Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

خون – عام یا قیمتی؟

?THE BLOOD – COMMON OR PRECIOUS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
17، نومبر 2013، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, November 17, 2013

آج کی صبح میں چاہتا ہوں کہ آپ نئے عہد نامے میں سے دو جملوں پر نظر ڈالیں جو مسیح کے خون کو بیان کرتے ہیں۔ پہلے عبرانیوں 10:‏29 کو دیکھیں۔ وہ جملہ جو خون کی تشریح کرتا ہے آیت کے درمیان میں ہے،

’’ایک ناپاک چیز‘‘ (عبرانیوں10:‏29)۔

اب 1پطرس1:‏19 کو کھولیے۔ یہاں پر خون کو یوں بیان کیا گیا ہے،

’’مسیح کا قیمتی خون‘‘ (1پطرس1:‏19)۔

مہربانی سے اپنی بائبل یہیں کُھلی رکھیں۔

کچھ راتیں پہلے میں اُن آیات کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اُن آیات پر میرے دھیان و گیان کے دوران اچانک میرے ذہن میں آیا کہ تمام دُنیا کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: (1) وہ جو مسیح کے خون کے بارے میں ’’ایک ناپاک چیز‘‘ کے طور پر سوچتے ہیں، اور (2) وہ جو ’’مسیح کے قیمتی خون‘‘ کا سوچتے ہیں۔ اُن جملوں میں سے کون سا ایک آپ کا مسیح کے خون کا نقطۂ نظر بیان کرتا ہے؟

I. اوّل، کیا آپ یسوع کے خون کے بارے میں ’’ایک ناپاک چیز‘‘ کے طور پر سوچتے ہیں؟

اگر آپ عبرانیوں 10:‏26۔31 کے تمام حوالے کو پڑھیں جو مسٹر پرودھومی Mr. Prudhomme نے چند لمحے پہلے پڑھا تھا، تو آپ دیکھیں گے کہ یہ اُن کے لیے حوالہ دیتا ہے جو ’’جان بوجھ کر گناہ‘‘ کرتے ہیں اور خُدا کی سزا کے لیے واجب قرار پاتے ہیں، جیسا کہ ہم اپنی آج صبح کی تلاوت میں دیکھتے ہیں، جو کہ ’’ایک ناپاک چیز‘‘ والے جملے کی دو آیتوں کے بعد شروع ہوتی ہے۔ عبرانیوں10:‏31 پر نظر ڈالیں۔

’’زندہ خُدا کے ہاتھوں میں پڑنا ہولناک بات ہے‘‘ (عبرانیوں10:‏31)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر جے۔ ورنن میکجیDr. J. Vernon McGee نے اُن آیات کے بارے میں کہا،

’’ہر اُس کے لیے جس نے عہد کے خون کو گردانا... ایک ناپاک چیز...‘‘ خُدا کی سزا ہر ایک کے لیے سامنے ہے۔ میرے دوست، اگر تم اُس کی تحقیر کرتے ہو جو مسیح نے تمہارے لیے صلیب پر کیا، تو تمہارے لیے ماسوائے سزا کے اور کچھ بھی سامنے نہیں ہے۔ تمہارے پاس چاہے کچھ بھی ہو کوئی اُمید نہیں ہے (جے۔ ورنن میکجی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، 1983، جلد پنجم، صفحہ578؛ عبرانیوں10:‏31 پر ایک غور طلب بات)۔

آپ شاید کہیں، ’’میں نہیں سوچتا کہ مسیح کا خون ناپاک تھا۔ میں تو محض یہ سوچتا ہوں کہ وہ دوسروں کے خون کی مانند ہی تھا۔ مسیح کے خون کے بارے میں کوئی خاص بات تو نہیں تھی۔‘‘ ٹھیک ہے، اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو آپ قصور وار ہیں – کیونکہ یونانی لفظ نے ’’ناپاکunholy‘‘ کا ترجمہ ’’کوئیناس koinos‘‘ کیا، اور اِس کا مطلب ’’عام common‘‘ ہوتا ہے (سٹرانگStrong، نمبر2839)۔ جارج ریکر بیری George Ricker Berry کہتے ہیں کہ اِس کا مطلب ہوتا ہے ’’عام، یعنی کہ جس کو بہت سوں نے استعمال کیا ہو۔‘‘ وہ ہوتا ہے ’’ناپاک‘‘ کا مطلب۔ اِس کا مطلب ہے کہ مسیح کا خون عام ہے – بالکل ایسا جیسا ہر کسی کا خون ہوتا ہے، ’’جس کو بہت سوں سے استعمال کیا ہو،‘‘ جیسا کہ جارج ریکر بیری اِس کو لکھتے ہیں۔

مجھے یوں لگتا ہے کہ ڈاکٹر جان میک آرتھرDr. John MacArthur خطرناک حد تک مسیح کے خون کو ’’ایک عام چیز‘‘ کہنے کے قریب آتے ہیں جب وہ کہتے ہیں، ’’اُس [یسوع] کے خون میں بچانے والی کوئی بات نہیں‘‘ (میک آرتھر کا مطالعۂ بائبلMacArthur Study Bible، عبرانیوں9:‏7 پر ایک غور طلب بات)۔ عبرانیوں9:‏14 میں ’’مسیح کے خون‘‘ کے الفاظ پر اپنی غور طلب بات میں ڈاکٹر میک آرتھر کہتے ہیں، ’’خون کو موت کے متبادل لفظ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے‘‘ (ibid. ، عبرانیوں9:‏14 پر ایک غور طلب بات)۔ اُن کے علم الہٰیات کے عمومی خلاصے میں (ibid.، صفحہ2192) ڈاکٹر میک آرتھر کہتے ہیں کہ بائبل ’’زبانی طور پر ہر لفظ سے متاثر کرتی ہے۔‘‘ لیکن عبرانیوں9:‏14 میں یونانی لفظ ’’ھائیماhaima‘‘ ہے، اور اِس کا واقعی میں مطلب ’’خون‘‘ ہوتا ہے۔ یہ کہنا کہ ’’خون‘‘ موت کے لیے ایک متبادل لفظ ہے اِس بات کی تردید کرنا ہے کہ وہ آیت ’’زبانی طور پر ہر لفظ سے متاثر کرتی ہے۔‘‘ جب ڈاکٹر میک آرتھر کہتے ہیں، ’’اُس [یسوع] کے خون میں کوئی بچانے والی کوئی بات نہیں،‘‘ تو مجھے یوں لگتا ہے کہ مسیح کے خون کو ’’ایک عام چیز‘‘ کہنے کے انتہائی قریب آنا ہوتا ہے (عبرانیوں10:‏29)۔ اور عبرانیوں10:‏29 ایسا کرنے کے بارے میں انتہائی طور پر خبردار کرتی ہے! ایسی تعلیم میں کوئی زندگی نہیں ہوتی ہے۔ میرے خیال میں یہ خشک اور جان لیوا ہے۔ ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones نے کہا،

      بِنا کسی امتیازی تفریق کے، آپ ہر حیات نو کے دور میں پائیں گے، کہ اُس میں مسیح کے خون پر انتہائی غیر معمولی طور سے زور رہا ہے۔ وہ حمد و ثنا کے گیت جنہیں حیات نو کے دور میں گایا جاتا رہا ہے وہ حمد و ثنا کے گیت خون کے بارے میں رہے ہیں۔ میں اُن کا آپ کے لیے بے شمار زبانوں میں حوالہ دے سکتا ہوں۔ اِس سے زیادہ اور کیا بات خاص ہو سکتی ہے۔ ہم پاتے ہیں کہ رسول نے اِس بات کو ہمارے لیے پہلا کُلسیوں میں لکھا ہے – سب چیزوں کا اپنے ساتھ میل کر لیں…‘‘ اُس نے کیسے سب چیزوں کا اپنے ساتھ میل کیا؟ ’’... صلیب پر بہائے خون کے ذریعے سے‘‘ (آیت 20)۔
      بے شک میں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ جب میں کوئی ایسی بات کہتا ہوں تو میں کچھ ایسا کہہ رہا ہوتا ہوں جو غیر معمولی ہوتا ہے اور موجودہ دور میں انتہائی غیرمقبول ہوتا ہے۔ کچھ مسیحی مبلغین ہیں جو سوچتے ہیں کہ وہ خون کی اِس الہٰیاتی بات کو مذاق میں اُڑانے میں ہوشیاری برتتے ہیں۔ وہ تو نفرت کے ساتھ اِس کو مسترد کرتے ہیں... اور یہی وجہ ہے کہ کلیسیا ایسی ہے جیسی کہ ہے۔ لیکن حیات نو کے ادوار میں، وہ صلیب میں جلال کرتی ہے، وہ اپنا فخر خون میں کرتی ہے۔ کیونکہ جیسا کہ عبرانیوں کے لیے مراسلے کے مصنف نے اِس کو لکھا، صرف ایک ہی راستہ ہے جس سے بے باکی کے ساتھ گزر کر ہم اُس پاک ترین مکان میں داخل ہو سکتے ہیں، اور وہ مسیح کے خون کے وسیلے سے ہے، دیکھیں عبرانیوں10:‏19 (مارٹن لائیڈ جونز، ایم۔ ڈی۔ Martyn Lloyd-Jones, M.D.، حیات نو Revival، کراس وے بُکس Crossway Books‏، 1994 ایڈیشن، صفحہ48)۔

مجھے آپ کو سچ بتانا ہی ہے۔ اگر آپ کو یسوع کا خون اہم نہیں لگتا ہے، تو آپ ایک کھوئے ہوئے شخص ہیں، جو دائمی اذیت کی جگہ پر جا رہا ہے۔ آپ کسی بھی طور حقیقی معنوں میں ایک حقیقی مسیحی نہیں ہیں۔

یہاں پر ایک نوجوان خاتون کی جانب سے جو ہمارے گرجہ گھر میں عبادت کے لیے حاضر ہوتی ہیں اپنی بیس سال کی عمر میں ایک گواہی ہے۔ اُنہوں نے کہا،

میں مایوسی اور نااُمیدی میں دھنس رہی [تھی]۔ ذہنی طور پر میں جانتی تھی کہ میں ایک گنہگار تھی، لیکن اپنے گناہ کے ساتھ تعلق میں مَیں خود ترسی میں اِس قدر بے انتہا گھری ہوئی تھی۔ آخرکار پاک روح نے مجھے میرے ماضی کے گناہوں کی سزا یابی کے تحت کر دیا۔ اُنہوں نے میرا تعاقب کیا اور میں کبھی بھی اُن سے پیچھا نہ چھڑا سکی۔ میں نے تعجب کیا، ’’مجھ سے کیسے وہ گناہ سرزد ہوئے؟ میں کس طرح گناہ میں اتنا ڈوب سکتی تھی؟‘‘ پاک روح نے مجھ پر آشکارہ کیا کہ یہ گناہ میرے بدکار، فریبی دِل سے نکلے تھے۔ میں مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتی آپ کے دِل کی تاریکی اور نامعقول مضحکہ خیزی کے لیے ایک نظریے کا دیا جانا کیسا لگتا ہے۔ میں اُس کے بارے میں جو میں جانتی تھی کہ خُدا نے دیکھا انتہائی شرمندگی اور کراہت میں تھی۔ میں نے سب کچھ جان لینے والے خُدا کے سامنے ایک ناتوان مخلوق کی مانند محسوس کیا؛ وہ خُدا جو میرے خیالات اور مقاصد کو جانتا تھا؛ وہ خُدا جو جانتا تھا وہ سب کچھ جو میں نے کیا، حتٰی کہ گرجہ گھر میں بھی کام کی جڑیں خودغرضی کے گناہ میں تھیں۔ ہر مرتبہ جب میں گرجہ گھر گئی میں نے خود کو شفاف مسیحیوں کے درمیان ایک کوڑھی کی مانند محسوس کیا۔ لیکن ابھی تک میں مسیح پر بھروسہ نہیں کر سکی تھی۔ ’’یسوع‘‘ محض ایک لفظ تھا، ایک فلسفہ، یا کوئی ایسا جسے میں جانتی تھی کہ وجود رکھتا ہے لیکن ابھی تک انتہائی فاصلے پر تھا۔ میرے پاس مسیح کے لیے ایک سرد فولادی کراہیت تھی [میں مسیح کو نہیں چاہتی تھی]۔ مسیح کو [تلاش کرنے] کی کوشش کرنے کے بجائے، میں نجات کے احساس کو تلاش کر رہی تھی، یا اپنے ایمان کو [ثابت] کرنے کے لیے کسی قسم کے ’’تجربے‘‘ کو ڈھونڈ رہی تھی۔

وہ نوجوان خاتون بدحال تھی۔ اُس نے اِس کو بہت خوبصورتی سے ڈھانپا تھا۔ بہت سے لوگوں کو نہیں پتا چلا تھا کہ اُس کے باطن میں کس قدر ہولناک جدوجہد جاری تھی۔ لیکن اندرونی طور پر وہ انتہائی اذیت میں تھی، جیسے جان بننیعئن John Bunyan تھا۔

میں پچاس سالوں سے زیادہ عرصے سے ہائی سکول اور کالج کی عمر کے نوجوان لوگوں کی مشاورت کرتا رہا ہوں۔ میں نے دریافت کیا کہ اُن میں سے بہت سوں – اُن میں سے انتہائی بہت سوں – کے پاس ذہنی دباؤ یا کھیچاؤ اور خوف اور پریشانی ہے – جیسی کہ اُس نوجوان خاتون کے پاس تھی۔ اُن میں سے بہت سوں نے اپنی اندرونی تکلیف کو کم کرنے کے لیے خود کو منشیات اور شراب نوشی کی جانب موڑ دیا۔ دوسرے اپنے ذہنوں کو خالی کرنے کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والی ویڈیو گیمز کھیلتے۔ کچھ فحش فلموں کے دیکھنے کے عادی ہو جاتے۔ اگر اُن کے ذہن جنسی تعلقات کے ساتھ مصروف رہتے ہیں، تو یہ اُنہیں یہ سوچنے سے کہ وہ کس قدر بدحال ہیں روکے رکھتا ہے۔ میں نے حال ہی میں پڑھا کہ خود کشی دوسرے نمبر سے بڑھ کر کالج کی عمر کے نوجوانوں کے درمیان موت کا سبب بن گئی۔ وہ اِس قدر شدید پریشان، اور انتہائی اُداس ہو جاتے کہ خود کو قتل کر لیتے۔ ایک نوجوان شخص نے خودکشی کا خط چھوڑا جس میں لکھا تھا، ’’میں اپنے ذہن کو بند کرنے اور خود کو بُھلانے کے لیے کسی دوسرے راستے کے بارے میں نہیں سوچ سکا۔‘‘

میں نے پایا ہے کہ آج کی دُنیا میں زیادہ تر لوگوں کے لیے 15 سے 25 سال کی عمر کا عرصہ گزارنا سب سے مشکل ترین ہوتا ہے۔ دوست آپ سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ دوست لڑکے اور لڑکیاں آپ کو چھوڑ دیتے ہیں اور آپ کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ سکول کا کام مشکل ہوتا ہے اور آپ کے لیے ذہن لگانا مشکل ہوتا ہے۔ پھر پیچھا چُھڑانے کا کوئی اور رستہ نظر ہی نہیں آتا!

خُدا نے آپ کے گناہوں سے پیچھا چُھڑانے کے لیے ایک راستہ فراہم کیا ہوا ہے – لیکن آپ کو اِس کی سمجھ نہیں آتی۔ خُدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو آپ کے گناہوں کو اپنے خون سے دھونے کے لیے صلیب پر مرنے کے لیے بھیج دیا۔ لیکن آپ کو اِس کی سمجھ نہیں آتی ہے۔ آپ میں سے کچھ سوچتے ہیں، ’’کیسے کسی ایسے شخص کا خون جو 2,000 سال پہلے زندہ تھا آج میرے گناہوں کو دھو سکتا ہے؟‘‘ اِس لیے آپ اُس خاتون کی مانند جن کے بارے میں مَیں نے ابھی پڑھا تھا درد اور تکلیف میں رہنا جاری رکھتے ہیں۔

ہمارے گرجہ گھر میں ایک نوجوان خاتون کالج کے چار کورسز پڑھاتی ہیں۔ اُس نے اپنے باپ کو بتایا کہ اُس کی کلاسز میں نوجوان لوگوں نے جان لیا کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔ اُس نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ سیاست دان حالات کو بہتر نہیں کر سکتے۔ وہ جانتے ہیں کہ دُنیا ابتری کا شکار ہے – اور یہاں کوئی سچی اُمید باقی نہیں رہی ہے۔ لیکن وہ کرتے کیا ہیں؟ وہ اپنے آپ کو ایک اور ویڈیو گیم میں مصروف کر دیتے ہیں، یا اپنے ذہنوں کو منشیات اور بھنگ کے ساتھ سُن کر لیتے ہیں۔ اُن میں سے کچھ تو کام کرنے کے عادی بن جاتے ہیں، اور اپنے مسائل کو بُھلانے کے لیے کام کے کبھی نہ ختم ہونے والے گھنٹوں میں غرق ہو جاتے ہیں۔ اُن کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد خود کشی کر لیتی ہے۔ کتنا ہولناک ضیائع! کاش اگر وہ یہ دیکھ سکتے کہ یہ گناہ ہے جو اُنہیں تباہ کر رہا ہے! کاش اگر وہ یقین کر لیتے کہ ’’اُس کے بیٹے یسوع مسیح کا خون ہمیں ہر گناہ سے پاک کرتا ہے‘‘ (1یوحنا1:‏7)۔ لیکن اِس گناہ سے بھرپور دُنیا میں بہت سے لوگوں کی مانند، وہ سوچتے ہیں کہ یسوع کا خون محض ایک عام سی بات ہے – اتنی اہم بھی نہیں کہ اِس کے بارے میں سوچا جائے۔ اور یہ ہمیں دوسرے نقطے کی طرف لے جاتی ہے۔

II. کیا آپ سوچتے ہیں کہ یسوع کا خون ’’خاص‘‘ ہے؟

پطرس رسول نے سوچا تھا۔ اُس نے کہا، ’’تم جانتے ہو کہ تم نے اُس نکمے چال چلن سے خلاصی پائی ہے ... لیکن مسیح کے قیمتی خون سے پائی ہے‘‘ (1پطرس1:‏18، 19)۔ وہ جانتا تھا کہ ایک گنہگار ہونا کیسا لگتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اپنے تمام دوستوں کو کھو دینا کیسا لگتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ایک پریشان ضمیر کے ساتھ تنہا ہونا کیسا لگتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ خُدا میں ایمان کھو دینا کیسا لگتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اپنے بہترین دوست کو دھوکہ دینا کیسا لگتا تھا، اور تاریکی میں تنہا ہونا، اور رو رو کر اپنی آنکھیں سوجھا لینا کیونکہ وہ اِن کو خود برداشت نہیں کر سکا۔ وہ جانتا تھا کہ ایک گنہگار کی مانند لگنا کیسا لگتا تھا!

اِسی لیے وہ جانتا تھا کہ گناہ کے دِل کی درد سے آپ ’’مسیح کے قیمتی خون‘‘ کے وسیلے سے – صرف مخلصی پا سکتے ہیں، آپ بچائے جا سکتے ہیں (1پطرس1:‏19)۔ ’’قیمتی‘‘ کا مطلب ہوتا ہے کہ اِس کی انتہائی قدر و اہمیت ہے! ’’قیمتی‘‘ کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ سونے یا چاندی سے زیادہ اہم ہے! یہاں ایک کورسز ہے جس میں یہ سب کو بیان ہو جاتا ہے،

جواہرات کے ایکڑوں، سونے کے پہاڑوں کے مقابلے میں،
   چاندی کے دریا، ان کہے زیورات؛
یہ سب مل کر بھی مجھے یا آپ کو خرید کر نہ دے سکے
   سکون جب ہم سو رہے ہوتے ہیں یا ایک ضمیر جو آزاد ہوتا ہے۔
ایک دِل جو مطمئن ہوتا ہے، ایک تسلی بخش ذہن،
   یہ وہ خزانے ہیں جنہیں دولت نہیں خرید سکتی۔
اگر آپ کے پاس یسوع ہے تو آپ کی جان میں زیادہ دولت ہے
   جواہرات کے ایکڑوں، سونے کے پہاڑوں کے مقابلے میں۔
(’’جواہرات کے ایکڑوں Acres of Diamonds‘‘ شاعر آرتھر سمتھ Arthur Smith‏، 1959)۔

یا، ایک لمحے پہلے جیسا کہ مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے گایا،

آؤ، اے کھوئے اور نااُمید گنہگارو،
   یسوع کا خون تمہیں آزاد کر سکتا ہے؛
کیونکہ اُس نے تمہارے درمیان بدترین کو بچایا،
   جب اُس نے مجھ جیسے گنہگار کو بچایا۔
اور میں جانتا ہوں،جی ہاں، میں جانتا ہوں،
   یسوع کا خون غلیظ ترین گنہگار کو دھو سکتا ہے۔
اور میں جانتا ہوں،جی ہاں، میں جانتا ہوں،
   یسوع کا خون غلیظ ترین گنہگار کو دھو سکتا ہے۔

اور میں جانتا ہوں،جی ہاں، میں جانتا ہوں،
   یسوع کا خون غلیظ ترین گنہگار کو دھو سکتا ہے۔
اور میں جانتا ہوں،جی ہاں، میں جانتا ہوں،
   یسوع کا خون غلیظ ترین گنہگار کو دھو سکتا ہے۔
(’’جی ہاں، میں جانتا ہوں!‘‘ شاعر عانہ ڈبلیو۔ واٹرمین Anna W. Waterman‏، 1920)۔

وہ نوجوان خاتون جن کا میں نے پہلے حوالہ دیا تھا جاری رہتے ہوئے یہ کہتی ہیں،

      میرا گناہ کسی بے اتھاہ گہرائی والے سمندر کی مانند پھیلتا چلا گیا۔ میں اِس کومذید اور برداشت نہ کر سکی۔ مجھے مسیح چاہیے ہی تھا! مجھے اُس کا خون چاہیے ہی تھا! میں اپنے گھٹنوں پر گِر گئی اور ... یسوع خود پر بھروسہ کیا۔ [میں] اپنے احساسات، نفسیاتی تجزیوں کے بتوں سے آزاد [تھی]، اور یقین دہانی کی خواہش سے آزاد تھی... میں نے اُن سب کو جانے دیا اور نجات دہندہ کے سامنے ہار مان لی... اُس نے میرے گناہوں کو اپنے قیمتی خون میں ڈبو دیا؛ اُس نے میرے گناہ کا بھاری بوجھ دور کر دیا!... میرے اندراج کو خود اُس کے اپنے خون کے ساتھ ’’بے قصور‘‘ کی مہر لگ گئی ہے!... میں مکمل طور پر اُس اطمینان اور سکون کو بیان نہیں کر سکتی جو گناہوں کے معاف کر دیے جانے سے آتا ہے اور خُدا کے قہر کو تشفی دینے سے آتا ہے۔ میں اُن تمام کے لیے خواہش کرتی ہوں، خاص طور پر اُن کے لیے جنہوں نے میری مانند جدوجہد کی، یسوع سے معافی کا تجربہ کر سکیں! اُس نے میرے گناہ کا الزام قبول کیا۔ اُس نے ساری ادائیگی کی! وہ انجیل، وہ ’’خوشخبری‘‘ جو پہلے اِس قدر بور اور بے جان تھی، اب ہیجان خیز ہے اور میرا دِل شکرانے اور خوشی کے ساتھ لبریز ہو جاتا ہے جب میں یسوع کے بارے میں واعظ سُنتی ہوں۔

اِس سے زیادہ میں کیا کہہ سکتا ہوں؟ اگر آپ یسوع کے پاس آتے ہیں، تو آپ اُس کے خون کے بارے میں ایک ’’عام چیز‘‘ کے طور پر مذید اور نہیں سوچیں گے۔ اوہ، جی نہیں! تب پھر آپ انتہائی خوشی اور جوش کے ساتھ ’’مسیح کے قیمتی خون‘‘ کے بارے میں بات کریں گے (1پطرس1:‏19)۔

اگر آپ یسوع کے خون کے وسیلے سے اپنے گناہ سے پاک صاف ہونے کے بارے میں ہمارے سے بات کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی سے اپنی نشست ابھی چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک اور کمرے میں لے جائیں گے جہاں ہم بات کر سکیں گے اور دعا کر سکیں گے۔ مہربانی سے اجتماع گاہ کی پچھلی جانب ابھی چلے جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ آج صبح کوئی ایک یسوع پر بھروسہ کرے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: عبرانیوں10:‏26۔31 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’جی ہاں، میں جانتا ہوں! Yes, I Know!‘‘ (شاعر عانہ ڈبلیو۔ واٹرمین Anna W. Waterman‏، 1920)۔

لُبِ لُباب

خون – عام یا قیمتی؟

?THE BLOOD – COMMON OR PRECIOUS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’ایک ناپاک چیز‘‘ (عبرانیوں10:‏29)۔

’’مسیح کا قیمتی خون‘‘ (1پطرس1:‏9)۔

I.   اوّل، کیا آپ یسوع کے خون کے بارے میں ایک ’’ناپاک چیز‘‘ کے طور پر سوچتے
ہیں؟ عبرانیوں10:‏31؛ 1یوحنا1:‏7 .

II.  دوئم، کیا آپ سوچتے ہیں کہ مسیح کا خون ’’قیمتی‘‘ ہے؟
1پطرس1:‏18، 19 .