Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسیح کو مسترد کرنے والے
گنہگاروں کی نوح، دانی ایل اور ایوب مدد نہیں کر سکتے!

NOAH, DANIEL AND JOB COULD NOT HELP
! CHRIST-REJECTING SINNERS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خداوند کے دِن کی صبح، 9 مارچ، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, March 9, 2014

’’اور اگر نوح، دانی ایل اور ایوب اُس میں ہوتے تو بھی خداوند خدا فرماتا، کہ مجھے اپنی حیات کی قسم کہ وہ بیٹے کو اور نہ ہی بیٹی کو بچا پاتے۔ وہ اپنی راستبازی کے باعث صرف اپنی جان بچا پاتے‘‘ (حزقی ایل 14:20).

خُدا نے صدوم کو 10 دیندار لوگوں کی خاطر ہی بخش دیا ہوتا (پیدائش18:32)۔ بزرگوں کا ایک گروہ حزقی ایل نبی کے پاس آیا۔ اُنہوں نے پوچھا کہ آیا خُدا اِسی وجہ سے اُن کی سرزمین کو بخش دے گا۔ جواب ’’نہیں‘‘ تھا۔ جی نہیں، خُدا قوم کو نہیں بچائے گا۔ یہ چونکا دینے والا سچ اُس حوالے میں چار مرتبہ پیش کیا گیا ہے – آیت 14 میں، آیت 16 میں، آیت 18 میں اور آیت 20 میں۔ ہر مرتبہ یہ دہرایا گیا، دوبارہ، اور دوبارہ، اور دوبارہ، اور دوبارہ، مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ بہت زیادہ اور مذید اور زیادہ قوت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

’’اور اگر نوح، دانی ایل اور ایوب اُس میں ہوتے تو بھی خداوند خدا فرماتا، کہ مجھے اپنی حیات کی قسم کہ وہ بیٹے کو اور نہ ہی بیٹی کو بچا پاتے۔ وہ اپنی راستبازی کے باعث صرف اپنی جان بچا پاتے‘‘ (حزقی ایل 14:20).

ولیم میکڈونلڈ William MacDonald نے کہا کہ قوم کا قصور یہاں تک کہ نوح، دانی ایل اور ایوب کی دعاؤں کے ذریعے سے بھی معاف کیے جانے کے لیے انتہائی بڑا تھا۔‘‘ پھر میکڈونلڈ نے ہماری تلاوت پر یہ رائے پیش کی،

جرائم، تشدد، اسقاط حمل، بدکاری، بُت پرستی، منشیات اور دُنیاوی انسانیت کے ساتھ ہمارے معاشرے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ (ولیم میکڈونلڈ William MacDonald، یقین کرنے والوں کی بائبل پر تبصرہ Believer’s Bible Commentary، تھامس نیلسن پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، 1989، صفحہ 1049؛ حزقی ایل، باب 14:1۔11 پر تبصرہ)۔

ہماری لودیکیہ کی کلیسیاؤں کے بارے میں کیا خیال ہے – جہاں پر خوشخبری کے مکمل واعظوں کی منادی اب نہیں کی جاتی، حتیٰ کہ انتہائی قدامت پسندوں میں بھی؟

’’یہوداہ کا جرم معاف کیے جانے کے لیے بہت بڑا تھا۔‘‘ یہاں تک کہ اگر نوح، دانی ایل اور ایوب دعا کر رہے ہوتے تو بھی قوم کے بچائے جانے کے لیے بہت تاخیر ہو چکی تھی۔ میں قائل ہوں کہ یہ ہی آج کی صبح امریکہ اور مغربی دُنیا کے بارے میں سچ ہے۔ میں یقین کرتا ہوں کہ ہماری تہذیب بچائے جانے کے لیے گناہ میں انتہائی شدید ڈوب چکی ہے۔ دعا کی کوئی بھی تعداد اب ہمیں نہیں بچا سکتی۔ حیات نو کے لیے منادی کی کوئی تعداد اب ہماری مدد نہیں کر سکتی۔ امریکہ اور مغربی دُنیا کو بچانے کے لیے اب بہت تاخیر ہو چکی ہے!

’’اور اگر نوح، دانی ایل اور ایوب اُس میں ہوتے تو بھی خداوند خدا فرماتا، کہ مجھے اپنی حیات کی قسم کہ وہ بیٹے کو اور نہ ہی بیٹی کو بچا پاتے۔ وہ اپنی راستبازی کے باعث صرف اپنی جان بچا پاتے‘‘ (حزقی ایل 14:20).

میں قائل ہو چکا ہوں کہ امریکہ اور مغربی قومیں جیسا کہ ہم اُنہیں جانتے ہیں آپ کی زندگی کے دوران ہی ختم ہو جائیں گے۔ وہ برتن دھونے والی مشین میں پلیٹوں کی مانند بالکل صاف کر دیئے جائیں گے۔ گرجہ گھر ختم ہو جائیں گے یا چُھپ جائیں گے۔ وہ چند پادری جو زندہ بچ جائیں گے، انصاف کے اُس دور میں اپنی زندگیوں کے لیے چھپتے پھریں گے۔

ہر علامت نشاندہی کرتی ہے کہ اب زیادہ دیر نہیں رہ گئی۔ اسرائیل دشمنوں سے گِھر چکا ہے، جو اُن پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ساتھ چھپٹنے کے لیے تیار ہیں۔ روس بیدار ہو چکا ہے اور بہت زیادہ قوت اور عسکری طاقت کی تلاش کر رہا ہے۔ خود ہمارے اپنے مُلک میں خُدا کے خلاف ایک بپھری ہوئی جنگ جاری ہے۔ مگر ہمارے سب سے زیادہ قدامت پسند گرجہ گھروں کے پادری سو چکے ہیں۔ وہ انجیلی واعظوں کی منادی نہیں کرتے ہیں۔ وہ اپنی شام کی عبادتیں بند کر دیتے ہیں۔ وہ حمد و ثنا کی کتابوں کو باہر پھینک دیتے ہیں اور اپنے لوگوں کو ہلکے پھلکے کورس بُڑبُڑانے دیتے ہیں۔ خبروں کے تبصرہ نگار بِل او رائیلی Bill O’ Reilly نے اِس کو ’’مسیحیت پر جنگ‘‘ کا نام دیا ہے۔ میں ایک بار تو ضرور سوچتا ہوں وہ دُرست ہے۔ آپ ہر کسی کو اِس کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے سُن سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں بیٹھا ہوا وہ شخص جنسی بداخلاقی اور نشے آور اشیاء کے استعمال کو فروغ دے رہا ہے۔ آج ہمارے پاس صرف دو سیاسی جماعتیں ہیں – گناہ سے بھرپور جماعت اور احمق جماعت۔ ہمارے نوجوان لوگ اِس قدر ویڈیو کھیلوں کے عادی ہو چکے جن میں سے بہت سی تو شیطان کے قبضے کی علامتوں کو پیش کرتی ہیں۔ امریکہ اور مغرب کو ترازو میں تولا جا چکا ہے۔ ہماری طرز زندگی ختم ہو رہی ہے۔ قیامت آ رہی ہے۔ ہمارا قلع قمع ہونے جا رہا ہے – تاریخ کی راکھ کے ڈھیڑ پر۔ اور حزقی ایل نبی نے کہا،

’’اور اگر نوح، دانی ایل اور ایوب اُس میں ہوتے تو بھی خداوند خدا فرماتا، کہ مجھے اپنی حیات کی قسم کہ وہ بیٹے کو اور نہ ہی بیٹی کو بچا پاتے۔ وہ اپنی راستبازی کے باعث صرف اپنی جان بچا پاتے‘‘ (حزقی ایل 14:20).

آج کی صبح میرا مقصد ظاہر کرنا ہے کہ ہر ایک فرد کو – ہر ایک فرد کو – خود کے لیے، خُدا کی روح کی قوت کے وسیلے سے توبہ کرنی چاہیے، خود کے لیے مسیح پر بھروسہ کرنا، خود کے لیے دوبارہ جنم لینا۔ کسی اور کی راستبازی اور ایمان آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔

ہماری تلاوت ظاہر کرتی ہے کہ بے دینی اور نیک مسیحیوں کی دعائیں اُن کی مدد نہیں کر سکتیں جو مسیح کومسترد کرتے ہیں، اور بغاوت میں زندہ رہنا جاری رکھتے ہیں۔

’’اور اگر نوح، دانی ایل اور ایوب اُس میں ہوتے تو بھی خداوند خدا فرماتا، کہ مجھے اپنی حیات کی قسم کہ وہ بیٹے کو اور نہ ہی بیٹی کو بچا پاتے۔ وہ اپنی راستبازی کے باعث صرف اپنی جان بچا پاتے‘‘ (حزقی ایل 14:20).

I۔ اوّل، یہ تلاوت ظاہر کرتی ہے کہ بہت سے دیندار لوگوں کی راستبازی اُن لوگوں کی مدد نہیں کر سکتی جو مسیح کو مسترد کرنا جاری رکھتے ہیں۔

اگر آپ مسیح کو مسترد کرنا جاری رکھتے ہیں تو آپ کے دوستوں اور رشتے داروں کی بے دینی سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا! اگر آپ گناہ سے مسیح کی جانب نہیں مُڑتے تو آپ جہنم میں چلے جائیں۔ اگر آپ کی پرورش گرجہ گھر میں ہوئی ہے اور آپ مسیح کو مسترد کرنا جاری رکھتے ہیں تو آپ جہنم میں جائیں گے۔

میرے جمنازیم میں ایک بوڑھے شخص ہیں جن کے والد ایک بپتسمہ دینے والے پادری تھے۔ وہ اِس کے بارے میں میرے سامنے شیخیاں بگھارتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھار وہ حمد و ثنا کا ایک گیت گاتے جو اُنہوں نے جب وہ ایک لڑکے تھے تو اپنے والد کے گرجہ گھر میں سیکھا تھا۔ لیکن اُنہیں فوج میں بھرتی کر لیا گیا اور ویت نام بھیج دیا گیا۔ وہاں جنگل میں اُنہوں نے شراب پینا اور نشے آور اشیاء استعمال کرنا شروع کر دیں۔ اُنہوں نے گرجہ گھر جانا چھوڑ دیا اور خُدا کے بارے میں بھول گئے۔ جب وہ ریاست ہائے متحدہ واپس پہنچے اُنہوں نے شادی کر لی اور پھر طلاق ہو گئی۔ وہ اب ایک بے دین شخص ہیں جو کبھی گرجہ گھر نہیں جاتے اور کبھی دعا نہیں کرتے۔ لیکن اُنہیں میرے سامنے شیخی بگھارنا پسند ہے کہ اُن کی پرورش ایک مسیحی گھرانے میں ہوئی تھی! آج صبح یہاں پر ایسی ہی حالت میں آپ میں سے کچھ ہیں۔ آپ کی پرورش مسیحی والدین نے کی تھی، مگر آپ خود سے کبھی بھی مسیح کی جانب نہیں مڑے ہیں۔ میں خواہش کرتا ہوں کہ مجھے آپ کو خبردار نہ کرنا پڑے، مگر میں ایک پادری کی حیثیت سے بے ایمان ہوں گا اگر میں نہ کروں! قیامت کے روز آپ کے خاندان کی بے دینی آپ کے کسی کام نہیں آئے گی! بالکل بھی نہیں! بالکل بھی نہیں! بالکل بھی نہیں!

’’اور اگر نوح، دانی ایل اور ایوب اُس میں ہوتے تو بھی خداوند خدا فرماتا، کہ مجھے اپنی حیات کی قسم کہ وہ بیٹے کو اور نہ ہی بیٹی کو بچا پاتے۔ وہ اپنی راستبازی کے باعث صرف اپنی جان بچا پاتے‘‘ (حزقی ایل 14:20).

آپ شاید یقین کریں کہ وہ جن کی پرورش بے دین گھرانے میں طلاق شُدہ والدین نے کی تھی فنا ہو جائیں گے۔ لیکن بہت سے جنہوں نے مسیحی گھرانوں میں پرورش پائی تھی اُن کے ساتھ ہی جہنم کے شعلوں میں جائیں گے۔ کیا اسماعیل ابراہام کا بیٹا نہیں تھا؟ لیکن اِس کے باوجود وہ کبھی بھی نجات نہیں پا سکا تھا! کیا عیسو اضحاق کا بیٹا نہیں تھا؟ لیکن اِس کے باوجود وراثت کبھی بھی اُس کی نا ہوئی! حالانکہ اضحاق اُس کا باپ تھا، اور حالانکہ بعد میں عیسو رویا تھا اور اُس نے کوشش کی تھی، ’’وہ مسترد کیا جا چکا تھا‘‘ (عبرانیوں12:17)۔

دیندار لوگوں سے یہ کہنے میں کوئی بُرائی نہیں ہے کہ آپ کے لیے دعا مانگیں۔ دراصل، آپ ایسا کرنے میں حق بجانب ہیں۔ یہاں تک کہ پولوس رسول نے کہا، ’’بھائیو، ہمارے لیے دعا کریں‘‘ (1 تسالونیکیوں5:25؛ 2تسالونیکیوں3:1؛ عبرانیوں13:18)۔ مگر اگر آپ مسیح پر بھروسہ کیے بغیر اُن کی دعاؤں پر اکتفا کرتے ہیں، تو وہ دعائیں آپ کے بالکل بھی کسی کام نہیں آئیں گی! بالکل بھی نہیں!

’’اور اگر نوح، دانی ایل اور ایوب اُس میں ہوتے تو بھی خداوند خدا فرماتا، کہ مجھے اپنی حیات کی قسم کہ وہ بیٹے کو اور نہ ہی بیٹی کو بچا پاتے۔ وہ اپنی راستبازی کے باعث صرف اپنی جان بچا پاتے‘‘ (حزقی ایل 14:20).

II۔ دوئم، یہ تلاوت ظاہر کرتی ہے کہ عظیم ترین دعائی جنگجوؤ کی دعائیں آپ کی مدد نہیں کر سکتیں اگر آپ نجات دہندہ کو مسترد کرنا جاری رکھتے ہیں۔

بہت سے سوچتے ہیں کہ وہ نجات پا لیں گے کیونکہ اُن کے والدین اُن کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ وہ یقیناً کسی نہ کسی دِن نجات پا لیں گے کیونکہ اُن کی مائیں اُن کے لیے دعائیں کرتی ہیں۔ اُن کے پاس جھوٹی اُمید ہوتی ہے کہ جلد یا بدیر نجات اُن کے پاس آ ہی جائے گی کیونکہ اُن کے لیے اکثر اتنی مرتبہ دعا مانگی جاتی ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ اُن کے ساتھ اِن ہی دِنوں میں سے کسی دِن کچھ پُراسرار رونما ہو جائے گا کیونکہ نیک لوگوں نے اُن کے لیے دعائیں مانگی تھیں۔ میری تلاوت اُن کی ملامت کرتی جو اِس شیطان جھوٹ پر یقین کرتے ہیں!

’’اور اگر نوح، دانی ایل اور ایوب اُس میں ہوتے تو بھی خداوند خدا فرماتا، کہ مجھے اپنی حیات کی قسم کہ وہ بیٹے کو اور نہ ہی بیٹی کو بچا پاتے۔ وہ اپنی راستبازی کے باعث صرف اپنی جان بچا پاتے‘‘ (حزقی ایل 14:20).

آپ کو اِس سوچ پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے کہ کسی نہ کسی دِن آپ بچا لیے جائیں گے کیونکہ آپ کی ماں، آپ کی بیوی، دوسرے دیندار لوگ آپ کے لیے دعا مانگ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر نوح، دانی ایل، اور ایوب ابھی آپ کے لیے دعائیں مانگ رہے ہوتے تو اِس سے آپ کو بالکل بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا اگر آپ مسیح کو مسترد کرنا جاری رکھیں گے۔ نوح بلاشُبہ ایک دعاگو انسان تھا۔ اِس کے باوجود نوح کی دعاؤں سے ایک بھی انسان نجات نہیں پا سکا تھا ماسوائے اُن کے جو اُس کے ساتھ کشتی میں گئے تھے۔ دانی طاقتور دعا کا ایک انسان تھا۔ لیکن اُس کی عظیم دعائیں اسرائیل کو اُن کے گناہوں سے نہیں بچا سکی تھیں۔ اُس کی دعاؤں کے باوجود یروشلم تباہ کر دیا گیا تھا۔ دانی ایل نے یہودیوں کی خوشحالی کے لیے دعا مانگی تھی، اِس کے باوجود وہ تتربتر ہو گئے تھے۔ ایوب نے اپنے دوستوں کے لیے دعا مانگی تھی اور اُس کے دوستوں کو آخر کار معافی مل گئی تھی۔ مگر اُن کو قربانی کے بغیر معافی نہیں ملی تھی۔ اُنہیں ایک بیش قیمت قربانی لانی پڑی تھی، اور اُس کا نزرانہ چڑھانا پڑا تھا اِس سے پہلے کہ اُن کے لیے مانگی ہوئی ایوب کی دعا کا جواب ملتا۔ اگر آپ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں، اور وہ آپ کے گناہوں کے لیے قربانی ہے، تو پھر آپ کے لیے ہماری دعاؤں کا جواب ملے گا – لیکن اُس وقت تک نہیں جب تک آپ مسیح پر بھروسہ نہیں کرتے۔ اگر ایوب کے دوستوں نے کسی قربانی کا نزرانہ نہ چڑھایا ہوتا، تو اُن کے لیے ایوب کی دعاؤں کا جواب نہ مِلا ہوتا۔ خود آپ کو مسیح پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اگر زمین پر ہر مسیح آپ کے لیے دعا مانگ رہا ہوتا، اور ساری زندگی دعا مانگنا جاری رکھتا، تو یہ یہاں تک کہ آپ میں سے ہر اُس کو نجات نہیں دلا پائے گا جو مسیح کو مسترد کرنا جاری رکھتا ہے۔ جب تک آپ نجات دہندہ پر بھروسہ کرنے سے انکار کرتے رہیں گے تب تک خُدا کا قہر آپ پر برقرار رہتا ہے۔ یسوع نے کہا،

’’جو بیٹے کو ردّ کرتا ہے وہ زندگی سے محروم ہوکر خدا کے غضب میں مبتلا رہتا ہے‘‘ (یوحنا 3:36).

موسیٰ ایک عظیم دعاگو انسان تھا۔ اِس کے باوجود اُس کی دعائیں ایک بے اعتقادی نسل کو بچا نہ پائیں۔ کیونکہ اُنہوں نے یقین نہ کیا اور اُن میں سے ہر ایک بیابان میں مر گیا، ماسوائے یوشع اور کالب کے۔

خُدا کے ساؤل بادشاہ کو مسترد کر دینے کے بعد سیموئیل نے اُس کا افسوس کیا تھا۔ خُدا نے آخرکار سیموئیل سے پوچھا، ’’یہ دیکھ کر کہ میں نے اُس کو رد کر دیا ہے، تو کب تک ساؤل پر افسوس کرتا رہے گا؟‘‘ (1 سیموئیل 16:1)۔ سیموئیل کو اپنے افسوس کو چھوڑنا پڑا تھا اور ساؤل کی جگہ لینے کے لیے داؤد کو مسح کرنے کے لیے جانا پڑا تھا۔ مقدس سیموئیل نبی کی دعائیں نافرمان اور بے اعتقادے ساؤل کو نہیں بچا پائی تھیں!

اِن مثالوں سے آپ کی کوئی بھی جھوٹی اُمید جو آپ لگائے بیٹھے ہیں کہ دوسروں کی دعائیں آپ کو بچا لیں گی رفع ہو جانی چاہیے۔ اگر آپ یسوع کو مسترد کرتے رہیں گے تو آپ کے پاس کوئی اُمید نہیں ہے۔ بالکل بھی نہیں۔

’’اور اگر نوح، دانی ایل اور ایوب اُس میں ہوتے تو بھی خداوند خدا فرماتا، کہ مجھے اپنی حیات کی قسم کہ وہ بیٹے کو اور نہ ہی بیٹی کو بچا پاتے۔ وہ اپنی راستبازی کے باعث صرف اپنی جان بچا پاتے‘‘ (حزقی ایل 14:20).

مجھے بتا دینا چاہیے کہ یہ واعظ سپرجیئن کے واعظوں میں سے ایک سے اخذ کیا گیا اور مختصر کیا گیا، جو ’’مبلغین کے شہزادے‘‘ نے ہماری تلاوت پر پیش کیا تھا۔ اب میں اِس واعظ کا اختتام سپرجیئن کا براہ راست حوالہ لفظ بہ لفظ پیش کرتے ہوئے کروں گا۔ اُس عظیم مبلغ نے کہا،

     آپ گھوڑے اور خچروں اور بلّیوں کی مانند نہیں بلکہ آدمیوں اور عورتوں کی مانند بچائے جائیں گے جو سوچ سکتے ہیں۔ آپ کو سوچنا پڑے گا، اور آپ کو اپنے گناہ سے نفرت کرنا پڑے گی، اور آپ کو رحم کے لیے پکارنا پڑے گا، اور آپ کو مسیح میں یقین کرنا پڑے گا، اور اگر آپ نہیں کرتے تو آپ فنا ہو جائیں گے۔ وہ تمام دعائیں جو مانگی جا چکی ہیں آپ کو بچا نہیں سکتی ماسوائے آپ کے نجات دہندہ پر بھروسہ لانے اور اپنے گناہ سے نفرت کرنے کے... اگر نوح اور دانی ایل اور ایوب آپ کو بچا نہیں سکتے [اور نجات نہیں دلا سکتے]، تو یسوع کر سکتا ہے۔ (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، ’’ایک فریب جس کا خاتمہ ہوا A Delusion Dispelled،‘‘ میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ The Metropolitan Tabernacle Pulpit، جلد اٹھائیسویں، پلگِرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، 1973، صفحہ 180)۔

یسوع آپ جیسے گنہگاروں کے لیے متبادل کی حیثیت سے مرا۔ جب آپ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں تو اُس کا قیمتی خون آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرتا ہے۔ اور مُردوں میں سے اُس کے جی اُٹھنے کے وسیلے سے آپ ہمیشہ اور ہمیشہ تک کے لیے راستباز ٹھہرائے جائیں گے اور نجات پائیں گے! اور آپ ’’اُس کے وسیلے سے غضب الہٰی سے بچا لیے جائیں گے‘‘ (رومیوں5:9)۔

اگر آپ یسوع کے وسیلے سے اپنے گناہوں سے بچائے جانے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات کرنا چاہیں تو میں چاہوں گا کہ آپ اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ اگر آپ ذرا سے بھی ایک حقیقی مسیحی بننے کے بارے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو مہربانی سے ابھی اُٹھیں اور کمرے کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کی ایک اور کمرے میں رہنمائی کریں گے جہاں پر ہم دعا اور بات چیت کر سکتے ہیں۔ اجتماع گاہ کی پچھلی جانب بالکل ابھی جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ اس صبح کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: حزقی ایل 14:12۔20 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’یسوع، اور صرف یسوع Jesus, Only Jesus‘‘ (شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔

لُبِ لُباب

مسیح کو مسترد کرنے والے
گنہگاروں کی نوح، دانی ایل اور ایوب مدد نہیں کر سکتے!

NOAH, DANIEL AND JOB COULD NOT HELP
! CHRIST-REJECTING SINNERS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اور اگر نوح، دانی ایل اور ایوب اُس میں ہوتے تو بھی خداوند خدا فرماتا، کہ مجھے اپنی حیات کی قسم کہ وہ بیٹے کو اور نہ ہی بیٹی کو بچا پاتے۔ وہ اپنی راستبازی کے باعث صرف اپنی جان بچا پاتے‘‘ (حزقی ایل 14:20).

(مرقس5:33)

I۔ اوّل، یہ تلاوت ظاہر کرتی ہے کہ بہت سے دیندار لوگوں کی راستبازی اُن لوگوں کی مدد نہیں کر سکتی جو مسیح کو مسترد کرنا جاری رکھتے ہیں، عبرانیوں12:17؛ 1تسالونیکیوں5:25؛ 2تسالونیکیوں3:1؛ عبرانیوں3:18 .

II. دوئم، یہ تلاوت ظاہر کرتی ہے کہ عظیم ترین دعائی جنگجوؤ کی دعائیں آپ کی مدد نہیں کر سکتیں اگر آپ نجات دہندہ کو مسترد کرنا جاری رکھتے ہیں، یوحنا3:36؛ 1سیموئیل16:1؛ رومیوں5:9 .