Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسیح کے خون کے وسیلے سے مخلصی

!WASHED IN CHRIST’S BLOOD
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
23 جون، 2013، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, June 23, 2013

’’جو ہم سے محبّت رکھتا ہے اور جس نے اپنے خُون کے وسیلہ سے ہمیں ہمارے سارے گناہوں سے مخلصی بخشی‘‘ (مکاشفہ 1:‏5).

آیت کا پہلا آدھا حصہ یوحنا رسول کا اسقبالیہ ہے، جس میں وہ یسوع مسیح سے سات کلیسیاؤں میں فضل اور امن پانے کے لیے ’’جو سچا [وفادار] گواہ ہے، اور مردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹھا اور دُنیا کے بادشاہوں پر حاکم ہے‘‘ اپنے سعامین کے لیے دعا کرتا ہے۔ مسیح کے بارے میں اپنا یہ بیان دینے کے بعد، یوحنا نے کہا،

‘‘جو ہم سے محبّت رکھتا ہے اور جس نے اپنے خُون کے وسیلہ سے ہمیں ہمارے سارے گناہوں سے مخلصی بخشی‘‘ (مکاشفہ 1:‏5).

تلاوت کہتی ہے مسیح نے ’’ہم سے پیار کیا، اور خود اپنے خون کے وسیلے سے ’’ہمیں گناہوں سے مخلصی بخشی۔‘‘ علمیت کے نام پرتلاوتوں سے متعلق جدید تنقید نگاروں نے ’’گناہوں سے مخلصی بخشنے‘‘ کو ’’آزاد کر دیا‘‘ سے تبدیل کر دیا۔ اُنہوں نے یہ نیسل ایلنڈ یونانی نئے عہدنامےNestle-Aland Greek New Testament میں Gnostic-tainted Sinaiticus متن میں ایک یونانی لفظ میں تبدیلی کی بنیاد پر کیا تھا۔ لیکن ’’آزاد کردیا‘‘ غیرمعیاری اسکندریائی متن Alexandrian Text سے ہے، آلودہ جیسا کہ یہ گنوستیسزم Gnosticism کے ساتھ ہے۔ گنوسٹک لوگ کسی کے بھی خون سے ’’گناہوں سے مخلصی بخشوانے‘‘ پر ہکا بکا رہ جاتے ہونگے! اِس لیے گنوسٹیزئسڈ اسکندریائی لوگوں نے– اِس کو’’گناہوں سے مخلصی بخشنے‘‘ کے بجائے ’’آزاد کر دیا‘‘ بنانے کے لیے ایک یونانی لفظ ملا دیا۔

ڈاکٹر چارلس جان ایلیکاٹ Dr. Charles John Ellicott (1829۔1903) ایک اینگلیکن عالم تھے،جو کیمرج میں نئے عہد نامے کے پروفیسر تھے، اور اُن عالمین کی کیمٹی کے چئیرمین تھے جنہوں نے نئے عہد نامے کی نظر ثانی کیے ہوئے نسخے کا ترجمہ کیا۔ ڈاکٹر ایلیکاٹ تمام بائبل پر ایلیکاٹ کے تبصرے Ellicott’s Commentary on the Whole Bible (ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House) کے ایڈیٹر تھے۔ ہماری تلاوت کے بارے میں ایلیکاٹ کا تبصرہ کہتا ہے،

کچھ ایم ایس ایس MSS ’’ہمیں گناہوں سے مخلصی بخشی‘‘ پڑھنے کے بجائے ’’ہمیں آزاد کیا‘‘ پڑھتے ہیں۔ یونانی میں اِن دو لفظوں میں صرف ایک حرف کا فرق ہے۔ سوچ کی عام ڈگر سچی تلاوت کے طور پر ہماری رہنمائی ’’گناہوں سے مخلصی بخشنے‘‘ کو ترجیح دیتی ہے۔ ایک سنجیدہ موقع پر جس کو یوحنا نے واضح طور پر یاد رکھا، ہمارے خداوند نے کہا، ’’اگر میں تجھے نہ دھوؤں تو تُو میرا شاگرد ہرگز نہیں رہ سکتا۔‘‘ ’گناہوں سے مخلصی بخشنے کے خون‘‘ کا خیال شدت بڑھا دیتا ہے، اُس خون اور پانی کی یادآوری کے وسیلے سے جو اُس نے مسیح کے چھیدے ہوئے پہلو سے بہتا ہوا دیکھا تھا [یوحنا19:‏34]، اکثر بار بار اُس کی ذہن میں آتا تھا، مکاشفہ7:‏13، 14؛ 1۔یوحنا1:‏7؛ 5:‏5۔8 (چارلس جان ایلیکاٹ، ایم۔اے۔، ڈی۔ڈی۔ Charles John Ellicott, M.A., D.D.، تمام بائبل پر ایلیکاٹ کا تبصرہ Ellicott’s Commentary on the Whole Bible، ژونڈران اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، n.d.، جلد ہشتم، صفحہ535؛ مکاشفہ1:‏5 پرغور طلب ایک بات)۔

اِس کے علاوہ ہمیں مکاشفہ 7:‏14 میں بتایا گیا ہے،

‘‘یہ وہ لوگ ہیں جو بڑی مصیبت سے نکل کر آئے ہیں، انہوں نے اپنے جامے برّہ کے خون میں دھو کر سفید کر دیئے ہیں’’ (مکاشفہ 7:‏14).

اُس آیت میں ہمیں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ وہ جو آسمان میں ہیں اُن کے پاس لبادے ہیں جو کہ ’’دھو دیے گئے‘‘ ہیں، اور ’’بّرہ کے خون میں دھو کر سفید کر دیئے‘‘ گئے ہیں۔ چونکہ مکاشفہ7:‏14 کا وہ واضح مطلب ہے، اِس لیے یہ ہماری تلاوت میں ’’گناہوں سے مخلصی بخشنے‘‘ کے اُس استعمال کی وضاحت کرتا ہے:‏

‘‘جو ہم سے محبّت رکھتا ہے اور جس نے اپنے خُون کے وسیلہ سے ہمیں ہمارے سارے گناہوں سے مخلصی بخشی‘‘ (مکاشفہ 1:‏5)

.

ڈاکٹر جان ایف۔ والوورد نے واضح کیا کہ یونانی لفظ “luō” (loosed) کے مقابلے میں “louō” (washed) میں ایک مذید اور لفظ ہے۔ ڈاکٹر ولوورد نے کہا کہ ایلیکاٹ جیسے عالم لمبے لفظ (Washed) کو ترجیح دینا پسند کرتے ہیں کیونکہ ’’نقل کرنے والوں کے لیے ایک لفظ بڑھانے کے مقابلے میں ایک لفظ نکالنا آسان ہے‘‘ (جان ایف۔ والوورد، ٹی ایچ۔ ڈی۔، John F. Walvoord, Th.D.، یسوع مسیح کا مکاشفہ The Revelation of Jesus Christ، موڈی پریس Moody Press، 1966، تنقیدی حاشیہ 1، صفحہ38)۔ یہ کنگ جیمس ترجمے کی حمایت میں ایک مضبوط دلیل ہے۔

لوتھرکے ’’کلام مقدس کی مشہابت‘‘ کی تنقیدی تاویلوں کے فرمان اب بھی سچ کو تھامتے ہیں – کلام مقدس کا ایک حصہ دوسرے کو منور کرتا ہے، جو کہ اُسی موضوع کی بات کرتا ہے – اور خاص طور پر ایک ہی کتاب میں! اِس لیے ہم اپنی نظروں کو جھکاتے ہیں اور اپنے رُخ جدید کاتبوں کی جانب سے موڑ لیتے ہیں جنہوں نے ہم سے وہ ترجمہ کیا ہوا مقدس، متاثر کر دینے والا لفظ ’’گناہوں سے مخلصی بخشنا washed‘‘ چھیننے کی کوشش کی ہے۔ خُدا کا شکر ہے کہ ہر سچا مسیحی مسیح میں ’’جلال‘‘ ہو زور زور سے پکار سکتا ہے، ’’جس نے ہم سے محبت رکھی اور جس نے اپنے خون کے وسیلے سے ہمیں ہمارے سارے گناہوں سے مخلصی بخشی‘‘!

اب یہاں ایک وجہ ہے کہ میں کیوں اس موضوع پراِس قدر محنت کر رہا ہوں۔ آپ کے لیے یہ انتہائی شدید اہم ہے کہ آپ اپنے ’’گناہوں سے مخلصی‘‘ پائیں، اور ناکہ صرف اُن سے ’’آزاد کیے‘‘ جائیں۔ آپ خُدا کی حضوری میں روبرو ہونے جا رہے ہیں۔ اگر آپ خُدا سے عدالت میں اپنے ریکارڈ میں گناہ درج کیے ہوئے ملتے ہیں، تو آپ واقعی بہت بڑی مشکل میں پڑنے جا رہے ہیں! آپ کاخُدا کی آخری عدالت میں بلکل صاف ستھرا ریکارڈ ہونا چاہیے ورنہ خُدا آپ کوجہنم کے دائمی شعلوں کے لیے سزا وار قرار دے گا (مکاشفہ20:‏11۔15)۔ جب خُدا آپ کے ریکارڈ پر نظر ڈالتا ہے تو بہتر ہے کہ اُس کو وہاں پر کسی گناہ کا اندراج نہ ملے۔ روزِحشر میں یہ کافی نہیں ہوگا کہ آپ کے گناہ ’’آزاد کر دیے‘‘ گئے تھے۔ اوہ، جی نہیں! آپ کے لیے جہنم کے دائمی شعلوں سے بچنے کے لیے آپ کوبرّے کے خون میں سفید دُھلنا [اور کیا جانا] چاہیے‘‘ (مکاشفہ7:‏14)۔ ہمیں مکاشفہ7 میں بتایا گیا ہے کہ وہ جو آسمان میں ہیں ’’اُنہوں نے اپنے لبادے برّے کے خون میں دھو کر سفید کر لیے ہیں‘‘ (مکاشفہ7:‏14)۔ اِس آیت کے ذریعے سے ہم جانتے ہیں کہ ہم سب کو مسیح کے خون میں اپنے گناہ بخشوا لینے چاہیے اگر آسمان میں محفوظ ہونے کے لیے اور جہنم سے فرار کے لیے اُمید کرتے ہیں۔ اِسی لیے میں نے اِس موضوع پر اِس قدر شدید زور دیا ہے۔ آپ کو مسیح کے خون میں ضرور گناہ بخشوا لینے چاھئیں ورنہ آپ ہمیشہ کے لیے جہنم میں چلے جائیں گے۔ یہ آزاد خیال اور نئے انجیلی بشارت کے ’’بابئل کے اُستاد‘‘ شاید سوچ سکتے ہیں کہ ’’گناہوں سے مخلصی پانا‘‘ کے بجائے ’’گناہ سے آزاد کیا‘‘ کہنا ٹھیک ہے۔ لیکن میرا کام آپ جیسے گنہگاروں کو منادی کرنا ہے۔ آپ کے ریکارڈ میں گناہ درج ہیں! اُنہیں دُھل کر پاک صاف ہونا چاہیے ورنہ خُدا آپ کو جہنم میں بھیج دے گا۔ کیا آپ کے گناہ کو دھو سکتا ہے؟ کچھ بھی نہیں ماسوائے یسوع کے خون کے!

‘‘جو ہم سے محبّت رکھتا ہے اور جس نے اپنے خُون کے وسیلہ سے ہمیں ہمارے سارے گناہوں سے مخلصی بخشی‘‘ (مکاشفہ 1:‏5).

مجھے آپ کو بالکل نہیں اور ابھی بتا دینا چاہیے، کہ مسیح کا خون انتہائی اہم ہے! آپ نے کہاں ابدی زندگی گزارنی ہے اِس کا انحصار مسیح کے خون پرہوتا ہے! آیا آپ ایک کامیاب مسیحی زندگی گزارتے ہیں اِس کا انحصار مسیح کے خون پرہوتا ہے۔ خون پر یہاں کچھ اہم نکات پیش کیے گئے ہیں۔

I۔ اوّل، خون کی قربانی وقت کی بالکل آغاز سے شروع ہوتی ہے۔

دُنیا میں تمام قدیم لوگ خون کی قربانی میں یقین کرتے تھے۔ دُنیا میں کسی قدیم تہذیب کو جہاں خون کی قربانی نہیں دی جاتی تھی تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔ مثال کے طور پر، قدیم میکسیکو کے ایزٹک Aztec انڈین لوگوں نے اپنے جھوٹے خُداؤں اور بتوں کو خوش کرنے کے لیے 20,000 سے زائد انسانوں کو اپنے کافرانہ الطاروں پر ذبح کیا۔ مایائی لوگوں Mayans نے بھی ایسا ہی کیا۔ قدیم زمانے میں بحر اوقیانوس کے تمام جزائر کے قبیلے خون کی قربانی گزرانا کرتے تھے۔ لگ بھگ افریقہ کے ہر قبیلے نے ایسا ہی کیا۔ قدیم چینی، مسیح سے تقریباً 2,000 سال پہلے، اپنے شینگ ٹی Shang Ti نامی توحیدی خُدا کے لیے خون کی قربانی گزرانا کرتے تھے۔ زمانوں کے شروع میں، تاریخ کی علی الصبح، چینی ایک خُدا اور خون کی قربانی کے بارے میں جانتے تھے! میں جمعرات کی شب کو پڑھ رہا تھا کہ کیسے انتہائی قدیمی لوگوں نے خُدا اور اُس کو پیش کی جانے والی خون کی قربانی کے بارے کچھوؤں کے خولوں اور ہڈیوں کے ٹکڑوں پر لکھا، جنہیں حال ہی میں کھود کر تلاش کیا گیا تھا۔ یہ تاریخی مصنوعات ماضی میں چار ہزار سال سے زائد پرانے ہیں۔ یہ تصور کہاں سے آیا تھا؟ یہ ایک نسل سے دوسری نسل کو آدم اور اُسکی نسل کی پہلی قربانی سے سینہ بہ سینہ سیکھایا جاتا رہا تھا۔

موسیٰ نے پیدائش کی کتاب تاریخ کے آغاز کے قریب لکھی تھی۔ اُس نے اِس حقیقت کا ریکارڈ لکھا تھا کہ ہمارے پہلے والدین نے جب گناہ کیا تو اُنہیں ڈھانپنے کے لیے جانوروں کو ذبح کیا جانا ضروری تھا۔ اُن کے بیٹے ھابل نے خون کی قربانی گزرانی تھی جس نے خُدا کو خوش کیا تھا۔ اُس کے بھائی کائین نے سبزیوں کی قربانی پیش کی تھی جس کو قبول نہیں کیا گیا تھا۔ نوح نے خُدا کے لیے خون کی قربانی گزرانی تھی۔ ایسا ہی ابراھام نے کیا۔ یہ تمام کی تمام قربانیاں یہودی لوگوں کو خُدا کے لیے قربانیاں گزراننے کے لیے بتائے جانے سے بہت پہلے گزرانی جاتی تھیں۔ جب وہ مصر میں غلام تھے تو خُدا نے اُنہیں بروں کی قربانی کے لیے بتایا تھا اور اُن کا خون دروازوں کی چوکھٹوں پر لیپنے کے لیے کہا تھا۔ خُدا نے وہ تب کہا جب اُس نے دیکھا کہ وہ خون اُن پر سے گزرانے گا، اور اُن کے گناہ کے لیے اُن کا عدل نہیں کرے گا۔ اِس کے بارے میں ہمارے پاس ایک گیت ہے،

جب میں خون دیکھتا ہوں، جب میں خون دیکھتا ہوں،
   جب میں خون دیکھتا ہوں، میں تمہیں گزر جاؤں گا،
میں تمہیں بخشتا جاؤں گا۔
   (’’جب میں خون دیکھتا ہوں When I See the Blood‘‘ شاعر جان فوٹے
     John Foote، انیسویں صدی)۔

یہی تھا جو خُدا نے یہودیوں سے پہلی فسح پر مصر میں غلامی میں کہا تھا۔ اُس رات خُدا نے یہودیوں سے کہا تھا،

‘‘میں اس خون کو دیکھ کر تمہیں چھوڑتا جاؤں گا، اور جب میں مصریوں کو ماروں گا، تو اُس وقت کوئی بھی مہلِک وبا تمہارے قریب نہیں آئے گی‘‘ (خروج 12:‏13).

آج کے دِن تک یہودی لوگوں نے علامتی طور پر فسح کی خونی قربانی کو منانا جاری رکھا ہوا ہے۔ اُس کے مصلوب ہونے سے ایک رات پہلے، مسیح نے فسح کے معنی بدل دیے تھے جب اُس نے اِس کو اشیائے ربانی میں تبدیل کر دیا تھا۔ کچھ کلیسیائیں اِس کو مقدس اشتراکت کہتی ہیں۔ کیتھولک اور مشرقی تقلید پسند Orthodox اِس کو کلیسیائی عبادت Mass کہتے ہیں۔ لیکن ہر تثلیثی کلیسیا یہ کرتی ہے۔ پھر وہ یہ الفاظ یاد کرتے ہیں جو مسٹر پرودھومی Mr. Prudhomme نے اِس عبادت میں شروع میں پڑھے تھے،

’’اور جب وہ کھانا کھا رہے تھے یسُوع نے روٹی لی اور برکت دے کر اُس کے ٹکڑے کیے اور شاگردوں کو دے کر کہا: لو اور کھاؤ۔ یہ میرا بدن ہے۔ پھر اُس نے پیالہ لیا اور خدا کا شکر ادا کیا اور اُنہیں دے کر کہا اِس میں سے لے کر پیو کیونکہ یہ نئے عہد کا میرا وہ خون ہے جو بہتیروں کے گناہ کی معافی کے لیے بہایا جاتا ہے‘‘ (متی 26:‏26۔ 28).

آپ نے دیکھا، کافروں کے خون کی تمام قربانیاں خُدا کے لیے انسان کی قربانی کی ضرورت کی مدھم سی یاداشت سے آتی ہے۔ اور پرانے عہد نامے کا فسح آگے کی جانب مسیحا، مسیح کو جو قربانی صلیب پر دینی ہوگی اُس کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اور آج اشیائے ربانی ماضی میں مسیح نے ہمیں بچانے کے لیے صلیب پر جو کچھ کیا اُس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مسیح کی صلیب پر موت، اور وہاں پر اُس کے خُون کا بہایا جانا، دُنیا کی کُل تاریخ میں مرکزی مذہبی واقعہ ہے!

’’جو ہم سے محبّت رکھتا ہے اور جس نے اپنے خُون کے وسیلہ سے ہمیں ہمارے سارے گناہوں سے مخلصی بخشی‘‘ (مکاشفہ 1:‏5).

میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں کہ بالکل دُرست طور پر کیوں صلیب پر مسیح کا خونی کفارہ اِس قدر اہم ہے۔ لیکن پہلے مجھے ایک اور موضوع کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔

II۔ دوئم، مسیح کے خون سے شیطان انتہائی شدید نفرت کرتا ہے۔

مکاشفہ کی کتاب میں ہم پڑھتے ہیں،

’’کیونکہ ہمارے بھائیوں پر تہمت لگانے والا [شیطان]، جو دن رات خدا کے حضور اُن پر تہمت لگاتا رہتا ہے نیچے پھینک دیا گیا ہے۔ وہ برّہ کے خون کی بدولت اُس پر غالب آئے…‘‘ (مکاشفہ 12:‏10۔11).

شیطان جانتا ہے کہ واحد طریقہ جس سے کوئی اُس پر فتح پا سکتا ہے برّے کے خون کے وسیلے سے ہے – یعنی کہ، خُدا کے برّے، مسیح کا خون۔ بائبل کہتی ہے کہ شیطان ایک قاتل ہے۔ وہ ہر کسی کو جسے وہ کر سکتا ہے تباہ کرنا چاہتا ہے۔ اور اِسی لیے وہ انتہائی شدت کے ساتھ مسیح کے خون سے نفرت کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص کے پاس مسیح کا خون آ گیا، تو اُس کو شکست ہوتی ہے۔ گنہگار مسیح کے خون کے وسیلے سے شیطان پر فتح پاتا ہے۔ شیطان نہیں چاہتا ہے کہ ایسا رونما ہو۔ اِس لیے وہ ہر وہ کچھ کرتا ہے جو وہ مسیح کے خون کی رسوائی اور اہمیت کو کم کرنے کے لیے کر سکتا ہے۔

اُنیسویں صدی کے آخری حصے میں اور بیسویں صدی کے شروع کے حصے میں شیطان نے بہت سے ابھرتے ہوئے علم الہٰیات کے آزاد خیال لوگوں کو مسیح کے خون پر حملہ کرنے کے لیے تحریک دی، ڈاکٹر ھیری ایمرسن فوسڈک Dr. Harry Emerson Fosdick اور ڈاکٹر نیلز فرے Dr. Nels Ferre جیسے لوگ۔ ڈاکٹر فرے نے کہا، ’’مسیح کے خون میں مُرغی کے خون سے زیادہ طاقت نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر فوسڈک نے خون کے کفارے کو ’’ایک ذبح خانے کا مذہب‘‘ کہا۔ اِن جیسے لوگوں نے مسیح کے خون کے خلاف جنگلی طریقوں سے بات کی – چونکہ ایسا کرنے کے لیے وہ شیطان کے ذریعے سے متاثر کیے گئے تھے۔

لیکن بیسویں صدی کے بعد کے حصے شروع میں، شیطان نے مسیح کے خون پر ایک دوسرے طریقے سے حملہ کرنا شروع کر دیا۔ اُس نے قدامت پسند انجیلی بشارت کے لوگوں کو مسیح کے خون کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے قائل کیا۔ ڈاکٹر جے۔ ورنن میکجی Dr. J. Vernon McGee نے، جو امریکہ کے بہت پیارے اور ریڈیو پر سُنے جانے والے بائبل کے اُستاد ہیں، اُنہوں نے اِس شیطانی رُجحان کو محسوس کر لیا تھا۔ ہماری تلاوت میں مکاشفہ1:‏5 میں اپنی غور طلب بات میں اُنہوں نے کہا،

میںمسیح کے خون کی بے قدری کا رُجحان نہیں رکھتا ہوں جیسے کہ آج کچھ لوگ کر رہے ہیں۔ میں اب بھی وہ گیت پسند کرتا ہوں جس کے الفاظ یہ ہیں،

وہاں خون سے بھرا ایک چشمہ ہے
   عمانوئیل کی رگوں سے کھینچا گیا:
اور گنہگار، اُس سیلاب کے نیچے ڈبکی لگاتے ہیں،
   اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں؛

(جے۔ ورنن میکجی، ٹی ایچ۔ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل کے ذریعے سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلشرز Thomas Nelson Publishers، 1983، جلد پنجم، صفحات 890، 891؛ مکاشفہ1:‏5۔6 پر غور طلب بات)۔

یہ واضح ہے کہ ڈاکٹر میکجی اُن لوگوں کے لیے حوالہ دے رہے ہیں جو مسیح کے خون کی بے قدری کرتے ہیں، جیسے آر۔ بی۔ تھائیم R. B. Thieme، جان میک آرتھرJohn MacArthur، اور یہاں تک کہ چارلس سی رائیری Charles C. Ryrie، جس نے کائین کے نزرانے کے بارے میں کہا، ’’ایک بغیر خون کے نزرانہ کُلی طور پر جائز تھا‘‘ (چارلس سی۔ رائری، ٹی ایچ۔ ڈی۔ Charles C. Ryrie, Th. D.، رائری کا مطالعۂ بائبل The Ryrie Study Bible، ، موڈی اشاعت خانہMoody Press ، 1978؛ پیدائش4:‏3 پر غور طلب بات)۔ میں بہت مشکلوں سے اپنی آنکھوں پر یقین کر سکا جب میں نے ڈاکٹر رائری کی جانب سے وہ غور طلب بات پڑھی۔ میں نے اِس کو اتنا ہی عجیب پایا کہ وارن ویئرسبی Warren Wiersbe نے رائری کو وہ کہنے پر ’’مبارک باد‘‘ پیش کی! (وارن ڈبلیو۔ ویئرسبی Warren W. Wiersbe، 50 لوگ جنہیں ہر مسیحی کو جاننا چاہیے 50 People Every Christian Should Know، بیکر بُکس Baker Books، 2009، صفحہ 207)۔ یہ تمام مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے آزاد خیالی کی ایک اور بدگمانی کو پروان چڑھایا جا رہا ہو۔ ہمیں آزاد خیال عالمین کے دور کی منظوری کے لیے دیکھنے کو روکنے کی ضرورت ہے!

اِن لوگوں کو نجات دہندہ کے خون کی حیرت انگیز اہمیت کا احساس ہوتا ہوا ظاہر نہیں ہوتا ہے! بہت سوں نے اُن کی پیروی کی ہے، اور مذید اُس خون کو اپنی منادی میں عزت نہیں بخشی۔ میرے لیے یہ ایک سنجیدہ آخری دور کا دھوکہ ہے۔ ہم اِس کے نرغے میں نہیں آئیں گے اگر ہم اپنے ذہنوں میں یاد رکھیں کہ شیطان مسیح کے خون سے نفرت کرتا ہے، اور کہ وہ ایک جھوٹا اور دھوکے باز ہے! آمین۔ تمام پادریوں کو اکثر مسیح کے قیمتی خون پر منادی دینے کی ضرورت ہے! آخر کو، یہی تو ہے جس کو بائبل یہ کہتی ہے،

’’... مسیح کا قیمتی خون‘‘ (1۔ پطرس 1:‏19).

III۔ سوئم، مسیح کا خون ہمیں گناہوں سے مخلصی بخشتا ہے۔

1 پطرس میں تمام حوالہ کہتا ہے،

’’کیونکہ جتنا کہ تُم جانتے ہوکہ تم نے اُس نکمّے چال چلن سے خلاصی پائی ہے جو تمہیں تمہارے باپ دادا سے ملا تھا۔ لیکن یہ مخلصی تم نے سونے یا چاندی ایسی فانی چیزوں کے ذریعہ سے نہیں بلکہ ایک بے عیب اور بے داغ برّے یعنی مسیح کے خُون سے پائی ہے‘‘ (1۔ پطرس 1:‏18۔19).

تم سونے کے ساتھ گناہوں سے مخلصی نہیں پاتے ہو۔ خُدا تمہیں چاندی کے ذریعے سے نہیں بچاتا ہے۔ خُدا تمہیں تم گرجہ گھر میں کتنا چندہ دیتے ہو اِس سے نہیں بچاتا ہے۔ ہم ’’مسیح کے قیمتی خون کے ساتھ‘‘ گناہوں سے مخلصی پاتے ہیں۔

گناہوں سے نجات پانے کا مطلب کسی کو غلامی میں سے خریدنا ہوتا ہے۔ یسوع نے کہا کہ وہ ’’بہتوں کے لیے اپنی جان فدیہ میں دینے‘‘ کے لیے آیا (متی20:‏28)۔ اُس کو اِس کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ دُنیا میں اُس وقت دو تہائی لوگ غلام تھے۔ وہاں ہر نسل کے غلام تھے، قدیم برطانیہ سے، ہسپانیہ سے، افریقہ سے – ہرجگہ سے۔ دُنیا میں ہر تہذیبی گروہ کبھی نہ کبھی غلامی میں رہا ہے۔ جیسا کہ ایک لمحہ پہلے میں نے کہا، یہودی لوگ مصر میں 400 سالوں تک غلامی میں تھے۔

پطرس رسول نے کہا مسیح خود اپنے خون سے آپ کو غلامی میں سے واپس خریدتا ہے۔ وہ آپ کو کس سے واپس خریدتا ہے؟ غلامی سے لیکر گناہ تک سے۔ لاس اینجلز میں کڑوروں لوگ گناہ کے غلام ہیں۔ وہ سگریٹ نوشی کی لت لگائے بیٹھے ہیں – اور ترک نہیں کرتے ہیں۔ وہ فحش فلمیں دیکھنے کی لت لگائے بیٹھے ہیں، اور اِسے دیکھنے سے رُکتے نہیں ہیں۔ آپ اُس گناہ کے غلام ہیں! لیکن بائبل کہتی ہے کہ مسیح آپ کو آزادی دلا سکتا ہے۔ وہ آپ کو خود آپ کے اپنے بےاعتمادی کرنے والے باغی دِل کے گناہ سے نجات دلا سکتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ سب سے مشکل بات ہے۔ مسیح آپ کو خود آپ کے اپنے بدکار دِل کی بے اعتمادی سے نجات دِلا سکتا ہے! یہاں اِس سے کہیں اور زیادہ میں بتا سکتا ہوں لیکن میرا پاس وقت کی قلت ہے! آپ کی ساری کی ساری نجات مسیح کے خون پر انحصار کرتی ہے! مسیح کا خون آپ کو تمام گناہ سے نجات دِلا سکتا ہے! ولیم کاؤپر کو سُنیں،

جب سے ایمان کے وسیلے سے، میں نے چشمہ دیکھا
   جو تیرے بہتے ہوئے زخم مہیا کرتے ہیں،
نجات بخشنے والا پیار میرا مرکزی موضوع رہا ہے،
   اور رہے گا جب تک میں مر نہیں جاتا۔

وہاں خون سے بھرا ایک چشمہ ہے
   [نجات دہندہ] کی رگوں سے کھینچا گیا،
اور گنہگار، اُس سیلاب کے نیچے ڈبکی لگاتے ہیں،
   اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں۔
(’’وہاں ایک چشمہ ہےThere Is a Fountain ‘‘ شاعر ولیم کاؤپر
William Cowper،‏ 1731۔1800؛ ’’حیرت انگیز فضل Amazing Grace‘‘ کی طرز پر بنایا ہوا)۔

اور فینی کراسبی Fanny Crosby نے کہا،

نجات پائی، نجات پائی،
   برّے کے خون کے وسیلے سے نجات پائی؛
نجات پائی، نجات پائی،
   اُس کے بچے اور میں نے ہمیشہ کے لیے!
(نجات پائی Redeemed‘‘ شاعر فینی جے۔ کراسبی Fanny J. Crosby‏، 1820۔1915)۔

IV۔ چہارم،مسیح کا خون آپ کو ہر گناہ سے پاک صاف کر سکتا ہے۔

مت بھولیں کہ یسوع کون ہے! وہ محض کوئی نہیں ہے! کوئی دوسرا جسے آپ جانتے ہیں اُس کے پاس وہ خون نہیں ہے جو آپ کو گناہ سے پاک صاف کر سکتا ہو۔ لیکن یسوع سڑک پر کوئی دوسرا نہیں ہے۔ اوہ، جی نہیں! یسوع خُدا کا دائمی بیٹا ہے، پاک تثلیث کی دوسری ہستی، ’’خُدائے کُل کا خُدائے کُل۔‘‘

’’سب چیزیں اُسی کے وسیلہ سے پیدا کی گئیں؛ اور کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اُسی کے بغیر وجود میں آئی ہو‘‘ (یوحنا 1:‏3).

اُس خُداوند یسوع مسیح نے ساری کائنات کو آسمان سے نیچے آنے سے پہلے تخلیق کیا تھا۔ واحد یہ ہی ہے جس کا خون آپ کو گناہ سے پاک صاف کر سکتا ہے – اور آپ کو آسمان میں جانے کے لیے اتنا پاک صاف کر سکتا ہے۔ یوحنا رسول نے کہا،

’’اُس کے بیٹے یسوع کا خون ہمیں ہر گناہ سے پاک کرتا ہے‘‘ (1۔ یوحنا 1:‏7).

ہماری تلاوت بھی یہی بات کہتی ہے،

’’جو ہم سے محبّت رکھتا ہے اور جس نے اپنے خُون کے وسیلہ سے ہمیں ہمارے سارے گناہوں سے مخلصی بخشی‘‘ (مکاشفہ 1:‏5).

کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کے ساتھ بھی ایسا کچھ رونما ہو؟ کیا آپ شیطان کے شکنجے سے بچایا جانا پسند کریں گے؟ مسیح کا خون وہ کر سکتا ہے! کیا آپ گناہ سے نجات پانا پسند کریں گے؟ مسیح کا خون وہ کر سکتا ہے! کیا آپ گناہ سے دُھل کر پاک صاف ہونا پسند کریں گے، تاکہ آپ آسمان میں جا سکیں اور وہاں پر ہمارے ساتھ خوشی منائیں؟ مسیح کا خون وہ کر سکتا ہے!

لیکن یہاں کچھ بات ہے جو آپ کو کرنی چاہیے۔ اِس سے پہلے کہ مسیح کا خون آپ کو یہ وہ باتیں کرے، آپ کو اپنے گناہ سے منہ موڑنا چاہیے۔ یہ پہلے نمبر پر ہے۔ آپ کو اپنے گناہ سے منہ موڑنا چاہیے۔ پھر، دوسرے نمبر پر، آپ کو یسوع پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اُس کے پاس ایمان کے وسیلے سےآئیں اور اُسی پر بھروسہ کریں۔ کوئی کہتا ہے، ’’بس یہی سب کچھ ہے؟‘‘ جی ہاں! یہی سب کچھ ہے! اور اُس کا خون ہر گناہ کو پاک صاف کر دے گا، اور آپ کو خُدا باپ کے ساتھ رفاقت اور خوشی میں کھینچ لائے گا! کیا آپ اپنے گناہ سے منہ موڑیں گے اور یسوع پر بھروسہ کریں گے؟ اگر آپ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan یہ میرے ساتھ یسوع کے خون کے وسیلے سے دُھل کر پاک صاف ہونے کے بارے میں بات کرنا پسند کریں، تو مہربانی سے بالکل ابھی اپنی نشست چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب قدم بڑھائیں جبکہ مسٹر گریفتھ Mr. Griffith اپنے تنہا گانے والے گیت کا بند دوبارہ گائیں گے۔ اِس کو زیادہ تیزی سے مت گائیے گا، بعن Ben ۔

نا ہی تو چاندی نا ہی تو سونا میری نجات حاصل کر سکا،
   نا ہی تو زمین کی دولت میری غریب جان کو بچا پائی؛
صلیب کا خون میرا واحد چشمہ ہے،
   میرے نجات دہندہ کی موت اب مجھے مکمل بناتی ہے۔
میں نجات یافتہ ہوں، لیکن چاندی کے ساتھ نہیں،
   میں خریدا گیا ہوں لیکن سونے کے ساتھ نہیں؛
ایک قیمت کے ساتھ خریدا گیا، یسوع کے خون کی،
   اَن کہے پیار کی انمول قیمت۔
(’’ناہی تو چاندی، نا ہی سونا Nor Silver, Nor Gold‘‘ شاعر ڈاکٹر جیمس ایم۔ گرے
     Dr. James M. Gray‏، 1851۔1935)۔

ڈاکٹر چیعن Dr. Chan، مہربانی سے آئیں اور اُن کے لیے دعا کریں جنہوں نے ردعمل کا اظہار کیا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: متی26:‏26۔29 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ناہی تو چاندی نا ہی سوناNor Silver Nor Gold ‘‘
(شاعر ڈاکٹر جیمس ایم۔ گرے Dr. James M. Gray‏، 1851۔1935)۔

لُبِ لُباب

مسیح کے خون کے وسیلے سے مخلصی

!WASHED IN CHRIST’S BLOOD

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جو ہم سے محبّت رکھتا ہے اور جس نے اپنے خُون کے وسیلہ سے ہمیں ہمارے سارے گناہوں سے مخلصی بخشی‘‘ (مکاشفہ 1:‏5).

(مکاشفہ7:‏14)

I.   اوّل، خون کی قربانی وقت کی بالکل آغاز سے شروع ہوتی ہے،
خروج12:‏13؛ متی26:‏26۔28 .

II.  دوئم، مسیح کے خون سے شیطان انتہائی شدید نفرت کرتا ہے،
مکاشفہ12:‏10۔11؛ 1۔ پطرس 1:‏19 .

III. سوئم، مسیح کو خون ہمیں گناہوں سے مخلصی بخشتا ہے،
1۔پطرس1:‏18، 19؛ متی20:‏28 .

IV. چہارم،مسیح کا خون آپ کو ہر گناہ سے پاک صاف کر سکتا ہے،
یوحنا1:‏3؛ 1۔یوحنا1:‏7 .