Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

آج انجیل کی تبلیغ اِس قدر کم کیوں ہے؟

?WHY SO LITTLE GOSPEL PREACHING TODAY
(Urdu)

ڈٓاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 26 جنوری، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, January 26, 2014

’’مجھ پر افسوس ہے اگر میں اِنجیل کی منادی نہ کروں‘‘ (1۔ کرنتھیوں 9:16).

وہ پولوس رسول کے الفاظ ہیں۔ اُس نے مسیح کی خوشخبری کی تبلیغ کو انتہائی شدت سے محسوس کیا تھا۔ اور اپنی تمام منادی میں وہ تسلسل کے ساتھ انجیل کی تبلیغ کرتا رہا۔ میتھیو ہنریMathew Henry نے کہا، ’’وہ جنہیں منادی کے عہدے پر متعین کیا گیا ہے یہ اُن کے اختیار میں ہوتا ہے کہ انجیل کی تبلیغ کریں۔ مجھ پر افسوس ہے اگر میں انجیل کی منادی نہ کروں۔‘‘ مذید اور تفصیل کے بغیر، میں واعظ کا آغاز کروں گا۔

بے شمار لوگوں نے مجھ سے آج انجیل کی منادی کی قلت کے بارے میں شکایت کی ہے۔ اُنہوں نے مجھے بتایا کہ اُنہوں نے اپنے گرجہ گھروں میں مسیح کی خوشخبری پر مکمل واعظ کبھی بھی نہیں سُنے۔ وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کیوں منادی کرنے والے صلیب پر مسیح کے بچانے والے عمل کے بارے میں واعظ نہیں دیتے۔ اور میں اس سوال پر بے انتہا شدت کے ساتھ سوچتا رہا ہوں – کیوں اِس قدر کم پاسبان خوشخبری کی منادی کرتے ہیں؟ خود میں نے کئی سال سے کسی مقامی گرجہ گھر کے پاسبان کو انجیل کی منادی کرتے ہوئے نہیں سُنا! میرے خیال میں اِس کی بے شمار وجوہات ہیں – اور اِس واعظ میں مَیں اُن میں سے دو کو پیش کرنے جا رہا ہوں۔

I۔ اوّل، بائبل پیشن گوئی کرتی ہے کہ مسیح کو آخری ایام میں زیادہ تر گرجہ گھروں میں سے نکال باہر کیا جائے گا۔

مکاشفہ 3:14۔22 لودیکیہ کی کلیسیا کا بیان کرتی ہے۔ یہ آخری ایام میں مغربی دُنیا میں گرجہ گھروں کی قطعی طور پر تصویر پیش کرتی ہے۔ جے اے۔ سائیس J.A. Seiss نے کہا، ’’کیا کوئی آدمی ہمارے زمانے کے اقراری گرجہ گھر کو بمشکل تنقیدی نظر سے دیکھ سکتا ہے، اور کہہ سکتا ہے کہ ہم لودیکیہ کے زمانے میں نہیں پہنچ چکے ہیں؟‘‘ (جے۔ اے ۔ سائیس J. A. Seiss، قیامت The Apocalypse، ژونڈروان پبلیشنگ ہاؤس Zondervan Publishing House، n.d.، صفحہ 85)۔

ڈاکٹر جان ایف۔ والوورد Dr. John F. Walvoord نے کہا، ’’آج کی کلیسیا... بہت سے پہلوؤں میں افسوس کے ساتھ لودیکیہ کی کلیسیا کی روحانی حالت کے مماثل ہے‘‘ (جان ایف۔ والوورد ٹی ایچ۔ ڈی۔ John F. Walvoord, Th.D.، یسوع مسیح کا مکاشفہ The Revelation of Jesus Christ، موڈی پریس Moody Press، 1966، صفحہ95)۔

ڈاکٹر لیحمن سٹراس Dr. Lehman Strauss نے کہا، ’’کیونکہ آخری ایام میں لودیکیہ کی کلیسیا کے زیادہ تر حصے مسیح پر دعویٰ نہیں کرتے تھے… مسیحیت کی تباہی پر مہر لگ چکی ہے۔ آخری ایام کے انسان کی کلیسیا منہ سے اُگلی ہوئی ایک کلیسیا ہے‘‘ (لیحمن سٹراس، ڈی۔ڈی۔ Lehman Strauss, D.D.، مکاشفہ کی کتاب The Book of Revelation، لوئی زیاکس برادرز Loizeaux Brothers، ایڈیشن 1982، صفحات 104، 105)۔

ڈاکٹر جے۔ ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee نے کہا، ’’ہم لودیکیہ کی کلیسیا کے زمانے میں رہ رہے ہیں… یہ انتہائی زیادہ نام نہاد کہلائے جانے والے بنیاد پرستی سے تعلق رکھنے والے قدامت پسند گرجہ گھروں کی حالت ہے... میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ اگر [مسیح] آج بے شمار گرجہ گھروں سے کلام کرتا، وہ کہے گا، ’تم مجھے ابکائی دلاتے ہو… تم کہتے ہو تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔ تم یہ کہتے ہو، لیکن تمہارا یہ مطلب ہوتا نہیں‘… میرے دوست، آج ہم لودیکیہ کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں... یہ وہ کلیسیا ہے جس کے بارے میں سٹینلے ہائی Stanley High نے بات کی تھی جب اُس نے کہا:

     گرجہ گھر مجھے یہ بتانے میں ناکام رہا ہے کہ میں ایک گنہگار ہوں۔ گرجہ گھر مجھے تنہا یسوع مسیح میں نجات کی پیشکش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ گرجہ گھر مجھے گناہ کے ہولناک نتائج، جہنم کی یقنینت اور اِس حقیقت کو کہ یسوع مسیح تنہا مجھے بچا سکتا ہے بتانے میں ناکام رہ چکا ہے‘‘ (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، 1983، تھامس نیلسن پبلیشرز، جلد پنجم، صفحات922، 923، 924، 925؛ مکاشفہ 3:14۔19 پر غور طلب باتیں؛ سٹینلے ایچ۔ ہائی ریڈرز ڈائجسٹ The Reader’s Digest کا سینئیر ایڈیٹر اور ایک مسیحی مصنف تھا۔ مسٹر ہائی کا درج بالا بیان ٹائم میگزین Time Magazine میں اگست 1947 کو چھپا تھا)۔

ہمارے زمانے کے لودیکیائی گرجہ گھروں میں مسیح کہاں ہے؟ اِس کو مکاشفہ 3:20 میں بیان کیا گیا ہے،

’’دیکھ! میں دروازہ پر کھڑا ہُوں اور کھٹکھٹا رہا ہُوں۔ اگر کوئی میری آواز سُن کر دروازہ کھول دے گا تو میں اندر داخل ہوکر اُس کے ساتھ کھانا کھاؤں گا اور وہ میرے ساتھ‘‘ (مکاشفہ 3:20).

اِس لودیکیائی دور میں مسیح کو اُس کے گرجہ گھروں میں سے نکال باہر کیا گیا ہے۔ وہ باہر کھڑا ہوا ہے، گرجہ گھر کے دروازے پردستک دے رہا ہے، کیونکہ اُس کو باہر نکال دیا گیا ہے! ڈاکٹر چارلس سی۔ رائیری Dr. Charles C. Ryrie نے کہا، ’’کتنا ناقابل یقین کہ مسیح کو خود اُس کے اپنے گرجہ گھر سے نکال باہر کر دیا جانا چاہیے!‘‘ (چارلس سی۔ رائیری، ٹی ایچ۔ ڈی۔، پی ایچ۔ ڈی۔ Charles C. Ryrie, Th. D., Ph. D.، رائیری کا مطالعۂ بائبل The Ryrie Study Bible، موڈی پریس، اشاعت 1978، صفحہ1900؛ مکاشفہ 3:20 پر غور طلب بات)۔

غور کریں کہ مکاشفہ 3:20 مسیح کے بارے میں انسان کے دِل میں داخل ہونے کی بات نہیں کرتی ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر رائیری نے غور کیا، اُس کو اُس کے گرجہ گھر میں سے نکال باہر کیا گیا ہے، انسان کے دِل میں سے نہیں۔ یہی ہے جس کے بارے میں مکاشفہ3:20 بات کر رہی ہے۔ یہ اِس حصے کے متن میں واضح ہے، جو کہ اِن الفاظ کے ساتھ اختتام پزیر ہوتا ہے، ’’جس کے کان ہوں وہ سُنے کہ پاک روح کلیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔‘‘

اِس لیے ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے کہ اِس لودیکیائی زمانے میں آخری ایام میں مسیح کی انجیل کی منادی اِس قدر کم کیوں ہے! ڈاکٹر مائیکل ہارٹن Dr. Michael Horton نے ایک دِل میں یاد رہ جانے والی کتاب باعنوان مسیح کے بغیر مسیحیت Christless Christianity لکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ زیادہ تر ہمارے گرجہ گھر ’’اپنی مدد آپ‘‘ کے پیغام کی منادی کرتے ہیں، بجائے اِس کے کہ مسیح کی انجیل کی منادی کریں۔ اُنہوں نے اپنے اِس نقطے کو ثابت کرنے کے لیے ایک بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کے واعظوں کے عنوانات کا حوالہ دیا:

’’خود اپنے بارے میں خود کیسے اچھا محسوس کیا جائے‘‘
’’نفسیاتی دباؤ پر کیسے قابو پایا جائے‘‘
’’ایک کامیاب اور بھرپور زندگی کیسے پائی جائے‘‘
’’پیسے کو استعمال کرنا سیکھیں بجائے اِس کے کہ وہ آپ کو استعمال کرے‘‘
’’کامیاب خاندانی زندگی گزارنے کے راز‘‘
’’ذہنی دباؤ پر کیسے قابو پایا جائے،‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
(مائیکل ہارٹن، پی ایچ۔ ڈی۔ Michael Horton, Ph.D.، مسیح کے بغیر مسیحیت:
امریکی گرجہ گھر کی متبادل انجیل Christless Christianity: The Alternative Gospel of the American Church، بیکر بُکس Baker Books، 2008، صفحہ49)۔

میں نے نتیجہ نکالا کہ پہلی وجہ یسوع کے کاموں – صلیب پر اُس کی موت، اُس کے خون کا فدیہ، اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا، اُس کی دوسری آمد، وغیرہ۔ – پر اِس قدر کم منادی کی جاتی ہے یہ ہے کہ ہم آخری ایام کے لودیکیائی کلیسیا کے اِرتداد میں زندگی گزار رہے ہیں، جس کا تزکرہ بائبل کی پیشن گوئی میں کیا گیا۔ ڈاکٹر میگی Dr. McGee نے کہا،

     لودیکیہ کی کلیسیا کے لیے خداوند یسوع نے کہا، ’’پس چونکہ تُونہ گرم ہے نہ سرد بلکہ نیم گرم ہے، اِس لیے میں تجھے اپنے منہ سے نکال پھینکنے کو ہوں‘‘ (آیت 16)۔ یہ ایک مُرتد کلیسیا ہے جس نے مسیحی ہونے کا اقرار کیا مگر حقیقت کا فقدان ہے۔ (میگی، ibid.، صفحہ 926)۔

2 تیموتاؤس کے چوتھے باب میں اپنے عظیم انبیانہ حوالے میں پولوس رسول نے کہا،

’’کیونکہ ایسا وقت آرہا ہے کہ لوگ صحیح تعلیم کی برداشت نہیں کریں گے بلکہ اپنی خواہشوں کے مطابق بہت سے اُستاد بنالیں گے تاکہ وہ وہی کچھ بتائیں جو اُن کے کانوں کو بھلا معلوم ہو۔ وہ سچائی کی طرف سے کان بند کر لیں گے اور کہانیوں کی طرف توجہ دینے لگیں گے۔ مگر تُو ہر حالت میں ہوشیار رہ، دُکھ اُٹھا، مُبشّر کا کام انجام دے اور اپنی خدمت کو پورا کر‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:3۔5).

یہ کہنے کے بعد، ’’وہ سچائی کی طرف سے اپنے کان بند کر لیں گے،‘‘ اُس نے کہا، ’’مبشر کا کام سر انجام دے۔‘‘ کسی اور بات کی انتہائی شدت کے ساتھ ضرورت نہیں ماسوائے مضبوط، عالمانہ انجیلی بشارت کے واعظوں کی، اُن ہزاروں کی مانند جن کی 19ویں صدی میں سپرجیئن نے منادی کی! اوہ، کس قدر اِس نسل کو اِس مایوس کُن وقت میں اُس قسم کی منادی کی ضرورت ہے! مجھے اِس بات کی پرواہ نہیں ہے اگر امریکہ میں ہر دوسرا منادی کرنے والا مسیحیوں کوجھوٹے آیت بہ آیت اسباق دے! اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیا کرتے ہیں، میں اپنے خُداوند یسوع مسیح کی انجیل کی منادی کرتے رہنا جاری رکھوں گا!

’’مجھ پر افسوس ہے اگر میں اِنجیل کی منادی نہ کروں‘‘ (1۔ کرنتھیوں 9:16).

مجھے آسمان میں ان دیکھی چیزوں کی کہانی بتانے سے محبت ہے،
   یسوع اور اُس کے جلال کے بارے میں، یسوع اور اُس کی محبت کے بارے میں۔
مجھے کہانی بتانے سے محبت ہے کیونکہ میں جانتی ہوں یہ سچی ہے؛
   یہ میری چاہت کو تسلی دیتی ہے جسے کوئی اور بات تسلی دے ہی نہیں سکتی۔
مجھے کہانی بتانے سے محبت ہے، یہ جلال میں میرا مرکزی موضوع ہوگا
   یسوع اور اُس کی محبت کی پرانی، اور پرانی کہانی کو بتانا۔
(’’مجھے کہانی بتانے سے محبت ہے I Love to Tell the Story‘‘ شاعرہ اے۔ کیتھرین ھینکی A. Catherine Hankey، 1834۔1911)۔

’’مجھ پر افسوس ہے اگر میں اِنجیل کی منادی نہ کروں‘‘ (1۔ کرنتھیوں 9:16).

II۔ دوئم، ’’گنہگار کی دعا‘‘ نے مسیح کی انجیل کی منادی کو ناکارہ، پرانی طرز کا اور جیسے اِس کی ضرورت نہیں ہے بنا دیا ہے – ایسا ’’جدید‘‘ منادی کرنے والے کہتے ہیں!

اگر آپ کو صرف یہی کرنے کی ضرورت ہے کہ لوگوں سے ’’گنہگار کی دعا‘‘ پڑھنے کے لیے کہیں تب انجیل کی منادی کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ’’گنہگار کی دعا‘‘ کے اِس ’’جدید‘‘ طریقہ کار پر انحصار کرنے کے اب مسیح کی انجیل کی منادی کرنے کی جگہ لے لی ہے! اگر آپ سوچتے ہیں کہ یہ ایک مبالغہ آرائی ہے، تو سُنیں 1993 میں جیک ھائیلز Jack Hyles نے کیا لکھا،

     اعمال کی کتاب میں نئے عہد نامے کی کلیسیا ایک بشروں کو جیتنے والی کلیسیا تھی۔ گزرتے سالوں کے دوران ہم نے بشروں کو جیتنے کو انجیلی بشارت کو پھیلانے میں منتقل کر دیا، اور انہی بے شمار صدیوں کے دوران، انجیلی بشارت کی کلیسیاؤں پر زور دیا جاتا رہا ہے۔
     اب بشروں کے جیتنے والے گرجہ گھر اور انجیلی بشارت کے گرجہ گھروں میں کیا فرق ہے؟ انجیلی بشارت کے گرجہ گھر میں پادری منبر کے پیچھے کھڑا ہوتا اور غیر نجات یافتہ لوگوں کے لیے منادی کرتا ہے جن کو لوگ گرجہ گھر کے لیے لاتے ہیں۔ بشروں کو جیتنے والے گرجہ گھر میں، لوگ گرجہ گھر سے جاتے ہیں اور باہر شاہراہوں اور باڑھوں میں جاتے ہیں، اور اُنہیں مسیح کے لیے مناتے ہیں، اُنہیں گرجہ گھر کے لیے لاتے ہیں کہ نشستوں کی قطار کے مابین چل کر جائیں نجات کا عوامی اقرار کریں۔ ہماری نسل میں، ہم نے اچھے اچھے گرجہ گھروں کو انجیلی بشارت کے گرجہ گھروں سے بشروں کو جیتنے والے گرجہ گھروں میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا ہے... یہ خُدا کے بندے کو خُداوند کے دِن پر مسیحی لوگوں کو منادی کرنے کے قابل بناتا ہے، احساس دلاتا ہے کہ وہ جائیں گے... اور لوگوں کو مسیح کے پاس لائیں گے (جیک ھائیلز، ڈی۔ڈی۔ Jach Hyles, D.D.، بشروں کو جیتنے کے دشمن Enemies of Soul Winning، ھائیلز اینڈرسن پبلیشرز Hyles-Anderson Publishers، 1993، صفحہ140، 141)۔

جو اُن کا مطلب ہے وہ بالکل واضح ہے، کیا یہ نہیں ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ ’’اچھے اچھے گرجہ گھروں‘‘ میں انجیلی بشارت کے واعظ اب مذید اور نہیں ہوتے ہیں۔ لوگ باہر جاتے ہیں اور کھوئے ہوئے لوگوں کو ’’گنہگار کی دعا‘‘ پڑھنے کے لیے کہتے ہیں اور پھر اُنہیں گرجہ گھر میں ’’نشستوں کے درمیان میں سے چلنے‘‘ کے لیے لاتے ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے عہد نامے کی کلیسیاؤں نے یہ کیا (ibid.، صفحہ140)۔ میں دیکھنا چاہوں گا کہ کوئی بھی اعمال کی کتاب میں سے یہ ثابت کرے! ماسوائے ایک کے اعمال کی کتاب میں ہر واعظ ایک انجیلی بشارت کا واعظ ہے! یہ بالکل درست ہے، ہر واعظ ماسوائے ایک کے جو اعمال کی کتاب میں درج ہیں انجیلی بشارت کے واعظ ہیں! اعمال 20:18۔35 واحد مثتثنیٰ قرار دیا جاتا ہے! وہ ایک واعظ پولوس کے ذریعے سے افسیوں کی کلیسیا کے ’’بزرگوں‘‘ کو دیا گیا تھا۔ اور یہاں تک کہ اُس ایک واعظ میں، اُس نے اُن انجیلی بشارت کے واعظ کی بات کی جو وہ کھوئے ہوئے لوگوں کو دیتا رہا تھا، ’’یہودیوں اور یونانیوں دونوں کے سامنے گواہی دیتا رہا کہ وہ خدا کے حضور میں توبہ کریں اور ہمارے یسوع پر ایمان لائیں‘‘ (اعمال 20:21)۔ اور اعمال کی کتاب میں ہر دوسرا واعظ ایک انجیلی بشارت کا واعظ ہے – بشمول پینتیکوست کے موقعے پر پطرس کا واعظ (اعمال 2:14۔40)؛ شریعت کے عالمین کے سامنے پطرس کا واعظ (اعمال4:5۔12)؛ ستیفنس کا واعظ (اعمال7:1۔53)؛ فلپس کا سامریہ میں واعظ (اعمال8:5)؛ پولوس کا واعظ اُس کی تبدیلی کے بعد (اعمال9:20۔22)؛ غیر قوموں کے لیے پطرس کا واعظ (اعمال10:34۔43)؛ پسدیہ کے شہر انطاکیہ میں پولوس کا واعظ (اعمال13:14۔41)؛ اتھینے میں پولوس کا واعظ (اعمال17:22۔31)؛ وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے یہ بھی پڑھا کہ پولوس نے عوام میں بھی اور گھر گھر جا کر بھی خوشخبری سُنائی (اعمال20:20۔21)۔ اعمال کی کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ رسول ہیکل میں اور مخلتف گھروں میں انجیلی بشارت کی خوشخبری سُناتے رہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ اُنہیں ’’یسوع مسیح کی خوشخبری سُنانے اور تعلیم دینے سے باز نہ آئے‘‘ (اعمال5:42)۔ لہذا جیک ھائیلز سراسر غلط تھے جب اُنہوں نے لکھا کہ ’’اعمال کی کتاب میں نئے عہد نامے کی کلیسیا‘‘ انجیلی بشارت کی منادی کرنے سے تعمیر نہیں ہوئی تھی (ھائیلز، ibid.، صفحہ 140)۔ اور جیک ھائیلز سراسر غلط تھے جب اُنہوں نے کہا کہ ’’اچھے اچھے گرجہ گھروں‘‘ میں پاسبانوں نے خُداوند کے دِن پر مسیحی لوگوں سے بات کرنے کے لیے انجیلی بشارت کی خوشخبری سُنانے سے منہ پھیر لیا تھا‘‘ (ھائیلز، ibid.، صفحہ141)۔

مگر ایک اور بات جو جیک ھائیلز کے بیان میں انتہائی دلچسپ ہے وہ یہ ہے کہ یہ بالکل واضح طور پر ظاہر کرتی ہے ’’گنہگار کی دعا‘‘ نے انجیلی بشارت کی خوشخبری سُنانے کی جگہ لے لی ہے! ادھر اُدھر بھاگنے اور لوگوں کو ’’گنہگار کی دعا‘‘ پڑھنے کے لیے کہنے کے تصور نے انجیل کی خوشخبری کی منادی کرنے کو ناکارہ بنا دیا ہے، جس کی اب ضرورت نہیں پڑتی، جو ماضی کا ایک قصہ بن گئی ہے۔ جیسا کہ جیک ھائیلز نے کہا، ’’گزرتے ہوئے سالوں کے دوران ہم بشروں کو جیتنے [لوگوں کو ’گنہگار کی دعا‘ پڑھنے کے لیے کہنے سے] کو انجیل کی خوشخبری سُنانے میں منتقل کر چکے ہیں‘‘ (ھائیلز، ibid.، 140) – اور ھائیلز نے کہا یہ غلط ہے!

ھائیلز ہی واحد نہیں ہے جس نے وہ سوچا تھا۔ یہ انتہائی آسان ہے کہ لوگوں کو ’’اپنا ہاتھ کھڑا کرنے کے لیے‘‘ تیار کیا جائے – یا ’’گنہگارکی دعا‘‘ پڑھائی جائے! مسیح کے بارے میں مکمل واعظوں کی منادی کرنے کی ساری پریشانی سے گزرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیوں نہ صرف ’’خُداوند کے دِن پر مسیحی لوگوں‘‘ کو تعلیم دی جائے – جیسا کہ جیک ھائیلز نے اِسے لکھا؟ اِس لیے آج ہر کوئی جان میک آرتھر John MacAthur سے لیکر جوئیل آسٹین Joel Osteen تک ’’خُداوند کے دِن پر مسیحی لوگوں‘‘ کو تعلیم دیتے ہیں۔ یوں، ہمارے گرجہ گھروں میں نام نہاد کہلائے جانے والی ’’گنہگار کی دعا‘‘ نے انجیل کی خوشخبری کی منادی کرنے کو تباہ کر دیا ہے۔ لیکن مجھے اب بھی پولوس رسول کے ساتھ کہنا چاہیے،

’’مجھ پر افسوس ہے اگر میں اِنجیل کی منادی نہ کروں‘‘ (1۔ کرنتھیوں 9:16).

حال ہی میں مَیں نے سوچ کو اشعتال دلا دینے والا تھامس ولیمسن Thomas Williamson نامی ایک آدمی کا بیان پڑھا۔ اُس نے کہا،

     شاید میں کچھ بھول رہا ہوں، مگر نئے عہد نامے میں مَیں کسی ایک واقعے کے بارے میں نہیں سوچ سکتا جہاں کسی مسیحی نے ایک غیر نجات یافتہ شخص کو ’’اپنے پیچھے محض اِس دعا کے الفاظ کو دھرانے کے لیے کہا ہو، یا اگر تمہیں اِسے با آواز بُلند پڑھتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے، تو پھر محض میرے ساتھ ساتھ خاموشی سے اپنے سر کو جُھکائے ہوئے پیچھے چلے آؤ جبکہ میں دعا کرتا ہوں، اور تم بچائے جاؤ گے‘‘ (تھامس ولیمسن Thomas Williamson، نارتھرن لینڈ مارک مشنری بپتسمہ دینے والے Northern Landmark Missionary Baptist، دسمبر، 2013، صفحہ2)۔

میں مسٹر ولیمسن کو نہیں جانتا، یا وہ کیا ایمان رکھتا ہے۔ لیکن جو اُس نے کہا وہ سوچنے کے قابل ہے جو کہ طویل اور مشکل ہے۔ نئے عہد نامے میں کہیں پر بھی کسی نے بھی کبھی بھی ایک کھوئے ہوئے شخص کی رہنمائی ’’گنہگار کی دعا‘‘ پڑھنے سے نہیں کی! یہ ایک نیا طریقہ ہے – جو کہ بائبل میں نہیں پایا جاتا ہے! اور یہ اِس قدر خطرناک ہے کیونکہ یہ انجیل کی منادی کرنے کو غیر ضروری بناتا ہے – جیسا کہ ہم آج بہت سے گرجہ گھروں میں دیکھتے ہیں!

میرے رفیق کار، ڈاکٹر کرسٹوفر کیگن Dr. Christopher Cagan اور میں نے اگلی ہی شام کمپوٹر پر جوئیل آسٹین کو دیکھا۔ اُنہوں نے کیسے خوش رہنا ہے پر ایک چھوٹی سی اپنی مدد آپ کے تحت گفتگو کی۔ اُنہوں نے بائبل میں سے ایک یا دو آیتوں کا حوالہ دیا، مگر اُنہوں نے کہیں پر بھی مسیح کی خوشخبری کا تزکرہ نہیں کیا – صلیب پر مسیح کے متبادل موت کے بارے میں ایک بھی لفظ نہیں – مسیح کے گناہ کو پاک صاف کر دینے والے خون کے بارے میں ایک بھی لفظ نہیں – مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں – کسی قسم کی بھی خوشخبری کا کوئی تزکرہ نہیں۔ مگرپھر، اپنی گفتگو کے آخر میں – میں نے وہ لفظ بہ لفظ لکھا جو اُنہوں نے کہا – جوئیل آسٹین نےکہا،

ہم کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ آپ کو ایک موقع دیے بغیر کہ یسوع کو اپنی زندگی کا خداوند بنائیں اپنی نشریات کو بند کریں۔ کیا آپ میرے ساتھ دعا کریں گے؟ صرف کہیں، ’’خداوند یسوع، میں اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔ میرے دِل میں آ۔ میں تجھے اپنا خداوند اور نجات دہندہ بناتا ہوں۔‘‘ دوستوں، اگر آپ یہ سادہ سی دعا پڑھتے ہیں، تو ہم یقین کرتے ہیں کہ آپ نئے سرے سے جنم لے چکے ہیں۔

وہ شاید یقین کر سکتا ہے کہ وہ ’’نئے سرے سے جنم لے چکے،‘‘ لیکن میں نہیں کرتا ہوں! کوئی بھی اُس دعا کو پڑھنے سے دوبارہ ’’جنم لیتا‘‘ ہی نہیں – کوئی بھی نہیں! وہ کیسے لے سکتے ہیں؟ اُس دعا میں کوئی خوشخبری نہیں تھی – تھی ہی نہیں! چونکہ اُن کے واعظ میں کوئی خوشخبری سرے سے تھی ہی نہیں، مسٹر آسٹین نے مسیح کے بغیر ایک واعظ دیا تھا اور ایک ’’گنہگار کی دعا‘‘ جس میں خوشخبری کا تزکرہ تک نہیں تھا! کہیں یسوع کا صلیب پر گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرنے کا تزکرہ نہیں تھا – جو کہ خوشخبری کا انتہائی دِل ہے۔ کہیں مسیح کے گناہ کو پاک صاف کرنے والے خون کا تزکرہ نہیں تھا۔ کہیں بھی اُس کے مُردوں میں سے جسمانی طور پر زندہ جی اُٹھنے کا تزکرہ نہیں تھا۔ دوسرے لفظوں میں، کہیں پر بھی سرے سے خوشخبری کا تزکرہ تھا ہی نہیں (1 کرنتھیوں15:1۔4)۔ یہ ایک تیزی سے پڑھی جانے والی جھوٹی خوشخبری ہے – جو مسیح کی خوشخبری نہیں ہے! یوں، آسٹین اُس کی منادی کرتا ہے جس کے بارے میں پولوس رسول نے کہا، ’’دوسری خوشخبری،‘‘ مسیح کی خوشخبری نہیں (گلیتیوں1:6، 7)۔ لیکن میں اب بھی کہتا ہوں،

’’مجھ پر افسوس ہے اگر میں اِنجیل کی منادی نہ کروں‘‘ (1۔ کرنتھیوں 9:16).

مجھے کہانی بتانے سے محبت ہے، اِس کو دھرانا خوشگوار ہوتا ہے
   ہر مرتبہ یوں لگتا ہے جب میں اِسے بتاتی ہوں، کہ حیرت ناک طور پر اور میٹھی ہو گئی۔
مجھے کہانی بتانے سے محبت ہے کیونکہ کچھ نے تو کبھی بھی نہیں سُنی
   خود خُدا کے پاک کلام سے نجات کا پیغام۔
مجھے کہانی بتانے سے محبت ہے، یہ جلال میں میرا مرکزی موضوع ہوگا
   یسوع اور اُس کی محبت کی پرانی، اور پرانی کہانی کو بتانا۔

نسل انسانی شیطان ’’ ہوا کی عملداری کے حاکم‘‘ کے نرغے میں گناہ کی زنجیروں میں قید ہے(افسیوں2:2)۔ ہر کوئی گناہ کی قوت کے تحت ہے، ’’اِس دُنیا میں خُدا کے بغیر نااُمیدی کی زندگی گزار رہا ہے‘‘ (افسیوں2:12)۔

مگر ’’یسوع مسیح گنہگاروں کو بچانے کے لیے دُنیا میں آیا‘‘ (1 تیموتاؤس1:15)۔ یسوع آسمان سے نیچے اُترا اور ہمارے درمیان گناہ کے بغیر رہا، جو کامل طور پر پاک خُدا کا بیٹا ہے – خُدا کا اکلوتا بیٹا۔ لیکن اُس کے مصلوب ہونے سے پہلے اُس ہولناک رات میں گتسمنی کے باغ کی تاریکی میں، خُدا نے اپنے لوگوں کے گناہ کو ’’خود اپنے جسم پر لاد لیا‘‘ (1پطرس2:24)۔ یسوع آپ کے گناہ کے بوجھ تلے جدوجہد کرتا رہا جب تک کہ ’’اُس کا پسینہ خون کی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپکنے نہ لگا‘‘ (لوقا22:44)۔ ہیکل کے سردار آئے اور اُس کو جھوٹے الزامات میں گرفتار کر کے لے گئے۔ وہ اُس کو کھینچتے ہوئے سردار کاہن کے پاس لے گئے۔ اُنہوں نے اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور چہرے پر زدوکوب کیا، جبکہ دوسروں نے اُس کی داڑھی کے بال جڑ سے اُکھاڑ پھینکے۔ وہ اُس کو رومی گورنر پینطُس پیلاطُوس کے پاس لے گئے۔ اُس نے اپنے سپاہیوں سے یسوع کی کمر پر کوڑے لگوائے، جب تک کہ وہ ادھ موا نہ ہو گیا، اُس کا خون زمین میں جذب ہو رہا تھا۔ اُنہوں نے اُس کے منہ پر تھوکا اور چھڑی سے اُس کے سر پر مارا۔ اُنہوں نے اُس کو سڑکوں پر صلیب اُٹھا کر چلنے کے لیے مجبور کیا، جبکہ لوگ اُس پر چلاتے تھے۔ جب وہ سزائے موت کی جگہ پر پہنچے، اُنہوں نے صلیب پر اُس کے ہاتھوں اور پیروں کو کیلوں سے جڑا۔ وہ وہاں پر لٹکا رہا، صلیب پر ننگا، جبکہ ہجوم نے اُس کی نقل اُتاری اور اُس کو ٹھٹھوں میں اُڑایا۔ چھے گھنٹوں تک صلیب پر مصائب برداشت کرنے کے بعد، وہ چلا اُٹھا، ’’پورا ہوا‘‘ (یوحنا19:30)، اور اپنا سر جھکا کر جان دے دی – جب وہ مرا۔ ’’مگر سپاہیوں میں سے ایک نے اپنا نیزہ لیکر اُس کے پہلو میں مارا اور اُس کی پسلی چھید ڈالی جس سے فوراً خون اور پانی بہنے لگا‘‘ (یوحنا19:34)۔ یوسف نامی ایک آدمی نے جو ارمتیا کا باشندہ تھا یسوع کا مُردہ بدن لیا، اُس کو ایک سوتی چادر میں کفنایا اور اُس کو ایک قبر میں رکھا۔ اُنہوں نے قبر کے منہ پر ایک بڑا پتھر رکھ دیا، اور اُس پر مہر لگا دی، اور اُس کی چوکیداری کے لیے رومی محافظ بیٹھا دیے۔ لیکن ایسٹر کے اِتوار کے آغاز ہی میں، خُداوند یسوع مسیح جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھا!

میرے دوستوں، یسوع نے وہ سب کچھ آپ کے لیے کیا۔ وہ اُس صلیب پر آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرا۔ آپ کو آپ کے گناہ کے لیے سزا دی جانی چاہیے – مگر یسوع نے آپ کے متبادل کے طور پر مصائب برداشت کیے اور مرا۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ آپ صرف آپ کی جگہ پر یسوع کی متبادلیاتی موت کے وسیلے سے ہی گناہ سے بچائے جا سکتے ہیں۔ اوراُس نے آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے اپنا خون بہایا۔ اور وہ جسمانی طور پر آپ کو دائمی زندگی دینے کے لیے مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا! یسوع اُس تمام درد اور اذیت سے گزرا کیونکہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے! یسوع کے پاس آئیں۔ وہ آپ سے اِس قدر محبت کرتا ہے کہ وہ آپ کو بچائے گا – بالکل ابھی!

آپ کے پاس کرنے کےلیے کیا رہ گیا ہے؟ خُدا صرف یہ چاہتا ہے کہ آپ توبہ کریں اور اُس کے بیٹے یسوع پر بھروسہ کریں۔ جب آپ توبہ کرتے اور یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں تو آپ گناہ سے بچائے جاتے ہیں، قبر سے بچائے جاتے ہیں، اور خود جہنم سے بچائے جاتے ہیں! یسوع پر ابھی بھروسہ کریں اور وہ اپنے انمول خون کے ساتھ آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کر دے گا!

مجھے اُن کے لیے جو اِسے بہترین طور پر جانتے ہیں کہانی سُنانے سے محبت ہے
   وہ باقی تمام کی مانند اِس کو سُننے کے لیے بے چین اور بے تاب رہتے ہیں۔
اور جب جلال کے مناظر میں مَیں نئے نئے گیت گاتا ہوں،
   تو یہ وہی پرانی کہانی ہوگی جس سے میں نے اتنی مدت سے محبت کی۔
مجھے کہانی سُنانے سے محبت ہے، یہ جلال میں میرا مرکزی موضوع ہوگا
   یسوع اور اُس کی محبت کی پرانی، اور پرانی کہانی کو سُنانا۔

’’مجھ پر افسوس ہے اگر میں اِنجیل کی منادی نہ کروں‘‘ (1۔ کرنتھیوں 9:16).

اگر آپ یسوع کے وسیلے سے اپنے گناہ سے بچائے جانے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہیں تو مہربانی سے اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ مسٹر جان سیموئیل کیگن Mr. John Samuel Cagan آپ کو ایک دوسرے کمرے میں لے جائیں گے جہاں پر ہم دعا اور بات چیت کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ایک مسیحی بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو ابھی اِس کمرے کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھوم
Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: مکاشفہ3:14۔22 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’مجھے کہانی سُنانے سے محبت ہے I Love to Tell the Story‘‘ (شاعرہ اے۔ کیتھرین ھینکی A. Catherine Hankey، 1834۔1911)۔

لُبِ لُباب

آج انجیل کی تبلیغ اِس قدر کم کیوں ہے؟

?WHY SO LITTLE GOSPEL PREACHING TODAY

ڈٓاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’مجھ پر افسوس ہے اگر میں اِنجیل کی منادی نہ کروں‘‘ (1۔ کرنتھیوں 9:16).

I۔ اوّل، بائبل پیشن گوئی کرتی ہے کہ یسوع کو آخری ایام میں زیادہ تر گرجہ گھروں میں سے نکال باہر کیا جائے گا، مکاشفہ 3:20؛ 2تیموتاؤس4:3۔5 .

II۔ دوئم، ’’گنہگار کی دعا‘‘ نے مسیح کی انجیل کی منادی کوناکارہ، پرانی طرز کا اور جیسے اِس کی ضرورت ہی نہیں ہے بنا دیا ہے – ایسا ’’جدید‘‘ منادی کرنے والے کہتے ہیں! اعمال20:21؛ 2:14۔40؛ 4:5۔12؛ 7:1۔53؛ 8:5؛ اعمال9:20۔22؛ 10:34۔43؛ 13:14۔41؛ 17:22۔31؛ 20:20۔21؛ 5:42؛ 1۔کرنتھیوں15:1۔4؛ گلیتیوں1:6، 7؛ افسیوں2:2، 12؛ 1تیموتاؤس1:15؛ 1پطرس2:24؛ لوقا22:44؛ یوحنا19:30، 34 .