Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مذید اور زیادہ دہلا دینے والا نوجوانوں کو پیغام -
پال واشر کو میرا جواب!

– AN EVEN MORE SHOCKING YOUTH MESSAGE
!MY ANSWER TO PAUL WASHER
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 16 فروری، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, February 16, 2014

’’اب جا اور اُسے اُن کے لیے ایک تختی پر لکھ دے، اور کسی طومار میں قلمبند کر دے، تاکہ آنے والے دِنوں میں وہ ہمیشہ تک گواہی کی طور پر قائم رہے: کیونکہ یہ لوگ باغی ہیں اورجھوٹے فرزند ہیں، جو خداوند کی شریعت کو سُننا نہیں چاہتے: وہ رویا دیکھنے والوں سے کہتے ہیں کہ اب اور رویا نہ دیکھو؛ اور نبیّوں سے کہتے ہیں ہم پر اب سچی نبوّتیں ظاہر نہ کرو، بلکہ ہمیں مذیدار باتیں بتاؤ اور دھوکہ دینے والی نبوّتیں کرو‘‘ (اشعیا30:‏8۔10)۔

ایک نفیس نوجوان مبُشر نے اگلے ہی دِن مجھے ایک طویل ای میل لکھی۔ وہ مذہبی عہدے پر قائم کیا گیا ایک شخص ہے۔ وہ چاروں سالوں سے زیادہ عرصے سے منادی کرتا رہا ہے۔ وہ شادی شُدہ ہے اور اُس کے دو بچے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ وہ ہماری کتاب مرتی ہوئی قوم کے لیے منادی کرناPreaching to a Dying Nation کو پڑھنے کے بعد تبدیل ہوا تھا۔

اُس نے ہمارے زیادہ تر گرجہ گھروں میں منادی کرنے کے ساتھ کیا گڑبڑ ہوتی ہے اُس کے بارے میں کچھ انتہائی دلچسپ اور اشتعال انگیز باتیں لکھیں۔ میں جو کچھ اُس نے کہا اُن میں سے بہت سی باتوں کے ساتھ متفق ہوں۔ اِس کو بند مت کر دیجیے گا! میں جو کہنے جا رہا ہوں، مجھے یقین ہے، ہمارے دور میں سب سے اہم بات ہے جسے ہمیں سُننے کی ضرورت ہے۔

ہماری تلاوت میں، خُداوند نے اشعیا نبی کو بتایا کہ لوگ باغی تھے۔ وہ ’’خُداوند کی شریعت‘‘ کو سُننا نہیں چاہتے تھے (30:‏9)۔ وہ خُدا کی جانب سے سچائی کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ انبیا سے چاہتے تھے کہ ’’مذیدار باتیں‘‘ کریں – ’’خوشگوار الفاظ‘‘ اور ’’دھوکے‘‘ اور ’’فریب‘‘ والی باتیں کریں۔

اشعیا کے زمانے میں لوگ ’’مذیدار باتیں‘‘ سُننا چاہتے تھے۔ اِس لیے خُداوند نے نبی سے کہا کہ اُس [خُداوند] کے الفاظ ’’ایک [تختی پر] لکھ دے، اور کسی طومار میں قلمبند کر دے، تاکہ آنے والے دِنوں میں وہ ہمیشہ تک گواہی کی طور پر قائم رہے‘‘ (اشعیا30:‏8)۔ میں یقین کرتا ہوں کہ ’’آنے والے دِنوں میں‘‘ کا حوالہ ہمارے زمانے کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ ہمیں پولوس رسول کی پیشن گوئی کو یاد دلاتا ہے، کہ ’’آخری ایام میں‘‘ (2 تیموتاؤس4:‏1)،

’’کیونکہ ایسا وقت آ رہا ہے کہ لوگ صحیح تعلیم کو برداشت نہیں کریں گے بلکہ اپنی خواہشوں کے مطابق بہت سے اُستاد بنا لیں گے تاکہ وہ وہی کچھ بتائیں جو اُن کے کانوں کو بھلا معلوم ہو۔ وہ سچائی کی طرف سے کان بند کر لیں گے اور کہانیوں کی طرف توجہ دینے لگیں گے‘‘ (2 تیموتاؤس 4:‏3۔4)۔

ہم اب ’’اُن آنے والے دِنوں‘‘ میں جی رہے ہیں (اشعیا30:‏8)۔ اور اب ہم بہت سے پادریوں کو اپنے لوگوں کے لیے ’’مذیدار باتیں‘‘ اور خوشگوار الفاظ استعمال کرتے ہیں بجائے اِس کے کہ جیسا کہ ہمارے اباؤاِجداد نے کبھی منادی میں کیا تھا شریعت اور انجیل کی منادی کرتے!

یہ سارا کچھ اُس نوجوان پادری نے محسوس کر لیا ہے جس نے مجھے وہ ای میل لکھی تھی۔ میں اپنی رائے کے ساتھ زیادہ تر اُس میں سے پیش کرنے جا رہا ہوں جو اُس نے مجھے لکھا تھا۔

اُس نے کہا کہ اُس نے سات برس کی عمر میں ایمان کا اقرار کیا تھا، لیکن بعد میں اُسے احساس ہوا کہ وہ تو کبھی نئے سرے سے پیدا ہوا ہی نہیں تھا۔ بعد میں اُس نے ہماری کتاب مرتی ہوئی قوم کے لیے منادی کرنا Preaching to a Dying Nation کو پڑھا تھا۔ وہ اُن اعداد و شمار سے کافی متاثر تھا جو ڈاکٹر ڈبلیو اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell، ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو ٹوزر Dr. A. W. Tozer اور دوسروں نے پیش کیے، یہ کہتے ہوئے کہ بائبل پر یقین کرنے والے گرجہ گھروں میں زیادہ تر لوگ کھوئے ہوئے تھے۔ اُس نے محسوس کیا کہ وہ اُن میں سے ایک تھا۔ وہ ایک پادری کے پاس گیا جس نے ’’خُداوند کے لیے میری رہنمائی کی تھی۔‘‘ دو ہفتوں کے بعد اُس کا بپتسمہ ہو گیا تھا۔

پھر وہ ایک دوسرے گرجہ گھر میں چلا گیا اور ایک شخص کو سُنا جس کی ’’حقیقی منادی‘‘ تھی۔ اُس نے کہا وہ جانتا تھا کہ اُس کو ’’خُداوند کے لیے جینے کے لیے‘‘ اُس قسم کی منادی کو ’’تسلسل‘‘ کے ساتھ سُننے کی ضرورت تھی۔

اُس کو یقین ہو گیا تھا کہ نئے سرے سے جنم کا عقیدہ ’’کم ہوتے ہوتے انجیل کے بائبلی حقائق کو سچا ماننے تک رہ گیا ہے [سینڈیمینی این اِزم Sandemanianism]، اور پھر مسیح کو ماننے کے لیے کچھ بے دِل سی دعا۔‘‘

وہ اِس نتیجے پر پہنچا کہ نام نہاد کہلائی جانے والی ’’تفسیراتی منادی‘‘ بے شمار لوگوں کو تبدیل کرنے میں استعمال نہیں ہوتی ہے۔ اُس نے کہا، ’’حقیقی بائبل کی منادی تبدیل کرتی ہے، بیدار کرتی ہے اور دِل کو کھنگال ڈالتی ہے۔‘‘ اُس نے کہا، ’’آپ لوگوں کو نجات میں تعلیم نہیں دے سکتے۔ اُنہیں نجات میں منادی دینی چاہیے۔‘‘ اُس نے کہا کہ بے شمار پادری ’’لوگوں کو نجات میں تعلیم دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا نتیجہ عام طور پر لوگوں کا مسیح کو پانے کے لیے ایک نماز کو پڑھنے میں ہوتا ہے جو دراصل یہ بھی نہیں جانتے کہ شروع کرنے کے لیے اُنہیں مسیح کی ضرورت کیوں پڑتی ہے۔‘‘

پھر اُس نے کچھ ایسا کہا جس نے مجھے تھوڑا پریشان کر دیا۔ اِس نے مجھے تعجب میں ڈال دیا کہ آیا وہ مکمل طور پر سمجھتا ہے کہ آج کل کی زیادہ تر منادی میں گڑبڑ کیا ہے۔ اُس نے کہا کہ پرانے وقتوں کے مبلغین انتہائی سنجیدہ ہوتے تھے، ’’وہ نڈر تھے، اور لوگ جانتے تھے کہ وہ حقیقی اور سنجیدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے حیات نو پائی تھی۔‘‘ میرا سوال ہے۔ چارلس فنی Charles Finney ایک انتہائی سنجیدہ اور بے خوف مبلغ تھا۔ اُس نے کلام پاک کی ایک یا دو آیتوں سے گناہ کے خلاف شدید منادی کی تھی۔ وہ لطیفے نہیں سُناتا۔ لیکن مسٹر فنی کی مذہبی جماعت کا محتاط مشاہدہ سمجھدار پڑھنے والے کو ظاہر کرے گا کہ فنی کی منادی نے کبھی بھی ایک حقیقی خُدا کی طرف سے بھیجی ہوئی حیات نو کو جنم نہیں دیا۔ جب وہ فارغ ہو جاتا تھا تو وہ علاقہ جہاں اُس نے منادی کی ہوتی تھی ’’جلا ہوا ضلع‘‘ کہلاتی تھی۔

ایک شخص جو حقیقی حیات نو اور فنی کی حیات نو اِزم کے درمیان فرق جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے اُسے آئعین ایچ۔ مرے Iain H. Murray کی کتاب حیات نو اور حیات نو اِزم: امریکی انجیلی بشارت کی تعلیم کا بننا اور بگڑنا 1750۔1858 Revival and Revivalism: The Making and Marring of American Evangelicalism 1750-1858 (دی بینر اور ٹُرتھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، 1994) پڑھنی چاہیے۔

اُنہیں آئعین ایچ۔ مرے Iain H. Murray کی کتاب پرانی انجیلی بشارت: نئی بیداری کے لیے پرانی سچائیاں The Old Evangelicalism: Old Truths for a New Awakening (دی بینر اور ٹُرتھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust،2005 ) کو بھی پڑھنا اور مطالعہ کرنا چاہیے۔ پہلی کتاب فنی کے پیغام اور طریقوں کی غلطی کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسری کتاب شریعت کی منادی کرنے کے لیے وجہ ظاہر کرتی ہے – کہ لوگوں کو اپنے لیے مسیح کی ضرورت کو محسوس کرایا جا سکے! یہ ایک بڑا مسٔلہ ہے، ایک ایسا مسٔلہ ہے جسے آج کل مشکل سے ہی کوئی دیکھتا ہے۔ پہلا باب بلاشبہ اہم ہے۔ لیکن 2 باب بھی اتنا ہی برابر کا اہم ہے۔ اِس کا عنوان ’’سپرجیئن اور سچی تبدیلی Spurgeon and True Conversion‘‘ ہے۔ مگر باب 3 اور 4 کا بھی انتہائی احتیاط کے ساتھ مطالعہ کرنا چاہیے، اور کئی مرتبہ پڑھنا چاہیے۔ شریعت کا مقصد گنہگاروں کو اُن کی زندگیوں میں ترمیم کرنے کا محض سبب ہونا نہیں ہے، جیسا کہ فنی ایمان اور منادی رکھتا تھا۔ شریعت کا مقصد گنہگاروں کو اُن کی بے بسی اور صلیب پر مسیح اور اُس کے خون کے کفارے کی اُن کی ضرورت کا احساس دلانا ہے!

پھر اِس نوجوان پادری نے کہا کہ وہ واحد لوگ ’’جن کو میں آج سُن سکتا ہوں اور چیلنج کر سکتا ہوں جو سزایافتہ ہیں وہ آپ اور پال واشرPaul Washer نامی ایک شخص ہے... وہ یقین کرتا ہے کہ آج اقراری مسیحیوں کی اکثریت انجیل سے بددِل نہیں ہیں، بلکہ انجیل سے ناواقف ہیں۔‘‘ اُس نے کہا کہ ڈاکٹر جان میک آرتھرDr. John MacArthur کی سیمنری میں مسٹر واشرنے بتایا، لیکن وہ اِس قدر شدید سختی کے ساتھ بولے تھے کہ ’’شاید اُس واعظ کے بعد بھائی واشر کو دوبارہ وہاں واپس مدعو نہیں کیا جائے گا۔‘‘ جس وقت میں یہ واعظ لکھ رہا تھا تو میرے رفیق ڈاکٹر سی۔ ایل۔ کیگن Dr. C. L. Cagan نے اُس واعظ کو انٹرنیٹ پر دیکھا اور اُس پر تفصیل کے ساتھ غور طلب باتیں تحریر کیں۔ جب ہم نے اُس کا دوبارہ جائزہ لیا تو ہم نے احساس کیا کہ مسٹر واشر نے ڈاکٹر میک آرتھر کی سیمنری میں تقریر شاید تھوڑی زیادہ شدت کے ساتھ دے دی تھی، مگر وہ پھر بھی ڈاکٹر میک آرتھر کا بنیادی پیغام تھا – جو ’’آقائے نجات Lordship Salvation‘‘ کہلاتا ہے۔ درج ذیل ڈاکٹر پال واشر کا ڈاکٹر میک آرتھر کی سیمنری میں واعظ کا ڈاکٹر کیگن کا جائزہ ہے:

      واشر انسان کے اخلاقی زوال، خُداوند کے فضل، کفارے، اور دوبارہ احیاء کی جانب نشاندہی کرتا ہے۔ مگر (ہماری جانب سے فرق یہ ہے) فضل اور کفارہ اُس کے اصرار کے مرکزی موضوع نہیں ہیں۔ واشر کے لیے (اور میک آرتھر کے لیے، اور سیمنری میں سُننے والوں کے لیے) مرکزی زور خُدا کی طرف جانے پر ہے (خصوصی طور پر مطالعے کے ذریعے سے) اور پھر خُدا کے لوگوں کو اُس بات کا اعلان کرنا (جو کہ قیاساً پہلے سے ہی مسیحی ہیں) ہے جو آپ نے سیکھی ہے، اور اُنہیں اِس کو خود اُن کی اپنی (پہلے سے ہی کی) مسیحی زندگیوں میں لاگو کرنے کی منادی کرنا ہے
۔       متضاداً، ہمارا اصرار زرخیزیٔ انجیل کا کھوئے ہوئے لوگوں کو اعلان کرنا ہے تاکہ وہ تبدیل ہو سکیں۔ ہمارے پاس براہ راست صرف مسیحیوں کو سُنانے اور بتانے کے لیے نسبتاً کم منادی اور تعلیم ہوتی ہے۔ نیکودیمس Nicodemus نے یقیناً کلام پاک کا مطالعہ کیا تھا، دعا کی تھی، ایک صاف ستھری مذہبی زندگی گزاری تھی، اور دوسروں کو تعلیم دی تھی۔ نیکودیمس کو واشر اور میک آرتھر سے منظوری مل چکی ہوتی اگر یسوع نے خصوصی طور پر کہا نہ ہوتا کہ نیکودیمس کو نئے سرے سے دوبارہ جنم لینے کی ضرورت تھی (کرسٹوفر ایل۔ کیگن، پی ایچ۔ ڈی۔، ایم۔ڈائیو۔، پی ایچ۔ ڈی۔ Christopher L. Cagan, Ph.D., M.Div., Ph.D)۔

ڈاکٹر کیگن کے کیے گئے اُس جائزے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے کہ اُس میں کیا شامل ہے غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اِس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ ڈاکٹر کیگن نے ڈاکٹر میک آرتھر کے گرجہ گھر میں ایک سال تک رُکنیت رکھی تھی، اِس لیے وہ اچھی طرح سے واقف ہیں کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔ اپنی دو پی ایچ۔ ڈی کی ڈگریوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر کیگن کے پاس ٹالبوٹ سیمنری سے ماسٹرز کی ڈگری بھی ہے۔

ہم کیسے ہر اتوار – صبح اور شام، کھوئے ہوئے لوگوں سے مسیحی انجیلی مبشر کے طور پر منادی کر سکتے ہیں؟ بالکل اِسی طرح سے سپرجیئن نے کیا۔ ہر عبادت میں کھوئے ہوئے لوگوں کو لانے کے لیے ہمارے لوگ انتہائی شدید کوششیں کرتے ہیں۔ ہم اُن کے ساتھ کئی مرتبہ نمٹتے ہیں، جب تک کہ وہ اپنی زندگیوں پر مکمل اخلاقی زوال، فضل اور مسیح کے کفارے کا اثر محسوس نہیں کر لیتے۔ صرف جب وہ گناہ کے تحت سزایابی میں ہوں گے تب ہی وہ سچے طور پر مسیح کے لیے آئیں گے اور اُس کے قمیتی خون کے وسیلے سے اپنے گناہوں سے پاک صاف کیے جائیں گے۔ ہماری منادی کا مقصد اُنہیں محض صرف خود میں ایک خاتمہ کے طور پر سزایابی کے تحت لانا ہی نہیں ہے۔ ہم اُنہیں سزایابی کے تحت لانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اصل میں یسوع کے پاس آئیں! ہم سزایابی کے تحت آنے کی منادی مسیح کے پاس آنے کے محرک کے طور پر کرتے ہیں۔ یوں ’’بڑی‘‘ بات سزایابی کے تحت آنا نہیں ہے، بلکہ خود یسوع کے پاس آنا ہے۔ میرے واعظ عام طور پر شریعت سے شروع ہوتے ہیں جو لوگوں کو بتاتے ہیں کہ وہ کھوئے ہوئے گنہگار ہیں۔ مگر پھر، میرے واعظوں کا دوسرا آدھا حصہ مسیح، اُس کے گتسمنی میں اور صلیب پر دُکھ؛ مسیح اور اُس کے خون کے کفارے؛ مسیح اور اُس کے آسمان پر اُٹھائے جانے اور خُدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھے ہمارے لیے دعا کرنے کی جانب لے جاتا ہے! اِس طرح، ہم انجیل کی منادی کے پرانے طریقے کی پیروی کرتے ہیں۔ ہم سزایابی کی شریعت کے ساتھ شروع کرتے ہیں، ہم معافی کے لیے انجیل اور یسوع کے ساتھ اختتام کرتے ہیں۔

ڈاکٹر کیگن نے بھی (2002 میں دیئے گئے اور یو ٹیوب پر دیکھے گئے) مسٹر واشر کے مشہور واعظ ’’نوجوانوں کے لیے دہلا دینے والا پیغام The Shocking Youth Message‘‘ کو دیکھا اور اُس پر کثیر تعداد میں غور طلب باتیں لکھیں۔ ڈاکٹر کیگن کہتے ہیں کہ واشر صحیح عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں، تہمت اور متبادل جیسے موضوعات پر۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ مسٹر واشر بنیادی طور پر ایک شریعت کے مبلغ ہیں (جیسا کہ سی۔ جی۔ فنی C. G. Finney) ہیں، نا کہ ایک انجیل کے مبشر جیسے سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon ہیں۔ سپرجیئن نے شریعت کو لوگوں کو مسیح کی جانب کرنے کے لیے پیش کیا۔ مسٹر واشر شریعت کو پیش کرتے ہیں لوگوں کو اُس جانب لانے کے لیے جس کو وہ ’’توبہ‘‘ کہتے ہیں۔ مسٹر واشر کے واعظوں میں ’’توبہ‘‘ مرکزی بات ہوتی ہے، جیسا کہ ایسا ہی مسٹر فنی کے ساتھ تھا۔ میرے واعظوں کا مرکزی پیغام مسیح کی صلیب پر موت ہوتا ہے، جیسا کہ یہ سپرجیئن کے واعظوں میں تھا۔ ڈاکٹر کیگن کہتے ہیں کہ واشر کے پیغام کا روح رواں ہے – ’’گناہ بُرا ہے، تمہیں اِس سے منہ موڑنے اور یسوع کی پیروی کرنے اور مسیحی زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔‘‘ ہمارا پیغام ہے – ’’گناہ بُرا ہے۔ آپ اِس کے غلام بن چکے ہیں اور اِس کو چھوڑ نہیں سکتے ہیں، کیونکہ آپ کھوئے ہوئے ہیں! آپ کو فرمانبرداری کے ذریعے سے خود کو بچانے کی کوششیں کرنی چھوڑ دینی چاہیئں۔ آپ کو محسوس کرنا چاہیے کہ آپ بے بس اور نااُمید ہیں – اور تنہا یسوع پربھروسہ کرنا چاہیے۔ توبہ کا کوئی بھی عمل آپ کو بچا نہیں سکتا! صرف مصلوب کیا گیا اور جی اُٹھا نجات دہندہ بخود آپ کو بچا سکتا ہے!‘‘

مسٹر واشر اپنے واعظ میں شریعت اور انجیل کو مِلا دیتے ہیں۔ لیکن وہ اِس کا اختتام صرف شریعت کو پیش کرنے سے کرتے ہیں۔ یوں مسٹر واشر کے واعظ میں پیلے جیئن اِزم Pelagianism کے شدید جُزیات ہوتے ہیں – وہ تصور کہ گناہ میں انسان، اخلاقی زوال میں انسان، وہ انسان جو ’’گناہ میں مُردہ‘‘ ہے، کسی نہ کسی طرح خدا کی فرمانبرداری کر سکتا اور شریعت کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ اِس کو ’’آقائے نجات Lordship Salvation‘‘ کہتے ہیں اور اِس کو بھی ڈاکٹر میک آرتھر نے قائم کیا تھا۔ ڈاکٹر میک آرتھر مسٹر واشر اصلاح کی ہوئی مسیحیت کی منادی کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگریہ پیلے جیئن اِزم Pelagianism (وہ ابتدائی بدعت کہ خُدا کے سامنے خود کو قابل قبول بنانے کے لیے انسان کچھ نہ کچھ کر سکتا ہے) کے ساتھ انتہائی زیادہ آلودہ ہے۔ مسٹر واشر اور ڈاکٹر میک آرتھر سینرجیسٹس synergists ہیں (اپنی نجات میں انسان خُدا کے ساتھ معاونت کرتا ہے)۔ عظیم بیداریوں کے اصلاح کار اور مبشران انجیل، وائٹ فیلڈWhitefield سے لیکر نیٹیلٹن Nettleton تک، سی۔ ایچ۔ سپرجیئن تک مونرجیسٹس monergists تھے۔ مسیح اُن آدمیوں اور عورتوں کو مکمل طور پر بچانے کا کام کرتا ہے جو ’’گناہوں اور قصوروں میں مُردہ‘‘ ہیں (افسیوں2:‏1)۔

مجھے معاف کیجیے گا! مگر میں پیلے جیئن اِزم Pelagianism اور سینرجی اِزم کے ساتھ قے کرنے کی حد تک آ چکا ہوں! میں فنی اور ہر اُس بات سے تنگ آ چکا ہوں جو اُس سے آتی ہے! میں ’’گنہگاروں کی دعا‘‘ سے تنگ آ چکا ہوں! میں اُن بپتسمہ دینے والوں سے تنگ آ چکا ہوں جو غیر تبدیل شُدہ چھوٹے بچوں کو بپتسمہ دیتے ہیں! وہ پانچ سے پندرہویں صدی کے دوران کے رومن کاتھولک لوگوں کے مقابلے میں کوئی بہتر نہیں ہیں! بہت مرتبہ تو وہ حتیٰ کہ بدترین ہوتے ہیں! کم از کم وہ کاتھولک لوگ خُدا سے تو ڈرتے ہیں! مگر میں جان میک آرتھر سے بھی تنگ آ چکا ہوں جو مسیح کے قیمتی خون کی بے حرمتی کرتا ہے، اور پال واشر سے تنگ آ چکا ہوں جو کھوئے ہوئے نوجوان لوگوں کو بتاتا ہے کہ فضل اور شریعت کو ملانے سے آسمان میں جانے کے لیے اپنا راستہ بنا سکتے ہیں! جی نہیں! جی نہیں! جی نہیں! لوگوں کے ایسے تصورات سے دور رہیں – اُنہوں نے کبھی بھی ہمارے لیے کچھ اچھا نہیں کیا اور کبھی کریں گے بھی نہیں!

’’شاگردوں نے کہا، ’’پھر کون نجات پا سکتا ہے؟‘‘ یسُوع نے کہا، ’’یہ انسانوں کے لیے تو ناممکن ہے‘‘ (مرقس 10:‏26،27).

ایسا کچھ نہیں ہے کہ جو آپ کر سکتے ہیں، یا سیکھ سکتے ہیں، یا کرنا چھوڑ سکتے کہ جو آپ کو بچا سکے! صرف مسیح بخود پر بھروسہ کریں! صرف خود مسیح ہی آپ کو بچا سکتا ہے! مسیح نے گتسمنی کے باغ میں دُکھ اُٹھائے۔ جب خُدا نے آپ کے گناہ اُس پر لادے تو اُس کا پسینہ خون کے بڑے بڑے قطروں کی مانند بہا اور وہ اُس باغ میں تقریباً مر ہی چکا تھا۔ وہ خُدا کے آگے چلایا اور بخش دیا گیا تاکہ اگلی صبح آپ کے متبادل کے طور پر صلیب کے لیے جا سکے۔ وہ آپ کی جگہ پر مرا، آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے۔ اُس نے اپنا پاک خون آپ کے گناہوں کو پاک صاف کرنے کے لیے بہایا۔ وہ مُردوں میں سے آپ کو ایک نیا جنم دینے کے لیے جی اُٹھا۔ مسیح! مسیح! مسیح! صرف مسیح آپ کو بچا سکتا ہے – ’’تاکہ کوئی بشر خُدا کے حضور میں فخر نہ کر سکے‘‘ (1 کرنتھیوں1:‏29)۔ مسیح اور صرف مسیح ہی ’’ہمارے لیے حکمت، راستبازی، پاکیزگی اور مخلصی ٹھہرایا گیا‘‘ ہے: تاکہ جیسا کہ لکھا ہے، کہ اگر کوئی فخر کرنا چاہے تو خُداوند پر فخر کرے‘‘ (1 کرنتھیوں1:‏30، 31)۔ یہی وجہ ہے کہ،

’’میں نے فیصلہ کیا ہُوا تھا کہ جب تک تمہارے درمیان رہوں گا مسیح یعنی مسیح مصلوب کی منادی کے سِوا کسی اور بات پرزور نہ دوں گا‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:‏2).

’’کیونکہ ہلاک ہونے والوں کے لیے تو صلیب کا پیغام بیوقوفی ہے لیکن ہم نجات پانے والوں کے لیے خدا کی قدرت ہے‘‘ (1۔ کرنتھیوں 1:‏18).

کیا چیز میرے گناہ کو دھو سکتی ہے؟
   کچھ بھی نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔
کیا چیز مجھے دوبارہ مکمل کر سکتی ہے؟
   کچھ بھی نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔
اوہ! قیمتی ہے وہ بہاؤ
   جو مجھے برف کی مانند سفید بناتا ہے؛
اور کوئی دوسرا چشمہ میں نہیں جانتا،
   کچھ بھی نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔
(’’کچھ بھی نہیں ماسوائے خون کے Nothing But the Blood‘‘
     شاعر رابرٹ لوری Robert Lowry‏، 1826۔1899)۔

بہت سے مبلغین سوچتے ہیں کہ صرف دو ہی باتیں ممکن ہیں – یا تو آپ ’’گنہگار کی دعا‘‘ کے ذریعے سے نجات میں ایمان رکھتے ہیں، یا پھر آپ خُدایت میں وابستگی کے ذریعے سے نجات میں ایمان رکھتے ہیں۔ وہ کبھی بھی یہ سوچنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ ایک تیسرا راستہ بھی ہے – جو اصلاح کا راستہ ہے – نازک حالت میں تبدیلی گناہ کے تحت سزایابی جو ایک گنہگار کو تنہا مسیح میں سکون پانے کے لیے تحریک دیتی ہے! یہ آج کے نوجوان لوگوں کی چیختی ہوئی ضرورت ہے! واشر کی تعلیمات سے دور ہو جائیں! میک آرتھر کی تعلیمات سے دور ہو جائیں! معجزوں اور فضل کے آمیزے سے دور ہو جائیں!

اے خداوندا، ہمیں ایسے لوگ بھیج جو فضل کے عقیدے کی منادی کریں، جو اصلاح کے نظرئیے کی منادی کریں، جس میں شریعت کا آمیزہ نہ ہو! نجات تنہا مسیح ہی میں ہے، لوتھر، بینیعن، وائٹ فیلڈ اور سپرجیئن کی مانند جیسی نازک حالت میں تبدیلی! ہماری تمام منادی اور ہماری تمام گواہیوں کا عظیم مرکزی موضوع اِس ہی کو ہونے دے! مسیح ہی کو وہ تمام کچھ جو ہم کہیں اور اُس تمام کا جس کی ہم منادی کریں مرکز بنا! مسیح! مسیح! مسیح! مسیح! مسیح! اِس کو میرے ساتھ کہیں! مسیح! مسیح! مسیح! مسیح! مسیح! مسیح! مسیح! مسیح! مسیح! مسیح!

’’کہ سب باتوں میں پہلا درجہ اُسی کا ہو‘‘ (کُلسِیوں 1:‏18).

ہمارے پاس ہزاروں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جن کو ماسوائے یسوع بخود کے سب کچھ عطا کیا گیا ہے! سیدھے مسیح کے پاس آئیں! ایک دعا یا بائبل کی آیت پر مت جائیں! محض ایک عقیدے پر ایمان مت رکھیں! براہ راست اُس شخص مسیح یسوع کے پاس آئیں! وہ آسمان میں خُدا کے داہنے ہاتھ پر ہے۔ براہ راست اُس کے پاس آئیں! اُس آدمی مسیح یسوع پر بھروسہ کریں! وہ اپنے قیمتی خون کے ساتھ آپ کے گناہ کو پاک صاف کر دے گا۔ وہ تمام ادوار اور تمام دائمی زمانوں میں سے آپ کو گناہ سے بچا لے گا!

مہربانی سے حمد و ثنا کے گیت نمبر 7 کو اپنے گیتوں کے ورق میں سے کھولیں۔ یہ ڈاکٹر اوسولڈ جے۔ سمتھ Dr. Oswald J. Smith کا لکھا ہوا ہے۔ اِس کو گائیں!

مفت اور مکمل نجات کے لیے، جو کبھی کلوری پر خریدی گئی،
   مسیح تنہا ہی میری التجا ہونی چاہیے – یسوع! صرف یسوع۔
صرف یسوع، مجھے اُسے دیکھ لینے دو، صرف یسوع، اُس کے علاوہ کوئی نہیں بچا سکتا،
   پھر ہمیشہ میرا گیت یہی ہوگا – یسوع! صرف یسوع!
(’’صرف یسوع، مجھے اُسے دیکھ لینے دو Jesus Only, Let Me See‘‘
      شاعر ڈاکٹر اوسولڈ جے۔ سمتھ Dr. Oswald J. Smith، 1889۔1986)۔

’’مسیح تنہا ہی میری التجا ہونی چاہیے – یسوع! صرف یسوع۔‘‘

اگر آپ یسوع کے وسیلے سے اپنے گناہ سے بچائے جانے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات کرنا چاہیں، تو مہربانی سے اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ مسٹر جان سیموئیل کیگن Mr. John Samuel Cagan آپ کو ایک اور کمرے میں لے جائیں گے جہاں پر ہم دعا اور بات چیت کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ایک حقیقی مسیحی بننے کے بارے میں مذید اور سُننا چاہتے ہیں تو بالکل ابھی جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ آج کی رات کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: اشعیا30:‏8۔15 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’صرف یسوع، مجھے اُسے دیکھ لینے دو Jesus Only, Let Me See‘‘
(شاعر ڈاکٹر اوسولڈ جے۔ سمتھ Dr. Oswald J. Smith‏، 1889۔1986)