Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

آخری ایام میں شیطان کا قہر

THE WRATH OF SATAN IN THE LAST DAYS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونئیر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُدا کے دِن کی صبح، 8 دسمبر، 2013
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, December 8, 2013

’’ابلیس نیچے تمہارے پاس گِرا دیا گیا، وہ قہر سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کی زندگی کا جلد ہی خاتمہ ہونے والا ہے‘‘ (مکاشفہ12:12)۔

جی ہاں میں ابلیس میں یقین کرتا ہوں۔ بائبل میں اِس کو کم از کم 12 نام دیئے گئے ہیں۔ اُس کو شیطان، ابلیس، اژدھا، سانپ [افعی]، بعلزبول، بلیعال، لوسیفر، بدکار، آزمائش کرنے والا، اِس جہاں کا خُدا، ہوا کی قوت کا شہزادہ، اور اِس جہاں کا شہزادہ کہا گیا ہے۔ ہمیں ابلیس کے بارے میں کبھی بھی مذاق نہیں کرنا چاہیے، یا اُس کے بارے میں سرسری طور پر بات نہیں کرنی چاہیے۔ اُس کے پاس بہت زیادہ قوت ہے، کسی بھی قوم سے بہت زیادہ، کسی بھی ہتھیار سے انتہائی زیادہ جو انسان نے بنایا ہے۔ وہ ہوا پر حکمرانی کرتا ہے، زمین کے اردگرد کی فضا پر حکمرانی کرتا ہے۔ اُس کا مقصد خُدا کے کام میں رکاوٹ کھڑی کرنا ہے، دعاؤں کے جواب پانے سے روکنا ہے، مسیح کی دوسری آمد کو روکنا ہے، پاک روح کی مخالفت کرنا ہے، حیات نو کو روکنا ہے، انسانی زندگی کوتباہ کرنا ہے، اور نوع انسانی کوتباہ کرنا ہے – خُدا کی عظیم تر تخلیق۔ ابلیس ہولناک ہے، مخالف ہے، قابل نفرت عفریت ہے۔ وہ خود کو ایک خوبصورت، دلفریب مخلوق میں بدل لیتا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے شکار کو جکڑتا ہے، تو وہ ایک ہیبت ناک اژدھا میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

ہماری تلاوت اِس زمانے کے خاتمے کے نزدیک کے وقت کے بارے میں بتاتی ہے، جب شیطان خُدا کی حضوری میں نہیں آ سکے گا، جیسے وہ ایوب کے پہلے باب میں آیا تھا۔ اِس وقت تک وہ آسمان میں خُدا کی حضوری میں سے آ اور جا سکے گا۔ لیکن جب اُس کو ہمیشہ کے لیے خُدا کی حضوری میں سے نکالا جاتا ہے تو وہ جانتا ہے کہ اُس کی تباہی نزدیک ہے۔ جے۔ اے۔ سیئس J. A. Seiss، مکاشفہ کی کتاب پر اپنے شہرہ آفاق تبصرے میں اِس تصویر کو پیش کرتے ہیں،

ہم سوچیں گے کہ آسمان میں ایک [اِنتہائی شدید] شکست سے اُس کو اپنی بُغض سے شفا یابی مِل گئی ہو گی، کم از کم خدا اور اُس کے لوگوں کے خلاف کِسی بھی مزید کوشِش سے اُسے روکنے پرمائل کر دے گی۔ لیکن وہ مایوسی کے ساتھ اچھائی سے منحرف ہے، اور کچھ بھی نہیں ماسوائے ایک ناقابل فسخ قوت کے اُس کی ابلیسی فطرت کو [قابو] کر سکتی ہے۔ اِس قدر انتہا کےساتھ بدچلن ہو جانے کا کوئی علاج نہیں ہے۔ اور آسمان سے اُس کی بے دخلی اور زمین پر اُس کی قید صرف اُس کو مذید اور غصہ دلاتی ہے، اور بڑھے ہوئے طیش کو اُبھارتی ہے، اور حالات کی ایک ایسی حالت کو برپا کرتی ہے کہ اِس سے بدترین کا تجربہ اِس دُنیا نے کبھی نہیں کیا (جے۔ اے۔ سیئس J. A. Seiss، قیامت The Apocalypse – مکاشفہ کی کتاب پر لیکچرز Lectures on the Book of Revelation، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، بِنا تاریخ، صفحہ313)۔

زیادہ ترجو میں نے ابلیس کے بارے میں سیکھا اُس وقت پتہ چلا جب میں نے ایک نوجوان شخص کی حیثیت سے ایک عظیم بائبل کے عالم اور عالم الہٰیات ڈاکٹر ٹموٹھی لِن Dr. Timothy Lin کے زیر سایہ تعلیم حاصل کی۔ ڈاکٹر لِن نے ایمان کی علم الہٰیات کی سیمنری Faith Theological Seminary سے دو ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اُنہوں نے پرانے عہد نامے، عبرانی، اور متعلقہ زبانوں پر ڈروپائز یونیورسٹی Dropise University میں عبرانی اور ہم جدّی زبانوں کے کالج سے پی ایچ۔ ڈی۔ کی۔ اُنہوں نے پھر باب جوننز یونیورسٹی میں گریجوایٹ ڈپارٹمنٹ میں پڑھایا، ٹالبوٹ علم الہٰیات کی سیمنری Talbot Theological Seminary میں پڑھایا، اور ایلینوائیس Illinois میں ڈئیرفلیڈ Deerfield کی ٹرنیٹی انجیلی بشارت کی سیمنری Trinity Evangelical Seminary میں پڑھایا۔ وہ نئی امریکہ سٹینڈرڈ بائبل کے ترجمانوں میں سے ایک تھے، اور 1980 سے لیکر1990 تک تائیوان میں چینی انجیلی بشارت کی سیمنری China Evangelical Seminary میں ڈاکٹر جیمس ھڈسن ٹیلر سوئم Dr. James Hudson Taylor III کی صدارت کے بعد صدر رہے تھے۔ وہ 23 سالوں سے زیادہ عرصے تک میرے پادری اور اُستاد رہے تھے، جب میں لاس اینجلز کے پہلے چینی بپتسمہ دینےوالے گرجہ گھر کا ایک رُکن تھا۔ اُنہوں نے مجھے بپتسمہ دیا، اور 2جولائی، 1972 کو میری آرڈینیشن کیمٹی کی صدارت کی۔

لیکن ڈاکٹر لِن مٹی کی مانند خشک علم الہٰیات کے پروفیسر نہیں تھے۔ اُن کے اسباق اور اُن کے واعظ زندہ علم الہٰیات کی قوت کے ساتھ کاٹ دار ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر، ڈاکٹر لِن وثوق کے ساتھ یقین رکھتے تھے کہ ہم آخری ایام میں زندگی گزار رہے ہیں – جیسا کہ ہم جانتے ہیں دُنیا کے خاتمہ کے قریب۔ یہ دیکھنے کے لیے جو کچھ اُنہوں نے لکھا آپ کو بہت زیادہ نہیں پڑھنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر، کلیسیا کے بڑھنے پر اُن کی کتاب میں، وہ بار بار ایسے جملے پیش کرتے ہیں ’’آخری ایام کی کلیسیا میں ایسی ہی غلط فہمی ہوتی ہے...‘‘ (صفحہ6)؛ ’’آخری ایام میں منبر‘‘ (صفحہ 11)، ’’آخر ایام کے بہت سے مسیحی... بزدل، خوفزدہ اور خُدا کے کلام میں ایمان کے بغیر ہیں‘‘ (صفحہ17)؛ آخری ایام کی کلیسیا میں ویرانی پادریوں کی قلت کی وجہ سے نہیں ہے...‘‘ (صفحہ21)؛ ’’خُدا کرے آخری ایام کی کلیسیا اِس کے بارے میں تین مرتبہ سوچے‘‘ (صفحہ29)؛ ’’آخری ایام کی کچھ کلیسیائیں آخری ایام کے لیے فکر مند نہیں ہیں… اُس وقت تک جب تک دولت حاصل کرنے کا راستہ ہے‘‘ (صفحات48، 49)؛ ’’آخری ایام کی کلیسیا غلط اور درست کے درمیان فرق کو نظرانداز کرتی ہے‘‘ (صفحہ50)؛ دو وجوہات ہیں کہ کیوں آخری ایام کی کلیسیائیں دعائیہ عبادت کی جانب اِس قدر شدید مُردہ دِلی کا مظاہرہ کرتی ہے‘‘ (صفحہ95)۔ (تمام کے تمام اقتباسات ٹموٹھی لِن، پی ایچ۔ ڈی کی جانب سے ہیں، کلیسیا کے بڑھنے کا راز The Secret of Church Growth، FCBC، 1992)۔

آپ بتا سکتے ہیں کہ ڈاکٹر لِن اِس حقیقت کے بارے میں مسلسل سوچتے تھے کہ ہم مسیحی زمانے کے بالکل خاتمے کے قریب زندگی گزار رہے ہیں، آخری ایام کے خاتمے کے بالکل قریب۔ ایک اور بات جس پر ڈاکٹر لِن مسلسل زور دیتے تھے وہ شیطان اور اُس کی بدروحوں کی حقیقت تھی۔ اِن دو مرکزی موضوعات پر اُس کے واعظوں اور بائبل کے مطالعے میں بار بار زور دیا گیا تھا – ہم آخری ایام میں زندگی گزار رہے ہیں، اور شیطان اور اُس کی بدروحیں ہماری مخالفت کر رہی ہیں۔ آپ شاید سوچ سکتے ہیں کہ وہ دو منفی مرکزی موضوع ایک کلیسیا کی حوصلہ شکنی کرے گی اور اُس کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کرے گی۔ مگر اِس کا متضاد سچ تھا! اُن کی کلیسیا نے ایک حیرت انگیز حیات نو کا تجربہ کیا تھا۔ اُن کی کلیسیا نے ایک چھوٹی سی مدت میں تقریباً 2,000 لوگوں میں اضافہ کیا۔

اور ڈاکٹر لِن نے اکثر ہماری تلاوت کا حوالہ اپنی منادی اور تعلیمات میں دیا،

’’ابلیس نیچے تمہارے پاس گِرا دیا گیا، وہ قہر سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کی زندگی کا جلد ہی خاتمہ ہونے والا ہے‘‘ (مکاشفہ12:12)۔

اُس آیت پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر لِن نے کہا،

شیطان مکمل طور پر جانتا ہے کہ اُس کی شیطانی زندگی کو طویل کرنے کا واحد ذریعہ مسیح کی دوسری آمد میں تاخیر کرنا ہے... اِس ہی وجہ سے، وہ اپنئ تمام تر قوت کے ساتھ اپنے شیطانی چالوں کو لوگوں کو یسوع میں ایمان لانے سے روکنے کے لیے استعمال کرتا ہے – اِس طرح سے وہ خُدا کی بادشاہت کا حکم ماننے والوں کو زیادہ ہونے سے روکتا ہے... پھر شیطان مسیحیوں کے درمیان اُس کی تخریب کاری کو دوسرا مرحلہ شروع کرتا ہے، وہ ہے، اُنہیں دعا میں وقت مختص کرنے اور کوشش کرنے سے روکنا... اِس لیے، جتنا یہ ہمارے خُداوند کی آمد ثانی کی شام کے نزدیک ہوتا ہے، اُتنا ہی دعا کے خلاف شیطانی دباؤ شدید ہو جائے گا! (لِن Lin، ibid.، صفحات95،96)۔

بہت سے مبلغین کو مسیح کی آمد ثانی کی ’’نشانیاں‘‘ دکھائی نہیں دیتی یا سمجھ میں نہیں آتیں۔ لیکن اُن کے مقابلے میں ابلیس زیادہ عقلمند ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اسرائیل کی قوم دوبارہ بحال ہوچکی ہے۔ وہ کلیسیاؤں کا اِرتداد دیکھتا ہے۔ وہ نوح کے دِنوں کا دُہرایا جانا دیکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ زمین پر خُدا کے کام میں رخنہ اندازی کرنے اور مخالفت کرنے کے اپنے شیطانی کام کو کرنے کے لیے ’’اُس کے پاس وقت کم ہے!‘‘

’’ابلیس نیچے تمہارے پاس گِرا دیا گیا، وہ قہر سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کی زندگی کا جلد ہی خاتمہ ہونے والا ہے‘‘ (مکاشفہ12:12)۔

ابلیس کے ناموں میں سے ایک نام ’’شیطان‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ’’فریق مخالف‘‘ یا ’’حریف‘‘ ہوتا ہے۔ پس، شیطان خُدا کے کام کی مخالفت کرتا ہے۔ آخری ایام میں، جن میں ہم رہتے ہیں، شیطان دونوں نجات یافتہ اور کھوئے ہوؤں کی مخالفت کرتا ہے۔

I۔ اوّل، شیطان اُن کی دعاؤں کی جو نجات یافتہ ہیں مخالفت کرتا ہے۔

خُدا کے کام کی مخالفت میں شیطان کا اہم مقصد مسیحیوں کو دعا سے روکنا ہے۔ ڈاکٹر لِن نے کہا، ’’شیطان جانتا ہے (بے شک مسیحی شاید نہیں جانتے) کہ دعا خُدا کے خزانے کی تخصیص کا طریقۂ کار ہے... اگر مسیحی اِس خزانے کی تخصیص نہیں کرتے، تو وہ روحانی طور پر تھک جائیں گے اور قبل از وقت ہی کمزور پڑ جائیں گے... اِس لیے، جتنا یہ ہمارے خُداوند کی آمد ثانی کی شام کے نزدیک ہوتا ہے، اُتنا ہی دعا کے خلاف شیطانی دباؤ شدید ہو جائے گا‘‘ (لِن Lin، ibid.، صفحہ 96)۔

اکثر مسیحی جب صبح اُٹھتے ہیں تو دعا کرنا بھول جاتے ہیں۔ دعائے ربانی پڑھنے اور خُدا سے تمام دِن کے دوران اُس کی مدد کے لیے دعا مانگنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ہے۔ خُدا کی مدد کے بغیر میں اتنا زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ شیطان یہ بات جانتا ہے۔ اِس لیے وہ آپ کی صبح کی دعا کی مخالفت کرتا ہے۔ پھر وہ اُس دِن یہ دیکھ کر کتنا خُوش ہوتا ہے کہ آپ کس قدر بے بس ہیں!

شیطان ’’شروع سے آخر تک [پوری طرح] دعا کی‘‘ مخالفت بھی کرتا ہے – یعنی کہ، کسی چیز کے لیے دعا کرتے رہنا جب تک کہ آپ اُسے پا نہیں لیتے۔ مستقل مزاج بیوہ کی تمثیل شروع سے آخر تک [پوری طرح] دعا کرنے کی ضرورت کی تعلیم دیتی ہے جب تک کہ آپ وہ پا نہیں لیتے جس کی آپ کو ضرورت ہے۔ یسوع نے لوقا18:1 میں تمثیل کا مقصد پیش کیا، ’’انسان کو ہمت ہارے بغیر دعا میں لگے رہنا چاہیے‘‘ – یا اِس کا یوں بھی ترجمہ ہو سکتا ہے، ’’... اُنہیں ہمیشہ دعا کرتے رہنی چاہیے اور ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔‘‘ تمثیل تعلیم دیتی ہے کہ آپ کو خُدا سے جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے مانگتے رہنا چاہیے جب تک کہ وہ اِسے آپ کو دے نہیں دیتا۔ تمثیل سادہ ہے۔ ایک بیوہ عورت ایک قاضی کے پاس اپنے دشمن کے خلاف انصاف مانگنے کے لیے آئی۔ قاضی نے شروع میں کچھ نہ کیا۔ لیکن آخرکار اُس نے اُس کو وہ دے دیا جو وہ چاہتی تھی کیونکہ اُس کے بار بار تنگ کرنے سے پریشان ہو گیا تھا۔ تمثیل یہ کہتے ہوئے ختم ہوتی ہے کہ خُدا ’’اپنے چُنیدہ لوگوں کا خود انصاف‘‘ کرے گا، جو دِن رات اُس سے فریاد کرتے رہتے ہیں‘‘ (لوقا18:7)۔ مگر تمثیل کی بالکل آخری آیت کہتی ہے،

’’میں کہتا ہُوں کہ وہ اُن کا اِنصاف کرے گا اور جلد کرے گا۔ پھر بھی جب ابنِ آدم آئے گا تو کیا وہ زمین پر ایمان پائے گا؟‘‘ (لوقا 18:8).

اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب مسیح آتا ہے تو کوئی ایمان نہیں ہوگا۔ اِس کا مطلب ہے کہ زیادہ تر مسیحی آسانی سے ہمت ہار جائیں گے جب وہ کسی ضرورت کے لیے دعا کرتے ہیں۔ وہ دعا میں جدوجہد جاری نہیں رکھیں گے جب تک کہ وہ اُس کو پا نہیں لیتے جس کی وہ التجا کرتے ہیں! آخری ایام میں ’’شروع سے آخر تک [پوری طرح] دعا کرنا انتہائی شدت کے ساتھ کم ہو جائے گی۔ جیسے جیسے یہ زمانہ خاتمہ کے قریب ہوتا ہے شیطان شروع سے آخر تک [پوری طرح] سے دعا کرنے کے خلاف اپنے دباؤ کو بڑھاتا ہے۔ وہ ایسا کلیسیاؤں کو کمزور کرنے کے لیے کرتا ہے اور چُنیدہ لوگوں کے بچائے جانے کی مکمل تعداد میں تاخیر کرنے کی وجہ کے لیے کرتا ہے۔ یوں، اِس زمین پر آخری ایام میں مستقل مزاجی سے دعا کرنے کی مخالفت کے ذریعے سے شیطان اپنی بدکار زندگی کو طوالت دینے کی کوشش کرتا ہے!

شیطان ہماری دعاؤں میں رکاوٹ کھڑی کرتا ہے، اور ہم میں سے بہت سوں کو شروع سے آخر [پوری طرح سے] دعا کرنے سے یہ کہہ کر روکتا ہے، ’’دعا اتنی اہم نہیں ہے۔ پادری تمہیں دعا، دعا، دعا کرنے کے لیے کہتا ہے – لیکن تم اپنا وقت ضائع کر رہے ہو۔ تمہاری دعائیں حقیقت میں کچھ نہیں کرتی ہیں۔ ہار مان لو! دعا کرنے میں اپنا وقت ضائع مت کرو۔‘‘ کیا آپ نے کبھی ایسا محسوس کیا؟ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ دعا کرنے سے حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا ہے – یہ صرف وقت کا ضیاع ہے؟ اگر آپ نے کبھی بھی ایسا سوچا تھا، تو آپ یقین کر سکتے ہیں یہ شیطان ہے جو یہ خیال آپ کے ذہن میں ڈالتا ہے۔ ایک مخصوص ضرورت کے لیے دعا سے آپ کو روکنے کے لیے شیطان ہر طرح کے حربے استعمال کرے گا۔ شیطان آپ کو دعائیں کرنے سے پھسل جانے کے لیے دھوکہ کرنے میں بہت زیادہ وقت اور کوشش صرف کرتا ہے۔ اِس سے پہلے کہ آپ خُدا سے جس کی آپ کو ضرورت ہے پائیں وہ آپ کو دعا کرنے سے روکنے کے لیے سخت محنت کرتا ہے! ایک اور سیاق و سباق میں، پولوس رسول نے یہ کہا –

’’شیطان کو اپنا داؤ چلانےکا موقع نہ ملے: کیونکہ ہم اُس کی چالبازی سے واقف ہیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 2:11).

شیطان کو یقیناً آپ پر اپنا ’’داؤ چلانے کا موقع‘‘ ملے گا جب تک کہ آپ ہمت نہ ہارنے میں انتہائی محتاط نہ ہوں جب آپ ایک ضرورت کے لیے دعا کر رہے ہوتے ہیں۔ یعقوب رسول نے کہا،

’’تُمہیں کچھ ہاتھ نہیں لگتا کیونکہ تُم خدا سے نہیں مانگتے‘‘ (یعقوب 4:2).

اور اکثر، آپ ابھی تک ’’نہیں پاتے‘‘ کیونکہ شیطان نے اپنی چالبازیوں میں سے ایک کے ساتھ آپ کو دھوکہ دیا۔ اُس نے آپ کو مایوس اور ذہنی دباؤ محسوس کرنے کا سبب تراشا۔ اُس نے آپ کو آزمائش میں مبتلا کیا جب تک کہ آپ نے دعا کرنا نہیں چھوڑا، یا اپنی دعاؤں میں کمزور نہیں پڑے۔ یاد رکھیں، مسیحی – شیطان کے ساتھ جنگ جیتنے کے لیے دعا واحد کام ہے جو ہم کرتے ہیں۔ یاد رکھیں – دعا ایک جنگ ہے! ایک پرانا انجیل کا گیت اِس سب کو بیان کر دیتا ہے،

کیا آپ نے پوری طرح سے دعا کی جب تک جواب نہیں ملا؟
   تمہاری جان کا دعویٰ کرنے کے لیے یہاں سچا وعدہ ہے؛
دعا کی جگہ پر یسوع آپ کا انتظار کرتا ہے،
   کیا آپ اُس کو وہاں پر ملے تھے، کیا آپ نے پوری طرح سے دعا کی؟
کیا آپ نے جواب ملنے تک دعا کی،
   کیا آپ نے نجات دہندہ کے نام پر التجا کی؟
کیا آپ نے دعا کی اور جنگ کی [رات گہری ہونے تک]،
   کیا آپ نے جواب ملنے تک دعا کی؟
(’’کیا آپ نے پوری طرح سے دعا کی؟ Have You Prayed It Through? ‘‘ شاعر ڈبلیو۔ سی۔ پولی W. C. Poole، 1875۔1949؛ پادری نے ترمیم کی)۔

کیا آپ نے اِس کو کبھی ہمارے گرجہ گھروں میں گایا جاتا ہوا سُنا؟ میں نے نہیں سُنا! مسیحی اِس کو گایا کرتے تھے، لیکن اب یہ فیشن پرانی طرز کا ہو گیا ہے۔ ’’پھر بھی جب ابن آدم آئے گا تو کیا وہ زمین پر ایمان پائے گا؟‘‘ (لوقا18:8)۔

اب یہ دیکھیں، دانی ایل کے دسویں باب میں ہم پڑھتے ہیں کہ دانی کی دعا خُدا نے بالکل پہلی مرتبہ جب اُس نے دعا مانگی سُن لی تھی (دانی ایل10:12)۔ لیکن ’’بیس دِنوں‘‘ تک کوئی جواب نہیں ملا تھا کیونکہ شیطان کی طرف سے ایک بدروح نے جواب کی مخالفت کی تھی (دانی ایل10:13)۔ ہم شکر گزار ہیں کہ دانی نے اُسے دعا کرنے سے روکنے نہیں دیا تھا جب تک کہ اُس نے وہ پا نہیں لیا جس کی اُس نے خُدا سے التجا کی تھی! دعا پر اپنی عظیم کتاب میں ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے یہ عمدہ کورس پیش کیا،

دعا کرتے رہو،
   جب تک تم پوری طرح دعا نہ کر لو،
دعا کرتے رہو،
   جب تک تم پوری طرح دعا نہ کر لو۔
خُدا کے عظیم وعدے
   ہمیشہ سچے ہوتے ہیں،
دعا کرتے رہو،
   جب تک تم پوری طرح دعا نہ کر لو۔

II۔ دوئم، شیطان جو کھوئے ہوئے ہیں اُن کی نجات کی مخالفت کرتا ہے۔

’’ابلیس نیچے تمہارے پاس گِرا دیا گیا، وہ قہر سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کی زندگی کا جلد ہی خاتمہ ہونے والا ہے‘‘ (مکاشفہ12:12)۔

شیطان آپ کی مخالفت کرتا ہے جب آپ نجات پانے کی تلاش کرتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتا کہ آپ مسیحی بنیں۔ وہ آپ کو نجات پا لینے سے دور رکھنے کے لیے اپنے تئیں پوری کوشش کرے گا۔ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ ایک وجہ یہ ہے کیونکہ وہ ایک قاتل ہے۔ یسوع نے کہا کہ ابلیس ’’آغاز سے ہی قاتل تھا‘‘ (یوحنا8:44)۔ لوگوں کو قتل کرنا شیطان کی فطرت ہے۔ اُس نے باغِ عدن میں ہمارے پہلے والدین کو اُنہیں منع کیے ہوئے پھل کو کھانے کی آزمائش کے ذریعے سے قتل کیا تھا۔ وہ جانوں کا قاتل ہے – اور وہ آپ کو بھی قتل کرنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آپ مریں اور جہنم میں جائیں۔

لیکن یہاں ایک وجہ اور ہے، رومیوں11:25 میں ہم پڑھتے ہیں کہ،

’’… اِسرائیل کا ایک حِصّہ کسی حد تک سخت دل ہوگیا ہے اور جب تک خدا کے پاس آنے والے غیر یہودیوں کی تعداد پوری نہیں ہوجاتی وہ ویسا ہی رہے گا‘‘ (رومیوں 11:25).

’’بھرپوریfulness ‘‘ کا یونانی زبان میں ترجمہ ’’پلیروما plērōma ‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ’’مکمل تعداد‘‘ ہوتا ہے۔ ابلیس اسرائیل سے نفرت کرتا ہے، اور وہ جانتا ہے کہ اُن کا روحانی اندھا پن اُس وقت تک نہیں ٹلے گا جب تک کہ غیر یہودیوں کی ’’پوری تعداد‘‘ نجات نہیں پا لیتی۔ لیکن شیطان نہیں چاہتا کہ اسرائیل بچایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ آپ بچائے جائیں۔

اِس زمانے کے خاتمے پر اِس سے پہلے کہ اسرائیل کا اندھا پن ٹلے غیر یہودیوں کی ایک مخصوص تعداد کو نجات پانا چاہیے۔ آپ ایک غیر یہودی ہیں۔ آپ اِس زمانے کے آخر میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ابلیس جانتا ہے کہ اُس کا انصاف خدا کے ذریعے سے ہوگا اور جب مسیح واپس آئے گا تو شیطان کو ’’ایک ہزار سال‘‘ کے لیے باندھ دیا جائے گا (مکاشفہ20:2)۔ یہی وجہ ہے،

’’ابلیس نیچے تمہارے پاس گِرا دیا گیا، وہ قہر سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کی زندگی کا جلد ہی خاتمہ ہونے والا ہے‘‘ (مکاشفہ12:12)۔

آج شیطان ساری دُنیا میں غصہ دکھاتا پھر رہا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کا وقت کم ہے۔ اِس سے بھی بڑھ کر، وہ غیر یہودیوں کی ’’پوری تعداد‘‘ کو اندر آنے اور نجات پانے میں تاخیر کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ میں قائل ہو چکا ہوں کہ یہ وجوہات میں سے ایک ہے کہ اب یہ مشکل سے مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے کہ ہمارے زمانے میں لوگوں کو بچایا جا سکے۔ شیطان آپ کو مسیح پر بھروسہ کرنے اور ایک حقیقی مسیحی بننے سے دور رکھنے کے لیے اپنی قوت میں موجود ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اِس طریقے سے اسرائیل کو اندھے پن میں رکھنے کے لیے وہ کچھ اور دیر تک قابل ہوتا ہے۔

طریقوں میں سے ایک جو شیطان آپ کو نجات پانے سے دور رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے وہ آپ کے دل میں سے خُدا کا کلام نکال لینا ہے۔ بیج بونے والے کی تمثیل میں، یسوع نے کہا،

’’... تب شیطان آتا ہے اور اُن کے دلوں سے کلام کو نکال لے جاتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ ایمان لائیں اور نجات پائیں‘‘ (لوقا 8:12).

گذشتہ اِتوار کو دو نوجوان چینی آدمی ہمارے گرجہ گھر میں آئے۔ دونوں ہی ابلیس کے سحر میں جکڑے ہوئے تھے۔ اُن میں سے ایک بُدھا کے بُتوں اور اُس کے والدین کے گھر میں بتوں کی پوجا سے شیطانی قابو میں آیا ہوا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ کیسے دوسرے والا آسیبیت کا شکار ہوا۔ لیکن اُس نے مجھے بتایا کہ شیطان اُسے اذیت پہنچاتا تھا اور یہ واضح نظر آتا تھا کہ وہ شیطان کے قبضے میں تھا۔

اُن دونوں چینی لڑکوں میں سے ایک گذشتہ اِتوار کو نجات پا گیا، لیکن دوسرے نے نہیں پائی۔ یہاں فرق تھا – وہ نوجوان آدمی جو نجات پا گیا تھا گرجہ گھر آتا رہا تھا اور خُدا کے کلام کو سُنتا رہا تھا جب میں انجیل کی منادی کرتا تھا۔ گرجہ گھر چھوڑنے کے لیے اور ہمت ہارنے کے لیے وہ شدید آزمائش سے گزرا تھا۔ لیکن خُدا کے فضل سے وہ رُکا رہا، اور ہر اتوار کی صبح اور ہر اتوار کی رات کو انجیل سُننے کے لیے آیا۔ آخر کار، جب ڈاکٹر چعین Chan نے گذشتہ اِتوار کی صبح منادی کی، پہلے لڑکے نے یسوع پر بھروسہ کیا اور نجات پائی!

لیکن دوسرے چینی نوجوان نے سُننے سے انکار کر دیا۔ میں نے خود گذشتہ اِتوار کی صبح عبادت کے بعد اُس سے بات کی تھی۔ میں نے اُس سے التجا کی تھی کہ گرجہ گھر میں رُکے اور خُدا کے کلام کی منادی سُنے۔ لیکن اُس نے ڈھٹائی کے ساتھ انکار کر دیا۔ وہ غصے سے بھر گیا اور کہا کہ وہ اپنے لیے بائبل خود پڑھ لے گا۔ وہ اِس قدر بے چین ہو گیا تھا کہ ہمیں بالکل اُسی وقت اُس کے گاڑی میں گھر لے جانا پڑا تھا۔ میں نے جب وہ گیا تو اُس کے لیے افسوس محسوس کیا۔

اب اِس کا آپ پر ایسے اطلاق ہوتا ہے، اگر آپ نے ابھی تک نجات نہیں پائی ہے۔ آپ کوخود کو عاجز[فروتن] کرنا پڑے گا۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کیا کرنا ہے، یا آپ کو کیا سوچنے کی ضرورت ہے یا محسوس کرنے کی ضرورت ہے – آپ کے دِل سے انجیل کو نکالنا شیطان کے لیے بے انتہا آسان ہے! بائبل کہتی ہے،

’’ خداوند کے سامنے فروتن بنو تو وہ تمہیں سر بلند کرے گا‘‘ (یعقوب4:10).

آپ میں سے کچھ ایک غیر نجات یافتہ حالت میں زندگی گزارتے رہنا جاری رکھتے ہیں۔ آپ اِس قدر مغرور ہوتے ہیں کہ آپ سوچتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کیا کرنا ہے۔ لیکن آپ عقلمند نہیں ہیں! آپ نہیں جانتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔ اِس ہی لیے آپ ابھی تک شیطان کے قابو میں ہیں۔ میں اِس صبح آپ سے التجا کرتا ہوں،

’’ خداوند کے سامنے فروتن بنو تو وہ تمہیں سر بلند کرے گا‘‘ (یعقوب4:10).

ایک پرانا حمد و ثنا کا گیت اِس کو بہتر طور سے کہتا ہے،

’’میں خود کو حوالے کرتا ہوں، اور جو کچھ میں جانتا ہوں،
   مجھے ابھی صاف کر اور میں برف کے مقابلے میں سفید ترین ہو جاؤں گا۔‘‘
(’’برف کے مقابلے میں سفید ترین Whiter Than Snow‘‘ شاعر جیمس نیکلسن
      James Nicholson، 1828۔1896)۔

یسوع صلیب پر آپ کے گناہوں کا کفارا ادا کرنے کے لیے مرا۔ وہ آپ کو زندگی دینے کے لیے مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ اب – خُدا کی حضوری میں خود کو فروتن کر دیں، اور وہ آپ کو اُٹھا لے گا! اب – خود کو حوالے کر دو، اور جو کچھ بھی آپ جانتے ہیں – اور یسوع آپ کو اُس میں سادہ ایمان کے وسیلے سے اپنے خون کے ساتھ تمام گناہ سے پاک صاف کرے گا!

اگر آپ ایک حقیقی مسیحی بننے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات کرنا پسند کریں، تو مہربانی سے اپنی نشست ابھی چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کوایک اور کمرے میں لے جائیں گے جہاں پر ہم اِس معاملے میں بات چیت کریں گے۔ ابھی جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ ابھی کوئی یسوع پر بھروسہ کرے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: مکاشفہ12:7۔12 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’پھر یسوع آیا Then Jesus Came‘‘ (شاعر ھومر روڈھیور Homer Rodeheaver، 1880۔1955)۔

لُبِ لُباب

آخری ایام میں شیطان کا ق

ہر

THE WRATH OF SATAN IN THE LAST DAYS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونئیر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’ابلیس نیچے تمہارے پاس گِرا دیا گیا، وہ قہر سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کی زندگی کا جلد ہی خاتمہ ہونے والا ہے‘‘ (مکاشفہ12:12)۔

I.   اوّل، شیطان اُن کی دعاؤں کی مخالفت کرتا ہے جو نجات یافتہ ہیں،
لوقا18:1،7،8؛ 2۔کرنتھیوں2:11؛ یعقوب 4:2؛ دانی ایل 10:12، 13 .

II.  دوئم، شیطان جو کھوئے ہوئے ہیں اُن کی نجات کی مخالفت کرتا ہے،
یوحنا8:44؛ رومیوں11:25؛ مکاشفہ 20:2؛ لوقا 8:12؛ یعقوب 4:10 .