Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

ہجوم میں عورت

THE WOMAN IN THE CROWD
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 2 مارچ، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, March 2, 2014

’’اور یسوع نے اُس سے کہا، بیٹی، تیرے ایمان نے تجھے اچھا کردیا ہے۔ سلامت چلی جا اور اپنی بیماری سے بچی رہ‘‘ (مرقس 5:34).

یسوع نے اُس دیوانے میں سے آسیب نکالے تھے جو گلیل کی جھیل کے جنوب مشرق کی طرف میں رہتا تھا۔ وہاں کے لوگوں نے یسوع سے چلے جانے کو کہا۔ جہاں پر اُس کو پسند نہیں کیا جاتا وہاں پر وہ کبھی نہیں ٹھہرتا، اِس لیے اُس نے اُنہیں چھوڑا، اور سمندر پار کر کے واپس مغربی ساحل پر آ گیا۔ جلد ہی لوگوں کے ایک بہت بڑے ہجوم نے اُسے گھیر لیا۔ ایک خبطی آدمی دوڑتا ہوا آیا اور ہجوم کو دھکیلتا ہوا یسوع کی طرف بڑھا۔ جب وہ یسوع کے پاس پہنچ گیا تو وہ نجات دہندہ کے قدموں میں گِر پڑا اور اُس کو بتایا کہ اُس کی چھوٹی بیٹی مر رہی ہے۔ اُس نے یسوع سے التجا کی کہ اُس کے ساتھ آئے اور اپنے ہاتھ اُس کی بیٹی پر رکھے ’’کہ وہ شفا یاب ہو جائے... اور زندہ رہے۔‘‘ یسوع اُس آدمی کے ساتھ گیا، اور لوگوں کا ہجوم اُس کے پیچھے پچھے گیا اور اُسے دھکیلتا گیا، جب وہ چل رہا تھا تو لوگ اُس پر گِرے پڑتے تھے۔

ہجوم کے بیچ میں ہی ایک بیمار عورت تھی۔ اُس کا خون بہتا رہتا تھا، اور وہ بارہ برس سے بہہ رہا تھا۔ وہ کئی حکیموں سے علاج کراتے کراتے پریشان ہو گئی تھی، اور اپنی پونجی لُٹا چکی تھی لیکن تندرست ہونے کے بجائے پہلے سے بھی زیادہ بیمار ہو گئی تھی۔ اُس نے سُن رکھا تھا کہ یسوع لوگوں کو شفا دے رہا تھا۔ اُس نے ہجوم میں سے اپنے لیے راستہ بنایا اور یسوع کی پوشاک کو چھوا۔ اُسی لمحے اُس کا خون رسنا بند ہو گیا اور وہ جسمانی طور پر شفا یاب ہو گئی۔ جب اُس نے یسوع کو چھوا تھا اور شفا یاب ہوئی تھی تو یسوع نے قوت کو نکلتے ہوئے محسوس کیا تھا۔ یسوع نے کہا، ’’کس نے میری پوشاک کو چھوا؟‘‘ شاگردوں نے کہا کہ ہجوم میں بہت سے لوگوں نے اُس کو چھوا تھا۔

’’لیکن وہ عورت یہ جانتے ہُوئے کہ اُس پر یُسوع کو چُھونے کا کیا اثر ہوا ہے، ڈرتی اور کانپتی ہُوئی آئی اور اُس کے سامنے گِر کر اُسے ساری حقیقت بتادی‘‘ (مرقس 5:33).

اور یسوع نے اُس سے کہا، ’’بیٹی، تیرے ایمان نے تجھے اچھا کر دیا۔‘‘

جتنی بھی شفایابیاں یسوع نے کیں ہمیں بنیادی طور پر یہ ظاہر کرنے کے لیے پیش کی گئیں ہیں کہ کیسے وہ تبدیلی میں ہماری جانوں کو بدلتا ہے۔ اگر اِس صبح آپ بچائے نہیں گئے ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ آپ انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنی ساری توجہ اِس عورت کی شفایابی اور تبدیلی پر مرکوز کر دیں۔ میں اُس عورت کی جانب سے تبدیلی پر چار اہم اسباق کی نشاندہی کرنے جا رہا ہوں جنہیں خود آپ کی اپنی تبدیلی میں خُداوند استعمال کر سکتا ہے – اگر آپ احتیاط کے ساتھ سُنتے ہیں!

I۔ اوّل، وہ واقعی میں شفایاب ہونا چاہتی تھی۔

وہ وہاں پر کوئی وقت گزارنے نہیں گئی تھی۔ وہ لوگ جو بچائے جانے کے بارے میں سنجیدہ ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں اکثر صرف ’’اہمیت نہ دینے والے لوگ‘‘ ہوتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جنہیں پرانے زمانے کے مبشران انجیل وہ لوگ جو محض مذاق اُڑانے والے ہوتے ہیں کہتے تھے، جو محض مستی کر رہے ہوتے اور احمقانہ سوالات پوچھ رہے ہوتے ہیں۔ اِس طرح سے یہ احمق ’’اہمیت نہ دینے والے لوگ‘‘ کبھی بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے۔ یہ اُس آدمی کی مانند ہیں جس نے یسوع سے پوچھا، ’’کیا تھوڑے سے لوگ ہی نجات پا سکیں گے؟‘‘ (لوقا13:23)۔ یہ محض ایک بے بُنیاد سوال تھا – حقیر، غیر اہم۔ اُس نے یہ صرف تھوڑے سے تجسس کی وجہ سے پوچھا تھا۔ یہ اُس کے لیے اِس قدر اہم نہیں تھا۔ وہ محض ایک ’’اہمیت نہ دینے والا آدمی‘‘ تھا۔

اِس طرح کے بہت سے لوگ ہمیں تفتیشی کمرے میں ملنے کے لیے آتے ہیں۔ وہ تھوڑے سے سوالات پوچھتے ہیں۔ وہ تھوڑا بولتے ہیں۔ لیکن وہ نجات پانے کے معاملے میں قطعاً سنجیدہ نہیں ہوتے۔ آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ سنجیدہ نہیں ہوتے کیونکہ تفتیشی کمرے سے جانے کے ایک یا دو لمحے بعد ہی وہ لطیفے سُنا رہے ہوتے ہیں اور ہنسی مذاق کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ نجات پانے کے بارے میں حقیقی طور پر سنجیدہ نہیں ہوتے۔ وہ صرف بیوقوف بنا رہے ہوتے ہیں۔ وہ ’’اہمیت نہ دینے والے لوگ‘‘ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بائبل کہتی ہے یہ وہ لوگ ہیں جو،

’’سیکھنے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن کبھی اِس قابل نہیں ہوتے کہ حقیقت کو پہچان سکیں‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:7).

وہ کبھی بھی یسوع کو نہیں پاتے کیونکہ وہ ایمانداری کے ساتھ اُس کو تلاش نہیں کر رہے ہوتے۔ وہ شدید چاہت، جوش کی شدت، اور جوش و خروش کے ساتھ مسیح کو نہیں تلاش کر رہے ہوتے۔ وہ ہیجان زدہ نہیں ہوتے، وہ مسیح کو تلاش کرنے کے مشتاق نہیں ہوتے۔ وہ محض بِناچاہت کے، لاپرواہ، بِنا ہدایت کے ’’اہمیت نہ دینے والے لوگ‘‘ ہوتے ہیں – جو سیکھنے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن کبھی اِس قابل نہیں ہوتے کہ حقیقت کو پہچان سکیں۔‘‘ تفتیشی کمرے سے جانے کے بعد پانچ منٹ سے بھی کم عرصے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ مسیح کو تلاش کرنے کے بارے میں فکر مند نہیں ہوتے۔ وہ محض مستی کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ محض چاہت کے بغیر ’’غیرسنجیدہ یا اہمیت نہ دینے والے لوگ‘‘ ہوتے ہیں۔ وہ نجات پانے کے بارے میں اُس وقت تک سنجیدہ نہیں ہوتے جب تک کہ وہ جہنم کے عذاب میں اپنی آنکھیں نہیں اُٹھاتے۔ مگر تب تک بہت دیر ہو گئی ہوتی ہے! اُنہوں نے اپنی زندگیوں کو اہمیت نہیں دی ہوئی ہوتی تب تک وہ ہمیشہ کے لیے سب کچھ کھو چکے ہوتے ہیں۔

اب ’’اہمیت نہ دینے والے یا غیر سنجیدہ لوگوں‘‘ کا موازنہ ہماری تلاوت میں عورت کے ساتھ کریں۔ وہ اپنے خونی بہاؤ سے شفا پانے کے لیے انتہائی بے تاب تھی۔ وہ جوش و خروش کے ساتھ شفا تلاش کر رہی تھی۔ وہ اُن لوگوں کی مانند تھی جو یسوع کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں، ’’اندر داخل ہونے کے لیے کوشش کر‘‘ (لوقا13:24)۔ یہاں پر لفظ ’’کوشش کرstrive‘‘ یونانی لفظ آگونی زومائی agonizomai سے لیا گیا ہے۔ ہم اِس سے لفظ ’’اذیت agony‘‘ اخذ کرتے ہیں۔ کیا، یہ اُس عورت کو بیان نہیں کرتا جس کا خون کے ساتھ معاملہ تھا؟ کیا اُس نے شفا پانے کے لیے کوشش نہیں کی تھی؟ کیا وہ شفا پانے کی کوشش میں اصل میں اذیت سے نہیں گزری تھی؟ وہ ایک سے دوسرے حکیم کے پاس جاتی رہی تھی۔ اُس نے ’’بہت سے حکیموں کی بہت سی باتوں کو برداشت کیا تھا۔‘‘ اُنہوں نے بِلاشبہ اُس کے بہت سے آپریشن کیے تھے – جو انتہائی تکلیف دہ تھے۔ چونکہ ماضی کے اُس دور میں بے ہوشی کی دوا کلوروفام نہیں ہوتی تھی، وہ اُس کا آپریشن مکمل بیداری کی حالت میں کرتے تھے! اُنہوں نے اُس کو ایسی دوائیں پلائیں جنہوں نے اُس کو شفا دینے کے بجائے زخم کو مذید اور زہریلا کر دیا! اور اُس نے اپنا تمام پیسہ اور اپنی ساری بچت کی ہوئی کمائی اِن بیکار ’’دوائیوں‘‘ پر صرف کر دی تھی۔

اِس میں تعجب کی بات نہیں کہ وہ اُس دِن تبدیل ہو گئی تھی! وہ اِس کے بارے میں انتہائی سنجیدہ تھی۔ اُس نے نجات پائے جانے کے بارے میں محسوس کیا تھا! آپ جانتے ہیں، اِس قسم کا شخص ہوتا ہے جو نجات پاتا ہے۔ ’’غیر سنجیدہ یا اہمیت نہ دینے والے لوگ‘‘ ایک کھوئی ہوئی حالت میں زندگی گزارتے اور گزارتے ہی جاتے ہیں۔ لیکن وہ جو اپنی کھوئی ہوئی حالت کے بارے میں انتہائی ایماندار اور بےتاب ہوتے ہیں وہ ہمیشہ یسوع کو جلد ہی پا لیتے ہیں۔ جی ہاں – ہمیشہ! ’’تم مجھے پاؤ گے!‘‘

’’تُم مجھے ڈھونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:13).

آپ نجات دہندہ کو پا لیں گے! آپ پا لیں گے! آپ پا لیں گے! مگر صرف جب آپ اُس کی تلاش ’’اپنے تمام دِل کے ساتھ‘‘ کریں گے – جیسے خون کے بہاؤ کے ساتھ اِس عورت نے کیا تھا!!! وہ واقعی میں شفا پانا چاہتی تھی! اُس نے تمام وقت اِس کے بارے میں سوچا تھا! کیا آپ اِس کے بارے میں تمام وقت سوچتے ہیں؟ کیا یہ آپ کو کھویا ہوا ہونے کے لیے پریشان کرتا ہے؟ کیا آپ مسلسل اِس کے بارے میں پریشان ہوتے رہتے ہیں؟ آپ کو ہونا چاہیے!

II۔ جن حکیموں سے اُس نے علاج کروایا اُن سے اُس کو کوئی مدد نہیں ملی تھی۔

میں پہلے ہی اِن حکیموں کا تزکرہ کر چکا ہوں۔ لیکن مجھے اُن کے بارے میں چند اور الفاظ کہنے کی ضرورت ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ – اُن میں سے کوئی بھی اُس کو شفا نہیں دے سکتا تھا! وہ اُسکی بالکل بھی کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے – بلکہ صرف اُس کومذید اور بدتر کر رہے تھے۔

کبھی کبھار ہمارے گرجہ گھر کے لیے نوجوان آتے ہیں اور اپنی جانوں کے بارے میں فکرمند ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے گناہ اور دائمیت کے بارے میں پریشان ہونا شروع کر دیتے ہیں۔ مگر وہ اپنے کھوئے ہوئے دوستوں کے پاس جاتے ہیں اور اُنہیں بتاتے ہیں کہ وہ کیسا محسوس کرتے ہیں۔ کافی یقین کے ساتھ، وہ غیر مسیحی دوست اُنہیں بتاتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہیں، اور پھر اُنہیں کہتے ہیں کہ گرجہ گھر جانا چھوڑ دو۔ اِس لیے، وہ غیرنجات یافتہ دوست بالکل اُن حکیموں کی مانند ہیں جو اِس بہتے ہوئے خون والی عورت کو شفا نہیں دے پائے۔ وہ جو کچھ کر سکے وہ اُس کی حالت بُری کرنا اور اُس کے پیسے اینٹھنا تھا!

کبھی کبھی جب ایک نوجوان شخص گناہ کے تحت سزایابی کو محسوس کرنا شروع کرتا ہے تو وہ ایک دوسرے پادری کے پاس چلے جاتے ہیں، جو اُنہیں جھوٹی تسلیاں دیتا ہے۔ میں خواہش کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو، مگر آج بے شمار عیار مبلغین ہیں، جو ہمارے حوالے میں اُن ڈاکٹروں کی مانند ہیں۔ وہ خوشی سے آپ کی ہدایات لے لیتے ہیں – اُنہیں آپ کا پیسا چاہیے! مگر وہ آپ کی گناہ سے بیمار جان کی کوئی مدد نہیں کر سکتے!

بہت سال پہلے میں ایک خصوصی جگہ پر منادی کر رہا تھا۔ میرے منادی کرنے کے بعد تین نو عمر میرے پاس چُپکے سے آئے، ایک لڑکا اور دو لڑکیاں۔ اُنہوں نے مجھے کچھ بتایا جس نے یہ واضح کر دیا کہ وہ کھوئے ہوئے تھے۔ اُنہیں نجات نہیں دلائی گئی تھی۔ وہ گہری سزایابی کے تحت، آنسوؤں سے لبریز تھے۔ اپنی منادی کے بعد میں نے اُن سے بہت مرتبہ بات چیت کی، جب تک کہ وہ تینوں کے تینوں واضح طور پر نجات پائے ہوئے دکھائی نہ دیے۔ وہ خوشی مناتے ہوئے گھر گئے اور اپنے علاقہ دار پادری کو بتایا کہ اُس دعائیہ عبادت میں جس کی رہنمائی میں کر رہا تھا نجات پا گئے تھے۔ اُس علاقہ دار پادری نے مجھے اگلی صبح ٹیلی فون کیا۔ ٹیلی فون پر وہ بار بار مجھ پر چلایا – ’’میں تمہیں تسلیم نہیں کرتا! میں تمہیں تسلیم نہیں کرتا! میں تمہیں تسلیم نہیں کرتا!‘‘ (’’تسلیم نہیں کرتاRepudiate‘‘ کا مطلب ’’میں تمہیں مسترد کرتا ہوں!‘‘ ہوتا ہے ’’میں اعلانیہ تمہارے خلاف ہوں!‘‘)۔ بعد میں مجھے کسی نے بتایا کہ وہ مجھ سے حسد کرتا تھا کیونکہ وہ دعویٰ کرنا چاہتا تھا کہ اُس نے اُنہیں نجات دلائی تھی! اُس بیچارے، کمزور ذہن کے علاقہ دار پادری نے مجھے ’’تسلیم نہیں کیا‘‘ کیونکہ میں نے تین کھوئے ہوئے نوعمروں کوجہنم کے شعلوں سے نجات دلائی تھی۔ پھر اِس منافقی کُڑمغز روحانی راستباز نے اشتعال دِلانا شروع کردیا جب تک کہ اُس نے وہ دعائیہ مجالس بند نہیں کروا لیں۔ اُس کو آخری عدالت میں خُدا کی حضوری میں اِس کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا! مسیح کی نشست کی عدالت میں نہیں، بلکہ آخری عدالت میں! حالانکہ وہ علاقہ دار پادری جس نے وہ کیا ایک پروٹسٹنٹ تھا، وہ اِتنا ہی بُرا تھا اگر بدترین نہیں تھا جتنا کہ ایک رومن کاتھولک کاہن ہوتا ہے! اُس جیسے آج بہت سے ہیں۔ خُدا آپ کو ایسے جھوٹے انبیا سے چُھٹکارہ دِلائے! خُدا نے ایسے منادی کرنے والوں کے بارے میں کہا،

’’میں نے اُنہیں نہ تو بھیجا نہ اُن کا تقرر کیا: لہٰذا اُن لوگوں سے میرے لوگوں کو ذرا بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ خداوند فرماتا ہے‘‘ (یرمیاہ 23:32).

حتیٰ کہ کچھ بپتسمہ یافتہ مبلغین بھی ہیں جو آپ کو جھوٹی مشاورت دیں گے – اُنکے گرجہ گھر میں جانے کے لیے اِس گرجہ گھر کو چھوڑنے کے لیے آمادہ کریں گے – تاکہ وہ آپ کی ہدایات حاصل کر سکیں! آپ کا پیسہ پا سکیں! میں ایسے مبلغین کو ’’بھیڑیں چُرانے والے‘‘ اور جھوٹے انبیا میں گردانتا ہوں! جب میں اِن کے بارے میں سوچتا ہوں تومجھے متلی آنے لگتی ہے! یہ اُن حکیموں کی مانند ہیں جو اُس خون کے بہاؤ کے ساتھ عورت کو شفا نہیں دے پائے!

III۔ سوئم، اُس کے جسم نے شفا پا لی تھی جب اُس نے یسوع کے لبادے کو چھوا تھا۔

وہ ہجوم میں سے ہوتی ہوئی نجات دہندہ کے گرد پہنچی تھی۔ لوگوں کے جسم ایک دوسرے کو دھکیل رہے تھے کیونکہ وہ وہاں پر بہت زیادہ تھے – ایک دوسرے میں دھکم پیل کر رہے تھے – یسوع کو معجزہ کرتے ہوئے دیکھنے کے لیے! حالانکہ اُن میں سے بہتوں نے یسوع کو چھوا تھا، صرف اِس عورت نے ہی یسوع سے اپنے بدن کے لیے شفا پانے کی قوت حاصل کی تھی۔ ایک اور موقع پر ’’جتنے اُسے چھو لیتے تھے شفا پا لیتے تھے‘‘ (مرقس6:56)۔ لیکن اِس موقع پر صرف عورت نے شفا پائی تھی۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ ایسا کیوں ہوا تھا۔ شاید اُن میں سے کوئی بھی ’’خُدا باپ کے ارادے سے پہلے ہی چُنا نہیں گیا تھا‘‘ (1پطرس1:2)۔

میں یقین کرتا ہوں کہ اُس کا جسمانی شفا پانا اُس کی بیداری سے مطابقت رکھتا ہے۔ ہر گنہگار کی مانند، وہ ’قصوروں اور گناہوں میں مُردہ‘‘ رہ چکی تھی (افسیوں2:1)۔ وہ جو گناہ میں مر چکے ہیں اُنہیں اِس سے پہلے کہ یسوع کے پاس آ سکیں قوت حاصل کرنی چاہیے۔ کچھ اِس کو ’’تجدید یا احیاء کہتے ہیں۔ یہ ایک غلطی ہے۔ میں اِس کو ’’بیداری‘‘ کہنے کے لیے ترجیح دوں گا۔ یہی ہے جسے پولوس رسول نے کہا جب اُس نے کہا،

’’اَے سونے والے جاگ، اور مُردوں میں سے جی اُٹھ، تو مسیح کا نور تجھ پر چمکے گا‘‘ (افسیوں 5:14).

جب آپ پاک روح کے وسیلے سے بیدار کیے جاتے ہیں تو آپ گناہ کی سزایابی کے تحت ہونگے۔ آپ کو محسوس کرایا جائے گا کہ آپ مایوس کُن حد تک گناہ کے غلام ہیں۔ آپ کو محسوس کرایا جائے گا کہ آپ ’’گناہوں میں مُردہ‘‘ ہیں (افسیوں2:5)۔ ڈاکٹر مارٹن لائید جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones نے کہا، ’’روحانی زندگی کی پہلی علامت یہ محسوس کرنا ہوتا ہے کہ آپ مُردہ ہیں‘‘ (شریعت: اُس کے فرائض اور حدیں The Law: Its Functions and Limits، دی بینر آف ٹرٹھ ٹرسٹThe Banner of Truth Trust، 1975، سفحہ 145)۔

ایک اور موقع پر ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’آپ عاجز بنائے بغیر مسیحی نہیں بن سکتے ہیں‘‘ (بااختیار مسیحیت، جلد اوّل Authentic Christianity, Volume I، دی بینر آف ٹرٹھ ٹرسٹThe Banner of Truth Trust، صفحہ 114)۔

جب آپ بیدار ہو چکے ہوتے ہیں تو آپ محسوس کریں گے کہ آپ کی اپنی کوئی طاقت نہیں ہوتی، کہ آپ کافی حد تک لاچارگی سے گناہ میں مُردہ ہوتے ہیں۔ جب آپ اِس کے وسیلے سے عاجز ہوتے ہیں، تو آپ شاید نجات دہندہ کے پاس آنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ آپ شاید تیار کیے جاتے ہیں اِس بات کا اقرار کرنے کے لیے کہ آپ ایسا کچھ نہیں سیکھ سکتے جوآپ کی مدد کرے گا۔ آپ شاید تیار کیے جاتے ہیں خود سے اِس بات کا اقرار کرنے کے لیے کہ کوئی بھی نہیں ہے ماسوائے خود یسوع کے جو آپ کو نجات دلا سکتا ہے۔

جب آپ بیدار ہو چکے ہوتے ہیں تو آپ محسوس کریں گے کہ مسیح کے بارے میں عقائد سے آپ کی کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ آپ محسوس کریں گے کہ صرف یسوع خود آپ کو نجات دلا سکتا ہے۔ ڈاکٹر لائیڈ۔جونز نے اپنی کتاب حیات نو Revival کے ایک حوالے میں اِس کو بالکل واضح کیا۔ اُس حوالے کے اختتام پر اُنہوں نے کہا، ’’یہ ایک ہولناک بات ہے کہ ایک شخص کی جیتی جاگتی حقیقت کے مقابلے میں اگر سچے عقائد کو متبادل کر دیا جائے‘‘ (حیات نو Revival، کراسوے کُتب Crossway Books، 1987، صفحہ58)۔ جب آپ بیدار ہوتے ہیں، تو آپ یسوع کے بارے میں باتیں جاننے سے تسلی نہیں پاتے ہیں! آپ یسوع بذات خود کو چاہیں گے! آپ محسوس کریں گے کہ یسوع بذات خود آپ کو نجات دلا سکتا ہے! بدروحیں بھی جانتی ہیں کہ یسوع کون ہے۔ کفرنحوم میں بدروحیں چلا اُٹھی تھیں، ’’تو خُدا کا بیٹا ہے... کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ مسیح ہے‘‘ (لوقا4:41)۔ اِن بدروحوں کو عقائد و فلسفوں کا پتا تھا۔ وہ جانتی تھیں کہ وہ مسیح (مسیحا) تھا۔ وہ جانتی تھیں کہ وہ خُدا کا بیٹا تھا۔ وہ مسیح کے بارے میں اُن عقائد کو جانتی تھیں، مگر وہ اُس یسوع کو ذاتی طور پر نہیں جانتی تھیں۔ اگر اُنہیں کچھ معلوم تھا تو وہ یسوع کے بارے میں کچھ عقائد تھے۔ جب آپ بیدار ہوتے ہیں، تو آپ یسوع کے بارے میں باتیں جان کر تسلی نہیں پائیں گے۔ آپ یسوع بذات خود کی چاہت کریں گے! جب آپ سچے طور پر اپنے کھوئے پن اور بدحالی میں بیدار ہوتے ہیں تو آپ بائبل کی ایک آیت میں یقین رکھنے کے ساتھ تسلی نہیں پاتے ہیں۔ آپ جان جائیں گے کہ صرف انسان مسیح یسوع ہی آپ کو نجات دلا سکتا ہے،

’’کیونکہ خدا ایک ہے، اور خدا اور انسانوں کے درمیان ایک صلح کرانے والا بھی موجود ہے، یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے‘‘ (1۔ تیموتاؤس 2:5).

اور آپ کو نجات پانے کے لیے اُس انسان مسیح یسوع بذات خود کو جاننا چاہیے اور اُس پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

’’اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ واحد اور سچے خدا کو جانیں اور یسُوع مسیح کو بھی جانیں جسے تو نے بھیجا ہے‘‘ (یوحنا 17:3).

آپ کو خُدا کے بارے میں باتیں نہیں جاننی ہوتی۔ آپ کو خُدا کو جاننا ہوتا ہے۔ آپ کو یسوع مسیح کے بارے میں باتیں نہیں جاننی ہوتیں۔ آپ کو یسوع مسیح کو جاننا ہوتا ہے! یہ ہی دائمی زندگی پانے کا واحد راستہ ہے! یہ ہی نجات پانے کا واحد راستہ ہے! آپ کو یسوع مسیح بذات خود کو جاننا چاہیے!

پھر بھی، سوچیں یسوع مسیح نے بذات خود آپ کونجات دلانے کے لیے کیا کِیا! سوچیں اُس نے کیسے آپ کو نجات دلانے کے لیے گتسمنی کے باغ میں جب تک اُس کا خون پسینے کی بوندوں کی مانند زمین پر نہیں ٹپکا دُکھ اُٹھائے۔ آپ اِس کو اتنی مرتبہ سُن چکے ہیں کہ یہ آپ کے لیے بے معنی ہو گیا ہے؟ کیا آپ اپنے ذہن میں اِس کو سرسری طور پر بُھلا نہیں دیتے؟ اُس کی صلیب پر اذیت ناک موت کے بارے میں سوچیں – آپ کے متبادل کے طور پر، آپ کی جگہ، آپ کے گناہ کی ادائیگی کے لیے اذیتیں برداشت کرنا اور مرنا۔ آپ اِس کو اتنی مرتبہ سُن چکے ہیں کہ آپ کے لیے اِس کے کوئی معنی نہیں رہے؟ کیا آپ اِس کو اپنے ذہن سے جلدی سے گزار دیتے ہیں؟ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کے پاس کوئی اُمید باقی نہیں رہی! بالکل بھی نہیں رہی!

ایک بوڑھا آدمی ایک مخصوص پادری کو ملنے کے لیے آیا۔ وہ تنہا تھا، اور پادری نے اُس کو گرجہ گھر میں ایک چھوٹے سے کمرے میں ٹھہرنے دیا۔ اُس نے اپنے گالوں پر بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ ایک انجیلی گیت لکھا۔ جب میں اُس گرجہ گھر میں گیا تو اُس کو مرے ہوئے کئی سال گزر چکے تھے۔ لیکن لوگوں نے پھر بھی مجھے اُس کا کمرہ دکھایا۔ اور وہ اب بھی روتے ہیں جب اُس کا گیت گاتے ہیں۔

میں یسوع کے بارے میں کیا سوچتا ہوں آپ کو بتانا پسند کروں گا
   چونکہ میں نے اُس میں ایک انتہائی مضبوط اور سچا دوست پایا؛
میں آپ کو بتاؤں گا کیسے اُس نے میری زندگی کومکمل طور پر تبدیل کر ڈالا،
   اُس نے کچھ ایسا کیا جو کوئی دوسرا دوست نہیں کر سکے گا۔
یسوع کی مانند کسی نے بھی کبھی میرا خیال نہیں کیا،
   اُس جیسا مہربان کوئی دوسرا دوست ہو ہی نہیں سکتا؛
کوئی اور مجھ سے گناہ اور تاریکی کو نہیں لے جا سکے گا،
   اوہ وہ کس قدر میری دیکھ بھال کرتا ہے!
(’’یسوع کی مانند کسی نے بھی کبھی میرا خیال نہیں کیا No One Ever Cared For Me Like Jesus‘‘ شاعر چارلس ایف۔ ویگل Charles F. Weigle، 1871۔1966)۔

لیکن اِس طرح سے اُس خونی بہاؤ کے ساتھ عورت نے محسوس نہیں کیا تھا، جو ہمیں آخری موضوع پر لے جاتا ہے۔

IV۔ چہارم، وہ تبدیل ہوگئی تھی جب وہ یسوع کے پاس آئی۔

میں نے کہا اُس نے محسوس نہیں کیا تھا کہ ابھی یسوع اُس کا دوست تھا۔ جب یسوع نے اُس کے لیے نظر ڈالی، بائبل کہتی ہے،

’’لیکن وہ عورت یہ جانتے ہُوئے کہ اُس پر یُسوع کو چُھونے کا کیا اثر ہوا ہے، ڈرتی اور کانپتی ہُوئی آئی اور اُس کے سامنے گِر کر اُسے ساری حقیقت بتادی‘‘ (مرقس 5:33).

وہ ابھی تک اُس سے خوفزدہ تھی۔ یہ مجھے یقین کرنے کے لیے رہنمائی کرتا ہے کہ اُس نے ابھی تک نجات نہیں پائی تھی۔ وہ بیدار ہو چکی تھی، لیکن ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی تھی۔

مگر یہاں تک کہ جب وہ خوف کے ساتھ کانپی، وہ اُس کے پاس آئی۔ ’’آئی اور اُس کے سامنے گر گئی۔‘‘ اُس کے خوف ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ابھی تک یسوع کو جان نہیں پائی تھی۔ لیکن پھر بھی وہ یسوع کے پاس آئی تھی۔ خوف سے بھرپور اور کانپتی ہوئی وہ آئی۔ اُس کے پاس بہت بڑا ایمان نہیں تھا۔ وہ محض ایک بیچاری عورت تھی جس کو زیادہ کچھ نہیں معلوم تھا۔ مگر وہ جانتی تھی کہ یسوع نے اُس کو شفا دی تھی۔ وہ یسوع کے فضل کے وسیلے سے بیدار ہو چکی تھی، لیکن وہ اُس کی محبت کو ابھی تک نہیں جانتی تھی۔ اِس کے باوجود، وہ پھر بھی اُس کے پاس آئی!

مجھے آنہ ڈبلیو واٹرمینAnna W. Waterman کے پیارے حمد و ثنا کے گیت سے محبت ہے، جس کو مسٹر گریفتھ نے میرے واعظ کی منادی سے پہلے گایا تھا۔ مجھے اِس سے محبت ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ سچا ہے۔ یہ میری زندگی میں سچا تھا اور یہ ایسا ہی آپ کی زندگی میں بھی ہوگا، اگر آپ یسوع کے پاس آتے ہیں۔

اور میں جانتا ہوں، جی ہاں، میں جانتا ہوں،
   یسوع کا خون غلیظ ترین گنہگار کو بھی پاک صاف کر سکتا ہے۔
اور میں جانتا ہوں، جی ہاں، میں جانتا ہوں،
   یسوع کا خون غلیظ ترین گنہگار کو بھی پاک صاف کر سکتا ہے۔
(’’جی ہاں، میں جانتا ہوں!Yes, I Know! ‘‘ شاعر آنہ ڈبلیو۔ واٹرمین
      Anna W. Waterman ، 1920)۔

اگر آپ نجات دہندہ کے پاس آتے ہیں، تو وہ آپ کو اِس صبح بچائے گا۔ وہ اپنے قیمتی خون کے ساتھ آپ کے گناہ کو دھو ڈالے گا – اور وہ آپ سے ویسے ہی بات کرے گا جیسے اُس نے اُس عورت کے ساتھ کی تھی جس کو خون کا مسٔلہ تھا،

’’اور یسوع نے اُس سے کہا، بیٹی، تیرے ایمان نے تجھے اچھا کردیا ہے۔ سلامت چلی جا اور اپنی بیماری سے بچی رہ‘‘ (مرقس 5:34).

اگر آپ یسوع کے پاس اِس صبح آتے ہیں تو وہ آپ کو آپ کے گناہ سے نجات دلائے گا، اور اِس دوپہر وہ آپ کو آپ کے گھر اُسی حفاظتی دعا کے ساتھ بھیجے گا جو یسوع نے اُس عورت کو دی تھی،

’’تیرے ایمان نے تجھے اچھا کردیا ہے۔ سلامت چلی جا اور اپنی بیماری سے بچی رہ‘‘

اگر آپ یسوع کے وسیلے سے نجات پانے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات چیت کرنا پسند کریں تو مہربانی سے ابھی اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک اور کمرے میں لے جائیں گے جہاں پر ہم دعا اور بات چیت کر سکتے ہیں۔ ابھی جائیں، ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ آج صبح کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: مرقس 5:25۔34 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
(’’جی ہاں، میں جانتا ہوں!Yes, I Know! ‘‘ شاعر آنہ ڈبلیو۔ واٹرمین Anna W. Waterman ، 1920)۔

لُبِ لُباب

ہجوم میں عورت

THE WOMAN IN THE CROWD

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور یسوع نے اُس سے کہا، بیٹی، تیرے ایمان نے تجھے اچھا کردیا ہے۔ سلامت چلی جا اور اپنی بیماری سے بچی رہ‘‘ (مرقس 5:34).

(مرقس5:33)

I.   اوّل، وہ واقعی میں شفا پانا چاہتی تھی، لوقا13:23؛ 2تیموتاؤس 3:7؛ یرمیاہ29:13 .

II.  دوئم، جن حکیموں سے اُس نے اپنا علاج کروایا اُس سے اُس کو کوئی مدد نہیں ملی تھی، یرمیاہ23:32 .

III. سوئم، اُس کے جسم نے شفا پا لی تھی جب اُس نے یسوع کے لبادے کو چھوا تھا، مرقس6:56؛ 1پطرس1:2؛ افسیوں2:1؛ 5:14؛ 2:5؛ لوقا4:41؛ 1تیموتاؤس2:5؛ یوحنا17:3 .

IV.  چہارم، وہ تبدیل ہو گئی تھی جب وہ یسوع کے پاس آئی تھی، مرقس 5:33 .