Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

شاگردی کی قیمت

THE COST OF DISCIPLESHIP
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
2 جون، 2013، خُدا کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, June 2, 2013

’’اِسی طرح اگر تم میں سے جو کوئی اپنا سب کچھ چھوڑ نہ دے، میرا شاگرد نہیں ہوسکتا‘‘ (لوقا 14:‏33).

جنگ عظیم دوئم سے پہلے ڈائٹرچ بونھیفر Dietrich Bonhoeffer جرمنی میں ایک نوجوان لوتھرن Lutheran پادری تھا۔ جب ھٹلر اُبھر کا سامنے آیا تو بونھیفر جرمنی کی طرف چلا گیا۔ تاھم، انگلستان اور ریاست ہائے متحدہ میں وقت گزار چکنے کے بعد، اُس نے محسوس کیا کہ خُدا اُس سے چاہتا ہے کہ وہ واپس جرمنی چلا جائے اور اپنے خود کے لوگوں میں منادی کرے، جو کہ اُس نے کی۔ 1943 میں وہ گستاپو کے ذریعے سے گرفتار ہوا اور نازی قید میں ڈالا گیا۔ اِتحادیوں کے جرمنی کو ھٹلر کے شکنجے سے چھڑانے سے کچھ دِن پہلے، نازیوں نے ڈائٹرچ بونھیفرکو لیا، اُس کو ہتھکڑیاں ڈالی، اُس کی گردن کے گرد پیانو کی تار لپیٹی، اور اُسکو پھانسی دے دی۔ وہ صرف انتالیس برس کا تھا جب وہ ایک شہید کی موت مرا۔ بونھیفر کی سب سے مشہور کتاب شاگردی کی قیمت The Cost of Discipleship ہے۔ میں کچھ باتوں میں بونھیفر کے ساتھ متفق نہیں ہوں، کیونکہ وہ لوتھرن تھا۔ ناہی میں اُس کے کلام پاک کے بارے میں بارتھئین Barthian نظریئے سے متفق ہوں۔ لیکن بونھیفر اپنے آزاد خیال ماضی پر سبقت لے گیا اور ایک عظیم مسیحی تصنیف شاگردی کی قیمت The Cost of Discipleship تحریر کی، اِس واعظ کے نام کے لیے میں نے اُس کی کتاب کا عنوان مستعار لیا ہے۔ خُدا آپ کو برکت دے جب آپ اِس کو پڑھیں! لیکن پیغام سے پہلے، مسٹر گریفتھ Mr. Griffith ہمارے لیے آئیں گے اور گائیں گے۔ (مسٹر گریفتھ گاتے ہیں، ’’خُدا کا بیٹا جنگ کے لیے آگے بڑھتے ہیں The Son of God Goes Forth to War‘‘ شاعر ریجینلڈ ھیبر Reginald Heber، 1783۔1826)۔

مہربانی سے خُداوند کے کلام کی تلاوت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔

’’اِسی طرح اگر تم میں سے جو کوئی اپنا سب کچھ چھوڑ نہ دے، میرا شاگرد نہیں ہوسکتا‘‘ (لوقا 14:‏33).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

میں یسوع کی ایمانداری اور صاف گوئی سے پیار کرتا ہوں۔ جدید مبلغین اکثر سوچتے ہیں کہ وہ لوگوں کو ایک آھستہ عمل کے ذریعے سے اچھے مسیحی بنا سکتے ہیں۔ پہلے اُنہیں ایک ’’فیصلے‘‘ تک تو پہنچائیں۔ پھر اُنہیں سال بہ سال بائبل کی تعلیم دیں۔ یہ مبلغین سوچتے ہیں کہ وہ ہی مضبوط شاگرد اور اچھے مسیحی بنانے کے لیے ایک راہ ہے۔ لیکن یہ راہ نہیں تھی جس سے خداوند یسوع مسیح نے اپنے شاگرد پائے تھے!

حوالے میں چند ہی لمحے قبل مسٹر پرودھومی Mr. Prudhomme نے پڑھا، جو کہتا ہے،

’’لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ یُسوع کے پیچھے پیچھے چلی جا رہی تھی۔ اُس نے مُڑ کر اُنہیں دیکھا اور کہا:‘‘ (لوقا 14:‏25).

تو یہ ہے جو خُداوند یسوع نے کھوئے ہوئے لوگوں کو کہا، اُن لوگوں کو جو کبھی بھی بچائے نہیں گئے تھے، جو کبھی بھی ابھی تک اُس کے شاگرد نہیں بنے تھے۔ سیدھی سیدھی جو سب سے پہلے بات یسوع نے اِن ہجوموں سے کہ وہ یہ تھی کہ:

’’اگر کوئی میرے پاس آتا ہے لیکن اُس محبّت کو جو وہ اپنے والدین، بیوی بچّوں اور بھائی بہنوں اور اپنی جان سے رکھتا ہے قربان نہیں کر سکتا تو وہ میرا شاگرد نہیں ہو سکتا۔ اور جو کوئی اپنی صلیب اُٹھا کر میرے پیچھے نہیں آتا وہ میرا شاگرد نہیں ہو سکتا‘‘ (لوقا 14:‏26،27).

واؤ! کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ جوئیل آسٹن Joel Osteen جیسا جدید مبلغ، یا یہاں تک کہ فرینکلن گراھم یہ کہہ رہے ہوں؟

اور اِس کے باوجود مسیح کے طریقہ کار کے بارے میں کچھ نہ کچھ تازگی والا ہے – اِس کے بارے میں کچھ صاف اور تازگی بخشنے والا ہے۔ اُن آیات سے تعلق رکھتے ہوئے، ڈاکٹر جے۔ ورنن میکجی Dr. J. Vernon McGee نے کہا،

یہ آیات انتہائی سادگی سے کہہ رہی ہیں کہ ہمیں خدا کو اوّل درجہ دینا چاہیے۔ ایک ایمان والے کا یسوع مسیح کی طرف خلوص ایسا ہی ہونا چاہیے، موازنہ کیا جائے تو یوں لگتا ہے جیسا کہ باقی ہر ایک چیز سے نفرت ہوتی ہے (جے۔ ورنن میکجی J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل کے ذریعے سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلشرز Thomas Nelson Publishers، 1983، جلد چہارم، صفحہ 311؛ لوقا14:‏25۔27 پر ایک غور طلب بات)۔

بالکل اِسی طرح سے، ہماری مرکزی تلاوت کہتی ہے،

’’اِسی طرح اگر تم میں سے جو کوئی اپنا سب کچھ چھوڑ نہ دے، میرا شاگرد نہیں ہوسکتا‘‘ (لوقا 14:‏33).

اِس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو غار میں بغیر کپڑوں کے رہنے کے لیے چلے جانا ہوتا ہے۔ اِس کا یہ مطلب ضرور ہوتا ہے کہ آپ کو غیر مشروط طور پر خود کو مسیح جو کہ آپ کا خداوند اور نجات دہندہ ہے کے حوالے کر دینا چاہیے۔ اِس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ آپ چھوڑنے کو تیار ہیں جو کچھ بھی مسیح آپ کو چھوڑنے کے لیے کہتا ہے۔ یہ اصول یسوع نے پہاڑی واعظ میں پیش کیا تھا جب اُس نےکہا، ’’پہلے تم اُس کی بادشاہی اور راستبازی کی جستجو کرو‘‘ (متی 6:‏33)۔

غور کریں کہ یسوع نے شاگردی کی قیمت پر ایک بہت بڑے ہجوم کو جس نے اُس کی پیروی کی کہا تھا۔ ’’لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ یسوع کے پیچھے پیچھے چلی جا رہی تھی۔ اُس نے مڑ کر اُنہیں دیکھا اور کہا‘‘ شاگردی کی قیمت پر (لوقا14:‏25)۔ یسوع کا مقصد غیرمخلص لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ کو اکٹھا کرنا نہیں تھا۔ اُس کا مقصد انتہائی پُرخلوص لوگوں کے ایک گروہ کو اکٹھا کرنا تھا – شاگرد جو اپنی خود کی انتہائی جانیں اُس کا پیغام دُنیا کے کونے کونے میں پھیلانے کے لیے داؤ پر لگا دیں گے! ڈاکٹر جان آر۔ رائسJohn R. Rice نے کہا،

تمام بائبل میں یہ پُرخلوص تعلیم ہے، کہ وہ جو خُداوند کی خدمت کرتے ہیں اُنہیں قیمت جاننی چاہیے۔ وہ تمام جو یسوع مسیح کے اچھے خادم ہونگے، قابل قبول مبلغین یا مشنری، یا بشروں کو جیتنے والے جیسا کہ عام مسیحی، وہ تمام جو ایک اچھی گواہی دیں گے، اُنہیں دینا اور مصائب برداشت کرنا اور شدید مشقت سے گزرنا چاہیے اور اذیت برداشت کرنا ... اگر آپ توقع کرتے ہیں ایک ’’بہت خوب، بیشک اچھا اور وفادار خادم،‘‘ جب آپ نجات دہندہ سے ملتے ہیں، آپ کو اُس کے لیے مصائب جھیلنےکے لیے تیار رہنا چاہیے۔ وہ خدمت کی قسم جو کوئی قیمت نہیں رکھتی ہے کسی بات کے قابل نہیں ہوتی ہے اور انعام نہیں پاتی ہے جب آپ نجات دہندہ سے ملتے ہیں! (جان آر۔ رائس، ڈی۔ڈی۔ John R. Rice, D.D.، ایک اچھا مسیحی ہونے کے لیے کیا قیمت چکانی پڑتی ہے What It Costs to Be a Good Christian، خُداوند کی تلوار پبلشرز Sword of the Lord Publishers، 1952، صفحہ 10)۔

’’اِسی طرح اگر تم میں سے جو کوئی اپنا سب کچھ چھوڑ نہ دے، میرا شاگرد نہیں ہوسکتا‘‘ (لوقا 14:‏33).

یہاں اِس تلاوت کے کم از کم تین اِطلاق ہوتے ہیں۔

I۔ اوّل، مسیح کو ہمارے رشتہ داروں کے مقابلے میں زیادہ پیار کیا جانا چاہیے۔

یہ شاید ایسا ہو کہ آپ کو کبھی بھی اپنے خاندان اور مسیح کے درمیان چُناؤ نہیں کرنا پڑے گا۔ لیکن کچھ کو ایسا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے نوجوان لوگوں کو اپنے خاندانوں کو مسیح کی پیروی کرنے کے لیے چھوڑنا پڑتا ہے۔ بہت سے آرتھوڈکس نوجوان یہودی لوگوں کو اپنے خاندانوں اور یسوع کے درمیان چُناؤ کرنا پڑتا ہے۔ ایک آدمی، جب وہ اپنی جوانی میں تھا، مسیح پر بھروسہ کرنے کے لیے اپنے آرتھوڈکس یہودی گھر سے قطع تعلق ہو گیا تھا۔ وہ بہت سالوں تک اپنے والدین سے نہیں ملا تھا۔ آخرکار اُس کو پتا چلا کہ اُس کی ماں مر رہی تھی۔ بہت بھاری دِل کے ساتھ وہ اُس کو ملنے کے لیے ہسپتال میں گیا۔ جب اُس نے اُس کو کمرے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو وہ اُس پر چِلا اُٹھی، ’’دفع ہو جاؤ! اپنے مسیح کے ساتھ دفع ہو جاؤ!‘‘ اُس نے دوبارہ اپنی ماں کو کبھی بھی نہیں دیکھا۔ میں اِس آدمی کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ وہ ایک عظیم مسیحی تھا۔ اُس کا نام موئیشے روزن Moishe Rosen تھا – اور اُس نے ہمارا نکاح کروایا تھا۔ میں اور میرا خاندان کس قدر خوش تھے کہ اُس کے ساتھ کھانے میں شرکت کی، اور اُسکے ساتھ پیاری سے رفاقت قائم کی، اُس کے مرنے سے کچھ عرصہ قبل! اُس نے جو مذہبی جماعت قائم کی اُس کی وجہ سے یسوع کے لیے سینکڑوں نوجوان یہودی لوگ یہودیوں میں سے بچائے جا چکے ہیں۔ لیکن ایک مسیحی بننے کے لیے اُس کو اپنے پیارے والدین سے جدائی کی قیمت چکانی پڑی تھی!

عظیم سپرجئین نےکہا، آپ نے شاید اُس شہید [جان راجرزJohn Rogers, 1500-1555 A.D. ] کی کہانی سنی ہو گی، جس کو مسیح کی وجہ سے زندہ الاؤ میں جلانے کے لیے لے جایا جا رہا تھا؛ اور جیسا کہ اُس کے دشمن اُس کو اُس کی ثابت قدمی سے ہٹانے میں ناکام رہے تھے، اُنہوں نے ایسا کرنے کے لیے ایک اور کوشش کی، جب وہ نیک آدمی [جلائے جانے کےلیے] اپنے راستے پر جا رہا تھا۔ وہ اُس کی بیوی اور اُس کے گیارہ بچوں کو اُس کو ملوانے کے لیے سامنے لے آئے؛ اور وہ تمام کے تمام رو رہے تھے، اور اُس کے سامنے دوزانو ہو رہے تھے اور اُس سے منکر ہو جانے کی بھیک مانگ رہے تھے۔ اُس کی بیوی نے التجا کی، ’اے میرے خاوند، اِس قدر زیادہ سرکشی مت کر؛ الاؤ کے لیے مت جاؤ‘ ... اور بچوں میں سے ہر ایک نے [اُس سے کہا]، ’اے باپ میری خاطر ہی زندہ رہ لو،‘ ’اور میری خاطر بھی اے باپ۔‘ یہ ایک آزمائش تھی جس کی اُس نیک آدمی نے اُمید نہیں کی تھی؛ اور جب وہ وہاں اپنے پیاروں میں گھرا کھڑا تھا، اُس نے کہا، خُدا جانتا ہے کہ میں کس قدر زیادہ تم سب سے پیار کرتا ہوں اور کتنی خوشی کے ساتھ تمہاری ہی خاطر، میں کچھ بھی کرگزروں گا ... صاف ضمیر کے ساتھ، تمہیں خوش کرنے کے لیے؛ مگر مسیح اور اُس کی انجیل کے ساتھ موازنہ کرنے پر، جس کو کہ میں اپنے تمام دِل و جان کے ساتھ چاہتا ہوں، مجھے تم تمام کو چھوڑنا چاہیے ... اور مجھے مسیح کی سچائی کے لیے اپنے بدن کو جلائے جانے کے لیے حوالے کرنے کے لیے ضرور جانا چاہیے؛ اِس لیے رونا بند کرو اور میرا دِل مت توڑو۔‘ اُس کی جانب سے یہ بہت شاندار طریقے سے کیا گیا تھا؛ میرے ممکنہ طور پر کوئی بھی الفاظ جو میں شاید استعمال کرپاتا کہنے کے مقابلے میں، اِس واقعہ سے آپ غالباً بہت اچھی طرح سے میری تلاوت کےمعنی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔‘‘ (سی۔ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پلگرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، 1977، جلد پینتالیسویں، صفحہ567)۔

’’اِسی طرح اگر تم میں سے جو کوئی اپنا سب کچھ چھوڑ نہ دے، میرا شاگرد نہیں ہوسکتا‘‘ (لوقا 14:‏33).

’’میں سب کچھ حوالے کرتا ہوں۔‘‘ اِس گائیں!

میں سب کچھ حوالے کرتا ہوں، میں سب کچھ حوالے کرتا ہوں۔
   سب کچھ تجھے ہی، میرے بابرکت منجی، میں سب کچھ حوالے کرتا ہوں۔
(’’میں سب کچھ حوالے کرتا ہوں I Surrender All‘‘ شاعر جڈسن ڈبلیو۔ وین ڈیونٹر
      Judson W. Van DeVenter‏، 1855۔1939)۔

II۔ دوئم، مسیح کو ہماری خود اپنی زندگیوں سے زیادہ پیار کیا جانا چاہیے۔

جب سپرجئین نے اِس موضوع پر بات کی اُس نے پلائنی دی ینگر Pliny the Younger (61-112 A.D.) کے ایک خط میں سے پڑھا جس نے ابتدائی مسیحیوں کے بارے میں لکھا تھا۔ ’’اُس نے کہا وہ نہیں جانتا اُسے اُن کے ساتھ کیا کرنا ہے، کیونکہ وہ اچھے کردار کے لوگ تھے، لیکن اُن میں یہ ایک خاص بات تھی، یہاں تک کہ رومی انصاف کی کرسی کے لیے بھی، یہ بہت اچھی طرح سے جانتے ہوئے، اگر وہ مسیحی ہونے کے سزاوار تھے، تو اُنہیں مار دیا جانا چاہیے تھا؛ اور اُنہیں یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ مرنے کے خواہاں ہیں، وہ موت سے فرار یا تکلیف سے آزادی کے کسی خیال سے بھی پہلے مسیح کے لیے اپنے پیار کا اظہار کرنے کے لیے انتہائی مشتاق تھے۔ کونسے عذاب تھے جن میں اُنہیں ڈالا ... میں مشکل سے ہی آپ کو بتانے کی جرأت کر سکتا ہوں۔ سوچیں اُن میں سے ایک کے بارے میں جس کو دھکتی ہوئی لوہے کی کرسی پر بیٹھنے کے لیے مجبور کیا گیا؛ اور دوسروں کے لیے جن کو جنگلی گھوڑوں کے پیروں تلے کھینچا گیا، یا سانڈوں کے ذریعے سے آگے اور پیچھے اُچھالا گیا، یا وحشی درندوں کے ذریعے سے چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا... لیکن کیا وہ شہید ذرا سے بھی ڈر کی وجہ سے پیچھے ہٹے یا اپنا منہ موڑا؟ جی نہیں، وہ مسیح کی خاطر مضبوطی سے ڈٹے رہے، اور اپنی زندگیاں نچھاور کر دیں ... بجائے اِسکے کہ اپنے خداوند اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے غدار پائے جاتے‘‘ (سپرجیئن، ibid.، صفحہ 569)۔

میں ایک انتہائی دھشت زدہ کر دینے والی کتاب پڑھتا رہا ہوں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ بالکل یہیں امریکہ میں، اور مغرب میں، مسیحیوں کو ایسی آزمائشوں میں سے دوبارہ گزرنا ہوگا۔ وہ شاید سچے ہوں۔ یہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ اب ہم اِس کے لیے تیار ہو جائیں۔ ایک بشارت انجیل پھیلانے والا جو اتوار کی رات کو گرجہ گھر میں آنے کے لیے انتہائی سُست ہے مسیح سے وفادار نہیں ہو سکے گا جب وہ آزمائشیں آئیں گی۔ ایک امریکہ گرجہ گھر کا رُکن جو بیچ ہفتے کی دعائیہ عبادت میں نہیں جاتا ہے وہ اُس بُرے وقت کا سامنا کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ مسیح نے کہا، ’’اگر کوئی میرے پاس آتا ہے اور اُس محبت کو جو وہ اپنے والدین، بیوی بچوں اور بھائی بہنوں اور اپنی جان سے رکھتا ہے قربان نہیں کر سکتا تو میرا شاگرد نہیں ہو سکتا‘‘ (لوقا14:‏26)۔ خُدا ہمیں قدیم کلیسیا کے پاک شہیدوں – اور آج کے زمانے میں غیر ملکی سرزمین کے شہیدوں کی مثال کی پیروی کرنے کے لیے اتنی ہمت عطا کرے۔ مسٹر گریفتھ، آئیں اور وہ گیت دوبارہ گائیں۔

ایک شریف فوج، آدمیوں اور لڑکوں کی، مالکن اور خادمہ،
   نجات دہندہ کے تخت کے گرد خوشی مناتی ہیں، نور کے لبادوں میں صف باندھے ہوئے:
وہ آسمان کی ڈھلواں چڑھائی کو چڑھتے ہیں، خطروں، مشقتوں اور درد سے گزرتے ہوئے؛
   اے خُدا ہم میں سے بہتوں کو فضل عنایت ہوجائے، اُن کے نقش قدم پر چلنے سے۔

چند چُنے ہوؤں کا، ایک جلالی گروہ، جن پر پاک روح نازل ہوا تھا،
   بارہ نڈر مقدسین، جن کی اُمید وہ جانتے تھے، اور صلیب اور شعلوں کی پیروی کی:
اُنہوں نے جابروں کی لہراتی ہوئی تلواروں کا سامنا کیا، شیر ببروں کی خونی بالوں والی گردن؛
   موت کو احساس دلانے کے لیے اُنہوں نے اپنی گردنیں جھکا دیں: کون اُن کے نقش قدم پر چلتا ہے؟
(’’خُدا کا بیٹا جنگ کے لیے آگے بڑھتا ہے The Son of God Goes Forth to War‘‘
      شاعر ریجینلڈ ھیبر Reginald Heber‏، 1783۔1826)۔

فادر اینڈریو ایم۔ گریلے Andrew M. Greeley (1928-2013) کا انتقال گذشتہ ہفتے کو ہوا۔ وہ ایک آزاد خیال کیتھولک کاہن تھے جنہوں نے روایتی اخلاقیات پر حملہ کیا تھا اور بائبل کی بجائے اپنے خیالات کی بنیاد عمرانیات پر رکھی تھی۔ مثال کے طور پر گریلے نے کہا اُس کا عمرانیات کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ کیتھولک خُدا کو بطور ’’ایک محبوب، شریک حیات، ایک دوست اور ماں دیکھتے ہیں،‘‘ اور اِس نے اُنہیں پروٹسٹنٹز کے مقابلے میں جو خُدا کو بطور ’’بادشاہ، خداوند اور مالک‘‘ کے سمجھتے ہیں مذید اور آزاد خیال بنا دیا ہے (لاس اینجلز ٹائمز Los Angeles Times، 31 مئی، 2013، صفحہ A11)۔ جب میں نے وہ پڑھا تو سوچا، ’’کیا یہ شدید بحث کی وضاحت کرتا ہے؟‘‘ میں نے اِس قسم کے زِچ کر دینے والے سوالات پوچھنا اُن دو آزاد خیال سیمنریوں میں سیکھا تھا جن سے میں نے گریجوایشن کی تھی۔ ہزاروں لاکھوں پروٹسٹنٹز اُن کیتھولکوں کے ذریعے سے تفتیش کے دوران، آلاؤ میں جلا دیے گئے، اُن کے حلق میں پگھلتا ہوا سیسہ انڈیل دیا گیا، اور اُن پر شکنجوں میں پھنسا کر تشدد کیا گیا۔ اِس سے مجھے ایسا نہیں لگتا کہ اُن کیتھولک لوگوں نے خُدا کو بطور ’’ایک محبوب، شریک حیات، ایک دوست اور ماں کے دیکھا ہوگا۔ نہ ہی یہ خُدا کے معزز بیٹے جیسا لگتا ہے۔ یسوع سخت تھا، لیکن وہ کمینہ نہیں تھا! وہ اُن پر رویا تھا جنہوں نے اُس کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا تھا، ’’اور جب وہ نزدیک پہنچ گیا تو اُس نے شہر پر نظر ڈالی اور اِس پر رویا‘‘ (لوقا19:‏41)۔ ’’میں سب کچھ حوالے کرتا ہوں۔‘‘ اِس کو دوبارہ گائیں!

میں سب کچھ حوالے کرتا ہوں، میں سب کچھ حوالے کرتا ہوں۔
   سب کچھ تجھے ہی، میرے بابرکت منجی، میں سب کچھ حوالے کرتا ہوں۔

III۔ سوئم، مسیح کو کسی بھی چیز کے مقابلے میں سب سے زیادہ پیار کرنا چاہیے۔

’’لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ یُسوع کے پیچھے پیچھے چلی جا رہی تھی۔ اُس نے مُڑ کر اُنہیں دیکھا اور کہا: اگر کوئی میرے پاس آتا ہے لیکن اُس محبّت کو جو وہ اپنے والدین، بیوی بچّوں اور بھائی بہنوں اور اپنی جان سے رکھتا ہے قربان نہیں کر سکتا تو وہ میرا شاگرد نہیں ہو سکتا۔ اور جو کوئی اپنی صلیب اُٹھا کر میرے پیچھے نہیں آتا وہ میرا شاگرد نہیں ہو سکتا‘‘ (لوقا 14:‏25۔27).

سپرجیئن نے کہا کہ اِس تلاوت کی تعلیمات کا خلاصہ یوں کیا جا سکتا ہے ’’مسیح کوکسی چیز کے بھی مقابلے میں زیادہ پیار کیا جانا چاہیے ورنہ ہم اُس کے شاگرد نہیں ہو سکتے ہیں۔‘‘ اگر ہمیں یا تو مسیح یا تمام دُنیا کو چُننے کا موقع دیا جائے، ’’خُدا کا شکر ہو، یہاں ہم میں سے بہت سے ہیں جو [مسیح کو چُننے کے لیے] ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں کریں گے۔‘‘ ’’اِس لیے [اُن آیات] کا مطلب ہوتا ہے کہ مسیح کے خادم تمام دِل کے ساتھ ہونے چاہیے؛ اور اگر آپ اُس کے پاس اُس کے شاگرد ہونے کے لیے آتے ہیں، تو آپ کو اپنے تمام وجود کو لانا چاہیے۔‘‘

اینڈریو ایم۔ گریلے، اُس آزاد خیال عمرانیاتی کاہن نے کہا کہ مسیح کو بطور ’’ایک شریک حیات، اور ایک دوست‘‘ کے دیکھا جانا چاہیے۔ جس حد تک وہ گئے وہ سچے تھے۔ مگر فادر گریلے نے مسیح کو بطور ’’بادشاہ، خداوند اور مالک‘‘ کے مستردکر دیا (لاس اینجلز ٹائمز Los Angeles Times ، ibid.) گریلے غلط تھے – مسیح دونوں ایک دوست اور ایک بادشاہ ہے۔ لیکن اُس کے لیے بائبلی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ فادر گریلے کے پاس کبھی بھی نہیں تھی۔ صرف ایک حقیقی تبدیلی میں ہی کوئی جان سکتا ہے کہ یسوع ہم سے پیار کرتا ہے، اور کہ وہ ہم سے بطور ہمارے خداوند اور بادشاہ کے پوری وفاداری کا تقاضا کرتا ہے – دونوں ایک ہی وقت میں!

سپرجیئن نے کہا، ’’شیطان بہت حد تک مسیح کے ساتھ اپنی بادشاہت شریک کرنے کے لیے تیار ہے ... لیکن مسیح ایسا ہونے نہیں دے گا؛ اگر ہمیں اُس کی رعایا ہونا ہے، تو وہ ہم پر ہمارے سروں پر موجود تاج سے لیکر ہمارے پیروں کے تلووں تک پر حکمرانی کرے گا، اور وہ شیطان کو اجازت نہیں دے گا کہ ہم میں کسی ایک شے پر بھی گرفت کرے جسے وہ شاید اپنی کہے۔ [شیطان کو جانا چاہیے اور مسیح کو ہمارے دِلوں کے تخت پر ہونا چاہیے]۔ وہ آ گیا ہے جو بادشاہوں کا بادشاہ اور خُداؤں کا خدا ہے! تاج اُس کی پیشانی پر آویزاں ہے، نا ہی وہ [ایک حریف] کو اجازت دے گا حتٰی کہ ایک گھنٹے کے لیے بھی۔ تو پھر آئیں، آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا آپ تمام دِل کے ساتھ مسیح کے ہیں؟ اگر نہیں، تو آپ اُس کے شاگردوں میں سے ایک نہیں ہیں۔ سُنیں جبکہ میں وہ تلاوت ایک مرتبہ پھر پڑھتا ہوں، ’اگر کوئی میرے پاس آتا ہے لیکن اُس محبّت کو جو وہ اپنے والدین، بیوی بچّوں اور بھائی بہنوں اور اپنی جان سے رکھتا ہے قربان نہیں کر سکتا تو وہ میرا شاگرد نہیں ہو سکتا،‘‘‘ لوقا14:‏26 (سپرجیئن، ibid.، صفحہ570)۔

اور میں ہر نئے ایمان لانے والے کی حوصلہ افزائی کروں گا – سب چیزوں سے بڑھ کر، یسوع پر کبھی بھی شرمندگی محسوس مت کیجیے! ابنِ آدم نے خود کہا، ’’جو کوئی مجھ سے اور میرے کلام سے شرمائے گا، تو ابنِ آدم بھی جب وہ اپنے باپ اور پاک فرشتوں کے جلال کے ساتھ آئے گا تو اُس سے شرمائے گا‘‘ (لوقا9:‏26)۔

یسوع سے شرمندہ! وہ پیارا دوست
جب پر میری جنت کی اُمیدوں کا انحصار ہے!
جی نہیں؛ جب میں سُرخ پڑ جاتا ہوں، یہ میری شرم و حیا ہونی چاہیے،
کہ میں اُس کا نام لینے سے خوفزدہ ہوں!
   (’’یسوع، اور یہ ہمیشہ تک ہونا چاہیے Jesus, And Shall It Ever Be‘‘
      شاعر جوزف گریِگ Joseph Grigg‏، 1720۔1768؛ آخری لائن میں پادری نے ترمیم کی)۔

آپ جہاں کہیں بھی ہیں مسیح کے لیے قدم جما لیں! فادر اینڈریو گریلے جیسے شک کرنے والے یا گھٹیا شخص کو کبھی بھی مسیح کے چیتھڑے اڑانے مت دیجئے۔ جی نہیں! یسوع کے لیے کھڑے ہو جائیں! اسے گائیں!

کھڑے ہوجاؤ، یسوع کے لیے قدم جما لو، اے صلیب کے سپاہیو،
اُس کے شاہی عَلَم کو بلند ترین کرلیں، اِس کو نقصان کی تکلیف برداشت نہیں کرنی چاہیے؛
’’تُم جو لوگ ہو، اب اُس کی خدمت کرو،‘‘ لاتعداد دشمنوں کے خلاف؛
حوصلے کو خطرے کے ساتھ بڑھنے دیں، اور قُوّت کا مقابلہ قُوّت سے ہونے دیں۔
   (’’کھڑے ہو جاؤ، یسوع کے لیے قدم جما لوStand Up, Stand Up For Jesus‘‘
      شاعر جارج ڈوفیلڈ George Duffield‏، 1818۔1888).

’’جو کوئی اپنی صلیب اُٹھا کر میرے پیچھے نہیں آتا وہ میرا شاگرد نہیں ہو سکتا‘‘ (لوقا 14:‏33).

ہماری تلاوت کا اصل اطلاق یہ ہے – کیا آپ مسیح کے ایک شاگرد ہیں؟ کیا آپ خود اپنی زندگی اور خود اپنے خاندان کے مقابلے میں یسوع سے زیادہ پیار کرتے ہیں؟ کیا آپ اِس دنیا میں کسی بھی چیز کے مقابلے میں اُسے بہتر پیار کرتے ہیں؟ کیا آپ نے مکمل دل کے ساتھ اپنے آپ کو مسیح کے حوالے کر دیا ہے؟ کیا آپ نے جس طرح سے آپ زندگی گزارتے ہیں اُس کے ذریعے سے اپنی وفاداری اُس [یسوع] کے لیے ثابت کی ہے؟ کیا آپ مسیح کے ایک حقیقی شاگرد ہیں؟ اگر نہیں، میری شدید خواہش ہے کہ آپ اپنے آپ کو فوراً مسیح کے حوالے کر دیں! یاد رکھیے، مسیح نے کہا،

’’اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خُود اِنکاری کرے، اپنی صلیب اُٹھالے اور میرے پیچھے چلا آئے کیونکہ جو کوئی اپنی جان کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے وہ اُسے کھوئے گا لیکن جو کوئی میری اور میری اِنجیل کی خاطر اپنی جان گنواتا ہے وہ اُسے محفوظ رکھے گا۔ آدمی اگر ساری دنیا حاصل کرلے مگر اپنی جان کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ یا آدمی اپنی جان کے بدلے میں کیا دے گا؟‘‘ (مرقس 8:‏34۔37).

ہر ایک چیز کو جو خدا کو ناخوش کرتی ہے پرے پھینک دیں! اُس کے بیٹے کے لیے تمام دل کے ساتھ آئیں! اِس دُنیا پر بھروسا کرنا چھوڑ دیں، اور مکمل طور پر اپنا بھروسا یسوع میں رکھیں، جو مسیح کہلاتا ہے! وہ اپنے خون کے ساتھ جو اُس نے بہایا، جب وہ آپ کی جگہ پر مرا، صلیب پر آپ کے گناہوں کی ادائیگی کے لیے، آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرے گا.

اگر آپ ایک حقیقی مسیح، اور مسیح کا ایک حقیقی شاگرد بننے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات چیت کرنا پسند کریں، تو اپنی نشست چھوڑ دیں اور ابھی اس اجتماع گاہ کی پچھلی جانب قدم بڑھائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پُر سکون مقام پر لے جائیں گے جہاں پر ہم بات چیت اور دُعا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ یہاں پر بالکل پہلی مرتبہ آئے ہیں، اور آپ کے پاس کوئی سوال ہے، تو صرف اپنی نشست چھوڑئیے اور بالکل ابھی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر چیعن Dr. Chan، مہربانی سے آئیں اور اُن کے لیے دُعا کریں جنہوں نے ردعمل کا اظہار کیا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: لوقا 14:25۔33 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’خدا کا بیٹا جنگ کے لیے آگے بڑھتا ہے The Son of God Goes Forth to War‘‘
(شاعر ریجینلڈ ھیبر Reginald Heber، 1783۔1826).

لُبِ لُباب

OUTLINE

شاگردی کی قیمت

THE COST OF DISCIPLESHIP

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اِسی طرح اگر تم میں سے جو کوئی اپنا سب کچھ چھوڑ نہ دے، میرا شاگرد نہیں ہوسکتا‘‘ (لوقا 14:‏33).

(لوقا 14:‏25، 26۔27؛ متی 6:‏33)

I.   اوّل، مسیح کو ہمارے رشتہ داروں کے مقابلے میں زیادہ پیار کیا جانا چاہیے

II.  دوئم، مسیح کو ہماری خود اپنی زندگیوں سے زیادہ پیار کیا جانا چاہیے، لوقا19:‏41۔

III. سوئم، مسیح کو کسی بھی چیز کے مقابلے میں سب سے زیادہ پیار کرنا چاہیے،
لوقا14:‏25۔27؛ 9:‏26؛ مرقس 8:‏34۔37۔