Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسیح کو ڈھونڈنے اور پا لینے پر

ON SEEKING AND FINDING CHRIST
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
11 اگست، 2013، خُداوند کے دِن کی شام
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening,  August 11, 2013

’’تُم مجھے ڈھُونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:‏13).

یہ کہا گیا ہے کہ آرمینئین اکثر کیلوِنسٹ کی مانند دعا کرتے ہیں۔ بلاشُبہ میں پرانے زمانے کے کیلوِنسٹ کی بات کر رہا ہوں۔ اِس کا مطلب وہ آرمینئین ہیں، جنہوں نے انسان کو نجات کے ساتھ منسوب کیا، اِس کے باوجود، اِس کے لیے خُدا سے دعا کی۔ ہم آرمینئینوں کو دعا کرتے ہوئے سُنتے ہیں، ’’اے خُداوندا، مہربانی سے میرے بھائی کو بچا لے!‘‘ اور اِس طرح، مسیحی جو آرمینئین ہیں وہ ایسے دعا کرتے ہیں جیسے کہ وہ کیلونسٹ تھے! یہ بظاہر نظر آنے والی پہیلی آسانی سے اُن کو سمجھائی گئی ہے جو روحانی ذہن کے ساتھ ہیں۔ بائبل کہتی ہے،

’’میری غیرموجودگی میں بھی خُوب ڈرتے اور کانپتے ہُوئے اپنی نجات کے کام کو جاری رکھّو۔ کیونکہ وہ خدا ہی ہے جو تُم میں نیّت اور عمل دونوں کو پیدا کرتا ہے تاکہ اُس کا نیک اِرادہ پورا ہوسکے‘‘ (فلپیوں 2:12،13).

انسان اپنی نجات کے کام کو خود جاری رکھتا ہے، لیکن یہ صرف اُسی وقت کرتا ہے جب خُدا اُس میں کام کرتا ہے – اور ایسا کرنے کے لیے اُس میں تحریک پیدا کرتا ہے۔ اُس دو آیات کو ذہن میں رکھیں۔ تب آپ دیکھیں گے کہ بائبل میں کوئی بھی تضاد نہیں ہے۔ ہماری تلاوت کہتی ہے،

’’تُم مجھے ڈھُونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:‏13).

لیکن بائبل یہ بھی کہتی ہے،

’’ کوئی خدا کا طالب نہیں ہے‘‘ (رومیوں 3:‏11).

کونسی والی دُرست ہے؟ انسانی منطق کہتی ہے کہ دونوں ہی سچی نہیں ہو سکتیں۔ اِس کے باوجود فلپیوں کی اُس دو آیات کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کہ دونوں ہی بلاشُبہ سچی ہیں۔ یہاں پر واقعی ہی میں کوئی بھی اُلٹی بات نہیں ہے۔ یہاں پر واقعی میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اور یہ بار بار جنم لیتی ہے جب ہم تفتیشی کمرے میں لوگوں کی مشاورت کرتے اور انجیلی بشارت کرتے ہیں۔ کوئی بھی کھویا ہوا شخص خود اپنے طور پر خدا کو تلاش نہیں کرتا ہے۔ منادی کے پچپن سالوں کے دوران، میں گرجہ گھر سے باہر کسی بھی ایسے شخص کو کبھی نہیں ملا جو خُدا کو ڈھونڈ رہا تھا۔ کوئی ایک بھی نہیں! لیکن جب خُدا لوگوں کو کھینچنا شروع کرتا ہے، وہ یسوع کو اپنے تمام دِل کے ساتھ ڈھونڈتے ہیں اور اُس کو پاتے ہیں! یہاں پر مسیح کو ڈھونڈنے اور پا لینے پر تین خیالات ہیں، جو ہماری تلاوت سے تعلق رکھتے ہیں۔

’’تُم مجھے ڈھُونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:‏13).

I۔ اوّل، وہ جنہیں خُدا کھینچ رہا ہے وہ ہیں جو یسوع کی تلاش کریں گے اور اُس کو پا لیں گے۔

’’… کیونکہ وہ خدا ہی ہے جو تُم میں نیّت اور عمل دونوں کو پیدا کرتا ہے تاکہ اُس کا نیک اِرادہ پورا ہوسکے‘‘ (فلپیوں 2:13).

آج کے اِرتداد میں لوگوں کے لیے یہ کہنا آسان ہے کہ کوئی بھی کسی بھی وقت نجات پا سکتا ہے۔ ایک کھوئے ہوئے شخص کو صرف اتنا ہی کرنا ہے کہ ’’گنہگار کی دعا‘‘ کے الفاظ کہنے ہیں اور وہ نجات پا لیتے ہیں۔ اُنہیں صرف اتنا ہی کرنا ہے کہ ’’سامنے آئیں‘‘ یا وہ دعا کہیں، یا دونوں ہی کریں۔ یوں نجات خالصتاً ایک انسانی واقعہ ہے۔ خُدا کی بالکل بھی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ یہ دراصل پلاجئین ازم Pelagianism کی قدیم بدعت کا دُہرایا جانا ہے۔ اُن پلاجینی بدعتیوں کے لیے، انسان اپنے آپ کو انجیل کی طرف جسمانی ردعمل کے وسیلے سے نجات دلاتا ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کوئی بہت زیادہ روحانی بصیرت کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے۔ اِس جدید ’’فیصلہ سازیت‘‘ کی جھوٹی تعلیم کے لیے خُدا آپ کی آنکھیں کھولے!

اُس نوجوان امیر حکمران نے یسوع کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیا تھا اور اپنے گناہ کی خودغرضانہ زندگی کی طرف واپس چلا گیا تھا۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا تھا کہ ایسے لوگوں کا ’’خُدا کی بادشاہت میں داخل ہونا‘‘ کتنا ’’مشکل‘‘ ہے۔ شاگردوں نے کہا، ’’تب پھر کون بچایا جا سکتا ہے؟‘‘ یسوع نے کہا، ’’انسانوں کے لیے یہ ناممکن ہے‘‘ (مرقس10:24، 26، 27)۔ میں نے اِس کو اُبھار کر اِس لیے لکھا ہے کہ یہ کُلیدی الفاظ اخذ کروں۔


(1) ’’خُدا کی بادشاہت میں داخل ہونا‘‘ کتنا ’’مشکل‘‘ ہے۔


(2) ’’تب پھر کون بچایا جا سکتا ہے؟‘‘


(3) ’’انسانوں کے لیے یہ ناممکن ہے‘‘ (مرقس10:‏24۔27)۔


تب یسوع نے کہا، ’’لیکن خُدا کے لیے ایسا نہیں ہے: کیونکہ خُدا کے لیے سب کچھ ممکن ہے۔‘‘ اِس کو اپنے ذہن میں بٹھا لیں۔ پر رومیوں3:‏11 کے بارے میں سوچیں، ’’کوئی خُدا کا طالب نہیں ہے۔‘‘ پھر ہماری تلاوت کے بارے میں سوچیں،

’’تُم مجھے ڈھُونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:‏13).

میں آپ کو ’’فیصلہ سازیت‘‘ کی پلاجئین بدعت سے دور ہٹانے کے لیے کوشش کر رہا ہوں جس نے ہمارے گرجہ گھروں کو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کھوئے ہوئے لوگوں سے بھر دیا ہے۔ مرقس10، رومیوں3:‏11، اور یرمیاہ29:‏13 کی آیات پر نظر ڈالتے ہوئے ہم اِس عظیم سچائی پر پہنچتے ہیں – کھوئے ہوئے لوگ حفاظتی طریقے سے مسیح کو نہ ہی تو ڈھونڈ پائیں گے اور نہ ہی ڈھونڈ سکتے ہیں جب تک کہ خُدا اُنہیں بیدار نہ کرے اور اُنہیں نجات دہندہ کی جانب نہ کھینچے۔


(1) ’’پھر کون نجات پاسکتا ہے؟‘‘ (مرقس 10:‏26).


(2) ’’یہ انسانوں کے لیے تو ناممکن ہے‘‘ (مرقس 10:‏27).


(3) ’’وہ خدا ہی ہے جو تُم میں نیّت اور عمل دونوں کو پیدا کرتا ہے تاکہ اُس
                کا نیک اِرادہ پورا ہوسکے‘‘ (فلپیوں
2:13)

.

کوئی شاید کہہ سکتا ہے، ’’وہ دیوانی کیلون ازم ہے۔‘‘ لیکن وہ غلط ہیں۔ بنیادی طور پر یہ حقیقی کیلون ازم نہیں ہے؛ اور یہ یقینی طور پر دیوانی کیلون ازم نہیں ہے۔‘‘ لوگ علم الہٰیات کی تاریخ میں اِس اصطلاح کو بغیر سوچے سمجھے اِدھر اُدھر پھیلاتے رہے۔ ’’دیوانی کیلون ازم‘‘ صرف اُن کی طرف اشارہ کرتی ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ اُنہیں باہر جانے کی اور کھوئے ہوؤں کو لانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ خُدا اُنہیں ’’تمہاری یا میری مدد کے بغیر‘‘ اندر لے آئے گا – جیسا کہ ایک سچے دیوانے کیلونسٹ نے ولیم کیریWilliam Carey کو بتایا (جو کہ خود ایک پانچ نمبر پایا ہوا کیلونسٹ تھا، لیکن دیوانہ کیلونسٹ نہیں تھا)۔ لیکن آپ کو یہ دیکھنے کے لیے جو میں بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کسی قسم کے بھی کیلونسٹ ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر Dr. A. W. Tozer بالکل بھی ایک کیلونسٹ نہیں تھے۔ اِس کے باوجود وہ ایک سنجیدہ بائبل کے طالب علم تھے، اِس لیے اُنہوں نے کہا،

      کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ کا ایمان خُدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے؟ آپ کو اپنے ایمان پر ایک معجزہ کی طرح نظر ڈالنی چاہیے۔ ایک وہ صلاحیت ہے جو خُدا کھوئے ہوئے آدمیوں اور عورتوں کو ہمارے نجات دہندہ اور خداوند پر بھروسہ کرنے اور تابعداری کرنے کے لیے عطا کرتا ہے... (اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر، ڈی۔ڈی،A. W. Tozer, D.D., ، یسوع ہمارے ایمان کا مصنف Jesus, the Author of Our Faith، کرسچن پبلیکیشنز Christian Publications، 1988، صفحہ3)۔

صرف وہی جنہیں یہ معجزہ اور یہ تحفہ عطا کیا گیا ہے یسوع کو ڈھونڈ پائیں گے اور بچائے جائیں گے۔ باقی دوسرے تمام خود اپنے سہارے پر چھوڑ دیے جائیں گے، اور مسیح کو ڈھونڈ نہیں پائیں گے۔ جب وہ کہتا ہے، ’’تم مجھے ڈھونڈو گے اور مجھے پاؤ گے،‘‘ وہ صرف اُن سے ہمکلام ہے جن کو وہ بچائے جانے والا ایمان عطا کرتا ہے۔ وہ کسی اور سے بات نہیں کر رہا ہے جب وہ کہتا ہے،

’’تُم مجھے ڈھُونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:‏13).

وہ وعدہ صرف اُن کے لیے ہے جن کو بچانے والے ایمان کا تحفہ عطا کیا گیا ہے۔ وہ اور تنہا وہ ہی ہیں جنہیں یہ وعدہ عطا کیا گیا ہے۔ دوسرے تمام کچھ عرصے کے لیے بہکتے رہیں گے اور، جلد یا بدیر، گرجہ گھر کو چھوڑ دیں گے – یا، بہتر طور پر ’’برائے نام غیر نجات یافتہ اراکین کے طور پر کبھی کبھار صرف حاضری دیں گے۔

وہ جن پر خُدا کام کر رہا ہے وہ ہیں جو مسیح کو ڈھونڈیں گے اور پائیں گے۔ اور وہ ہی واحد ہیں جو سچے طور پر اُس کو ڈھونڈیں گے اور سچے طور پر اُس کو پائیں گے! اِسی لیے یسوع نے کہا،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ…‘‘ (یوحنا 6:‏44).

جب کوئی یسوع کے پاس آتا ہے تو یہ ہمیشہ صرف خُدا کے فضل سے ہوتا ہے۔

حیرت انگیز فضل! کس قدر میٹھی آواز،
   جس نے مجھ جیسے تباہ حال کو بچایا!
میں جو کبھی کھو گیا تھا، لیکن اب مل گیا ہوں؛
   اندھا تھا لیکن اب دیکھتا ہوں۔
(’’حیرت انگیز فضلAmazing Grace ‘‘ شاعر جان نیوٹن John Newton ، 1725۔1807).

II۔ دوئم، وہ جنہیں خُدا کھینچ نہیں رہا ہے یسوع کو ڈھونڈ نہیں پائیں گے۔

’’تُم مجھے ڈھُونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:‏13).

وہ وعدہ کہتا ہے، ’’تم مجھے ڈھونڈو گے اور مجھے پاؤ گے۔‘‘ یہ ’’تم‘‘ کس کی طرف اشارہ کرتا ہے؟ جیسا کہ میں نے آج کی صبح کہا، ’’تم مجھے ... مجھے پاؤ گے‘‘ صرف اُنہی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو [یسوع] کی تلاش اپنے تمام دِل کے ساتھ کرتے ہیں۔‘‘ تب، پھر، وہ کون ہیں جن کا اِس وعدے میں کوئی حصہ نہیں ہے؟ یہ وہ ہیں جو [اپنے] تمام دِل کے ساتھ اُس کی تلاش نہیں کرتے ہیں۔‘‘

وہ جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ اپنے کسی گناہ جس سے وہ پیار کرتے ہیں، میں جاری رہ سکتے ہیں یسوع کو نہیں ڈھونڈ پائیں گے۔ یسوع نے کہا،

’’اور سزا کے حکم کا سبب یہ ہے کہ نُور دنیا میں آیا ہے مگر لوگوں نے نُور کی بجائے تاریکی کو پسند کیا کیونکہ اُن کے کام بُرے تھے‘‘ (یوحنا 3:‏19).

وہ جو ’’نور کے بجائے تاریکی سے‘‘ پیار کرتے ہیں یسوع کے پاس نہیں آئیں گے۔ سپرجیئن نے کہا، ’’خُدا کے رحم پر مفروضہ قائم کرنا ہی وہ وجہ ہے جس سے اِس قدر زیادہ لوگ خود کو جسمانی نیت کے حفاظتی لبادے میں لپیٹ لیتے ہیں، اور اپنے سے بُرے دِن کو دور کرتے ہیں۔ خُدا آپ کو اِس بہت بڑی بُرائی سے نجات دلائے!‘‘ (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، ’’تلاش کرنے والوں کے لیے دوسرے کلمہ A Second Word to Seekers،‘‘ MTP، نمبر1، 313، صفحہ514)۔

پھر، وہ بھی، جنہوں نے مایوسی میں چھوڑ دیا یسوع کو ڈھونڈ نہیں پائیں گے۔ سپرجیئن نے کہا، ’’آ، اے بیچاری جان، خُداوند تجھے قبول کرے گا، چاہے تو کوئی بھی ہو۔ اگر تم اپنے تمام دِل کے ساتھ تم خداوند یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے ایک دم تیار ہو جاتے ہو، وہ تمہیں قبول کرے گا۔ جی ہاں، وہ آپ کو دکھائے گا کہ بھروسہ کیسے کرنا ہے، وہ تمہیں ایمان دے گا... [آپ] اُس رحم کو ڈھونڈ پائیں گے جس کا اعلان ہماری تلاوت کرتی ہے... اگر آپ [یسوع کو] اپنے تمام دِل کے ساتھ تلاش کریں‘‘(ibid.، صفحہ515)۔

پھر، وہ بھی، جو جھوٹے مسیحیوں کی بُری مثالوں کو دیکھتے ہیں یسوع کو تلاش نہیں کر پائیں گے۔ سپرجیئن نے کہا، ’’میں خوفزدہ ہوں کہ مسیحی پروفیسروں کے روئیے کے ذریعے سے کچھ لوگوں کو دِل کے ساتھ تلاش کرنے سے دور رکھا گیا ہے۔ مجھے آپ پر زور ڈالنے دیں کہ کبھی اپنے لیے [مثال]اُن سے مت لیں جو اُس کے پیروکار ہونے کا اعتراف کرتے ہیں، کیونکہ کچھ تو [بیکار] قسم [کی مثال] ہیں۔ اُنہیں اُتنا ہی بُرا رہنے دیں جتنا وہ چاہیں، اِس سے آپ کو کیا فرق پڑتا ہے؟ آپ کے پاس آپ کی اپنی جان [کے بارے میں سوچنے کے لیے] ہے؛ اور آپ کو مسیح کو اور بھی زیادہ خلوص کے ساتھ تلاش کرنا ہے ... اُن کے دِل بہتر طور پر لاپرواہ سے بے جوش سے ہیں اور اِسی لیے وہ کبھی بھی پُرجوش اور پیار بھرے جذبات سے پگھلتے نہیں ہیں‘‘ (ibid.، صفحہ 515، 516)۔ اُس کی بُری مثال کی پیروی مت کریں!

وہ جو سوچتے ہیں کہ وہ کسی سفاکانہ اور وحشیانہ گناہ میں جاری رہ سکتے ہیں یسوع کو تلاش نہیں کر پائیں گے۔ وہ جو مایوسی میں چھوڑ دیں گے یسوع کو تلاش نہیں کر پائیں گے۔ وہ جو جھوٹے مسیحیوں کی مثالوں کی پیروی کریں گے یسوع کو نہیں تلاش کر پائیں گے۔

’’تُم مجھے ڈھُونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:‏13).

III۔ سوئم، تب، پھر، کون یسوع کو ڈھونڈ پائیں گے؟

دوبارہ، مجھے اپنی تلاوت کا حوالہ دینا چاہیے،

’’تُم مجھے ڈھُونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:‏13).

آپ کو اپنے تمام دِل کے ساتھ مسیح کو تلاش کرنا ہے! ہم اکثر ششدر رہ جاتے ہیں کہ کس قدر جلد کچھ نئے لوگ مسیح کو ڈھونڈ لیتے اور اُس کو پا لیتے ہیں! لیکن وہ جو آدھے دِل والے ہیں کافی مدت تک کھوئے ہوئے رہتے ہیں۔ ایک بار پھر، عظیم سپرجیئن نے کہا،

      آپ کے تلاش کرنے میں پورا دِل ہونا چاہیے، کیونکہ وہ جس کی آپ تلاش کرتے ہیں ایک مکمل دِل والی بات ہے۔ سُنیں کیسے سچے مسیحی دعا کرتے ہیں۔ کیا وہ اپنے آدھے دِل کے ساتھ دعا کرتے ہیں؟ جی نہیں، کیونکہ ایک یہ کہتا ہے، ’’میں پورے دِل سے تیری جستجو میں لگا ہوا ہوں‘‘ [زبور119:‏10] ... وہ یعقوب کے ساتھ کشتی کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں ’’جب تک تو مجھے برکت نہ دے میں تجھے نہیں چھوڑوں گا‘‘ [پیدائش32:‏26]۔ دعا ایک مسیحی کی اشد ضروری سانس ہے، اور اگر وہ پورے دِل کے ساتھ دعا نہیں کر سکتا، تو پھر یہ واضح ہے کہ روحانی زندگی پانے کے لیے، آپ کو، اے تلاش کرنے والے، اپنا پورا دِل اِس کو پیش کرنا چاہیے (ibid.، صفحہ512، 513)۔

آپ کہتے ہیں، ’’کیا مجھے دعا اور سنجیدگی میں اتنا ہی دلیر ہونا چاہیے جتنے مسٹر لی Mr. Lee اور مسٹر پرودھومی Mr. Prudhomme ہیں؟ کیا مجھے جان کیگن John Cagan یا انتھونی کیم Anthony Kim کے جوش کے ساتھ دعا کرنی چاہیے؟‘‘ جی ہاں! جی ہاں، یہ شاید آپ کی مدد کرے! یہ یقینی طور پر آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا کہ آپ یسوع کو انتہائی جوش کے ساتھ تلاش کریں! جس طرح کے آپ ہیں اِس طرح تو آپ کہیں بھی نہیں پہنچتے ہیں! میں نے تو یہاں تک کہ نوجوان لڑکیوں کو اور انتہائی بزدل لوگوں کو، پاک سپردگی کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سُنا ہے جب وہ سچے طور پر مسیح میں تبدیل ہو گئے تھے! میں نے بچوں کو اِس قدر قوت کے ساتھ دعا کرتے سُنا ہے کہ میری آنکھوں میں آنسوؤں کے سیلاب اُمڈ آئے تھے! یہ وجہ کہ ہم اِس طرح سے مذید اور چھوٹے بچوں کو دعا کرتے ہوئے نہیں سُنتے ہیں یہ ہے کیونکہ اِرتداد کے اِن دِنوں میں بہت کم ہی بچے ہیں جو سچے طور پر مسیح میں تبدیل ہوتے ہیں۔ اِس قسم کی جوشیلی دعا کی ہی وہ کمی ہے جس کی وجہ سے رائے شماری کرنے والا جارج برنا George Barna ہمیں کیا کہتا ہے – کہ ہم تیس سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے گرجہ گھر میں 88 % بچے کھو دیتے ہیں۔ یہ سچے طور پر ہولناک ہے اور سچے طور پر قابل رحم ہے! اگر ہمارے اور زیادہ بچے سچے طور پر مسیح میں تبدیل ہوتے تو ہم اُنہیں مسٹر بیباؤٹ Mr. Bebout، یا ٹموتھی چعین Timothy Chan، یا نوح سونگ Noah Song کے جوش کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سُن پاتے۔

آپ کہہ سکتے ہیں، ’’لیکن ہم تو ابھی بہت نوجوان ہیں! نوجوان لوگ اِس قدر جوش کے ساتھ دعا نہیں کر سکتے ہیں!‘‘ کیا آپ مذاق کررہے ہیں؟ خود کو سُنیں جب آپ باہر کھیلتے ہیں۔ کیا آپ کو وہاں باہر بولتے ہوئے کوئی تکیلف ہوتی ہے؟ کوئی بھی نہیں! کوئی بھی نہیں چاہے کچھ بھی ہو! آپ کسی کے کان کے پردے پھاڑ دیں گے جب آپ کھیل رہے ہوتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ وہ کھیلیں آپ کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں! لیکن دعائیں آپ کے لیے اہم نہیں ہوتی ہیں! آپ دعا کریں گے جب تک کہ آپ کو پسینہ نہیں آ جاتا جب خُدا آپ کو مسیح کی طرف کھینچ رہا ہوتا ہے! میں نے حقیقی حیات نو کے وقتوں میں اِس قدر زیادہ شدید دعائیں اور گریہ زاری سُنی ہے! لیکن اِس کے لیے صرف میری باتوں کو ہی نہ لیجیے۔ اعمال کی کتاب میں اِس کے بارے میں پڑھیں!

’’جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنیں تو ایک ساتھ بلند آواز میں خدا سے دعا کرنے لگے‘‘ (اعمال 4:‏24).

اُنہوں نے اپنی آوازیں ’’بُلند کر لیں‘‘۔ یہ شدید پُرجوش و پُرولولہ دعا کے لیے اشارہ ہے!

’’جب وہ دعا کر چُکے تو وہ جگہ جہاں وہ جمع تھے لرز اُٹھی اور وہ سب پاک رُوح سے معمور ہو گئے اور خدا کا کلام دلیری سے سُنانے لگے‘‘ (اعمال 4:‏31).

اِسی قسم کی دعا اور شہادت میں دلیری ہم آپ میں دیکھیں گے جب آپ سچے طور پر مسیح میں تبدیل ہو جائیں گے!

ایک مبلغ نے ایک نوجوان آدمی سے کہا، ’’اِس قدر بُلند نہ ہو! خُدا پر تبلیغ مت کرو!‘‘ کیا وہ درست تھا؟ جی نہیں، وہ بالکل غلط تھا! اعمال کی کتاب میں، ’’اُنہوں نے اپنی آوازیں خُدا کے لیے بُلند کیں۔‘‘ اگر کوئی ایسا ہمارے بہت سے گرجہ گھروں میں کرے، تو یہ جسمانی نیت والے اراکین کو اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالنے پر مجبور کر دے گا! اِس قسم کی جسمانی نیت کے لوگ اپنے کانوں میں سے انگلیاں صرف اُسی وقت نکالتے ہیں جب اُنہوں نے باسکٹ بال یا فٹبال کے کھیل میں جوش و ولولے کے ساتھ چلانا ہوتا ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کے بارے میں وہ ولولہ انگیز ہوتے ہیں! لیکن ایک نئے سرے سے جنم لیا ہوا مسیحی شدید دعا اور جوش والی تبلیغ میں خوشی منائے گا – جیسا کہ چین، انڈیا، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے گرجہ گھروں میں اُن کے پاس ہے۔ امریکہ اور مغرب میں خُدا ہمارے دو نمبری، بے جان گرجہ گھروں پر رحم فرمائے! ہم تیسری دُنیا میں گرجہ گھروں – اور اعمال کی کتاب میں گرجہ گھروں کے معیار سے کئی درجے پیچھے ہیں!

آئیے نوجوان لوگوں کو خُدا کے وسیلے سے دھکنے دیں اور وہ یسوع کو بہت جلدی تلاش کر لیں گے! وہ جو گھیسٹ کر چل رہے ہیں، اور جوش و ولولے کے ساتھ گاتے یا دعا نہیں کرتے، خُدا کے منہ میں سے اُگل دیے جائیں گے جب وہ انصاف پر انصاف ہے! مسیح نے کہا،

’’پس چونکہ تُو نہ گرم ہے نہ سرد بلکہ نیم گرم اِس لیے میں تجھے اپنے مُنہ سے نکال پھینکنے کو ہُوں‘‘ (مکاشفہ 3:‏16).

آپ نجات نہیں پائیں گے جب تک کہ آپ مسیح کو تلاش کرنے کے بارے میں انتہائی جوش و ولولہ انگیز نہیں ہوتے! صرف جب آپ اپنے پورے دِل کے ساتھ مسیح کو تلاش کریں گے آپ بچا لیے جائیں گے!

’’تُم مجھے ڈھُونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:‏13).

جوش و ولولہ! جوش و ولولہ! جوش و ولولہ! پہلی عظیم بیداری میں وہ پرانے زمانے کے میتھوڈیسٹ لوگوں کو ’’جوشیلے‘‘ کہتے تھے کیونکہ وہ دعا کرتے ہوئے اور گاتے ہوئے اور گواہی دیتے وقت اور تبلیغ کرتے ہوئے اپنی آواز پھاڑ پھاڑ کر بولتے تھے! میں خُدا سے خواہش کرتا ہوں آج ہمارے گرجہ گھروں میں اُس قسم کے بپتسمہ یافتہ مذید اور ہوتے!

اِس میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں ہے کہ آپ مسیح کو نہیں پاتے ہیں ! آپ گرجہ گھر میں ایک ایپیس کوپل گرجہ گھر کے مردہ ممبرEpiscopalian کی مانند آتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ مسیح کو تلاش لیں گے! احمقانہ پن ہے! آپ کو مسیح کو پورے دِل کے ساتھ ڈھونڈنا اور خود کو اُس کے سپرد کرنا چاہیے۔ تب آپ ’’ھیلیلویاہ! میں بچایا گیا ہوں!‘‘ چلاتے ہوئے گرجہ گھر سے گھر جائیں گے۔ اپنے مردہ خُشک ایپیس کوپیلیئن اور جدید پبتسمہ دینے والے مذہب سے دور ہٹیں! اِس کے ساتھ دھرتی پر سے غائب ہو جائیں!

’’تُم مجھے ڈھُونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:‏13).

کاش آپ یعقوب کے ساتھ چلائیں، ’’جب تک تو مجھے برکت نہ دے میں تجھے نہ چھوڑوں گا‘‘ (پیدائش32:‏26)۔ کیا یسوع اُس پر غصے میں تھا؟ جی نہیں! اُس نے اُس کی دعا کا جواب دیا اور اُس کی جان کو بچا لیا، جب اُس نے پاک دلیری کے ساتھ قبل از متجسم مسیح پر بھروسہ کیا اور بُلند اُواز سے بات کی!

جب آپ تفتیشی کمرے میں جاتے ہیں تو کسی قسم کا چلانا نہیں ہونا چاہیے! اوہ، جی نہیں، آپ کو کبھی بھی چلانا یا رونا نہیں چاہیے! آپ کو جیسے جان کیگن اور ٹموتھی چعین نے کیا اپنی نجات کے لیے کبھی بھی رونا اور بُلند آواز میں دعا نہیں کرنی چاہیے! آپ کو وہ کس نے بتایا؟ اُس شیطان نے وہ آپ کو بتایا! وہ وہی ہے! وہ شیطان! آپ کو وہ مشورہ شیطان سے ملا تھا۔ اور اِس سے آپ کو کیا فائدہ پہنچا؟ آپ اتنے ہی کھوئے ہوئے ہیں جتنے کے پہلی مرتبہ آپ تفتیشی کمرے میں گئے تھے! آپ کے انداز نے بالکل بھی آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا ہے!

کیا آپ ایک احساس کی تلاش کر رہے ہیں؟ آپ کو اِس سرد، مردہ انداز جس کے ساتھ آپ تفتیشی کمرے میں جاتے ہیں کبھی بھی کچھ بھی نہیں ملے گا! آپ کو شاید بہتر طریقے سے ایک پاک احساس مل جائے اگر آپ جیسے پرانے زمانے میں پبتسمہ یافتہBaptists، پریس بائی ٹیریئنزPresbyterians، اور میتھوڈیسٹ Methodists نے کیا اُن کی مانند روئیں اور چلائیں! اُنہیں نے شدید رونے کے ساتھ اُس سے التجا کی تھی جو گناہ اور موت سے جان کو بچانے کے قابل ہے! یہی ہے جس کی آپ کو ضرورت ہے! شدید تلاش! شدید دعا! شدید آنسو! شدید چلانا! شدید خوشی منانا!

’’تُم مجھے ڈھُونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:‏13).

اگر آپ تفتیشی کمرے میں اُسی طرح سے گئے جیسے کہ آپ ہمیشہ جاتے ہیں، تو آپ بچائے نہیں جائیں گے۔ اگر کوئی اُسی طریقے سے جاتا ہے جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا ہے، شدید رونے اور دعا کرنے کے ساتھ، تو وہ شخص شاید آج رات کو بچا لیا جائے! یعقوب کے ساتھ چلائیں، ’’جب تک تو مجھے برکت نہ دے میں تجھے نہ چھوڑوں گا‘‘ (پیدائش32:‏26)۔

ابھی کیوں نہیں؟ ابھی کیوں نہیں؟
   ابھی کیوں نہیں یسوع کے پاس آتے؟
ابھی کیوں نہیں؟ ابھی کیوں نہیں؟
   ابھی کیوں نہیں یسوع کے پاس آتے؟
(’’ابھی کیوں نہیں؟ Why Not Now?‘‘ شاعر ڈانیال ڈبلیو۔ وھٹل Daniel W. Whittle
     ، 1840۔1901)۔

تفتیشی کمرے میں جائیں اور یعقوب کے ساتھ چلائیں، ’’جب تک تو مجھے برکت نہ دے میں تجھے نہ چھوڑوں گا۔‘‘ یسوع کے لیے اِس شدید خواہش کے ساتھ جائیں اور آپ اُس کو ڈھونڈ لیں گے۔

’’تُم مجھے ڈھُونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:‏13).

یسوع آپ کے گناہ کا کفارا ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرا تھا۔ وہ مُردوں میں سے آپ کو دائمی زندگی دینے کے لیے جی اُٹھا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یسوع آپ کے گناہ معاف کردے، اور آپ کو اپنے خون سے پاک صاف کر دے، تو تفتیشی کمرے میں جائیں اور نجات کے لیے یسوع سے رو رو کا گڑگڑائیں۔ بالکل ابھی اجمتاع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو تفتیشی کمرے میں لے جائیں گے۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے اُن لوگوں کی نجات کے لیے دعا کریں جنہوں نے ردعمل کا اظہار کیا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: مرقس10:‏23۔27 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ابھی کیوں نہیں؟ Why Not Now?‘‘
(شاعر ڈانیال ڈبلیو۔ وھٹل Daniel W. Whittle، 1840۔1901)۔

لُبِ لُباب

مسیح کو ڈھونڈنے اور پا لینے پر

ON SEEKING AND FINDING CHRIST

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’تُم مجھے ڈھُونڈو گے اور جب تُم مجھے اپنے سارے دل سے ڈھونڈو گے تب مجھے پاؤ گے‘‘ (یرمیاہ 29:‏13).

(فلپیوں2:‏12، 13؛ رومیوں3:‏11)

I.   اوّل، وہ جنہیں خُدا کھینچ رہا ہے وہ ہیں جو یسوع کی تلاش کریں گے اور اُس
کو پا لیں گے، فلپیوں2:‏13؛ مرقس10:‏24، 26، 27؛ رومیوں3:‏11؛
یوحنا6:‏44۔

II.  دوئم، وہ جنہیں خُدا نہیں کھینچ رہا ہے یسوع کو ڈھونڈ نہیں پائیں گے،
یوحنا3:‏19 .

III. سوئم، تب پھر، کون، یسوع کو ڈھونڈ پائے گا؟ زبور119:‏10؛
پیدائش32:‏26؛ اعمال4:‏24، 31؛ مکاشفہ3:‏16 .