Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

صلیب کا مسیح

THE CHRIST OF THE CROSS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

خُداوند کے دِن کی صبح دیا گیا ایک واعظ، 20 اکتوبر، 2013
لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں
A sermon preached on Lord’s Day Morning, October 20, 2013
at the Baptist Tabernacle of Los Angeles

’’اب، اَے بھائیو! میں تمہیں وہ خُشخبری یاد دلانا چاہتا ہُوں جو میں پہلے تمہیں دے چُکا ہُوں، جسے تُم نے قبول کر لیا تھا اور جس پر تُم مضبوطی سے قائم ہو اُسی کے وسیلہ تُم نجات بھی پاتے ہو۔ شرط یہی ہے کہ تُم اُس خُوشخبری کو یاد رکھّو جو میں نے تمہیں دی تھی ورنہ تمہارا ایمان لانا بے فائدہ ہے کیونکہ ایک بڑی اہم بات جو مجھ تک پہنچی اور میں نے تمہیں سُنائی یہ ہے کہ کتابِ مُقدّس کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے قُربان ہُوا‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:‏1۔3).

یہ پولوس رسول کی مسیحی انجیل کے بارے میں واضح اورجامع بیان ہے۔ لفظ ’’انجیلgospel ‘‘ کا سادہ سا مطلب ’’اچھی خبریعنی خوشخبری‘‘ ہوتا ہے۔ پولوس نے کرنتھیوں کی کلیسیا کو بتایا کہ اُس نے اُنہیں خوشخبری کی اچھی خبر کی منادی کی تھی۔ اُس نے کہا کہ وہ خوشخبری سے بچائے گئے تھے، جب تک کہ اُن کی تبدیلی جھوٹی نہ ہوتی، ’’ورنہ تمہارا ایمان لانا بے فائدہ ہے‘‘ (1۔کرنتھیوں15:‏2)۔ پھر اُس نے اُس خوشخبری کو دھرایا جو وہ اُنہیں دے چکا تھا۔ خوشخبری کے تین سادہ سے نکات ہیں: (1) کلام مقدس کے مطابق ’’مسیح ہمارے گناہوں کے لیے مرا۔ (2) ’’اور کہ وہ دفنایا گیا۔‘‘ (3) اور کلام مقدس کے مطابق ’’وہ تیسرے دِن دوبارہ جی اُٹھا۔‘‘ یہ انجیل ہے۔ یہ وہ اچھی خبر ہے جس کا مبلغین زمانے کی صدیوں کے دوران اعلان کر چکے ہیں۔ جب مجھے مذہبی عہدے پر فائز کیا گیا تھا، تو میری تعیناتی کی سند میں لکھا تھا کہ مجھے ’’انجیل کی منسٹری‘‘ میں مذہبی عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ اِس کا مطلب ہے کہ مجھےانجیل کی منادی کے لیے تعینات کیا گیا تھا یا بنیادی طور پرانجیل کی تبلیغ کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اہم بات جو میں ’’انجیل کی منسٹری‘‘ میں کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں میسح کی موت، دفنائے جانے اور مُردوں میں سے دوبارہ جی اُٹھنے کی خوشخبری کا اعلان کرتا ہوں۔ یہی ہے جس کے لیے ہر پادری کو بُلایا گیا، مذہبی عُہد پر فائز کیا گیا، اور ایسا کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اور پولوس نے کہا، ’’میں تمہیں وہ خُوشخبری یاد دلانا چاہتا ہُوں جو میں پہلے تمہیں دے چُکا ہُوں‘‘ (1۔ کرنتھیوں15:‏1)۔ لیکن انجیل کی منادی کرنے کے لیے بُلاہٹ کے بارے میں مجھے بےشمار باتیں کہنی چاہیں۔

I۔ اوّل، بہت سے پادری آج کل اپنی منادی کا مرکز انجیل کی بجائے کسی اور بات کو بنائے بیٹھے ہیں۔

یہاں وہ ہیں جو سیاست پر تبلیغ کرتے ہیں۔ اُن کے واعظوں کی بنیاد جو کچھ بھی سیاسی سلطنت میں ہو رہا ہوتا ہے اُس پر مشتمل ہوتی ہے۔ اِس قسم کے مبلغین شاذونادر ہی نجات پر زور دیتے ہیں کیونکہ وہ نہیں سوچتے کہ یہ ضروری ہے۔ وہ محض سیاسی لوگ ہیں۔ سالوں پہلے، چینی گرجہ گھر میں جہاں کا میں رُکن تھا، وہاں پر ایک نوجوان آدمی تھا جس نے سوچا ڈاکٹر لِن Dr. Lin کو ویت نام کی جنگ کے خلاف منادی کرنی چاہیے۔ آخر کار وہ چلا گیا اور اپنے ساتھ بہت سے نوجوان لوگوں کو لے گیا۔ اُنہوں نے پساڈینہ Pasadena، جو لاس اینجلز کا مضافاتی علاقہ ہے، اُس میں تمام مقدسین کے ایپی سکوپل گرجہ گھر All Saints Episcopal Chruch میں شمولیت اختیار کر لی۔ اُس گرجہ گھر کو انتہائی باخبر سمجھا جاتا تھا۔ اُدھر کے پادری ڈاکٹر جارج ریگاس Dr. George Regas تقریباً ہر اتوار کو ویت نام کی جنگ کے خلاف اور دوسرے سیاسی موضوعات پر تبلیغ کرتے تھے۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد وہ نوجوان لوگ جو ہمارے گرجہ گھر سے تھے سیاسی بات چیت سُن سُن کر تھک گئے۔ آخرکار، اُن تمام نے وہ گرجہ گھر چھوڑا اور واپس دُنیا میں چلے گئے۔ میری معلومات کے مطابق اُن میں سے کوئی بھی اب گرجہ گھر نہیں جاتا۔ یہی معاملہ اُن تمام نام نہاد ’’مرکزی اہمیت کے‘‘ کہلائے جانے والے فرقوں میں پایا جاتا ہے۔ بائیں بازو کی سیاسی تبلیغ لوگوں کو نہیں جکڑتی۔ مرکزی اہمیت کے ہر ایک گرجہ گھر نے گذشتہ چند دہائیوں میں سینکڑوں اور یہاں تک کہ ہزاروں لاکھوں اراکین کو کھویا ہے، زیادہ تر اِس وجہ سے کیونکہ اُن کے واعظ سیاست پر اور معاشرتی خدشات پر مرکوز ہوتے ہیں۔

پھر یہاں وہ ہیں جو اپنی منادی کو مرکز نفسیات پر کرتے ہیں۔ اُن کے خود معاونی واعظ رابرٹ شُلر Robert Schuller اور جوئیل آسٹین Joel Osteen کی مانند ہوتے ہیں۔ وہ کبھی کبھار بائبل کی ایک آیت سُناتے ہیں، لیکن اُن کے زیادہ تر واعظ بائبل پر مرکوز نہیں ہوتے ہیں۔ جیسے ٹیلی ویژن پر اوپرا وِنفری Oprah Winfrey اور ڈاکٹر ڈریو Dr. Drew، جن کی تبلیغ کا موضوع کیسے اچھا محسوس کرنا اور کامیاب ہونا ہے۔ گذشتہ منگل کو میں نے ایک رومن کاتھولک نرس سے بات کی جو ہر اتوار کو گرجہ گھر کی عبادت میں حاضر ہوتی تھی اور جوئیل آسٹین کو بھی ٹیلی ویژن پر دیکھتی تھی۔ وہ فلپائن کی ایک نرس ہے جو اُس ہسپتال میں کام کرتی ہے جہاں پر میرا ایک چھوٹا سا آپریشن ہوا تھا۔ اُس کے چہرے پر ہر وقت جب میں اُس پر نظر ڈالتا تھا تو افسردہ تیوریاں چڑھ جاتی تھیں۔ میں نے چند ایک لطیفے سُنائے، لیکن میں اُسکے چہرے پر مسکراہٹ نہ لا سکا۔ جب میں نے آخر کار اُس کے مذہب کے بارے میں پوچھا، تو اُس نے مجھے بتایا کہ وہ عبادت پر جاتی ہے اور ہر اتوارکو جوئیل آسٹین کو بھی دیکھتی ہے، کیونکہ وہ اُس کو کیسے خوش رہنا ہے سیکھاتا ہے! اِس قسم کے مبلغین لوگوں کو اچھا محسوس کراتے ہیں، لیکن اُن کی ذاتی زندگیوں پر بہت کم اثر چھوڑتے ہیں، اور یقیناً اُن کی دائمی زندگیوں کی نجات کے لیے انتہائی کم یا بالکل بھی نہیں اثر چھوڑتے!

تیسرے نمبر پر، یہاں پر وہ ہیں جو بائبل کی آیت با آیت تعلیم دیتے ہیں۔ چونکہ بائبل میں بہت سے موضوعات ہیں، اِس لیے یہ لوگ اپنے واعظوں میں ایک تصور سے دوسرے پر، ہمیشہ اِدھر اُدھر کی ہانکتے ہیں۔ زیادہ تر قدامت پسند پادری اِس قسم کی تبلیغ آج کل کرتے ہیں۔ لیکن یہ زیادہ تر بیکار ہوتی ہے۔ یہ تقریباً ہمیشہ اِس قدر خیالات اور تصورات سے بھری ہوتی ہے کہ یہ لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل نہیں کرتی ہے۔ میرے شریک کار، ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan نے اپنی مسیحی زندگی میں تبدیلی سے پہلے ڈاکٹر جان میک آرتھر کے گرجہ گھر کی عبادت میں کئی مہینوں شرکت کی۔ ڈاکٹر میک آرتھر نے دلچسپ تفاسیر پیش کیں، لیکن ڈاکٹر کیگن نجات تلاش کرنے کے لیے متحرک نہیں ہوئے۔ وہ آئے اور اُس گرجہ گھر سے نجات پائے بغیر ہی چلے گئے، حالانکہ ایک مسیحی بننے کے بارے میں اُن کے پاس انتہائی شدید دلچسپی تھی۔ عام مرکزی موضوع جو آیت بہ آیت قسم کے گرجہ گھروں میں پنپتا ہے یہ تصور ہے کہ مطالعۂ بائبل بذات خود تبلیغ کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ بائبل کے مسیح کے بجائے خود بائبل مرکز ہوتی ہے۔ اِس کو سینڈیمینئین اِزم Sandemanianism کہتے ہیں۔ اِس قسم کے گرجہ گھروں میں بے انتہا لوگ سرد لیکن چالاک ہو جاتے ہیں، جیسے پرانے زمانے کے فریسی تھے۔

آخر میں، یہاں وہ نام نہاد لوگ ہیں جو ’’پرستش‘‘ پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ یہ بہت سے عجیب و غریب حالات سے گزرتا ہے۔ میں اور میرا ایک پادری دوست ایسی ہی ایک ہیبت ناک ’’پرستشی‘‘ عبادت کے چشم دید گواہ تھے جہاں لوگ شیروں کی مانند دھاڑتے، ایک دوسرے کو پنجے مارتے، جبکہ دوسرے چلاتے اور فرش پر پنجروں سے نکلے پاگل دیوانوں کی مانند پلٹیاں کھاتے۔ ایک اور ’’پرستشی‘‘ عبادت میں میری بیوی اور بیٹوں اور میں نے واقعی میں لوگوں کو بتوں کی پرستش کرتے ہوئے دیکھا جبکہ وہ ہنستے اور خود کو فرش پر اوندھے منہ سجدہ ریز کرتے۔ ہم نے خود کو وہاں پر اجنبی محسوس کیا جیسا کہ آیا ہم ایک دماغی طور پر پاگلوں کی پناہ گاہ میں تھے! ایک اور جگہ پر، جو کہ ایک مسیحی کالج تھا، میں نے لڑکیوں کو پیشہ ور رنڈیوں کی مانند ناچتے ہوئے دیکھا جبکہ لال دھواں مشینوں میں سے نکل رہا تھا، اور موسیقی کان کے پردے پھاڑ رہی تھی۔ دوسری، کم بھڑکیلی ’’پرستشی‘‘ عبادتیں ایک ہی کورس کو باربار گھنٹوں گانے سے بنی ہوئی تھیں جب تک کہ تقریباً سحر زدہ سے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ اُن عبادتوں میں کسی حقیقی تبلیغ کے لیے بہت کم وقت بچتا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں، کہ اِن گرجہ گھروں کے واعظوں میں مسیح کو فضلیت حاصل نہیں ہوتی ہے!

اور وہ ’’مسیح‘‘ جس کا اِن عبادات میں اکثر تزکرہ ہوتا ہے سرے سے حقیقی مسیح ہوتا ہی نہیں ہے۔ انجیل کا مقصدیاتی مسیح کسی کے خود پر حاوی ہو جانے والے احساسات میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اپنی زودفہم کتاب، مسیح کے بغیر مسیحیت Christless Christianity میں، ڈاکٹر مائیکل ہارٹن Dr. Michael Horton نے کہا،

      زیادہ سے زیادہ شاید ہم یسوع مسیح کے وسیلے سے خُدا کے ساتھ ذاتی تعلقات کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں، تو یہاں پر اصل میں ماسوائے خود کے ساتھ قطعی بھی کوئی تعلق قائم ہوتا دکھائی نہیں دیتا... یسوع حقیقت میں بہت پہلے میرا بدل بن گیا تھا (مائیکل ھارٹن، پی ایچ، ڈی۔ Michael Horton, Ph.D.، بیکر کُتب Baker Books، 2008، صفحہ 43)۔

ایک نوجوان آدمی جیسے حال ہی میں مَیں مِلا اُس نے مجھے بتایا، ’’مجھے بائبل یہ گرجہ گھر کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ میرا مسیح کے ساتھ ذاتی تعلق ہے، اور اِسی کی مجھے ضرورت ہے۔‘‘ آج کل کی زیادہ تر تبلیغ ایسے ہی لوگوں کو جنم دیتی ہے، جو یقین کرتے ہیں کہ اُن کے اپنے خیالات اور احساسات مسیح ہیں۔ یہ دوسرا یسوع ہے! یہ ایک جھوٹا مسیح ہے! یہ وہ انجیل نہیں ہے جس کے بارے میں پولوس نے ہماری تلاوت میں بات کی! اِس قسم کی سوچ، اور دوسرے جھوٹے تصورات، بہت سے پادریوں کی جانب سے آتے ہیں جو اپنی تبلیغ کا مرکز انجیل کو بنانے کے مقابلے میں کسی اور کو بنا ڈالتے ہیں۔ پولوس رسول نے ’’کسی دوسری خوشخبری جس کو آپ نے قبول نہیں کیا ہے‘‘ کے بارے میں بات کی (2۔کرنتھیوں11:‏4) اِس نکتے میں مَیں نے تمام تر بات ’’دوسری خوشخبری‘‘ کو مرکز میں رکھ کر کی ہے۔ پولوس نے ہماری تلاوت میں کہا،

’’ایک بڑی اہم بات جو مجھ تک پہنچی اور میں نے تمہیں سُنائی یہ ہے کہ کتابِ مُقدّس کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے قُربان ہُوا‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:‏3).

یہی انجیل ہے!

II۔ دوئم، انجیل کا مرکز مسیح کی صلیب ہے۔

اب تک میں جتنی قسم کی بھی تبلیغ کا تزکرہ کر چکا ہوں، مسیح کی صلیب مرکز میں نہیں ہے – اہم بات نہیں ہے – مسیحیت کی بنیاد نہیں ہے۔ ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell نے کہا،

      پیغام... میں سے مسیح کی موت کو لے لیں اور وہاں پر کچھ باقی نہیں بچتا ہے۔ مبلغ کے پاس مذید اور رکھنے کے لیے ’’خوشخبری‘‘ نہیں ہے، ہمارے گناہوں کی معافی کی وہ انجیل... جو کہ اِس... قسم کی مسیحیت میں نئے عہد نامے کی مسیحیت ہے؟ بِلاشک و شُبہ یہ صلیب کی مسیحیت ہے۔ (ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل، پی ایچ۔ ڈی W. A. Criswell, Ph.D.، ایمان کے دفاع میں In Defense of the Faith، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1967، صفحہ67)۔

پولوس رسول نے کہا،

’’خدا نہ کرے کہ میں کسی چیز پر فخر کروں سِوائے ہمارے خداوند یُسوع مسیح کی صلیب کے‘‘ (گلِتیوں 6:‏14)

’’مسیح ہمارے گناہوں کے لیے مرا۔‘‘ یہ پولوس کی منادی کا مرکزی موضوع تھا۔ دراصل، اُس نے کرنتھیوں کی کلیسیا کے لیے کہا، ’’میں نے فیصلہ کیا ہوا تھا کہ جب تک تمہارے درمیان رہوں گا مسیح یعنی مسیح مصلوب کی منادی کے سِوا کسی اور بات پر زور نہ دوں گا‘‘ (1۔کرنتھیوں2:‏2)۔ اگر یہ بائبل کی مسیحیت ہے تو یہ صلیب کی مسیحیت ہے۔ عظیم سپرجیئن جو ’’مبلغین کے شہزادے‘‘ ہیں اُنہوں نے کہا، ’’بائبل کا دِل نجات ہے، اور نجات کا روح رواں صلیب پر مسیح کی تبدلیاتی قربانی ہے۔‘‘

آج بہت سے گرجہ گھر اپنے ایمان کی نمائندگی کرنے کے لیے فاختہ کی علامت کو استعمال کرتے ہیں۔ میرے لیے یہ ایک غلطی ہے۔ فاختہ پاک روح کی نمائندگی کرتی ہے۔ لیکن پاک روح انجیل کے پیغام میں پاک تثلیث کی مرکزی ہستی نہیں ہے۔ یوحنا کے سولہویں باب میں یسوع نے کہا کہ پاک روح ’’اپنی طرف سے کچھ نہیں کہے گا‘‘ (یوحنا16:‏13)۔ دوبارہ، یسوع نے کہا، ’’وہ میرا جلال ظاہر کرے گا‘‘ (یوحنا16:‏14)۔ پاک روح کے کام میں خود اپنی طرف متوجہ کرنا نہیں ہے، بلکہ اِس کے بجائے مسیح کے لیے جلال ظاہر کرنا ہے۔ اِس لیے ایک گرجہ گھر جس کا مرکزی پیغام پاک روح پر مرکوز ہوتا ہے سچے طور پر بائبلی گرجہ گھر نہیں ہوتا ہے۔ پولوس رسول نے کہا کہ ہماری تمام مذہبی خدمات میں اور ہماری تمام تبلیغ میں مسیح ہی کو فضلیت حاصل ہونی چاہیے۔ اُس نے کہا کہ مسیح

’’… کلیسیا اُس کا بدن ہے اور وہ اِس بدن کا سر ہے۔ وہی مَبداء ہے اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹھا تاکہ سب باتوں میں پہلا درجہ اُسی کا ہو [کہ ہر بات میں اُسی کو برتر مانا جائے]۔ کیونکہ خدا کو یہ پسند آیا کہ ساری معموری اُسی میں سکونت کرے۔ خدا کی مرضی یہ بھی تھی کہ مسیح کے خُون کے سبب سے جو صلیب پر بہا صلح کرکے سب چیزوں کا اپنے ساتھ میل کرلے، چاہے وہ چیزیں آسمان کی ہوں، چاہے زمین کی‘‘ (کُلسِیوں 1:‏18۔20).

ہمارے پاس گناہ کے لیے اور اور خُدا کے ساتھ صلح کے لیے معافی ’’صلیب پر اُس کے خون کے وسیلے‘‘ سے ہے – اور صرف صلیب پر مسیح کے خون کے وسیلے سے!

کیا آپ یسوع کے پاس پاک صاف ہونے کی قوت پانے کے لیے جا چکے ہیں؟
کیا آپ برّہ کے خون میں دھوئے گئے ہیں؟
کیا آپ اِس لمحے اُس کے فضل میں مکمل بھروسہ کرتے ہیں؟
کیا آپ برّہ کے خون میں دھوئے گئے ہیں؟
کیا آپ خون میں دھوئے گئے ہیں، برّے کے روحوں کو پاک صاف کرنے والے خون میں؟
کیا آپ کے کپڑے بے داغ ہیں؟ کیا وہ برف کی مانند سفید ہیں؟
کیا آپ برّہ کے خون میں دھوئے گئے ہیں؟
     (’’ کیا آپ برّہ کے خون میں دھوئے گئے ہیں؟ Are You Washed in the Blood?‘‘
       شاعر ایلشاہ اے۔ ھوفمین Elisha A. Hoffman، 1839۔1929)۔

اوہ! قیمتی ہے وہ بہاؤ
جو مجھے برف کی مانند سفید بناتا ہے:
اور کوئی دوسرا چشمہ میں نہیں جانتا،
کچھ نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے۔
     (’’کچھ بھی نہیں ماسو ائے خون کے Nothing But the Blood‘‘شاعر رابرٹ لوری Robert Lowry، 1826۔1899).

’’ایک بڑی اہم بات جو مجھ تک پہنچی اور میں نے تمہیں سُنائی یہ ہے کہ کتابِ مُقدّس کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے قُربان ہُوا...‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:‏3).

ڈاکٹر کرسویل نے کہا،

   ’’سب سے پہلے‘‘ اِن لفظوں سے اُس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ اُس کے حوالے کا اِس قدر تعلق وقت کے ساتھ نہیں ہے جس قدر اِس کی اہمیت... مسیح کی موت کے وسیلے سے ہمارے گناہوں کے [گنہگاروں کی جگہ پر] متبدلیاتی فدیہ کا عقیدہ فضل کی انتہائی بنیاد ہے، جو کہ انجیل کا انتہائی دِل ہے۔ اورکوئی دوسری سچائی اِس قدر رُتبہ نہیں رکھتی... کلام مقدس کے تمام عظیم عقائد صلیب کے لیے رہنمائی کرتے ہیں۔
      ایک تنقیدنگار نے ایک مرتبہ چارلس ھیڈن سپرجیئنCharles Haddon Spurgeon سے کہا، ’’آپ کے تمام واعظ ایک جیسے لگتے ہیں،‘‘ جس کے لیے لندن کے شہرہ آفاق مبلغ نے جواب دیا، ’’جی ہاں، میں بائبل میں سے اپنی تلاوت کہیں سے بھی لے لیتا ہوں اور پھر ایک سیدھی لکیر[سب سے چھوٹا راستہ] صلیب کے لیے بناتا ہوں۔‘‘ کفارے کے بغیر کوئی معافی نہیں ہوتی؛ خُون کے بہائے بغیر کوئی اِعلان نجات نہیں ہوتا؛ قرض کی ادائیگی کیے بغیر کوئی مصالحت نہیں ہوتی ہے...
      مسیح کے کفاراتی موت کی تبلیغ کرنا ہی نئے عہد نامے کا منفرد، متعین عقیدہ ہے۔ یہ ہمارے ایمان کو دوسرے تمام مذاہب سے مختلف کرتا ہے۔ مسیحی پیغام منفردانہ طور پر نجات کا ایک پیغام ہے۔ اِس کا بنیادی مقصد انسان کو گناہ کے فیصلے اور غلامی سے واپس نکالنا ہوتا ہے... یہ پہلے اور سب سے بڑھ کر نجات کی ایک انجیل ہے، خوشخبری کا ایک اعلان ہے کہ خُدا نے مسیح کی خاطر ہمیں معاف کر دیا ہے (ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل، پی ایچ۔ ڈی۔ W. A. Criswell, Ph. D.، ایمان کے دفاع میں In Defense of the Faith، ibid.، صفحات68۔70)۔

کروڑوں شہیدوں اور مقدسین نے کہا، ’’میں صلیب کے مسیح کے لیے خود کو پیش کر دوں گا! میں صلیب کے مسیح کے لیے اپنے ہاتھ اور اپنے پاؤں پیش کر دوں گا! میں صلیب کے مسیح کے لیے اپنا بدن خونخوار درندوں کو پیش کر دوں گا! میں صلیب کے مسیح کے لیے اپنی تمام زندگی پیش کردوں گا!‘‘

اُنہوں نے جابروں کی لہراتی ہوئی تلواروں کا سامنا کیا،
   شیر ببروں کی خونی بالوں والی گردن،
موت کو احساس دلانے کے لیے اُنہوں نے اپنی گردنیں جھکا دیں:
   کون اُن کے نقش قدم پر چلتا ہے؟
     (’’خُدا کا بیٹا جنگ کے لیے آگے بڑھتا ہے The Son of God Goes Forth to War‘‘ شاعر ریجینلڈ ھیبر Reginald Heber، 1783۔1826)۔

اُنہوں نے کہا یہ سب اِس کے قابل ہے اور صلیب کے مسیح کے وسیلے سے اُن کے گناہوں کی معافی اور پاک صاف ہونے کے لیے اِس سے بھی زیادہ کے قابل ہے۔

کیا آپ مسیح کو پانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ اُس پر ابھی بھروسہ کریں گے، بالکل اِس ہی صبح؟ کیا آپ ڈاکٹر واٹز Dr. Watts کے ساتھ کہیں گے، ’’یہیں پر اے خداوند، میں اپنے آپ کو سپرد کرتا ہوں، یہی تمام ہے جو میں کر سکتا ہوں‘‘؟ آپ کہتے ہیں، ’’میں صلیب کے مسیح کے لیے خود کو حوالے کرنے کے لیے تیار ہوں، جو مجھے میرے گناہ سے بچانے کے لیے مرا تھا۔‘‘ تو پھر اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک اور کمرے میں لے جائیں گے جہاں پر آپ اپنی زندگی کو اُس کے لیے وقف کر سکتے ہیں جو آپ کو آپ کے گناہ سے نجات دلانے کے لیے مرا تھا۔ اجتماع گاہ کی پچھلی جانب ابھی چلے جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ آج صبح کوئی نہ کوئی صلیب کے مسیح پر بھروسہ کرے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: 1۔کرنتھیوں15:‏1۔4 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’وہ پرانی کٹھن صلیب The Old Rugged Cross ‘‘
(شاعر جارج برنارڈ George Bennard، 1873۔1958)۔

لُبِ لُباب

صلیب کا مسیح

THE CHRIST OF THE CROSS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اب، اَے بھائیو! میں تمہیں وہ خُشخبری یاد دلانا چاہتا ہُوں جو میں پہلے تمہیں دے چُکا ہُوں، جسے تُم نے قبول کر لیا تھا اور جس پر تُم مضبوطی سے قائم ہو اُسی کے وسیلہ تُم نجات بھی پاتے ہو۔ شرط یہی ہے کہ تُم اُس خُوشخبری کو یاد رکھّو جو میں نے تمہیں دی تھی ورنہ تمہارا ایمان لانا بے فائدہ ہے کیونکہ ایک بڑی اہم بات جو مجھ تک پہنچی اور میں نے تمہیں سُنائی یہ ہے کہ کتابِ مُقدّس کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے قُربان ہُوا‘‘ (1۔کرنتھیوں 15:‏1۔3)۔

I.   اوّل، بہت سے پادری آج کل اپنی منادی کا مرکز انجیل کے بجائے کسی اور بات کو
بنائے بیٹھے ہیں، 2۔کرنتھیوں11:‏4 .

II.  دوئم، انجیل کا مرکز مسیح کی صلیب ہے، گلِتیوں6:‏14؛ 1۔کرنتھیوں2:‏2؛
یوحنا16:‏13، 14؛ کلسیوں1:‏18۔20 .