Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

لاکھوں کالج کے کھوئے ہوئے طالب علم –
لیکن بپتسمہ یافتہ کہاں ہیں؟

– MILLIONS OF LOST COLLEGE STUDENTS
?BUT WHERE ARE THE BAPTISTS
(Urdu)

.by Dr. R. L. Hymers, Jr
ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
30 جون، 2013، خُداوند کے دِن کی ایک شام
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, June 30, 2013

مہربانی کے ساتھ میرے ساتھ بائبل میں سے متی9:‏37، 38 کھولیئے اور مسیح کے کلام کو پڑھنے کے لیے کھڑے ہو جائیں۔

’’تب اُس نے اپنے شاگردوں سے کہا، فصل تو بہت ہے لیکن مزدور کم ہیں؛ لہذا تم فصل کے مالک سے درخواست کرو کہ وہ اپنی فصل کاٹنے کے لیے مزدور بھیج دے‘‘ (متی 9:‏38،37).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

کچھ لوگوں نے مجھ سے کہا ہے کہ یہ کچھ عجیب سا لگتا ہے کہ ایک مجھ جیسا ایک اصلاح شُدہ پادری اکثر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice (1895۔1980) کے حوالے دے۔ لیکن مجھے اُس میں کوئی حیرت ناک بات نظر نہیں آتی ہے۔ گذشتہ ہفتے میں نے ایک پادری کو بتایا کہ مجھے رچرڈ بیکسٹر Richard Baxter (1615۔1691) کا مطالعہ کرنا پسند ہے، وہ مسیح میں تبدیلی پر ایک پیوریٹن Puritan ہیں۔ مگر میں نے پایا کہ مجھے بشارت انجیل پر ڈاکٹر رائس کو پڑھنے کی بھی ضرورت ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ڈاکٹر رائس ہمیں کھوئے ہوؤں کے پیچھے جانے کے لیے بتاتے ہیں – اور رچرڈ بیکسٹر ہمیں بتاتے ہیں کہ اُن کو پا لینے کے بعد ہمیں اُن کے ساتھ کیا کرنا چاہیے! اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو یہ ایک اچھا توازن ہے!

ڈاکٹر رائس کو ذرا غور سے سُنیں۔ اُنہوں نے کچھ ایسا کہا ہے جو ہم سب کے لیے انتہائی دلچسپ ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر رائس نے کہا،

      یہ انتہائی شاندار ہے کہ نئے عہد نامے میں تین مرتبہ، مختلف موقعوں پر، یسوع نے تقریباً یہی بات کہی ہے۔
      اُن بارہ سے، جب اُس نے لوگوں کے عظیم ہجوم کو دیکھا تو اُسے اُن پر بڑا ترس آیا کیونکہ وہ اُن بھیڑوں کی طرح جن کا کوئی چرواہا نہیں ہوتا تھے، اُس نے کہا، ’’فصل توبہت ہیں لیکن مزدور تھوڑے ہیں؛ لہذا تم فصل کے مالک سے درخواست کرو کہ وہ اپنی فصل کاٹنے کے لیے مزدور بھیج دے‘‘ (متی9:‏37، 38)۔ فصل اُس وقت بہت زیادہ ہوئی تھی۔
      بعد میں، چونکہ بارہ شاگرد تمام کھُلے دروازوں میں داخل نہیں ہو سکتے تھے، تمام جگہوں پرجہاں خوشخبری کی ضرورت تھی نہیں پہنچ سکتے تھے، یسوع نے ستر دوسروں کو بھی بھیجا۔ وہ کوئی بھی نہیں تھے۔ ہم اُن میں سے ایک کا بھی نام نہیں جانتے ہیں۔ واضح طور پر وہ مسیح میں تبدیل ہوئے نئے لوگ تھے، جو کہ پختہ کار نہیں تھا، لیکن ’’بھیڑیں،‘‘ جن کو یسوع نے ’’بھیڑیوں کے درمیان‘‘ بھیجا تھا۔ اور اُس نے اُن سے کہا تھا، ’’فصل تو بہت اچھی ہے لیکن مزدور کم ہیں؛ لہذا تم فصل کے مالک سے درخواست کرو کہ وہ اپنی فصل کاٹنے کے لیے مزدور بھیج دے‘‘ (لوقا10:‏2)۔ اوہ، اُس کے پاس پختہ کار، اچھے تربیت یافتہ مسیحی نہیں تھے، اِس لیے اُس نے مسیح میں تبدیل شُدہ نئے لوگوں کو بھیجا کیونکہ فصل بہت زیادہ تھی۔
      دوبارہ، جب یسوع نے اپنے شاگردوں سے سامریہ کے ایک شہر سوخار میں بات کی تھی، سامری عورت کو قائل کر چکنے کے بعد اور اُس کے شہر میں لوگوں کو جا کر بتانے کے لیے بھاگ چکنے کے بعد، ’’آؤ ایک آدمی سے ملو جس نے مجھے سب کچھ جو میں نے اب تک کیا تھا بتا دیا: کیا یہی مسیح تو نہیں؟‘‘ – اور جس وقت شہر کو لوگ باہرنجات دہندہ کوملنے کے لیے آ رہے تھے، یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا: ’’یہ مت کہو کہ کیا فصل پکنے میں ابھی چار ماہ باقی ہیں: میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی آنکھیں کھولو اور فصل پر نظر ڈالو؛ اُن کی فصل پک کر تیار ہے‘‘ (یوحنا4:‏35)۔
      ہمارے پاس ایسے کوئی واقعات نہیں ہیں جہاں یسوع نے کبھی اشارہ دیا ہو کہ فصل پک گئ تھی ... کہیں لوگوں کی کوئی اقسام نہیں ہےجہاں کچھ کو جیتا نہ جا سکے۔ کلیسیا کی تاریخ میں کوئی زمانہ ایسا نہیں ہے جب انجیل نے اپنی قوت کو کھو دیا ہو، یا گنہگاروں کو نجات دہندہ پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہ کیا جا سکا ہو... پھر متی28:‏19، 20 میں عظیم مقصد پیش کیا گیا ہے۔ یسوع نے ایک سادہ سے بیان کے ساتھ اختتام کیا، ’’اور دیکھو میں دُنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘ یقیناً ہمیں اِس کو سمجھ لینا چاہیے یہ بتانے کے لیے کہ مسیح کی موجودگی کامیابی اور قوت کا کچھ تعین پیش کرے گی ... یہ کلام پاک کی متفقہ تعلیم ہے کہ ہمیشہ کچھ لوگ ہوتے ہیں جنہیں مسیح کے لیے جیتا جا سکتا ہے، کہ فصل ہمیشہ پکی ہوتی ہے (جان آر۔ رائس، ڈی۔ڈی۔ John R. Rice, D.D.، ذاتی طور پر لوگوں کو جیتنے کے لیے کامیابی سے بھرپور سُنہرا راستہ The Golden Path to Successful Personal Soul Winning، خُداوند کی تلوار اشاعت خانے Sword of the Lord Publishers، 1961، صفحات215۔217)۔

سالوں پہلے میں ایک چینی پادری بنام تھامس لو[دیکھو] کوجانتا تھا۔ درحقیقت، برادر لو اُس چینی پبتسمہ دینے والے گرجہ گھر کے پہلے پادری تھے جہاں میں تیئس سال تک رُکن رہا تھا۔ جب وہ حوصلہ ہار جاتے تھے تو متی28 باب میں سے عظیم مقصد کے آخری چند الفاظ کا حوالہ استعمال کرتے تھے۔ جب پادری لو لوگوں کو جیتنے میں دشواری پاتے، تو وہ کہہ دیتے، ’’عظیم مقصد میں صرف میرے لیے ایک وعدہ ہے۔ یہ کہتا ہے، ’دیکھو، میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں‘‘‘ (متی28:‏20)۔ پادری لو نے یہ مذاقاً کہا تھا، لیکن یہ واقعی میں ہم سب کے ساتھ ایک وعدہ ہے۔

’’مجھے آسمان اور زمین پر پورا اختیار دے دیا گیا ہے۔ اِس لیے تُم جاؤ اور ساری قوموں کو شاگرد بناؤ اور انہیں باپ، بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ دو، اور اُنہیں یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے اور دیکھو! میں دنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہُوں۔ آمین‘‘ (متی 28:‏18، 19،20).

میں جانتا ہوں کہ ہم تاریک اور خطرناک زمانے میں رہ رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بوڑھے لوگوں کو خوشخبری کی دعوت کو سُننے کے لیے یا اُس پر ردعمل کرنے کے لیے تیار کرنا عملی طور پر ناممکن نظر آتا ہے۔ لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہاں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لوگ ہیں۔ وہ ہر ششماہی میں کالجوں میں اُمڈ آتے ہیں۔ میں اُس گھٹیا سرد مہری کے ذریعے سے مسلسل پریشان ہوتا ہوں جس کا مظاہرہ زیادہ تر جدید پبتسمہ دینے والے گرجہ گھر اِن نوجوان لوگوں کی جانب کرتے ہیں۔ بپتسمہ یافتہ کہاں ہیں؟ ہمیں اُن کی غفلت کوخود پر اثرانداز نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ہمیشہ نئے نوجوان لوگ پہنچنے کے لیے ہوتے ہیں، اور یسوع نے کہا،

’’راستوں اور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اور لوگوں کو مجبور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے‘‘ (لوقا 14:‏23).

’’آج ہم فصل کاٹیں گے‘‘ – اِسے گائیں!

آج ہم کاٹیں گے، نہیں تو اپنی سُنہری فصل کو کھو دیں گے!
   آج ہمیں کھوئے ہوئے بشروں کو جیتنے کے لیے موقع دیا گیا ہے۔
ہائے پھر کچھ پیاروں کو جلائے جانے سے بچانے کے لیے،
   آج ہم جائیں گے کچھ گنہگاروں کو اندر لانے کے لیے۔
(’’کتنا کم وقت So Little Time ‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس
   Dr. John R. Rice‏، 1895۔1980 )۔

میرے دیرینہ پادری، ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin، ایک عظیم بائبل کے عالم، پروفیسر اور سیمنری کے صدر تھے۔ لیکن وہ ایک عقلمند پادری تھے، غالباً میں ابھی تک جنہیں سب سے زیادہ عقلمند ترین پادری جانتا ہوں۔ اُنہوں نے ہمیں بار بار نوجوان عمر کے کالج کے طالب علموں کے پیچھے جانے کے لیے کہا۔ اُنہوں نے کہا کہ بوڑھے لوگ اِس قدر تعصب سے بھرے ہوتے ہیں کہ اُنہیں جیتنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ لیکن اُنہوں نے کہا کہ بہت سے نوجوان لوگ سُنیں گے، گرجہ گھر میں آئیں گے، اور بچائے جائیں گے۔

اُس چھوٹے سے چینی گرجہ گھر میں ہمارے پاس آسرا کرنے کے لیے کچھ اتنا زیادہ نہیں تھا۔ وہاں صرف چند ایک لوگ ہی تھے جب میں نے 19 سال کی عمر کے ایک لڑکے کی حیثیت سے ایک مشنری بننے کے لیے اُس جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی۔ پیش کرنے کے لیے ہمارے پاس کچھ زیادہ نہیں تھا، کوئی خوش اسُلوب موسیقی نہیں یا چیزوں میں سے کوئی ایسی جس کے لیے لوگ آج سوچتے ہیں کہ آپ کو نوجوان لوگوں کے جیتنے کےلیے ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے پاس یسوع کا وعدہ تھا، ’’دیکھو، میں دُنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں‘‘ (متی28:‏20)۔ اِس کے علاوہ، ہم اُس چھوٹے سے گرجہ گھر میں مکمل طور پر وقف ہو گئے تھے۔ میرا مطلب ہے، ہم بِک چکے تھے! ہم اپنی جان لڑا کر کھوئے ہوئے نوجوان لوگوں کو اندر لانے کے لیے تیار تھے!

میری مطالعہ گاہ میں تقریباً 1964 کے زمانے کے بپتسمہ پر حمدوثنا کے گیتوں کی کتاب The Baptist Hymnal کی ایک اصلی کاپی ہے۔ یہی وہ تمام موسیقی تھی جو ہمارے پاس تھی – صرف وہی حمد وثنا کے گیت۔ لیکن ڈاکٹر لِن نے چند ایک کورسز کی فوٹو کاپیاں کروائیں اور ہم سے اُن کو اُس حمدوثنا کے گیتوں کی کتاب کی جلد کے اندرونی حصے میں چپساں کروائیں۔ میں پچھلی شب اُن کورسز پر نظر ڈال رہا تھا – اور اِس سے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ یہاں ہیں اُن میں سے چند ایک چھوٹے کورس جنہیں گانے کے لیے ڈاکٹر لِن تقریباً ہر عبادت میں ہمیں کہتے تھے۔

میری جان بچانے کے لیے تیرا شکر ہو خداوندا،
مجھے مکمل کرنے کے لیے تیرا شکر ہو خُداوندا،
مجھے عطا کرنے کے لیے تیرا شکر ہو خُداوندا،
تیری عظیم نجات اِس قدر بہات سے اور مفت میں۔

ایک کو خُداوند کےلیے جیتو،
ایک کو خُداوند کے لیے جیتو،
خُداوندا ایسا کرنے کے لیے میری مدد فرما،
ایک کو خُداوند کے لیے جیتو۔

پیچھے، پیچھے، میں یسوع کے پیچھے جاؤں گا!
کہیں بھی، ہر جگہ، میں پیچھے چلتا جاؤں گا!
پیچھے، پیچھے، میں یسوع کے پیچھے جاؤں گا!
ہرجگہ وہ میری رہنما کرتا ہے، میں پیچھے چلتا جاؤں گا!

وہاں گرجہ گھر میں ایک لڑکے کا نام آن لیم On Lim تھا۔ کبھی کبھی ہم آن کو اُس کورس کی آخری لائن اُس کے لیے گانے کے ذریعے سے اُسے تھوڑا بہت ستا لیتے تھے، ’’Everywhere He leads me, I will follow On۔‘‘ میں نے آن کو چند مہینے پہلے ڈاکٹر مرفی لم Dr. Murphy Lum کی فارغ الخدمتی کی دعوت میں دیکھا تھا۔ آن اب ایک میڈیکل ڈاکٹر ہے، اور اُس کا ایک بڑا خاندان ہے۔ وہ اُن لڑکوں میں سے ایک تھا جس کو ہم اُس گرجہ گھر میں پچاس سالوں سے زیادہ عرصہ ہوا لائے تھے۔ اور پھر ہم بار بار دوبارہ ایک اور چھوٹا سا کورس گیتوں کی کتاب کے سامنے سے گاتے تھے،

میں تمہیں آدمیوں کو پکڑنے والا بناؤں گا،
آدمیوں کو پکڑنے والا، آدمیوں کو پکڑنے والا۔
میں تمہیں آدمیوں کو پکڑنے والا بناؤں گا۔
اگر تم میرے پیچھے آؤ گے۔
اگر تم میرے پیچھے آؤ گے، اگر تم میرے پیچھے آؤ گے،
میں تمہیں آدمیوں کو پکڑنے والا بناؤں گا
اگر تم میرے پیچھے آؤ گے۔

یہی سب کچھ ہمارے پاس تھا – صرف وہی تھوڑے سے کورس اور وہ اچھے پرانے معیاری حمدوثنا کے گیت۔ حمدوثنا کے گیتوں میں سے ایک جو ہم گاتے تھے وہ ڈاکٹر بی۔بی۔ میکینی Dr. B. B. McKinney کا لکھا ہوا یہ تھا،

خُداوندا، کچھ لوگوں کو میرے دِل میں جگہ دے دے،
   اور اُس جان کو میرے ذریعے سے پیار کر لے؛
اور مجھے اپنا حصہ بہادری سے کر لینے دے
   کہ اُس جان کو تیرے لیے جیت سکوں۔
کچھ لوگ تیرے لیے، کچھ لوگ تیرے لیے،
   یہ میری پُرخلوص فریاد ہے؛
زندگی کی شاہراہ پر میری [آج] مدد فرما،
   کچھ لوگوں کو تیرے لیے جیت سکوں۔
(’’خُداوندا، کچھ لوگوں کو میرے دِل میں جگہ دے دے
   Lord, Lay Some Soul Upon My Heart‘‘ شاعر ڈاکٹر بی۔ بی۔ میکینی
     Dr. B. B. McKinney‏، 1886۔1952؛
       پادری کی طرف سے ترممیم کیا گیا)۔

میرے ساتھ مل کر کورس گائیں!

کچھ لوگ تیرے لیے، کچھ لوگ تیرے لیے،
   یہ میری پُرخلوص فریاد ہے؛
زندگی کی شاہراہ پر میری [آج] مدد فرما،
   کچھ لوگوں کو تیرے لیے جیت سکوں۔

صرف خواتین اب اِس کورس کو گائیں (وہ اِس کو گاتی ہیں)۔ اب ہر کوئی اِس کو گائے (وہ اِس کو گاتے ہیں)۔ آمین اور آمین!

جیسا کہ میں نے کہا، ہمارے پاس کوئی اتنا زیادہ آسرا نہیں تھا۔ وہاں صرف تقریباً ایک تہائی ہم جیسے اتنے ہی ہوں گے جتنے کہ ہمارے پاس یہاں ہمارے گرجہ گھر میں آج رات کو ہیں۔ لیکن ہم یسوع مسیح کے لیے بِک چکے تھے! اور نوجوان لوگوں کو جیتنے کے لیے ہم جی جان کی بازی لگا دیتے تھے! میں جانتا ہوں کہ یہ کچھ تھوڑا سا گھٹیا لگتا ہے، لیکن میں یہ کہنے کا اِس سے بہتر کوئی اور طریقہ سوچ نہیں سکتا ہوں اور اِس کے باوجود قائل کروں کہ ہم کس قدر محنت کرتے تھے۔ میں چھٹیوں میں بائبل سکول میں 15 گھنٹے کام کرنے کے بعد (بغیر مبالغہ آرائی کے) گاڑی چلا کر گھر گیا ہوا ہوں، اِس قدر تھکن سے بھرپور کہ مجھے اپنی گاڑی کے تمام شیشے کھولنے پڑتے تھے تاکہ گاڑی چلاتے ہوئے کہیں سو نہ جاؤں! لیکن کیا آپ جانتے ہیں، وہ شاندار، خوشی سے بھرپور دِن تھے! وہ مجھے اپنی زندگی میں یاد خوشگوار ترین دِنوں میں سے کچھ تھے۔ ہم لوگوں کو تسلی دینے کا کام کر رہے تھے! ہم معنی خیز کام کر رہے تھے، کام جو ابدیت تک انعام پیدا کرتا ہوگا! ... اور پھر وہ عظیم حیات نو آیا! ہزاروں نے ایک کے بعد دوسری رات مسیحیت قبول کی! یہ جلد ہی کیلیفورنیا میں سب سے بڑا چینی بپتسمہ دینے والا گرجہ گھر ہو گیا! لیکن یہ دس سال کی دعاؤں کے بعد اور کسی دوسرے گرجہ گھر کی طرح جسے میں جانتا ہوں اُس سے انتہائی زیادہ محنت کرنے کے بعد ہوا تھا۔ کیا خُدا یہ یہاں کرے گا؟ شاید۔ جی ہاں، بلاشُبہ، بیشک! مسٹر کائیو ڈونگ لی Mr. Kyu Dong Lee جیسے دعائی جنگجوؤں کے ساتھ، خُدا شاید کسی دِن حیات نو کی آگ ہمارے گرجہ گھر میں بھیج دے۔ لیکن چاہے ہو یا نہ ہو وہ کرتا ہے، آئیے ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ کھلیانوں میں ’’فصلیں پک کر کٹنے کے لیے پہلے سے ہی تیار ہیں‘‘ (یوحنا4:‏35)۔ آئیے یسوع کی فرمانبرداری میں رہنا جاری رکھیں اور،

ایک کو خُداوند کےلیے جیتو،
ایک کو خُداوند کے لیے جیتو،
خُداوندا ایسا کرنے کے لیے میری مدد فرما،
ایک کو خُداوند کے لیے جیتو۔

میں تمہیں آدمیوں کو پکڑنے والا بناؤں گا،
آدمیوں کو پکڑنے والا، آدمیوں کو پکڑنے والا۔
میں تمہیں آدمیوں کو پکڑنے والا بناؤں گا۔
اگر تم میرے پیچھے آؤ۔
اگر تم میرے پیچھے آؤ، اگر تم میرے پیچھے آؤ،
میں تمہیں آدمیوں کو پکڑنے والا بناؤں گا
اگر تم میرے پیچھے آؤ۔ آمین!

بیشک، ہمارا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ کوئی ’’گنہگاروں کی دعا‘‘ کہلانے والی دعا کہے۔ یہ اُنہیں گرجہ گھر میں نہیں لاتی ہے۔ میں نے اِس طرح سے بہت کم لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا ہے – بہت کم! تقریباً کوئی بھی نہیں! میرا خیال ہے مجھے تقریباً 25 سال پہلے ایک کو ملنا یاد ہے! یہ اتنا زیادہ فائدہ مند نہیں تھا۔ ہمیں کھوئے ہوئے لوگوں کو اُن کی نگہداشت کرنے کے لیے کافی پیار کرنا ہوگا۔ ہمیں اُنہیں گرجہ گھر میں لانا ہوگا، اور اُمید نہیں کرنی ہوگی کہ وہ خود سے ہی آ جائیں۔ ہمیں اُن لوگوں تک پہنچنا ہوگا جو ہمارے گرجہ گھر میں تشریف لاتے ہیں۔ ہمیں ہر اُس ایک کی جسے خُدا ہمیں دیتا ہے نگہداشت کرنی ہے۔ یہیں پر آپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ منادی آپ کےکرنے کے لیے ہے۔ آج صبح میں مسٹر لی Mr. Lee کی 50ویں سالگرہ کی ویڈیو دیکھ کر بہت خوش ہوا تھا۔ ہم اِس کو چند ایک منٹوں میں دوبارہ چلائیں گے جب ہم اوپر کی منزل میں کھانا کھائیں گے۔ مسٹر لی کی ویڈیو میں ہم نے اُنہیں لمبا پیدل سفر کرنے والے نئے نوجوان لوگوں کو لیتے ہوئے دیکھا۔ وہ ایسا تقریباً ہر اتوار کو کرتے ہیں۔ مسٹرلی، کسی دِن آپ اُن بچوں میں سے کسی ایک کودیکھیں گے، جیسے میں نے ڈاکٹر آن لیم کو اُس دعوت میں دیکھا تھا۔ اُن میں سے ایک جن کی آپ نے دیکھ بھال کی یہاں پر ہوگا جب میں جا چکا ہوں گا اور آپ سفید بالوں کے ساتھ ایک بوڑھے آدمی ہوں گے۔ اور یہ آپ کے دِل میں سنسی پیدا کر دے گا جسے دُنیا میں کوئی اور چیز نہیں کر سکتی!

میں مسٹر جیک نین Mr. Jack Ngann کو، گذشتہ جمعہ کو، نئے نوجوان لوگوں کے ایک گروہ کو لیتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوا تھا – تقریباً وہ پچیس تھے، اور اِس بات کی یقین دہانی کر رہے تھے اُن کا اچھا وقت گزرے۔ شاباش جیک! شاباش سے بھی بہت زیادہ اچھا! اُن کی بیوی کے ہاں کسی بھی روز بچہ ہونے والا ہے۔ وہ کیا کر رہے ہیں – گھرمیں گُھس کر بیٹھیں ہیں؟ اوہ، جی نہیں! جیک اور شیلا یہاں اِس گرجہ گھر میں صرف ہر دعائیہ عبادت ہی میں نہیں ہوتے – بلکہ وہ اِس سے بھی کہیں زیادہ کچھ اور بھی کر رہے ہیں – نئے آنے والوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، اور یہاں گرجہ گھر میں اُنہیں گھر جیسا ماحول محسوس کرا رہے ہیں۔ میرے پرانے چینی پادری ڈاکٹر لِن کہا کرتے تھے، ’’آپ کو گرجہ گھر اُن کے لیے دوسرا گھر بنانا ہوتا ہے۔‘‘ اِس میں حکمت ہے، کسی امریکی پادری سے میرے سُننے کے مقابلے میں کہیں زیادہ حکمت! ’’آپ کو گرجہ گھر اُن کا دوسرا گھر بنانا ہوتا ہے۔‘‘

مسٹرلی اور جیک اور شیلا نین کی مثالوں کی پیروی کریں! ایسا کریں! ایسا کریں! نئے مہمانوں کے فون نمبر لیں۔ اُنہیں فون کریں۔ ایس ایم ایس کے ذریعے بات چیت کریں۔ اُن سے گرجہ گھر میں بات چیت کریں۔ اُن کے ساتھ بیٹھیں۔ اُس کی مدد کریں، جیسے کبھی کسی نے آپ کی مدد کی تھی! ’’آج ہم فصل کاٹیں گے!‘‘ ڈاکٹر رائس کا گیت دوبارہ گائیں۔ صرف کورس۔

آج ہم کاٹیں گے، نہیں تو اپنی سُنہری فصل کو کھو دیں گے!
   آج ہمیں کھوئے ہوئے بشروں کو جیتنے کے لیے موقع دیا گیا ہے۔
ہائے پھر کچھ پیاروں کو جلائے جانے سے بچانے کے لیے،
   آج ہم جائیں گے کچھ گنہگاروں کو اندر لانے کے لیے۔

میں یہ کہانی پہلے بھی سُنا چکا ہوں، لیکن اِسے دوبارہ دھرانا فائدمند ہے۔ شیکاگو، اُنیسویں صدی، ماضی میں، ایک نوجوان لڑکا تھا جو کئی میلوں کا پیدل سفر کر کے اوپر لاسال سٹریٹ سے ہر اتوار کو موڈی کے گرجہ گھر کے لیے آتا تھا۔ ہر اتوار کی صبح ایک بڑے گرجہ گھر کا بزرگ لڑکے کو ہاتھوں میں بائبل لیے وہاں سے گزرتے ہوئے دیکھا کرتا تھا۔ ایک صبح بزرگ نے لڑکے سے پوچھا وہ کہاں جا رہا تھا۔ نوجوان نے کہا وہ اوپر مسٹر موڈی کے گرجہ گھر میں جا رہا تھا۔ اُس بزرگ نے کہا، ’’یہ تو بہت لمبا پیدل سفر ہے۔ تم کیوں نہیں یہاں گرجہ کرنے کے لیے آ جاتے؟‘‘ اُس لڑکے نے کہا، ’’جی نہیں، آپ کا شکریہ۔ میں مسٹر موڈی کے گرجہ گھر کے لیے جا رہا ہوں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہاں ایک ساتھی سے کیسے پیار کرنا ہے۔‘‘

یہی ہے جو ہمارے گرجہ گھر میں کھوئے ہوئے لوگوں کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہیں سوچنے کی ضرورت ہے، ’’وہ جانتے ہیں کہ کیسے ایک ساتھی سے پیار کیا جاتا ہے۔‘‘ آئیے ہم نئے نوجوان لوگوں کو اِس قسم کا اپنے گرجہ گھر میں پیار محسوس کرنے کے لیے اِس قدر سخت محنت کریں جس قدر ممکن ہو سکتا ہے! اُس کورس کو دوبارہ گائیں!

آج ہم کاٹیں گے، نہیں تو اپنی سُنہری فصل کو کھو دیں گے!
   آج ہمیں کھوئے ہوئے بشروں کو جیتنے کے لیے موقع دیا گیا ہے۔
ہائے پھر کچھ پیاروں کو جلائے جانے سے بچانے کے لیے،
   آج ہم جائیں گے کچھ گنہگاروں کو اندر لانے کے لیے۔

آمین۔ لیکن یہاں اُن کے لیے جو کھوئے ہوئے ہیں کچھ اور بھی ہے۔ جی ہاں، اِس قسم کے پُرجوش گرجہ گھر میں ہونا ایک عظیم بات ہے۔ لیکن اِس سے بھی زیادہ اہم خود یسوع مسیح کو جاننا ہے۔ وہ آپ کی جگہ پر، آپ کے گناہ کا مکمل کفارہ ادا کرنے کے لیے، صلیب پر مرا۔ اور اُس نے اپنا قیمتی خون آپ کوتمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے بہایا۔ وہ اب اوپر آسمان میں زندہ ہے اور آپ کے لیے دعا مانگ رہا ہے۔ میں آپ سے اپنے گناہ سے منہ موڑنے کے لیے اور خود کو مسیح کے رحم پر چھوڑ دینے کے لیے پوچھ رہا ہوں۔ اُس پربھروسہ کریں اور وہ آپکو نجات دے گا، آپ کے گناہوں کو معاف کرے گا، اپنے خون کے ساتھ آپ کے گناہوں کو پاک صاف کرے گا، اور آپ کو دائمی زندگی عطا کرے گا! اگر آپ مسیحی بننے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات کرنا پسند کریں، تو میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنی نشست چھوڑیں اور ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پرسکون مقام پر لے جائیں گے جہاں ہم آپ کے سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں اور آپ کے لیے دعا کر سکتے ہیں۔ بالکل ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب جائیں جبکہ ہم گیتوں کے ورق میں سے حمدوثنا کا گیت نمبر 7 گاتے ہیں۔

کس قدر واضح طور پر اُس کے تمام تشدد سے پُر زخم یسوع کے اُس پیار کو ظاہر کرتے ہیں۔
   وہ زخم جن میں سے خون کی سُرخی مائل بنتی ہوئی کفارے کی دھاریں بہتی ہیں،
خون کی کفارے کی دھاریں بہتی ہیں۔

کس طرح کانٹے دار خون کے دھبوں سے بھرا تاج مسیح کے خوبصورت سر میں گھونپا گیا!
   کس طرح وہ کیل جنہوں نے اُن ہاتھوں اور پیروں کو بے رحمانہ تشّدد کے ساتھ چھیدا ٹھونکے گئے!
بے رحمانہ تشّدد کے ساتھ ٹھونکے گئے!

وہ اپنا سر جھکاتا ہے، اور آخر کار اُس کی پیاری روح پرواز کر جاتی ہے
   اورجب وہ اپنے تخت پر جی اُٹھتا ہے تو ہمارے لیے وہ اپنی دعائیں اُنڈیلتا ہے،
ہمارے لیے اپنی دعائیں اُنڈیلتا ہے۔

اوہ، اے تمام جن میں گناہ کے موذی دھبے پکے ہو چکے ہیں؛
   آؤ، اُس کے تمام نجات دلانے والے خون میں دھو لیں، اور تم پاک صاف ہو جاؤ گے،
اور تم پاک صاف ہو جاؤ گے۔
   (’’یسوع زخمی Jesus Wounded‘‘ شاعر ایڈورڈ کیسویل Edward Caswell، 1849؛
        بطرز شاہانہ مٹھاس تخت پر بیٹھتی ہے
         Majestic Sweetness Sits Enthroned‘‘)۔

ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری اُن کے لیے رہنمائی فرمائیں جنہوں نے ردعمل کا اظہار کیا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: لوقا 10:‏1۔3 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
“So Little Time” (by Dr. John R. Rice, 1895-1980).
’’اِس قدر کم وقت So Little Time‘‘ (شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائسDr. John R. Rice ‏، 1895۔1980)۔