Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

اُمڈتا ہوا طوفان

THE GATHERING STORM
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
6 اکتوبر، 2013، خداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, October 6, 2013

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا۔ کیونکہ طوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے کراتے تھے۔ نُوح کے کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ اُنہیں خبرتک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ ابنِ آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہوگی‘‘ (متی 24:‏37۔39).

اپنی نامور کتاب آتا ہوا طوفان The Gathering Storm میں ونسٹن چرچل نے بتایا کہ کیسے انگلستان سویا ہوا تھا جبکہ ھٹلر کی جرمنی میں بدی کی قوتیں جنگ کی تیاریاں کر رہی تھیں۔ انگلستان تیار نہیں تھا کیونکہ اُنہوں نے سوچا تھا کہ ہمیشہ امن ہی رہے گا۔ صرف چرچل جانتا تھا کہ وہ تباہی کے دھانے پر جی رہے تھے۔ کسی نے بھی اُس کی تنبیہہ پر دھیان نہ دیا! اور یوں یہ ہمارے دور میں دوبارہ ہوتا ہے۔ بائبل کہتی ہے،

’’جب لوگ کہتے ہوں گے کہ اب امن اور سلامتی ہے اُس وقت اچانک ہلاکت اِس طرح آجائے گی... اور وہ ہرگز نہ بچیں گے‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 5:‏3).

روسی مصنف آلیکسندر سولشینٹسن Aleksandr Solzhenitsyn نے کہا، ’’بدی کی قوتیں اپنا فیصلہ کُن جارحانہ حملہ شروع کر چکی ہیں۔‘‘ ’’آنے والی تاریکی The Coming Darkness‘‘ کے عنوان سے ایک باب میں ڈاکٹر ایڈورڈ ھینڈسن Dr. Edward Hindson نے کہا، ’’یوں لگتا ہے جسیا کہ ہم بائبل کی مسیحیت کے خلاف حتمی دھاوا بولنے کے لیے شاید تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں‘‘ (ایڈ ھینڈسن، پی ایچ۔ ڈی۔ Ed Hindson, Ph.D.، حتمی نشانات Final Signs، ہارویسٹ ہاؤس Harvest House، 1996، صفحہ77)۔

اپنے مسیحی بننے سے پہلے چارلس کولسن Charles Colson صدر نیکس President Nixon کے چوٹی کے صلاح کار تھے۔ آزاد خیال میڈیا اُنہیں نکسن کا ’’ھیچٹ مین [کلہاڑی والا آدمی] hatchet man‘‘ کہتے تھے۔ اپنی مسیحیت میں تبدیلی کے بعد کولسن نے واضح کیا کہ رومی سلطنت اندر سے اِس قدر بدکار ہو گئی تھی کہ وہ جاہل وحشیوں کے جنگی گروہوں میں گِر چکی تھی۔ اُنہوں نے کہا، ’’کلیسیا کو تاریک دور کے غیر مہذب تمدّن کے خلاف اکیلا کھڑا ہونا پڑا تھا‘‘ (ibid.، صفحہ78)۔ لیکن آج خود کلیسیائیں اِس قدر بگڑ چکی ہیں کہ وہ ہماری تہذیب کو بچانے کی بہت کم اُمید پیش کرتی ہے۔ ڈاکٹر کارل ایف۔ ایچ۔ ھنری Dr. Carl F. H. Henry، جو ایک جانے مانے انجیلی بشارت کے عالم ہیں، اُنہوں نے کہا، مسیحیت کو ضرورت سے زیادہ منظم کرنے میں غلط فہمی سے آزادی بہت زیادہ ہو گئی ہے؛ کوئی بھی اِس کو گرجہ گھروں میں لوگوں کی حاضری کی زوال پزیر شماریات میں دیکھ سکتا ہے... تمام کی تمام نسل... بغیر دائمی تعلق کے ساتھ… بڑھ رہی ہے... ظالم لوگ ایک عیاش تہذیب کی گرد میں گردش کر رہے ہیں اور پہلے سے ہی معذور کلیسیا کے سائے میں دبے قدموں چل رہے ہیں‘‘ (کارل ایف۔ ایچ۔ ھنری، پی ایچ۔ ڈی۔ Carl F. H. Henry, Ph. D.، عظیم تہذیب و تمدن کی نزول شب Twilight of a Great Civilization، کراس وے بُکس Crossway Books، 1988، صفحہ17)۔

ڈاکٹر ھنری نے کہا، ’’ہمارے دور میں اتھاہ گہرائیوں کے چشمے اُبل پڑے ہیں۔ وہ ادارے جو ہزارہا سال سے جرأت مندی سے مقابلہ کرتے رہے زیرآب آ گئے ہیں، اور ... ہمارے سامنے سوال یہ ہے، کہ آیا تہذیب و تمدن کا یہ مکمل لبادہ گزارا کر پائے گا‘‘ (ibid.، صفحہ16)۔ اُنہوں نے کہا، ’’غیرمہذب لوگ آ رہے ہیں۔ ہمارے تمام کے تمام سائنسی کارنامے اُن وحشیوں کے ذریعے سے اُن کے ظالمانہ اور مکارانہ اعمال کے لیے ناجائز طور پر استعمال ہو سکتی ہیں۔ ھٹلر اور نازی پہلے ہی اِس سائنسی سمجھ بوجھ کو اُن انتہائی مؤثر گیس کے کمروں میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو جلا کر خاک کر دینے میں [استعمال کر چکے ہیں]۔ سٹالن Stalin اور دوسرے مطلق النعان آمروں نے بہت پہلے ہی سیکھ لیا تھا کہ قید و بندشوں میں بندھے ذرائع ابلاغ ان گنت جدید لوگوں [کے جم غفیر کو] غلام بنا سکیں گے‘‘ (ibid.)۔

آج آزاد مرکزی ذرائع ابلاغ – براک اوباما کی طرف سے حاصل کی گئی ہر پوزیشن کو ربڑ کی مہروں کے ساتھ منظوری دیتے ہوئے وہی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کانگرس کے رُکن رینڈی فوربز Randy Forbes نے کہا، ’’ہمارے مُلک کی تاریخ میں کسی بھی انتظامیہ کے بارے میں جن کو میں جانتا ہوں یا جن کے بارے میں پڑھ چکا ہوں... اِس [صدر] کے اعمال مذہبی آزادی کے لیے سب سے زیادہ ملامت آمیز رہے ہیں‘‘ (ڈیسیشن Decision میگزین، اکتوبر2013، صفحہ17)۔ بشپ ہیری جیکسن Bishop Harry Jackson، جو قوم کے افریقی امریکی سب سے زیادہ نمایاں رہنماؤں میں سے ایک ہیں، اور ایک رجسٹرڈ جمہوریت کے حامی ہیں، اُنہوں نے کہا اُوباما روایتی مسیحیت کے لیے ایک دشمن بن چکے ہیں اور کہ قوم ’’ایک بہت بڑے بحران کے لمحے‘‘ پر ہے (ibid.)۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم ’’تباہی کے دہانے پر کھڑی ایک تہذیب‘‘ ہیں (ibid.، صفحہ19)۔ یہاں تک کہ بوب ووڈورڈ Bob Woodward، جو ایک آزاد خیال نامہ نگار ہیں اور جنہوں نے واٹرگیٹWatergate کو بےنقاب کرنا شروع کیا تھا، فکرمند ہیں۔ اُنہوں نے فاکس نیوز والوں کے بِل او رائیلی Bill O’ Reilly کو بتایا، ’’بہت سے حلقوں میں اِس وائٹ ہاؤس کے بارے میں بہت گہرا ترین شک پایا جاتا ہے، اور یہ صرف محض آپ کے نیٹ ورک یا دائیں بازو والوں یا قدامت پسندوں کی جانب سے ہی نہیں ہے‘‘ (ibid.، صفحہ19)۔ بہت سے انجیلی بشارت والے یقین کرتے ہیں کہ باراک اوباما سب سے زیادہ خطرناک ترین شخص ہیں جنہوں نے کبھی وائٹ ہاؤس پر قبضہ کیا ہے۔ بلی گراہم کے ڈیسیشن Decision میگزین نے کہا کہ اُوباما نے ’’صدر کی حیثیت سے بائبل کے اصولوں اور مذہبی آزادی کو گھٹا کر‘‘ امریکہ کو ’’ایک خطرناک راہ‘‘ پر گامزن کر دیا ہے (ibid.، سرورق کی کہانی)۔ بالکل اُسی میگزین میں، ایک نمایاں بپتسمہ دینے والے پادری، محترم جناب ڈان ولٹن Rev. Don Wilton نے کہا، ’’شیطان جیتے جاگتے شخص کو تباہ کرنا چاہتا ہے اور وہ ایسا شک اور مکروفریب اور کوئی دوسرے وسائل جو مہیا ہوں پیدا کر کے کرتا ہے۔ اُس کا مقصد فتح کرنا، چوری کرنا، تقسیم کرنا اور تباہ کرنا ہے‘‘ (ibid.، صفحہ29)۔

ایک اور بہت بڑا مسٔلہ جس کا آپ کی نسل کو سامنا ہے ماحولیاتی بحران ہے۔ مثال کے طور پر، ایمازون Amazom کے برساتی جنگلات کی انسان کے ذریعے سے تباہی کو ٹائم Time میگزین نے ’’تاریخ کے بہت بڑے المیوں میں سے ایک‘‘ کہا ہے (18 ستمبر، 1989، صفحات 76۔80)۔

بالکل گذشتہ بُدھ ہی کو (2 اکتوبر، 2013، صفحہ AA1) لاس اینجلز ٹائمز Los Angeles Times نے یوسےمائٹ Yosemite کے سب سے بڑے گلیشیئر پر مراسلہ پیش کیا۔ آرٹیکل میں لکھا تھا، ’’ماہر ارضیات کہتے ہیں، پارک میں سب سے بڑا ترین برف کا ٹکڑا موت کے گرداب میں ہے۔‘‘ پارک کے ماہر ارضیات، گریگ سٹاک Greg Stock نے کہا، ’’ہم اِس کو وجود میں رہنے کے لیے 20 سال یا تھوڑا سا زیادہ وقت دے سکتے ہیں – پھر یہ اپنے پیچھے پتھریلا کوڑا چھوڑتے ہوئے، غائب ہو جائے گا۔‘‘ آرٹیکل میں لکھا تھا کہ اِن بڑے بڑے برف کے تودوں کا غائب ہونا ’’پوری دُنیا میں بھی رونما ہو رہا ہے۔‘‘ عظیم برف کی تہیں گھٹ رہی ہیں، جو اردگرد کے ماحولیات نظاموں میں کیا رونما ہونے والا ہے کے بارے میں تشویش کو ترغیب دے رہی ہیں۔‘‘ عالمی حدت آنے والی چند دہائیوں میں ہماری تمام طرز زندگی کو بدل کر رکھ دے گی۔

ڈاکٹر ھینڈسن نے سب سے زیادہ خوفناک مسئلہ پیش کیا، ’’آج امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین، اسرائیل اور انڈیا کے پاس پہلے سے ہی ایٹمی ہتھیار ہیں... یہ صرف تھوڑی سی مدت کی بات ہے کہ ناقابل ترمیم تباہی و بربادی کا حملہ ہو جائے گا‘‘ (ibid.، صفحہ87، 88)۔

بہت سے سائنس دان تو مستقبل کے بارے میں قنوطی ہیں۔ اُن میں سے ایک نے کہا، ’’اب ایک ہی دِن میں نسل انسانی کو تباہ کرنا ممکن ہے۔‘‘ مگر ایک کینیڈین سائنس دان نے اُن کو جواب دیا اور کہا، ’’آپ غلطی پر ہیں۔ تمام نسل انسانی کو اب ایک منٹ میں تباہ کر دینا ممکن ہے‘‘ (بلی گراہم Billy Graham، دی چیلنج: میڈیسن سکوائر گارڈن سے واعظ The Challenge: Sermons From Madison Square Garden، ڈبل ڈے اینڈ کمپنی Doubleday and Company، 1969، صفحہ158)۔ بائبل کہتی ہے،

’’لیکن خدا کا دِن چور کی طرح آجائے گا۔ اُس دِن آسمان بڑے شوروغُل کے ساتھ غائب ہوجائیں گے اور اجرامِ فلکی شدید حرارت سے پگھل کر رہ جائیں گے اور زمین اور اُس پر کی تمام چیزیں جل جائیں گی‘‘ (2۔ پطرس 3:‏10).

وہ دِن آ رہا ہے۔ یہ ناگزیر ہے۔ ’’خُدا کا دِن چور کی طرح آ جائے گا۔‘‘ آپ ایک چور کے آنے کی توقع نہیں رکھتے۔ مگر اچانک وہ آ جاتا ہے – بغیر کسی اطلاع کے! اور یوں ہی فیصلہ آ جائے گا۔ لوگ تیار نہیں ہونگے! ایک بہت بڑی تعداد تیار نہیں ہوگی! ’’خُدا کا دِن چور کی طرح آ جائے گا۔‘‘

ایک دِن شاگرد کوہِ زیتون پر یسوع کے پاس آئے، جو کہ یروشلم سے کچھ باہر تھا۔ اُنہوں نے اُس سے ایک سوال پوچھا، ’’تیری آمد اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے؟‘‘ (متی24:‏3)۔ یسوع نے اُن کو یہ سوال پوچھنے پر ملامت نہیں کی تھی۔ اِس کی بجائے اُس نے اُنہیں قیامت کی بہت سی علامات بتائیں۔ اُنہوں نے ایک علامت کے بارے میں پوچھا تھا، لیکن اُس نے اُنہیں ’’دُنیا کے آخر ہونے کے‘‘ بہت سے نشانات پیش کیے۔ اُس نے کہا بہت سے جھوٹے مسیح ہونگے، اور بہت سے جھوٹے نبی ہونگے۔ یہ روحانی دھوکہ بازی کا ایک دور ہوگا۔ ہمارے دور میں یہاں پر فرقوں کے جھوٹے ’’مسیح‘‘ ہیں، اور بہت سی بڑی بڑی سیمنریوں میں علم الہٰیات کی آزاد خیالی کے جھوٹے مسیح ہیں۔ مسیح نے کہا تھا کہ ناختم ہونے والی لڑائیاں ہونگی اور جنگوں کی افواہیں ہونگی۔ پہلی جنگ عظیم سے لیکر دُنیا نے اب تک ایک کے بعد دوسری جنگ کا تجربہ کیا ہے۔ آزاد خیال عالم الہٰیات خیال کرتے ہیں کہ مسیحیت فتح پائے گی، اور بیسویں صدی میں بے مثل امن کا ایک زمانہ لائے گی۔ لیکن اُن کی اُمیدوں پرپہلی جنگ عظیم اور اُس کے بعد کی تباہیوں نے پانی پھیر دیا۔ ھیری ایمرسن فوسڈیک Harry Emerson Fosdick، جو ایک ابُھرتے ہوئے آزاد خیال ہیں، اُنہوں نے مثالی مسیحی معاشرت کے تصور کو رد کر دیا۔ اُنہوں نے کہا، ’’اگر کسی کے خیالات ہماری نسل کے دیو ہیکل واقعات سے متاثر ہوتے ہیں، تو ہم مایوسی کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ لہٰذا بائبل کو مسترد کرنے والے آزاد خیال اپنی مایوسی اور نا اُمیدی میں وجودیت existentialism کی جانب مُڑ گئے ہیں۔ آج نا اُمیدی اِس قدر زیادہ ہے کہ کالج کی عمر کے نوجوان لوگوں میں پہلے نمبر پر مرنے کا سبب اب خود کشی ہے! میں نے یہ ابھی گذشتہ ہفتے ہی ایک آرٹیکل میں پڑھا تھا۔ مسیح نے یہ بھی کہا تھا کہ جگہ جگہ قحط ہونگے، اور موذی مرض ہونگے، اور زلزلے آئیں گے، اور جیسے جیسے یہ زمانہ خاتمے کی طرف بڑھے گا یہ بڑھتے جائیں گے۔ یسوع نے کہا کہ مسیحیوں سے ’’ساری قومیں میرے نام کی وجہ سے دشمنی رکھیں گی۔‘‘ یسوع نے یہاں تک کہا کہ میرا اقرار کرنے والے مسیحی ایک دوسرے کو پکڑوائیں گے، اور ایک دوسرے سے عداوت رکھیں گے۔ اُس نے کہا کہ لاقانونیت اور گناہ اِس قدر بڑھ جائیں گے کہ مسیحیوں کا ایک دوسرے کے لیے پیار ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ لیکن مسیح نے یہ بھی کہا کہ خوشخبری ’’ساری دُنیا میں سنائی جائے گی تاکہ تمام قومیں اِس کی گواہ ہوں اور تب خاتمہ ہوگا۔‘‘ اور پھر یسوع نے خاتمے کا ایک بہت بڑا نشان بتایا۔ اُس نے کہا،

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا۔ کیونکہ طوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے کراتے تھے۔ نُوح کے کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ اُنہیں خبرتک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ ابنِ آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہوگی‘‘ (متی 24:‏37۔39).

شاگردوں نے مسیح سے اُس کی آمد اور دُنیا کے خاتمے کا نشان پوچھا تھا۔ اُس نے اُنہیں بہت سے نشانات بتائے۔ پھر اُس نے اُنہیں بتایا کہ خاتمے کا وقت بالکل اُسی وقت کی مانند ہوگا جس میں عظیم سیلاب سے پہلے نوح رہتا تھا۔ اُس نے کہا، ’’جیسا کہ طوفان سے پہلے کے دِنوں میں... ابن آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہوگی‘‘ (متی24:‏37، 39)۔ اُس نے اُنہیں بتایا کہ جیسا اُس وقت تھا، ایسا ہی خاتمے کے وقت پر بھی ہوگا۔ ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan، جو کہ ایک جانے مانے معزز بائبل کے اُستاد ہیں اُنہوں نے بہت سی علامات پیش کی ہیں جو کہ نوح کے دِنوں کی خصوصیات تھیں۔ درج ذیل چھے علامتیں ہیں جو اُنہوں نے پیش کیں:

1.  یہ مذہبی اِرتداد کا ایک وقت تھا۔
2.  یہ پوری دنیا میں سفر کرنے کا ایک وقت تھا۔
3.  یہ شہر کی تعمیر کا ایک وقت تھا۔
4.  یہ کثیرالازواجی اور جنسی بے راہ روی کا ایک وقت تھا۔
5.  یہ وہ وقت تھا جب بے ہنگم موسیقی کا راج تھا۔
6.  یہ بے مثل شورش کا ایک دور تھا۔
     (ایم۔ آر۔ ڈیحان، ایم۔ ڈی۔ M. R. DeHaan, M.D.، نوح کا زمانہ The Days of Noah،
       ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan
       Publishing House، اشاعت 1979، صفحہ41)۔

میرے پاس اِس سب کی وضاحت میں جانے کا وقت نہیں ہے۔ میں آپ کو بلی گراھم کے ایک واعظ میں سے نوح کے زمانے پر ایک پیراگراف پیش کروں گا جس کی تبلیغ اُنہوں نے 1969 میں میڈیسن سکوائر گارڈن Madison Square Garden میں کی تھی۔ مجھے ٹیلی ویژن پر اُس واعظ کو دیکھنا یاد ہے۔ اُنہوں نے کہا،

بائبل تعلیم دیتی ہے کہ زمانے کے خاتمے پر، یہ اِس قدر زیادہ اندیشوں، جنگ، تباہی، لاقانونیت، بدکاری کا زمانہ تھا کہ خُدا کو مداخلت کرنی پڑی ہوگی اور اِس سب کچھ کو روکنا پڑا ہوگا... (بلی گراھم، ’’آنے والا دِن The Day to Come،‘‘ ibid.، صفحہ164)۔

نوح کے زمانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ،

’’خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں۔ چنانچہ خداوند نے کہا: میں انسان کو جسے میں نے پیدا کیا رُوئے زمین پر سے مِٹا دُونگا بلکہ سب کو خواہ وہ اِنسان ہوں یا حیوان؛ خواہ وہ زمین پر رینگنے والے جانور ہوں اور ہوا کے پرندے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے اُنہیں بنایا‘‘ (پیدائش 6:‏5،7).

اور یسوع نے کہا کہ ’’اُنہیں خبرتک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ ابنِ آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہوگی‘‘ (متی24:‏39)۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مسیح کے اُن الفاظ پر توجہ مرکوز کریں، ’’... سیلاب آیا اور سب کو بہا لے گیا۔‘‘

اِس زمانے کے خاتمے پر کوئی سیلاب نہیں آئے گا۔ یہ دُنیا جیسا کہ ہم اِسے جانتے ہیں اپنے خاتمے کی طرف آنا شروع کرے گی جب خُدا اپنا قہر و غضب مکاشفہ 16:‏1۔21 کے ’’فیصلوں کے پیالوں‘‘ میں اُنڈیلے گا۔ ’’[خُدا کے] قہر کی خوفناکی اِس بدکار دُنیا پر اُس وقت میں نازل ہوگی (مکاشفہ16:‏19)۔ دُنیا اِس ناگوار فیصلے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ وہ اتنے ہی غافل ہونگے جتنے کہ نوح کے زمانے کے لوگ تھے، جب ’’سیلاب آیا اور سب کو بہا لے گیا‘‘ (متی24:‏39)۔ میں چاہتا ہوں کہ ہماری تلاوت کے بارے میں آپ تین باتوں پر غور کریں، جو کہ عظیم سپرجیئن کے واعظ ’’نوح کا سیلاب‘‘ میں سے حاصل کی گئی ہیں۔

I. اوّل، ’’سیلاب آیا اور سب کو بہا لے گیا۔‘‘

عظیم سیلاب کی تباہی ہر غیر نجات یافتہ شخص کو بہا کر لے گئی۔ اُن میں سے سب پانی کی قبر میں ڈوب گئے تھے۔ ایک بھی غیرنجات یافتہ شخص بخشا نہیں گیا تھا۔ ’’سیلاب آیا اور سب کو بہا لے گیا‘‘ (متی24:‏39)۔ وہ جو بہت امیر تھے غصیلے سیلاب میں نگل لیے گئے۔ بیچارے غریب بھی فرار نہیں پا سکتے تھے۔ جی نہیں، سیلاب آیا اور وہ سب کو بہا لے گیا۔ اُس زمانے کے عالم فاضل بھی نہیں بخشے گئے تھے۔ جاہل لوگ بھی ڈوب گئے تھے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں، نہ تو علم اور نہ ہی جہالت آپ کو خُدا کے قہر کے آنے والے دِن سے بچا سکتی ہے!

جب نوح نے وہ کشتی تعمیر کی تھی تو یہ اُس وقت بنائی جانے والی سب سے عظیم ترین کشتی تھی۔ یہ ایک بہت بڑا بحری جہاز تھا۔ یہ اُس زمانے میں دُنیا کے عجوبوں میں سے ایک تھا۔ نوح نے اِس کو خشک زمین پر تعمیر کیا تھا، جو کہ کسی بھی دریا یا سمندر سے بہت دور تھا۔ ساری دُنیا سے لوگ اِس کو دیکھنے کے لیے آتے تھے، جیسا کہ آج وہ ڈیسنی لینڈ Disneyland کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ میں اُن کو نوح کو ایک پاگل آدمی کہتے ہوئے تصور کر سکتا ہوں۔ اُن میں سے بہت سے تو انتہائی دور دراز سے اِس دیوہیکل کشتی کو دیکھنے کے لیے آئے تھے۔ اور جب وہ آتے تھے تو نوح اُن کو آنے والے سیلاب کے بارے میں تبلیغ کرتا تھا۔ بائبل اُس کو ’’راستبازی کا مبلغ‘‘ کہتی ہے (2۔ پطرس2:‏5)۔ لیکن وہ اُس کی تبلیغ سے تبدیل نہیں ہوئے تھے۔ جب اُس نے اُن کے لیے تبلیغ کی تو اُنہوں نے نا صرف اُس سے منہ موڑ لیا تھا بلکہ اُنہوں نے یقینی طور پر اُس کا مذاق بھی اُڑایا تھا۔ اِس کے باوجود سیلاب آیا اور سب کو بہا لے گیا۔ جب فیصلہ آتا ہے تو کوئی تمسخر نہیں ہوگا۔ جب آپ جہنم کے شعلوں میں گرتے ہیں، تو آپ خواہش کریں گے کہ کاش ہم نے انجیل کو سُنا ہوتا اور مسیح پر بھروسہ کیا ہوتا۔ لیکن اُس وقت تک بہت تاخیر ہو گئی ہو گی۔ آپ کی بے اعتقادی جا چکی ہوگی، لیکن اُس وقت تک ہمیشہ کے لیے آپ کے نجات پانے کے لیے تاخیر ہو چکی ہوگی، جیسا کہ یہ اُن کے لیے ہوا تھا جب ’’سیلاب آیا اور سب کو بہا لے گیا۔‘‘

II۔ دوئم، جب سیلاب آیا تھا تو وہ صرف اِس دُنیا کی باتوں کے بارے میں فکرمند تھے۔

وہ اِس زندگی کی باتوں میں اِس قدر اُلجھ گئے تھے کہ وہ دائمیت کے لیے تیار نہیں تھے۔ مسیح نے کہا،

’’طوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے کراتے تھے۔ نُوح کے کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا‘‘ (متی 24:‏38).

اُنہوں نے اگر کسی بات کے بارے میں سوچا تھا تو وہ کھانا پینا، شادیاں کرنا کرانا، اور شباب و شراب کی دعوتیں کرنا تھیں۔

آج شام 5:‏30 بجے یہاں گرجہ گھر میں ہم ایک خوبصورت شادی منائیں گے۔ اِس کے بعد ہم ضیافت کریں گے۔ اِس میں کوئی بُری بات نہیں ہے۔ لیکن نوح کے زمانے میں صرف یہی باتیں تھی جن کے بارے میں وہ سوچتے تھے۔ وہ صرف اِس زندگی کی باتوں کے بارے میں سوچتے تھے۔ اُنہوں نے دائمیت اور اپنی جانوں کی نجات کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ وہ آپ میں سے کچھ کی مانند تھے، جو یہ سوچتے ہیں کہ ہر اتوار کو گرجہ گھر کے لیے آنا وقت ضائع کرنا ہے۔ میں نے کچھ کالج کے طالب علموں کو جو ہمارے گرجہ گھر کو دیکھنے کے لیے آئے تھے کہتے سُنا کہ اُنہیں اتوار کو پڑھنا ہوتا ہے۔ ہمارے گرجہ گھر کا ہر شخص ہائی سکول یا کالج میں ہے۔ اِس کے باوجود وہ جانتے ہیں کہ اُن کے پاس پڑھنے کے لیے کافی وقت ہے اگر وہ اپنے وقت کو سمجھ کر استعمال کریں۔ ہر عبادت میں ہم آپ کو ایک ورق دیتے ہیں جس میں کیسے پڑھنا چاہیے پر 12 نکات ہیں۔ اگر آپ اُن نکات پر عمل کریں تو آپ کے پاس ہر اتوار کو گرجہ گھر آنے کے لیے کافی وقت ہوگا، اور اِس کے ساتھ ساتھ اپنی جماعتوں میں شاندار نتائج (straight A’s) پا سکتے ہیں۔ میں خود رات میں کالج جایا کرتا تھا، جبکہ دِن کے دوران چالیس گھنٹے ہفتے میں کام کیا کرتا تھا۔ لیکن میں نے کبھی بھی پڑھائی کی وجہ سے گرجہ گھر جانا خطا نہیں کیا تھا۔ اور خُدا نے مجھے اُس کو ترجیح دینے پر برکت دی تھی۔ گرجہ گھر کی ہر عبادت میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنے سے پہلے میں ایک غریب طالب علم ہوا کرتا تھا۔ لیکن پھر میں نے تہیہ کیا کہ میں ہر اتوار کی صبح اور ہر ہفتے کی شام کو گرجہ گھر جایا کروں گا۔ مسیح کے لیے یہ تہیہ کر لینے کے بعد میں نے اوسطاً اے گریڈ لاس اینجلز کی کیلیفورنیا سٹیٹ میں لیا، حالانکہ میں دِن کے دوران پورے وقت کی ملازمت کر رہا تھا، اور رات کو ہر سہ ماہی میں 3 یا 4 کلاسز پڑھ رہا تھا! یسوع نے کہا،

’’لیکن پہلے تُم اُس کی بادشاہی اور راستبازی کی جستجو کرو تو یہ چیزیں بھی تمہیں عطا کردی جائیں گی‘‘ (متی 6:‏33).

خود میری اپنی زندگی میں مَیں نے ثابت کیا کہ مسیح کا وعدہ سچا ہے۔ میں نے ہر اتوار کی صبح اور ہر اتوار کی شام کو گرجہ گھر میں حاضر ہونے سے خُدا کو پہلے نمبر پر رکھا تھا، اور خُدا نے کالج میں اچھے گریڈز لینے میں میری مدد کی تھی۔ میرا بیٹا لیزلی Leslie اکاؤنٹنگ میں کیلیفورنیا سٹیٹ یونیورسٹی نارتھریج Cal State Northridge میں اوّل درجے کا طالب علم تھا۔ اُس نے گریجوایشن کی اپنی جماعت میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔ اُس نے بھی کبھی اتوار کی صبح اور اتوار کی شام کو گرجہ گھر کی عبادت کو نہیں چھوڑا۔ اگر ہم خُدا کو گرجہ گھر کی عبادت کبھی نہ چھوڑنے کے ذریعے سے اپنی زندگی میں پہلے نمبر پر رکھ لیں، تو مسیح نے وعدہ کیا تھا کہ خُدا کی برکات ہماری زندگیوں میں ہونگی!

لیکن نوح کے زمانے کے لوگ، اور ہمارے دور کے لوگ سوچتے ہیں کہ یہ بیوقوفی ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ اُنہیں سینکڑوں گھنٹے ویڈیو گیمز اور پُرتشدد، جنسی طور پر متحرک کر دینے والی فلمیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اُن کے لیے، گرجہ گھر میں حاضر ہو کر خُدا کو پہلے درجے پر رکھنے کے مقابلے میں یہ کہیں زیادہ اہم ہے۔ لیکن میں نے گذشتہ ہفتے ایک آرٹیکل میں پڑھا جس میں لکھا تھا فحش فلمیں دیکھنے کی لت اتنی ہی بُری ہے جتنا کہ ایک طاقتور نشہ۔ ایک مرتبہ آپ کو اِن کی عادت پڑ جائے تو اِن سے چھٹکارہ پانا تقریباً ناممکن ہی ہے! صرف مسیح ہی آپ کو آزاد کر سکتا ہے – اور اگر آپ کُلی طور پر اپنی زندگی اُس کے لیے وقف کر دیں! وہ جو مسیح کا انکار کرنا جاری رکھتے ہیں وہ اپنی گناہ سے بھرپور مادہ پرستی اور بے دینی کی ایک بھاری قیمت ادا کریں گے۔ جب دُنیا پر خُدا کا فیصلہ صادر ہوگا تو وہ تیار نہیں ہونگے۔ نوح کے دِنوں میں لوگ تیار نہیں تھے جب ’’سیلاب آیا اور سب کو بہا لے گیا‘‘ (متی24:‏39)۔ بائبل کہتی ہے، ’’اپنے خُدا سے ملنے کے لیے تیار ہو‘‘ (عاموس4:‏12)۔ کیا آپ خُدا کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں؟ یا کیا آپ جہنم میں بھیج دیے جائیں گے، جہاں ’’آگ بجھتی ہی نہیں ہے‘‘؟ (مرقس9:‏44)۔ ’’سیلاب آیا اور سب کو بہا لے گیا۔‘‘

III۔ سوئم، وہ تمام جو کشتی میں تھے بچا لیے گئے جب سیلاب آیا تھا۔

سپرجیئن نے کہا، ’’کوئی بھی اُس [کشتی] میں سے باہر نہیں گرا تھا؛ کوئی باہر نہیں کھینچا گیا تھا؛ کوئی بھی اِس میں مرا نہیں تھا؛ کسی کو بھی اِس میں [مرنے کے لیے] چھوڑا نہیں گیا تھا۔ وہ تمام کے تمام اِس میں محفوظ رہے تھے... کشتی نے اُن تمام کو محفوظ رکھا تھا، اور اِسی طرح یسوع بھی اُن تمام کو [جو اُس میں ہیں] محفوظ رکھے گا۔ وہ ہمیشہ کے لے محفوظ ہو جائیں گے۔ اُن میں سے کوئی بھی فنا نہیں ہوگا، نہ ہی کوئی اُنہیں اُس کے ہاتھ سے چھین پائے گا‘‘ (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، ’’نوح کا طوفان Noah’s Flood‘‘، میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ سے The Metropolitan Tabernacle Pulpit، دوبارہ اشاعت1976، جلد چودھویں XIVِ، صفحہ 431)۔

نوح کی کشتی مسیح میں نجات کی ایک شبیہہ یا تصویر ہے۔ ہم عبرانیوں11باب میں پڑھتے ہیں،

’’ایمان ہی سے نُوح نے اُن باتوں کے بارے میں جو مُستقبل میں پیش آنے والی تھیں خدا کی طرف سے ہدایت پائی اور خدا ترسی کے باعث اُس پر عمل کیا اور ایک کشتی بنائی جس میں اُس کا سارا خاندان بچ نکلا‘‘ (عبرانیوں 11:‏7).

نوح اور اُس کا خاندان اِس لیے بچ گئے تھے کیونکہ حفاظت کی کشتی میں سیلاب کے فیصلے سے دُنیا کے تباہ ہونے سے پہلے ہی چلے گئے تھے۔ کیونکہ نوح کے خاندان نے کشتی میں جانے کے لیے اُس کی پیروی کی تھی، اور وہ بھی معاف کر دیے گئے تھے۔ بائبل کہتی ہے کہ خُدا نے

’’پُرانے زمانے کے لوگوں کو بھی نہ چھوڑا بلکہ بے دینوں کی زمین پر طوفان بھیج کر صرف راستبازی کی منادی کرنے والے نُوح کو اور سات دیگر اشخاص کو بچالیا (2۔ پطرس 2:‏5).

قدیم تبصرہ نگاروں نے کہا کہ کشتی کلیسیا کی ایک تصویر تھی۔ جس کو عموماً آج کل مسترد کیا جاتا ہے، مگر میں سوچتا ہوں کہ پرانے عالمین کی ایک اچھی بات تھی۔ تیسری صدی میں عالم سیپرئین Cyprian (200۔258) نے کہا، ’’کلیسیا سے باہر کوئی بھی نجات نہیں ہے۔‘‘ جان کیلون John Calvin جو کہ ایک عظیم اصلاح پرست تھے، اُنہوں نے بھی یہی بات کہی۔ میرے خیال میں اُن کی بات ٹھیک تھی۔ ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر Dr. A. W. Tozer (1897۔1963) نے کہا، ’’اِس زمانے میں خُدا کے لیے کوئی بھی قابل قبول خُدمت نہیں ہو سکتی جس کا مرکز گرجہ گھر نہیں ہوتا اور جو گرجہ گھر میں سے شروع نہیں ہوتی... جو کوئی بھی مقامی گرجہ گھر کی توہین کرتا ہے وہ مسیح کی تحقیر کرتا ہے‘‘ (اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر، ڈی۔ ڈی۔ A. W. Tozer, D.D.، کی کتاب خُدا انسان کو بتاتا ہے کون دیکھ بھال کرتا ہے God Tells the Man Who Cares میں سے ’’کلیسیا کی اشد ضروری جگہ The Vital Place of the Church،‘‘ جس کا وارن ڈبلیو وئیرسبی Warren W. Wiersbe کی کتاب اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر کا بہترین کام The Best of A. W. Tozer، میں حوالہ دیا گیا، بیکر کتاب گھر Baker Book House، 1978، صفحہ64، 65)۔

لہٰذا، ایک طرح سے سمجھا جائے، کشتی کلیسیا کی ایک تصویر ہے۔ میں نے کہا، ’’ایک طرح سے سمجھا جائے‘‘ کیونکہ آپ گرجہ گھر میں حاضر ہو سکتے ہیں اور اِس کے باوجود نجات نہیں پاتے ہیں۔ بہت سے لوگ جو گرجہ گھر جاتے ہیں حقیقی مسیحی نہیں ہوتے ہیں۔

میں کافی پُر یقین ہوں کہ کھوئے ہوئے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد، شاید یہاں تک کہ اُن کی ہزاروں میں تعداد ہو، کشتی کو دیکھنے کے لیے آئے تھے۔ میں مجھے اتنا ہی یقین محسوس ہوتا ہے کہ اُن میں سے بہت سے لوگوں نے اصل میں اُس کشتی کے اندر جا کر دیکھا ہوگا۔ وہ بِلا شبہ اُس ڈھانچے میں سے گزرے ہوں گے، بےشمار کمروں کو دیکھتے ہوئے، اوپر نیچے جاتے ہوئے، اِس میں ایک منزل سے دوسری پر جاتے ہوئے۔ اور اِس کے باوجود اُنہوں نے اپنے آپ کو اُس کشتی کی حفاظت سے رکھنے کی بات کے لیے وقف نہیں کیا تھا۔ وہ آئے اور چلے گئے۔ کبھی کبھی وہ وہاں ہوتے تھے، اور دوسرے وقت میں وہ وہاں نہیں ہوتے تھے۔ وہ کشتی میں نہیں تھے جب سیلاب آیا تھا، اِس لیے وہ مر گئے۔

تمام سفر طے کر کے کشتی میں آنا، اور وہاں پر بس جانا، ایک غیر نجات یافتہ شخص کی تصویر ہے جو سارا راستہ طے کر کے گرجہ گھر آتا ہے، یسوع مسیح پر بھروسہ کرتا ہے، اور اُس میں بس جاتا ہے۔ یوحنا15:‏6 میں نیو انٹرنیشنل نسخۂ بائبل NIV میں مسیح کے الفاظ کا یوں ترجمہ کیا گیا ہے، ’’جو مجھ میں قائم نہیں رہتا وہ اُس ڈالی کی طرح ہے جو دور پھینک دی جاتی ہے اور سوکھ جاتی ہے... آگ میں جھونک کر جلا دی جاتی ہیں۔‘‘ اِسی لیے، وہ جو مکمل طور پر مسیح کے پاس آتے ہیں، اور اُسی میں رہتے ہیں، نجات پاتے ہیں۔

عام طور پر لوگ گرجہ گھر آنے سے پہلے انجیل کو سنجیدگی سے قبول کرتے ہیں اور نجات پاتے ہیں۔ یہ لوگوں کے بچ پانے کا ایک معیاری طریقہ ہے، کم از کم یہ آج کے اِرتداد سے اِن باتوں میں پریشانیاں پیدا کرنے سے پہلے تھا۔ آپ میں سے بہت سے یہاں گرجہ گھر میں ہیں، لیکن ابھی تک یسوع پر بھروسہ نہیں کیا ہے۔ میں آپ سے جتنی شدت سے ممکن ہو سکتا ہے کہتا ہوں – جب فیصلے کا دِن آئے گا تو گرجہ گھر میں صرف حاضری ہی آپ کی مدد نہیں کرے گی۔ یسوع نے ایک آدمی کے بارے میں بتایا جو ایک دیکھے بھالے گرجہ گھر میں آیا، لیکن اُس کے پاس شادی کا لباس نہیں تھا۔ بادشاہ نے اُس آدمی سے کہا، ’’میاں تو شادی کا لباس پہنے بغیر یہاں کیسے چلا آیا؟‘‘ آدمی کی زبان بند ہوگئی۔ تب بادشاہ نے کہا، ’’اِس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اِسے باہر اندھیرے میں ڈال دو جہاں وہ روتا اور دانت پیستا رہے گا‘‘ (متی22:‏12، 13)۔ آپ صرف یسوع پر بھروسہ کرنے سے ’’شادی کا لباس‘‘ پا سکتے ہیں۔ اگر آپ اُس کے پاس آنے سے انکار کرتے ہیں، تو آپ کے پاس اُن فیصلوں سے جو اِس دُنیا پر پڑنے والے ہیں فرار ہونے کی کوئی اُمید نہیں ہے۔ اگر آپ یسوع کے پاس آنے سے انکار کرتے ہیں تو آپ جہنم کی دائمی آگ سے بچ نہیں پائیں گے۔

میں پُریقین ہوں کہ وہاں پر غیرنجات یافتہ بڑھئی اور مزدور اور قدیم انجینئیر رہے ہوں گے، جنہوں نے جب کشتی تعمیر ہو رہی تھی نوح کے ساتھ کام کروایا تھا۔ لیکن اُنہوں نے کشتی پر بھروسہ نہیں کیا تھا۔ وہ اُس کے بارے میں سب کچھ جانتے تھے۔ لیکن اِس کے لیے اُنہوں نے خود کو سپرد نہ کیا۔ وہ آپ میں سے کچھ کی مانند ہیں جو گرجہ گھر تو آتے ہیں مگر یسوع کے پاس نہیں آتے ہیں۔ میں آپ کو خبردار کرتا ہوں، اگر آپ گرجہ گھر آتے ہیں، لیکن یسوع پر بھروسہ کرنے سے انکار کرتے ہیں، تو آپ کو انتہائی شدید جھٹکا لگے جب وہ آپ کو جہنم کی آگ میں بھیج دے گا۔ خود مسیح نے کہا،

’’اُس دِن کئی مجھ سے کہیں گے: اَے خداوند! اَے خداوند! کیا ہم نے تیرے نام سے نبوت نہیں کی؟ تیرے نام سے بدروحوں کو نہیں نکالا اور تیرے نام سے بہت سے معجزے نہیں دکھائے؟ اُس وقت میں اُن سے صاف صاف کہہ دُوں گا کہ میں تُم سے کبھی واقف نہ تھا۔ اَے بدکارو! میرے سامنے سے دُور ہو جاؤ‘‘ (متی 7:‏22،23).

یسوع صلیب پر آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرا تھا۔ لیکن اگر آپ اُس پر بھروسہ کرنے سے انکار کرتے ہیں، تو جب فیصلہ آئے گا آپ نجات کی کشتی سے باہر ہونگے۔ یسوع نے آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے اپنا خون بہایا۔ یسوع مُردوں میں سے آپ کو نیا جنم بلکہ یہاں تک کہ دائمی زندگی دینے کے لیے جی اُٹھا، لیکن اگر آپ اُس پر بھروسہ نہیں کریں گے تو پھر آپ ہمیشہ تک اُس آگ میں زندگی گزاریں گے جو کبھی بھی نہیں بُجھے گی۔ میں آج صبح آپ سے التجا کرتا ہوں – یسوع کے پاس آئیں، جو خُدا کا بیٹا ہے، اِس سے پہلے کہ آپ کے لیے انتہائی تاخیر ہو جائے! جیسا کہ مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے چند منٹ پہلے گایا تھا، ’’اِیسے وقتوں کے دوران، آپ کو نجات دہندہ کی ضرورت ہے۔In times like these, you need a Saviour‘‘

اگر آپ یسوع پر بھروسہ کرنا چاہتے ہیں، تو مہربانی سے آپ نشست ابھی چھوڑیں اور اِس اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پُرسکون مقام پر لے جائیں گے جہاں ہم بات چیت اور دعا کر سکیں گے۔ اگر آپ حقیقی مسیحی بننا چاہتے ہیں، تو مہربانی سے ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ آج صبح کوئی نہ کوئی یسوع پر بھروسہ کرے اور نجات پائے۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: متی 24:‏32۔42 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ایسے وقتوں کے دوران In Times Like These‘‘
(شاعر رُوتھ کائی جونز Ruth Caye Jones، 1902۔1972)۔

لُبِ لُباب

اُمڈتا ہوا طوفان

THE GATHERING STORM

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا۔ کیونکہ طوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے کراتے تھے۔ نُوح کے کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ اُنہیں خبرتک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ ابنِ آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہوگی‘‘ (متی 24:‏37۔39).

(1۔ تسالونیکیوں5:‏3؛ 2۔ پطرس3:‏10؛ متی24:‏3؛
پیدائش6:‏5، 7؛ مکاشفہ16:‏19)

I.   اوّل، ’’سیلاب آیا اور سب کو بہا لے گیا،‘‘ متی24:‏39؛ 2۔ پطرس2:‏5 .

II.  دوئم، جب سیلاب آیا تو وہ صرف دُنیا کی باتوں کے بارے میں فکرمند تھے،
متی24:‏38؛ 6:‏33؛ 24:‏39؛ عاموس4:‏12؛ مرقس9:‏44 .

III. سوئم، وہ تمام جو کشتی میں تھے بچا لیے گئے جب سیلاب آیا تھا،
عبرانیوں11:‏7؛ 2۔پطرس2:‏5؛ یوحنا15:‏6؛ متی22:‏12، 13؛ متی7:‏22، 23 .