Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

فرزندیت!

!ADOPTION
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
3 نومبر، 2013، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, November 3, 2013

’’چونکہ تُم فرزند ہو اِس لیے خدا نے اپنے بیٹے کا رُوح ہمارے دلوں میں بھیجا اور وہ رُوح ابّا یعنی اَے باپ کہہ کر پُکارتا ہے‘‘ (گلِتیوں 4:6).

تثلیث کا عقیدہ بنیادی ہے۔ سچے مسیحی اُن تمام تعلیمات کو مسترد کرتے ہیں جو اِس کا انکار کرتی ہیں۔ تثلیث کا عقیدہ مسیحیت کی بنیاد ہے۔ اور یہاں، ہماری تلاوت میں، ہمارے پاس ایک ہی آیت میں تثلیث کی تینوں ہستیاں موجود ہیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ خُدا باپ نجات کا مصنف ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ جب ہم مسیح میں تبدیل ہوتے ہیں تو وہ اپنے بیٹے کی پاک روح ہمارے دِلوں میں بھیجتا ہے۔ ہم شاید مکمل طور پر ایک میں تین خُدائے قادر کو نہ سمجھ پائیں۔ لیکن ہم اُس کو پاک کلام میں آشکارہ ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔ اِس لیے ہم ایمان کے وسیلے سے تثلیث کو قبول کرتے ہیں۔

تلاوت ظاہر کرتی ہے کہ تینوں ہستیاں خُدا ہیں۔ دو مرتبہ خُدا بات کا ذکر تلاوت میں کیا گیا ہے – ایک مرتبہ بطور ’’خُدا‘‘ اور دوبارہ بطور ’’باپ۔‘‘ تلاوت لاگو کرتی ہے کہ مسیح خُدا ہے۔ وہ جسمانی طور پر ایک عورت سے پیدا ہوا۔ لیکن اُس کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اُس کو ’’بھیجا گیا‘‘– اور اِسی لیے وہ اپنے پیدا ہونے سے پہلے وجود رکھتا تھا۔ اِس کے علاوہ اُس کو ’’بیٹا‘‘ بھی کہا جاتا ہے – جس کا پاک کلام میں مطلب ہوتا ہے کہ اُس کی وہی زندگی (روح) ہے جو کہ باپ کی ہے۔ یہ مسیح کی خُدائی ثابت کرتی ہے۔ پھر، پاک روح کچھ ایسا کرتا ہے جو صرف خُدا کر سکتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کے دِلوں میں رہتا ہے۔ اِس لیے ہمارے پاس پاک تثلیث کی تینوں ہستیوں کے نام ہیں – ’’خُدا باپ،‘‘ ’’روح،‘‘ اور ’’اُس کا بیٹا۔‘‘

سچے مسیحی جانتے ہیں کہ ہماری نجات کے لیے تینوں ہستیاں ضروری ہیں۔ ہم باپ سے محبت کرتے ہیں کیونکہ اُس نے ہمیں اپنے بچے ہونے کے لیے چُنا ہے۔ ہم بیٹے سے اِس لیے محبت کرتے ہیں کیونکہ اُس نے ہمارے گناہوں کو پاک صاف کرنے کے لیے صلیب پر اپنا خون بہایا۔ ہم پاک روح سے اِس لیے محبت کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمیں ہمارے گناہوں کی سزایابی کے تحت لاتا ہے اور ہمیں مسیح کے لیے کھینچتا ہے۔ اِس ہی لیے ہم ہر عبادت میں دو چھوتے گیت گاتے ہیں۔ اوّل، ہم تمجید Doxology کا گیت گاتے ہیں، جس کو 17ویں صدی میں تھامس کین Thomas Ken نے لکھا تھا۔

خُدا کی ستائش ہو جس سے تمام برکتیں نکلتیں ہیں؛
یہاں نیچے تمام مخلوقات اُس کی ستائش کرو؛
عالم بالا پر اے آسمانی میزبانی اُس کی ستائش کرو؛
خُدا باپ، بیٹے اور پاک روح کی ستائش ہو۔ آمین۔
   (’’تمجیدThe Doxology‘‘ شاعر تھامس کین Thomas Ken، 1637۔1711)۔

اور ہم یہ بھی گاتے ہیں ’’گلوریا پیٹری Gloria Patri،‘‘ جو کہ ابتدائی دوسری صدی میں ایک انجان مصنف نے لکھا تھا۔

جلال باپ اور بیٹے،
   اور روح پاک کا ہو؛
جیسا کہ ابتدا میں تھا، اب ہے
   اور ہمیشہ ہوگا،
دُنیا کے ختم ہوئے بغیر۔ آمین، آمین۔
   (’’گلوریا پیٹری Gloria Patri،‘‘ ماخذ انجان، دوسری ابتدائی صدی میں)۔

یہ دو چھوٹے حمد و ثنا کے گیت ہمارے ذریعے سے اتوار کو ہر عبادت میں گائے جاتے ہیں – کیونکہ یہ پاک تثلیث کی ستائش، عزت اور جلال کو تعظیم دیتے ہیں، کیونکہ وہ ہی ہمارا خُدا ہے!

مورمن لوگ Mormons کہتے ہیں کہ یہاں پر تین علیحدہ خُدا ہیں۔ لیکن وہ غلط ہیں۔ یہاں صرف ایک ہی خُدا ہے، تین ہستیوں میں۔ یہوواہ گواہی والے Jehovah’s Witnesses یسوع کی خُدائی سے انکاری ہیں۔ لیکن وہ غلط ہیں۔ یسوع خُدا ہے، جو کہ تثلیث کی دوسری ہستی ہے۔ خُدائے قادر میں تین ہستیاں ہیں۔ علم الہٰیاتی آزاد خیال پروٹسٹنٹ، اثر میں، تینوں ہستیوں سے منکر ہیں، جیسا کہ جدید یونیٹیرئینزUnitarians کرتے ہیں – جوکہ اِن دونوں گروہوں کو بجا طور پر مذبذب میں مبتلا کرتا ہے، اور اکثر باہر ہی باہر دہریا بناتا ہے۔ الہٰیاتی آزاد خیالی، چاہے وہ دھیمی فُلر سیمنریFuller Seminary کی ورائٹی ہو، یا بہت زیادہ ہٹ دھرم کلئیرمونٹ گریجوایٹ سکول Claremont Graduate School کی ورائٹی ہو، دونوں ہی تثلیث کو ماضی کے کسی آثار قدیمہ کے طور پر یا الہٰیاتی جعل سازی کے طور پر برتاتے ہیں۔ اِس کا، بِلاشُبہ، مطلب ہوتا ہے کہ اِس قسم کے خُدا کے بارے میں آزاد خیال نظریات نے ہمیشہ یونیٹیرئین اِزم Unitarianism کی رہنمائی نیچے کی جانب پھسلن والی ڈھلوان پر کی ہے – اور، آخر میں، دہریت کی جانب، جہاں خُدا کو سرے سے ہی مسترد کیا جاتا ہے۔

لیکن بائبل خود تعلیم دیتی ہے کہ خُدا ایک تثلیث ہے – اور ہمیں ہمیشہ ایک ہی خُدا کی حضوری میں جھکنا چاہیے – خُدا باپ، بیٹا، اور پاک روح۔ ہمیں اپنی بپتسمہ والی اور پروٹسٹنٹ وراثت کے ساتھ سچے ہونا چاہیے۔ جو اپنے آپ کو مسیحی کہتے ہیں اُن کی ایک بہت بڑی تعداد بشمول کاتھولکز اور اُورتھوڈوکس، نے تعلیم دی ہے کہ خُدا ایک تثلیث ہے۔ تاریخی طور پر بپتسمہ دینے والوں اور انجیلی بشارت والوں نے تثلیث کے عقیدے کو سنبھالا ہے۔

’’چونکہ تُم فرزند ہو اِس لیے خدا نے اپنے بیٹے کا رُوح ہمارے دلوں میں بھیجا اور وہ رُوح ابّا یعنی اَے باپ کہہ کر پُکارتا ہے‘‘ (گلِتیوں 4:6).

ہم تلاوت میں تثلیث کو دیکھ چکے ہیں۔ اب ہم دیکھیں گے کہ اِسکو ہم سے کیا کہنا ہے۔ یہ ایک خوبصورت تلاوت ہے، اور ایک ایسی جس کا گہرا اور لبریز معنی ہے۔

I۔ اوّل، تلاوت فرزندیت کے عقیدے کے بارے میں بات کرتی ہے۔

تلاوت کہتی ہے، ’’تم فرزند ہو۔‘‘ اور یہ گذشتہ آیت کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو کہتی ہے، ’’... کہ ہم گود لیے ہوئے فرزند ہونے کا درجہ پائیں۔‘‘ خُدا کے ذریعے سے گود لیے جانا ضروری ہے کیونکہ ہم اُس کے قدرتی بچے نہیں ہیں۔ بائبل کہتی ہے کہ ہم ’’خُدا کی نسل ہیں‘‘ (اعمال17:29)۔ لیکن یہ صرف ہماری جسمانی بدن کے لیے اشارہ کرتی ہے، جن کو خُدا نے تخلیق کیا تھا۔ مگر یہ ’’فرزندوں کے گود لیے جانے‘‘ سے قدرے مختلف ہے جن کا ذکر گلِتیوں4:5 میں کیا گیا ہے۔ احیاء نو، جو کہ نئے جنم سے جانی جاتی ہے، ہمیں خُدا کے بچے ہونے کی قدرت عطا کرتی ہے۔ لیکن گود لیا جانا، جو کہ رونما ہوتا ہے جب ہم دوبارہ جنم لیتے ہیں، ہمیں خُدا کے بچے ہونے کے حقوق دیتی ہے۔

میرا باپ چلا گیا تھا جب میںدو سال کی عمر کا تھا۔ جب میں تیرہ برس کا تھا تو اپنی والدہ کے ساتھ نہیں رہ سکتا تھا کیونکہ وہاں کوئی کمرہ ہی نہیں تھا۔ اِس لیے میں دوسرے رشتہ داروں کے پاس رہنے کے لیے چلا گیا جب میں تیرہ برس کا تھا۔ لیکن وہاں پر اِس قدر لڑائی جھگڑا اور شراب نوشی ہوتی تھی کہ میں سہ پہر میں پچھلے دروازے سے باہر چلا جاتا تھا، گھاس دار چھوٹی جگہ پر سے گزر کر، ایک پرانی ٹوٹی پھوٹی باڑھ کو پھلانگتا، اور ڈاکٹر اور مسز میک گونزMrs. McGowan کے گھر میں چلا جاتا۔ پھر میں اُن کے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ کھیلتا یا ٹیلی ویژن دیکھتا ۔

میں ہمیشہ اُن کے گھر کے پچھلے دروازے پر دستک دیتا تھا، اور کسی نہ کسی کا مجھے اندر لے جانے کے لیے انتظار کرتا تھا۔ لیکن ایک دِن مسز میک گوون نے مجھے کہا، ’’رابرٹ، تمہیں اب مذید کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اندر آ جایا کرو جب تم یہاں آتے ہو۔‘‘ اُس وقت سے میں اندر چلا جاتا تھا، جیسے کہ میں خاندان کا فرد ہوتا ہوں۔ اور ہفتے میں بے شمار راتوں کو مسز میک گوون مجھے کچن میں آنے کے لیے بُلاتیں اور اُن کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے کہتیں۔ اِس سے مجھے بہت خوشی کا احساس ہوتا، بالکل ایسے جیسے کہ میں اُن کے بچوں میں سے ایک ہوں۔ میں نے کہا، ’’بالکل ایسے‘‘ جیسے اُن کے بچوں میں سے ایک۔ تقریباً چار سالوں کے لیے، اُس وقت سے جب کہ میں 13 سال کا تھا اور اُس وقت تک جب کہ میں 17 سال کا ہوا، وہ مجھے یہاں تک کہ اپنے ساتھ لے جاتے جب وہ چھٹیاں گزارنے کے لیے جاتے۔ میں اُن کا بہت شکر گزار تھا، اور میں نے ایسا اُنہیں اکثر کہا۔ میں ہمیشہ اُنہیں ماؤں کے دِن کا کارڈ اور اُن کے شوہر کو والدوں کے دِن کا کارڈ بھیجتا تھا – جب تک کہ وہ زندہ رہے۔ میں ہمیشہ اُنہیں کرسمس کے تحائف بھیجتا۔ جب وہ بہت بوڑھا ہو گیا، تو میں نے ڈاکٹر میک گوون کو اُن کی نظر کی کمزوری دور کرنے کے لیے ایک مہنگا چشمہ لے کر دیا۔ اُنہوں نے وہ چشمہ اپنے کفن میں پہنا ہوا تھا جب میں نے اُن کے جنازے میں گفتگو کی تھی۔ اُنہوں نے اکثر مجھے کہا کہ میں اُن کےلیے اُن کے بیٹے جیسا ہوں۔ میرے خیال میں وہ جانتے تھے کہ یہ میرے لیے اہم تھا، کیونکہ اُن کے اپنے باپ مر گئے تھے جب وہ چھوٹے ہی تھے، اور اُن کا ایک سوتیلا باپ تھا جو اُس کے ساتھ بُری طرح سے پیش آتا تھا۔ جی ہاں، میں تقریباً اُن کے بچوں میں سے ایک کی مانند تھا – تقریباً – لیکن مکمل طور پر نہیں۔

اِسی طرح سے آپ میں سے کچھ کے ساتھ ہے۔ آپ گرجہ گھر میں آتے ہیں۔ آپ تقریباً محسوس کرتے ہیں کہ آپ گرجہ گھر کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں – تقریباً۔ لیکن کچھ نہ کچھ کمی ہوتی ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ مکمل طور پر نہیں ہوتے ہیں۔ گود لیے جانا ہے جس کی کمی ہوتی ہے! آپ کو خُدا کے وسیلے سے اُس کے بچوں میں سے ایک کی مانند گود لیے جانا چاہیے، ورنہ آپ کبھی بھی سچے دِل سے ہمارے گرجہ گھر کا حصہ نہیں بن پائیں گے۔ حتٰی کہ اگر آپ نے یہیں اِس گرجہ گھر میں جنم لیا ہو اور پلے بڑھے ہوں، آپ کبھی بھی مکمل طور پر تسلی نہیں پائیں گے جب تک کہ آپ کو خُدا کے خاندان میں گود نہیں لیا جاتا۔ سپرجیئن Spurgeon نے کہا کہ وہ شخص جو مسیح میں تبدیل نہیں ہوا ہوتا ہے ’’ایک مجرم کی حالت میں کھڑا ہوتا ہے، ناکہ ایک بچے کے طور پر... [خُدا] کے خلاف ایک باغی، ناکہ ایک بچہ جو کہ اپنے باپ کے پیار سے لطف اندوز ہوتا ہے۔‘‘ آپ کو گود لیے جانے کے وسیلے سے خُدا کا بچہ ہونے کے لیے مسیح میں تبدیل ہونا چاہیے، اور بیٹے ہونے کے استحقاق سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ 1777 میں لکھے گئے ایک انجان حمدوثنا کے گیت میں کہا گیا،

خُدا کے چناؤ کے وسیلے سے ہم بیٹے ہیں،
   جو کہ یسوع مسیح میں ایمان رکھتے ہیں؛
دائمی منزل مقصود کے وسیلے سے،
   الہٰی فضل ہم یہاں پر پاتے ہیں۔
(نمبر 221 ’’ہماری اپنی حمد و ثنا کے گیتوں کی کتاب‘‘ میں،
    سی۔ ایچ۔ سپرجیئنC. H. Spurgeon (1834۔1892 نے مرتب کیا)۔

II۔ دوئم، تلاوت پاک روح کے اُن لوگوں میں جو مسیح میں تبدیل ہوتے ہیں سکونت پزیر ہونے کے بارے میں بات کرتی ہے۔

’’چونکہ تُم فرزند ہو اِس لیے خدا نے اپنے بیٹے کا رُوح ہمارے دلوں میں بھیجا ...‘‘ (گلِتیوں 4:6).

پاک روح ہمیں باپ کی طرف سے عطا ہوتا ہے۔ اور خُدا ہمارے دِلوں میں پاک روح اُس وقت بھیجتا ہے جب ہم نجات پاتے ہیں۔

غور کریں کہ تلاوت کہتی ہے کہ خُدا پاک روح کو ’’ہمارے دِلوں میں‘‘ بھیجتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتی کہ خُدا ہمارے ذہنوں میں روح کو بھیجتا ہے۔ روح آپ کے دِلوں میں آتا ہے۔ آپ کا دِل آپ کی وجودیت کو انتہائی مرکز ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’انسان دِل سے ایمان لا کر راستباز ٹھہرایا جاتا ہے‘‘ (رومیوں10:10)۔

جب آپ خُدا کے بچے ہو جاتے ہیں تو آپ پاک روح کے وسیلے سے مہربند کر دیے جاتے ہیں، جو امن اور خُدا کی قربت لاتا ہے، اور خُدا کے ساتھ رفاقت لاتا ہے۔ باہر کھڑے رہنے کے بجائے، بڑے بیٹے کی مانند، آپ خُدا کے ساتھ رفاقت میں آئیں، جیسا کہ مصرف بیٹے نے کیا جو تبدیل ہو گیا تھا۔ یہاں وہ ہیں جو مسیحی ہونے کا اقرار کرتے ہیں، لیکن کبھی اِس کا تجربہ نہیں کیا۔ وہ ہیں جو فرزند نہیں ہیں، سکونت پزیر ہونے والے روح کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔ وہ حیران ہوتے ہیں کہ ہمارا اِس سے کیا مطلب ہوتا ہے۔ کبھی کبھار تو وہ ہم سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں، یہ کہنے کے لیے کہ ہمارے پاس کچھ ایسا ہے جو اُن کے پاس نہیں ہے۔ میرے خیال میں یہ اُن وجوہات میں سے ایک ہے کہ کائین نے ھابل کا قتل کیا۔ میرے خیال میں اِسی لیے بڑا بیٹا ناراض تھا جب اُس کے کھوئے ہوئے بھائی نے اپنے باپ کی قبولیت سے مزہ لیا اُس دعوت میں جو اُس نے اپنے بیٹے کے لیے دی۔ اور وہ ناراض تھا اور اندر نہیں جانا چاہتا تھا (لوقا15:28)۔ اِس لیے باپ باہر آیا ’’اور اُسے منانے کی کوشش کی‘‘ – اور اُس سے التجا کی (لوقا15:28)۔ خُدا آپ سے مسیح کے پاس آنے کے لیے التجا کر رہا ہے، اور اُس کے گود لیے ہوئے بیٹے کے استحقاق سے لطف اندوز ہونے کے لیے التجا کر رہا ہے! اِس پرانے حمد و ثنا کے گیت کو سُنیے،

’’مجھے اپنا دِل دے دو، بالا سے باپ کہتا ہے،
   ہمارے پیار سے زیادہ قیمتی اُس کے لیے کوئی تحفہ نہیں ہے؛
دھیمے سے وہ سرگوشی کرتا ہے، جہاں کہیں بھی تم ہو،
   شکریے کے ساتھ مجھ پر بھروسہ کرو، اور مجھے اپنا دِل دے دو۔‘‘
’’مجھے اپنا دِل دے دو، مجھے اپنا دِل دے دو،‘‘
   دھیمی سرگوشی کو سُنو، جہاں کہیں بھی تم ہو:
اِس تاریک دُنیا سے وہ تمہیں اُٹھا لے جائے گا؛
   اِس قدر نرمی سے وہ بولتا ہے، ’’مجھے اپنا دِل دے دو۔‘‘
(’’مجھے اپنا دِل دے دو Give Me Thy Heart‘‘ شاعر علیزہ ای۔ حیویٹ
     Eliza E. Hewitt، 1851۔1920)۔

جب آپ اپنا دِل یسوع کے حوالے کرتے ہیں، تو آپ گانے کے قابل ہو جائیں گے،

میں ایک بادشاہ کا بچہ ہوں، بادشاہ کا بچہ؛
یسوع میرے نجات دہندہ کے ساتھ، میں بادشاہ کا بچہ ہوں۔
   (’’بادشاہ کا ایک بچہ A Child of the King‘‘ شاعر ھیریٹ ای۔ بیوایل Harriet E. Buell، 1834۔1910)۔

III۔ سوئم، تلاوت خُدا کے لیے ایک نئی نزدیکی اور محبت کے بارے میں بات کرتی ہے۔

’’چونکہ تُم فرزند ہو اِس لیے خدا نے اپنے بیٹے کا رُوح ہمارے دلوں میں بھیجا اور وہ رُوح ابّا یعنی اَے باپ کہہ کر پُکارتا ہے‘‘ (گلِتیوں 4:6).

تلاوت کے آخری تین الفاظ پر غور کریں، ’’ابّا یعنی اے باپ کہہ کر پکارتا ہے۔‘‘ غور کریں کہ یہ روح ہے جو پکارتی ہے، ابّا، اے باپ۔‘‘ یہ انتہائی دلچسپ ہے۔ رومیوں کی کتاب میں پولوس رسول نے بھی اِس کے بارے میں بات کی ہے۔ اُس نےکہا،

’’تمہیں وہ رُوح نہیں ملی جو تمہیں پھر سے خوف کا غلام بنا دے بلکہ فرزندیت کی رُوح ملی ہے جس کے وسیلہ سے ہم ابّا یعنی باپ کہہ کر پُکارتے ہیں‘‘ (رومیوں 8:15).

پہلے روح خود پکارتا ہے، ’’ابّا، اے باپ۔‘‘ پھر ہم خود پکارنے کے قابل ہوتے ہیں، ’’ابّا، اے باپ۔‘‘ پاک روح پکارتا ہے اور پھر ہم پکارتے ہیں – ’’ابّا، اے باپ۔‘‘ ہمیں اِس طرح پکارنے کے لیے پاک روح متاثر کرتا ہے جب ہم تبدیلی پر خُدا کے بچے بنتے ہیں!

’’ابّا‘‘ ’’باپ‘‘ کے لیے بچوں کا لفظ ہے۔ یہ لفظ ’’ابّا Abba‘‘ باپ کے لیے آرامی زبان کے ایک لفظ کا چھوٹا کیا گیا لفظ ہے۔ یہ عزیز بنانے کے عمل کی ایک اصطلاح ہے جس کو چھوتے بچے اپنے والدوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اِس کا ترجمہ ’’پاپا papa ‘‘ بھی کیا جا سکتا ہے اور شاید یہاں تک کہ ’’ڈیڈی daddy۔‘‘ سپرجیئن نے کہا کہ ابّا ’’ایک لطیف، قدرتی محبت بھرا لفظ ہے، جو اُس کے لیے مناسب ہے جو خُدا کا چھوٹا بچہ ہوتا ہے۔‘‘ جب یسوع گتسمنی کے باغ میں اذیت برداشت کر رہا تھا، وہ زمین پر گر گیا اور پکار اُٹھا، ’’ابّا، اے باپ ... یہ پیالہ مجھ سے لے لے‘‘ (مرقس14:36)۔ وہ خوفزدہ تھا کہ وہ وہیں باغ ہی میں مر جائے گا اِس سے پہلے کہ وہ مصلوب ہونے کے لیے جاتا – اِس لیے وہ اپنے آسمانی باپ کے لیے پکار اُٹھا – ’’ابّا، اے باپ... یہ پیالہ مجھ سے لے لے۔‘‘ یہ پکار ظاہر کرتی ہے کہ یسوع بیٹا کس قدر خُدا باپ کے نزدیک تھا!

اورجب آپ مسیح میں تبدیل ہوجاتے ہیں، خُدا کے گود لیے ایک بچے کی حیثیت سے، تو آپ دعا کرنے کے قابل ہو جائیں گے، جیسے کہ یسوع نے کی تھی، ’’ابّا، اے باپ!‘‘

اپنے گناہ سے منہ موڑ لیں اور یسوع پر بھروسہ کریں۔ اُس لمحے میں اُس کا خون آپ کے گناہ کو پاک صاف کر دے گا، اور اُس کے جی اُٹھنے کی قوت آپکے دِل کو کھول دے گی، اورخُدا آپ کو گود لے لے گا! آپ ہمیشہ کے لیے اُسکے بچے ہو جائیں گے! پھر آپ گانے کے قابل ہو جائیں گے ’’بادشاہ کا ایک بچہ A Child of the King‘‘–

میں کبھی زمین پر ایک جلا وطن کیا اجنبی تھا،
   چُناؤ سے ایک گنہگار، اور جنم سے ایک بیگانہ؛
لیکن مجھے گود لیا جا چکا ہے، میرا نام لکھا جا چکا ہے،
   ایک محل، ایک چوغے اور ایک تاج کا وارث۔
میں بادشاہ کا ایک بچہ ہوں، بادشاہ کا ایک بچہ:
   یسوع میرے نجات دہندہ کے ساتھ، میں بادشاہ کا ایک بچہ ہوں۔
     (’’بادشاہ کا ایک بچہ A Child of the King‘‘ شاعر ھیریٹ ای۔ بیوایل
      Harriet E. Buell، 1834۔1910)۔

اور آپ چارلس ویزلی کے ساتھ گانے کے قابل ہو جائیں گے،

میرا خُدا راضی ہو گیا ہے، اُس کی معاف کر دینے والی آواز مجھے سُنائی دیتی ہے؛
   اُس کا بچہ ہونے کے لیے وہ میرا مالک ہے، میں اب مذید خوف نہیں کرسکتا؛
اعتماد کے ساتھ میں اب نزدیک کھینچتا ہوں، اور ’’باپ، ابّا، باپ!‘‘ پکارتا ہوں،
   اور ’’باپ، ابّا، باپ!‘‘ پکارتا ہوں۔
(’’اُٹھ! میری جان، اُٹھ! Arise! My Soul, Arise!‘‘ شاعر چارلس ویزلی
     Charles Wesley، 1707۔1788)۔

یسوع کے پاس ابھی ایمان کے وسیلے سے آئیں۔ اُس پر بھروسہ کریں اور آپ فوراً خُدا کے بچے بن جائیں گے! مسیح آپ کے گناہ کو اپنے خون سے پاک صاف کر دے گا اور اپنے جی اُٹھنے سے آپ کو زندگی دے گا۔ اگر آپ ایک حقیقی مسیحی بننے کے بارے میں ہم سے بات چیت کرنا چاہیں، تو مہربانی سے ابھی اپنی نشست کو چھوڑیں اور اِس اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک اور کمرے میں لے جائیں گے جہاں ہم آپ کے سوالوں کے جواب دے سکیں گے اور دعا کر سکیں گے۔ ابھی جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ کوئی ایک آج کی صبح یسوع پر بھروسہ کرے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: گلِتیوں 4:3۔7 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’بادشاہ کا ایک بچہ A Child of the King‘‘
(شاعر ھیریٹ ای۔ بیوایل Harriet E. Buell، 1834۔1910)۔

لُبِ لُباب

فرزندیت!

!ADOPTION

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’چونکہ تُم فرزند ہو اِس لیے خدا نے اپنے بیٹے کا رُوح ہمارے دلوں میں بھیجا اور وہ رُوح ابّا یعنی اَے باپ کہہ کر پُکارتا ہے‘‘ (گلِتیوں 4:6).

I.   اوّل، تلاوت فرزندیت کے عقیدے کے بارے میں بات کرتی ہے، اعمال17:29؛
گلِتیوں4:5 .

II.  دوئم، تلاوت پاک روح کے اُن لوگوں میں جو مسیح میں تبدیل ہوتے ہیں سکونت
پزیر ہونے کے بارے میں بات کرتی ہے، رومیوں10:10؛ لوقا15:28 .

III. سوئم، تلاوت خُدا کے لیے ایک نئی نزدیکی اور محبت کے بارے میں بات کرتی
ہے، رومیوں8:15؛ مرقس14:36 .