Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

خود اپنی نجات

YOUR OWN SALVATION
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 9 فروری، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, February 9, 2014

’’خود اپنی نجات‘‘ (فلپیوں2:‏12)۔

گذشتہ رات میں نے ہماری ہفتے کے روز کی شام کی دعائیہ عبادت میں فلپیوں 2:‏12۔13 پر تبلیغی واعظ دیا۔ تقریباً آپ تمام کے تمام موجود تھے، اور اگر وہاں پر آپ موجود نہیں تھے تو آپ مسودے کو ہماری ویب سائٹ www.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں۔ کل رات کے پیغام میں، مَیں نے سی۔ ایچ۔ سپرجیئن کے واعظ میں سے چند ایک جملوں کا حوالہ دیا۔ اُن کا واعظ دو آیات کا احاطہ نہیں کیے ہوئے تھا، بلکہ صرف ’’آپ کی اپنی نجات‘‘ کے الفاظ تک محدود تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے دونوں آیات کی وضاحت پیش کرنی چاہیے۔ مگر اُس واعظ کو لکھنے کے بعد میرا ذہن واپس سپرجیئن کے اُن تین الفاظ – ’’خود اپنی نجات‘‘ والے واعظ پر چلا گیا۔

وہ واعظ جو میں نے گذشتہ رات پیش کیا کئی مرکزی موضوعات کے ساتھ نپٹتا تھا، مگر یہ واعظ صرف ایک کے ساتھ بنام ’’خود اپنی نجات‘‘ نپٹتا ہے۔ خُدا کرے کہ آج کی صبح پاک روح آپ کو ’’خود اپنی نجات‘‘ کی عظیم اہمیت کو دیکھنے کا سبب بنائے۔ یہ ایک انتہائی سادہ سا مرکزی موضوع ہے، مگر ایک ایسا موضوع جو انتہائی شدت کے ساتھ اہم ہے – واقعی میں تمام موضوعات میں سب سے زیادہ اہم! خُدا کرے کہ خُود آپ کے اپنے بارے میں سچائی کا سامنا کرنے کے لیے خُداوند کا پاک روح آپ کے لیے سبب بنائے۔ ماسوائے اپنے، کسی اور کے بارے میں مت سوچیئے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ آپ اِس صبح ماسوائے ’’خود اپنی نجات‘‘ کے علاوہ کچھ اور مت سوچیں۔

I۔ اوّل، میں چاہتا ہوں کہ آپ لفظ ’’نجات‘‘ کے بارے میں سوچیں۔

وہ یونانی لفظ جس نے ’’نجاتsalvation‘‘ کا ترجمہ کیا ’’سوٹیریہ sōtēría‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ’’چُھٹکارہdeliverance ‘‘ اور ’’حفاظت یا بچاؤ preservation‘‘ ہوتا ہے (جارج ریکر بیری George Ricker Berry)۔ یہ ہم سب کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ہم سب گنہگار ہیں۔ ہماری گناہ کی فطرت ہمیں اپنے پہلے والدین سے وراثت میں ملی تھی۔ اور ہم تمام نے ذاتی طور پر گناہ کیا ہوا ہے۔ ایک چینی لڑکے نے مجھ سے پوچھا گناہ کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ میں نے کہا، ’’اِس کا مطلب ہوتا ہے کچھ ایسا کرنا جو آپ نہ چاہیں کہ آپ کی امی کو پتا چلے۔ ہم فطرتاً گنہگار ہیں، اور ہم نے ذاتی طور پر گناہ سرزد کیے ہیں۔

لفظ ’’نجات‘‘ کا مطلب ہمارے ماضی کے قصوروں سے چُھٹکارہ پانا ہوتا ہے۔ آپ نے خُدا کی شریعت کو توڑا ہے۔ آپ کو شرمندگی اور جُرم کا احساس ہوتا ہے۔ نجات آپ کو اُن گناہوں کے جُرم سے آزادی دلاتی ہے۔ نجات میں آپ کے گناہ کم ہو کر ختم ہو جاتے ہیں، ڈھانپے جاتے ہیں، مسیح کے خون کے وسیلے سے پاک صاف ہو جاتے ہیں۔ آپ اپنے ہر اُس گناہ کے لیے جو آپ سے سرزد ہوا ہوتا ہے معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ آپ اپنی ہر بدکاری سے جو آپ نے کبھی کی ہو پاک صاف ہو جاتے ہیں۔ آپ اُس عظیم اور ہولناک منصف، خُدا کے لیے قابلِ قبول ہو جاتے ہیں۔

مگر نجات کا اِس سے بھی کہیں زیادہ مطلب ہوتا ہے۔ فطرتاً آپ کو بُرائی سے پیار ہوتا ہے۔ آپ گناہ کے ایک غلام ہوتے ہیں۔ مگر جب نجات ملتی ہے تو آپ گناہ کی سرکش قوت سے چُھٹکارہ پا لیتے ہیں۔ نجات کا دوسرا نقطہ یہ ہے کہ آپ بداعمالی و بدکاری کی غلامی سے چُھٹکارہ پا لیتے ہیں۔ کیا آپ نے اخلاقی زوال سے فرار پا لی ہے جو شہوت کے ذریعے سے دُنیا میں ہے؟ مسیح آپ کو آزاد کر سکتا ہے!

نجات کا مطلب خُدا کے قہر سے، آپ کے گناہ پر اُس کے ناقابل تبدیل غصے سے چُھٹکارہ پانا بھی ہوتا ہے۔ نجات کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ خُدا کے غصے سے بچا لیے گئے ہیں۔ آج بہت سے لوگوں کو احساس ہی نہیں ہوتا ہے کہ خُدا اُس سے اُن کے گناہ کی وجہ سے ناراض ہے۔ لیکن وہ کسی بات کو بھی نہیں بدلتے ہیں۔ پرانے دور کی سوچ کہتی ہے، ’’وہ آپ کے لیے سچ ہے، مگر میرے لیے نہیں۔‘‘ اِس ہی طرح سے بہت سے نوجوان لوگ آج سوچتے ہیں۔ مگر کسی کو چاہیے کہ وہ آپ کو بتائے کہ آپ ایک احمق ہیں اگر آپ اِس طرح سے سوچتے ہیں! ’’یہ آپ کے لیے سچ ہے، مگر یہ میرے لیے سچ نہیں ہے۔‘‘ یہ ایک نادان کی بات ہوتی ہے! بائبل کیا سچ ہوتا ہے اُس کی حتمی منصف ہوتی ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’خُدا بدکار پر ہر روز اپنا قہر دکھاتا ہے‘‘ (زبور7:‏11)۔ یہ حقیقت کا ایک بیان ہے۔ یہ سچ ہے چاہے آپ اس پر یقین کریں یا نہ کریں۔ کیا ہوتا اگر ایک ڈاکٹر کہتا، ’’آپ کو کینسر ہے‘‘؟ تو کیا آپ کے لیے یہ کہنا منطقی ہوتا، ’’وہ آپ کے لیے سچ ہے مگر میرے لیے نہیں ہے‘‘؟ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو دراصل ایسا کرتے ہیں! نفسیات دان کہتے ہیں کہ وہ ’’تردیدیت‘‘ کی حالت میں ہوتے ہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ انکار کرتے ہیں کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ ہوتا سچ ہی ہے۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ خُدا آپ کے ساتھ آپ کے گناہ کے سبب سے ناراض نہیں ہوتا ہے، تو آپ تردیدیت کی حالت میں ہیں۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ اِس کا کتنا انکار کرتے ہیں، یہ تب بھی سچ ہی ہے، ’’خُدا [آپ پر] ہر روز قہر برساتا ہے۔‘‘ یہ سچ ہے چاہے آپ اِس کا انکار کریں یا نہ کریں۔ یہ سچ ہے چاہے آپ اِس کا یقین کریں یا نہ کریں۔

مجھے بہت اچھی طرح سے یاد ہے جب انسان پہلی مرتبہ چاند پر گیا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اُس وقت کچھ لوگ تھے جنہوں نے اِس کا یقین نہیں کیا تھا؟ اُنہوں نے کہا، اُن کی وہ چاند پر ادھر اُدھر چلتی ہوئی تصویریں سٹوڈیو میں کھینچی گئی تھیں۔ اُنہوں نے یہ سارا کچھ پہلے سے ہی چاند کے جیسا دکھانے کے لیے بنا لیا تھا، مگر یہ محض ایک فلمی سیٹ تھا۔‘‘ میں نے کچھ عرصے سے ایسا نہیں سُنا، مگر مجھے یقین ہے کہ اب بھی کچھ باؤلے ایسے موجود ہیں جو ایسا سوچتے ہیں۔ لیکن اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ باؤلا کیا سوچتا ہے! انسان نے چاند پر چہل قدمی کی تھی چاہے وہ اِس کا یقین کرے یا نہ کرے، چاہے یہ ’’اُس کے لیے‘‘ سچ ہو یا نہ ہو! اور اِس ہی طرح سے خُدا کے قہر کے ساتھ ہوتا ہے، گناہ پر خُدا کے غصے کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے چاہے آپ اِس پر یقین کریں یا نہ کریں!

ڈاکٹر کارل میننگر Dr. Karl Menninger جیسے نفسیات دان کہہ چکے ہیں کہ بے شمار جدید ذہنی اور جذباتی مسائل گناہ پر چپھائی گئی تشویش سے آتے ہیں (کارل میننگر، ایم۔ ڈی۔ Karl Menninger, M.D.، گناہ کا چاہے کچھ بھی بنے؟ Whatever Become of Sin?، ہاوتھارن بُکس Hawthorn Books، 1973)۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بہت سے لوگوں میں نفسیاتی دباؤ کی جڑ ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ شراب نوشی اور منشیات کی زیادتی کی جڑوں میں سے ایک ہوتی ہے۔ لوگوں کا ضمیر اُنہیں بتاتا ہے کہ وہ گناہ کے مجرم ہیں۔ اُن کا ذہن اِس کو مسترد کرتا ہے اور یہ بات دباتا ہے، لیکن اُن کا ضمیر اُنہیں شراب نوشی، منشیات کی زیادتی میں دھکیل دیتا ہے اور حتیٰ کہ خودکشی پر مجبور کر دیتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ نوعمروں اور نوجوان بالغوں میں خود کشی اب موت کی پہلے نمبر پر وجہ ہے؟ پہلے نمبر کی وجہ! وہ ہی نوجوان لوگ جو کہتے ہیں، ’’وہ آپ کے لیے سچ ہے، مگر میرے لیے سچ نہیں ہے‘‘ – وہ وہی نوجوان لوگ ہیں جو ایک خطرناک شرع سے خودکشی کر رہے ہیں۔ دوسرے لاکھوں کو دِن گزار دینے کے لیے خود کو قابل رکھنے کے لیے خود کو نشے میں رکھنا پڑتا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ کیسے زندگی گزاریں! وہ نہیں جانتے کہ کیسے خوش رہا جائے! بائبل کہتی ہے، ’’دغابازوں کی راہ کٹھن ہوتی ہے‘‘ (امثال13:‏15)۔ گناہ میں رہنا مشکل اور دشوار گزار ہوتا ہے۔ دغاباز ہونا مشکل ہوتا ہے!

میں ایک خاتون شخصیت کو جانتا ہوں جنہوں نے کہا اُنہیں مسیح کی ضرورت نہیں تھی۔ اُنہیں نہیں تھی! اُنہوں نے کہا وہ ایک اچھی انسان تھی اور اُنہیں معافی کے لیے مسیح کی ضرورت نہیں تھی۔ اُس کے کچھ ہی عرصے کے بعد اُنہوں نے زہر سے بھرا ہوا ایک گلاس پی لیا۔ اِس سے پہلے کہ لوگوں کو اُن کا پتا چلتا وہ ہاتھوں اور گھٹنوں پر رینگتی رہیں۔ وہ ہسپتال جاتے ہوئے مر گئی تھیں۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ اپنے گناہ کے جرم کے ساتھ زندہ کھائی گئی تھیں، حالانکہ اُنہوں نے اِس کا انکار کیا تھا۔ بائبل کہتی ہے، ’’خُداوند فرماتا ہے کہ شریروں کے لیے سلامتی نہیں ہے‘‘ (اشعیا57:‏21)۔

آپ کہتے ہیں، ’’مجھ پر ایسا کچھ نہیں ہونے جا رہا ہے۔‘‘ اِس بارے میں اِس قدر پُریقین مت ہوں! زندگی طویل، دشوارگزار، اور ہولناک باتوں سے بھری پڑی ہے۔ کیا آپ نے اُس نوجوان اداکار فلپ سےمور ھورمین Philip Seymour Hoffman کے بارے میں سُنا؟ اُس نے آسکر ایواڈ جیتا تھا۔ اُس نے سب کچھ پا لیا تھا! مگر لوگوں نے اُس کو اُس کے باتھ روم میں ہاتھ میں ایک چُھبی ہوئی سوئی کے ساتھ کچھ ہی دِن قبل مردہ پایا تھا۔ اُس کا کمرہ سینکڑوں ہیروئین کی تھیلیوں کے ساتھ بھرا پڑا تھا! میرے خیال میں وہ اپنے نفسیاتی دباؤ اور جرم کے احساس کو چُھپانے کو کوشش کررہا تھا! کیسا ایک الیمہ!

تب، بھی، نجات مستقبل میں ہمیں خُدا کے فیصلے سے آزادی دلاتی ہے۔ بائبل کہتی ہے کہ ایک دِن آ رہا ہے۔ کچھ جگہوں پر اِس کو ’’خُداوند کا دِن‘‘ کہا گیا ہے۔ دوسری جگہوں میں اس کو ’’وہ دِن‘‘ یا ’’روزِ قیامت‘‘ کہا گیا ہے۔ پولوس رسول نے ’’ایک دِن جب وہ ساری دُنیا کا انصاف کرے گا‘‘ کے بارے میں بتایا (اعمال17:‏31)۔ پطرس رسول نے ’’روزِ عدالت‘‘ کے بارے میں بات کی (2 پطرس2:‏9)۔ دُنیائے زمانہ مشہور مبشرِ انجیل بلی گراھم Billy Graham نے یہ بیان ماضی میں 1949 میں اپنے پہلی صلیبی جنگ میں یہیں لاس اینجلز میں، واشنگٹن اور ھِل سٹریٹ کے کونے پر دیا تھا۔ میں اُن کے ساتھ ہمیشہ متفق نہیں ہوتا ہوں، لیکن یہ بیان بالکل سچا ہے۔

خُدا کہتا ہے، ’’میں نے ایک دِن مقرر کیا ہے۔‘‘ وہ یہ تمام دُنیا کو اعلان کرتا ہے... اُس دِن میں دُنیا کے تمام بے اعتقادے لوگوں کا انصاف کیا جائے گا... ’’میں نے ایک دِن مقرر کیا ہے جس میں مَیں جو کچھ تم مسیح یسوع کے ساتھ کر چکے ہواُس کا دُنیا سے انصاف کروں گا‘‘ وہ آج رات خُدا کے الفاظ ہیں (بلی گراھم Billy Graham، ہمارے زمانے میں حیات نو Revival in Our Time، وین کیمپین پریس
 Van Kampen Press،‏ 1950، صفحہ159)۔

مسٹر گراھم نے وہ 65 سال پہلے کہا تھا۔ کیا اِس کا مطلب ہے کہ یہ ہونے نہیں جا رہا ہے؟ جی نہیں! اِس کا مطلب ہے کہ ہم اُس انصاف کے دِن کے 65 سال قریبا آ چکے ہیں! اُس روز تنہا نجات ہی آپ کو خُدا کے انصاف سے بچا سکتی ہے۔ اُس ناخوشگوار روز تنہا مسیح میں نجات ہی آپ کو آگ کی جھیل میں زندہ جھونکے جانے سے بچا پائے گی!

آپ شاید نہ سوچیں کہ آپ کی نجات اتنی اہم ہے – لیکن خُدا سوچتا ہے! وہ سوچتا ہے کہ آپ کی نجات اِس قدر اہم ہے کہ وہ آپ کو بچانے کے لیے یسوع کو بھیجتا ہے! یسوع خود سوچتا ہے کہ آپ کی نجات اِس قدر اہم ہے کہ آپ کو بچانے کے لیے اُس نے مصائب برداشت کیے اور صلیب پر جان دی! بائبل کہتی ہے، ’’مسیح یسوع گنہگاروں کو بچانے کے لیے دُنیا میں آیا‘‘ (1 تیموتاؤس1:‏15)۔ پاک روح سوچتا ہے کہ آپ کی نجات اِس قدر اہم ہے کہ آپ کی جانب سے مسلسل کام کرتا رہتا ہے۔ یوں پاک تثلیث سوچتی ہے کہ آپ کی نجات انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

آپ کا پادری ہونے کی حیثیت سے، میں سوچتا ہوں کہ آپ کی نجات اِس قدر اہم ہے کہ میں مسلسل آپ کو انجیل کی منادی کرتا ہوں! میں آسانی کے ساتھ بائبل میں سے دوسری باتوں پر بات کر سکتا ہوں۔ مگر میں آپ کی نجات کے لیے اِس قدر فکرمند ہوں کہ میں مسیح میں آپ کی نجات کی ضرورت کے بارے میں آپ کو منادی کرنے کے لیے مجبور ہو جاتا ہوں۔

یہ گرجہ گھر بھی آپ کی نجات کے بارے میں اِس قدر فکرمند محسوس کرتا ہے کہ ہمارے لوگ ہر وقت آپ کے بچائے جانے کے لیے دعا مانگتے رہتے ہیں۔ دونوں ہی اپنی ذاتی دعاؤں اور تین دعائیہ عبادتوں میں، وہ کافی کافی دیر دعا مانگتے ہیں، اور انتہائی قوت کے ساتھ آپ کے بچائے جانے کے لیے دعا مانگتے ہیں!

شیطان اور بدروحیں سوچتیں ہیں کہ آپ کی نجات اِس قدر اہم ہے کہ وہ آپ کو نجات پا لینے سے دور رکھنے کے لیے مسلسل کام کرتے ہیں! جہنم میں کھوئی ہوئی جانیں بھی آپ کی نجات کی اہمیت کے بارے میں جانتی ہیں! وہ دولت مند شخص جو مر گیا اور جہنم میں گیا اُس نے پوچھا کہ شاید لعزر کو اُس کے پانچ بھائیوں کو خبردار کرنے کے لیے بھیج دیا جائے، ’’کہیں وہ بھی اِس عذاب والی جگہ نہ آ جائیں‘‘ (لوقا16:‏28)۔

با برکت تثلیث، اِس گرجہ گھر کے لوگ، شیطان اور اُس کی بدروحیں، اور جہنم میں کھوئے ہوئے لوگ، تمام جانتے ہیں کہ آپ کی نجات نہایت شدید اہم ہے! خُدا کرے کہ آپ جاگیں اور مسیح یسوع میں اپنی نجات کی بہت بڑی ضرورت کو دیکھیں!

II۔ دوئم، میں چاہتا ہوں کہ آپ ’’خود اپنی‘‘ نجات کے بارے میں سوچیں۔

تلاوت آپ کی ’’خود اپنی نجات‘‘ کے بارے میں بات کرتی ہے۔ اِس موقعے پر میں چاہتا ہوں کہ آپ ’’خود اپنی نجات‘‘ کے بارے میں سوچیں۔ الفاظ ’’خود اپنی‘‘ یونانی میں ترجمہ کرتا ہے ایک لفظ – ’’ھیوٹن Heautōn‘‘ – ’’اور کوئی نہیں‘‘، ماسوائے ’’خود اپنی‘‘ نجات کے! اب سوچیں آپ کے لیے یہ کس قدر اہم ہے کہ بچائے جائیں! اِس صبح – خود اپنی نجات کے بارے میں سوچیں – اور کچھ بھی نہیں! داروغہ نے کہا، ’’میں کیا کروں کہ نجات پا سکوں؟‘‘ (اعمال16:‏30)۔ یہ ہی ہے جس کے بارے میں آپ کو سوچنا چاہیے – ’’میں کیا کروں کہ نجات پا سکوں؟‘‘

اور کوئی بھی آپ کے لیے مسیح کے خون میں دُھل کر صاف نہیں ہو سکتا۔ آپ کو پاک صاف ہونا چاہیے! آپ کو توبہ کرنی چاہیے! آپ کو یسوع پر بھروسہ کرنا چاہیے! اگر آپ نجات دہندہ پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں تو آپ تمام ابدیت کے لیے کھو جائیں گے!

اِس حقیقت کے بارے میں سوچیں کہ آپ کو ذاتی طور پر مرنا چاہیے۔ کوئی بھی نہیں سوچتا کہ اُس دوست یا اُس کا کوئی رشتہ دار اُس کی جگہ پر مر جائے۔ مجھے خود ہی موت کے دروازے سے تنہا گزرنا پڑے گا۔ اور اِسی طرح سے آپ کو بھی! اور جب آپ مریں گے تو یا تو آپ پُرسکون اور خوش ہونگے، وگرنہ آپ دھشت زدہ اور عذاب میں مبتلا ہونگے۔ آپ یا تو ’’بادشاہ کو اُس کے جلال میں‘‘ دیکھیں گے (اشعیا33:‏17)؛ یا پھر آپ ’’ابدی شعلوں کے درمیان بسیرا کریں گے‘‘ (اشعیا33:‏14)۔ سچے مسیحی کے لیے وہاں ایک ذاتی جنت ہے۔ مگر آپ وہاں صرف اُسی وقت جا سکتے ہیں اگر آپ ’’خود اپنی نجات‘‘ کا تجربہ کرتے ہیں۔ وہاں ایک ذاتی جہنم ہے – اور اگر آپ نجات کا تجربہ کبھی نہیں کر پاتے تو آپ وہیں جائیں گے – اور کہیں نہیں جائیں گے۔ آپ کسے جہنم کی آگ سے فرار پا سکتے ہیں – اگر آپ یسوع مسیح کے وسیلے سے آپ کو پیش کی گئی نجات کو ٹھکراتے ہیں؟ ایک پرانے زمانے کا گیت کہتا ہے، ’’میرا بھائی نہیں، میری بہن نہیں، مگر یہ میں ہوں، اوہ خُدا، میں دعا کی ضرورت میں کھڑا ہوں!‘‘

کچھ لوگ نام نہاد کہلانے والے ’’فضل کے عہد‘‘ میں چُھپ جاتے ہیں۔ وہ یقین کرتے ہیں کہ اگر آپ ایک مسیحی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ یقینی طور پر بچائے جائیں گے ۔ وہ شاید یہ یقین کر سکتے ہیں لیکن میں نہیں کر سکتا! سچ ہے، کوئی جو مسیحی گھرانے میں پیدا ہوتا ہے اُس کے پاس فضل کے زیادہ وسائل میسر ہوتے ہیں۔ اُس نے زیادہ واعظ سُنے ہوتے ہیں۔ اُس نے زیادہ بائبل پڑھی ہوتی ہے۔ اُس کے لیے زیادہ لوگ دعائیں کر رہے ہوتے ہیں، وغیرہ۔ لیکن کوئی بھی کبھی بھی اِس لیے نہیں بچایا گیا کیونکہ وہ ’’فضل کے عہد‘‘ میں ہوتا ہے۔ مسیحیوں کے لیے ایسا کوئی عہد وجود نہیں رکھتا۔ یہ ’’متبادل علم الہٰیات‘‘ کا نتیجہ ہے – جس کی تعلیم کہتی ہے کہ کلیسیا اسرائیل کی جگہ لے لیتی ہے۔ یہ ایک شیطانی عقیدہ ہے جو بہتیروں کو اسرائیل کے خلاف کرنے کا سبب بنا ہے اور اُنہیں اینٹی سیمائیٹز anti-Semites بنا دیا۔ ھیڈلبرگ کی مسیحی تعلیم Heidelberg Catechism نام نہاد کہلائے جانے والے’’فضل کے عہد‘‘کے بارے میں یہ کہتی ہے۔ ’’… بپتسمہ کے وسیلے سے، جو عہد کا نشان ہے، نوزائیدہ بچوں کو مسیحی کلیسیا میں شمار کر لیا جانا چاہیے اور اُنہیں بے اعتقادوں کے بچوں سے فرق گردانا جانا چاہیے۔ یہ پرانے عہد نامے میں ختنہ کے ذریعے سے کیا جاتا تھا، جو کہ نئے عہد نامے میں بپتسمہ سے بدل گیا تھا‘‘ (ھیڈلبرگ مسیحی تعلیم، سوال 74)۔ یہاں واقعی میں کلام پاک سے کوئی حوالہ اس ’’تبادلے‘‘ کے تصور کو سہارا نہیں دیتا ہے۔ ہمیں کبھی بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ بپتسمہ ختنہ کا متبادل ہے۔ ہمیں کبھی بھی نہیں بتایا گیا کہ نوزائیدہ بچوں کو بپتسمہ دینا چاہیے کیونکہ وہ نام نہاد کہلائے جانے والے ’’فضل کے عہد‘‘ کا حصہ ہوتے ہیں۔ مجھے نہیں نظر آتا کہ کیسے ایک سچا بپتسمہ یافتہ اِس تعلیم کو قبول کر سکتا ہے۔ تاریخی طور پر بپتسمہ یافتہ لوگوں نے ہمیشہ ’’ایمانداروں کے بپتسمہ‘‘ کے عقیدے کو تھامے رکھا ہے۔ اِسی لیے، ایک معقول بپتسمہ یافتہ منطقی طور پر ’’فضل کے عہد‘‘ میں یقین نہیں کر سکتا۔ آپ کو بپتسمہ پانے سے پہلے بچایا جا چکنا چاہیے! اعمال کی کتاب میں ’’گھریلو پبتسمے‘‘ تبدیل ہو چکنے والے گھر میں ہر ایک فرد پر مشتمل ہوتے تھے – جو اکثر عظیم حیات نو کے زمانوں میں ہوتا ہے – جیسے اعمال کی کتاب میں ہوا تھا۔ ویسے، انتہائی بدکار لوگوں میں سے کچھ جہاں تک جنہیں میں جانتا ہوں مسیحی گھرانوں سے ہی آئے ہیں! دوسری طرف، ہمارے منادوں میں سے ایک بھی مسیحی گھرانے سے نہیں آیا۔ نا ہی ڈاکٹر چعین Dr. Chan، ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan، یا میں خود۔ ہم تمام کے تمام یسوع میں ذاتی ایمان کے وسیلے سے بچائے گئے تھے، ناکہ ایک ’’فضل کے عہد‘‘ کے وسیلے سے۔

آپ نصیب کے پیچھے چُھپنے کے مقابلے میں ’’فضل کے عہد‘‘ کے پیچھے مذید اور نہیں چُھپ سکتے۔ آپ توقع نہیں کر سکتے کہ آپ کے والدین یا خود خُدا، آپ کی ذمہ داری اُٹھائے کہ ’’خُود آپ کی نجات‘‘ کو تلاش کریں۔ نیکودیمس واقعی میں پرانے عہد نامے کے عہد میں تھا۔ مگر یسوع نے اُس سے کہا، ’’تجھے نئے سرے سے پیدا ہونا چاہیے‘‘ (یوحنا3:‏7)۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ’’اعلٰی [معزز]‘‘ کیلوینسٹوں کو تسلی نہیں دے گا، مگر یہ خُدا کے کلام کے لیے سچ ہے، چاہے اگر یہ اُن کی ’’متبادل علم الہٰیات‘‘ کی تعلیم میں پوری نہیں اُترتی۔ میں سوٹرئیالوجی soteriology (نجات) کے موضوع پر سُدھر چکا ہوں، لیکن کسی کو مجھ سے توقع نہیں کرنی چاہیے کہ میں اُن کی متبادل علم الہٰیات میں پیروی کروں گا! میں یہ کبھی بھی نہیں کروں گا! میں ایک بے شرم ’’سُبکدوشی‘‘ ہوں جب بات اسرائیل اور گرجہ گھر پر آتی ہے۔ خُدا نے یہودی لوگوں کے ساتھ صرف ایک زمینی عہد باندھا تھا۔ مسیحیوں کو تنہا مسیحی میں ایمان کے وسیلے سے ’’نئے عہد‘‘ میں پیوستہ کیا جاتا ہے!

اگر آپ ایک مسیحی خاندان سے آتے ہیں، تو میں آپ کو ’’خود اپنی نجات‘‘ کے لیے مسیح کی تلاش کرنے کی تنبیہہ کرتا ہوں۔ اگر آپ نے کبھی یسوع پر بھروسہ نہیں کرتے، تو آپ کوخوفزدہ ہونا چاہیے کہ آپ کو آپ کے خاندان سے ہمیشہ کے لیے علیحدہ کر دیا جائے گا! اگر شاید آپ ایک غیرنجات یافتہ خاندان سے آتے ہیں۔ اگر آپ آتے ہیں، تو میں آپ کو زور دیتا ہوں کہ اُن کی پیروی میں جہنم کی آگ میں نہ جانا! آپ کو ’’خود اپنی نجات‘‘ کے لیے یسوع پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

ورنہ آپ شاید دوسرے لوگوں کے بارے میں سوچنے سے خُود اپنی نجات کے بارے میں بھولنے کی آزمائش میں پڑ جائیں گے۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ کوئی ایسا جسے آپ جانتے ہیں، جو اِس گرجہ گھر کا رُکن ہے، واقعی میں گناہ میں گھرا ہوا ہے یا کھویا ہوا ہے؟ شاید وہ ہوں – مگر یہ آپ کی کیسے مدد کرتا ہے؟ آپ کو اُن کے بارے میں بھول جانا چاہیے اور صرف ’’خود اپنی نجات‘‘ کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

مجھے یوں لگتا ہے کہ زمین پر ہر ایک بات اور آسمان میں ہر ایک بات اور جہنم میں ہر ایک بات، اور خُدا خود، دوسری اورکسی بات سے بڑھ کر، آپ کو ’’خود اپنی نجات‘‘ تلاش کرنے کے لے بُلاتے ہیں! اوہ، میرے دوست، خود کو تولیں! کیا آپ بچائے جا چکے ہیں؟ اگر نہیں، تو زندگی میں کسی اور بات سے بڑھ کر مسیح کو تلاش کریں! خود اپنی بُلاہٹ اور چُنے جانے کو یقینی بنائیں!

میں اِس صبح یہاں پر ہر شخص سے تمنا کرتا ہوں کو وہ اپنے تمام دِل کے ساتھ مسیح کو تلاش کرے۔ بے اعتقادی میں سونا چھوڑ دیں۔ اپنی خود کی جھوٹی اُمیدوں اور خیالات سے منہ موڑ لیں! یسوع گناہ کی قیمت ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرا تھا۔ وہ آپ جیسے گنہگاروں کے متبادل کے طور پر مرا تھا! توبہ کریں اور اپنی زندگی کو یسوع کے لیے وقف کر دیں، اور وہ آپ کو بچائے گا! صرف تب ہی آپ اعتماد کے ساتھ گا پائیں گے،

میں نے ایک دوست پا لیا ہے جو میرے لیے سب کچھ ہے،
   اُس کی محبت ہمیشہ سچی ہوتی ہے؛
مجھے بتانے سے محبت ہے کہ کیسے اُس نے مجھے سہارا دیا،
   اور اُس کا فضل آپ کے لیے کیا کچھ کر سکتا ہے۔
اُس کی الہٰی قوت کے وسیلے سے بچایا گیا، نئی دلکش زندگی کے لیے بچایا گیا!
   زندگی اب پیاری ہے اور میری خوشی مکمل ہے
کیونکہ میں بچا لیا گیا ہوں، بچا لیا گیا، بچا لیا گیا ہوں!
   (’’بچا لیا گیا، بچا لیا گیا! Saved, Saved!‘‘ شاعر جیک پی۔ سکھول فیلڈ Jack P. Scholfield، 1882۔1972)۔

پیارے دوست، اگر آپ ’’خود اپنی نجات‘‘ کے بارے میں ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہیں، تو مہربانی سے اپنی نشست چھوڑیں اور ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ مسٹر جان سیموئیل کیگن Mr. John Samuel Cagan آپ کی ایک اور کمرے تک رہنمائی کریں گے جہاں پر ہم دعا کر سکتے ہیں اور آپ کے سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں۔ اگر آپ ایک حقیقی مسیحی بننے کے بارے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو مہربانی سے ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan مہربانی سے دعا کریں کہ اِس صبح کوئی نہ کوئی یسوع کے وسیلے سے گناہ سے بچا لیا جائے۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: فلپیوں2:‏9۔13 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
         ’’بچا لیا گیا، بچا لیا گیا! Saved, Saved!‘‘ (شاعر جیک پی۔ سکھول فیلڈ Jack P. Scholfield‏، 1882۔1972)۔

لُبِ لُباب

خود اپنی نجات

YOUR OWN SALVATION

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’خود اپنی نجات‘‘ (فلپیوں2:‏12)۔

I۔ اوّل، میں چاہتا ہوں کہ آپ لفظ ’’نجات‘‘ کے بارے میں سوچیں، زبور7:‏11؛
امثال13:‏15؛ اشعیا57:‏21؛ اعمال17:‏31؛ 2پطرس2:‏9؛
1 تیموتاؤس1:‏15؛ لوقا16:‏28 .

II۔ دوئم، میں چاہتا ہوں کہ آپ ’’خود اپنی‘‘ نجات کے بارے میں سوچیں،
 اعمال16:‏30؛ اشعیا33:‏17، 14؛ یوحنا3:‏7 .