ انہوں نے اُس کو جکڑ لیا تھا اور اُس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا تھا... ہر طرف سے موت اور جہنم کے غموں نے اُس کو گھیر لیا تھا، اِس قدر شدت کے ساتھ کہ سکون کا کم سے کم احساس بھی اُس کے قریب پھٹکنے تک نہیں پایا تھا... اسی طرح سے اُس کی جان غم سے لبریز تھی؛ اُس کا عظیم دِل ٹوٹنے کے لیے تیار تھا؛ حتیٰ کہ اُس کو جیسا کہ موت کی مٹی ہوتی ہے ویسا ہی تیار کر دیا گیا تھا؛ نا ہی اُس کے غم اُس کو چھوڑ سکے، اُس کو قائل کر دیا گیا تھا، جب تک کہ اُس کی جان اور جسم ایک دوسرے سے علیحدہ نہ کر دیے جاتے (جان گِل، ڈی۔ڈی۔ John Gill, D.D.، نئے عہد نامے کی ایک تفسیر An Exposition of the New Testament، بپتسمہ دینے والے معیاری بیئرر The Baptist Standard Bearer، جلد اوّل، صفحہ 334)۔

یوں ہم دیکھتے ہیں کہ یسوع نے خُدا کے قہر سے، ہمارے گناہ کے فیصلے سے اور جہنم میں ہمیشہ کی سزا سے ہمیں بچانے کے لیے کیا کِیا۔ اُس نے آپ کی جگہ پر دُکھ اُٹھائے، آپ کے متبادل کے طور پر۔ اُس کا آپ کی جگہ پر دُکھ اُٹھانا گتسمنی کے باغ ہی میں شروع ہو گیا تھا جہاں اُس نے ہمارے گناہ قبول کیے اور اگلی صبح صلیب کے لیے اُنہیں لے گیا۔

میرے دوستوں، ہم ایسٹر سنڈے کے قریب پہنچ رہے ہیں، وہ دِن جب یسوع قبر میں سے زندہ ہو گیا تھا۔ مگر مُردوں میں سے اُس کے جی اُٹھنے کا اُس وقت تک آپ کے لیے کوئی مطلب نہیں ہوگا جب تک کہ آپ احساس نہیں کرتے کہ اُس نے دھشت ناک طور پر گتسمنی میں اور صلیب پر آپ کو گناہوں کے سزا پانے سے بچانے کے لیے دُکھ اُٹھائے۔ آپ کو یسوع کے لیے آپ کا متبادل ہونے پر کیا کرنا چاہیے؟ آپ کو اُس کے قدموں میں گِر جانا چاہیے اور اپنی زندگی کے ساتھ اُس پر بھروسہ کرنا چاہیے!

دیکھو، اُس کے سر سے، اُس کے ہاتھوں، اُس کے پیروں سے،
   دُکھ اور محبت باہم مل کر نیچے بہتی ہے:
کیا کبھی ایسے محبت اور دُکھ ملے ہیں،
   یا کانٹوں نے اِس قدر اعلٰی تاج بنایا ہو؟
(جب میں حیرت انگیز صلیب کا جائزہ لیتا ہوں When I Survey the Wondrous Cross‘‘
       شاعر آئزک واٹز، ڈی۔ ڈی۔ Isaac Watts, D. D.:‏، 1674۔1748)۔

اگر آپ یسوع پر بھروسہ کرنے کے بارے میں ہمارے سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی سے اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک دوسرے کمرے میں لے جائیں گے جہاں پر ہم دعا اور بات چیت کر سکیں گے۔ مہربانی سے ابھی چلے جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan مہربانی سے دعا کریں کہ آج صبح کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا اور بچایا جائے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: مرقس14:‏32۔38 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’’اِس شام زیتون کی صلیب پر Tis Midnight, and on Olive’s Brow‘‘
(شاعر ولیم بی۔ ٹیپان William B. Tappan:‏، 1774۔1849).