Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

شیطان اور خوشخبری [انجیل]

THE DEVIL AND THE GOSPEL!
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائمیرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 16 مارچ، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, March 16, 2014

’’اگر ہماری خوشخبری ابھی بھی پوشیدہ ہے تو صرف ہلاک ہونے والوں کے لیے پوشیدہ ہے: چونکہ اِس جہاں کے خُدا نے اُن بے اعتقادوں کی عقل کو اندھا کر دیا ہے، اِس لیے وہ خُدا کی صورت یعنی مسیح کے جلال کی خوشخبری [انجیل] کی روشنی کو دیکھنے سے محروم ہیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں4:3، 4)۔

اِس مراسلے کے تیسرے باب میں پولوس رسول نے موسیٰ کے بارے میں بات کی۔ اُس نے کہا کہ موسیٰ نے اپنے چہرے پر ’’پردہ‘‘ ڈالا ہوا تھا جب وہ کوہِ سینا سے نیچے اُترا۔ وہ ’’پردہ‘‘ اُس پر اِس لیے تھا کہ اُس کے چہرے سے جھلکنے والے نور کو روک سکے۔ تب اُس نے کہا کہ بے شمار یہودی لوگوں اپنے دِلوں کو پردے سے ڈھانپے رکھتے ہیں جب وہ کلام پاک پڑھتے ہیں۔ لیکن، اُس نے کہا، جب بھی کوئی خُداوند کی جانب رُخ کرتا ہے تو وہ پردہ ہٹا دیا جاتا ہے۔

مگر ہماری تلاوت میں ایک مختلف لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ کہتا ہے، ’’اگر ہماری خوشخبری [انجیل] ابھی بھی پوشیدہ ہے…‘‘ ’’پوشیدہhid‘‘ اُسی یونانی لفظ کا ترجمہ ہے جس نے تیسرے باب میں ’’پردہ کیا vailed‘‘ کا ترجمہ کیا ہے۔ دونوں الفاظ ہی ’’کالومہ kaluma‘‘ کی قسم ہیں، جس کا مطلب ’’ایک ڈھانپنے کی چیز، ایک پردہ‘‘ ہوتا ہے (جارج رایکر بیری George Ricker Berry)۔ لٰہذا ہم اپنی تلاوت کا ترجمہ کر سکتے ہیں، ’’اگر ہماری خوشخبری [انجیل] پر ابھی بھی پردہ ہے تو صرف ہلاک ہونے والوں کے لیے پردہ ہے۔‘‘

خود خوشخبری [انجیل] پر پردہ نہیں ہے۔ اِس کا موازنہ تو نور سے کیا جاتا ہے۔ یہ تو اِس قدر شدت کی روشنی کے ساتھ منور ہے کہ وہ جو اِس کو سُنتے اور اِس کی فرمانبرداری نہیں کرتے اُن کی ذہنوں کو شیطان کے ذریعے سے اندھا کر دیا جانا چاہیے – جس کو یہاں پر ’’اِس دُنیا کا خُدا‘‘ کہا جاتا ہے۔ شیطان گنہگاروں کے ذہنوں کو اندھا کر دیتا ہے، کیونکہ وہ ’’وہ روح ہے جو اب تک نافرمان لوگوں میں تاثیر کرتی ہے‘‘ (افسیوں2:2)۔ رسول ہمیں بتاتا ہے کہ مسیح کی خوشخبری [انجیل] ایک نور کی مانند ہے جو اُن کے دِلوں میں منور ہو گا اگر وہ شیطان کے ذریعے سے اندھے نہیں کیے جاتے۔ مسیح کی خوشخبری [انجیل] کوئی پیچیدہ یا خفیہ بات نہیں ہے۔ یہ تاریک اور چُھپی ہوئی نہیں ہے۔ اِس کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ ایک بچہ اِس کی باتوں کو کہنا سیکھ سکتا ہے اور یہاں تک کہ اُنہیں سمجھا بھی سکتا ہے۔ خوشخبری [انجیل] کوئی غیر واضح یا مبہم نہیں ہے۔ یہ اِس قدر سادہ ہے کہ یہاں تک کہ انتہائی قدیم لوگ بغیر تعلیم کے، یہاں تک کہ کُند ذہن کے لوگ، سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کیا کہتی ہے! یہی وجہ ہے کہ ہم اکثر لوگوں کو ’’سادہ خوشخبری [انجیل] کےبارے میں بات کرتے ہوئے سُنتے ہیں۔ ہم اُنہیں کہتے ہوئے سُنتے ہیں، ’’وہ سادہ سی خوشخبری [انجیل] کی منادی کرتا ہے۔‘‘ لٰہذا، میں کہتا ہوں کہ خوشخبری [انجیل] واقعی میں پوشیدہ نہیں ہے۔ اِس پر شیطان نے ’’پردہ‘‘ ڈالا ہوا ہے، مگر غیر واضح نہیں ہے اور سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ اور، اِس طرح سے، یہ برگشتہ لوگوں سے چھپی ہوئی نہیں ہے، بلکہ اِس پر پردہ ڈالا ہوا ہے! غور کریں کہ بائبل خود پردے میں ڈھکی ہوئی نہیں ہے۔ یہ تو بے اعتقادے کا ذہن ہے جو پردے میں چھپا ہوا ہے۔ جس لمحے وہ پردہ ہٹا دیا جاتا ہے، ’’مسیح کی جلالی خوشخبری [انجیل]‘‘ جگمگا اُٹھتی ہے!

’’اگر ہماری خوشخبری ابھی بھی پوشیدہ ہے تو صرف ہلاک ہونے والوں کے لیے پوشیدہ ہے: چونکہ اِس جہاں کے خُدا نے اُن بے اعتقادوں کی عقل کو اندھا کر دیا ہے، اِس لیے وہ خُدا کی صورت یعنی مسیح کے جلال کی خوشخبری [انجیل] کی روشنی کو دیکھنے سے محروم ہیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں4:3، 4)۔

چند ایک منٹوں کے لیے اپنے خیالات کو اِس تلاوت پر مرکوز کریں۔ یہاں پر بے شمار ایسی باتیں ہیں جنہیں آپ کو جاننا چاہیے۔

I۔ وہ خوشخبری [انجیل] ایک جلالی نور ہے۔

تلاوت ’’مسیح کی جلالی خوشخبری [انجیل] کے نور‘‘ کے بارے میں بتاتی ہے۔ ہماری انجیل کا نور مسیح کے جلال کو آشکارہ کرتا ہے۔ بائبل اکثر خوشخبری [انجیل] کے بارے میں نور کی حیثیت سے بتاتی ہے۔ یوحنا رسول نے کہا، ’’تاریکی مٹتی جاتی ہے اور حقیقی نور چمکنے لگا ہے‘‘ (1۔ یوحنا2:8)۔ خود مسیح نے کہا، ’’نور دُنیا میں آیا ہے‘‘ (یوحنا3:19)۔ اور ’’مسیح کی جلالی خوشخبری [انجیل] کا نور‘‘ نجات دہندہ کو ہم پر ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ خُدا باپ کا دائمی بیٹا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ تمام کی تمام چیزیں مسیح کے وسیلے سے بنائی گئیں۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ زمین پر آسمان سے آیا تھا۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ’’مسیح اِس دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا‘‘ (1۔ تیموتاؤس1:15)۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ پہلے کرسمس پر بیت اللحم میں پیدا ہوا۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ خُدا ہے، کہ تثلیث کی دوسری ہستی ’’نے انسانی روپ دھارا اور ہمارے درمیان خیمہ زن ہوا‘‘ (یوحنا1:14)۔ وہ عمانوائیل کہلایا جس کا [مطلب ہوتا ہے] خُدا ہمارے ساتھ ہے‘‘ (متی1:23)۔ اُس پاک بچے کی پیدائش جلالی خوشخبری [انجیل] کا آغاز تھی! اور اشعیا نبی پکار اُٹھا،

ہمارے لیے ایک لڑکا پیدا ہوگا، ہمیں ایک بیٹا بخشا گیا ہے‘‘ (اشعیا9:6)۔

باپ کا کلمہ، اب متجسم ظاہر ہوا ہے؛
اوہ آؤ، آؤ ہم اُس کی ستائش کریں، اوہ آؤ، آؤ ہم اُس کی ستائش کریں،
اوہ آؤ، ہم اُس مسیح خداوند کی ستائش کریں۔
   ’’اوہ آؤ، تم تمام ایمانداروں O Come, All Ye Faithful‘‘
      (ترجمہ کیا فریڈرک اوکیلے Frederick Oakeley نے، 1802۔1880)۔

یہی یسوع ہر جگہ پر منادی کرنے تعلیم دینے اور رحم کے عظیم معجزے کرنے کے لیے گیا۔ کمتر ترین لوگ اُس کے پاس آئے۔ کوڑھی جن کو کوئی شخص چھوتا بھی نہیں تھا اُن کو اُس نے چھوا اور اُس ہولناک بیماری سے شفا دی۔ اُن نے گنہگاروں اور جواریوں کے ساتھ کھانا کھایا۔ چھوٹے بچے اُس کے پاس آئے، اور اُس نے اُنہیں بازوؤں میں اُٹھا لیا اور اُنہیں برکت دی۔ ہر ایک کام جو اُس نے کیا خوشخبری [انجیل] کا اعلان کرتا تھا، وہ خوشخبری کہ خُدائے انسان ہمارے درمیان یہاں پر تھا! اُس کی انتہائی زندگی خوشخبری [انجیل] تھی – وہ خوشخبری کہ مسیحا اور مخلصی دلانے والا یہاں ہمارے درمیان ہی میں تھا۔

لیکن وہ عظیم کام جو ابھی اُس نے کرنے تھے اُن کا وقت آنے والا تھا۔ بارہ شاگردوں کے ساتھ فسح کا کھانا کھانے کے بعد، وہ اُنہیں تاریکی میں لے گیا، آدھی رات کے وقت، گتسمنی کے باغ میں۔ شاگرد سو گئے، جبکہ نجات دہندہ دعا میں جنگ کرتا رہا اور پسینہ خون کے بوندوں کے مانند اُس کی ٹانگوں سے بہتا ہوا زمین پر ٹپکنے لگا۔ وہ لوگ مشعلوں کے ساتھ آئے اور اُس کو جھوٹے الزام میں گرفتار کر لیا۔ اُنہوں نے اُس کے منہ پر تھوکا اور اپنے مُکّوں سے اُس کو مارا۔ اُنہوں نے اُس کی داڑھی کے بال نوچ ڈالے۔ اُنہوں نے اُس کی کمر پر اُس وقت تک کوڑے مارے جب تک کہ اُس کی کچھ پسلیاں نظر نہ آنے لگ گئیں۔ اُنہوں نے یسوع کو سڑکوں پر سے صلیب گھسیٹ کر لے جانے پر مجبور کیا جبکہ لوگوں کے ہجوم نے اُس کا مذاق اُڑایا اور اُس کو بُرا بھلا کہا۔ اُنہوں نے صلیب پر اُس کے ہاتھوں اور پیروں کو کیلوں سے جڑ دیا۔ سورج سے اُس کا ننگا جسم تپ گیا جب تک کہ اُس کی زبان تالو سے نہ جا چپکی۔ اور پھر وہ مر گیا۔ اُنہوں نے اُس کی قبر کو ایک بہت بڑے چٹانی پتھر سے بند کر دیا اور اُس پر روم کی مہر لگا دی۔ اُنہوں نے وہاں پر اُس کے جسم کو ہٹا نہ لیا جائے اِس غرض سے رومی پہرے دار بیٹھا دیے۔ وہ رات لمبی اور تاریک تھی۔ اِتوار کی صبح ہی صبح، بالکل جس وقت اُس باغ کے سائیوں میں سے سورج کی پہلی کرنیں نمودار ہوئیں، ایک زلزلے نے جو ایک یا دو دِن پہلے آئے ہوئے زلزے کے بعد کا جھٹکا تھا اُس نے زمین کو دھلا دیا۔ وہ چٹانی پتھر قبر کے مُنہ سے لُڑھک گیا۔ اور یسوع، یہودیوں کا بادشاہ اور نسل انسانی کا نجات دہندہ، صبح کے سورج میں باہر نکل کر آیا!

ھیلیلویاہ! ہیلیلویاہ! ہیلیلویاہ!
تین اُداس دِن جلدی سے گزر گئے؛
وہ جلال کے ساتھ مُردوں میں سے جی اُٹھا؛
ہمارے جی اُٹھے سربراہ کو تمام جلال ہو!
ہیلیلویاہ!

ھیلیلویاہ! ہیلیلویاہ! ہیلیلویاہ!
اُس نے منہ پھاڑے جہنم کے دروازے بند کر دیے؛
آسمان کے بُلند پھاٹکوں کی سلاخیں گر گئیں:
اُس کی فتوحات کو ستائش کے حمدوثنا کے گیت بتانے دو۔
ھیلیلویاہ!
   (’’اختلاف ختم ہو گیا The Strife Is O’er ‘‘ فرانس پاٹ Francis Pott
      نے ترجمہ کیا، 1832۔1909)۔

یہی خوشخبری ہے – شروع سے لیکر آخر تک! مسیح کی زندگی، مسیح کی موت، مسیح کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا، مسیح کا آسمان میں اُٹھایا جانا، مسیح کا آسمان میں خُدا باپ کے داھنے ہاتھ پر بیٹھنا اور مسیح کی آمد ثانی – یہ تو خوشخبری [انجیل] ہے! یہ ہی خوشخبری ہے! اے مبلغ آپ کیسے ہفتہ در ہفتہ اُن موضوعات پر مکمل واعظ دیے بغیر جاری رہ سکتے ہیں؟ مسیح کی کُل زندگی ہی خوشخبری تھی!

مگر خوشخبری کا مرکزی روحِ رواں اُس کی موت، دفنایا جانا اور مُردوں میں سے جی اُٹھنا ہے۔ پولوس رسول نے کہا،

’’میں تمہیں وہ خوشخبری یاد دلانا چاہتا ہوں … کتاب مقدس کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے قربان ہوا، دفن ہوا اور کتاب مقدس کے مطابق تیسرے دِن زندہ ہو گیا‘‘ (1۔ کرنتھیوں15:1۔4)۔

جیتے جی، اُس نے مجھے سے محبت کی، مرکر، اُس نے مجھے نجات دلائی؛
دفنائے جانے سے، وہ میرے گناہوں کو اُٹھا لے گیا؛
جی اُٹھنے سے، وہ ہمیشہ کے لیے آزادنہ راستباز ٹھہرایا؛
ایک دِن وہ آ رہا ہے، اے جلالی دِن!
   (’’ایک دِن One Day‘‘ شاعر ڈاکٹر جے۔ وِلبر چعیپ مین
      Dr. J. Wilbur Chapman، 1859۔1918)۔

یہی تو خوشخبری ہے!

مجھے بالکل بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیسے مبلغین اُن نہایت ہی اہم موضوعات پر مکمل واعظ کی تبلیغ کیے بغیر ہفتوں تک رہ سکتے ہیں! ڈاکٹر مونک پارکر Dr. Monk Parker خود مختیار بپتسمہ دینے والی انجیلی بشارت کے پرچار کی جماعت کے ’’نگران صدر‘‘ تھے۔ آپ کبھی کبھار اُن کے واعظ خُداوند کی تلوار The Sword of the Lord میں دیکھ پائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ وجہ کہ بے شمار پادری خوشخبری کی منادی نہیں کرتے یہ ہے، کہ اُن میں سے کم از کم 50 % تو کبھی بھی بچائے ہی نہیں گئے! اگر جو اُنہوں نے کہا سچ تھا تو پھر یہ ہی وجہ جواب پیش کر دیتی ہے،

’’اگر ہماری خوشخبری ابھی بھی پوشیدہ ہے تو صرف ہلاک ہونے والوں کے لیے پوشیدہ ہے: چونکہ اِس جہاں کے خُدا نے اُن بے اعتقادوں کی عقل کو اندھا کر دیا ہے، اِس لیے وہ خُدا کی صورت یعنی مسیح کے جلال کی خوشخبری [انجیل] کی روشنی کو دیکھنے سے محروم ہیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں4:3، 4)۔

یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ مسیح کی خوشخبری پر جامع واعظ کی منادی نہیں کرتے۔ یہ ’’خوشخبری [انجیل] اُن کے لیے پوشیدہ ہے جو کھوئے ہوئے ہیں۔‘‘ یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ خوشخبری کی منادی کرنے کے بجائے نام نہاد کہلائے جانے والے ’’مسیحیوں‘‘ کو بائبل کی آیت بہ آیت تعلیم دیتے ہیں۔ یہ ’’خوشخبری [انجیل] اُن کے لیے پوشیدہ ہے جو کھوئے ہوئے ہیں۔‘‘ خوشخبری خود اپنی ذات میں پوشیدہ نہیں ہے۔ مگر وہ اِس کو دیکھ نہیں سکتے۔ ’’خوشخبری [انجیل] اُن کے لیے پوشیدہ ہے… ‘‘ (2۔ کرنتھیوں4:3)۔ اور یہ بات ہمیں دوسرے نقطے پر لے جاتی ہے۔

II۔ دوسری بات، خوشخبری نہایت سادہ ہے اور سمجھنے کے لیے آسان ہے۔

خوشخبری [انجیل] میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو کسی کو بھی غیر واضح لگے – جب تک کہ وہ خود بے تعلق ہونا نا چاہتا ہو۔ خوشخبری [انجیل] میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو ایک شخص سمجھ نہ سکتا ہو اگر وہ اِس کو سمجھنا چاہتا ہو۔ یہ ساری کی ساری کسی کے لیے بھی واضح اور سادہ ہے جس نے چند ایک خوشخبری کے واعظ سُنے ہوئے ہوں۔

میں جانتا ہوں کہ ایسے مبلغین بھی ہیں جو خود ہی خوشخبری کو سمجھ نہیں پاتے۔ میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ ہمارے اِس قدر زیادہ گرجہ گھروں میں وہ خود سے مدد مانگے ہوئے واعظوں کی منادی کرتے ہیں۔ اُنہیں ہر اِتوار کو خوشخبری کی منادی کرنا انتہائی دشوار لگتا ہوگا، جیسا کہ ہمیں لگتا ہے۔ وہ وجہ کہ اُنہیں وہ کیوں مشکل لگتا ہوگا یہ ہے کہ وہ اِسے خود سمجھ نہیں سکتے ہیں۔ اُس موضوع پر بات کرنا اور سمجھنا دشوار ہوتا ہے جسے آپ خود نہ سمجھ سکتے ہوں۔

مگر اُنہیں تاریکی میں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر وہ مبلغیں یسوع کے پاس کھوئے ہوئے گنہگاروں کی حیثیت سے آ جائیں تو وہ آپ کے ساتھ ساتھ جلد ہی خوشخبری کو سمجھ جائیں گے۔ میں نے ایک مرتبہ ایک بپتسمہ دینے والے مبلغ سے پوچھا کہ مجھے بتائے وہ کیسے بچایا گیا تھا۔ اُس نے کہا، ’’ٹھیک، میں اِس قدر زیادہ کم عمر تھا کہ مجھے یہ بالکل بھی نہیں یاد ہے۔ مگر، مجھے جب بھی شک ہوتا ہے تو میں اپنی ماں کے پاس جاتا ہوں اور وہ مجھے بتا دیتی ہے کہ میں بچایا گیا ہوں، کیونکہ اُنہیں یہ یاد ہے!‘‘ میں نے سوچا کہ میں سب کچھ سُن چکا تھا! مگر یہ ایک نئی بات تھی۔ وہ ایک مبلغ تھا جس کی نجات کی یقین دہانی کا انحصار اُس کی ماں کے یہ یاد رکھنے میں تھا کہ اُس نے نام نہاد کہلائی جانے والی گنہگار کی دعا 3 برس کی عمر میں بُڑبُرائی تھی! میرے خُداوندا! ہمارے گرجہ گھروں میں کیسی کیسی خوش فہمیاں پنپتی ہیں! کیسے اِس قسم کا ایک شخص کسی قوت کے ساتھ خوشخبری کی منادی کر پائے گا؟ کوئی تعجب نہیں کہ اُنہیں آیت بہ آیت بائبل کے مطالعہ میں پناہ حاصل کرنی پڑتی ہے، جو ہمارے گرجہ گھروں میں نام نہاد کہلائے جانے والے ’’مسیحیوں‘‘ کو پیش کی جاتی ہے۔ کوئی تعجب نہیں کہ وہ کبھی بھی انجیلی بشارت کے پرچار کے واعظوں کی تبلیغ نہیں کرتے!

مگر خوشخبری کے بارے میں اِس قدر زیادہ فرق کیا ہے؟ جی ہاں، خُدا کا نیچے آنا اور انسانی روپ دھارنا ایک بہت بڑا اسرار ہے۔ ہم نہیں جانتے یہ کیسے ہو گیا ہوگا۔ مگر ہمیں یہ جاننے کی ضرورت بھی نہیں ہے کہ یہ کیسے ہو گیا ہوگا! ہمیں صرف یہی جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ رونما ہوا تھا! گنہگاروں کی جگہ پر – مسیح کی صلیب پر متبدلیاتی موت – شاید ایک انتہائی گہرا سوال ہو۔ ہم شاید اِس کو تفصیل کے ساتھ سمجھانے کے قابل نہ ہوں، مگر یہ کوئی زیادہ دشوار بھی نہیں لگتا۔ میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو جانتا ہوں جو سمجھا سکتے ہیں کہ ’’یسوع آسمان سے نیچے زمین پر ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے آیا تھا۔ وہ نیچے آیا تھا اور بیت اللحم میں پیدا ہوا تھا۔‘‘ اگر ایک چھوٹا سا بچہ یہ کہہ سکتا ہے، تو یہ غیر واضح تو نہیں ہو سکتا نا۔ گذشتہ اِتوار ہمارے گرجہ گھر میں ایک نوجوان خاتون نے کہا، ’’میں نہیں جانتی یسوع پر بھروسہ کیسے کیا جائے۔‘‘ اُس نے میری جانب اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ دیکھا تھا، جیسا کہ سارے جہاں میں اُس پر بھروسہ کرنا سب سے زیادہ پریشان کُن اور دشوار گزار بات ہوتی ہے۔ دراصل یہ نہایت سادہ ہے۔ میں نے اُس سے کہا، ’’کیا آپ اپنے والدین پر بھروسہ کرتی ہیں؟ اُس نے کہا، ’’جی ہاں۔‘‘ میں نے کہا، ’’یسوع پر ایسے ہی بھروسہ کرو جیسے آپ اپنے والدین پر بھروسہ کرتیں ہیں اور آپ فوراً ہی بچا لی جائیں گی۔‘‘ میں بے شمار لوگوں کو یسوع پر بھروسہ دِلوا چکا ہوں اور پھر وہ مجھے کہتے ہیں، ’’کیوں، وہ تو اِس قدر آسان تھا! اور اِس سارے وقت کے دوران میں نے سوچا تھا کہ یہ تو بہت مشکل تھا!‘‘

میں آپ کو بارہا سالوں سے، بار بار بتا چکا ہوں – آپ کو جاننے کی ضرورت نہیں ہے کہ یسوع کے پاس کیسے آیا جائے۔ آپ کو جاننے کی ضرورت نہیں کہ کیسے یسوع پر بھروسہ کیا جائے۔‘‘ بائبل میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں ہے جو آپ کو بتاتا ہو کہ یہ ’’کیسے‘‘ کیا جاتا ہے! آپ اِن باتوں کو سیکھ نہیں سکتے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو خُدا آپ میں آپ کے لیے کرتا ہے۔ آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ سادگی سے یسوع مسیح پر بھروسہ کرتے ہیں۔

اگلی ہی رات میں ایک کہانی کے بارے میں سوچ رہا تھا جس کو میں گزرے ہوئے سالوں میں اکثر اپنی منادی میں استعمال کر چکا ہوں۔ یہ حقیقی طور پر ایک سچی کہانی تھی، حالانکہ میں کچھ تفصیلات بھول چکا ہوں۔ ایک شخص ایک گھر کے اپارٹمنٹ میں تھا جس میں آگ لگ گئی۔ وہ گہری نیند سویا ہوا تھا اور اُٹھ نہیں پایا تھا جب عمارت کو خالی کروایا گیا تھا۔ جب بالاآخر وہ بیدار ہوا تو ساری عمارت شعلوں میں گِھر چکی تھی۔ اُس نے اپنے کمرے سے نکلنے کی کوشش کی مگر ہال کے راستے میں آگ لگ چکی تھی۔ وہ کھڑکی میں سے باہر نکل کر بالکونی میں آ گیا۔ وہ دسویں منزل پر تھا۔ اُس نے نیچے نظر ڈالی اور بے شمار آگ بجھانے والے عملے کے لوگوں کو دیکھا۔ وہ مدد کے لیے چلایا۔ آگ بجھانے والے عملے کے لوگ دوڑے اور ایک جال لے آئے اور اُس کے لیے اُس کو پھیلا دیا کہ وہ اُس میں چھلانگ لگا دے۔ ایک فائرمین نے ایک سپیکر لیا اور چلایا، ’’چھلانگ مارو! اے انسان چھلانگ مارو! چھلانگ مارو!‘‘ مگر وہ شخص خوف سے منجمند ہو چکا تھا۔ اِس وقت تک اُس کے اپنے کمرے میں بھی آگ لگ چکی تھی۔ اُس نے اپنے کمرے میں آگ پر مُڑ کر نظر ڈالی۔ پھر اُس نے فائرمین کے جال پر نیچے نظر ڈالی۔ وہ دس منزلیں نیچے تھا۔ وہ اِس قدر چھوٹا دکھائی دیا تھا کہ اُس کے ہاتھ کے مقابلے میں بڑا نہیں لگتا تھا – نیچے، نیچے، وہاں بہت نیچے! وہ خوف سے منجمند ہو چکا تھا۔ وہ فائرمین زور سے چلایا، ’’چھلانگ مارو، اے انسان! چھلانگ مارو! بالکل ابھی چھلانگ مار دو! اُس شخص نے نیچے، نیچے، بہت نیچے دوبارہ نظر ڈالی۔ پھر اُس نے اپنے دانتوں کو بھینچا، اور واپس اپنے کمرے میں شعلوں میں دوڑ گیا۔ چند لمحوں کے بعد دسویں منزل کا فرش ڈھے گیا اور جلد ہی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ وہ ایک سچی کہانی ہے۔

اب، بلاشُبہ، میں پُریقین ہوں کہ آپ دیکھ سکتے ہیں اِس کہانی کا اِطلاق کیسے ہو سکتا ہے۔ مگر آئیے مجھے ایک منٹ کے لیے اِس کو دوبارہ دھرا لینے دیجیے۔ میں خود اُس منزل میں واپس گیا۔ اپنے ذہن میں میں نے خود کو اُس بالکونی میں وہاں کھڑے اور دس منزلیں نیچے اُس جال پر نظریں ڈالتے ہوئے سوچا۔ یہ واقعی میں بہت چھوٹا، انتہائی ہی چھوٹا دکھائی دیا! اِس نے اصل میں میری جلد میں جھرجھری بھر دی! میں نے کیا کیا ہوگا؟ میں نے چھلانگ لگاتے ہوئے اور اپنی ٹانگوں کو پکڑے ہوئے ایک سختی سے گول مول ہوئے گیند کی مانند ہوا میں سے نیچے جاتے ہوئے – نیچے، نیچے، نیچے جال میں جاتے ہوئے تصور کیا۔ اِس نے میرے ہاتھوں کے چھکے چُھڑا دیے! ایسا کوئی راستہ نہیں تھا کہ میں ایسا کرنے کے لیے کہ اِسے کیسے سیکھا جاتا ہے اِس کو کر پاتا۔ مجھے اِس کو بس کرنا ہی تھا۔ مجھے آگ بجھانے والے عملے کے لوگوں اور جال پر بھروسہ کرنا ہی تھا۔ اِس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا! ورنہ میں آگ میں جل جاتا۔

یہ بہترین طریقہ ہے کہ میں اِس کو سمجھا سکتا ہوں۔ آپ کو یسوع پر بھروسہ کرنا ہی پڑتا ہے اور خود کو اُس کے حوالے کرنا ہوتا ہے۔ یسوع نے کہا،

’’جو کوئی میرے پاس آئے گا، میں اُسے اپنے سے جدا نہ ہونے دُوں گا‘‘ (یوحنا 6:37).

اگر آپ یسوع کے پاس آتے ہیں، تو وہ آپ کو خود سے جُدا نہیں کرے گا! خود کو اُس کے حوالے کر دیں۔ وہ کسی فائرمین کے جال کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابل اعتماد ہے۔ اگر آپ خود کو اُس کے حوالے کر دیتے ہیں تو آپ بچا لیے جائیں گے، کیونکہ وہ کبھی بھی آپ کو خود سے جُدا نہیں کرے گا! آپ حفاظت سے یسوع کی بانہوں میں گِر جائیں گے! آپ کو یہ کرنا چاہیے ورنہ فنا ہو جائیں۔ پھر اُس کے پاس آئیں، ڈوبیں یا تیریں! اُس کو ابھی ہی کہیں،

خُداوندا! میں آ رہا ہوں، میں ابھی تیرے پاس آ رہا ہوں!
مجھے دُھو ڈال، مجھ خون میں پاک صاف کر ڈال
   جو کلوری پر بہا تھا۔
(’’اے خُداوند میں آ رہا ہوں I Am Coming, Lord، شاعر لوئیس ہارٹسو
      Lewis Hartsough ، 1828۔1919)۔

مگر یہاں پر ایک اور بات بھی ہے۔

III۔ تیسری بات، یسوع پر بھروسہ کرنے سے روکنے کے لیے صرف ایک ہی رکاوٹ ہے – اور وہ شیطان ہے۔

تلاوت کہتی ہے،

’’اگر ہماری خوشخبری ابھی بھی پوشیدہ ہے تو صرف ہلاک ہونے والوں کے لیے پوشیدہ ہے: چونکہ اِس جہاں کے خُدا نے اُن بے اعتقادوں کی عقل کو اندھا کر دیا ہے…‘‘ (2۔کرنتھیوں4:3، 4)۔

اِس لفظ ’’اندھا کر دیا‘‘ کا ترجمہ ’’پردہ ڈال دیا‘‘ ہونا چاہیے۔ ’’اِس جہاں کا خُدا‘‘ شیطان ہے۔ وہ آپ کے ذہن پر پردہ ڈال دیتا ہے تاکہ خوشخبری کا نور آپ کے ذریعے سے ابھی دیکھا ہی نا جا سکے۔ آپ میری آواز سُنتے ہیں۔ آپ بائبل کو سُنتے ہیں۔ لیکن یہ آپ کو حقیقی نہیں دکھائی دیتی کیونکہ شیطان آپ کے ذہن پر پردہ ڈال دیتا ہے۔

اب، تیسرے باب میں، ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بات یہودی لوگوں کے لیے بھی سچی ہے۔ آیت 15 میں ہم پڑھتے ہیں،

’’آج تک جب مُوسیٰ کی کتاب پڑھی جاتی ہے، اُن کے دلوں پر وہی پردہ پڑا رہتا ہے‘‘ (2۔ کرنتھیوں 3:15).

اب بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ نجات کے معاملے میں

’’یہودی اور غیر یہودی میں کوئی فرق نہیں…‘‘ (رومیوں 10:12).

مسیح میں نجات کے لیے یہودیوں اور غیر یہودیوں کو بالکل اِسی طرح سے یہ بات کرنی چاہیے۔

لٰہذا، ہم کرنتھیوں3 اور 4 میں دیکھتے ہیں کہ شیطان دونوں یہودیوں اور غیر یہودیوں کے دِلوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ اور بچائے جائے کے لیے، غیریہودیوں کو بھی بالکل یہی بات ایسے ہی کرنی چاہیے جیسے کہ شیطان کا پردہ ہٹانے کے لیے یہودیوں کو کرنی چاہیے۔ 2 کرنتھیوں3:16 پر نظر ڈالیں۔ اِس کو باآواز بُلند پڑھیں۔

’’لیکن جب کبھی وہ [کسی کا دل] خداوند کی طرف رجوع ہوتا ہے تو وہ پردہ ہٹا دیا جاتا ہے‘‘ (2۔ کرنتھیوں 3:16).

’’جب کبھی کسی کا دِل خُداوند کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یہاں ’’وہ‘‘ دِل کی جانب نشاندہی کرتا ہے، جس پر شیطان نے پردہ کیا ہوتا ہے۔

دیکھا آپ نے، اِس طرح سے کسی کو بھی بچا جاتا ہے۔ آپ خوشخبری کو سُنتے ہیں مگر شیطان اِس تمام کو غیرحقیقی اور دُھندلا کر دیتا ہے۔ لٰہذا، آپ کو شیطان سے ہٹنا اور پہلے ’’خُداوند کی جانب رُخ کرنا‘‘ ہوتا ہے۔ جب آپ یسوع کی جانب رُخ کرتے ہیں، تب ہی پردہ ہٹا دیا جاتا ہے اور یہ واضح ہو جاتا ہے اور ’’مسیح کی جلالی خوشخبری کا نور‘‘ جگمگانے لگتا ہے!

اِس ہی طرح سے خُدا کام کرتا ہے۔ خُدا پردہ نہیں ہٹاتا ہے اور پھر آپ کو فیصلہ کرتا ہوتا ہے کہ آیا آپ یسوع کو چاہتے ہیں۔ جی نہیں، آپ کو پہلے یسوع کی طرف رُخ کرنا ہوتا ہے، اور پھر ہی، ’’وہ پردہ ہٹا لیا جائے گا‘‘ (2 کرنتھیوں3:16)۔

کیا ابلیس آپ کا آقا ہے؟ کیا آپ اُس کے ملازم بنا رہنا جاری رکھیں گے؟ کیا آپ اُن خیالات کو سُنیں گے جو وہ بالکل ابھی ہی آپ کے ذہن میں ڈال رہا ہے؟ کیا آپ اُس کو سُنیں گے جب وہ سرگوشی کرتا ہے،

’’آپ آج رات کو بچائے نہیں جا رہے ہیں۔‘‘
’’یہ ہوگا ہی نہیں۔‘‘
’’آپ ناکام ہو جائیں گے۔‘‘
’’دستبردار ہو جائیں۔‘‘

کیا آپ اِس قدر اندھے ہیں کہ آپ دیکھ ہی نہیں سکتے کہ یہ خیالات شیطان کی جانب سے ہیں؟

میں خُداوند کی جانب سے آپ سے کہنے کے لیے بُلایا گیا ہوں، بےشک آپ ہزاروں مرتبہ ناکام رہ چکے ہوں، آپ آج رات کو بچا لیے جائیں گے اگر آپ یسوع کی جانب رُخ کریں اور سبھی ڈر یا خوف تنہا اُس یسوع پر چھوڑ دیں! ’’خُداوند یسوع مسیح میں ایمان لا تو تُو نجات پائے گا‘‘ (اعمال16:31)۔ شیطان کی چالاکیوں کو ختم کریں! ابلیس سے رُخ موڑ لیں، اور ابھی خود کو یسوع کے حوالے کر دیں!

کیا اُس جلتی ہوئی عمارت میں وہ شخص بچا لیا گیا ہوتا اگر اُس نے اپنے پیروں میں سے ایک بالکونی میں رکھ دیا ہوتا؟ کیا ہوتا اگر اُس نے کہا ہوتا، ’’میں اپنے آپ کو سارا کا سارا جال پر پھینک دوں گا، مگر میں اِس کو احتیاط کے ساتھ کروں گا اور ایک پاؤں بالکونی میں رکھوں گا۔‘‘ کیا ہوتا اگر اُس نے کہا ہوتا؟ وہ نیچے شعلوں میں چلا گیا ہوتا۔ خاتون – اپنا تمام کا تمام جسم بالکونی میں سے پھینک دو! آدمی – اپنی تمام ذات کو نجات دہندہ کے حوالے کر دو – اور اِس کو ابھی کرو! یسوع پر ابھی ہی بھروسہ کرو اور فوراً اُس پر بھروسہ کرو۔ حالانکہ یہ سب کا سب ابھی اتنا ہی سیاہ دکھائی دیتا ہے جتنا کہ جہنم کی آدھی رات، جس لمحے آپ یسوع پر اپنی زندگی کے ساتھ بھروسہ کرتے ہیں، آپ اِتنا ہی چمکدار محسوس کریں گے جتنا کہ دوپہر میں سورج ہوتا ہے! میں اِس کو کئی مرتبہ رونما ہوتا ہوا دیکھ چکا ہوں۔ کوئی جنہوں نے جدوجہد کی ہوتی ہے اور تفتیشی کمرے میں جاتے ہوئے آنسو بہائے ہوتے ہیں باہر واپس اپنے چہرے پر ایک چمکدار مسکراہٹ لیے ہوئے آتے ہیں۔ میں اِس کو بارہا ہوتا ہوا دیکھ چکا ہوں۔

اُس خوشی کے بارے میں سوچیں جو اُس شخص نے محسوس کی ہوتی اگر اُس نے جال میں چھلانگ لگا دی ہوتی۔ آگ بجھانے والے عملے کے لوگوں نے اُس کے گرد اپنے بازوؤں کو پھیلا دیا ہوتا، اور وہ اکٹھے مسکراتے ہوئے ایک کافی کا پیالہ پینے کے لیے گئے ہوتے! یہ آپ کے ساتھ رونما ہو سکتا ہے! یہ آج ہی رات کو ہو سکتا ہے! نجات دہندہ نے وعدہ کیا ہے، ’’جو کوئی میرے پاس آئے گا، میں اُسے اپنے سے جدا نہ ہونے دُوں گا‘‘ (یوحنا 6:37).

اگر آپ اِس بارے میں آج رات کو ہمارے سے ملنا چاہتے ہیں تو مہربانی سے ابھی اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا مانگیں کہ آج کی رات کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: 2 کرنتھیوں3:13۔4:4.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’اختلاف ختم ہو گیا The Strife Is O’er ‘‘ (رانس پاٹ Francis Pott نے ترجمہ کیا، 1832۔1909)۔

لُبِ لُباب

شیطان اور خوشخبری [انجیل]

THE DEVIL AND THE GOSPEL!

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائمیرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اگر ہماری خوشخبری ابھی بھی پوشیدہ ہے تو صرف ہلاک ہونے والوں کے لیے پوشیدہ ہے: چونکہ اِس جہاں کے خُدا نے اُن بے اعتقادوں کی عقل کو اندھا کر دیا ہے، اِس لیے وہ خُدا کی صورت یعنی مسیح کے جلال کی خوشخبری [انجیل] کی روشنی کو دیکھنے سے محروم ہیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں4:3، 4)۔

(افسیوں 2:2)

I.   پہلی بات، وہ خوشخبری [انجیل] ایک جلالی نور ہے، 1یوحنا2:8؛ یوحنا3:19؛
1۔تیموتاؤس1:15؛ یوحنا1:14؛ متی1:23؛ اشعیا9:6؛ 1۔کرنتھیوں15:1۔4.

II.  دوسری بات، خوشخبری نہایت سادہ ہے اور سمجھنے کے لیے آسان ہے، یوحنا6: 37

III. تیسری بات، یسوع پر بھروسہ کرنے سے روکنے کے لیے صرف ایک ہی رکاوٹ ہے – اور وہ شیطان ہے، 2کرنتھیوں3:15؛ رومیوں10:12؛
2 کرنتھیوں3:16؛ اعمال16:31؛ یوحنا 6:37.