Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

کھوئے ہوئے لوگوں کا جزیرہ

THE ISLAND OF LOST SOULS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
21 جولائی، 2013، خداوند کے دِن کی شام
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, July 21, 2013

’’کیونکہ جسمانی نیت موت ہے؛ لیکن روحانی نیت زندگی اور اطمینان ہے۔ اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے: کیونکہ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اِس لیے وہ لوگ جو جسم کے غلام ہیں وہ خُدا کو خوش نہیں کر سکتے‘‘ (رومیوں8:‏6۔8)۔

پولوس رسول نے کہا، ’’جسمانی نیت موت ہے۔‘‘ یہ اُن لوگوں کی حالت کو بیان کرتی ہے جو کھوئے ہوئے ہیں۔ ’’موت‘‘ جس کو وہ بات کرتا ہے روحانی موت ہے۔ اُس نے اِس کے بارے میں افسیوں کے دوسرے باب میں دو مرتبہ بات کی تھی۔ اُس نے کہا کہ وہ ’’قصوروں اور گناہوں کے باعث مُردہ‘‘ ہو چکے ہیں (افسیوں2:‏1)۔ اُس نے کہا وہ اپنے ’’گناہوں کے باعث مردہ‘‘ ہو چکے ہیں (افسیوں2:‏5)۔ افسیوں 2:‏5 پر سکوفیلڈ کی غور طلب بات کہتی ہے، ’’روحانی موت انسان کی قدرتی یا گمراہی کی حالت ہوتی ہےجو کہ ابھی تک اپنے گناہوں میں ہے، اور خُدا کی زندگی سے بیگانہ، اور روح کا محتاج ہو گیا ہے‘‘ (سکوفیلڈ کا مطالعۂ بائبل The Scofield Study Bible، اشاعت 1917؛ افسیوں2:‏5 پر ایک غور طلب بات)۔

رسول نے لفظ ’’موت‘‘ کا موازنہ الفاظ ’’زندگی اور سکون‘‘ کے ساتھ کیا۔ مسیح میں غیر تبدیل شُدہ ہونا روحانی طور پر ’’مردہ‘‘ ہونا ہی ہے۔ مسیح میں تبدیل شُدہ ہونا ’’زندگی اور سکون‘‘ پانا ہے۔ ڈاکٹر مارٹن لائیڈ جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones نے واضح کیا کہ رومیوں 8 باب میں ’’سکون‘‘ کُلیدی لفظ ہے۔ وہ جو کھوئے ہوئے ہیں اُن کے پاس سکون نہیں ہے۔ اور اِس سے پولوس کا مطلب ’’خُدا کے ساتھ سکون‘‘ ہے –

’’چونکہ ہم ایمان کی بِنا پرراستباز ٹھہرائے گئے ہیں اِس لیے ہماری خدا کے ساتھ صلح ہو چکی ہے‘‘ (رومیوں5:‏1)۔

کیوں غیر مسیحی لوگوں کی خُدا کے ساتھ صُلح نہیں ہوتی؟ اِس کی وجہ ہماری تلاوت کی آیت 7 میں پیش کی گئی ہے۔ اُن کی خُدا کے ساتھ کوئی صلح نہیں ہے،

’’اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے: کیونکہ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے‘‘ (رومیوں8:‏7)۔

1599 کے جینیوا بائبل ’’نیت carnal‘‘ کا ترجمہ ’’انسان flesh‘‘ کے طور پر کرتی ہے۔ اور اِس آیت پر اُس کی غور طلب بات کہتی ہے ’’ انسان سے اُس کی مراد ایک آدمی جس نے نئی زندگی نہیں پائی ہے۔‘‘ نجات نہ پائے ہوئے، گمراہ شخص ’’خُدا کی مخالفت کرتے‘‘ ہیں۔

اگر سنجیدگی سے لیا جائے، تو آیت ہمیں ہولناک حد تک نسل انسانی کا اُس کا مسیح میں غیر تبدیل شُدہ گناہ کی حالت میں ایک منفی پہلو پیش کرتی ہے

’’اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے: کیونکہ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے‘‘ (رومیوں8:‏7)۔

حالانکہ بہت منفی، یہ نسل انسانی کی ایک سچی تصویر ہے۔ آئیے دو نقاط پر سوچیں جو ہماری تلاوت میں سے نکلتے ہیں۔

I۔ اوّل، تلاوت نسل انسانی کی قطعی طور پرایک سچی وضاحت ہے۔

گذشتہ اتوار کو میں اپنے جِمنازیم میں تیراکی کر رہا تھا۔ وہاں میں ایک خاتون سے ملا جنہیں میں نے کئی مہینوں سے نہیں دیکھا تھا۔ وہ ایک خوشگوار شخصیت کے ساتھ ایک اچھی انسان ہیں۔ میں اُن کو کئی ماہ کے بعد دیکھ کر خوش ہوا تھا۔ بلا شُبہ وہ جانتی تھیں کہ میں ایک پاسبان کلیسیا ہوں۔ ہمیشہ کی طرح میں نے ہماری گفتگو کو مثبت اور غیر جھگڑالو رکھنے کی کوشش کی۔ میں نہیں جانتا کہ کیوں، لیکن ہم نے تین یا چار منٹوں سے زائد بات بھی نہیں کی تھی کہ اُنہوں نے کہا وہ ایک ایسے خُدا میں یقین نہیں رکھتیں جس نے دُنیا میں اِس قدر مصائب کی اجازت دی۔ چونکہ یہاں اِس قدر مصیبتیں ہیں، اُنہوں نے کہا وہ خُدا میں یقین نہیں رکھتی ہیں، اور یہ اُس [خُدا] ہی کا قصور ہے۔ اُنہوں نے اُس کا یقین کیا ہوتا اگر اُس نے چیزوں کو اُسی طرح سے کیا ہوتا جیسا کہ اُس [خاتون] نے سوچا تھا وہ ہونی چاہیے تھیں! جی ہاں، بےشک، میں نے خُدا کا دفاع کیا تھا۔ میں نے کہا یہ آدمی تھا، خُدا نہیں تھا جس نے خُدا کے خلاف اپنی بغاوت کے ذریعے سے اِس قدر مصیبتیں کھڑی کیں۔ لیکن اُن کی نگاہیں تاثرات سے خالی تھیں اور وہ سُن ہی نہیں رہی تھیں۔ میں نے موضوع تبدیل کر دیا اور اُس کے بعد ہمارے درمیان خوشگوار گفتگو ہوئی تھی۔

جو کچھ اُس خاتون نے کہا کھوئے ہوئے لوگ کس طریقے سے سوچتے ہیں اُس کی ایک جامع مثال ہے۔ ’’جسمانی نیت خُدا کی مخالفت کرتی ہے۔‘‘ اُنہیں وہ طریقے پسند نہیں ہیں جن سے خُدا کام کرتا ہے۔ وہ خُدا کے ساتھ ناراض ہوتے ہیں۔ جب وہ خُدا کے بارے میں سوچتے ہیں، وہ کسی ایک وجہ یا دوسری کی بِنا پر خُدا کے ساتھ پریشان ہوتے ہیں۔ ’’کاہن نے مجھے چھیڑا تھا۔‘‘ یہ کیتھولکس کے لیے ایک بہت بڑی بات ہے۔ ’’اگر وہاں کوئی خُدا تھا، تو اُس نے اِس کی اجازت نہ دی ہوتی،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ میں نے کہا، ’’جی ہاں، لیکن خُدا کا اِس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ گناہ کے باعث وہ آدمی تھا جس نے وہ کیا!‘‘ اُن کی آنکھیں تاثرات سے خالی ہوتی ہیں۔ وہ آپ کی نہیں سُنیں گے۔ وہ خُدا ہی پر الزام دھرتے رہیں گے۔

میں نے گرجہ گھر میں منافقوں کو دیکھا ہے۔‘‘ یہ بپتسمہ دینے والوں اور پینتیکوسٹلز کے لیے بہت بڑی بات ہے۔ میں نے جواب دیا، ’’جی ہاں، لیکن خُدا کی وجہ سے یہ نہیں ہوا تھا۔ گناہ سے بھرپور آدمی نے یہ کیا۔ یہ خُدا نہیں تھا جس نے اُنہیں منافق بنایا تھا۔ اُنہوں نے خود کو منافق بنایا۔‘‘ دوبارہ، اُنکی آنکھیں تاثرات سے خالی تھیں اور اُنہوں نے میری طرف سے اپنا منہ موڑلیا۔ اور یوں یہ ہر اُس مسیح میں غیر تبدیل شُدہ شخص کے ساتھ ہوتا جس سے میں بات کرتا۔ ہر کوئی سوچتا کہ وہ کچھ پختہ اور گہری بات کہہ رہا ہے – جیسا کہ کسی اور نے کبھی اِس کے بارے میں سوچا ہی نہ ہو!!! اِس کے باوجود، اُن کی شکایات اِس قدر عام ہیں کہ وہ تقریباً عالمگیری ہیں!!! ہر وہ کوئی جو مسیح میں تبدیل شُدہ نہیں ہے بالکل اِسی طرح سے خُدا کے بارے میں بات کرتا ہے۔ یہ یوں لگتا ہے جیسا کہ وہ سب کے سب ایک ہی سانچے میں سے ڈھالے گئے ہوں! اور اُن کے دلائل نہ صرف عالمگیری ہوتے ہیں، بالکل واقعی میں کافی بچگانہ بھی ہوتے ہیں۔ ’’مجھے نہیں پسند خُدا جس طریقے سے کام کرتا ہے – اس لیے میں اُس پر یقین نہ کر کے اُسے سزا دوں گا۔‘‘ انتہائی احمقانہ! واحد شخص جس کو وہ تکلیف دیتے ہیں وہ خود ہیں۔ ایسے منہ بسورتے ہیں جیسے بگڑے ہوئے بچے ہوں، وہ اپنا کھلونا اُٹھاتے ہیں اور پرے چلے جاتے ہیں جب زندگی کی کھیل بالکل اُسی طریقے سے نہیں کھیلی جاتی جس طرح سے وہ اِسے کھیلنے کے لیے اصرار کرتے ہیں!

’’اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے: کیونکہ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

غور کریں کس طرح انسان کی بدکار جسمانی فطرت ایک گرجہ گھر میں خود کا اظہار کرتی ہے۔ گرجہ گھر کے منقسم ہونے کا سبب ہمیشہ گرجہ گھر کے مسیح میں غیرتبدیل شُدہ ارکان ہوتے ہیں۔ میرا نہیں خیال اِس میں کوئی مثتثنٰی قرار دینے کا عمل ہوتا ہو – کم از کم ایک بھی ایسا نہیں جس کے بارے میں میں نے کبھی سُنا ہو یا جانتا ہوں۔ جب کام بالکل ویسے ہی نہیں ہوتے جیسا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ ہوں، وہ اپنے کھلونے اُٹھاتے ہیں، غصے میں کچھ کہتے ہیں، اور پرے چلے جاتے ہیں! جھگڑا اُس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ اُن کے ساتھ وجہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یا اُنہیں کلام پاک دکھاتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں، ’’لیکن خُدا نہیں چاہتا کہ آپ گرجہ گھر کو چھوڑ کر جائیں۔‘‘ وہ آپ کو سُن نہیں سکتے ہیں۔ اُن کی آنکھیں بے تاثر ہو جاتی ہیں، اور وہ آپ کی طرف سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ میں نے کبھی کسی ایک شخص کو بھی نہیں دیکھا جس نے گرجہ گھر کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کرنے کے بعد مفاہمت کر لی ہو – کوئی ایک بھی نہیں! کیوں؟

’’اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے: کیونکہ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

لڑکیوں میں سے ایک جو میرے بنک میں ایک داستان گو کی حیثیت سے کام کرتی ہے نے مجھے بتایا کہ وہ ایک چھوٹے سے مغربی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں جو اُس کے گھر کے نزدیک تھا عبادت کے لیے جایا کرتی تھی۔ لیکن اُس نے کہا کہ اُس کے والدین کو غصہ آ گیا اور اُنہوں نے گرجہ گھر چھوڑ دیا – اور اُس نے پھر کبھی وہاں پر اُن کے بغیر خود کو آرام دہ محسوس نہ کیا۔ میں نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی، لیکن اُس کی آنکھیں بے تاثر ہو گئیں، اور اُس نے منہ موڑ لیا۔ اُس نے سوچا اُس کے والدین گرجہ گھر کو چھوڑنے کے لیے دُرست تھے، حالانکہ وہ اب کسی بھی گرجہ گھر میں نہیں جاتے ہیں، وہ خود بھی اُنہی کی راہ پر چل نکلی اور اب خود بھی نہیں جاتی، اور گرجہ گھر خود اِس قدرنابود ہو گیا تھا کہ وہ مشکل سے ہی وجود رکھتا ہے – صرف مُٹھی بھر بزرگ خواتین کے آنے کی وجہ سے! جب آپ اِس قسم کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، اور اُنہیں کلام مقدس دکھاتے ہیں، تو وہ ہمیشہ اِسی طریقے سے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں – جیسے کہ وہ ایک ہی سانچے میں ڈھالے گئے ہوں! اُن کی آنکھیں بے تاثر ہو جاتی ہیں، اور وہ منہ موڑ لیتے ہیں۔ کیوں؟

’’اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے: کیونکہ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

صرف ایک اور ثبوت! اُن کے ساتھ بات کریں جو نئے سرے سے دوبارہ مسیحی نہیں ہوئے ہیں۔ اُنہیں پختہ انجیلی بشارت کا واعظ سُنائیں۔ اُنہیں قوت بخش دعائیہ عبادتوں میں شامل کریں۔ اُنہیں خوراک اور رفاقت اور بہت ہی اچھی مشاورت دیں – تو وہ پریشان ہونے کے لیے کچھ بہانہ تلاش کر لیں گے۔ یہ اُن کا قصور نہیں ہوتا ہے! اوہ، جی نہیں، یہ کبھی اُن کا> قصور ہو ہی نہیں سکتا! آپ ہر وہ کچھ جو انسانی طور پر ممکن ہے اُنہیں رکھنے کے لیے کر سکتے ہیں – اور وہ کیا کریں گے؟ اُن کی آنکھیں بے تاثر ہو جائیں گی اور وہ منہ موڑ لیں گے،

’’اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے: کیونکہ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

جی ہاں، وہ تلاوت نسل انسانی کی اُس کی مسیح میں غیر تبدیل شُدہ حالت میں ایک بالکل سچی وضاحت پیش کرتی ہے۔

II۔ دوئم، تلاوت اِس بُری حالت کی عالمگیریت کو ظاہر کرتی ہے۔

یوحنا رسول کے علاوہ کسی نے بھی اِس کو واضح نہیں کیا، جس نے کہا،

’’ساری دنیا اُس شریر کے قبضہ میں ہے‘‘ (1۔ یوحنا 5:‏19).

یہ تمام دُنیا آدم کی لعنت کے زیر عتاب ہے،اور اِسی لیے،

’’ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے: کیونکہ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

ایچ۔ جی۔ ویلز H. G. Wells ایک دہریےتھے جنہوں نے شدت کے ساتھ ڈاروِن اِزم کو بڑھاوا دیا۔ آپ یہ سب کچھ اُن تمام سائنس فکشن فلموں میں دیکھ سکتے ہیں جو اُن کے ناولوں پر مشتمل ہیں، جیسے ’’دُنیاؤں کی جنگ The War of the Worlds،‘‘ ’’وقت کی مشین The Time Machine،‘‘ ’’کھوئی ہوئی دُنیا The Lost World،‘‘ اور خصوصی طور پر ’’کھوئے ہوئے لوگوں کا جزیرہ The Island of Lost Souls۔‘‘ میں نے اِس کو پڑھنے میں وقت نہیں لگایا، لیکن میں اِس کی 1932 کی تھوڑی سی تبدیل شُدہ فلم کو دو مرتبہ دیکھ چکا ہوں۔ ’’کھوئے ہوئے لوگوں کا جزیرہ The Island of Lost Souls‘‘ کو تین مرتبہ فلم کے طور پر بنایا جا چکا ہے، لیکن 1932 والی فلم صرف واحد ہے جو دیکھنے کے قابل ہے۔ فلموں کے تنقید نگار لیونارڈ مالٹن Leonard Maltin نے اِس کو ممکنہ چار میں سے ساڑھے تین سٹار دیے تھے۔ یہ ایک پاگل سائنسدان کی کہانی ہے، جس کا کردار چارلس لاحٹن Charles Laughton نے نبھایا، جو ایک دور دراز کے جزیرے میں الگ تھلگ ہے، جہاں وہ جنگلی درندوں کو آدھے غیر معمولی انسان میں تبدیل کرتا ہے، جنہیں ’’انسان نما جانور humanimals‘‘ کہا جاتا تھا۔ اِن تخلیقات میں سے ایک کا کردار بیلہ لوگوسی Bela Lugosi نے ادا کیا، جس نے اصلی فلم میں ڈرائیکولاDracula کا کردار ادا کیا تھا۔ لوگوسی کا آدھا انسانی، آدھا کتے نما کردار آخر میں لاحٹن پر یہ کہتے ہوئے حملہ کرتا ہے، ’’کیا ہم آدمی نہیں ہیں؟ ہمیشہ ہی کی طرح، ایچ۔ جی۔ ویلز کی کہانی ڈاروِن ازم کے بے شمار حوالوں سے بھری پڑی ہے۔ اگر آپ اِس فلم کی ویڈیو دیکھیں تو اِس بات کو یقینی بنائیں کہ چھوٹے بچے اِس کو نہ دیکھیں۔ یہ 1932 میں فلمائی گئی تھی، سنسر بورڈ Hays Code کے آ چکنے سے پہلے۔ یہ بہت سی جگہوں پر انتہائی دھشتناک ہے، خاص طور پر حتمی سین میں۔ ’’کھوئے ہوئے لوگوں کا جزیرہ The Island of Lost Souls۔‘‘

اُس کے مرنے سے کچھ عرصہ قبل، سی۔ ایس۔ لوئیس C. S. Lewis نے اپنے ایک دوست کو بتایا کہ وہ یہ یقین کر چکا ہے کہ ارتقاء ’’ہمارے دور کا مرکزی جھوٹ‘‘ ہے۔ اور وہ درست تھے۔ ڈارون کا نظریہ واقعی ہی میں صرف ایک سائنس فکشن ہے۔ بہت سے لوگوں کو اِس بات کا احساس بھی نہیں ہے کہ خود ڈارون کے پاس سائنس میں کوئی بارہویں پاس کی ڈگری بھی نہیں تھی۔ اُس کی واحد ڈگری وحدت پسندی کی علم الہیٰات میں تھی۔ اُس کی کتابیں اصل میں ایسے پڑھیں جاتی ہیں جیسے وکٹوریین سائنس فکشن، جیسے جیولز ورنے Jules Verne کی کہانیاں۔ اِس کے باوجود اُس کے ’’ارتقاء کے نظریے‘‘ نے جدید دُنیا کی بہت سی بُرائیوں کو جنم دیا، جن میں ھٹلر کی فاشسٹ ازم Fascism، کیمیونسم، اور پیٹ میں بچوں کا قتل عام شامل ہیں۔ ایچ۔ جی۔ ویلز ڈارون کے شاگردوں میں سے ایک تھے۔

اِس کے باوجود ’’کھوئے ہوئے لوگوں کا جزیرہ The Island of Lost Souls‘‘ حیرت انگیز طور پر اُس دُنیا کو بیان کرتا جس میں آج رات ہم رہتے ہیں! نسل انسانی ’’کھوئے ہوئے لوگوں کے ایک جزیرے‘‘ میں رہ رہی ہے۔ لیکن ہم اِس راہ میں ارتقاء کے ذریعے سے نہیں پہنچے ہیں! یہاں ایک نظم درخت میں بیٹھے باتیں کرتے دو بندروں کے بارے میں ہے۔ اُن میں سے ایک کہتا ہے،

’’ہاں، آدمی نازل ہوا، بدمزاج لفنگا،
   لیکن بھائی، وہ ہم میں سے نازل نہیں ہوا!‘‘

لوگ اصل میں ’’کھوئے ہوئے انسان‘‘ اُس وقت بنے جب آدم نے زمانے کے آغاز میں خُدا کے خلاف باغ میں بغاوت کی تھی۔ اور ہمارے پہلے والدین کی بغاوت نسل در نسل اُس کی آل اولاد میں چلتی رہی۔ بائبل کہتی ہے، ’’ایک آدمی کی وجہ سے گناہ دُنیا میں داخل ہوا‘‘ (رومیوں5:‏12)۔ اور دوبارہ، ایک آدمی کی وجہ سے بہت سے لوگ گنہگار ٹھہرے‘‘ (رومیوں5:‏19)۔ اب ہر بنی نوع انسان ’’موروثی گناہ‘‘ کی وجہ سے ایک داغ دار قدرت کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔ 1599 بعد از مسیح کی جینیوا بائبل کہتی ہے، ’’گناہ سے مراد وہ بیماری جو وراثت کی وجہ سے ہماری ہے، اور لوگ عموماً اِسے موروثی گناہ کہتے ہیں‘‘ (رومیوں5:‏12 پر ایک غور طلب بات)۔

میں جانتا ہوں کہ ’’جدید‘‘ لوگ ’’موروثی گناہ‘‘ کے نظریے سے نفرت کرتے ہیں۔ لیکن اُن کی یہی نفرت صرف اِس حقیقت کو اٹل کرتی ہے کہ یہ سچ ہے! میں نہیں توقع کر سکتا کہ بائبل میں کسی عقیدے سے (ماسوائے جہنم کے) موروثی گناہ اور اُس کے مکمل اخلاقی زوال اور منطقی نتیجے کے مقابلے میں زیادہ نفرت کی گئی ہے۔ اور اِس کے باوجود، جیسا کہ سی۔ ایس۔ لوئیس نے واضح کیا، نوع انسانی کے مشاہدے کے ذریعے سے بائبل میں کسی عقیدے کو ثابت کرنا اِس قدر آسان نہیں ہے۔

مثال کے طور پر، کیا آپ کو ایک بچے کو بُرا ہونے کے لیے تعلیم دینی پڑتی ہے؟ بلا شبہ نہیں! وہ قدرتی طور پر بُرے ہوتے ہیں۔ بائبل کہتی ہے کہ انسان ’’پیدائش ہی سے باغی کہلایا‘‘ ہے (اشعیا48:‏8)۔

مضنف ولیم گولڈنگ نے اپنے شہرت یافتہ ناول ’’بگھوڑوں کا خدا Lord of the Flies‘‘ میں نوع انسانی کی مکمل خباثت کی منظر کشی کی ہے۔ یہ ایک جزیرے میں پھنسے ہوئے گانے والے انگریزلڑکوں کے گروہ کی کہانی ہے۔ شروع میں وہ انتہائی مہذب تھے، اور چھوٹے شریف لوگوں کی مانند رہے تھے۔ لیکن کچھ ہی عرصے میں وہ پاگل پن اور درندگی پر اُتر آئے۔ کسی کو بھی اُنہی وحشی بنانے کے لیے تعلیم دینے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ یہ قدرتاً ہو گیا تھا، اُن کی مسخ شُدہ فطرت میں سے – اُس موروثی گناہ میں سے جو اُنہوں نے اپنے پہلے والد آدم سے وراثت میں پایا تھا۔ ویسے ’’ بگھوڑوں کا خدا Lord of the Flies‘‘ وہ نام ہے جو بائبل بعلزبول کی شکل میں شیطان کو دیتی ہے، وہ چھوٹے انگریز لڑکے جب تہذیب کی بندشوں سے باہر آئے، تو جلد ہی شیطان کی حکومت کے تحت جلد ہی وحشیوں میں بدل گئے، جو بگھوڑوں کا خدا ہے۔

کوئی بھی جو بچوں کو جانتا ہے، اور اُنہیں گرجہ گھر میں دیکھتا ہے، وہ اِس مظہر کو بار بار دیکھتا ہے۔ بچے اپنے گرجہ گھر کے لباس کو زیب تن کیے اپنے ہاتھوں میں بائبل لیے خوبصورتی کے ساتھ آتے ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی بالغ اُنہیں نہیں دیکھ رہا ہوتا ہے وہ کچھ نہ کچھ باغیانہ کر دیتے ہیں – جیسا کہ جھوٹ بولنا، یا کچھ چُرانا، یا – ٹھیک ہے، آپ جانتے ہیں بچے کیا کرتے ہیں! اُنہیں بُرا ہونے یا باغی ہونے کے لیے تعلیم دینے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ وہ یہ قدرتاً کرتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کبھی ایک ہپ ہاپ گروہ بنام ’’قدرتاً شریر‘‘ ہوا کرتا تھا؟ کیا نام تھا! یہ واقعی میں نسل انسانی کی وضاحت کرتا ہے – قدرتاً شریر!

جب چھوٹے بچے گرجہ گھر میں پاسبان کلیسیا یا مناد کو دیکھتے ہیں، وہ اکثر ڈر سے دُبک جاتے ہیں، جیسے کہ وہ پکڑے گئے ہوں! وہ اِس قسم کا ردعمل اُس وقت بھی کرتے ہیں جب وہ اُس وقت کچھ بُرا نہیں بھی کر رہے ہوتے ہیں! وہ اپنے چہرے پر ایک چونکا دینے والے تاثر کے ساتھ دُبک جاتے ہیں – بالکل ویسے ہی جیسے کہ آپ کے باپ دادا آدم نے دیکھا ہوگا جب خُدا نے باغ میں، اُس کو اُس کے گناہ میں پکڑ لیا تھا۔

1950 کی دہائی میں میری سنڈے سکول کی کلاس میں ’’بھلے‘‘ نوعمر مسکراتے اور اچھے لگتے ہونگے جب ایک بالغ موجود ہوتا تھا۔ لیکن جیسے ہی وہ بالغ چلا جاتا تھا تو وہ گندے لطیفے سُنانے شروع کر دیتے تھے۔ اِس نے شروع میں مجھے بہت پریشان کیا، لیکن پھر مجھے احساس ہوا (میرے مسیح میں تبدیل ہونے سے بھی پہلے) کہ وہ دھوکے باز تھے، بالکل بھی حقیقی مسیحی نہیں تھے۔ یہ دیکھنے کے لیے خُداوند کے فضل کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ تر لوگ اِس کو اِس طرح سے نہیں دیکھتے ہیں۔ اِس لیے وہ یہ کہتے ہوئے چلے جاتے ہیں کہ گرجہ گھر منافقوں سے بھرا پڑا ہے۔ میں یہ ہر وقت سُنتا ہوں، ’’میں نے گرجہ گھر چھوڑا کیونکہ وہ منافقوں سے بھرا پڑا تھا۔‘‘ لیکن یہ سچ نہیں ہے! اِس کا واقعی میں مطلب ہوتا ہے کہ وہاں گرجہ گھر میں لوگ ہیں جو مسیحی نہیں ہیں، لوگ جو کبھی بھی مسیح میں تبدیل نہیں ہوتے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اُن میں سے زیادہ تر کی وضاحت کے لیے ’’منافق‘‘ درست لفظ نہیں ہے۔ وہ محض کھوئے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گرجہ گھر تو آتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی مسیح میں تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ اور اِس قسم کے لوگ ہی ’’قدرتاً شریر‘‘ ہوتے ہیں۔ وہ اِس کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں سکتے! وہ گناہ میں جکڑے ہوتے ہیں! وہ اِس سے فرار حاصل نہیں کر سکتے ہیں! جیسا کہ ’’کھوئے ہوئے لوگوں کے جزیرے‘‘ پر ’’جانور نما آدمی،‘‘ وہ اپنی گناہ سے بھرپور، جسمانی نیت پر قابو نہیں پا سکتے ہیں! اُس ’’آدمی نما جانور‘‘ جس کا کردار بیلہ لوگوسی نے ادا کیا تھا، نے کہا تھا، ’’کیا ہم انسان نہیں ہیں؟‘‘ وہ اِس قدر گمراہ ہو گئے تھے کہ وہ انسانوں کے مقابلے میں جانور زیادہ تھے! آج رات ہماری دُنیا میں بہت سے زوال پزیر عیاش لوگوں کی کیسی ایک تصویر! اور تھوڑے بہتر انداز میں کہا جائے تو ہمارے گرجہ گھروں میں مسیح میں غیر تبدیل شُدہ لوگوں کی کیسی ایک تصویر۔ میں نے کبھی کبھی ایسے لوگوں کو واقعی میں انسانوں کے مقابلے میں جانوروں کی مانند زیادہ عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے!

اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے: کیونکہ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اِس لیے وہ لوگ جو جسم کے غلام ہیں وہ خُدا کو خوش نہیں کر سکتے‘‘ (رومیوں 8:‏7۔8).

پاسبانِ کلیسیا رچرڈ وورمبرانڈ Richard Wurmbrand لوتھر کی مشن کے ایک مذہبی رہنما تھے جن کو رومانیہ میں اشتراکیت پسندوں نے چودہ سالوں تک تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ جب وہ ریاست ہائے متحدہ کے قانون سازی کے ایوان میں ایک کمیٹی کے سامنے بولے تھے، تو پاسبان کلیسیا وورمبرانڈ نے سینٹ کے اراکین کو بتایا،

مسیحیوں کو چار دِنوں اور راتوں کے لیے صلیبوں سے باندھ دیا جاتا تھا۔ صلیبوں کو زمین پررکھ دیا جاتا تھا اور سینکڑوں قیدیوں کو اپنی رفاع حاجت کو پورا کرنے کے لیے اُن مصلوب شُدہ کے جسموں پر جانا پڑتا تھا۔ پھر اُن صلیبوں کو دوبارہ کھڑا کیا جاتا تھا اور اشتراکیت پسند ٹھٹھے اُڑاتے اور تضحیک کرتے، ’’اپنے مسیح پر نظر ڈالو! وہ کس قدر خوبصورت ہے! وہ آسمان سےکیسی شاندار خوشبو چھوڑ رہا ہے!‘‘میں نے وضاحت کی کہ کیسے تشدد کے ساتھ تقریباً دیوانہ کر دینے کے بعد، ایک کاہن کو مجبور کیا گیا تھا، انسانی فضلے اور پیشاب کو مقدس قرار دے کر اِس شکل میں مسیحیوں کو پاک شراکت دے۔ ایسا رومانیہ کی پیٹسٹی Pitesti قید خانے میں ہوا تھا۔ میں نے بعد میں کاہن سے پوچھا تھا کیوں نہیں اُس نے اِس مذاق میں شرکت کرنے کی بجائے مر جانے کو ترجیح دی۔ اُس نے جواب دیا، ’’مہربانی سے، میرا انصاف مت کریں! میں نے مسیح سے زیادہ تکلیف سہی ہے۔‘‘ جہنم اور دانتےDante کی قابو میں نہ آنے والی ہیبت ناک آگ کے بارے میں بائبل کی تمام وضاحتیں اشتراکیت پسندوں کے قید خانوں میں تشدد کے ساتھ موازنے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں (رچرڈ وورمبرانڈ، ٹی ایچ۔ ڈی۔Richard Wurmbrand, Th. D.، مسیح کے لیے تشدد سہا Tortured for Christ، لیونگ سیکریفائز بُک کمپنی Living Sacrifice Book Company، اشاعت 1998، صفحات 36، 37)۔

یہ اُن ہیبت ناکیوں کی منظرکشی کرتی ہے جو رونما ہو سکتے ہیں کیونکہ اِنسان گناہ کے ذریعے سے زہریلا کیا جا چکا ہے!

اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے: کیونکہ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اِس لیے وہ لوگ جو جسم کے غلام ہیں وہ خُدا کو خوش نہیں کر سکتے‘‘ (رومیوں 8:‏7۔8).

ڈاکٹر لائیڈ جونز نے ہماری تلاوت کی یہ بصیرت سے بھرپور وضاحت پیش کی۔ اِس کو غور سے سُنیں – کیونکہ یہ آپ کی تشریح کرتی ہے، اگر آپ مسیح میں غیر تبدیل شُدہ ہیں۔

ایک بےاعتقادہ نا صرف روحانی طور پر مردہ ہے، بلکہ اُسی وقت وہ ’’خُدا کے مخالف‘‘ بھی ہے، اُس کے خُدا کے بارے میں تمام سمجھ کافی غلط ہوتی ہے۔ وہ خُدا کو ایک دشمن سمجھتا ہے؛ خُدا کوئی ایسا ہے جس کو وہ [ناپسند] کرتا ہے۔ وہ شاید کہہ سکتا ہے کہ وہ خُدا میں یقین رکھتا ہے، لیکن ... وہ محسوس کرتا ہے کہ خُدا اُس کے خلاف ہے، وہ خواہش کرتا ہے کہ خُدا ہوتا ہی نہ۔ یقیناً اِس قسم کا انسان ممکنہ طور پر خُدا کو خوش نہیں کر سکتا، اور نہ ہی خُدا کی شریعت کی راستبازی اُس میں پوری ہو سکتی ہے۔ بے اعتقادے کے بارے میں دوسری سچائی یہ ہے کہ وہ خُدا کی شریعت کے تابع نہیں ہے؛ وہ خُدا کی شریعت سے نفرت کرتا ہے۔ دُنیا اِس کا مظاہرہ آج کرتی ہے۔ وہ تو قانون کی ذرا سی رمق سے بھی نفرت کرتی ہے؛ وہ نظم و ضبط سے نفرت کرتی ہے، اور جو کو وہ آزادی کے طور پر بیان کرتی ہے ماسوائے [لاقانونیت] کو کچھ نہیں ہے۔ انسان قدرتاً اور گناہ کے باعث خود کے لیے ایک قانون چاہتا ہے، وہ کرنا چاہتا ہے جو وہ پسند کرتا ہے، جس سے اُس کو خوشی ملتی ہے ... اور وہ شریعت اور نظم و ضبط کی ہر تجویز پر اعتراز کرتا ہے ... ایک بے اعتقاد شخص خُدا کی شریعت کے تابع نہیں ہوتا ہے۔ وہ تو حتٰی کہ اِس قابل بھی نہیں ہوتا کہ اُس کے تابع ہو – ’’نا ہی بیشک ہو سکتا ہے۔‘‘ کیونکہ وہ جو ہے وہ ہے، اُس بدی کی وجہ سے جو اُس میں ہے، گمراہی کی وجہ سے، اُس میں گناہ کی قوت کے باعث، وہ تو حتٰی کہ خُدا کی شریعت کے تابع ہونے کی خواہش بھی نہیں کر سکتا (ڈی۔ مارٹن لائیڈ جونز،ایم۔ ڈی۔ D. Martyn Lloyd-Jones, M.D.، رومیوں: 8باب 5۔17 کی تفسیر Romans: An Exposition of Chapter 8:‏5-17 ، دی بینر آف ترتھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، دوبارہ اشاعت 2002، صفحہ 43)۔

اور پھر، رومیوں 8 باب میں اِسی حوالے پر تبصرہ کرتے ہوئے، ڈاکٹر لائیڈ جونز نے کہا، ’’ہمارے مسیحی بننے سے پہلے ہم خُدا کی شریعت کے خلاف لڑ رہے ہوتے ہیں؛ جس لمحہ ہم مسیحی بنتے ہیں یہ لڑائی ختم ہو جاتی ہے، اور وہاں سکون آ جاتا ہے‘‘ (ibid.، صفحہ 45)۔

اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے: کیونکہ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اِس لیے وہ لوگ جو جسم کے غلام ہیں وہ خُدا کو خوش نہیں کر سکتے‘‘

اگر آپ نجات یافتہ نہیں ہیں، تو کیا یہ کم از کم کسی طور آپ کی تشریح نہیں کرتا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آپ کو حمد و ثنا کے گیت گانے پسند نہیں ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آپ کو ہفتے کی شب کی عبادت میں بیٹھنا، مسیحی لوگوں کو دعا کرتے ہوئے سُننا واقعی پسند نہیں ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آپ کو واقعی ہی میں لوگوں کو جیتنے کے لیے جانا پسند نہیں ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آپ اِتوار کو کسی اور جگہ ہونا چاہیں گے – کم از کم کبھی کبھار؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آپ اکثر سوچتے ہیں کہ گرجہ گھر انتہائی سخت ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آپ اُن باتوں کے بارے میں سوچنا پسند کرتے ہیں جو آپ جانتے ہیں کہ غلط ہیں – لیکن آپ واقعی ہی میں جب اکیلے ہوتے ہیں تو دعا کرنے سے نفرت کرتے ہیں؟ اور کیا یہ تمام کی تمام باتیں آپ پر ظاہر نہیں کرتی کہ آپ جسمانی نیت اور گمراہ ذہن کے ساتھ ایک کھوئے ہوئے گنہگار ہیں؟

اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے: کیونکہ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اِس لیے وہ لوگ جو جسم کے غلام ہیں وہ خُدا کو خوش نہیں کر سکتے‘‘ (رومیوں 8:‏7۔8).

اب، اگر اِس میں سے کچھ بھی آپ کی تشریح کرتا ہے، تو آپ اِس کے بارے میں کیا کر سکتے ہیں؟ یہاں پر اصل میں دو باتیں ہیں جو آپ کر سکتے ہیں۔ آپ کے پاس چُننے کے لیے یہ دو انتخاب ہیں۔

1.  آپ اپنے آپ کو گرجہ گھر آنے کے لیے کچھ عرصے تک مجبور کر سکتے ہیں، اور پھر چھوڑ سکتے ہیں۔ ہمارے پاس لوگ ہیں جنہوں نے گاہے بگاہے بالکل اِسی وجہ سے گرجہ گھر آنا چھوڑا تھا۔ وہ نہیں سُننا چاہتے کہ خُدا اُن سے کیا تقاضا کرتا ہے، اور وہ گرجہ گھر میں اِس قدر سخت قوانین کے تحت رہنا بھی نہیں چاہتے تھے۔ اِس لیے اُنہوں نے گرجہ گھر کو چھوڑ دیا۔ یہ اُنہیں کچھ دیر کے لیے سکون پہنچاتا ہے۔ لیکن ’’دغا بازوں کی راہ کٹھن ہوتی ہے‘‘ (امثال13:‏15)۔ ’’خُداوند فرماتا ہے کہ شریروں کے لیے سلامتی نہیں ہے‘‘ (اشعیا57:‏21)۔ آخر میں اُن کے دِل بے قرار اور غیرتسلی بخش ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مقدس آگسٹین نے خُدا سے کہا تھا، ’’ہمارے دِل بےقرار ہیں جب تک کہ وہ تجھ میں سکون نہ پا لیں۔‘‘

2.  آپ خُدا سے اپنا دِل تبدیل کرنے کے لیے دعا مانگ سکتے ہیں،اور اپنے ذہن کو دوبارہ نیا کر سکتےہیں۔ ایسا آپ میں اور آپ کے لیے صرف مسیح کر سکتا ہے! صرف مسیح ہی آپ کو خُدا کے ساتھ امن اور روح کا سکون دلا سکتا ہے۔ ’’آپ کو نئے سرے سے جنم لیناچاہیے‘‘ (یوحنا3:‏7)۔ آپ میں ایسا صرف خُدا ہی کر سکتا ہے۔ صرف خُدا ہی آپ کو گناہ کی سزایابی کے تحت لا سکتا ہے، اور آپ کو مسیح کی طرف اُس کے قیمتی خون سے پاک صاف ہونے کے لیے کھینچ سکتا ہے! اُس کو چِلا چِلا کر پکاریں،کیونکہ وہ ہی صرف آپ کو بچا سکتا ہے۔ صرف مسیح ہی آپ کی جسمانی نیت کو نکال سکتا ہے اور آپ کو خُدا کو پیار کرنے کے لیے ایک نیا دِل دے سکتا ہے – اُس باغی دِل کے بجائے جو اِس وقت آپ کے پاس ہے! ’’کیوں،‘‘ آپ کہتے ہیں، ’’وہ تو کوئی معجزہ ہی ہوگا!‘‘ تو آپ دُرست ہیں! ایسے ہونے کے لیے معجزہ ہی ہوگا!

لیکن جب اُس نے میری جان کو بچایا،
   پاک صاف کیا اور مجھے مکمل کیا،
تو پیار اور فضل کا ایک معجزہ ہوا تھا!
   (’’ایک معجزہ ہوا تھا It Took a Miracle‘‘ شاعر جان ڈبلیو۔ پیٹرسن John W. Peterson‏، 1921۔2006)۔

اینی سٹیلی Anne Steele (1760)م پہلی عظیم بیداری کی ایک حمد وثنا لکھنے والی نے کہا،

اوہ ہمارے اِن تباہ حال دِلوں کو بدل ڈال،
   اور اِن کو الہٰی زندگی دے ڈال!
تب ہی ہماری چاہتیں اور ہماری قوتیں،
   اے قادرمطلق خُدا تیری ہونگی۔
(’’قصوروار قدرت کس قدر بے یارو مدد گار پڑی ہے How Helpless Guilty Nature Lies‘‘ شاعر اینی سٹیلی
 Anne Steele‏، 1717۔1778؛بطرز “O Set Ye Open Unto Me”)۔

اگر آپ نئے جنم اور ایک اصلی مسیحی بننے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں، تو مہربانی سے اپنی نشست چھوڑیں اور ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پُرسکون کمرے میں لے جائیں گے جہاں پر ہم بات چیت اور دعا کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے اُن کے لیے دعا کریں جنہوں نے ردعمل کا اظہار کیا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: رومیوں8:‏1۔8 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ایک معجزہ ہوا تھا It Took a Miracle‘‘ (شاعر جان ڈبلیو۔ پیٹرسن
John W. Peterson ‏، 1921۔2006)۔

لُبِ لُباب

کھوئے ہوئے لوگوں کا جزی

رہ

THE ISLAND OF LOST SOULS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’کیونکہ جسمانی نیت موت ہے؛ لیکن روحانی نیت زندگی اور اطمینان ہے۔ اِس لیے کہ جسمانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے: کیونکہ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اِس لیے وہ لوگ جو جسم کے غلام ہیں وہ خُدا کو خوش نہیں کر سکتے‘‘ (رومیوں8:‏6۔8)۔

(افسیوں2:‏1، 5؛ رومیوں5:‏1)

I.  اوّل، تلاوت نسل انسانی کی قطعی طور پرایک سچی وضاحت ہے، رومیوں8:‏7 .

II.  دوئم، تلاوت اِس بُری حالت کی عالمگیریت کو ظاہر کرتی ہے، 1یوحنا5:‏19؛
رومیوں5:‏12، 19؛ اشعیا48:‏8؛ امثال13:‏15؛ اشعیا57:‏21؛ یوحنا3:‏7 .