Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

دُنیا کا سب سے بڑا گناہ

THE WORLD’S GREATEST SIN
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

خُدا کے دِن کی صبح دیا گیا ایک واعظ، 27 اکتوبر، 2013
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں
A sermon preached on Lord’s Day Morning, October 27, 2013
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles

’’وہ جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔ لیکن جو بیٹے کو ردّ کرتا ہے وہ زندگی سے محروم ہوکر خدا کے غضب میں مبتلا رہتا ہے‘‘ (یوحنا 3:‏36).

یہ یوحنا بپتسمہ دینے والے کے الفاظ ہیں۔ یوحنا کا پورا مقصد مردوں اور عورتوں کو مسیح کی جانب موڑنا تھا۔ جب اُس نے یسوع کو اپنی جانب آتے دیکھا، تو یوحنا چیخا، ’’دیکھو خُدا کا برّہ جو جہاں کے گناہ اُٹھا لے جاتا ہے‘‘ (یوحنا1:‏29)۔ یہ یوحنا بپتسمہ دینے والے کی منادی تھی۔ اُس کی تبلیغ کا مقصد لوگوں کو مسیح کی جانب کرنا تھا – اور اُنہیں بتانا تھا کہ گناہ سے نجات کے لیے منجی کی طرف دیکھیں۔

یہ شاید آپ کو حیرت زدہ کر دے کہ یوحنا یسوع کے بارے میں کتنا جانتا تھا۔ شروع میں وہ اُس کو نہیں جانتا تھا۔ دو مرتبہ یوحنا نے کہا، ’’میں اُسے نہیں جانتا‘‘ (یوحنا1:‏31)؛ ’’اور میں اُسے نہیں جانتا‘‘ (یوحنا1:‏33)۔ مگر پھر یوحنا نے کہا، ’’میں نے دیکھ لیا‘‘– ’’اور گواہی دیتا ہوں کہ یہی خُدا کا بیٹا ہے‘‘ (یوحنا1:‏34)۔ جب یوحنا نے یسوع کو بپتسمہ دیا، تو پاک روح نے اپنا دِل کھول دیا اور اُس نے ’’دیکھ لیا‘‘ کہ یسوع ہی خُدا کا بیٹا ہے۔ یوحنا بپتسمہ دینے والا یسوع کا رشتہ دار تھا۔ اِس کے باوجود وہ نہیں جانتا تھا کہ یسوع کون تھا جب تک کہ پاک روح نے اُس کے دِل میں – اُس کے روحانی شعور کو منور نہیں کیا۔ میرے دوست، آپ شاید یسوع کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہوں، لیکن آپ کبھی بھی یسوع خود کو نہیں جان سکتے جب تک کہ پاک روح آپ کے دِل کی آنکھیں نہیں کھولتا۔ خود یوحنا بپتسمہ دینے والے نے کہا، ’’انسان کچھ نہیں پا سکتا جب تک کہ اُسے خُدا کی طرف سے نہ دیا جائے‘‘ (یوحنا3:‏27)۔ پاک روح ہمارے دِلوں کو کھولتا تاکہ ہم اُس پر یقین کر سکیں جو خُدا نے منجی کے بارے میں آشکارہ کیا ہے۔ عالمین الہٰیات اِس کو ’’غیبی ہدایات‘‘ کہتے ہیں۔ بغیر اِن غیبی ہدایات کے آپ یسوع کے بارے میں حقائق کو تو جان سکتے ہیں مگر آپ اُس کواپنے لیے کبھی بھی ذاتی طور پر نہیں جان سکتے۔ اور اُس کے خود کا یہی تجربہ تھا جس نے بپتسمہ دینے والے کو آپ کو کہنے کے لیے رہنمائی دی،

’’اِنسان کچھ نہیں پاسکتا جب تک اُسے خدا کی طرف سے نہ دیا جائے‘‘
       (یوحنا 3:‏27).

یہ تبدیلی کا الہٰی رُخ ہے۔ خُدا کو سچائی کو آپ کے دِل کے لیے منور کرنا چاہیے۔ یہی ہے جو خُدا کرتا ہے۔ لیکن پھر یہاں انسانی رُخ ہے – اور یہ ہماری تلاوت میں پیش کیا گیا ہے۔ یوحنا پبتسمہ دینے والے نے کہا،

’’وہ جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔ لیکن جو بیٹے کو ردّ کرتا ہے وہ زندگی سے محروم ہوکر خدا کے غضب میں مبتلا رہتا ہے‘‘
       (یوحنا 3:‏36).

یہ آیت دُنیا کے سب سے بڑے گناہ کو بیان کرتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں یہ کیا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ دُنیا میں سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ شاید سوچیں یہ قتل ہے۔ لیکن پولوس نے بہت سے مسیحیوں کو قتل کیا تھا، اور اِس کے باوجود اُس نے نجات پائی تھی اور ایک عظیم مبلغ، عالم الہٰیات اور مشنری بنا تھا۔ موسٰی نے قتل کیا تھا۔ اُس نے مُردہ جسم کو ریت میں دبا دیا تھا، اور صحرا میں چھپنے کے لیے بھاگ گیا تھا۔ لیکن بعد میں وہ جلتی ہوئی جھاڑی والی جگہ پر بچا لیا گیا تھا، اور تمام تاریخ میں خُدا کے عظیم ترین لوگوں میں سے ایک بننے کے لیے چُنا گیا۔

کوئی شاید کہے کہ چوری کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ لیکن یہ بھی غلط ہے۔ دو چوروں کو یسوع کے ساتھ مصلوب کیا گیا تھا – ایک نجات دہندہ کی صلیب کے اِس طرف اور دوسرا دوسری طرف۔ اُن چوروں میں سے ایک نے یسوع پر بھروسہ کیا تھا، اور خُداوند نے اُس سے کہا، ’’تو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہوگا‘‘ (لوقا23:‏43)۔ وہ دونوں ہی اُن صلیبوں پر مر گئے تھے۔ لیکن یقین کرنے والے چور کو معافی مل گئی تھی اور وہ اُس دوپہر یسوع کے ساتھ فردوس میں گیا تھا۔ دوسرا چور جہنم میں گیا تھا کیونکہ اُس نے یسوع پر بھروسہ نہیں کیا تھا۔

کوئی کہہ سکتا ہے کہ جنسی گناہ، شادی سے ہٹ کر جنسی تعلق قائم کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ لیکن یسوع نے اُس عورت کو معاف کر دیا تھا جو بالکل زنا کرتے ہوئے پکڑی گئی تھی۔ اُس نے اُس کو معاف کر دیا اور محض کہا، ’’میں بھی تجھے مجرم نہیں ٹھہراتا: رخصت ہو اور آئندہ گناہ سے دور رہنا‘‘ (یوحنا8:‏11)۔

تو پھر دُنیا میں سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ دُنیا میں سب سے بڑا گناہ خُداوند یسوع مسیح کو مسترد کرنا ہے۔ آپ نے شاید چیزیں چوری کی ہوں۔ لیکن اُس کے یسوع کے وسیلے سے معاف کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے شاید شادی سے ہٹ کر جنسی تعلق قائم کیا ہو۔ لیکن مسیح اُس گناہ کو بھی معاف کر سکتا ہے۔ آپ نے شاید دوسرے گناہ کیے ہوں جن کی وجہ سے آپ شرمندہ ہیں۔ لیکن مسیح اُن گناہوں کو بھی معاف کر سکتا ہے۔ آپ نے دیکھا، خُدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو آسمان سے صلیب پر مرنے کے لیے بھیجا، آپ کی جگہ پر، آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے۔ یہی ہے جو پولوس رسول کا مطلب تھا جب اُس نے کہا،

’’مسیح یسُوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا‘‘
       (1۔ تیموتاؤس 1:‏15).

لیکن اگر آپ مسیح کو مسترد کرتے ہیں، اور اپنی زندگی اُس پر بھروسہ کیے بغیر ہی گزار دیتے ہیں، تو آپ دُنیا میں سب سے بڑا گناہ کر چکے ہیں، اور آپ اُس گناہ کی ابدیت تک جہنم میں ادائیگی کرتے رہیں گے۔

’’وہ جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔ لیکن جو بیٹے کو ردّ کرتا ہے وہ زندگی سے محروم ہوکر خدا کے غضب میں مبتلا رہتا ہے‘‘
       (یوحنا 3:‏36).

آپ کیا کرتے ہیں جب آپ مسیح کو مسترد کرتے ہیں؟

I۔ اوّل، یسوع کو مسترد کرنے سے آپ خود کو اندرونی سکون سے دور کر لیتے ہیں۔

جب میں گولڈن گیٹ بپتسمہ دینے والی علم الہٰیات کی سیمنریGolden Gate Baptist Theological Seminary میں پڑھ رہا تھا، میں وہاں پر تقریباً ایک سال سے زیادہ عرصہ لمبے سونے کے مشترکہ کمرے میں رہا۔ میرے کمرے کے ساتھ والے کمرے میں ایک ذہین کوریا کا طلب علم رہتا تھا۔ اُس نے سیمنری میں اپنی ماسٹرز ڈگری مکمل کرلی تھی، لیکن اُنہوں نے اُسے لمبے سونے کے مشترکہ کمرے میں رُکنے کے لیے اجازت دے دی تھی جب تک کہ وہ برکلے میں گریجوایٹ تھیالوجیکل یونین سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری پر کام کر رہا تھا جو کہ ہماری سیمنری سے سمندر پار تھی۔

وہ اپنی الہٰی تعلیم میں آزاد خیال تھا۔ وہ یقین نہیں کرتا تھا کہ مسیح مُردوں میں سے جسمانی طور پر زندہ ہو گیا تھا۔ وہ مسیح کی دوسری آمد پر یقین نہیں کرتا تھا۔ وہ سوچتا تھا کہ بائبل غلطیوں سے بھری پڑی تھی۔ وہ نئے سرے سے جنم پر یقین نہیں کرتا تھا۔ لیکن، اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے کام کرتے ہوئے، اُس نے ٹرٹولئین Tertullian (160۔225) نامی ابتدائی کلیسیا کے عظیم عالم الہٰیات کو کافی گہرائی سے پڑھا۔ ٹرٹولئین نے بائبل میں یقین کر لیا، اور یسوع میں یقین کر لیا۔ دراصل ٹرٹولئین نے لفظ ’’تثلیثTrinity‘‘ کا سکّہ جما دیا تھا، اور یقین کرتا تھا کہ یسوع تثلیث کی دوسری ہستی تھا، وہ نجات دہندہ جو ہماری جگہ پر ہمیں نجات دلانے کے لیے مرا۔ میرے مسیح میں غیر تبدیل شُدہ دوست نے صرف ٹرٹولئین کا مطالعہ کیا کیونکہ اُس کو – اپنی پی ایچ۔ ڈی۔ کی ڈگری حاصل کرنی تھی۔

میری اُس لائق لیکن بے اعتقادے کوریا کے طالب علم کے ساتھ بہت سی باتوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ وہ ہمیشہ ہماری بحث کا اختتام میرا مذاق اُڑا کر کر دیا کرتا تھا – بُلند آواز سے نہیں – لیکن مسکراتے اور ہلکے سے میرا مذاق اُڑاتے ہوئے۔ وہ مجھے ایک ’’بنیاد پرست‘‘ کہتا تھا – اور وہ میرا مسیح میں اور بائبل میں یقین کرنے جیسی بات کے لیے مذاق اُڑایا کرتا تھا کہ میں اِس قدر بیوقوف ہوں۔ وہ کہتا ہوگا، ’’تم بالکل ٹرٹولئین کی مانند ہو۔ تم اِس تمام پر یقین کرتے ہو، جیسے اُس نے کیا۔ کیا تمہارا نہیں خیال کہ اِس قدر پرانی طرز کی بات میں یقین کرنا احمقانہ ہے؟‘‘ اور وہ اپنے کمرے میں اپنے چہرے پر ایک ذلت آمیز بناوٹی مسکراہٹ کے ساتھ اُس قدیم عالم الہٰیات کی مانند یقین کرنے پر میرا مذاق اُڑاتے ہوئے واپس جاتا ہوگا۔

اب اِس کورین طالب علم کی ایک لڑکی دوست تھی۔ وہ کوریہ میں تھی، جیسا کہ مجھے یاد پڑتا ہے۔ وہ ایک دین دار نوجوان خاتون تھی، اور ایک حقیقی مسیحی تھی۔

ایک سال یا اِس سے زیادہ عرصے کے بعد میں مشترکہ سونے والے لمبے کمرے سے شفٹ ہو کر ایک اور جگہ چلا گیا، اور میں نے کافی مدت تک اپنے بے اعتقادے کورین دوست کو نہیں دیکھا۔

پھر ایک دِن میں کسی وجہ سے واپس سیمنری میں گیا۔ میں مشترکہ سونے والے لمبے کمرے کی انتظار گاہ سے گزر رہا تھا جب میں نے اُس کو دیکھا۔ اُس کو دیکھے ہوئے مجھے بہت مہینے گزر گئے تھے، اور میں کسی حد تک حیران ہوا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں میں آنسو لیے میری ہی طرف آ رہا تھا۔ اِس دفعہ اُس کے چہرے پر کوئی حقارت آمیز مسکراہٹ نہیں تھی۔ وہ انتہائی سنجیدہ لگ رہا تھا۔ پھر، میری حیرت کے لیے، اُس نے اپنے بازو پھیلائے اور مجھے گلے سے لگا لیا۔ اُس نے کہا، ’’میں بچا لیا گیا ہوں! اب میں بھی تمہاری طرح یقین کرتا ہوں، اور بالکل ٹرٹولئین کی طرح یقین کرتا ہوں!‘‘

ہم انتظار گاہ میں ایک کاؤچ پربیٹھ گئے اور اُس نے مجھے کہانی بتائی۔ اُس کی دین دار لڑکی دوست نے جان لیا تھا کہ حالانکہ وہ ایک علم الہٰیات کا طالب علم تھا، وہ ایک بے اعتقادہ تھا۔ اُس لڑکی نے اپنی منگنی توڑ دی۔ اُس نے مجھے بتایا کہ اِس بات نے اُس کو خود کا سامنا کروایا، اور وہ اِس سے خوش نہیں تھا جو وہ تھا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ یہاں تک کہ جب اُس نے میرا بائبل پر ایمان رکھنے والا ہونے پر تمسخر اُڑایا تھا، تو اُس نے رازدارانہ طور پر خواہش کی تھی کہ اُس کا بھی میری ہی طرح مسیح میں ایمان ہوتا۔ اُس نے کہا کہ ساری زندگی اُس کے پاس کوئی اندرونی سکون نہیں رہا تھا – کہ سارا وقت اُس نے خفیہ طور پر خواہش کی تھی کہ وہ مسیح کے بارے میں پُریقین ہو، جیسے ٹرٹولیئن تھا، جس کا اُس نے مطالعہ کیا تھا – اور جیسے میں تھا، جس کے ساتھ اُس نے اِس حقیقت کو چھپانے کے لیے اُس کے دِل میں کوئی سکون نہیں تھا بحث کی تھی۔

پھر ایک رات، جب وہ اپنے کمرے میں تھا، وہ ٹوٹ گیا اور رو پڑا۔ وہ اپنے گھٹنوں پر گر گیا اور اپنے گناہ کا اعتراف کیا، اور یسوع اُس کے پاس آیا، اُس کے دِل میں سکون لایا اور اُس کو اُس کے گناہ سے نجات دلائی۔ ہم وہاں انتظار گاہ میں اکٹھے بیٹھے رہے، اور ہم اکٹھے روئے، اور ہم بے انتہا خوشی کے ساتھ اکٹھے ہنسے! اُس نے کہا، ’’بوب، میرے لیے ہمت نہ ہارنے پر بہت بہت شکریہ۔ مجھے بار بار بتانے کے لیے کہ مجھے نجات پانے کی ضرورت ہے آپ کا شکریہ۔‘‘

طویل کہانی کو چھوٹا کرنے کے لیے اُس نے اُس لڑکی سے شادی کر لی۔ میں نے شدید خوشی کے ساتھ اُن کی شادی میں شمولیت کی۔ حالانکہ یہ سب کچھ چالیس سال پہلے ہوا تھا، میں اپنے ذہن میں شادی پر اُس کا چہرہ دیکھ سکتا ہوں، جو خوشی کے ساتھ دمک رہا تھا۔ لیکن مجھے یہ بھی یاد ہے کہ کیسے اُس نے یسوع پر بھروسہ کرنے سے پہلے اپنے دِل کو اندرونی سکون پانے کے لیے بند کر دیا تھا۔ کیا آج صبح آپ اُس کی مانند ہیں؟ کیا آپ چہرے پر بہادری سجا کر گرجہ گھر کے لیے آئے ہیں، اگرچہ آپ کے دِل میں کوئی سکون نہیں ہے؟ ایک پرانا گیت کہتا ہے، ’’اوہ، کتنا سکون ہم اکثر کھو دیتے ہیں O, what peace we often forfeit، اوہ، بلاوجہ ہم کتنی درد برداشت کرتے ہیںO, what needless pain we bear ۔‘‘ یسوع کے پاس آئیں، جیسے کہ میرے کورین دوست نے کیا تھا! ’’اپنے بازوؤں میں وہ تمہیں اُٹھائے گا اور تمہاری ڈھال بنے گا، تمہاری کمزوری کو وہاں پر تسلی ملے گی‘‘ ( یسوع میں ہم کیسا ایک دوست پاتے ہیں What a Friend We Have in Jesus‘‘ شاعر جوزف سکرائیون Joseph Scriven، 1819۔1886)۔

’’وہ جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔ لیکن جو بیٹے کو ردّ کرتا ہے وہ زندگی سے محروم ہوکر خدا کے غضب میں مبتلا رہتا ہے‘‘
       (یوحنا 3:‏36).

II۔ دوئم، یسوع کو مسترد کرنے سے آپ کی زندگی کا خاتمہ انتہائی دردناک ہوگا۔

میرے پہلے چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں شمولیت کرنے سے پہلے میں کیلیفورنیا کے ہونٹینگٹن پارک Huntington Park, California میں ایک بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کا رُکن تھا۔ وہاں پر میرا ایک دوست تھا جو کہ میرے سے تقریباً ایک سال چھوٹا تھا۔ ہم نے بہت سے کام اکٹھے کیے تھے۔ یہاں تک کہ ہم دونوں ہی نے اکٹھے ہی بپتسمہ لیا ایک ہی عبادت میں۔ اب میں جانتا ہوں کہ ہم دونوں میں سے کوئی ایک بھی اُس وقت بچایا نہیں گیا تھا۔ ’’فیصلہ سازیت‘‘ نے اپنا محصول وصول کیا تھا، اور ہمیں بغیر پادری کے ہی بپتسمہ دے دیا گیا تھا، یا کسی ایک نے بھی نہیں کوئی سوال یہ دیکھنے کے لیے نہیں پوچھا کہ آیا ہم نے نجات پا لی تھی۔ ہم نے شاید خُدا کی وجودیت پر یقین نہ کیا ہو۔ اُنہوں نے کبھی پوچھا ہی نہیں۔ اُنہوں نے فرض کر لیا کہ ہم نے نجات پا لی تھی کیونکہ ہم ایک واعظ کے اختتام پر ’’آگے بڑھے‘‘ تھے۔ میں آپ کو سچائی بتاتا ہوں، میں ایک مسیحی گھرانے سے تعلق نہیںرکھتا ہوں – اور مجھے اِس کا بالکل بھی کوئی اندازہ نہیں ہے کہ ہمیں بپتسمہ کیوں دیا گیا تھا۔ جیسے ہی مدعو کیا گیا میں نے اپنے دوست کی پیروی کی تھی جب وہ سامنے بڑھا تھا۔ ماضی میں جھانکتے ہوئے، میں پُریقین ہوں کہ میرے دوست کو بھی جو میں نے کیا تھا اُس کے مقابلے میں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ کیوں اُس کو بپتسمہ دیا جا رہا تھا۔

میں تیرہ سال کا تھا اور وہ تقریباً بارہ سال کا تھا۔ ہم دونوں سنڈے سکول جاتے۔ ہم دونوں اتوار کی شب کونوجوانوں کی کوائر میں گاتے۔ ہم نے بےشمار مسیحی ڈراموں میں کام کیا۔ ہم نے بے انتہا مزہ کیا۔ لیکن پھر اُس وقت کلیسیا کی ہولناک تقسیم ہو گئی۔ کلیسیا غصے میں تین گروہوں میں تقسیم ہو گئی – امریکہ بپتسمہ دینے والے the American Baptists، قدامت پسند پبتسمہ دینے والے the Conservative Baptists، اور مغربی بپتسمہ دینے والے۔ یہ واقعی میں ابتر حالت تھی، ایک ناخوشگوار وقت تھا۔ ہم نے اُس گرجہ گھر میں وہ باتیں دیکھی اور سُنی جو کسی بچے کو نہیں دیکھنی چاھئیں۔ وہ جنہوں نے گرجہ گھروں کو تقسیم کیا کبھی بھی اِس بات کا احساس کرتے ہوئے محسوس نہیں ہوئے کہ وہ بچوں پر کس قدر ہولناک تاثر چھوڑ رہے تھے۔ ہزاروں لاکھوں بپتسمہ یافتہ بچے کلیسیا کی اِس تقسیم سے زندگی بھر کے لیے تباہ ہو گئے۔ بالغ اپنے راستے خوشی خوشی جیتے رہے – لیکن اُن کے بچے اِس سے تباہ ہو گئے تھے! ہمارے گرجہ گھر میں بالغین لڑتے جھگڑتے، چیخیں مارتے اور ایک دوسرے پر حمد و ثنا کی کتابیں پھینکتے۔ میرا دوست اور میں مغربی بپتسمہ دینے والوں کے ساتھ چلے گئے تھے۔ اُس کے کچھ ہی دیر بعد مغربی بپتسمہ والوں کا نوجوان کا ایک رہنما ہمارے گرجہ گھر کو چھوڑ گیا جب یہ دریافت ہوا کہ وہ چھوٹے بچوں کو ہراساں کیا کرتا تھا۔ یہ کس قدر ابتر حال تھا!

آپ جانتے ہیں، میں پُریقین ہوں میرا دوست کبھی بھی گرجہ گھر کی اُس تقسیم پر راضی نہیں تھا۔ مجھے یقین ہے کہ آج بھی اُس کو اِس سے درد ہوتا ہے۔ اُس نے آہستہ آہستہ گرجہ گھر چھوڑ دیا اور ایک خوبصورت لڑکی سے شادی کر لی۔ میں نے دوبارہ اُس کو کافی مدت تک نہیں دیکھا، دراصل کئی سالوں تک۔ اُن سالوں کے دوران وہ ایک شادی کے بعد دوسری شادی کرتا رہا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ اُس کی خالہ نے مجھ سے سرگوشی میں کہا، ’’رابرٹ، وہ پانچ مرتبہ شادی کر چکا ہے۔‘‘ آخری مرتبہ جب میں نے اُسے دیکھا تھا تو وہ ایک ناراض، تلخ شخص تھا، جس کے چہرے پر ایک تاریک تیوری چڑھی ہوئی تھی۔ چند مہینے پہلے میں نے اُس کو فون کرنے کی کوشش کی، لیکن اُس کی بہن نے مجھے بتایا، ’’رابرٹ، ہم نہیں جانتے وہ کہاں پر ہے۔ ہمارے اُس سے تمام رابطے ٹوٹ چکے ہیں۔‘‘ وہ باہر کہیں کسی صحرا میں ہے، یا میدانوں پر ہے، ایک شخص اپنے ابتدائی ستر سالوں میں، قبر کی جانب تنہا آوارہ گردی کر رہا ہے!

میں آپ کو یہ کہانی دُکھ کے ساتھ بتا رہا ہوں، کیونکہ میں نے اُس کو ہمیشہ اپنا دوست مانا ہے، اور وہ جو مجھے جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ میں واقعی میں ایک دوست کو کھونے سے نفرت کرتا ہوں۔

لیکن یہاں پر سبق جو میں نے اُس سے سیکھا یہ ہے – آپ گرجہ گھر میں بُرے لوگوں کو نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ آپ نے شاید لوگوں کو گرجہ گھر میں ایسے کام کرتے دیکھا ہو جو غلط ہیں۔ میرے خیال میں تقریباً ہر کسی نے کبھی نہ کبھی تو ایسا دیکھا ہی ہوگا۔ لیکن مسیح کو دیکھنے کے لیے آپ کو بُرے لوگوں سے پرے دیکھنا ہوگا۔ وہ مسیح نہیں ہیں! اگر آپ کو وہی سب کچھ نظر آتے ہیں، تو آپ اُن سے پرے کبھی بھی نہیں دیکھ پائیں گے اور یسوع کے ساتھ ایک حقیقی سامنا نہیں کر پائیں گے۔ اور اگر آپ اُس یسوع کے ساتھ کبھی بھی ایک حقیقی سامنا نہیں کر پاتے تو آپ کی زندگی کا اِس دُنیا میں ایک تلخ، ناخوشگوار اختتام ہوگا، اور آنے والی دُنیا میں کبھی نہ ختم ہونے والی درد اور دُکھ ہوگا! میں اِس کو ہوتا ہوا بار بار دیکھ چکا ہوں۔

موسم بہار میں مجھے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کا رُکن بنے ساٹھ سال ہو چکے ہونگے۔ میں آپ کو ہماری تلاوت کی سچائی دکھانے کے لیے ایک کے بعد ایک کہانی بتا سکتا ہوں،

’’وہ جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔ لیکن جو بیٹے کو ردّ کرتا ہے وہ زندگی سے محروم ہوکر خدا کے غضب میں مبتلا رہتا ہے‘‘ (یوحنا 3:‏36).

میں اِن سچی کہانیوں میں سے آپ کو صرف ایک اور پیش کروں گا۔

III۔ سوئم، اگر آپ یسوع پر بھروسہ کریں گے تو آپ کے گناہوں کو معافی مل جائے گی اور آپ ہمیشہ کی زندگی پائیں گے۔

کالج سے گریجوایشن کر لینے کے بعد میں نے لاس اینجلز کو چھوڑ دیا اور سان فرانسسکو کے شمال میں میرین کاؤنٹی Marin County میں بپتسمہ دینے والوں کی سیمنری Baptist Seminary میں پڑھنے کے لیے وہاں چلا گیا۔ میں وہاں پر تین سالوں کے ماسٹرز پروگرام کے لیے تھا۔ پہلے سال کے لیے میں ہر جمعہ کی دوپہر کو گاڑی چلا کر ساکرامنٹو Sacramento کے لیے چلا جاتا اور ایک چینی جوڑے کے گھر میں ٹھہرتا جبکہ وِلفرڈ چُنگ Wilfred Chung نے وہاں پر ایک نیا گرجہ گھر شروع کیا۔ لیکن دوسرے سال میں مَیں نے محترم جناب مائیک رائیل Rev. Mike Riley اور محترم جناب روجر ہوفمین Rev. Roger Hoffman کے ساتھ ہیپیوں کے لیے ایک گرجہ گھر کا آغاز کرنے کے لیے کام کرنا شروع کر دیا جن کو ’’یسوع کی تحریک Jesus Movement‘‘ کے دوران بچا لیا گیا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ کچھ مبلغین یسوع کی تحریک کے بارے میں ناپسندیدگی کے ساتھ بات کرتے ہیں، لیکن میں یقین کرتا ہوں کہ اُس میں ایک حقیقی حیات نو کے اجزا موجود تھے۔

مارک نامی ایک نوجوان آدمی منشیات بیچا کرتا تھا – اور خود بھی اُن کا بہت بُری طرح سے عادی ہو گیا تھا۔ وہ بائبل کا مطالعہ کرنے کے لیے آیا اور پھر ایک ’’مسیحی گھرChristian house‘‘ میں کچھ دوسروں کے ساتھ رہنے کے لیے آ گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اُس نے سارے نشے کرنے چھوڑ دیے تھے۔

میں نے اُس کے صرف فاصلے سے دیکھا تھا۔ لیکن ایک دِن مجھے کہا گیا کہ مارک کو ایک ٹرک میں سان جوزے San Jose چھوڑ آؤں۔ میرا نہیں خیال کہ اُس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس تھا کیونکہ میں نے ہی تمام راستے گاڑی چلائی تھی۔ ہم سان جوزے کی فلی مارکیٹ کے لیے کچھ لے جا رہے تھے، لیکن مجھے یاد نہیں کہ وہ کیا تھا۔ جو بات مجھے یاد ہے وہ یہ ہے کہ اُس نے جاتے ہوئے بھی اور آتے ہوئے بھی تمام راستے باتیں کیں۔ مجھے واضح طور پر یہ سوچنا یاد رہا ہے – ’’یہ شخص تو ایک باتونی ہے! یہ نشئی ہے! یہ ایک پاگل ہے!‘‘ ایک موقع پر تو میں اُس پر چیخ پڑا تھا کہ چُپ ہو جاؤ! بعد میں مجھے واضح طور پر سوچنا یاد ہے کہ اِس شخص کے لیے کوئی اُمید نہیں تھی! منشیات نے اُس کو تباہ کر دیا تھا!

لیکن میں غلط تھا۔ گذشتہ سال لیزلی اور ایلیانہ اور میں واپس میرین کاؤنٹی میں جو گرجہ گھر ہم نے شروع کیا تھا وہاں پر اُس کی چالیسویں سالگرہ منانے کے لیے گئے۔ اُنہوں نے مجھے اُس گرجہ گھر بانی پادری کی حیثیت سے بات کرنے کے لیے کہا۔ مارک بھی وہیں پر تھا۔ وہ اب اپنے ابتدائی ساٹھ سالوں میں تھا۔ وہ ایریزونا کے شہر فینکس میں ایک بہت بڑے گرجہ گھر کا جس کو وہاں پر اُس نے شروع کیا تھا پادری تھا۔ اُس نے بہت سے بچوں کی پرورش کر کے اُنہیں بڑا کیا تھا۔ جب میں نے وہاں پر اُس ملاپ میں اُن پر نظر ڈالی، اُن کے واضح چہرے، نیلی آنکھوں اور فولادی سفید بالوں کے ساتھ، تو میں نے اپنے بیٹے کو بتایا، ’’یہ وائٹ ہاؤس والے شخص کے مقابلے میں زیادہ صدر کی مانند لگ رہے ہیں!‘‘ میں نے اُنہیں گاتے ہوئے دیکھا اور میں نے اُنہیں دعا کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے اپنے بیٹے کو بتایا، ’’وہ مسیح کے لیے گہری محبت اور روحانیت کے ایک شخص ہیں۔‘‘ میں نے ’’سوچ و بچار Reflections‘‘ نامی اِطلاع نامے کو پڑھا جو وہ ہر مہینے بھیجتے ہیں۔ تقریباً بغیر کسی مبالغہ آرائی کے اِس نے مجھے رونے پر مجبور کر دیا۔ مارک خُدا کے ایک نمایاں انسان ہو چکے ہیں۔ اُن کی زندگی ہماری تلاوت کے پہلے آدھے حصے کو ثابت کرتی ہے،

’’وہ جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔ لیکن جو بیٹے کو ردّ کرتا ہے وہ زندگی سے محروم ہوکر خدا کے غضب میں مبتلا رہتا ہے‘‘
       (یوحنا 3:‏36).

’’وہ جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔‘‘ وہ کورین شخص جو ایک بے اعتقادہ تھا اُس نے توبہ کی اور یسوع پر بھروسہ کیا، اور اپنے گناہوں کو معاف کروایا اور ہمیشہ کی زندگی پائی! ایسا ہی مارک نے کیا۔ لیکن درد ناک طور پر میرے ساٹھ سال پہلے کے دوست نے ایسا نہیں کیا۔ وہ اِس صبح تنہا صحراؤں میں آوارہ گردی کر رہا ہے۔ ’’وہ جو خُدا کے بیٹے کو رد کرتا ہے وہ زندگی سے محروم ہو کر خُدا کے غضب میں مبتلا رہتا ہے۔‘‘ اگر وہ یہ واعظ پڑھتا ہے تو میری دعا ہے کہ وہ مجھ سے رابطہ کرے گا۔ میں اُس کو ایک حقیقی مسیح میں تبدیلی کے تجربے سے گزرتا ہوا دیکھ کر بہت خوش ہوؤں گا۔

میں اِس صبح آپ سے التجا کرتا ہوں – مہربانی سے جیسے آپ ہیں ایسے ہی زندگی مت گزارتے جائیں۔ مہربانی سے، میں آپ سے التجا کرتا ہوں، یسوع، جو خُدا کا بیٹا ہے اُس کی طرف آئیں۔ وہ صلیب پرآپ کے گناہوں کی ادائیگی کے لیے مرا، اور وہ آپ کو زندگی دینے کے لیے مُردوں میں سے زندہ ہو گیا۔

یسوع کی جانب اپنی نظریں اُٹھائیں،
   اُس کے شاندار چہرے کو بھرپور نگاہ سے دیکھیے؛
اور زمین کی باتیں حیرت ناک طور پر مدھم پڑ جائیں گی
   اُس کے فضل اور جلال کے نور میں۔
(’’یسوع کی جانب اپنی نظریں اُٹھائیں Turn Your Eyes Upon Jesus،
       شاعر ھیلن ایچ. لیمل Helen H. Lemmel‏، 1863۔1961).

یسوع کے پاس ایمان کے وسیلے سے آئیں۔ اُس پر اپنے تمام دِل کے ساتھ بھروسہ کریں۔ آپ کبھی بھی شرمندہ نہیں ہونگے اگر آپ ایسا کریں گے! وہ آپ کو معاف کرے گا اور آپ کو گناہ سے پاک صاف کرے گا، اور آپ کو ہمیشہ کی زندگی دے گا۔ اُس کے گرجہ گھر میں آئیں، اور ہر مرتبہ جب دروازہ کھلا ہے یہاں پر ہوں۔ یہاں پر نئے دوست بنائیں۔ لیکن سب سے زیادہ اہم، اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں اور اُس کے وسیلے سے گناہ سے نجات پاتے ہیں۔

اگر آپ ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہیں اور ایک حقیقی مسیحی بننے کے بارے میں ہمارے ساتھ دعا کرنا چاہیں، تو مہربانی سے ابھی اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کوایک اور کمرے میں لے جائیں گے جہاں پر ہم بات چیت کر سکتے ہیں۔ ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر چیعنDr. Chan ، مہربانی سے اِس صبح خُدا سے دعا کریں کہ کوئی ایک یسوع کی جانب کھینچا آئے۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: یوحنا3:‏31۔36 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’میں اپنے مُنجی کے بارے میں گاؤں گا I Will Sing of My Redeemer‘‘
(شاعر فلپ پی۔ بلِس Philip P. Bliss‏، 1838۔1876)۔

لُبِ لُباب

دُنیا کا سب سے بڑا گناہ

THE WORLD’S GREATEST SIN

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’وہ جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔ لیکن جو بیٹے کو ردّ کرتا ہے وہ زندگی سے محروم ہوکر خدا کے غضب میں مبتلا رہتا ہے‘‘ (یوحنا 3:‏36).

(یوحنا1:‏29، 31، 33؛ 3:‏27؛ لوقا23:‏43؛ 1۔تیموتاؤس1:‏15)

I.   اوّل، یسوع کو مسترد کرنے سے آپ خود کو اندرونی سکون سے محروم کر لیتے ہیں۔

II.  دوئم، یسوع کو مسترد کرنے سے آپ کی زندگی کا خاتمہ انتہائی درد ناک ہوگا۔

III. سوئم، اگر آپ یسوع پر بھروسہ کریں گے تو آپ کے گناہوں کو معافی مل جائے
گی اور آپ ہمیشہ کی زندگی پائیں گے۔