Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

صدوم کا جلایا جانا

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 76)
THE BURNING OF SODOM
(SERMON #76 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
29 ستمبر، 2013 ، خُداوند کے دِن کی شام
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, September 29, 2013

’’دوسرے دِن صبح سویرے ابرہام اُٹھا اور اُس مقام کو لَوٹا جہاں وہ خداوند کے حُضور کھڑا تھا۔ اُس نے نیچے صدوم اور عمورہ اور اُس میدان کے سارے علاقہ پر نظر دوڑائی اور دیکھا کہ اُس سر زمین سے کسی بھٹّی کے دھوئیں جیسا گہرا دھواں اُٹھ رہا ہے‘‘ (پیدائش 19:27۔28).

اُس صبح بہت سویرے ابراہام اُس جگہ پر گیا جہاں ایک دِن پہلے وہ خُدا سے ملا تھا۔ کیا آپ کے پاس کوئی مخصوص جگہ ہے جہاں پر آپ نے دعا کی ہو؟ میرے پاس سان فرانسسکو کے نزدیک، گولڈن گیٹ سیمنری کی مغربی سمت میں ایک پہاڑی کے پیچھے ایسی ایک جگہ ہے۔ میرے پاس لاس اینجلز میں ایکو پارکEcho Park کے نزدیک، ایڈنڈیل Edendale میں میری دادی کے گھر کے نزدیک ایسی ایک جگہ ہے۔

’’دوسرے دِن صبح سویرے ابرہام اُٹھا اور اُس مقام کو لَوٹا جہاں وہ خداوند کے حُضور کھڑا تھا‘‘ (پیدائش 19:27).

ایک دِن پہلے اُس جگہ پر ابراہام نے خُدا سے دعا مانگی تھی۔ اُس نے خُدا سے دعا مانگی تھی کہ صدوم کے شہر کو بخش دے اگر وہاں پر دس راستباز لوگ ہوں۔ خُدا نےکہا تھا، ’’میں دس کی خاطر اِس کو تباہ نہیں کروں گا۔‘‘

اب ابراہام انتہائی صبح سویرے اُٹھا یہ دیکھنے کے لیے کہ اُس کی دعا کا کیا جواب ملا تھا۔ اُس نے ضرور سوچا ہوگا – ’’یقیناً وہاں پر دس راستباز لوگ ہیں! یقیناً خُدا نے اُن کی خاطر شہر کو بخش دیا ہے!‘‘ لیکن جب وہ اُس جگہ پر پہنچا جہاں پر اُس نے دعا کی تھی، تو جو کچھ اُس نے دیکھا وہ دیکھ کر دہل گیا!

’’ اُس نے نیچے صدوم اور عمورہ اور اُس میدان کے سارے علاقہ پر نظر دوڑائی اور دیکھا کہ اُس سر زمین سے کسی بھٹّی کے دھوئیں جیسا گہرا دھواں اُٹھ رہا ہے‘‘ (پیدائش 19:28).

یوں ابراہام نے صدوم پر نظر دوڑائی۔ اُس نے خوب پانی دیے ہوئے سرسبز و شاداب میدان اور صدوم کی عمارات کو نہیں دیکھا۔ اُس نے شہر کے کھنڈرات میں سے ماسوائے کالے دھوئیں کے اُٹھنے کے اور کچھ نہیں دیکھا۔ خُدا نے نیچے بارش کر دی تھی، اور تمام میدان تباہ ہو گیا تھا۔

علیانہ Ileana اور میں وہاں صدوم کے میدانوں میں بعد از دوپہر موجود تھے۔ ہمیں یوں لگتا تھا جیسے وہاں پر ایٹم بم پھٹے ہوں۔ کوئی ایک درخت، کوئی ایک پھول، گھاس کا ایک پتا تک نہیں بچا تھا۔ میں نے کبھی بھی بالکل اِس جیسی کوئی دوسری جگہ نہیں دیکھی۔

میں چاہتا ہوں کہ آپ صدوم کے میدانوں سے پرے دیکھیں، جیسا کہ میں نے اُس دوپہر میں کیا تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ صدوم کے فیصلے کو جہنم کی ایک تصویر کی مانند دیکھیں – کیونکہ صدوم کا جلایا جانا ’’آگ سے ہمیشہ کے لیے برباد کر دیے جانے کے باعث عبرت ایک مثال ہے‘‘ (یہودہ7)۔ میں چاہتا ہوں کہ صدوم کے جلائے جانے کو آپ ہمیشہ کے فیصلے کی ایک تصویر کے طور پر دیکھیں، اُس جگہ میں ’’جہاں اُن کا کیڑا مرتا نہیں اور آگ بھی کبھی نہیںبجھتی (متی9:44)۔

ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones (1899۔1961) نے بائبل کے واعظوں کی اعلٰی درجے کی تبلیغ کی۔ وہ کبھی بھی گناہ اور جہنم پر تبلیغ کرنے سے خوفزدہ نہیں ہوئے تھے۔ اُن کی اتوار کی شام کے انجیلی بشارت کے واعظوں نے بہت بڑے بڑے ہجوموں کو کھینچا، جن میں جے۔ آئی۔ پیکر J. I. Packer اور آر۔ وی۔ جی۔ ٹاسکر R. V. G. Tasker جو کنگز کالج میں نئے عہد نامے کے ایک شاندار پروفیسر ہیں، اُن جیسے نوجوان لوگ شامل ہیں۔ اُنہوں نے آزاد خیالی کی ہر سوچ سے پیچھا چھڑایا کیونکہ ڈاکٹر لائیڈ جونز نے اُنہیں ’’حقیقی گناہ اور خُدا کے قہرو غضب‘‘ پر قائل کر لیا تھا (ڈیوڈ ایل۔ لارسن، ڈی۔ڈی۔ David L. Larsen, D.D.، مبلغین کی صحبت The Company of the Preachers، کریجل اشاعت خانے Kregel Publications، 1998، صفحہ777)۔

حقیقی گناہ اور خُدا کا قہروغضب ایسے موضوع ہیں جن کی آج کے دور میں تبلیغ کرنا انتہائی لازم ہے۔ اُن موضوعات پر منادی کرنے کی انتہائی سخت ضرورت ہے۔ جوئیل آوسٹن Joel Osteen جیسے لوگوں کے روشن اور خوشگوار واعظ بہت بڑے بڑے جمِ غفیروں کو یہ بُھلا دینے کا سبب بنے ہیں کہ ’’خُدا بدکار سے ہر روز ناراض ہوتا ہے‘‘ (زبور7:11)۔ وہ واعظ جو ہمیشہ مثبت ہوتے ہیں بائبل کی مکمل سچائی کو پیش نہیں کرتے ہیں۔ اور اِس لیے، آج رات کو میں چاہتا ہوں کہ آپ صدوم کے فیصلے کے بارے میں سوچیں – اور اس سے بھی پرے اُس تاریک اور ہولناک جگہ کے بارے میں سوچیں جہاں پر غیر نجات یافتہ اب بھی دائمی شعلوں میں اذیت اُٹھا رہے ہیں۔ دیکھیں جیسے ابراہام نے اُس صبح دیکھا تھا!

’’اور اُس نے نیچے صدوم اور عمورہ اور اُس میدان کے سارے علاقہ پر نظر دوڑائی اور دیکھا کہ اُس سر زمین سے کسی بھٹّی کے دھوئیں جیسا گہرا دھواں اُٹھ رہا ہے‘‘ (پیدائش 19:28).

دائمی قہر کی اِس تصویر پر نظر ڈالیں۔ یہ آپ کے لیے بھلائی کرے گی۔ یہ آپ کو سوچنے پر مجبور کرے گی۔

I۔ اوّل، ہمیں کیسا محسوس کرنا چاہیے جب ہم دھوئیں اور جہنم کے عذابوں کے بارے میں سوچتے ہیں؟

یہ واعظ سی۔ ایچ۔ سپرجیئن کے واعظ ’’اُن کے عذابوں کا دھواں The Smoke of Their Torments‘‘ سے اخذ کیا گیا ہے (میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ The Metropolitan Tabernacle Puplit، نمبر602)۔ سپرجیئن نے کہا،

بالکل ابھی (1864) مسیحیوں کے درمیان مستقبل میں سزا کی دائمیت کے بارے میں بے اعتقادی کی جڑیں گہرائی تک موجود ہیں۔ یہ بہت سے معاملات میں سامنے نہیں لائی جاتی ہے، لیکن اِس کی سرگوشیاں ہوتی ہیں... ایک خواہش کہ [جہنم کا] عقیدہ غلط ثابت ہو... بے دین لوگ سوچتے ہیں کہ ہمیں اُن موضوعات پر تبلیغ کرنا پسند ہے۔ یہ اِس معاملے سے انتہائی دور ہے۔ مجھے [بعد میں] خود پر ملامت کرنی پڑی تھی کیونکہ [شاذ و نادر ہی] میں نے اُن کی تبلیغ کی تھی۔ وہ [سوچتے ہیں] کہ مسیحی لوگ کھوئے ہوؤں کے عذابوں کے [بارے میں لاتعلق ہیں]، اور خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے وہ کیا کہتے ہیں۔ اِس قسم کی روح کا بالکل اُلٹ ہمارے درمیان موجود ہے۔ ہم اِس خیال پر اِس قدر جھنجھنا جاتے ہیں... کہ شاید ہی اگر ہم اِس پر شک کر سکیں، اور اگر ہم اِس کو مکمل طور پر غلط ثابت کر پائیں؛ تو ہم شک کریں، ہمیں خوشی [ہوگی]۔ لیکن ہم اِس مشکل کام کو کرنے کی جرأت ہی نہیں کرپاتے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب سے بُلند ترین ہستی، جو تمام کا منصف ہے اُس کے خلاف ایک بحث کو چھیڑ [دے گا]! اُس کے قہر کے دِنوں میں تم اپنے دشمنوں کو پیروں تلے روندوں گے... مسیحی، وہاں پر نظر ڈال، اور جب تو دیکھے گا، تو بغاوت مت کر، مگر کہہ، ’’اے خُدا تو سچا اور راستباز ہے؛ تیرے نام کی اِس سے بھی زیادہ تعظیم ہو!‘‘ (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، ’’اُن کے عذابوں کا دھواں The Smoke of Their Torments، MTP، 20 نومبر، 1864)۔

کاش فُلر سیمنری Fuller Seminary نے راب بیل Rob Bell کو سپرجیئن کا یہ واعظ پڑھایا ہوتا۔ اِس نے شاید اُس کو دائمی سزا کے خلاف کتابیں لکھنے سے باز رکھا ہوتا! لیکن مجھے شک ہے کہ سپرجیئن کو جو ’’مبلغین کا شہزادہ‘‘ ہے، اُس بے اعتقادے سکول میں کبھی واعظ دینے کی اجازت دی جاتی۔

ایک اور احساس ہم مسیحیوں کو ہوتا ہے جب ہم جہنم کے بارے میں سوچتے ہیں وہ شکرگزاری کے بارے میں ہے۔ ’’اور میں وہاں پر کیوں نہیں جا رہا ہوں؟ کھوئے ہوئے لوگ آگ میں اپنی زبانیں کاٹ ڈالتے ہیں – اور میں وہاں پر کیوں نہیں جا رہا ہوں؟ کیا اُنہوں نے گناہ کیا تھا؟ تو میں نے بھی تو گناہ کیا ہے۔ کیا اُنہوں نے خُدا پر لعن طعن کی تھی اور مر گئے؟ میں بھی تو خُدا پر لعن طعن کرتا ہوں۔ یہ حیرانگی کی بات ہے میں نہیں مرا ہوں!‘‘

ہائے، کیا یہ الہٰی فضل کے سبب سے نہیں ہے،
وہ مقدر کو اِس قدر ہولناک ہے میرا ہو چکا ہوتا۔

ہم جو بچائے گئے ہیں پر لازم ہے کہ ہر روز خُدا کا شکریہ ادا کریں کہ ہمارے گناہ یسوع کے قیمتی خون سے پاک صاف کیے جا چکے ہیں۔ آئیے، خُدا کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کہ اُس نے یسوع کو ہمیں گناہ اور فیصلے سے بچانے کے لیے بھیجا جہنم کے ماتموں اور ہولناکیوں کو آپ کو اور مجھے متاثر کرنے دیں! اور اگرآپ نے کبھی بھی یسوع پر بھروسہ نہیں کیا ہے، تو اُس کے پاس آج رات کو ہی آئیں، اور وہ آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کر دے گا۔

ایک قصوروار، کمزور اور بے بس کیڑا
   میں تیرے مہربان بازوؤں میں گِرتا ہوں؛
میری راستبازی اور میری قوت تو ہی ہو،
   میرے یسوع اور میرے سب کچھ۔

گذشتہ سوموار کی شب میں اپنے جمنازیم میں پیراکی کے لیے گیا۔ میں نے اُس دھاری دار ڈوری میں کچھ عجیب سا محسوس کیا جو پانی کے تالاب میں لائینوں کو علٰیحدہ کرتی ہیں۔ میں نزدیک گیا اور وہاں تالاب کے درمیان میں، ڈوری میں پھنسا ہوا ایک ’’دعا کرنے والا مینٹس Praying Mantis‘‘ دیکھا۔ پریئینگ مینٹس گرمیوں کے انتہائی آخر میں گردونواح میں صرف چند دِنوں کے لیے ہوتے ہیں۔ لہٰذا میں نے کیڑے کو نہایت نزدیکی سے دیکھا۔ وہ کس قدر شاندار ننھی سی مخلوق تھی۔ میں نے تالاب میں ایک اور آدمی کو آواز دی کہ آئے اور اُسے دیکھے۔ جب میں نے بات کی تو میں نے غور کیا کہ اُس کی آنکھیں میری طرف مُڑ گئی تھیں! وہ مجھے سُن اور ردعمل کر سکتا تھا۔ میں نے حیرانی سے سوچا مجھ میں وہ کیا دیکھ سکا ہوگا، ایک بہت بڑا آدمی، جو پانی میں اوپر منڈلا رہا ہے۔ میں پُر یقین ہوں کہ وہ مجھے دھندلا سا ہی دیکھ پایا ہوگا، اگر اُس نے دیکھا بھی تھا۔ میری آواز اُس نازک مخلوق کے لیے گرج کی مانند سُنائی دی ہوگی! وہ وہاں ڈوری میں پھنسا ہوا تھا کس کے درمیان میں، جو اُس کے لیے، پانی کا ایک وسیع سمندر تھا۔ میں نےاپنے ننھے دوست پر رحم کیا۔ میں نے اُسے اپنی پانی والی عینک پر رینگنے دیا، جو میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔ اور میں نے اُس کو خشک زمین پر رکھ دیا۔ چند ہی منٹوں میں اُس کے پر خشک ہوگئے، اور وہ اُڑ گیا۔

کیا اُس نے کبھی میرے بارے میں سوچا بھی ہوگا، یا اُس کو بچانے کے لیے میرا شکریہ ادا کیا ہوگا؟ میرا نہیں خیال ایسا ہوا ہو گا۔ میں پانی میں سے ایک دیوہیکل سمندر کے رومی خُدا نیپچون کی مانند نمودار ہوا تھا، پانی میں سے اُبھرتا ہوا، اور ننھی سی مخلوق کو ڈوبنے سے بچا رہا تھا۔ مجھے شک ہے کہ اُس کو کوئی بھی اندازہ نہیں تھا اُس ترس اور فضل کے لیے جو میں نے اُسے دکھایا تھا جب میں نے اُس کی جان بچائی تھی۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ میں اُس کیڑے کے مقابلے میں نجات کے بارے میں کہیں زیادہ سمجھ ہو گی! میں اُمید کرتا ہوں آپ ہمارے عظیم اور اقتدارِ اعلٰی خُدا کو پہچان جائیں گے، جو اپنے بیٹے، یسوع مسیح کے وسیلے سے لوگوں کو جہنم سے آزادی دلاتا ہے۔

II۔ دوئم، کیا ہم دھوئیں اور عذابوں پر نظر ڈال سکتے ہیں اور گناہ کی بُرائی کو نہیں دیکھ سکتے؟

جہنم اپنی مکمل بڑھی ہوئی حالت میں ماسوائے گناہ کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر آپ ایک خوبصورت سانپ کے ساتھ کھیلیں گے تو وہ جلد ہی مُڑے گا اور آپ کو کاٹ لے گا، اور آپ کا دَم گُھٹنے لگے گا جب اُس کا زہر آپ کے خون میں سرایت کرے گا۔ آپ میں سے کچھ تو کبھی بھی جان ہی نہیں پائیں گے کہ گناہ کس قدر بدکار ہوتا ہے جب تک کہ اُس کی مٹھاس چلی نہیں جائے گی، اور موت کی کڑواہٹ پھر آپ کے پیٹ کو کھاتی ہے۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ خُدا نے صدوم پر اپنا قہر نازل کیا تھا، اورکہ وہ اپنا قہر آپ پر نازل نہیں کرے گا؟ جی نہیں – وہ اب بھی وہی خُدا ہے جو اُس وقت تھا۔ جہنم کی آگ کی روشنی میں اپنے گناہ کے کالے پن کو دیکھیں۔ کیا آپ گناہ میں زندگی گزاریں گے اگر اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ عذاب دینے والے شعلوں کے لیے جائیں گے؟ ’’گناہ کی مزدوری موت ہے‘‘ (رومیوں6:23)۔ میں خُدا سے خواہش کرتا ہوں کہ آپ سب کے سب اُس عقیدے کو سیکھ جائیں، اور اپنے دِلوں میں اِس پر یقین کریں۔ میرے لیے اِس کی تبلیغ کرنا مشکل ہے۔ آپ کے لیے اِس کو سیکھنا مشکل ہے۔ لیکن کوئی بھی مسیح کے پیار کو واقعی میں نہیں جانتا ہے جب تک کہ وہ گناہ کی بُرائی کے بارے میں کچھ نہ کچھ نہ جانتا ہو۔

صدوم کے دھوئیں اور عذابوں سے ایک اور سبق سیکھا گیا ہے۔ ہم، جو اُس کے لوگ ہیں، مسیح کے دُکھ اُٹھانے سے آزاد کیے جاتے ہیں۔ گتسمنی کے باغ میں آدھی رات کو مسیح نے اپنے تمام لوگوں کے لیے گناہ کا پیالہ پیا تھا۔ مسیح نے ہمارے گناہوں کے تمام فیصلوں کو پی لیا تھا۔ اُس لمحے میں ہمارے تمام گناہوں کے تمام فیصلے اُس کی رگوں میں اُتر گئے تھے۔ اُس باغ کی تاریکی میں وہ چیخا تھا، ’’اگر ممکن ہو تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے‘‘ (متی26:39)۔ اِس کے باوجود اُس نے اِس کو سارے کا سارا پیا۔ اُس وقت اُس نے خود میں ہر گناہ کے لیے ہر ہولناکی کو محسوس کیا جو اُس کے لوگوں نے کبھی کیے تھے یا کبھی کریں گے۔ اُس نے ہر کڑوے قطرے کو نگل لیا۔ اُس نے پیالہ اوندھا کردیا۔ گناہ کا ایک بھی قطرہ پیالہ کے کناروں تک پر بھی نہیں چھوڑا تھا، کیونکہ –

پیار کے ایک انتہائی حیرت انگیز گھونٹ پر
   اُس نے تباہی کو نچوڑ کر خشک کر دیا۔

اپنے لوگوں میں سے ہر ایک کے لیے اُس نے گناہ کا تمام پیالہ پی لیا۔ یہاں پر ایک بھی غم نہیں، کوئی بھی کراہنا نہیں، اُس کے چُنیدہ میں سے کسی ایک کے لیے بھی آگ میں ایک لمحہ نہیں۔ اُس نے دُکھ اُٹھائے ’’راستباز نے ناراستوں کے گناہوں کے بدلے میں، کہ وہ ہمیں خُدا تک پہنچائے‘‘ (1۔ پطرس3:18)۔

اِس کے باوجود ایک اور سبق ذہن میں آتا ہے۔ جب ہم اُن کے عذابوں کے دھوئیں کے بارے میں سوچتے ہیں، تو اِس سے ہم پر لوگوں کو مسیحیت میں لانے کے لیے پُرجوش ہونے کی ناگوار ذمہ داری کو محسوس کرنا لازم ہے۔ یاد رکھیں کہ آپ اُن جانوں کے ساتھ معاملات کر رہے ہیں جو جلد ہی جہنم کی آگ میں ڈوب جائیں گے جب تک کہ وہ مسیح میں رحم نہیں پا لیتے۔

جب مائیکل اینجلو Michelangelo غیر نجات یافتہ مرے ہوؤں کے دوبارہ مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی مشہور تصویر بنانے والا تھا تو اُس کے اُس کی خواب گاہ میں بہت سی نئی نئی لاشوں کو لانے کی اجازت دی گئی تھی۔ اُس نے مردہ جسموں کا اپنے بستر کی دونوں جانب ڈھیر لگا دیا تھا۔ وہ اُن مُردہ جسموں کے درمیان میں سویا تھا تاکہ اپنے ذہن میں اُس ناخوشگوار دِن کی ہولناکیوں کو لا سکے۔ میں آپ سے نہیں چاہوں گا کہ وہ کریں۔ لیکن جب آپ سونے کے لیے جائیں، تو کبھی کبھار اُن کے بارے میں بھی سوچیں جنہیں آپ جانتے ہیں جو یسوع کے وسیلے سے نجات پائے بغیر ہی جئیے اور مر گئے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ یہ آپ کو اپنے کھوئے ہوئے رشتہ داروں اور دوستوں کو مسیحیت میں لانے کے لیے انتہائی پُرجوش کر دیے گا۔ میں اکثر اپنے ایک دوست کے بارے میں سوچتا ہوں جو ہائی سکول میں میرا دوست تھا۔ اُس نے خود کشی کر لی تھی۔ اِس وقت بھی جو بات اِس کو میرے لیے ناگوار بناتی ہے یہ ہے کہ میں کبھی بھی اُس کو گواہی نہ دے پایا۔ میں نے کبھی بھی اُس کو انجیل کے بارے میں نہیں بتایا۔ میں نے تو کبھی اُس کو گرجہ گھر تک آنے کے لیے بھی مدعو نہیں کیا۔ میں پُریقین ہوں کہ وہ آ گیا ہوتا، لیکن میں نے اِسے جانے دیا جب تک کہ اِس میں بہت تاخیر ہو گئی۔ اُس نے اپنے سر میں گولی مار لی تھی۔ میں اُس کے بارے میں سوچنے کے لیے خود کو تیار کرتا ہوں۔ وہ دردبھری سوچ مجھے گواہی دینے اور تبلیغ کرنے پر اُکساتی ہے۔ بہت دفعہ جو جوش آپ میری تبلیغ میں دیکھتے ہیں وہ اُس وقت آتا ہے جب میں نے اُس کے بارے میں سوچا ہوتا ہے – اب جہنم میں 50 سالوں سے زیادہ ہو گیا کیونکہ میں نے اُس کو مایوس کیا تھا۔

جب ابراہام نے سُنا کہ خُدا صدوم کو تباہ کر دے گا اُس کی پہلی سوچیں لوگوں کو بچانا تھیں۔ ہائے، بیچارہ لوط، میرا بھتیجا! ہائے، اُس کی بیوی! اُس کی بیٹیاں! وہ شہر اور اُس کے باسی! ترس کی سوچوں نے اُس کے دِل کو دہلا دیا تھا۔ اُس نے اپنا منہ اپنا دِل شفیقانہ دعاؤں کے لیے کھولا۔ یہی ہے جو آپکو کرنا ہے اُن کے لیے جنہیں آپ جانتے اور پیار کرتے ہیں۔ اُن کے لیے دعا کریں! بغیر روکے اُن کے لیے دعا کریں! آئیے اپنی دعاؤں کو گرما دینے والی اور زیادہ گرما دینے والی ہونے دیں – زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے والی – جیسی کہ ابراہام کی تھیں۔ اپنے دوستوں اور اپنے پیاروں کے لیے رحم کے لیے چلانے سے ہم خُدا کو ٹھیس پہنچانے کے خطرے میں نہیں ہوتے ہیں! جب آپ کا چہرہ درخشانی کے ساتھ دمکتا ہے جو مصالحت کرانے والے پر آتی ہے، اور آپ کی آنکھیں کھوئے ہوئے کے لیے آنسوؤں سے بھرجاتی ہیں؛ جب آپ بولتے ہیں تو اُن کے لیے انجیل کی مزاحمت کرنا زیادہ سے زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ مجھے دُکھ پہنچاتا ہے – لیکن یہ مجھے یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ مجھے اُن عورتوں اور مردوں کو تبلیغ کرنی ہے جنہوں نے یا تو جنت یا جہنم میں دائمیت گزارنی ہوگی۔

میں خُدا سے خواہش کرتا ہوں کہ میں جیسا رچرڈ بیکسٹر Richard Baxter(1615۔1691) منادی کیا کرتا تھا ویسے منادی کروں۔ حالانکہ اُس کو بہت سی بیماریاں تھیں، وہ اپنے ذہن میں صحت مند اور ذی فہم تھا۔ لیکن اُس نے کہا کہ وہ کبھی بھی منبر پر اپنی کپکپاتی ٹانگوں کے ساتھ، آنسوؤں کے بغیر نہیں آیا، کیونکہ اُس نے خُدا سے اُن کے لیے بات کرنی تھی جنہوں نے جلد ہی خُدا کے فیصلے کے موقعے پر سامنا کرنا تھا۔ اور خود اُس کو بھی کھوئے ہوؤں کو اپنی منادی کا حساب پیش کرنے کے لیے خدا کا سامنا کرنا تھا۔

میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے کچھ اِس اتوار کی شام کو یہاں اِس لیے آئے ہیں کیونکہ آپ نے سوچا ہوگا کہ اِس میں مزہ آئے گا، یا آپ اپنے دوستوں سے مل لیں گے۔ لیکن میرا یقین کریں جب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہم میں سے اُن کے لیے یہ کوئی مزہ نہیں ہے جو آپ کو انجیل سُناتے ہیں۔ میں کبھی بھی انجیل کی منادی کرنے والی جماعت میں نہ گیا ہوتا اگر یہ مجھ پر فرض نہ کر دی گئی ہوتی۔ جب میں اُن کے بارے میں سوچتا ہوں جو مجھے سُنتے ہیں اور اِس کے باوجود یسوع کا انکار کرتے ہیں تو یہ میرا دِل توڑ دیتا ہے۔ جب میں اتوار کی رات کو گھر جاتا ہوں، اگر میں کچھ سوچ سکتا ہوں تو وہ آپ کے چہرے ہیں جو ابھی تک کھوئے ہوئے ہیں – ابھی تک یسوع کے پاس آنے سے انکار کر رہے ہیں۔ میں اکثر بہت مرتبہ بوجھل دِل کے ساتھ گھر جاتا ہوں۔ میں اکثر یہ محسوس کرتا ہوا گھر جاتا ہوں کہ میں ناکام رہا ہوں۔

بہت سال پہلے، 1950 کی دہائی میں، میرے چینی گرجہ گھر میں آنے سے پہلے، میرے پادری ڈاکٹر میوزک Dr. Music تھے۔ وہ ایک اچھے مبلغ تھے۔ میری خواہش ہے کہ اُن جیسے اور آج بھی ہوتے۔ لیکن میں سوچا کرتا تھا کہ شام کی عبادت کے اختتام پر اُن کا کیا مطلب ہوتا تھا، جب وہ اکثر کہا کرتے تھے، ’’ٹھیک ہے، میں دوبارہ ناکام ہوا ہوں۔‘‘ یہ مجھے اُداس کر دیتا تھا جب وہ یہ کہتے تھے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ اُن کا کیا مطلب ہوتا تھا۔ لیکن اب میں جانتا ہوں۔ جب آپ جیسے کھوئے ہوئے لوگ نجات نہیں پاتے، اِسی طرح سے میں محسوس کرتا ہوں۔ ’’ٹھیک ہے، میں دوبارہ ناکام ہوا ہوں۔‘‘میں بس صرف اُن تک پہنچ نہیں پایا۔ میں بس صرف اُنہیں مسیح پر بھروسہ کرنے کی شدید اہمیت کو دکھا نہیں پایا۔ میں بس صرف اُنہیں یہ نہیں دکھا پایا کہ اُن کے پاس کس قدر کم وقت ہے اِس سے پہلے کہ خدا کا روح اُنہیں چھوڑ کر چلا جائے کیونکہ اُن سے ناقابل معافی گناہ سرزد ہو چکا ہے۔ شاید میں نے کافی دعا نہیں کی تھی۔ شاید میں مذید اور روزہ رکھتا۔ میں دوبارہ ناکام ہوا ہوں۔‘‘ماسوائے کسی دوسری انجیلی بشارت کرنے والے مبلغ کے کوئی بھی کبھی بھی واقعی میں اِس ناگوار احساس کو جو مجھے ہوتا ہے جب عبادت اختتام پزیر ہوتی سمجھ نہیں پائے گا کہ آپ نے ابھی تک نجات نہیں پائی ہے!

لیکن میں کثیف کالے دھوئیں اور عذاب پر نظریں ڈالتے ڈالتے تھک گیا ہوں۔ میں اُن پر نظریں ڈالتے ڈالتے تھک گیا ہوں جو صدوم میں نجات پائے بغیر ہی مر گئے، اور خود میرے اپنے تجربے میں دیکھتے ہوئے تھک گیا ہوں۔ آئیے مجھے آپکے ذہن کو ایک دوسری جانب موڑنے دیں۔ کیا آپ گناہ اور اپنے قصوروں سے نجات پانا پسند کریں گے؟ کیا یہ آپ کو اہم نظر آتا ہے؟ ابھی یروشلم میں ایک چھوٹی سی بل کھاتی سڑک پر نظر دوڑائیں۔ خُدا انسان بن چکا ہے۔ وہ اپنے کندھوں پر صلیب اُٹھائے ہوئے ہے۔ وہ اپنے دِل میں آپ کے گناہ لادے ہوئے ہے۔ وہ پیدل چلنے والے سڑک کے کنارے راستے پر گرتا ہے۔ وہ اُس کو اپنے نیزوں سے اور چھانٹوں سے اُٹھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ وہ شہر سے باہر اک چھوٹی پہاڑی کے لیے صلیب کو کھینچ کر لے جاتا ہے۔ وہ اُس کے بدن کو لکڑی کی صلیب پراُٹھا کر پٹختے ہیں۔ میں اُن لڑاکو سپاہیوں کو دیکھتا ہوں جن میں سے ہر ایک نے اُس کو اُس کے ہاتھوں اور پیروں سے پکڑا ہوتا ہے، اور پھر ایک ہتھوڑی کے ساتھ خُدا بیٹے کے ہاتھوں اور پیروں میں لمبے لمبے کیل ٹھوک کر گزار دیتے ہیں۔ اُس کو صلیب پر کیلوں سے جڑ دیا جاتا ہے۔ وہ صلیب کو اُٹھاتے ہیں۔ اِس کے لیے ایک گڑھا کھودا جا چکا ہے۔ وہ اِس کو جھٹکے سے اِس میں ڈالتے ہیں۔ وہ جھٹکا اُس کی ہڈیوں کے بہت سے جوڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیتا ہے۔ اذیت ناک درد اُس کے بدن کو پھاڑ ڈالتی ہے! کس قدر انتہائی دلدوز تشدد وہ محسوس کرتا ہے جب اُس کو اُس خونی صلیب پر مرنے کے لیے اُٹھایا جاتا ہے! وہ چیختا ہے، ’’میں پیاسا ہوں!‘ وہ اُس کو پینے کے لیے سرکہ دیتے ہیں۔ وہ چلاتا ہے، ’’اے میرے خُدا، اے میرے خُدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ کیونکہ اُس کے اوپر آسمان تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔ ایک بہت تیز جلا دینے والا بُخار آتا ہے۔ اُن کی زبان اُس کے منہ کے تالو سے جا چپکتی ہے۔ اُس کے سر سے اور اُس کے پانچ زخموں سے خون کی دھاریں بہنے لگتی ہیں۔

میں آپ کو یہ کیوں بتاتا ہوں؟ کیونکہ یہی ہے جہاں پر آپ کی نجات موجود ہے۔ آپ کے لیے لازم ہے کہ آپ کا اِس آدمی، یسوع مسیح کی چاہت میں اور دُکھ اُٹھانے میں حصہ اور شراکت ہو۔ جب آپ اُس پر بھروسہ کرتے ہیں تو وہ آپ کا متبادل بن جاتا ہے۔ وہ صلیب پر آپ کے گناہ کے لیے کفارہ ادا کرتا ہے۔ وہ خون جو یسوع وہاں پر بہاتا ہے آپ کے ہر اُس گناہ کو جو آپ سے کبھی سرزد ہوا تھا دھو ڈالتا ہے۔ اُس کے تمام کفاراتی خون کی بدولت آسمان آپ کے لیے کُھل جاتا ہے! کیا آپ اب اُس پر بھروسہ کریں گے؟ یقین کرنا بھروسہ کرنا ہے۔ کیا آپ یسوع پر بھروسہ کریں گے اور نجات پائیں گے؟ جس لمحے آپ اُس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں، اور آسمان آپ کا ہو جاتا ہے۔ وہ اب خُدا کے داہنے ہاتھ پر اُٹھایا جا چکا ہے۔ کیا آپ آج رات کو ابھی اُس پر بھروسہ کریں گے؟

اگر آپ یسوع کے وسیلے سے نجات پانے کے بارے میں ہمارے سے بات چیت کرنا پسند کریں، تو مہربانی سے اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو دعا اور مشاورت کے لیے ایک پُرسکون کمرے میں لے جائیں گے۔ ابھی جائیں۔ اِس کے علاوہ، اگر آپ کے پاس مسیحی بننے کے بارے میں کوئی بھی سوال ہے تو ابھی جائیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا کریں کہ آج رات کو کوئی ایک یسوع پر بھروسہ کرے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: پیدائش18:20۔33 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’اِس قدر کم وقت So Little Time‘‘ (شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔

لُبِ لُباب

صدوم کا جلایا جانا

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 76)
THE BURNING OF SODOM
(SERMON #76 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’دوسرے دِن صبح سویرے ابرہام اُٹھا اور اُس مقام کو لَوٹا جہاں وہ خداوند کے حُضور کھڑا تھا۔ اُس نے نیچے صدوم اور عمورہ اور اُس میدان کے سارے علاقہ پر نظر دوڑائی اور دیکھا کہ اُس سر زمین سے کسی بھٹّی کے دھوئیں جیسا گہرا دھواں اُٹھ رہا ہے‘‘ (پیدائش 19:27۔28).

(یہودہ 7؛ مرقس 9:44؛ زبور 7:11)

I.   اوّل، ہمیں کیسا محسوس کرنا چاہیے جب ہم دھوئیں اور جہنم کے عذابوں کے بارے میں سوچتے ہیں؟

II.  دوئم، کیا ہم دھوئیں اور عذابوں پر نظر ڈال سکتے ہیں اور گناہ کی بُرائی کو نہیں دیکھ سکتے؟ رومیوں6:23؛ متی26:39؛ 1۔ پطرس3:18 .