Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

اے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟

?WATCHMAN, WHAT OF THE NIGHT
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
10 نومبر، 2013، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, November 10, 2013

’’دومہ کی بابت بارِ نبوت: کسی نے مجھے شعیر سے پکارا، اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟ اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟ پاسبان جواب دیتا ہے، صبح ہوتی ہے اور رات بھی: اگر تُم پُوچھنا چاہتے ہوتو پُوچھو: واپس پلٹو، آؤ‘‘ (اشعیا21:‏11،12).

لفظ ’’دومہ Dumah‘‘ اِدوم کی ایک قسم ہے۔ اِدوم کے لوگ پریشانیوں اور خدشوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے اشعیا نبی کو پکارا، ’’اے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟ اے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟‘‘ ڈبلیو۔ ای۔ وائن W. E. Vine نے کہا کہ، ’’پاسبان وہ ہوتا ہے جو خُدا کی مشاورت میں کھڑا ہوتا ہے، جانتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے اور واقعہ کی تاڑ میں رہتا ہے... وہ خُدا کی رفاقت کے ساتھ پہرہ کے مینار پر کھڑا رہتا ہے‘‘ (اشعیا: پیشنگوئیاں، وعدے، تنبیہات Isaiah: Prophecies, Promises, Warnings، صفحہ 14)۔

مسائل میں سے ایک جس کا سامنا ہمیں ہے یہ ہے کہ آج چند ہی ’’پاسبان‘‘ ہیں۔ چند راتیں پہلے میں نے ٹیلی وژن پر ھال لِنڈسے Hal Lindsey ایک مشہور پیشن گوئی کرنے والے ماہر کو دیکھا۔ اُن کے شو میں ایک مہمان نے کہا ہمیں آج اپنے مسائل کو سمجھنے کے لیے رومیوں کی کتاب کے بجائے مکاشفہ کی کتاب کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ھال لِنڈسے نے اُن سے اتفاق کیا۔ میرے لیے ہمارے گرجہ گھروں میں اور ہماری ثقافت میں مسائل کی وہ ایک انتہائی ہلکی اور غیرسچی تشخیص ہے۔ اِس کا بالکل اُلٹ سچ ہے۔ مکاشفہ حالانکہ ایک انتہائی اہم کتاب ہے، لیکن اِس وقت کے لیے رومیوں کی کتاب کو بائبل کی مرکزی کتاب ہونا چاہیے! ہمارے گرجہ گھروں میں ان کہے ہزاروں، حتٰی کہ لاکھوں غیر نجات شُدہ لوگوں کے ساتھ – ہمیں رومیوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، ورنہ ہم کبھی بھی نہیں سمجھ پائیں گے کہ اُن کی سچی نجات کی تلاش میں کیسے مدد کریں! بہت سی ’’پیشنگوئیوں کے ماہرین‘‘ واقعی میں ’’پاسبان‘‘ ہونے کے لیے نااہل ہیں – نااہل اِس لیے کیونکہ وہ ’’فیصلہ سازیت‘‘ کے شیطانی عقیدوں کے ذریعے سے ہمارے گرجہ گھروں پر آئی ہوئی بربادی اور تباہی سے لاعِلم ہیں۔

لیکن اِدوم کے رہنما آج کے بہت سے مسیحیوں کے مقابلے میں کافی عقلمند تھے۔ وہ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ’’دبے ہوئے‘‘ تھے۔ اُنہوں نے محسوس کیا تھا کہ اُن پر سزا پڑنے والی ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے سچے نبی اور پاسبان اشعیا کے لیے پکارا۔ اُنہوں نے پکارا،

’’اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟ اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟
       (اشعیا 21:‏11).

اُنہوں نے ایک تکلیف میں مبتلا اور بیمار شخص کی مانند پکارا تھا۔ رات کے طویل گزرتے ہوئے گھنٹوں میں، تکلیف میں مبتلا مریض پکارتا ہے، ’’کتنی رات باقی رہ گئی ہے؟ کتنی رات باقی رہ گئی ہے؟‘‘ (NIV)۔ پاسبان نبی جواب دیتا ہے، ’’صبح ہوتی ہے، اور رات بھی۔‘‘

وہ اشعیا کے پاس کیوں آئے تھے؟ کیا وہاں اِدوم میں مستقبل کا حال بتانے والے، ستاروں کی چال بتانے والے اور جادوگر نہیں تھے؟ وہ اپنی اذیت سے بھری پکار کے ساتھ یروشلم میں کیوں آئے تھے؟ لوگ مستقبل کا حال بتانے والوں کے پاس اُس وقت جاتے ہیں جب حالات اچھے جا رہے ہوں۔ لیکن جب اذیت اور موت ہمارے پاس آتی ہے، تو کون مستقبل کا حال بتانے والے، ستاروں کی چال بتانے والے یا جادوگر کو چاہتا ہے؟ موت کے چہرے میں، ہمیں دنیاوی دانائی نہیں چاہیے ہوتی۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ خُدا کیا کہتا ہے! جب حالات اچھے جا رہے ہوں تو مستقبل کا حال بتانے والوں اور ستاروں کی چال بتانے والوں کے پاس بتانے کے لیے شاید اچھی باتیں ہوں۔ لیکن اذیت اور خوف کے وقت میں، لوگ اکثر خُدا کے بندے کو ڈھونڈتے ہیں۔ اور وہ پکارتے ہیں،

’’اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟ اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟
       (اشعیا 21:‏11).

سوچیں اِس صبح کیسے وہ ہمارے لیے بات کرتا ہے!

I۔ اوّل، تلاوت کا اِطلاق قوموں کے لیے ہوتا ہے۔

1914 میں، جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تھی، لارڈ ایڈورڈ گرے Lord Edward Grey تمام رات ہوئے کابینہ کے ایک اجلاس سے باہر نکلے۔ وہ برطانیہ کے وزیر خارجہ تھے۔ صبح کے ابتدائی گھنٹوں میں، لارڈ ایڈورڈ کابینہ کے ایک اور رُکن کے ساتھ اُس اجلاس میں سے چلے آئے تھے۔ اُنہوں نے ساری رات جنگ پر بحث کرنے میں گزار دی تھی۔ اُس وقت ابھی تک سڑکوں پر بجلی سے چلنے والی روشنیاں نہیں تھیں، محض گیس لیمپ ہوتے تھے۔ جب لارڈ ایڈورڈ عمارت سے باہر نکلے تو ایک لیمپوں کو جلانے والا سڑک کے ایک لیمپ سے دوسرے تک گیس بند کرنے کے لیے جا رہا تھا۔ لارڈ ایڈورڈ گرے اپنے دوست کی طرف مڑے اور کہا، ’’تمام یورپ میں چراغ گُل ہو رہے ہیں۔ ہم اپنی زندگی میں انہیں دوبارہ جلتا ہوا نہیں دیکھ پائیں گے۔‘‘ وہ کس قدر دُرست تھے! آنے والے سالوں میں روس اشتراکیت پسندی میں پڑ گیا، جرمنی معذور دباؤ میں چلا گیا اور ھٹلر کے ہاتھوں میں گر پڑا، اٹلی موسولولینی Mussolini کے ہاتھوں میں چلا گیا، فرانس اور انگلستان جنگ عظیم دوئم کے باعث اِس قدر کمزور پڑگئے تھے، کہ وہ دوبارہ اپنے گذشتہ جاہ وجلال کو برقرار نہ رکھ پائے۔ یورپ کی پرانی دُنیا مر رہی تھی، اپنی قدیم شان و شوکت میں دوبارہ کبھی اضافہ نہ کرنے کے لیے۔

امریکہ بھی مر رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں اُس بُرے شخص نے مکمل طور پر سمجھ کھو دی ہے۔ ایسا ہی جمہوریت سے تعلق رکھنے والے ریپبلیکنز Republicans نے کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے میری بیوی اور میں نے این کولٹر Ann Coulter کو نیکسن لائیبریری Nixon Library اور جائے پیدائش میں بات کرتے ہوئے سُنا۔ وہ ہجوم جو اُنہیں سُننے کے لیے آیا تھا نیکسن کی ’’خاموش اکثریت‘‘ کے بجائے ووڈ سٹاک Woodstock کے تجربہ کار ہپّی لوگوں کی مانند زیادہ لگ رہا تھا۔ میں نے اپنی بیوی کو بتایا، ’’اگر یہ قدامت پسند ہیں، تو خُدا ہی ہماری مدد کرے!‘‘

کیا آپ سوچتے ہیں کہ امریکہ رہے گا اور خوشحال ہوگا؟ 2012 میں دیموکریٹک نیشنل اجتماع Democratic National Convention میں جو کچھ میں نے دیکھا اُس کے بعد، میں ہمارے لیے کوئی اُمید نہیں دیکھتا! گذشتہ ہفتے بلی گراہم کی ’’میری اُمید My Hope‘‘ کی نشریات میں اُس کے غیر منطقی اور بیکار پیغام کو دیکھنے کے بعد، میں ہمارے لیے کوئی اُمید نہیں دیکھتا ہوں۔ یہ اِس لیے نہیں کہ وہ بوڑھا تھا۔ یہ اِس لیے تھا کیونکہ اُس کا پیغام ایک مرتی ہوئی قوم کو روحانی تذبذب سے باہر نکالنے میں مدد کرنے کے لیے بے انتہا گڈمڈ تھا۔ بہت سال پہلے اُن کے واعظ زیادہ توجہ مرکوز کرتے تھے۔ اُن دِنوں میں مسٹر گراہم نے کہا، ’’اگر خُدا امریکہ کا فیصلہ نہیں کرتا تو اُس کو سدوم اور عمورہ سے معزرت کرنی ہوگی۔‘‘ بائبل کہتی ہے،

’’شریر اور وہ سب قومیں جو خدا کو بھلا دیتی ہیں، عالم اسفل میں اُتر جاتی ہیں‘‘
       (زبُور 9:‏17).

گذشتہ ہفتے ایک آدمی نے مجھے کنساس Kansas سے میری کتاب مرتی ہوئی قوم کو منادی کرنا Preaching to a Dying Nation کی ایک کاپی منگوانے کے لیے فون کیا۔ اُس نے کہا، ’’آپ صیحیح ہیں۔ ہماری قوم مر رہی ہے۔‘‘ اُس نے مجھے بتایا وہ صرف 230 لوگوں کے کنساس کے چھوٹے سے قصبے میں رہتا ہے۔ اُس نے کہا کہ یہ اِس قدر چھوٹا ہے کہ اُن کے پاس تو یہاں تک کہ پولیس کی نفری بھی نہیں ہے۔ لیکن اُس نے کہا کہ دس سال پہلے تک سال میں 2 یا 3 مرتبہ قریبی بڑے قصبے سے پولیس آتی تھی۔ ’’اب،‘‘ اُس نے کہا، ’’وہ دِن میں 2 یا 3 بار آتے ہیں!‘‘ اور اُس نے مجھے بتایا کہ اُس قصبے میں گرجہ گھر کے کتنے ارکان شراب پی کر مدہوش ہو جاتے ہیں اور منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔ اُس نے بتایا کہ اُس نے اُن میں سے ایک سے کہا کہ اُس کو نجات پانے کی ضرورت ہے۔ اُس نے کہا کہ آدمی نے اُس کی طرف دیکھا اور غُرایا، ’’میں بچایا جا چکا ہوں!‘‘ اُس نے کہا یوں لگتا تھا جیسے کوئی شیطان ایک انجیلی بشارت کے گرجہ گھر کے اِس منشیات استعمال کرنے والے رُکن کے آنکھوں میں سے اُس کو گھور رہا تھا! ساحل سے ساحل تک ہمارے گرجہ گھر اُن جیسے مبشران انجیل کے ساتھ بھر رہے ہیں، امریکہ کے دِن گِنے جا چکے ہیں! جیسا کہ ایسا دانی ایل کے زمانے میں تھا،

’’خدا نے تیرے عہد کے دن گن کر اُن کا خاتمہ کردیا۔ تُو ترازو میں تولا گیا اور کم نکلا‘‘ (دانی ایل 5:‏26،27).

ایسا قوم میں رہنا کیسا لگتا ہے جو خُدا کے قہر سے سزا پانے کے قریب ہے؟ یہ اِس طرح محسوس ہوتا ہے! بد نصیب قوم میں زندہ رہنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے! یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کو شراب پیتے اور ناچتے دیکھ رہے ہیں – ٹائٹینک Titanic پر، اُس کے اُس برفانی تودے سے ٹکرانے سے بالکل پہلے! اوباما کی قوم کے تنفر میں یہ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے!

ہر اِتوار کو گرجہ گھر کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ہوتا ہے۔ کوئی ایک بھی گناہ کے تحت سزایابی میں نہیں ہے۔ کوئی بھی پورے دِل کے ساتھ مسیح کو نہیں ڈھونڈتا۔ کوئی بھی خُدا سے خوف نہیں کھاتا۔ بائبل کہتی ہے، ’’نہ ہی اُن کی آنکھوں میں خُدا کا خوف ہے‘‘ (رومیوں3:‏18)۔ بائبل کہتی ہے، ’’کوئی خُدا کا طالب نہیں‘‘ (رومیوں3:‏11)۔

’’اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟ اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟
       (اشعیا 21:‏11).

’’جب لوگ کہتے ہوں گے کہ اب امن اور سلامتی ہے اُس وقت اچانک ہلاکت اِس طرح آجائے گی… اور وہ ہرگز نہ بچیں گے‘‘ (1۔ تِسّالُونیِکیوں 5:‏3).

امریکہ بدنصیب ہو چکا ہے، اور آج صبح آپ میں سے یہاں موجود بہت سے اِسے کھنڈرات میں اور غلاظت میں دیکھیں گے! شاعر جیمس رسل لوویل James Russel Lowell (1819۔1891) نے کہا،

ہر شخص اور ہر قوم کو ایک مرتبہ
   فیصلہ کرنے کے لیے لمحہ آتا ہے،
جھوٹ کے ساتھ سچائی کے تصادم میں
   اچھی یا بُری سائیڈ پر ہونے کے لیے۔
(’’ہر شخص اور ہر قوم کو ایک مرتبہ Once to Every Man and Nation‘‘ شاعر جیمس رسل
   لوویل James Russel Lowell، 1819۔1891)۔

امریکہ نے ایک دفعہ بُری سائیڈ کو چُنا اور ہمارے سکولوں میں دعا کرنے پر پابندی عائد کر دی۔ امریکہ نے ایک مرتبہ بُری سائیڈ کو چُنا اور ہمارے سکولوں میں بائبل پر پابندی عائد کردی۔ امریکہ نے ایک مرتبہ بُری سائیڈ کو چُنا اور ہمارے سینما گھروں میں فحش فلموں کو چلانے کی اجازت دے دی۔ امریکہ نے ایک مرتبہ بُری سائیڈ کو چُنا اور لاتعداد لاکھوں پر لاکھوں بچوں کو چیتھڑے چیتھڑے ہونے کے لیے اور حمل کے نویں مہینے میں نمکین پانی میں مرنے تک اُبالنے کے لیے اجازت دے دی۔ اِس کو ایک یا دو سالوں میں روکا جا چکنا چاہیے تھا – لیکن امریکہ نے قتل ہونے کو جاری رہنے دیا جانا چُنا۔ اب یہ قوم خون میں ڈوب چکی ہے – بچوں کے خون میں ڈوب چکی ہے۔ کیا آپ نے کبھی حیرانی سے سوچا کیوں ٹی وی خون چوسنے والی بلاؤں اور مسخ شُدہ لاشوں سے بھرے پروگرام دیکھاتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی تعجب کیا کیوں بڑے پیمانے پر یہ ہلاکتیں جاری ہیں؟ یہ بندوقیں نہیں ہے جو ہلاکتیں کر رہی ہیں! جی نہیں! یہ لوگ ہیں – امریکہ لوگ ہیں – منشیات اور شراب نوشی میں ڈوبے ہوئے، ویڈیو گیمز اور ماردھاڑ والی فلموں کے ساتھ بے حِس۔ یہ وجہ ہے کہ وہ ھالووین Halloween کی پرستش کرتے ہیں اور اتوار کو گرجہ گھر آنے سے پرھیز کرتے ہیں! فرانسسی فلسفہ دان بلیز پاسکل Blaise Pascal نے کہا، ’’کائنات کی خاموشی مجھے خوفزدہ کر دیتی ہے۔‘‘ ہمیں اِس سے زیادہ اور کتنا خوفزدہ ہونا چاہیے جب خُدا اپنا منہ موڑ لیتا ہے، اور قوم اور لوگ مر جاتے ہیں؟

’’اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟ اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟
       (اشعیا 21:‏11).

II۔ دوئم، تلاوت کا اِطلاق موت اور جہنم کے لیے ہوتا ہے – جو کھوئے ہوئے لوگوں کی دائمی رات ہے۔

موت اور جہنم کی رات آ رہی ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’فریب نہ کھاؤ؛ خُدا ٹھٹھوں میں نہیں اُڑایا جاتا: کیونکہ آدمی جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹے گا‘‘ (گلِتیوں6:‏7)۔ بائبل کہتی ہے، ’’زندہ خُدا کے ہاتھوں میں پڑنا ہولناک بات ہے۔ کیونکہ ہمارا خُدا بھسم کر دینی والی آگ ہے‘‘ (عبرانیوں 10:‏31؛ 12:‏29)۔

جہنم اور موت کی رات ہر اُس آدمی اور عورت کا انتظار کرتی ہے جو خُدا، گرجہ گھر اور نجات دہندہ سے اپنا منہ موڑتا ہے! نجات دہندہ یسوع مسیح کے بغیر آپ اپنے گناہوں میں مُردہ ہیں، اور وہ آپ سے کہے گا، ’’میرے سامنے سے دور ہو جاؤ... میں تم سے کبھی واقف نہ تھا‘‘ (متی 7:‏23)۔ اور اُنہیں ’’باہر اندھیرے میں ڈال‘‘ دیا جائے گا (متی8:‏12؛ 22:‏13؛ 25:‏30)۔

میں بہت بھاری دِل کے ساتھ آپ سے یہ کہتا ہوں۔ میں آپ کے بچائے جانے کے لیے دعا مانگتا ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر آپ توبہ نہیں کرتے، اور یسوع مسیح کی طرف پورے دِل کے ساتھ نہیں مڑتے، تو آپ کے لیے کوئی اُمید نہیں ہے – ماسوائے جہنم کی دائمی رات میں باہر اندھیرے کے۔

آپ کہتے ہیں، ’’پادری، کیا خُدا مجھے پیار نہیں کرتا؟‘‘ جی ہاں، بلاشُبہ وہ کرتا ہے۔ لیکن وہ کیسے آپ کی مدد کر سکتا ہے، وہ کیسے آپ کے گناہ معاف کر سکتا ہے، وہ کیسے آپ کی جان کو بچا سکتا ہے – اگر آپ جیسے ہیں ایسے ہی رہنا جاری رکھتے ہیں – بغیر توبہ کیے، بغیر خود کو مسیح کے رحم کے حوالے کیے؟ بائبل کہتی ہے،

’’کیونکہ خدا نے دنیا سے اِس قدر محّبت کی کہ اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے‘‘ (یوحنا3:‏16).

یہ ہے جواب! اپنے تمام دِل کے ساتھ یسوع پر یقین رکھیں! اور ہر مرتبہ جب دروازہ کھلا ہوتا ہے گرجہ گھر کے لیے آئیں!

خود کو اُس [یسوع] کے رحم کے حوالے کر دیں! جو کچھ آپ میں ہے اُس تمام کے ساتھ مسیح کی جانب رُخ کریں! یہی نجات کا راستہ ہے – اور یہی واحد راستہ ہے! تلاوت کے بارے میں ایک آخری مرتبہ سوچیں۔ خصوصی طور پر آخری دو الفاظ پر دھیان دیں، ’’واپس پلٹو، آؤ۔‘‘

’’دومہ کی بابت بارِ نبوت: کسی نے مجھے شعیر سے پکارا، اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟ اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟ پاسبان جواب دیتا ہے، صبح ہوتی ہے اور رات بھی: اگر تُم پُوچھنا چاہتے ہوتو پُوچھو: واپس پلٹو، آؤ‘‘ (اشعیا 21:‏11،12).

تلاوت کا اختتام الفاظ، ’’واپس پلٹو، آؤ‘‘ کے ساتھ ہوتا ہے (اشعیا21:‏12)۔ مسیح کی طرف واپس پلٹیں! مسیح کے پاس آئیں! اُس خون کے وسیلے سے جو اُس نے صلیب پر بہایا پاک صاف ہو جائیں! جیسا کہ ایک پرانا حمد و ثنا کا گیت یوں کہتا ہے،

کیا چیز میرے گناہ کو دھو سکتی ہے؟
   کوئی بھی نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔
کیا چیز مجھے دوبارہ مکمل کر سکتی ہے؟
   کوئی بھی نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔
اوہ! قیمتی ہے وہ بہاؤ
   جو مجھے برف کی مانند سفید بناتا ہے؛
اور کوئی دوسرا چشمہ میں نہیں جانتا،
   کچھ نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔
(’’کچھ بھی نہیں ماسوائے خون کے Nothing But the Blood‘‘ شاعر رابرٹ لوری Robert
Lowry، 1826۔1899).

مجھے اِس واعظ کا اختتام یہ کہے بغیر نہیں کرنا چاہیے کہ اِس کا بنیادی مقالہ سرسری طور پر افسانوی پادری ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل کے دیے گئے ایک واعظ پر مشتمل ہے۔ (ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل، پی ایچ۔ ڈی۔ W. A. Criswell, Ph.D.، اشعیا: ایک تفسیر Isaiah: An Exposition، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1977، صفحات 129۔134)۔

ایک اور واعظ میں، ڈاکٹر کرسویل نے یہ کہا:

ڈاکٹر جارج ڈبلیو۔ ٹریوٹ Dr. George W. Truett، جو کہ ڈلاس میں پہلے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں مجھ سے پہلے تھے، اُنہوں نے اپنے واعظوں میں سے ایک میں اپنی مسیح میں تبدیلی کے بارے میں ایک چھوٹے سے حوالے میں [بتایا]: ’’ایک رات میں سامعین میں بیٹھا تھا اور مبلغ کو سُنا جب اُس نے التجا کی کہ ایک جان کو بچانے کے لیے مسیح کے شاید اپنے طریقے ہوتے ہیں۔ میں نے کہا، ’خُداوند یسوع، یہاں کُل اندھیرا ہے؛ میں سمجھ نہیں سکتا ہوں، مگر تاریکی یا نور، زندگی یا مرنا، جو چاہے آ جائے، میں خود کو اب تیرے حوالے کرتا ہوں۔‘ [اور ڈاکٹر ٹریوٹ نے کہا] اُس نے اُس وقت مجھے بچا لیا۔‘‘ (کرسویل، ibid.، صفحہ217)۔

یہ وہ طریقہ تھا جس سے مشہور مبلغ ڈاکٹر ٹریوٹ نے نجات پائی تھی۔ اور یہی طریقہ آپ کے نجات پانے کا بھی ہونا چاہیے۔ آپ کو یسوع کے پاس آنا چاہیے اور اپنے دِل میں کہنا چاہیے، ’’تاریکی یا نور، زندگی یا موت، جو چاہے آ جائے، میں خود کو تیرے حوالے کرتا ہوں۔‘‘ اپنے گناہ کا اعتراف کریں اور خود کو یسوع کے رحم کے حوالے کر دیں۔ کلوری کی صلیب پر اُس نے جو پاک خون بہایا اُس کے وسیلے سے اپنے گناہ سے پاک صاف ہو جائیں!

کیا چیز میرے گناہ کو دھو سکتی ہے؟
   کوئی بھی نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔
کیا چیز مجھے دوبارہ مکمل کر سکتی ہے؟
   کوئی بھی نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔

اگر آپ یسوع کے خون کے وسیلے سے اپنے گناہ سے پاک صاف ہونے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں، تو مہربانی سے اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan آپ کو ایک دوسرے کمرے میں لے جائیں گے جہاں ہم بات کر سکیں گے اور دعا کر سکیں گے۔ ابھی جائیں۔ ڈاکٹر چعین، مہربانی سے دعا کریں کہ کوئی ایک ابھی یسوع پر بھروسہ کرے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: اشعیا 21:‏11۔12 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’یسوع، صرف یسوع Jesus, Only Jesus ‘‘ (شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔

لُبِ لُباب

اے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟

?WATCHMAN, WHAT OF THE NIGHT

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’دومہ کی بابت بارِ نبوت: کسی نے مجھے شعیر سے پکارا، اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟ اَے پاسبان، رات کی کیا خبر ہے؟ پاسبان جواب دیتا ہے، صبح ہوتی ہے اور رات بھی: اگر تُم پُوچھنا چاہتے ہوتو پُوچھو: واپس پلٹو، آؤ‘‘ (اشعیا21:‏11،12).

I.   اوّل، تلاوت کا اِطلاق قوموں کے لیے ہوتا ہے، زبور 9:‏17؛ دانی ایل 5:‏26، 27؛
رومیوں3:‏18،11؛ 1۔ تسالونیکیوں 5:‏3 .

II.  دوئم، تلاوت کا اِطلاق موت اور جہنم پر ہوتا ہے – جو کھوئے ہوئے لوگوں کی دائمی
رات ہے، گلِتیوں 6:‏7؛ عبرانیوں 10:‏31؛ عبرانیوں 12:‏29؛ متی7:‏23؛ 8:‏12؛
22:‏13؛ 25:‏30؛ یوحنا3:‏16 .