Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسیح صرف حقیقی طور پر تبدیل ہونے والوں کے لیے انمول ہے!

!CHRIST PRECIOUS TO REAL CONVERTS ONLY
(Urdu)

ڈٓاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 2 فروری، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, February 2, 2014

’’اِس وجہ سے تمہارے لیے جو ایمان رکھتے ہیں وہ انمول ہے‘‘ (1۔ پطرس2:7)۔

سپرجیئن سولہ برس کا تھا جب اُس نے اپنے پہلے واعظ کی تبلیغ کی۔ وہ اپنی تبدیلی کے وقت سے لے کر تقریباً ایک سال سے ایک سنڈے سکول میں تعلیم دے رہا تھا۔ سنڈے سکولوں میں دوپہر کو تعلیم دی جاتی تھی، جب کہ اب بھی برطانیہ کے کچھ حصوں میں سچ ہے۔ وہ اِس قدر کامیاب تھا کہ دوسرے اُستاد اُس کے پاس اپنے اسباق میں مدد کے لیے آتے تھے۔ وہ ایک عام مبلغین کی تنظیم میں بھی جاتا تھا۔ ایک دِن تنظیم کے سربراہ نے سپرجیئن کو ایک دوسرے نوجوان آدمی کے ساتھ جانے کے لیے کہا، جس کو اپنا پہلا واعظ دینے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ جب وہ میٹنگ ہاؤس کی جانب جا رہے تھے، سپرجیئن کو یکدم احساس ہوا کہ یہ تو وہ تھا جس کو تبلیغ کرنی تھی۔ اُس کے ساتھی نے اُسے بتایا کہ جب تک وہ بولے گا نہیں واعظ نہیں ہوگا۔ جب وہ پیدل جا رہے تھے تو سپرجیئن نے سوچا ’’میں چند ایک غریب [لوگوں] کو یسوع کی محبت اور شرینی کے بارے میں بتا سکتا ہوں۔‘‘

اور یوں، اُس سولہ سالہ سپرجیئن نے اپنا پہلا واعظ دیا – جو کہ ہماری تلاوت پر تھا،

’’اِس وجہ سے تمہارے لیے جو ایمان رکھتے ہیں وہ انمول ہے‘‘ (1پطرس2:7)۔

اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ جب وہ تبلیغ کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو وہ خوفزدہ تھا۔ لیکن وہ تلاوت میں اِس قدر کھو گیا تھا کہ الفاظ اُس کے منہ سے خود بخود نکل رہے تھے۔ اُس نے کہا، ’’مسیح میری جان کے لیے قیمتی تھا... مجھے خاموش نہیں کیا جا سکتا جب [وہ] قیمتی یسوع میرا موضوع تھا۔‘‘ اُس کو گناہ کے ساتھ اپنی اسیری یاد تھی، شعلوں کی وہ خلیج جس نے اُس کے عذاب میں مبتلا ضمیر کے گرد گھیرا ڈالا ہوا تھا اُس کو یاد تھی۔ اُس نے محسوس کیا تھا کہ وہ ہمیشہ کی آگ میں جھونکے جانے کے لیے تیار تھا۔ اپنی تبدیلی سے ایک سال پہلے، اُن ہولناکیوں کو یاد کرنے سے جن سے وہ گزرا تھا، وہ آسانی سے یسوع کے قیمتی پن کے بارے میں بات کر سکتا تھا۔ اُس نے کہا کہ نجات دہندہ نے ’’مجھے جلتی ہوئی آگ میں سے لکڑی کی حیثیت سے نکالا، اور مجھے ایک چٹان پر قائم کیا، اور میرے منہ میں ایک نیا گیت ڈالا۔‘‘

سپرجیئن نے اِس تلاوت پر مذید چھے اور واعظوں کی منادی کی، آخری والا اُس کی موت سے کچھ مہینے پہلے 1890 میں دیا گیا تھا۔ میں نے اِس 16 سالہ لڑکے کے بارے میں سوچا جو یسوع کے قیمتی پن پر منادی کرتا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ آیا کوئی نوعمر ہمارے زمانے میں اِس موضوع کو چُنے گا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ آج یہ کوئی انتہائی غیرمعمولی لڑکا ہی ہوگا جو اپنے پہلے واعظ میں منادی کے لیے اِن الفاظ کو چُنے گا،

’’اِس وجہ سے تمہارے لیے جو ایمان رکھتے ہیں وہ انمول ہے‘‘ (1پطرس2:7)۔

اِس بات کا یقین کیجیے کہ چارلس سپرجیئن ایک نایاب لڑکا تھا۔ اِس کے باوجود مجھے شک ہے کہ امریکہ میں ایک نوجوان شخص بھی مسیح کے قیمتی پن پر واعظ دینے کے بارے میں سوچے گا۔ آج ہمارے گرجہ گھروں میں انجیلی بشارت کے واعظ تقریباً کبھی بھی نہیں دیے جاتے ہیں۔ میں نے گذشتہ اِتوار اپنے واعظ ’’آج انجیل کی تبلیغ اِس قدر کم کیوں ہے؟ ‘‘ میں اُس کی وجوہات واضح کی تھیں۔ اب ایک نوجوان شخص کے لیے انجیلی بشارت کے واعظ پر منادی کرنے کے بارے میں سوچنا بھی انتہائی خلاف قیاس ہوگا! اور نام نہاد ’’تفاسیری‘‘ تبلیغ پر ’’نئے‘‘ اصرار کے ساتھ، وہ یقینی طور پر آیت کے آدھے حصے کو بھی ایک مکمل واعظ دینے کے لیے نہیں چُن پائے گا! آج ایک لڑکا مسیحیوں کو واعظ دینے کے لیے پانچ یا زیادہ آیات پر مشتمل واعظ کو چُنے گا، اور نام نہاد کہلائی جانے والی ’’تفاسیری‘‘ منادی کے خطرناک طریقۂ کار کی پیروی کرے گا جو کہ آج کل ایک رواج بن چکا ہے۔ اور ایک لڑکا یقینی طور پر آج جنون کے ساتھ یسوع کے ’’قیمتی پن‘‘ ہر بات کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ کیوں نہیں؟ کیونکہ یہ لگ بھگ یقینی ہے کہ آج ایک نوجوان شخص ایک حقیقی تبدیلی کی اذیت اور بے خودی میں سے نہیں گزر پائے گا! جیسا کہ سپرجیئن نے کیا، ایک مبلغ کے گھر سے تعلق رکھتے ہوئے، جب وہ دو یا تین سال کی عمر کا تھا تو اُس لڑکے کو بلا شک و شبہ نام نہاد کہلائی جانے والی ’’گنہگاروں کی دعا‘‘ کے الفاظ کو منہ ہی منہ میں بولنے کے لیے راہنمائی کی گئی ہوگی۔ اُس کو بلاشک و شبہ بتایا گیا ہوگا کہ وہ اپنی تمام عمر میں بچایا گیا تھا کیونکہ اُس نے وہ دعا کہی تھی۔ یوں، جدید نوعمر کو یسوع مسیح کے ساتھ ایک زندگی کو تبدیل کر دینے والے حقیقی تجربے کو پانے سے لوٹا گیا ہوگا۔ یہی وہ اہم وجہ ہے کہ 25 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے امریکہ کے گرجہ گھروں میں پروان چڑھنے والے تقریباً 90 % نوجوان لوگ گرجہ گھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، رائے شماری کرنے والے جارج برنا George Barna کے مطابق ’’کبھی نہ واپس آنے کے لیے۔‘‘ لیکن سپرجیئن نے ایک ’’فیصلہ سازdecisionist‘‘ گرجہ گھر میں پرورش نہیں پائی تھی جو ایک ’’یکدم کہی جانے والی دعا‘‘ کے ذریعے سے نجات پانے میں یقین رکھتا تھا۔ وہ موذی، جانوں کو لعنتی کر دینے والا رواج ابھی تک گرجہ گھروں میں نہیں آیا تھا۔ اور یوں، اُس ’’لڑکے مبلغ‘‘ نے اپنے پہلے واعظ کے لیے 1پطرس2:7 کو تلاوت کے طور پر لیا – اور اُس نے اُس کی عظیم جوش اور شفاعیت [شفابخشی] کے ساتھ منادی کی! (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon کے پہلے واعظ پر معلومات مشتمل ہیں تھامس جے۔ نیٹلز، پی ایچ۔ ڈی۔ Thomas J. Nettles, Ph.D. کی کتاب آگاہ کی ہوئی سچائی کے وسیلے سے جینا: چارلس ہیڈن سپرجیئن کے زندگی اور پاسبانی علم الہٰیات Living By Revealed Truth: The Life and Pastoral Theology of Charles Haddon Spurgeon، کرسچن فوکس پبلیکیشنز Christian Focus Publication، 2013، صفحہ 58 ، 59)۔

’’اِس وجہ سے تمہارے لیے جو ایمان رکھتے ہیں وہ انمول ہے‘‘ (1پطرس2:7)۔

اِس تلاوت سے نکلنے والی دو باتوں کو میں پیش کروں گا۔

I۔ اوّل، وہ کون ہیں جو ایمان لاتے ہیں؟

’’... تمہارے لیے جو ایمان رکھتے ہیں وہ انمول ہے‘‘ (1پطرس2:7)۔

آج زیادہ تر لوگ بے اعتقادے ہیں۔ سچے ایمانداروں کو تلاش کرنا انتہائی دشوار گزار ہوتا جا رہا ہے، یہاں تک کہ علم الہٰیات کی سیمنریوں میں بھی۔ جان ایس ڈکرسن John S. Dickerson نے ایک کتاب لکھی ہے جو کہ ہر پادری اور ہر سنجیدہ مسیح کو پڑھنی چاہیے۔ اِس کا عنوان ہے انجیلی بشارت کی دوبارہ سپردگی The Great Evangelical Recession (بیکر بُکس Baker Books، 2013)۔ اپنی کتاب کے دوسرے حصے میں جو کچھ اُنہوں نے پیش کیا میں اُس کے ساتھ متفق نہیں ہوں، لیکن پہلا حصہ آپ کی ’’ضرور پڑھنے والی‘‘ فہرست میں ہونا چاہیے۔ یہ ہے جو مسٹر ڈکرسن ہمارے انجیلی بشارت اور بنیاد پرستی سے تعلق رکھنے والے گرجہ گھروں کے بارے میں کہتے ہیں،

امریکی گرجہ گھر روحانیت کی دوبارہ سُپردگی کی کھڑی چٹان پر ہیں۔ مجموعی طور پر ہماری رُکنیت گھٹ رہی ہے۔ نوجوان [لوگ] [گرجہ گھروں سے] دور بھاگ رہے ہیں۔ ہمارے عطیات گھٹتے جا رہے ہیں۔ سیاسی جوش ہمیں تقسیم کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ یہ بحران گرجہ گھروں کو اندرونی طور پر کھا رہے ہیں، وہ جو کبھی ریاست ہائے متحدہ کا دوستانہ میزبان تمدن تھا تیزی سے مخالف اور متنفر ہو رہا ہے…

پادری جان ڈکرسن نے چھے عناصر کی شناخت کی جو امریکہ کے گرجہ گھروں کو انقلابی طور سے گِھس رہے ہیں… (کتاب کی جلد کے پچھلی جانب تحریر)۔

وہ کہتے ہیں کہ انجیلی بشارت والوں کی اور بنیاد پرستی سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد میں شدت کے ساتھ مبالغہ آرائی کی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف تقریباً 7 % امریکی انجیلی بشارت والے یا بنیاد پرستی سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں باقی تمام لوگ اب ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم دیوالیہ ہونے کی حد پر کھڑے ہیں۔ وہ کہتے ہیں 80 سے 90 % پچیس سال کی عمر ہونے تک نوجوان لوگ گرجہ گھروں کو کبھی دوبارہ واپس نہ آنے کے لیے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تقسیم ہو رہے ہیں، جس میں ہمارے میں سے 70 % تو مذہبی حقوق کی اور ریپبلیکن پارٹی کا ساتھ ہی نہیں دے رہے۔ وہ کہتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ چلنے کے لیے انجیلی بشارت والے اور بنیاد پرستی سے تعلق رکھنے والے اتنی تیزی سے نہیں بڑھ رہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’انجیلی بشارت والوں کی شرع فیصد ہر نئی نسل کے ساتھ کم ہوتی ہے، جبکہ شکیوں اور دہریوں کی شرع فیصد نئی نسل میں بڑھتی ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ اِس پرسونامی جیسی ثقافتی تبدیلی کا اثر ہوگا کیونکہ جب پرانی نسل مرجاتی ہے تو ... اگلے اُنتیس سالوں کے اندر اندر انجیلی بشارت والوں کی 45 فیصد تعداد مر جائے گی – یعنی کہ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ انجیلی بشارت والے امریکیوں میں سے تقریباً 7 فیصد سے گر کر 4 فیصد ہو [جائیں گے]۔ [یوں] 2030 یا 2040 کا ریاست ہائے متحدہ انقلابی طور پر[ہم میں سے کئی] جو تصور کر سکتے ہیں اُس کے مقابلے میں زیادہ دُنیاوی اور خُدا کو ناماننے والا ہوگا‘‘ (ibid.، صفحات113، 116)۔ وہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بڑے بڑے فرقوں والے گرجہ گھر جیسے کہ رِیک وارن Rick Warren اور جوئیل آسٹین Joel Osteen کے گرجہ گھر دُنیا میں سے انتہائی چند لوگوں کو تبدیل کر پاتے ہیں۔ وہ صرف چھوٹے گرجہ گھروں سے لوگوں کی ترسیل کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں – اس لئے کُلی طور پر وہ انجیلی بشارت والوں کی تعداد میں لوگوں کا اضافہ نہیں کرتے! (ibid.، صفحات 117، 118)۔

وہ کہتے ہیں کہ ریاست ہائے متحدہ میں ’’ایمانداروں‘‘ کی کُل تعداد ہر سال کم ہو رہی ہے، مگر، جیسا کہ ہم نے اپنی کتابوں مرتی ہوئی قوم سے منادی Preaching to a Dying Nation اور آج کا اِرتداد Today’s Apostasy میں دکھایا کہ انجیلی بشارت والوں اور بنیاد پرستی سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد سرے سے پیدا ہی نہیں ہوئی ہے، تبدیل ہی نہیں ہوئی ہے، بچائی ہی نہیں گئی ہے! ایک وجہ یہ ہے کہ مسیح کی انجیل پر انتہائی کم منادی ہوتی ہے! حیرانگی کی کوئی بات نہیں اگر ڈاکٹر مائیکل ہارٹن Dr. Michael Horton مسیح کے بغیر مسیحیت: امریکی کلیسیا کی متبادل انجیل Christless Christianity: The Alternative Gospel of the American Church (بیکر بُکس Baker Books، 2008)۔ ہر پادری کو ڈاکٹر ہارٹن کی کتاب اور جان ڈکرسن کی کتاب کو پڑھنا چاہیے۔ ڈکرسن کی کتاب کا پہلا حصہ انتہائی اہم ہے۔ مگر یہ ذہن میں رکھیں کہ میں ذاتی طور پر سوچتا ہوں کہ اِس کتاب کا دوسرا حصہ کافی حد تک بے کار ہے۔ یہ خُدا کے بخشے ہوئے حیات نو اور خُدا کی بخشی ہوئی تبدیلیوں کے بجائے ’’طریقۂ کار‘‘ پر انحصار کرتا ہے۔

جس قسم کے ’’حیات نو‘‘ کے بارے میں ڈکرسن بات کرتا ہے وہ فنیFinney کے ماڈل پر تعمیر ہوتی ہے، جس کی ڈاکٹر ڈیوڈ ویلز Dr. David Wells تنقید کرتے ہوئے اِس کو کہتے ہیں ’’کوئی ایسی بات جس کو گرجہ گھر کے ذریعے سے دُرست تکنیک کے ساتھ ڈگر پر ڈالا جا سکتا ہے‘‘ (ڈیوڈ ایف۔ ویلز، پی ایچ۔ ڈی۔ David F. Wells, Ph.D.، سچ کے لیے کوئی جگہ نہیں: یا انجیلی بشارت کی تھیالوجی کے ساتھ چاہے کچھ بھی ہو جائے؟ No Place for Truth: or Whatever Happened to Evangelical Theology?، عیئرڈ مینز Eerdmans، 1993، صفحہ 296)۔

بے شک خود سے اپنی ڈگر پر ہو جانے والی تبدیلیاں گرجہ گھر میں حقیقی حیات نو کو پیدا نہیں کرتی ہیں۔ مگر ڈِکرسن یہیں پر بات جاری رکھتے ہیں، ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم اِس قسم کی ’’فنی اِزم Finneyism‘‘ استعمال کر کے حیات نو لا سکتے ہیں۔ میں مکمل طور پر ڈاکٹر ڈیوڈ ویلز کے ساتھ متفق ہوں کہ اِس قسم کے ’’حیات نو‘‘ ہماری مدد نہیں کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ویلز نے کہا، ’’اِس وقت گرجہ گھر کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ حیات نو نہیں بلکہ اصلاح ہے‘‘ (ibid.)۔ یہی ڈاکٹر ٹوزر Dr. Tozer کا مطلب تھا جب اُنہوں نے کہا، ’’تمام انجیلی بشارت کی دُنیا ایک بہت بڑی حد تک مسیحی صحت کے لیے نامساعد ہے ... میرا مطلب ہے کہ بائبل پر یقین کرنے والا ہجوم۔‘‘ ہمیں ایک نئی اصلاح کرنی چاہیے۔ اُس کافرانہ جعلی مذہب کے ساتھ... ایک انتہائی شدید رکاؤ آنا چاہیے جو آج مسیح کے ایمان کے لیے منظور کیا جاتا ہے اور تمام دُنیا میں پھیلایا جا رہا ہے‘‘ (اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر، ڈی۔ڈی۔ A. W. Tozer, D.D، خُدا اور آدمی کے بارے میں Of God and Men، صفحہ 12۔13؛ ہم ایک متعین راہ پر سفر کرتے ہیں We Travel an Appointed Way ، صفحات 110۔113)۔

ہمارے مسائل کی جڑ اِس حقیقت میں پنہاں ہے کہ بے شمار انجیلی بشارت والے اور بنیاد پرستی سے تعلق رکھنے والے تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ وہ کچھ عقائد میں ’’یقین رکھنے والے‘‘ ہوتے ہیں۔ وہ بائبل کی کچھ آیات میں ’’یقین رکھنے والے ہوتے ہیں۔ لیکن خود مسیح اُن کے لیے قیمتی نہیں ہوتا ہے کیونکہ کلام کی بائبل کی سمجھ کے لحاظ سے وہ یسوع میں ’’یقین رکھنے والے‘‘ نہیں ہوتے ہیں۔

’’اِس وجہ سے تمہارے لیے جو ایمان رکھتے ہیں وہ انمول ہے‘‘ (1پطرس2:7)۔

سپرجیئن نے کہا یہ خود مسیح میں ایمان رکھنے کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔ اُس نے کہا کہ سچا اعتقاد وہ ہوتا ہے ’’جب ایک شخص یسوع میں ایمان رکھتا ہے یا یسوع پر ایمان رکھتا ہے، وہ اُسی پر تکیہ کرتا ہے... [وہ کہہ سکتا ہے] ’میں اُس جلالی شخص پر ایمان رکھتا ہوں؛ میرا بھروسہ اُسی میں ہے‘ اُس کی تمام نجات اور اُس کی تمام خواہش [یسوع ہے]... اگر آپ اُس میں اور اُس پر ایمان رکھنے والے ہیں، تو وہ تمام موازنوں سے پرے آپ کے لیے انمول ہوگا‘‘ (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon ، میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ The Metropolitan Tabernacle Pulpit ، پلگرم اشاعت خانے Pilgrim Publication، دوبارہ اشاعت 1978، جلد 54، صفحات470، 471) ۔

’’اِس وجہ سے تمہارے لیے جو ایمان رکھتے ہیں وہ انمول ہے‘‘ (1پطرس2:7)۔

جب تک آپ گناہ کے تحت سزایابی میں نہیں آتے آپ یسوع بخود پر بھروسہ کرنے کی ضرورت کو محسوس نہیں کر پائیں گے۔ جب تک آپ گناہ کے تحت سزا یابی میں نہیں آتے آپ اُس سے اپنا چہرہ چھپاتے رہیں گے، اور اُس کا احترام نہیں کریں گے (اشعیا53:3)۔ مگر جب پاک روح آپ کو آپ کے دِل کی بغاوت اور مایوس کُن بدکاری کا احساس دلاتا ہے، تو آپ خود سے متنفر ہو جائیں گے۔ صرف تب ہی آپ کو احساس ہوگا کہ یسوع انمول ہے۔

اِس سے پہلے کہ آپ کا ضدی، گناہ سے بھرپور دِل یسوع کے لیے تڑپے، آٓپ کو شاید بے انتہا گناہ کی سزایابی میں سے گزرنا پڑے گا۔ جب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کے پاس کوئی اُمید نہیں، اِس دُنیا میں تو کوئی اُمید نہیں ہے، جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ ایک گناہ سے بھرپور تباہ حال ہیں، جس کے خود کو تبدیل کرنے کی کوئی اُمید نہیں ہے، تب آپ یسوع بخود پر بھروسہ کرنے کے لیے شاید قائل کیے جاتے ہیں اور اُس کے انمول خون کے وسیلے سے اپنے گناہ سے دُھل کر پاک صاف کیے جاتے ہیں۔ تب، اور صرف تب، ہماری تلاوت کی سمجھ کے مطابق آپ یسوع میں ایمان رکھنے والے ہوتے ہیں۔

’’اِس وجہ سے تمہارے لیے جو ایمان رکھتے ہیں وہ انمول ہے‘‘ (1پطرس2:7)۔

II۔ دوئم، مسیح اُن کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں کیوں انمول ہے؟

جس یونانی لفظ نے ’’انمول precious‘‘ کا ترجمہ کیا ہے وہ ’’ٹیمے teemay‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب مہنگا، قیمتی، بیش قیمت ہوتا ہے (Strong)۔ صرف جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ گناہ میں کھو گئے ہیں تو آپ یسوع کے لیے آتے ہیں اور اُس پر بھروسہ کرتے ہیں – صرف تب، اُس سے پہلے کبھی نہیں! اور جب آپ اُس پر بھروسہ کرتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ، اور تنہا وہ ہی، نایاب ہے، قیمتی اور انمول ہے! تب، اور صرف تب، آپ اپنے دِل کے ساتھ وہ الفاظ گانے کے قابل ہونگے جو ایک لمحہ پہلے مسٹر گریفتھ نے گائے،

کس قدر انمول ہے یسوع، میرا نجات دہندہ اور بادشاہ،
   اُس کی ستائش تمام دِن مَیں بے خودی کے ساتھ گاتا ہوں؛
اپنی کمزوری میں قوت کے لیے مَیں اُسی کے ساتھ چمٹتا ہوں،
   کیونکہ وہ میرے لیے اِس قدر انمول ہے۔
کیونکہ وہ میرے لیے اِس قدر انمول ہے، کیونکہ وہ میرے لیے اِس قدر انمول ہے،
   اپنے مُنجی کو جاننے سے، یہاں نیچے آسمان[جنت] ہے،
کیونکہ وہ میرے لیے اِس قدر انمول ہے۔
   (’’کیونکہ وہ میرے لیے اِس قدر انمول ہے For He is So Precious to Me‘‘ شاعر چارلس ایچ۔ گیبرئیل Charles H. Gabriel، 1856۔1932)۔

یسوع پر اُس کا بھروسہ ہو جانے کے بعد، لوتھر وہ گیت گا سکا ہوگا! یسوع پر اُس کا بھروسہ ہو جانے کے بعد، عظیم وائٹ فیلڈ Whitefield وہ گیت گا سکا ہوگا! درج ذیل تمام مبلغین بھی اُس کو گا سکے ہونگے – جان بنیعن John Bunyan، جان ویزلی John Wesley، ولیم رومین William Romaine، اُگستُس ٹاپلیڈی Augustus Toplady، جان نیوٹن John Newton، رابرٹ ھال Robert Hall، جاناتھن ایڈورڈز Jonathan Edwards، ٹموتھی وحیٹ Timothy Dwight، گِلبرٹ ٹیننٹ Gilbert Tennent، ولیم ولیمز Williams، ھوول ہیریس Howell Harris، دانی ایل رونلڈ Daniel Rowland، کرسمس ایوینز Christmas Evans، چارلس سیمیعین Charles Simeon، رابرٹ مرے میکچین Robert Murray McCheyne، سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، مارٹن لائیڈ جوننز Martyn Lloyd-Jones، اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزرA. W. Tozer، اور سینکڑوں ہزاروں دوسرے جنہوں نے یسوع پر بھروسہ کیا، اُس میں ایمان لانے سے سکون پایا، اور مسیح مصلوب کی منادی اپنے آخری ایام تک کرتے رہے! پیوریٹن Puritan تبصرہ نگار جان ٹریپ John Trapp (1601۔1669) نے کہا کہ یسوع ’’منہ میں شہد، کانوں میں موسیقی، اور دِل میں سرور‘‘ ہے۔

’’اِس وجہ سے تمہارے لیے جو ایمان رکھتے ہیں وہ انمول ہے‘‘ (1پطرس2:7)۔

’’مبلغین کے شہزادے‘‘ عظیم سپرجیئن نے کہا کہ یسوع ہے

اُس کی روح میں انمول – جس میں وہ ہے!
   انمول کیونکہ اُس کو خریدا نہیں جا سکتا – کیونکہ وہ نایاب ہے!
     انمول کیونکہ اُس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا – کیونکہ وہ قطعاً بے نظیر ہے!
       اپنی قسم کا اکلوتا!
         انمول کیونکہ اُس کو کھویا نہیں جا سکتا – کیونکہ ایک مرتبہ آپ اُس پر بھروسہ کرلیں
           آپ اُس کو کبھی بھی نہیں کھو سکتے!
            انمول کیونکہ اُس کو تباہ نہیں کیا جا سکتا – کیونکہ وہ ہمیشہ اوپر رہتا ہے!
              انمول اُس وجہ سے جو وہ ہمارے لیے کرتا ہے –

اُس نے ہمارے قصور خود پرلاد لیے اور ہمارے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے ہمارے متبادل کے طور پر مر گیا۔ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا اور خُدا باپ کے داہنے ہاتھ پر رہتا ہے، ہمارے لیے صلح کروا رہا ہے! ہمارے لیے دعا کر رہا ہے! وہ ہمیں معافی بخشتا ہے! وہ ہمیں خُدا کے ساتھ سکون بخشتا ہے! وہ ہمیں دائمی زندگی بخشتا ہے! وہ ہمیں اُمید بخشتا ہے! وہ ہمیں قوت بخشتا ہے! وہ ہماری دعاؤں کے لیے جواب دیتا ہے!

یسوع اُن کے دِلوں میں جو سچے طور پر اُس پر بھروسہ اور ایمان رکھتے ہیں دوسری تمام چیزوں سے بڑھ کر انمول ہے! جیسا کہ جان ٹریپ نے اِسے لکھا، وہ ’’منہ میں شہد، کانوں میں موسیقی اور دِل میں سرور‘‘ ہے اُن کے لیے جو اُس پر بھروسہ کرتے ہیں! وہ پولوس رسول کے ساتھ کہہ سکتے ہیں،

’’لیکن تم خُدا کی طرف سے مسیح یسوع میں ہو، جسے اُس نے ہمارے لیے حکمت، راستبازی، پاکیزگی اور مخلصی ٹھہرایا: تاکہ جیسا لکھا ہے اگر کوئی فخر کرنا چاہے تو خُداوند پر فخر کرے‘‘ (1 کرنتھیوں1:30۔31)۔

کیونکہ وہ میرے لیے اِس قدر انمول ہے، کیونکہ وہ میرے لیے اِس قدر انمول ہے،
   اپنے مُنجی کو جاننے سے، یہاں نیچے آسمان[جنت] ہے،
کیونکہ وہ میرے لیے اِس قدر انمول ہے!

’’اِس وجہ سے تمہارے لیے جو ایمان رکھتے ہیں وہ انمول ہے‘‘ (1پطرس2:7)۔

یسوع بیش قیمت ہے۔ درحقیقت، وہ نایاب ہے۔ وہ اِس پرانی دُنیا کے تمام جلال اور تمام تعظیم اور تمام جواہرات کے مقابلے میں انتہائی زیادہ قدر رکھتا ہے۔ یسوع کے پاس آئیں۔ وہ آپ کے گناہ کے لیے مرا – آپ کے متبادل کے طور پر – صلیب پر – تاکہ اگر آپ اُس پر بھروسہ کریں تو اپنے گناہ کے لیے کبھی بھی سزا نہ پائیں۔ وہ زندہ ہے – اوپر آسمان میں خُدا باپ کے داہنے ہاتھ پر – تاکہ اگر آپ اُس پر بھروسہ کرتے ہیں تو کبھی بھی نہ مریں گے۔ آپ کے گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا اور آپ دائمی زندگی پائیں گے – جب آپ نجات دہندہ یسوع مسیح پر بھروسہ کرتے ہیں! وہ آپ سے محبت کرتا ہے! وہ آپ کو بچائے گا! خوفزدہ مت ہوں! اُس پر ابھی بھروسہ کریں، اِس صبح، بالکل ابھی! وہ آپ کو بچائے گا! وہ آپ کو بچائے گا! وہ آپ کو بالکل ابھی بچائے گا!

اگر آپ یسوع پر بھروسہ کرنے کے بارے میں ہمارے سے بات چیت کرنا چاہیں، تو مہربانی سے اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ مسٹر جان سیموئیل کیگن Mr. John Samuel Cagan آپ کو ایک اور کمرے میں لے جائیں گے جہاں پر ہم دعا اور بات چیت کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ایک مسیحی بننا چاہتے ہیں تو ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ اِس صبح کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: 1پطرس2:1۔8 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’کیونکہ وہ میرے لیے اِس قدر انمول ہے For He is So Precious to Me‘‘ (شاعر چارلس ایچ۔ گیبرئیل Charles H. Gabriel، 1856۔1932)۔

لُبِ لُباب

مسیح صرف حقیقی طور پر تبدیل ہونے والوں کے لیے انمول ہے!

CHRIST PRECIOUS TO REAL CONVERTS ONLY!

ڈٓاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اِس وجہ سے تمہارے لیے جو ایمان رکھتے ہیں وہ انمول ہے‘‘ (1۔ پطرس2:7)۔

I۔ اوّل، وہ کون ہیں جو ایمان رکھتے ہیں؟ اشعیا 53:3 .

II۔ دوئم، مسیح کیوں اُن کے لیے انمول ہے جو ایمان رکھتے ہیں؟ 1 کرنتھیوں1:30۔31 .