Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

راستہ کھولنے والا

THE BREAKER
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 5 جنوری، 2014
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, January 5, 2014

’’کوئی راستہ کھولنے والا اُن کے آگے آگے جائے گا: وہ پھاٹک توڑ کر باہر نکل جائیں گے، اُن کا بادشاہ یعنی خُداوند، اُن کے آگے آگے جائے گا‘‘ (میکاہ 2:‏13)۔

میکاہ نبی نے یہودی لوگوں کودوبارہ اکٹھا کرنے کے بارے میں خُدا کی تین پیشن گوئیاں پیش کیں۔ ہماری تلاوت میں ہمارے پاس وعدے کی سرزمین کے لیے اسرائیل کے دوبارہ اکٹھے ہونے کے بارے میں پہلی تفصیل موجود ہے۔

خود اپنی آنکھوں سے ہم جو ایک عظیم پیشن گوئی دیکھ چکے ہیں وہ ہے اُس دوبارہ اکٹھے ہونے کا آغاز۔ اسرائیل کی قوم نے دوبارہ جنم 14 مئی، 1948 کو لیا تھا۔ ڈیوڈ بِن گوریان David Ben-Gurion نے یہودی ریاست کے قائم ہونے کا اعلان کیا، جس کو اسرائیل کی ریاست کے طور پر جانا گیا۔ اُس وقت سے، ہزاروں لاکھوں یہودی لوگ واپس اپنے مادر وطن کو لوٹے ہیں۔ یہ صرف اُس کا آغاز تھا جو کہ آخرکار تمام یہودیوں کی اسرائیل کے لیے واپسی ہوگی۔ میکاہ کی 12 ویں آیت کہتی ہے،

’’اے یعقوب میں تم سب کو یقیناً اکٹھا کروں گا؛ میں اسرائیل کے بقیہ کو یقیناً جمع کروں گا...‘‘ (میکاہ2:‏12)۔

عظیم مسیحائی یہودی عالم ڈاکٹر چارلس لی فیعین برگ Dr. Charles Lee Feingberg نے کہا، ’’سائرس Cyrus کے ذریعے سے بابل کی بحالی وعدے کو ختم نہیں کرسکتی، کیونکہ یہ جُزوی تھا اور [میکاہ] نے ’تم سب کو‘ شامل کیا ہے۔ دوبارہ اکٹھی ہوئی قوم کو ایک جگہ [اسرائیل] میں لایا جائے گا... 12ویں آیت کا وعدہ بلا شُبہ دِل کو گرمانے والا ہے، لیکن پیشن گوئی کا بہترین حصہ تو ابھی پورا ہونا ہے۔ خُدا کے لوگ بھیڑ کی حیثیت سے دوبارہ اکٹھے کیے جائیں گے... راستہ کھولنے والا، وہ جو راستہ کو صاف کرتا ہے اور رکاوٹوں کو ہٹاتا ہے، اُن کے آگے آگے جائے گا۔ یہ اسرائیل کے مسیحا کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا جو اپنے لوگوں کے راستے میں سے ہر رکاوٹ کو ہٹاتا جاتا ہے... جب مسیحا راستے صاف کرے گا تو وہ دشمنوں کے شہروں سے آزاد ہو جائیں گے جہاں پر اُن کو اسیری میں رکھا گیا تھا اور وہ پھاٹکوں کو توڑ کر پار کر جائیں گے۔ کوئی بھی اُن کی بحالی کو [روکنے] کے قابل نہیں ہوگا، کیونکہ اُن کے وعدہ کیے گئے مسیحا کا کام اُن کی جانب سے خُداوند کے مقدس ترین خداوند مسیح [کے ذریعے] سے مؤثر ہوگا‘‘ (چارلس ایل۔ فیعین برگ، ٹی ایچ۔ ڈی۔، پی ایچ۔ ڈی۔ Charles L. Feingberg, Th.D., Ph.D.، ادنٰی انبیا The Minor Prophets، موڈی پریس Moody Press، 1982 ایڈیشن، صفحہ 162)۔

ڈاکٹر فیعین برگ نے ہمیں بتایا کہ وہ ’’راستہ کھولنے والا‘‘ کون ہے۔ وہ مسیح ہے – جو آخر کار تمام رکاوٹوں اور دشواریوں کو دور کر دے گا، اور اسرائیل کے سارے لوگوں کی رہنمائی واپس اُن کے مادر وطن کے لیے کرے گا! جی ہاں، اُس عظیم دِن ’’راستہ کھولنے والا‘‘ یسوع ہوگا! وہ تمام یہودی لوگوں کے لیے، ہزار سالہ مسیحی کے بادشاہت میں اسرائیل میں واپس آنے کےلیے، دُنیا کے ہر حصے میں سے راستہ صاف کرے گا:

’’کوئی راستہ کھولنے والا اُن کے آگے آگے جائے گا: وہ پھاٹک توڑ کر باہر نکل جائیں گے، اُن کا بادشاہ یعنی خُداوند، اُن کے آگے آگے جائے گا‘‘ (میکاہ 2:‏13)۔

وہ ایک جو راستہ کھولے گا اُن کی ہزار سالہ بادشاہت میں رہنمائی کرے گا – اور اُس کا نام خُداوند یسوع مسیح ہے! آمین! یوحنا رسول نے یسوع کو، اُس دِن کے لیے ’’راستہ صاف کرنے والے‘‘ کی حیثیت سے ایک رویا میں دیکھا تھا،

پھر میں نے آسمان کو کھلا ہُوا دیکھا اور مجھے ایک سفید گھوڑا نظر آیا جس کا سوار باوفا اور برحق کہلاتا ہے۔ وہ صداقت سے اِنصاف کرتا اور لڑتا ہے۔ اُس کی آنکھیں آگ کے شعلوں کی مانند ہیں اور اُس کے سر پر بہت سے تاج ہیں۔ اُس کی پیشانی پر اُس کا نام بھی لکھا ہوا ہے جسے سِوائے اُس کے کوئی اور نہیں جانتا۔ وہ خُون میں ڈُبوئے ہُوئے جامہ میں ملبوس ہے اور اُس کا نام خدا کا کلِمہ ہے۔ آسمانی فوجیں جو سفید گھوڑوں پر سوار ہیں سفید اور صاف کتانی لباس پہنے ہُوئے اُس کے پیچھے پیچھے آرہی ہیں۔ اُس کے مُنہ سے ایک تیز تلوار نکلتی ہے تاکہ وہ اُسے قوموں پر چلائے۔ وہ لوہے کے عصا سے اُن پر حکومت کرے گا۔ وہ اُنہیں قادرِ مُطلق خدا کے قہر کی مَے کے حوض میں انگوروں کی طرح روند ڈالتا ہے۔ اُس کی پوشاک اور ران پر یہ نام لکھا ہُوا ہے بادشاہوں کا بادشاہ، خداوندوں کا خداوند‘‘ (مکاشفہ19:‏11۔16).

اُس دِن کی بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے کہا،

بادشاہتیں گر جائیں گی اور شیطان کی پرانی حکمرانی
   اُس کے تمام آنسوؤں کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔
راستبازی تمام زمین کو بھر دے گی، اور ہزار
   سالوں تک امن کی حکمرانی ہوگی!
دُکھ اور آہیں دور بھاگ جائیں گی!
   اُس جلال کے دِن دور بھاگ جائیں گی!
اُس دِن باغ عدن بحال ہو جائے گا!
   جب یسوع حکمرانی کے لیے آئے گا۔
(’’جب یسوع حکمرانی کے لیے آئے گا When Jesus Comes to Reign‘‘
     شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice‏، 1895۔1980)۔

یسوع، راستہ کھولنے والا، شیطان کو صفحۂ ہستی سے مٹا دے گا! وہ ہر آسیب کو اسرائیل کے ہر دشمن کو اور مسیحیت کے بھی ہر دشمن کو بھی راستے سے صاف کر دے گا! ھیلیلویاہ!

دُکھ اور آہیں دور بھاگ جائیں گی!
   اُس جلال کے دِن دور بھاگ جائیں گی!
اُس دِن باغ عدن بحال ہو جائے گا!
   جب یسوع حکمرانی کے لیے آئے گا۔

لیکن حقیقی معنوں میں یسوع اب بھی ’’راستہ کھولنے والا‘‘ ہے! میرے ساتھ چند لمحوں کے لیے آئیں جب ہم اُس موضوع کے بارے میں سوچتے ہیں اور اُس بارے میں سوچتے ہیں جس کی وجہ سے مسیح ’’راستہ کھولنے والا‘‘ کہلاتا ہے۔

یسوع کے بہت سے تاج ہیں – اور اُس کے بہت سے خطابات بھی ہیں، اور بہت سے نام بھی ہیں۔ ہماری تلاوت میں دیا گیا خطاب – ’’راستہ کھولنے والا‘‘ غالباً سب سے کم جانا جاتا ہے۔ ہم اکثر یسوع کے بارے میں خُدا کے ’’برّے‘‘ کی حیثیت سے سوچتے ہیں۔ کبھی کبھار ہم نے اُس کے بارے میں اپنے ’’سردار کاہن‘‘ کے طور پر بھی سوچا ہے۔ اکثر اُس کو ’’نبی‘‘ کہا جاتا رہا ہے، اور اِس سے بھی زیادہ اکثر ’’بادشاہ‘‘ کی حیثیت سے کہا جاتا رہا ہے۔ مگر صرف بہت کم ہی ہم نے کسی کو مسیح کو ’’راستہ کھولنے والا‘‘ کہتے ہوئے سُنا ہے۔ اور اِس کے باوجود وہ اتنا ہی آج کی صبح ’’راستہ کھولنے والا‘‘ ہے جتنا کہ وہ ہوگا، جب وہ یہودی لوگوں (اُن تمام) کی اُن کے قدیم مادر وطن میں واپس رہنمائی کرنے کے لیے دوبارہ آئے گا – جو کہ اُنہیں ابراہام کے زمانے میں (حوالہ دیکھیں پیدائش12:‏1؛ پیدائش15:‏18؛ وغیرہ) خُدا کی طرف سے غیر مشروط طور پر دیا گیا تھا۔ یسوع ہر اُس زنجیر کو توڑ دے گا جس نے اُنہیں باندھ رکھا ہے؛ وہ ہر اُس قوم کو توڑ دے گا جو اُنہیں روکنے کی کوشش کرے گی؛ اور جی ہاں، وہ ہمیشہ کے لیے یہودی لوگوں کو تباہ کرنے کی شیطان کے مقصد کو توڑ دے گا!

مگر یسوع اب بھی ’’راستہ کھولنے والا‘‘ ہے – اِس لیے اُسے ’’راستہ کھولنے والا‘‘ کہنا اتنا ہی درست ہے جتنا کہ اُسے ’’نجات دہندہ‘‘ کہنا درست ہے! آمین! اور آمین! آئیے کچھ طریقوں کے بارے میں سوچتے ہیں کہ اِس موجودہ زمانے میں – بالکل ابھی یسوع ’’راستہ کھولنے والا‘‘ ہے۔

I۔ اوّل، یسوع نے شیطان کی قوت کو توڑا۔

گذشتہ طویل زمانوں میں شیطان نے خُدائے قادر مطلق کے خلاف بغاوت کی آسمان سے نکال کر زمین پر بھیج دیا گیا۔ وہ سانپ کی شکل میں آیا اور ہماری پہلی ماں کو دھوکہ دیا، اور اُس نے بدلے میں آدم کو دھوکہ دیا، جس نے منع کیا ہوا پھل کھا لیا۔ یوں شیطان نے تمام نسل انسانی کو اپنی مہلک قوت کے شکنجے میں جکڑ لیا۔ چھٹکارے کی کوئی اُمید دکھائی نہیں دیتی تھی۔ لیکن خُدا نے نوع انسانی سے ایک وعدہ کیا جب اُس نے اُس بوڑھے سانپ سے کہا، ’’میں تیرے اور عورت کے درمیان، تیری نسل اور اِس کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا؛ وہ تیرا سر کچلے گی اور تو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا‘‘ (پیدائش3:‏15)۔

زمانے گزرتے گئے، اور پھر، آخرکار، عورت کی وہ نسل بیت الحم میں مریم سے پیدا ہوئی، اور جلد ہی یسوع نے شیطان کے ساتھ اپنی کشمکش شروع کر دی۔ اُسی وقت ہیرودیس بادشاہ نے شیطان سے متاثر ہو کر، اُسے [یسوع] قتل کرنے کی کوشش کی! پھر بیابان میں تین مرتبہ، شیطان نے نجات دہندہ کو زمین پر پٹخنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن تینوں ہی مرتبہ یسوع نے یہ چلا کر اُسے پیچھے دھکیل دیا، ’’یہ لکھا ہے‘‘– ’’یہ دوبارہ لکھا ہے‘‘– ’’کیونکہ یہ لکھا ہے۔‘‘ یہ ایک مشکل جنگ تھی – لیکن آخر کار، یسوع، راستہ کھولنے والے نے جنگ جیت لی۔ ’’اِس پر ابلیس اُسے چھوڑ کر چلا گیا اور فرشتے آ کر اُس کی خدمت کرنے لگے‘‘ (متی4:‏11)۔

جب آخری مرتبہ یسوع یروشلم کے لیے آیا تھا، تو ابلیس نے نجات دہندہ کے خلاف اپنی تمام طاقتیں یکجا کر لی تھیں۔ سردار کاہنوں اور شریعت کے عالمین نے یسوع کو قتل کرنے کے لیے منصوبہ بنایا، ’’پھر یہودہ میں شیطان داخل ہوا‘‘ اور وہ سردار کاہنوں کے پاس یہ طے کرنے کے لیے گیا کہ اُسے نجات دہندہ کو کیسے دھوکہ دینا ہوگا۔ بعد میں اُس رات، یسوع گتسمنی کے باغ میں گیا۔

میں سوچا کرتا تھا کہ ابلیس نے اُس باغ میں یسوع کو مارنے کی کوشش کی تھی۔ اِس کے باوجود میں ہمیشہ تعجب کیا کرتا کہ کیوں یہودہ میں داخل ہونے کے بعد شیطان کا تزکرہ کبھی بھی نہیں کیا گیا ہے۔ دوبارہ پھر کبھی چاروں اناجیل میں اُس کے بارے میں کبھی نہیں سُنا گیا۔ میں سوچتا ہوں کہ وجہ یہ ہو سکتی ہے: جب خُدا نے دُنیا کے گناہ یسوع کے بدن پر لاد دیے، تو نجات دہندہ کا ’’پسینہ خون کی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپکنے لگا‘‘ (لوقا22:‏44)۔ ابلیس مسیح کے خون پر نظر ڈالنے کی ہمت نہیں کر سکتا، اِس لیے اُس نے اُسے تنہا چھوڑ دیا، ’’اور آسمان سے ایک فرشتہ اُس پر ظاہر ہوا جو اُس کو تقویت دیتا تھا‘‘ (لوقا22:‏43)۔ مکاشفہ کی کتاب میں جب شیطان کی طرف سے حملہ کیا گیا، تو قیامت پر یقین کرنے والے ’’برّے کے خون کی بدولت اُس پر غالب آئے‘‘ (مکاشفہ12:‏11)۔ میرے خیال میں گتسمنی کے باغ میں بھی یہی معاملہ تھا۔ ابلیس یسوع کو مارنے کے لیے اپنی بدترین کوشش کر رہا تھا۔ لیکن جب اُس نے وہ خون دیکھا جو یسوع نے بہایا تھا، تو وہ واپس تاریکی میں چھپ گیا۔ جب آپ شدید آزمائش میں پڑتے ہیں تو یہ یاد رکھیں۔ خون کی التجا کریں! خون کی التجا کریں! یسوع مسیح کے خون کی التجا کریں!

باغ میں کشمکش ختم ہو گئی تھی۔ یسوع وہاں سے آگے عظیم وقار اور طمانیت کے ساتھ صلیب کے لیے گیا۔ شیطان نے مسیح کی ایڑی کو زخمی کیا تھا، مگر اب مسیح نے اُس کے سر کو کُچل دیا تھا۔ صلیب پر، منجی نے اپنے سر کو جھکایا اور پکار کر زور سے کہا، ’’پورا ہوا‘‘ (یوحنا19:‏30)۔ شیطان کا سر کچلا گیا تھا۔ وہ اب ایک شکست خوردہ دشمن تھا۔ وہ زمیں پر بُرائی کر سکتا تھا، لیکن وہ اب مذید مسیح کو شکست نہیں دے سکتا۔ اُس کے خون بہانے کے وسیلے سے، اور اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلے سے، یسوع نے شیطان کی قوت کو توڑ دیا تھا۔ جب اُس نے اپنا قیمتی خون صلیب پر بہایا تھا اور جسمانی طور پر، گوشت اور ہڈیوں کے ساتھ مُردوں میں سے جی اُٹھا، تو اُس نے ابلیس کے سر کو کُچل دیا تھا، اُس نے ابلیس کی قوت کو توڑا تھا جب اُس نے گناہ، جہنم اور قبر پر فتح پائی! جب آپ پر دھونس جمائی جاتی ہے اور شیطان کی قوت سے آزمایا جاتا ہے، تو مایوس مت ہوں، میرے مسیحی دوست، آپ کا دشمن ایک ٹوٹا ہوا دشمن ہے، اور اِس پر ایک مذبذب اور زیر کیا ہوا دشمن ہے!

یسوع ہر کڑی کو توڑتا ہے،
   یسوع ہر کڑی کو توڑتا ہے،
یسوع ہر کڑی کو توڑتا ہے،
   اور وہ مجھے آزاد کرتا ہے!
(’’یسوع ہر کڑی کو توڑتا ہے Jesus Breaks Every Fetter‘‘ شاعر جینی ویسٹ میٹزگار
     Janie West Metzgar‏، 1927)۔

اگر آپ ایک مسیحی ہیں تو آپ کو شیطان سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ایک ٹوٹا ہوا حریف ہے، ایک بدنصیب دشمن ہے جس کے دانت توڑے جا چکے ہیں! وہ آپ کو پریشان کر سکتا ہے، اور چھیڑ سکتا ہے، مگر وہ آپ کو تباہ نہیں کر سکتا! مسیح، جو راستہ کھولنے والا ہے آپ کے آگے جا چکا ہے۔ اب آپ کو صرف ایک ایسے دشمن کے خلاف لڑنا ہے جو پہلے سے ہی ہارا ہوا ہے۔ وہ مسیحیوں کے لیے ہے۔ اور باقی تمام آپ کے لیے ہے جو اب بھی کھوئے ہوئے ہیں۔

II۔ یسوع گنہگاروں کے دِلوں کو کھولتا ہے۔

کھوئے ہوئے گنہگاروں کے دِل بہت سخت ہوتے ہیں۔ میں گناہ، جہنم اور قیامت پر تبلیغ دیتا ہوں۔ گنہگار ایک لمحے کو تو کپکپا جاتا ہے – لیکن گرجہ گھر کی عمارت چھوڑنے سے پہلے وہ اپنے آنسو پونچھ ڈالتا ہے۔ جس وقت تک وہ گاڑیوں کو کھڑا کرنے کی جگہ تک پہنچتا ہے تو مسکرا اور ہنس رہا ہوتا ہے، ایک یا دو گھنٹوں کے بعد نئے گناہ سرزد کرنے کے لیے برق رفتاری سے جاتا ہے! قانون اور جہنم کی ہولناکیاں صرف اُس کے دِل کو سخت کرتی ہیں۔

کسی دوسرے وقت میں خُدا کی محبت، یا ہمارے گناہوں کے لیے نجات دہندہ کے متبادل کے وسیلے سے معافی پر تبلیغ کرتا ہوں۔ میں کبھی کبھار اُس وقت تک منادی کرتا ہوں جب تک کہ میری اپنی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز نہیں ہو جاتیں۔ میں صلیب پر یسوع کے دکھوں پر تبلیغ کرتا ہوں، یا آسمان میں اُس کے قیمتی خون پر تبلیغ کرتا ہوں۔ دوبارہ، آپ کے دِل کو تحریک ملتی ہے۔ لیکن بہت جلد ہی یہ اُتنا ہی بے حس ہو جاتا ہے جتنا ہمیشہ ہوتا ہے، اور آپ جب گرجہ گھر سے پرے جا رہے ہوتے ہیں تو آپ ایک خوش کر دینے والا گیت گا رہے ہوتے ہیں، اور اپنے دوستوں کے ساتھ مسکرا رہے ہوتے ہیں!

آپ میں سے کچھ کی مائیں جب وہ دعا کرتی ہیں تو آپ کے لیے رو رہی ہوتی ہیں، اور اِس کے باوجود آپ کا دِل بے حس ہوتا ہے۔ کچھ کے باپ ہوتے ہیں جو اُنہیں خبردار کرتے ہیں، لیکن یہ آپ کے دِل کو نہیں بدلتا۔ آپ میں سے کچھ کئی مرتبہ ہمارے ساتھی پادری ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan کے سامنے بیٹھ چکے ہیں۔ اُنہوں نے آپ پر اُن نیلی چُبھ جانے والی آنکھوں کے ساتھ نظر ڈالی اور آپ کے ساتھ یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے التجا کی۔ لیکن آپ نے انکار کر دیا۔ آپ اپنی نشست سے اُٹھتے اور چلے جاتے ہیں جیسے کہ وہ کوئی جاہل اور غیر اہم ہستی ہیں! اُس شخص نے دو پی ایچ۔ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی ہوئی ہیں، ایک ریاضی میں اور دوسری معذرت خواہی اور مذہب میں۔ وہ ٹالبوٹ علم الہٰیات کی سیمنری سے ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں! اُن کے پاس کھوئے ہوئے گنہگاروں کی ہدایت و مشاورت کرنے کا تقریباً 40 سال کا تجربہ ہے۔ پھر بھی آپ محسوس کرتے ہیں کہ اُن کے پاس آپ کو کہنے کے لیے اہمیت کی کوئی بات نہیں ہے! آپ اُٹھ جاتے ہیں اور تفتیشی کمرے سے جلدی چلے جاتے ہیں – اور وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں جو اُنہوں نے آپ کو بتایا ہوتا ہے!

میں جب ایک واعظ دینے کے لیے کھڑا ہوتا ہوں، تو میں جانتا ہوں کہ یہاں وہ بھی ہوتے ہیں جو اُس پر جو میں کہتا ہوں چُپکے چُپکے منہ دبا کر ہنستے ہیں – اب اِس قدر زیادہ نہیں کہ میں بوڑھا ہوں۔ لیکن جب میں جوان تھا تو وہ اکثر میرا مذاق اُڑاتے اور مجھ پر قہقہے مارتے۔ اب بھی کچھ ایسے ہیں جو اپنی آنکھوں میں ایک عجیب چمک کے ساتھ آتے ہیں، سوچتے رہے ہوتے ہیں، ’’یہ شخص ہے کون؟ وہ مجھ سے اِس طرح کی چھان بین کرنے کی جرأت کیسے کر سکتا ہے؟‘‘ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ جو میں کہتا ہوں سچ ہے، لیکن وہ خود کو عاجز نہیں کرتے کہ سچائی اُن کو بدل دے، اور اُنہیں یسوع کی طرف کھینچ لے۔

میں اپنی زندگی کا ایک چوتھائی حصہ بہت اچھی طرح سے مسیحیت اور تبدیلی کے گہرے مطالعے میں صرف کر چکا ہوں۔ میں تین ڈاکٹری کی ڈگریاں حاصل کر چکا ہوں، اور تبدیلی پر کئی کتابیں لکھ چکا ہوں، مگر آپ مجھے دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں، ’’یہ اِس کے بارے میں کیا جانتا ہوگا؟‘‘

لیکن جب یسوع وہ ’’راستہ کھولنے والا‘‘ آپ کے پاس آتا ہے، میرے اور ڈاکٹر کیگن سے پہلے، تب گنہگار کے دِل کو کھولنے کا کام آسان ہوتا ہے! ہم اُن کے دِلوں کو کھولنے کے قابل نہیں ہیں، مگر یسوع نے اُنہیں کھول دیا ہے! میں بالکل ابھی ایک خوبصورت لڑکی کے بارے میں سوچ رہا ہوں جو تفتیشی کمرے میں اپنے چہرے پر ہمیشہ ایک انتہائی بدصورت، اور سخت تاثر بنا کر آتی۔ لیکن پھر ایک رات، وہ ایک نرم، ٹوٹے ہوئے تاثر کے ساتھ آئی۔ یسوع، جو دِلوں کو کھولنے والا ہے، اُس کے پاس آ چکا تھا۔ کیوں، پھر، اِس کو اُسے نجات دہندہ تک رہنمائی کے لیے صرف ایک یا دو ہی لمحے لگے! اُس شام، یسوع، جو ’’راستہ کھولنے والا‘‘ ہے اُس [یسوع] نے اِس سے پہلے کہ میں اُس [لڑکی] کو بتاتا اُس کا دِل نرم کر دیا!

یسوع ہر کڑی کو توڑتا ہے،
   یسوع ہر کڑی کو توڑتا ہے،
یسوع ہر کڑی کو توڑتا ہے،
   اور وہ مجھے آزاد کرتا ہے۔

III۔سوئم، یسوع گناہ کی زنجیروں کو توڑتا ہے۔

اِس صبح یہاں اِس گرجہ گھر میں کوئی ہے جو زنجیروں میں ہے۔ وہ اِس کو نہیں جانتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ وہ آزاد ہے۔ مگر وہ ایک قیدی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ وہ کہیں بھی جہاں وہ چاہتا ہے جا سکتا ہے۔ لیکن اُس کے پاس ایک سزا یافتہ قیدی سے زیادہ آزادی نہیں ہے۔ وہ اپنے قید خانے میں ہی صرف پیدل چکر لگا سکتا ہے، اور کھڑکی میں لگی سلاخوں میں سے دیکھ سکتا ہے۔ اِس لیے، آپ میں سے کچھ اِس صبح یہاں پر بیٹھے ہیں جو پہلے سے ہی سزا یافتہ ہیں، کیونکہ آپ نے مسیح کے پاس آنے سے انکار کر دیا ہے۔

طویل سالوں کے تجربے کے وسیلے سے، ایک مبلغ اکثر اُن کا بتا سکتا ہے جو فحش فلموں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اُن کا ایک مخصوص عیارانہ، چُھپ کر بیٹھنے کا تاثر ہوتا ہے جو اُس قابل کراہت عمل کو دغا دیتا ہے جس نے اُنہیں زنجیروں میں جکڑا ہوتا ہے۔ ایک مبلغ اکثر اُن کا بتا سکتا ہے جو شراب یا منشیات یا دوسری اخلاقی کمزوریوں کے غلام ہوتے ہیں۔ وہ یہاں تک اُن کے بارے میں بھی بتا سکتا ہے جو انتہائی مغرور اور اپنے تکبر میں اکڑے ہوتے ہیں۔ اور بہت مرتبہ، طویل تجربے سے، وہ اُن کا بتا سکتا ہے جو مایوسی اور نااُمیدی کی زنجیروں میں جکڑے ہوتے ہیں۔ اُس کو پوچھنا نہیں پڑتا ہے۔ وہ جانتا ہے – ایک پُرانے ڈاکٹر کی طرح، جو اکثر مریض کے ساتھ کیا مسٔلہ ہے اُس پر نظر ڈال کر ہی بتا سکتا ہے۔

مگر یسوع ’’راستہ کھولنے والا‘‘ ہے۔ چارلس ویزلی Charles Wesley نے کہا،

وہ تنسیخ شُدہ گناہ کی قوت کو توڑتا ہے،
   وہ قیدی کو آزادی دیتا ہے؛
اُس کا خون غلیظ ترین کو پاک صاف کر دیتا ہے؛
   اُس کا خون میرے لیے فائدہ مند ہے!
(’’اوہ ہزار زبانوں کے لیے O For a Thousand Tongues‘‘ شاعر چارلس ویزلی
   Charles Wesley‏، 1707۔1788)۔

غلام! غلام! غلام! مسیح مجھے کہنے کے لیے بتا چکا ہے کہ وہ آپ کو آزاد کر سکتا ہے! وہ آتا ہے، وہ آتا ہے، زنجیروں کو کھولنے والا، توڑنے والا گنہگاروں کے لیے آتا ہے! وہ آپ کو اُن گناہوں سے آزاد کر سکتا ہے جو آپ پر مسلسل پریشانی مسلط کرتے ہیں۔ وہ آپ کو اُس عادت سے چھٹکارہ دلا سکتا ہے جس کے آپ غلام بن چکے ہیں! وہ آپ کو اُن شکوک اور خوفوں سے نجات دلا سکتا ہے جن کے آپ قیدی بن چکے ہیں!

کچھ عرصہ پہلے ایک بوڑھی عورت نے کہا، ’’تم مجھے کبھی بھی اِتوار کو دو مرتبہ گرجہ گھر آنے کے لیے مجبور نہیں کر سکو گے!‘‘ لیکن جلد ہی یسوع، راستہ کھولنے والے‘‘ نے اُن ضدی زنجیروں سے نجات دلا دی، اور وہ یہاں گرجہ گھر میں ہیں، ناصرف اِتوار کو دومرتبہ بلکہ زیادہ تر ہفتوں کو بھی۔ پھر اُنہوں نے بار بار احتجاج کیا کہ وہ پہلے سے ہی بچائی جا چکی ہیں، حالانکہ وہ بچائی نہیں گئی تھیں۔ لیکن جلد ہی یسوع، جو راستہ کھولنے والا ہے، آیا اور اُن کے ذہن کو شیطان کی اُن زنجیروں سے آزادی دلائی۔ تب ہم نے دیکھا کتنی آسانی سے اور کتنی جلدی سے وہ یسوع کے پاس آئی اور بچائی گئی تھی۔

اُس کا خون جو صلیب پر بہا، آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کر سکتا ہے۔ وہ آپ کو دائمی زندگی دینے کے لیے مُردوں میں سے زندہ ہوا۔ اُس کے پاس ابھی آئیں! اگر آپ یسوع کے وسیلے سے بچائے جانے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات کرنا چاہیں، تو مہربانی سے اپنی نشست چھوڑیں اور تفتیشی کمرے میں ابھی چلے جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ اِس صبح کوئی نہ کوئی نجات پائے گا! آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: میکاہ 2:‏12۔13 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
      ’’اوہ ہزار زبانوں کے لیے O For a Thousand Tongues‘‘ (شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley‏، 1707۔1788)\
      ’’یسوع ہر کڑی کو توڑتا ہے Jesus Breaks Every Fetter‘‘ (شاعر جینی ویسٹ میٹزگار Janie West Metzgar‏، 1927)۔

لُبِ لُباب

راستہ کھولنے والا

THE BREAKER

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’کوئی راستہ کھولنے والا اُن کے آگے آگے جائے گا: وہ پھاٹک توڑ کر باہر نکل جائیں گے، اُن کا بادشاہ یعنی خُداوند، اُن کے آگے آگے جائے گا‘‘ (میکاہ 2:‏13)۔

(میکاہ 2:‏12؛ مکاشفہ 19:‏11۔16)

I.   اوّل، یسوع نے شیطان کی قوت کو توڑا، پیدائش3:‏15؛ متی 4:‏11؛
لوقا22:‏44، 43؛ مکاشفہ12:‏11؛ یوحنا19:‏30 .

II.  دوئم، یسوع گنہگاروں کے دِلوں کو کھولتا ہے۔

III. سوئم، یسوع گناہ کی زنجیروں کو توڑتا ہے۔