Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

آپ کی جان کی قیمت

THE VALUE OF YOUR SOUL
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
9 جون، 2013، خُداوند کے دِن کی شام
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, June 9, 2013

’’آدمی اگر ساری دنیا حاصل کر لے مگر اپنی جان کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ یا آدمی اپنی جان کے بدلے میں کیا دے گا؟‘‘ (مرقس 8:‏36۔37).

آپ کی جان اِس دُنیا میں کسی بھی چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔ ہم کہا کرتے تھے کہ تمہاری جان ناکس کے قلعے Fort Knox میں رکھے تمام سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ لیکن دھائیوں تک کسی کو بھی وہاں رکھے سونے کو دیکھنے نہیں دیا گیا تھا۔ آخری آدمی جس نے اِس کو دیکھنے کی کوشش کی تھی صدر ریگن تھے۔ لیکن وہ افسران جو ناکس کے قلعے کے نگران تھے اُنہوں نے صدر ریگن کو اندر جا کر اُسے دیکھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ بہت سے سوچتے ہیں کہ شاید وہاں اب کوئی سونا ہے ہی نہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ فیڈرل والوں کی جانب سے فضول میں خرچ کر دیا گیا۔ اگر وہ وہاں سے چُھپا کا نکالا گیا تھا اور دوسرے مقاصد کے لیے استعمال ہوا تھا، تو مجھے حیرت نہیں ہوگی۔ کوئی وقت تھا کہ وہاں پر اربوں ڈالرز کا خالص سونا تھا، سونے کی اینٹیں جو تصور سے بھی زیادہ قیمتی تھیں۔ اور اِس کے باوجود آپ کی جان اِس سب سے زیادہ قیمتی ہے۔

میرا خاندان اور میں لندن کے برج میں تھے۔ ہم نے تاج کے ہیرے دیکھے جن کی قیمت بے شمار روپوں میں تھی۔ میری بیوی اور میں روم میں ویٹیکن میں سے بھی گزرے۔ ویٹیکن میں ہم نے کیتھولک کلیسیا کی زبردست دولت دیکھی – بڑے بڑے ہیرے اور سبز فیروزے، اور دوسرے قیمتی زیوارت۔ ہم نے روم میں مقدس یوحنا کا لیٹرن گرجہ گھر St. John Latern Church بھی دیکھا۔ وہ وسیع چھت ٹنوں سونے سے ڈھکی ہوئی تھی جو کہ میکسیکو کے انڈین لوگوں اور وسطی امریکہ کے لوگوں سے کیتھولک چرچ کے ذریعے سے لیا گیا تھا۔ لیکن آپ کی جان کی قیمت تاج کے ہیروں، اور پوپ کے تمام خزانوں اور اُس گرجہ گھر میں موجود تمام سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ آپ کی جان اُس تمام سے انتہائی زیادہ قیمتی ہے – اور اُس تمام سونے سے بھی زیادہ جو کبھی ناکس کے قلعے میں رکھا گیا تھا! اِس سب کو یکجا کر دیا جائے تو بھی آپ کی زندگی اِس سب سے زیادہ قیمتی ہے! یسوع نے کہا، ’’آدمی اگر ساری دنیا حاصل کر لے مگر اپنی جان کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ یا آدمی اپنی جان کے بدلے میں کیا دے گا؟‘‘(مرقس8:‏36۔37)

جارج بیورلی شیا George Beverely Shea 104 برس کے ہو کر چند ہفتوں قبل ہی مرے تھے۔ دُنیا کے عالمی ریکارڈ کی گینیس کتاب Guinness Books of Records کہتی ہے کہ اُس نے دُنیا میں کسی بھی آدمی کے مقابلے میں سب سے زیادہ لوگوں کے سامنے گیت گائے ہیں۔ لیکن اُس کا سب سے مشہور گیت، جس کے لیے موسیقی اُس نے خود ترتیب دی، ایک سادہ سا پیغام رکھتا تھا:

مجھے سونے اور چاندی کے بجائے یسوع کو اپنا لینا چاہیے،
   مجھے ان کہی دولت کے مقابلے میں اُس ہی کا ہونا چاہیے؛
مجھے کسی بھی چیز کے مقابلے میں یسوع کو اپنا لینا چاہیے
   جس کی یہ دُنیا آج استطاعت رکھتی ہے۔
ایک وسیع سلطنت کا بادشاہ ہونے کے مقابلے میں،
   اور گناہ کے خوف کے جھکاؤ میں گھرے رہنے میں
مجھے کسی بھی چیز کے مقابلے میں یسوع ہی کواپنا لینا چاہیے تھا
   جس کی یہ دُنیا آج استطاعت رکھتی ہے۔
(’’مجھے اِس کے بجائے یسوع کو اپنا لینا چاہیے I’d Rather Have Jesus،‘‘ شاعری رھیا ایف۔
ملر Rhea F. Miller، 1922؛ موسیقی ترتیب دی جارج بیورلی شیا
George Beverly Shea‏، 1909۔2013)۔

میرے خیال میں وہ بالکل دُرست تھے، ’’آدمی اگر ساری دنیا حاصل کر لے مگر اپنی جان کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ یا آدمی اپنی جان کے بدلے میں کیا دے گا؟‘‘ (مرقس8:‏36۔37)

I۔ اوّل، جہنم کے عذاب کے نقطۂ نظر میں اپنی جان کی قیمت کا سوچیئے۔

آج جہنم کے بارے میں بات کرنے کے لیے بہت سے مبلغین خوفزدہ ہیں۔ اُن میں سے سارے کے سارے آزاد خیال بھی نہیں ہیں! مکار آزاد خیال جیسے ھنری سلونی کافن Henry Sloane Coffin اور ھیری ایمرسن فوسڈک Harry Emerson Fosdick کھلم کُھلا جہنم کے بارے میں بتاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ایسی کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔ اب وہ مر چکے ہیں۔ اب وہ خود ہی جہنم میں ہیں۔

لیکن بہت سے جدید مبشران انجیل اِس قدر ایماندار نہیں ہیں جتنے وہ پرانے آزاد خیال تھے! یہ جدید مبشران انجیل نہیں کہتے کہ کوئی جہنم نہیں ہے۔ وہ تو بس اُسکا تزکرہ تک نہیں کرتے! ڈاکٹر جان بلانکارڈ Dr. John Blanchardنے ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان جہنم کے ساتھ جو کچھ بھی ہو؟ Whatever Happened to Hell? ہے (مبشران انجیل پریس، 2003)۔ اُنہوں نے نشان دہی کی کہ آج انتہائی کم مبشران انجیل کبھی جہنم کا تزکرہ اپنے واعظ میں کرتے ہیں – اور تقریباً اُن میں سے کوئی بھی جہنم پر پورا واعظ نہیں دیتے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جہنم نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔اِس کا محض یہ مطلب ہوتا ہے کہ یہ مبلغین بہت زیادہ دُنیا دار، اور بزدل اور لوگوں کو خوش کرنے والے ہونے کیوجہ سے گنہگاروں کو جہنم کے بارے میں خبردار نہیں کرتے۔ لیکن ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے کہا،

کوئی بھی بائبل کا مبلغ جو [کسی چیز] کے قابل ہے جہنم کا لفظ کہنے سے بُرا نہیں مانتا ہے۔ ایک مبلغ جو جہنم پر تبلیغ نہیں دیتا ہے اور اِس کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے نہیں بتاتا تو وہ ویسے تعلیم نہیں دیتا ہے جیسے یسوع نے دی تھی اور اپنی کلیسیا کے ساتھ ایماندار نہیں ہے... اور اُن گنہگاروں کے ساتھ جو اُنہیں سُنتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کے نقطۂ نظر میں، ایک جان کی کیا قیمت ہوتی ہے؟ (جان آر۔ رائس، ڈی۔ڈی۔ John R. Rice, D.D.، وہ سُرخی مائل گناہ اور حیات نو پر دوسرے واعظ The Scarlet Sin and Other Revival Sermons، خُداوند کی تلوار اشاعت خانے Sword of the Lord Publishers، اشاعت 1979، صفحہ110)۔

یسوع نے بار بار جہنم کے بارے بتایا ہے۔ اُس نےکہا، ’’جو اُسے احمق کہے گا وہ جہنم کی آگ کا سزا وار ہوگا‘‘ (متی5:‏22)۔

یسوع نے کہا، ’’اُن سے مت ڈرو جو جسم کو تو مار سکتے ہیں... بلکہ اُس سے ڈرو جو جسم و جان دونوں کو جہنم میں ہلاک کر سکتا ہے‘‘ (متی10:‏28)۔

یسوع نے کہا، ’’دُنیا کے آخر میں بھی ایسا ہی ہوگا: فرشتے نکلیں گے اور بدکاروں کو راستبازوں سے جُدا کریں گے، اور اُنہیں آگ کی بھٹی میں ڈال دیں گے جہاں وہ روتے اور دانت پیستے رہیں گے‘‘ (متی13:‏49۔50)۔

یسوع نے کہا، ’’تب وہ اپنی بائیں طرف والوں سے کہنے لگا، ’’اے لعنتی لوگو! میرے سامنے سے دور ہو جاؤ اور اُس ہمیشہ جلتی رہنے والی آگ میں چلے جاؤ‘‘ (متی25:‏41)۔

اور دوبارہ پھر یسوع نے کہا، ’’یہ لوگ ہمیشہ کی سزا پائیں گے: مگر راستباز ہمیشہ کی زندگی پائیں گے‘‘ (متی25:‏46)۔

جہنم کے بارے میں مسیح کے یہ تمام الفاظ متی کی انجیل میں سے ہیں۔ وہ الفاظ خود مسیح کے منہ سے ادا کیے گئے تھے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس قدر زیادہ یسوع جہنم کے بارے میں تبلیغ کیا کرتا تھا!

پہلے بپتسمہ دینے والے چینی گرجہ گھر میں ایک چینی عورت جس کا خاوند ایک پادری تھا کبھی کبھار سنڈے سکول کی جماعت میں نوجوان لوگوں کو اور انجیلی بشارت کی عبادات میں جہنم پر تبلیغ کرنے پر میرا مذاق اُڑاتی تھی۔ میرے پادری ڈاکٹر ٹموتھی لن Dr. Timothy Lin کی نوے ویں سالگرہ کی تقریب کے موقع پر اُس نے لوگوں کے ایک بڑے گروہ کے سامنے میرا مذاق اُڑایا۔ میں نے کچھ بھی نہیں کہا۔ لیکن میں اُس کے بات کرنے کے انداز سے بتا سکتا ہوں کہ اُس کے خاوند نے خود اپنے گرجہ گھر میں کبھی بھی جہنم پر تبلیغ نہیں دی تھی۔ اِس کے باوجود اُس کے تمسخر نے میرے ذہن کو بالکل بھی نہیں بدلا تھا۔ جب میں نے ضیافتی ہال میں ادھر اُدھر دیکھا، میں نے درجنوں نوجوان مسیحی لوگوں کو دیکھا گزرے ہوئے سالوں میں میرے شاگرد تھے! یسوع نے کہا، ’’حکمت اپنے کاموں سے راست ٹھہراتی ہے‘‘ (متی11:‏19)۔ وہ نوجوان لوگ جنہوں نے مجھے جہنم پر تبلیغ دیتے ہوئے سُنا تھا بعد میں پکے مسیحی بنے تھے۔ ڈاکٹر جان آر۔ رائس نے کہا،

مجھے یاد ہے کہ یہ مجھے کس قدر عجیب سا لگتا ہے جب میں ایک گرجہ گھر کا پادری تھا، کہ بہت سے پادریوں اور گرجہ گھروں نے مجھے شدت پسند سمجھا تھا، اِس کے باوجود وہ اُس قسم کے مسیحیوں کو پسند کرتے تھے جو میری تبلیغ کی وجہ سے تربیت پائے اور پیدا ہوئے... [ہم] اپنے اردگرد بہت سے پادریوں اور گرجہ گھروں کے رہنماؤں کے لیے بہت انقلابی لگتے ہیں۔ اِس کے باوجود ہم نے پایا کہ وہ ہر اُس رُکن کو جو وہ ہمارے گرجہ گھر سے حاصل کرتے ہیں سب سے زیادہ قیمتی تصور کرتے ہیں ... ہمارے مسیح میں تبدیل ہونے والوں کو دُنیا پسند کرتی ہے، بے شک وہ مبلغین کو پسند نہیں کرتی! (جان آر۔ رائس، ڈی۔ڈی۔ John R. Rice, D. D.، ایک اچھا مسیحی ہونے کے لیے کیا قیمت چکانی پڑتی ہے What It Costs To Be a Good Christian، خُداوند کی تلوار پبلشرز Sword of the Lord Publishers‏، 1952، صفحہ 41)۔

مجھے ایک مبلغ یاد ہے جو مجھ پر انتہائی تنقید کیا کرتا تھا – اور مجھے آمر اور ایک جھوٹا اُستاد کہتا تھا! اُس نے ہمارے گرجہ گھر کے کچھ لوگوں میں زہر بھرنے اور اپنے گرجہ گھر میں لے جانے کی پوری کوشش کی۔ وہ ہمارے لوگوں کو خوشی سے قبول کرتا تھا اور بغیر کوئی سوال پوچھے اپنے گرجہ گھر کا رُکن بنا لیا کرتا تھا۔ اُس نے اُن میں سے بے شمار کو تو اُسی وقت اپنے گرجہ گھر میں نوکریاں بھی دے دیں۔ اُس نے تو یہاں تک کہ ایک نوجوان خاتون کوجو اُس نے ہمارے گرجہ گھر سے پائی اپنے ایک آدمی کے ساتھ شادی کرنے پر قائل بھی کر لیا۔ جیسا کہ ڈاکٹر رائس نےکہا، ’’[ہم] اپنے اردگرد بہت سے پادریوں اور گرجہ گھروں کے رہنماؤں کے لیے بہت انقلابی لگتے ہیں۔ اِس کے باوجود ہم نے پایا کہ وہ ہر اُس رُکن کو جو وہ ہمارے گرجہ گھر سے حاصل کرتے ہیں سب سے زیادہ قیمتی تصور کرتے ہیں۔‘‘ میرے لیے ایسے مبلغ سوائے جھوٹے جھوٹے نبیوں، منافقوں اور ’’بھیڑوں کے چرانے والوں‘‘ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں۔ اُنہیں رُکن دوسرے گرجہ گھروں سے ’’حاصل‘‘ کرنے پڑتے ہیں کیونکہ وہ خود اپنے طور پر نئے مسیح میں تبدیل شاگردوں کو جیتنے کے لیے انتہائی سُست یا گنہگار ہیں!

ایسے مسخ شُدہ مبلغین نے مجھے اپنے واعظوں کو نرم کرنےاور لوگوں کو دائمی عذاب سے بچانے کی باتیں لوگوں کو بتانے سے روکنے کے لیے کبھی بھی قائل نہیں کیا۔ جہنم کے عذابوں کے نقطۂ نظر میں، آپ کی جان کی کیا قیمت ہے؟

II۔ دوئم، صلیب پر مسیح کی قربانی کے نقطۂ نظر میں آپ کی جان کی قیمت۔

میں اکثر بھونچکا رہ جاتا ہوں جو میں جدید مبلغین کو صلیب پر مسیح کی قربانی کا تزکرہ کیے بغیر ’’مسیح میں آنے کی دعوت‘‘ دیتے ہوئے سُنتا ہوں۔ حال ہی میں مَیں دو قدامت پسند رہنماؤں سے بات کر رہا تھا۔ دونوں ہی مجھ پر جوئیل آسٹین Joel Osteen پر تنقید کرنے پر برس پڑے تھے۔ دونوں نے کہا، ’’وہ ہر اتوار کو انجیل کی منادی کرتا ہے۔‘‘ میں نے بحث کرنے کے بجائے اِس بات کو جانے دیا۔ میں مسٹر آسٹین کی بے شمار تبلیغی ڈی وی ڈیز DVD دیکھ چکا ہوں۔ میں وہ دعا سُن چکا ہوں جو وہ لوگوں سے اپنے واعظ کے اختتام پر مانگنے کو کہتے ہیں۔ یہ ’’گنہگاروں کی دعا‘‘ کہلانے والی دعا کی بہت ہی کمزور سی قسم کی ہے۔ اور اس میں انجیل کا ایک بھی لفظ شامل نہیں ہے – انجیل کا ایک بھی لفظ نہیں ہے! وہ لوگوں سے یسوع کو اپنے دِلوں میں مانگنے کے لیے کہتے ہیں، اور پھر وہ کہتے ہیں، ’’ہم یقین کرتے ہیں کہ اگر آپ وہ الفاظ کہہ دیتے ہیں تو آپ نئے سرے سے جنم لیتے ہیں۔‘‘ وہ سوچتے ہیں کہ لوگ کچھ لفظ کہہ دینے سے نئے سرے سے جنم لے سکتے ہیں۔ یہ اعمال سے خالص نجات ہے – کچھ الفاظ کہہ دینے سے نجات۔ صرف ’’جادوئی الفاظ‘‘ کہہ دیں اور آپ نئے سرے سے جنم لے لیتے ہیں! یہ جادو ہے، آپ جانتے ہیں۔ یہ تصور کہ آپ کچھ درست الفاظ کہہ دینے سے خُدا کو حسب منشا چلا سکتےہیں خالص جادو ہے۔ یہ ’’سفید جادو‘‘ کی ایک قسم ہے جو کہ ہر طرح سے اتنا ہی شیطانی ہےجتنا کہ ’’کالا جادو۔‘‘

لیکن جس بات نے مجھے سب سے زیادہ حیرت زدہ کیا وہ حقیقت تھی کہ اِن دونوں رہنمائی کرنے والے انجیلی مبشروں نے غور ہی نہیں کیا کہ آسٹین کبھی بھی انجیل کا تزکرہ ہی نہیں کرتا! اُس نے کبھی بھی یسوع کے صلیب پر مرنے اور ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا، جو کہ انجیل کا پہلا موضوع ہے! (1۔کرنتھیوں15:‏1۔4)۔ کیسے ایک شخص سُنے بغیر اور یہ یقین کیے بغیرکہ ’’کلام مقدس کے مطابق یسوع ہمارے گناہوں کے لیے مرا‘‘بچایا جا سکتا ہے؟ یہ مکمل طور پر مسیح کے بغیر انجیل ہے، جس میں کوئی خون کا کفارہ نہیں ہے، اور مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں کوئی بات نہیں ہے!

مجھے حیران نہیں ہونا چاہیے تھا کہ وہ مبشران انجیل جوئیل آسٹین سے دھوکہ کھا گئے تھے۔ یہ آج کل اسقدر بڑا مسٔلہ ہے کہ ڈاکٹر مائیکل ھارٹن Dr. Michael Horton نے اِس کے بارے میں ایک زبردست کتاب جو بغیر مسیح کے مسیحیت Christless Christianity (بیکر بکس Baker Books،‏ 2008) کہلاتی ہے۔ اُس کتاب میں وہ بہت سے حوالے مسٹر آسٹین کی طرف سے پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر جان آر۔ رائس نے پوچھا، کیا یہ عجیب نہیں ہے کہ ... گرجہ گھر کے اراکین، مناد، بزرگ پادری، منتظم اور سنڈے سکول کے اساتذہ [اور پادری] کے پاس اس قدر سرد دِل ہیں اور اِس قدر سردمہر، اور سخت اور اٹل ہیں؟ کیا یہ عجیب نہیں ہےکہ جذبات اور دُکھ اور شرمندگی اور پیار کے ساتھ جب ہم یاد کرتے ہیں کہ کلوری پر کیا رونما ہوا تھا تو ہمارے پیروں تلے سے زمین نہیں نکلتی ہے؟ اوہ، ہم مسیح کی موت سے کس قدر عادی ہو چکے ہیں!‘‘ (رائس، ibid.، صفحہ116)۔ ڈاکٹر جے۔ گریشام میکحن Dr. J. Gresham Machen نے کہا، ’’خُدا نے ہمیں مذہبی رہنما بھیجے جو ... صلیب کے ساتھ آگ میں ہونگے‘‘ (جے۔ گریشام میکحن، پی ایچ۔ڈی۔ J. Gresham Mahen, Ph.D.، مسیحیت اور آزاد خیالی Christianity and Liberalism، عئیرڈمینز اشاعتی کمپنی Eerdmans Publishing Company، اشاعت 1990، صفحہ176)۔

اُن گرجہ گھروں کے رہنماؤں کے بارے میں یہ سوچ کر مجھے جھرجھری آ جاتی ہے جو مسیح کی مصلوبیت پر مکمل واعظ نہیں دیتے ہیں۔ کیسے اِس قسم کے ’’رہنما‘‘ خود کو بچا پائیں گے؟ اوہ، ہمارے گرجہ گھروں پر ایک بہت بڑا فیصلہ نازل ہونے والا ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ اِس طرح کے اور کتنے ’’مسیح کے بغیر‘‘ مبلغین جہنم میں ہونگے؟ جب میں ایسے رہنماؤں کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے جھرجھری آ جاتی ہے کہ جب وہ چیختے چلاتے ہیں، ’’خُداوند، خُداوند، کیا ہم نے تیرے نام میں [منادی نہیں کی اور تعلیم نہیں دی اور گواہی نہیں دی؟‘‘ اور تب مسیح ان سے کہے گا، ’’اے بدکارو، مجھ سے دور ہو جاؤ‘‘ (متی7:‏22، 23)۔ مجھے اُمید ہے کہ آپ بھی اُن ہی کی مانند ’’بغیر مسیح کے‘‘ انجیلی بشارت کرنے والے نہیں ہو جائیں گے! مجھے اُمید ہے کہ آپ صلیب پر مسیح کی قربانی کے وسیلے سے بچائے جائیں گے! کوئی بھی چیز آپ کی جان کی قیمت اتنے واضح طور پر ظاہر نہیں کرسکتی جتنے واضح طور پر مسیح کی صلیب پر آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے دھشت ناک، متبدلیاتی موت کر سکتی ہے! پولوس رسول نے کہا،

’’خدا نہ کرے کہ میں کسی چیز پر فخر کروں، سِوا اپنے خداوند یسُوع مسیح کی صلیب کے‘‘ (گلتیوں 6:‏14).

اوہ، میں کس قدر خواہش کرتا ہوں کہ آپ دیکھ سکیں خدا کے لیے آپ کی جان کس قدر قیمتی ہے! مسیح نے آسمان آپ کی جان بچانے کے لیے چھوڑا۔ گتسمنی کے باغ میں آدھی رات کو مسیح نے پسینہ خون کی بڑی بوندوں کی مانند بہایا۔ مسیح کو چہرے پر مارا گیا۔ اُسے دھکے دیے گئے اور منہ پر تھوکا گیا جب وہ اپنی صلیب اُٹھا کرکوہ کلوری کے لیے گیا۔ اُنہوں نے اُس صلیب کے ساتھ اُس کے ہاتھوں اور پیروں کو کیلوں سے جڑ دیا۔ سورج اُس کے سر پر آگ اُگل رہا تھا۔ وہ چلا اُٹھا، ’’میں پیاسا ہوں۔‘‘ سورج چھپ گیا اور زمین پر اندھیرا چھا گیا تھا۔ دوبارہ، یسوع چلایا ’’اے میرے خُدا، اے میرے خُدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‘‘ وہ وہاں پر تنہا مر گیا – بالکل ہی تنہا، آپ کے اور میرے گناہ کا مکمل کفارہ ادا کرنے کے لیے۔ بائبل کہتی ہے، کلام مقدس کے مطابق، مسیح ہمارے گناہوں کے لیے مرا‘‘ (1۔کرنتھیوں15:‏3)۔

اور یہ کوئی عام آدمی نہیں تھا جس نے اُس صلیب پر مصائب برداشت کیے اور خون بہایا اور مر گیا! اوہ، جی نہیں! وہ خداوند یسوع مسیح تھا، پاک تثلیث کی دوسری ہستی، خُدائے متجسم۔ خُدا بیٹا وہاں اُس صلیب پر آپ کی جان بچانے کے لیے مر گیا۔ صلیب پر مسیح کی قربانی آپ کی جان کی قیمت ظاہرکرتی ہے۔ میں خُدا سے خواہش کرتا ہوں کہ ہر مبلغ اپنے گرجہ گھر میں جانوں کی قیمت کو دیکھ سکے جیسے مسیح نے اُن کی قیمت دیکھی تھی جب وہ اُس صلیب پر لٹکا ہوا تھا! میری خواہش ہے کہ آپ خود اپنی جان کی قیمت دیکھ سکیں، اِس نقطۂ نظر کے تحت جو اُس صلیب پر اِسے بچانے کے لیے مسیح کی قربانی کا تھا!

’’آدمی اگر ساری دنیا حاصل کر لے مگر اپنی جان کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ یا آدمی اپنی جان کے بدلے میں کیا دے گا‘‘ (مرقس 8:‏36،37).

III۔ سوئم، آسمان کے جلال کے نقطۂ نظر میں آپ کی جان کی قیمت۔

اُس اتوار کی رات سے پہلے جب میری ماں ہسپتال کے لیے گئیں جہاں وہ مر گئی تھیں، وہ یہاں گرجہ گھر میں تھیں۔ نا جانے کس وجہ سے میں نے مسٹر گریفتھ Mr. Griffith سے وہ پرانا گیت گانے کے لیے کہا جو میں نے اِس سے پہلے کبھی بھی نہیں سُنا تھا۔

میں نے دور دراز ساحل پر ایک سرزمین کے بارے میں سُنا تھا،
   یہ ایک جان کا خوبصورت گھر ہے؛
یسوع نے بُلندی پر جسے تعمیر کیا، جہاں ہم کبھی بھی نہیں مریں گے،
   یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم کبھی بھی بوڑھے نہیں ہوتے۔
کبھی بھی بوڑھے نہیں ہوتے، کبھی بھی بوڑھے نہیں ہوتے،
   ایک ایسی سرزمین میں جہاں ہم کبھی بھی بوڑھے نہیں ہونگے!
کبھی بھی بوڑھے نہیں ہوتے، کبھی بھی بوڑھے نہیں ہوتے،
   ایک ایسی سرزمین میں جہاں ہم کبھی بھی بوڑھے نہیں ہونگے!
(’’کبھی بھی بوڑھے نہیں ہوتے Never Grow Old‘‘ شاعر جیمس سی۔ مور
   James C. Moore‏، 1888۔1962)۔

مسٹرگریفتھ نے اُس آخری وقت میں جب میری ماں یہاں گرجہ گھر میں تھیں وہ گیت گایا۔ میں اُن کے بارے ہی میں سوچ رہا تھاجب میں نے اُنہیں یہ گانے کے لیے کہا تھا۔ وہ واکر [پیدل چلنے کے لیے سہارا] استعمال کر رہی تھیں، اور کبھی کبھار پہیوں والی کرسی میں ہونا پڑتا تھا۔ اُن کی زندگی کبھی بھی سہل نہ رہی تھی۔ اُنہیں بہت سی مایوسیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسّی سال کی عمر میں اُن کے بچائے جانے کے بعد، وہ ہمارے پاس رہنے کے لے آ گئیں۔ تب اُن کی زندگی میں کچھ خوشیاں کوئی پانچ برس کے لیے آئیں۔ اِس کے باوجود یہ اِس قدر زیادہ نہیں تھی جس قدر میں چاہتا تھا کہ وہ پائیں۔ لیکن اب میری ماں جنت میں ہیں! اب اُن کا اپنا ایک محل ہے۔ وہ اب وہاں اُس جگہ پر ہیں جہاں لوگ کبھی بھی بوڑھے نہیں ہوتے ہیں، یا بیمار نہیں ہوتے ہیں، یا غریب نہیں ہوتے ہیں۔ ایک دِن میں اُن کو وہیں پر ملنے کے لیے جا رہا ہوں۔

کبھی کبھی رات کو میں آسمان میں اوپر مسیح کی آمد ثانی پر خوش آمدید کہنے کے لیے بادلوں میں اُٹھائے جانے کے بارے میں سوچتا ہوں۔ میں اپنی ماں کو بادلوں میں سے دیکھ سکتا ہوں۔ میں چلا اُٹھتا ہوں، ’’سیسیلیا! سیسیلیا! آپ یہاں ہیں! میں آپ کودیکھنے کا انتظار کر رہا تھا، اور آپ یہاں ہیں!‘‘ دیکھیں! وہاں میرا دوست جین ولکرسن Gene Wilkerson ہے! میں اُس کو دیکھ کر کتنا خوش ہوں! دیکھیں، وہاں میرے پادری، ڈاکٹر لِن ہیں۔ وہاں پرڈاکٹر جمی کومبزJimmy Combs ہیں! وہاں پر ڈاکٹر میکگونDr. McGowan ہیں، وہ انسان جو مجھے گرجہ گھر لے گئے تھے جب میں ایک لڑکا تھا۔ وہاں ہے جارج بیورلی George Beverly Shea! وہاں پر جارج ویزلی George Wesley اور جارج وائٹ فیلڈ George Whitefield ہیں! جی ہاں، اور وہاں مسٹر سپرجئین Mr. Spurgeon ہیں! میں نے اُنہیں دیکھنے کے لیے کس قدر لمبا انتظار کیا ہے! وہ وہیں ہیں! ’’وہاں صدر لنکن ہیں! وہاں ولیم جینینگ برائنWilliam Jennings Bryan ہیں!وہاں وہ سب ہیں، بالکل جیسا کہ میں نے تصور کیا تھا کہ وہ ہونگے! اب دیکھیں! وہاں یسوع ہے! میں اُس کو دیکھتا ہوں! یہاں آتا ہے!‘‘

میں اُسے جان جاؤں گا، میں اُسے جان جاؤں گا،
   اور اُس کے پہلو سے بخشوا کر میں کھڑا ہو جاؤں گا۔
میں اُسے جان جاؤں گا، میں اُسے جان جاؤں گا،
   اُس کے ہاتھوں میں کیلوں کے نشان کے ذریعے سے۔
(’’میرے نجات دہندہ سب سے پہلے My Saviour First of All‘‘ شاعر فینی جے۔ کراسبی
   Fanny J. Crosby‏، 1820۔1915)۔

وہاں ایک پاک اور خوبصورت شہر ہے،
   جس کا معمار اور حکمران خُدا ہے؛
یوحنا نے اُسے آسمان سے اُترتے ہوئے دیکھا تھا،
   جب پطمس، جلاوطنی میں، وہ لمبے قدم بھر رہا تھا؛
اُس کی کثیر بُلند دیوار یاقوت کی ہے،
   شہر خود خالص سونے کا ہے؛
اورجب یہاں میری نحیف زندگی کا اختتام ہوتا ہے،
   میری آنکھیں اُس کا جلال دیکھیں گی۔
اُس منور شہر میں، موتیوں جیسے سفید شہر میں،
   میرے پاس ایک محل، ایک بربط اور ایک تاج ہے؛
اب میں دیکھ رہا ہوں، انتظار کر رہا ہوں اور چاہت کر رہا ہوں،
   اُس سفید شہر کے لیے جسے یوحنا نے نیچے آتے دیکھا تھا۔
(’’موتیوں جیسا سفید شہر The Pearly White City‘‘ شاعر آرتھر ایف۔ اِنگلر
   Arthur F. Ingler‏، 1873۔1935)۔

جنت کیسی ہوگی اگر وہ جنہیں آپ پیار کرتے ہیں وہاں پر نہیں ہیں؟ جنت کے جلال کے نقطۂ نظر میں، آپ کے بھائی یا بہن یا آپ کے دوست کی جان کی قیمت کیا ہے؟ کیٹی ویلز Kitty Wells، دیہی گلوکار نے ایک گیت گایا جس کا عنوان ہے، ’’میں نے تمہارے لیے خواب دیکھا میں نے تمہارے لیے جنت کو تلاش کیا۔‘‘

میں نے تمہارے لیے خواب دیکھا، میں نے تمہیںجنت میں تلاش کیا،
   بے فائدہ ساری جنت میں تمہیں تلاش کیا؛
اوہ، کیا تم اوپر وہاں مجھے ملنے کے لیے تیار نہیں ہو،
    ایسا نہ ہو کہ مجھے تمہارے لیے جنت کی تلاش کرنی پڑ جائے؟
(میں نے تمہارے لیے خواب دیکھا، میں نے تمہیں جنت میں تلاش کیا
I Dreamed I Searched Heaven for You‘‘ شاعر کیٹی ویلز Kitty Wells‏، 1919۔2012)۔

آپ کے دوست یا آپ کے پیارے کی جان کی کتنی قیمت ہے؟ اوہ، خُدا اُن کی جان کی قیمت دیکھنے کے لیے ہماری مدد فرمائے، اور پھر جانے اور ’’اُنہیں اندر آنے کے لیے زور ڈالنے‘‘ کے لیے مدد فرمائے۔

’’آدمی اگر ساری دنیا حاصل کر لے مگر اپنی جان کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ یا آدمی اپنی جان کے بدلے میں کیا دے گا‘‘ (مرقس 8:‏36،37).

اگر آپ کھوئے ہوئے ہیں، تو اِس میں آپ کو کیا فائدہ حاصل ہوگا اگر آپ ساری دُنیا حاصل کر لیں اور جنت کو کھو بیٹھیں؟ اگر آپ سارا مزا، تمام انسانوں کی تالیاں، تمام کی تمام دولت اور اِس دُنیا کی خوشیاں حاصل کرلیں اور جنت کو کھو دیں اور جہنم میں چلے جائیں، اور مسیح کے خون اور راستبازی سے بچائے جانے کو کھو دیں، تو یہ ایک حادثہ ہوگا۔ کیا ہو اگر آپ ایک عظیم مشہور گلوکار بن جائیں، اور جتنا آپ چاہتے ہیں پیسہ کما لیں، اور جسے آپ چاہتے ہیں اُس سے شادی کرلیں، اور سب سے مہنگی ترین گاڑی چلائیں، اور بیورلی ھلز Beverly Hills میں محل میں رہیں – اور اِس کے باوجود جنت کو کھو دیں؟ اگر آپ جنت کو کھو دیتے ہیں اور جہنم کے لیے چلےجاتے ہیں، تو آپ کیسے ایک بیوقوف ہیں، تو آپ نے کیسی فضول سی ایک زندگی گزاری ہے؟

’’آدمی اگر ساری دنیا حاصل کر لے مگر اپنی جان کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ یا آدمی اپنی جان کے بدلے میں کیا دے گا‘‘ (مرقس 8:‏36،37).

موت شاید کسی بھی لمحے آ جائے۔ آپ کی جان کی کیا قیمت ہے؟ کسی کے لیے نجات کو نظرانداز کرنا یا ایک طرف رکھ دینا کس قدر گناہ سے بھرپور اور احمقانہ ہوتا ہے! یہ وہ دِن ہے جب خُدا تمہیں بُلا رہا ہوتا ہے! یہ وہ دِن ہے جب یسوع کے پاس آنا چاہیے اور بچائے جانا چاہیے، اور اپنے گناہ سے صلیب پر اُس خون کے ذریعے سے جو اُس نے بہایا پاک صاف ہو جانا چاہیے۔ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے۔ وہ اُوپر آسمان میں باپ کے داھنے ہاتھ پر بیٹھا ہے۔ اُس پر بھروسہ کریں! گناہ سے منہ موڑ لیں اور اُس پر بھروسہ کریں! وہ آپ کو تمام زمانوں اور تمام ابدیت کے لیے بچائے گا۔

اگر آپ اپنی جان کی نجات کے بارے میں ہمارے سے بات چیت کرنا چاہیں، تو مہربانی سے اپنی نشست ابھی چھوڑ دیں، اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پرسکون مقام پر لے جائیں گے جہاں پر ہم بات چیت اور دعا کر سکیں گے۔ بالکل ابھی جائیں۔ اگر آپ یہاں پر پہلی مرتبہ آئیں ہیں، اور آپ کے پاس میں نے جو کچھ کہا اُس کے بارے میں کوئی سوال ہے، تو جلدی سے اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر چیعن Dr. Chan، مہربانی سے اُسکی نجات کے لے دعا مانگیں جس نے ردعمل ظاہر کیا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: مرقس 8:‏34۔37)۔
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’اگر میں دُنیا حاصل کر لیتا If I Gained the World‘‘ (شاعر آعنہ اولینڈر
Anna Olander‏، 1861۔1939)۔

لُبِ لُباب

آپ کی جان کی قیمت

THE VALUE OF YOUR SOUL

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’آدمی اگر ساری دنیا حاصل کر لے مگر اپنی جان کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ یا آدمی اپنی جان کے بدلے میں کیا دے گا؟‘‘ (مرقس 8:‏36۔37).

I۔   اوّل، جہنم کے عذاب کے نقطۂ نظر میں آپ کی جان کی قیمت، متی5:‏22؛
10:‏28؛ 13:‏49۔50؛ 25:‏41، 46؛ 11:‏19۔

II۔  دوئم، صلیب پرمسیح کی قربانی کے نقطۂ نظر میں آپ کی جان کی
قربانی کی قیمت، 1۔کرنتھیوں15:‏1۔4؛ متی7:‏22، 23؛ گلیتیوں6:‏14۔

III۔ سوئم، جنت کے جلال کے نقطۂ نظر میں آپ کی جان کی قیمت،
مرقس8:‏36۔37 .