Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

اِرتداد کے لیے تریاق

THE ANTIDOTE FOR APOSTASY
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 23مارچ، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, March 23, 2014

’’لیکن تو اِن باتوں پر قائم رہ جو تو نے سیکھی ہیں اور جن کا تجھے پورا یقین ہے کیونکہ تو اِن باتوں کے سیکھنے والوں کو جانتا ہے۔ اور کس طرح تو بچپن سے اُن مقدس کتابوں سے واقف ہے جو تجھے مسیح یسوع پر ایمان لا کر نجات حاصل کرنے کا عرفان بخشتی ہیں‘‘ (2 تیموتاؤس3:‏14۔15)۔

میں نے یہ عنوان ’’اِرتداد کے لیے تریاق‘‘ ڈاکٹر جے ورنن میگی سے مستعار لیا ہے۔ ڈاکٹر میگی میرے کئی سالوں تک بائبل کے اساتذہ میں سے ایک رہے تھے۔ جب میں 19 برس کا تھا تو میں نے لاس اینجلز کے پہلے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں 1961 کے جنوری کے مہینے میں شمولیت اختیار کی تھی۔ میرے بائبل کے دو عظیم اُستاد تھے، ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin، جو کہ پرانے عہد نامے کے ایک عالم تھے – اور جنہوں نے باب جونز یونیورسٹی Bob Jones University کے گریجوایٹ سکول میں، ٹالبوٹ علم الہٰیات کی سیمنری Talbot Theological Seminary میں، اور ایلی نائیس Illinois کے شہر ڈئیر فیلڈ میں ٹرنیٹی مبشراتی سیمنری Trinity Evangelical Seminary میں پڑھایا تھا۔ میں نے ڈاکٹرلِن Dr. Lin سے بہت کچھ سیکھا تھا، جو کہ کئ سالوں تک میرے پادری بھی رہے تھے۔ میرے دوسرے اُستاد ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee تھے، لاس اینجلز کے مرکز میں 550 ساؤتھ ہوپ سٹریٹ میں اوپن ڈور کے عظیم گرجہ گھر کے پادری تھے جس کا کہ میں ایک رُکن تھا۔

تین سالوں تک میں ہر روز دو مرتبہ ڈاکٹر میگی کو بائبل کی تعلیم دیتے ہوئے سُنتا تھا – اُن کے ’’بائبل میں سے‘‘ “Thru the Bible” ریڈیو پروگرام میں، اور اُنکی ’’عین دوپہر میں High Noon‘‘ نشریات کے میں، جو کہ ’’بائبل میں سے Thru the Bible‘‘ کے ایک مختلف حوالے میں سے ہوتا تھا۔ میں نے مذید سات سال اور ہر روز ’’بائبل میں سے Thru the Bible‘‘ سُننا جاری رکھا۔ اُن دو شاندار لوگوں سے میں نے پاک صحائف، بائبل کے کلام میں مکمل اعتماد کرنا سیکھا تھا۔

ڈاکٹر لِن اور ڈاکٹر میگی دونوں نے ہی بائبل کی پیشن گوئیوں پر تعلیم دینے میں ایک مُدت گزار دی تھی۔ حالانکہ میں اب اپنے زیادہ تر واعظوں کو ’’سٹیریالوجی soteriology‘‘ (نجات) کے موضوع پر مرکوز رکھتا ہوں یہ بائبل کی پیشن گوئیوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے، خاص طور پر آخری ایام سے تعلق رکھتے ہوئے اِرتداد کے بارے میں۔ ڈاکٹر میگی نے دُرست کہا کہ تیموتاؤس کا تیسرا باب ’’کلیسیا کے ریپچر سے پہلے آخری ایام کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اب خُدا کے ایک بچہ اِن جیسے دِنوں میں کیا کر سکتا ہے؟ اِرتداد کی دُنیا کے خلاف واحد تریاق خُدا کا کلام ہے‘‘ (جے۔ ورنن میگی، ٹی۔ایچ۔ ڈی J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن اشاعت خانے Thomas Nelson Publishers، 1983، صفحہ 472؛ 2 تیموتاؤس3:‏14۔15)۔

2تیموتاؤس کا تیسرا باب یقیناً ہمیں آخری ایام کے اِرتداد کی ایک ہولناک اور بھیانک تصویر پیش کرتا ہے۔ اور ہر علامت اشارہ دیتی ہے کہ بالکل ابھی ہم اُس ناخوشگوار اِرتداد کے وسط میں زندگی گزار رہے ہیں! لفظ ’’اِرتداد‘‘ کا مطلب ’’فرض سے دستبرداری یا بغاوت‘‘ ہوتا ہے؛ اپنے مذہب سے گمراہ ہونا یا اُس کو ترک کرنا‘‘ ہوتا ہے (ویبسٹر ڈکشنری Webster’s Dictionary, Unabridged، کولنز ورلڈ Collins World، 1975)۔ اِس کے باوجود ہماری تلاوت اِرتداد کے لیے ایک تریاق، ایک تلافی پیش کرتی ہے،

’’لیکن تو اِن باتوں پر قائم رہ جو تو نے سیکھی ہیں اور جن کا تجھے پورا یقین ہے کیونکہ تو اِن باتوں کے سیکھنے والوں کو جانتا ہے۔ اور کس طرح تو بچپن سے اُن مقدس کتابوں سے واقف ہے جو تجھے مسیح یسوع پر ایمان لا کر نجات حاصل کرنے کا عرفان بخشتی ہیں‘‘ (2 تیموتاؤس3:‏14۔15)۔

آئیے اِس تلاوت پر اور زیادہ گہرائی کے ساتھ نظر ڈالیں اور ہم بہت سی باتوں کو دیکھیں گے۔

I۔ اوّل، لفظ ’’لیکن‘‘ پر توجہ مرکوز کریں۔

’’لیکن تو اِن باتوں پر قائم رہ جو تو نے سیکھی ہیں اور جن کا تجھے پورا یقین ہے کیونکہ تو اِن باتوں کے سیکھنے والوں کو جانتا ہے‘‘ (2 تیموتاؤس3:‏14)۔

اِس کا ترجمہ ’’تاہم‘‘ بھی ہو سکتا ہے۔ بُرے اور بہکانے والے لوگ مذید اور بدتر اور بدترین ہوتے جائیں گے، دھوکہ دیں گے اور دھوکہ کھائیں گے، ’’لیکن [تاہم] تو اِن باتوں پر قائم رہ جوتو نے سیکھی ہیں...‘‘ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کتنے بُرے ہیں، تم اُن باتوں پر قائم رہو جوتم نے سیکھی ہیں۔ یہ ہے جو پولوس رسول نوجوان تیموتاؤس کو بتا رہا ہے – اور ہمیں بتا رہا ہے۔

یہ تمام حوالہ آخری ایام میں کلیسیا کے لیے نشاندہی کرتا ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ ’’بے دینی کی ایک شکل‘‘ اختیار کر لے گی (آیت5) اور یہ ’’ہمیشہ کی کوشش تو کریں گی [لیکن] ایمان کے اعتبار سے نامقبول ہیں‘‘ (آیات 7، 8)۔ ڈاکٹر میگی نے کہا، ’’’آخری ایام‘ ایک تکنیکی اصطلاح ہے جو نئے عہد نامے میں کئی جگہوں پر استعمال ہوئی ہے؛ یہ کلیسیا کے آخری ایام کے بارے میں بات کرتی ہے‘‘ (ibid.، صفحہ469)۔ میں قائل ہو چکا ہوں کہ وہ دُرست تھے۔ ’’بُرے دِن آئیں گے۔‘‘ اِس کا مطلب تشویشناک، مایوس کُن زمانہ۔ یونانی لفظ ’’چیلیپوس chalepos‘‘ ہے جس سے ’’بُرے perilous‘‘ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ یہ وہ ایک لفظ ہے جو صرف ایک اور مرتبہ یونانی نئے عہد نامے میں ظاہر ہوتا ہے۔ متی8:‏28 میں اِس کو اُن گدرینی آدمیوں کو جن میں بدروحیں تھیں اور جو ’’غضبناک ہوتے جا رہے تھے‘‘ بیان کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ یوں، ہمیں بتایا گیا ہے کہ کلیسیا کے آخری ایام میں غضبناک آسیبی دور آئے گا۔ پھر رسول آخری ایام میں کلیسیا کے اراکین کی انیس مختلف تفصیلات بیان کرتا ہے۔ دوبارہ، ڈاکٹر میگی نے کہا، اگر آپ کلیسیا کی تاریخ میں مُڑ کر دیکھیں، تو آپ یقیناً اِن میں سے کچھ باتیں ثبوت کے طور پر پا سکتے ہیں، مگر میرا نہیں خیال کہ آپ کبھی کوئی ایسا دور ڈھونڈ پائیں جس میں وہ تمام اِس طرح سے واضح طور پر اُجاگر ہوں جیسے کہ آج ہیں۔ میں یقین کرتا ہوں کہ ہم اب اُن ’بُرے‘ دِنوں میں ہیں جو اِس حصے میں بیان کیے گئے ہیں‘‘ (ibid.)۔ یہ ہیں ہمارے زمانے میں بہت سی کلیسیا کے اراکین کی اُنیس وضاحتیں،

  

1.  خود اپنی ذات کو پیار کرنے والے (خودغرض)۔
2.  زردوست (دولت کے پجاری، مادیت پرست)۔
3.  شیخی باز۔
4.  مغرور۔
5.  بدگو (غیبت کرنے والے)۔
6.  ماں باپ کے نافرمان (ایک کُل نسل اِس طریقے سے پروان چڑھی اور اب ہمارے تمام معاشرے کا بیڑا غرق کرتی ہے)۔
7.  ناشُکرے۔
8.  ناپاک (جو شائستگی کے بارے میں نہیں سوچتے)۔
9.  قدرتی محبت سے خالی ( چاہت کے بغیر اور بے حِس)۔
10. عہد شکن، بے رحم (وہ کبھی بھی معاف نہیں کرتے اور معاف کیا جانا پسند نہیں کرتے)۔
11. جھوٹے الزام عائد کرنے والے (بدنام کرنے والے)۔
12. بے ضبط (خود پر قابو نہ رکھنے والے)۔
13. تُند مزاج (وحشت ناک)۔
14. نیکی کے دشمن (نیک مسیحیوں سے نفرت کرنے والے)۔
15. دغا باز (غدار)۔
16. بے حیا (غیرمحتاط اور لاپرواہ)۔
17. گھمنڈی (تکبر سے بھرپور)
18. خُدا کی نسبت عیش و عشرت کو زیادہ پسند کرنے والے۔
19. دینداروں کی وضع تو رکھیں گے لیکن زندگی میں دینداری کا کوئی اثر قبول نہیں کریں گے۔

مُرتد گرجہ گھروں اور سیمنریوں میں یہ جھوٹے مسیحی ہوتے ہیں۔ یہ بیرونی طور پر خُدا کے خادم ظاہر ہوتے ہیں مگر یہ اصل میں شیطان کے ملازم ہوتے ہیں۔

یہ ’’سیکھنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر کبھی بھی اِس قابل نہیں ہوتے کہ حقیقت کو پہچان سکیں‘‘ (آیت 7)۔ اور اِس طرح کے لوگ آج ہمارے گرجہ گھروں میں سمائے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ ناخوشگوار تجربات میں سے جو مجھے زندگی میں کبھی ہوئے وہ گرجہ گھر کے اراکین کے سبب سے تھے – اصل میں دُنیا میں غیر مسیحی اراکین کے مقابلے میں بدترین باتیں جن کا تجربہ میں نے کیا۔

میں نے بپتسمہ یافتہ لوگوں کو ایک دوسرے کے بال اُکھاڑتے ہوئے دیکھا ہے، ایک دوسرے کو انتہائی غلیظ زبان میں لعن طعن کرتے ہوئے دیکھا ہے، اور اتوار کی صبح 11:00 بجے گرجہ گھر کی عبادت میں – ایک دوسرے پر حمدوثنا کے گیتوں کی کتابیں پھینکتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے کوائر کے ڈائریکٹر کو فٹ پاتھ پر گراتے ہوئے اور گھونسے کھاتے ہوئے دیکھا ہے جب تک کہ اُس کا چہرہ لہولہان نہیں ہو گیا، اُس کی جیبیں اُس سے گرجہ گھر کی چابی لینے کے لیے لُٹتی ہوئی دیکھیں ہیں۔ یہ کلیسیا کے ’’مناد‘‘ کہلائے جانے والے لوگوں سے ہوا تھا۔ بہت پہلے ماضی میں 1950 کی دہائی میں لوگ ایسی باتوں کے لیے ایک دوسرے پر قانونی کاروائی کرتے تھے۔ یہ کیلیفورنیا کے ھونٹینگٹن پارک Huntington Park میں ایک بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر پر ہوا تھا۔

اُس وقت سے لیکر میں گرجہ گھر کے رہنماؤں کو چھوٹے بچوں کے ساتھ ناجائز جنسی تعلقات کرتے ہوئے دیکھ چکا ہوں، گرجہ گھر کے خزانے میں سے پیسے چُراتے ہوئے دیکھ چکا ہوں؛ پادری کو سر سے دبوچتے ہوئے جبکہ دوسرے آدمی کو اُن کے پیٹ میں گھونسے مارتے ہوئے دیکھ چکا ہوں، انٹرنیٹ پر ایک دوسرے کے بارے میں جھوٹ بولتے ہوئے، اور دوسری سفاکیاں کرتے ہوئے جن کو بیان کرنا انتہائی ہولناک ہے، کرتے ہوئے دیکھ چکا ہوں۔ وہ آدمی جس نے مجھے سنڈے سکول میں پڑھایا اُس نے ایک بنک کو بندوق کی نوک پر لوٹا۔ میری سیمنری میں بپتسمہ یافتہ پروفیسروں نے کہا کہ یسوع کے جسم کو کُتوں نے کھایا، مسیح کی کوئی دوسری آمد نہیں تھی، بائبل کی تقریباً تمام کتابیں جعلی تھیں، موسیٰ جیسا کوئی شخص نہیں تھا، مصر سے خروج کبھی ہوا ہی نہیں تھا اور بہت سے دوسرے جھوٹے عقائد۔ میرے پروفیسروں میں سے ایک نےخود کو سر میں گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔

یہ تمام کے تمام لوگ مغربی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھروں میں پلے بڑھے تھے۔ وہ تمام کے تمام ’’آگے آئے تھے‘‘ اور اُنہوں نے اپنا بپتسمہ دیے جانے سے پہلے ’’گنہگاروں کی دعا‘‘ کہی تھی، کافی مدت تک میں ایک بھیانک تذبذب میں رہا، حیرانگی سے سوچتا رہا کیسے مسیحی لوگ اُن باتوں پر یقین کرتے اور عمل کرتے ہونگے۔ جب میں نے اِن باتوں کے خلاف آواز بُلند کی، تو مجھے خبردار کیا گیا کہ مجھ پر ’’مصیبیتں کھڑی کرنے‘‘ والے کی چھاپ لگ جائے گی اور مغربی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں کبھی بھی مذہبی فرائض کی انجام دہی کے لیے نہیں بُلایا جاؤں گا۔ بعد میں مَیں نے ایک کتاب تحریر کی جو اُن جھوٹی تعلیمات کی تصدیق کرتی ہے۔ اُس کتاب کا نام ’’انسائیڈ دی ساؤتھرن بپٹسٹ کنونشن‘‘ “Inside the Southern Baptist Convention.” ہے۔

ساؤتھرن بپٹسٹ سیمنری سے گریجوایشن کرنے کے بعد میں ڈاکٹری کی ڈگری پر کام کرنے کے لیے پریسبائی ٹیریعئن سیمنری میں منتقل ہو گیا۔ پریسبائی ٹیریعئن سیمنری اِس سے بھی زیادہ بدتر تھی! ایک پروفیسر دہریے تھے، اور اِس بارے میں شیخیاں بھگارتے تھے! مجھے احساس ہو گیا کہ دونوں ہی سیمنریوں کے یہ پروفیسرز کبھی بھی نئے سرے سے پیدا ہی نہیں ہوئے تھے، اور کبھی بھی ایک حقیقی تبدیلی کا تجربہ نہیں کیا تھا، اور بالکل بھی مسیحی نہیں تھے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے کچھ یہ سُن کر سوچیں گے کہ میں نے مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے، مگر میں آپ کو خُدا کی حضوری میں یقین دلاتا ہوں کہ اِس میں ایک لفظ بھی جو میں نے بالکل ابھی کہا مبالغہ آرائی یا جھوٹ پر مبنی نہیں ہے۔

میں نے خود اپنی آنکھوں سے آخری ایام میں گرجہ گھروں کے کھوئے ہوئے اراکین کی اُن اُنیس وضاحتوں کو دیکھا ہے۔ یہ ’’آخری ایام‘‘ کے اِرتداد کی وضاحت کرتے ہیں۔ اور یہ باتیں ساری دُنیا میں ہر فرقے اور ہر صحبت میں پائی جاتی ہیں۔ میں بہت سے نوجوان لوگوں کو جانتا ہوں جو بُرائی کے اِن دِنوں میں مسیحیت کی مُرتدی کے بے اعتقادی اور جسمانی نیت کے دیکھنے سے گمراہ ہو چکے ہیں اور شکست کھا چکے ہیں۔ مجھے ایک نوجوان مبلغ یاد آتا ہے جو انجیلی بشارت کے جوش سے بھرپور تھا جب وہ مغربی بپٹسٹ سیمنری میں آیا۔ اُس نے صرف ایک ہی سیمسٹر کے بعد مذہبی خدمت کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ اِس کو چھوڑنے سے پہلے اُس نے مجھے بتایا، ’’اِس طرح جاری رہنے کا کیا فائدہ ہے؟ یہ ہے جو وہ ہمارے مبلغین کو تعلیم دے رہے ہیں۔ وہ کسی بات پر یقین نہیں کرتے۔‘‘

II۔ دوئم، باقی کی آیت چودہ پر توجہ مرکوز رکھیں۔

’’لیکن تو اِن باتوں پر قائم رہ جو تو نے سیکھی ہیں اور جن کا تجھے پورا یقین ہے کیونکہ تو اِن باتوں کے سیکھنے والوں کو جانتا ہے‘‘ (2 تیموتاؤس3:‏14)۔

اِرتداد کے اِن بُرے دِنوں میں ایک مسیحی کیا کر سکتا ہے؟ اِرتداد کے لیے زندہ خُدا کا کلام بائبل تریاق ہے۔ پطرس رسول نے بائبل کو ’’ایک چراغ جو اندھیرے میں روشنی دیتا ہے‘‘ کہا ہے (2پطرس1:‏19)۔

جس بات نے اُس سیمنری اور مذہبی خدمت کو بالکل بھی نہ چھوڑنے کے لیے مجھے وہیں پر رکھا یہ تھی کہ ’’میں اُن باتوں پر قائم تھا جو [میں] سیکھ چکا تھا اور جن پر پورا یقین کر [چکا تھا]، کیونکہ میں اِن باتوں کے سیکھنے والوں کو جان [چکا تھا]‘‘ (2تیموتاؤس3:‏14)۔ نوجوان تیموتاؤس نے کلام پاک کو اپنی نانی اور اپنی ماں سے اور خود پولوس رسول سے جانا تھا (دیکھیں 2تیموتاؤس 1:2، 5)۔ میں نے بائبل بشمول اِرتداد کی اِن پیشن گوئیوں کے ڈاکٹر میگی Dr. McGee اور ڈاکٹر لِن Dr. Lin سے سیکھی تھی۔ اصل میں، وہ واعظ جو میں نے اُس دِن سُنا تھا جب میں تبدیل ہوا تھا وہ ڈاکٹر چارلس جے۔ ووڈبریج Dr. Charles J. Woodbridge کا تھا، جنہوں نے فُلر علم الہٰیات کی سیمنری Fuller Theological Seminary میں آزاد خیالی کے خلاف آواز بُلند کی تھی اور جہاں سے اُنہوں نے چند سال قبل اِسی وجہ سے استیفعیٰ دے دیا تھا۔ بالکل اُسی دِن جب میں نے نجات پائی تھی ڈاکٹر ووڈبریج نے 2پطرس کے تیسرے باب میں سے ’’آخری ایام‘‘ میں ’’نفسانی خواہشیں‘‘ رکھنے والوں پر بات کی تھی (دیکھیں2پطرس3:3)۔ لہٰذا اِس سے پہلے کہ میں آزاد خیال سیمنری میں جاتا میں جانتا تھا کہ اِرتداد کیا ہوتا ہے۔ میں غیر تبدیل شُدہ اِساتذہ کے تصورات میں یقین کرنے کے بجائے مکمل طور پر بائبل پر انحصار کرنا سیکھ چکا تھا۔ میں ڈاکٹر ووڈبریج، ڈاکٹر لِن اور ڈاکٹر میگی سے خُدا کے کلام پر بھروسہ کرنا سیکھ چکا تھا۔ اُس مُرتد سیمنری کے اُن سالوں میں میری تلاوت زبور119:‏99 تھی،

’’میں اپنے اُستادوں سے بھی زیادہ فہم رکھتا ہوں، کیونکہ میں تیرے قوانین [بائبل] پر دھیان کرتا ہوں‘‘ (زبور119:‏99)۔

نوجوانو، میں جانتا ہوں کہ وہ تمہیں کالج میں کیا تعلیم دیتے ہیں۔ میں نے لاس اینجلز سٹی کالج اور لاس اینجلز میں کیلیفورنیا سٹیٹ یونیورسٹی سے گریجوایشن (بی۔اے۔، 1970) کی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کیسے مسیحیت پر حملہ کرتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ مسیحیوں کا تمسخر اُڑاتے ہیں اور یسوع پر بہتان لگاتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اُس وقت کے مقابلے میں جب میں کالج میں تھا آج خُدا کے لیے مضبوطی سے قائم رہنا پہلے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ اِرتداد کے اِن بُرے دِنوں میں ہر بات ایک نوجوان شخص کے خلاف ہے۔ یہاں تک کہ صدر بھی ہمارے خلاف ہے۔ مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ جو بائبل پر یقین کرتے ہیں زبور نویس کے ساتھ کہہ سکتے ہیں،

’’تیرے کلام کی تشریح نور بخشتی ہے؛ اور سادہ لوگوں کو سمجھ عطا کرتی ہے‘‘ (زبور119:‏130)؛

اور،

’’تیرا کلام میرے قدموں کے لیے چراغ اور میری راہ کے لیے روشنی ہے‘‘
       (زبور119:‏105)۔

’’چونکہ میں تیرے قوانین کو برحق سمجھتا ہوں اِس لیے ہر جھوٹی راہ سے مجھے نفرت ہے‘‘ (زبور119:‏128)۔

اُن الفاظ کو دُوبارہ سُنیں جو مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے بالکل ابھی گائے تھے،

بے اعتقادی اور شک کے طوفانوں کے درمیان، ہم خوف کھاتے ہیں،
ایک دائمی کتاب موجود ہے کہ جسے ہمیں مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے؛
بے چین گزرتے زمانوں میں سے گزر کر یہ نہیں بدلتی ہے،
یہ خُدا کی کتاب ہے اور اِس کا نام بائبل ہے!
پرانی کتاب اور پرانا ایمان وہ چٹان ہیں جن پر میں قائم ہوں!
پرانی کتاب اور پرانا ایمان سرزمین کی دفاعی فصیل ہیں!
طوفان اور دباؤ میں وہ امتحان میں کامیاب رہے،
ہر موسم اور قوم کو برکت عطا کی؛
وہ پرانی کتاب اور وہ پرانا ایمان
ہر سرزمین کی اُمید ہیں!
   (’’وہ پرانی کتاب اور وہ پرانا ایمان The Old Book and the Old Faith‘‘
    شاعر جارج ایچ۔ قاررGeorge H. Carr ، 1914)۔

III۔ سوئم، آیت پندرہ پر توجہ مرکوز کریں۔

’’...اُن مقدس کتابوں سے واقف ہے جو تجھے مسیح یسوع پر ایمان لا کر نجات حاصل کرنے کا عرفان بخشتی ہیں‘‘ (2تیموتاؤس3:‏15)۔

ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones نے کہا، ’’میرے پاس خُدا کا کوئی علم نہیں ہے ماسوائے اُس کے جو بائبل مجھے بتاتی ہے‘‘ (بائبل کے عظیم عقائد (1) Great Doctrines of the Bible، صفحہ36)۔ اُنہوں نے کہا، ’’کوئی اور دوسری کتاب نہیں ہے جو خُدا کی کتاب ہے‘‘ (مبشراتی واعظ Evangelistic Sermons، صفحہ 25)۔

’’اُن مقدس کتابوں سے واقف ہے جو تجھے مسیح یسوع پر ایمان لا کر نجات حاصل کرنے کا عرفان بخشتی ہیں‘‘ (2تیموتاؤس3:‏15)۔

بائبل ہمیں یسوع کی نشاندہی کرتی ہے۔ جو ایک شخص بائبل کو سُنتا ہے، اور سچے طور پر اُس پر یقین کرتا ہے جو خُدا اُس میں کہتا ہے، تو وہ مسیح کو جاننا چاہے گا۔ بائبل میں اعتقاد آپ کو نجات نہیں دلا پائے گا۔ خُدا کا بےخطا کلام آپ کو مسیح کے لیے اشارہ دیتا ہے۔ نجات کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟ یہ صرف مسیح یسوع میں ایمان کے وسیلے سے حاصل کی جا سکتی ہے! بی۔ بی۔ میکینی جو کہ پرانے دور کے بپتسمہ یافتہ ہیں اُنہوں نے لکھا،

میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ بائبل سچی ہے؛
تمام کی تمام مکمل خُدا کی طرف سے الہٰی،
میں جانتا ہوں کہ بائبل سچی ہے۔
   (’’میں جانتا ہوں کہ بائبل سچی ہے I Know the Bible is True‘‘
شاعر ڈاکٹر بی۔ بی۔ میکینی Dr. B.B. McKinney ‏، 1886۔1952)۔

اِس کے باوجود آپ بائبل سچی ہے پر یقین کر سکتے ہیں اور پھر بھی گمراہ کھوئے ہوئے ہو سکتے ہیں! نجات پانے کے لیے، آپ کو بائبل کی فرمانبرداری کرنی چاہیے اور یسوع پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ مسیح ہمارے گناہوں کے لیے مرا۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے گناہوں کو خُدا کے قہر سے، مسیح کی کفاراتی قربانی کے وسیلے سے ’’یسوع کے خون میں ایمان رکھنے‘‘ سے تسلی دی جا سکتی ہے (رومیوں3:‏25)۔ بائبل کہتی ہے، خُداوند یسوع مسیح پر ایمان رکھ اور تو نجات پائے گا‘‘ (اعمال16:‏31)۔ مگر آپ ’’نجات صرف ایمان کے وسیلے سے جو مسیح یسوع میں ہے‘‘ پا سکتے ہیں (2تیموتاؤس3:‏15)۔ ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر Dr. A. W. Tozer نے کہا،

ایک پشیمان جان کے لیے ایمان خُدا کا ایک تحفہ ہے اور اِس کو کوئی بھی تعلق حسیات کے ساتھ یا اُن معلومات کے ساتھ نہیں ہے جن کی وہ استطاعت رکھتے ہیں۔ ایمان ایک معجزہ ہے؛ یہ وہ صلاحیت ہے جو خُدا ہمیں اُس کے بیٹے پر بھروسہ کرنے کے لیے بخشتا ہے (اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر، ڈی۔ڈی۔ A. W. Tozer, D.D.، انسان: خُدا کے بسیرے کی جگہ Man: The Dwelling Place of God، مسیحی اشاعت خانے، 1966، صفحہ 33)۔

جب آپ اپنے گناہ سے بیمار ہوتے ہیں، اور انتہائی شدت کے ساتھ اِس سے چھٹکارہ پانا چاہتے ہیں، تب (مگر اُس سے پہلے نہیں) خُدا آپ کو یسوع مسیح پر بھروسہ کرنے کے لیے ایمان بخشے گا۔

اگر آپ اُس بارے میں ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہیں تو مہربانی سے اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کی ایک اور کمرے تک رہنمائی کریں گے جہاں پر ہم بات چیت اور دعا کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ آج شب کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: 2تیموتاؤس3:‏1۔7، 12۔15 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’وہ پرانی کتاب اور وہ پرانا ایمان The Old Book and the Old Faith‘‘
(شاعر جارج ایچ۔ قارر George H. Carr‏، 1914)۔

لُبِ لُباب

اِرتداد کے لیے تریاق

THE ANTIDOTE FOR APOSTASY

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’لیکن تو اِن باتوں پر قائم رہ جو تو نے سیکھی ہیں اور جن کا تجھے پورا یقین ہے کیونکہ تو اِن باتوں کے سیکھنے والوں کو جانتا ہے۔ اور کس طرح تو بچپن سے اُن مقدس کتابوں سے واقف ہے جو تجھے مسیح یسوع پر ایمان لا کر نجات حاصل کرنے کا عرفان بخشتی ہیں‘‘ (2 تیموتاؤس3:‏14۔15)۔

I۔   اوّل، لفظ ’’لیکن‘‘ پر توجہ مرکوز کریں، 2تیموتاؤس 3:‏14الف، 5، 7، 8 .

II۔  دوئم، باقی کی آیت چودہ پر توجہ مرکوز کریں، 2 تیموتاؤس 3:‏14ب؛
2پطرس1:‏19؛ 3:‏3؛ زبور119:‏99، 130، 105، 128۔

III۔ سوئم، آیت پندرہ پر توجہ مرکوز کریں، 2 تیموتاؤسس 3:‏15؛ رومیوں3:‏25؛
اعمال16:‏31 .