Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

لوگ کیوں نہیں مسیح کے حوالے ہوتے

WHY MEN DO NOT YIELD TO CHRIST
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونئیر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
26 مئی، 2013، خُداوند کے دِن کی شام
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, May 26, 2013

’’جسمانی نیّت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

میتھیو ھنری Matthew Henry نے کہا،

ایک جسمانی بشر مردہ انسان ہوتا ہے، اتنا مرُدہ جتنا کہ بشر ہو سکتا ہے۔ [اِس کے علاوہ] یہ خُدا سے عداوت ہے، اور یہ پہلے کہے ہوئے جملے سے زیادہ بدترین ہے۔ پہلے کہا ہوا جملہ جسمانی گنہگار کی ایک مردہ آدمی کے طور پر بات کرتا ہے، جو کہ بُرا ہے؛ لیکن یہ [آیت 7] اُس [کی] ایک آدمی کی شیطانیت [کے طور] پر بات کرتی ہے۔ یہ ناصرف ایک دشمن ہے، بلکہ خود عداوت ہے۔ یہ ناصرف خُدا سے بشر کی بیگانگی ہے، بلکہ خُدا کے خلاف بشر کی مخالفت ہے؛ وہ اُس کے اختیار کے خلاف بغاوت کرتا ہے، اُس کی منشا کو ناکام بناتا ہے، اُس کی دلچسپی کی مخالفت کرتا ہے، اُس کے چہرے پر تھوکتا ہے، اُس کی مرکزیت کو حقارت سے رد کرتا ہے [اُس کے پیار کو مسترد کرتا ہے]۔ کیا اِس سے بڑھ کر کوئی عداوت ہو سکتی ہے؟... وہ جو گناہ کی حکومت کرتی ہوئی قوت کے تحت، جسمانی گمراہی کی حالت میں ہیں، وہ باتیں نہیں کر سکتے جو خُدا کو خوش کرتی ہیں (تمام بائبل پر میتھیو ھنری کا تبصرہ Matthew Henry’s Commentary on the Whole Bible، ھینڈریکسن پبلشرز Hendrickson Publishers، دوبارہ اشاعت 1996، جلد ششم، صفحہ 335)۔

’’ایک جسمانی بشر مردہ انسان ہوتا ہے، اتنا مرُدہ جتنا کہ بشر ہو سکتا ہے۔‘‘ ’’یہ نا صرف ایک دشمن ہے بلکہ خود عداوت ہے۔‘‘ یہ مسیح میں ایک غیر تبدیل شُدہ آدمی یا عورت کی ’’گناہ کی حکومت کرتی ہوئی قوت کے تحت، جسمانی گمراہی کی حالت میں‘‘ تشریح ہے۔

’’جسمانی نیّت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

1599 کی جینیوا بائبل ’’جسمانی carnal‘‘ کا ترجمہ بطور ’’انسان flesh‘‘ کرتی ہے – اورکہتی ہے، ’’جسم سے اُس کی مراد انسان جو دوبارہ پیدا نہیں ہوا،‘‘ ایک انسان مسیح میں غیر تبدیل شُدہ، کھوئی ہوئی حالت میں۔ اور سپرجئین نے کہا،

قدیم مُترجم حوالے کی یوں تشریح کرتے ہیں: ’’انسان کی نیت خُدا کی مخالفت کرتی ہے،‘‘ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ، وہ قدرتی نیت، وہ جسم جو ہم اپنے آباؤ اجداد سے وراثت میں پاتے ہیں، وہ جو ہمارے باطن میں پیدا ہوتا ہے... وہ انسانی نیت، [اصلی یونانی تلاوت میں اِس کے بارے میں کہا گیا ہے بطور] فرونیما سارکوس phronema sarkos ... خُدا سے گمراہ ہو گئی ہے اور اُسکی مخالفت کرتی ہے... مشاہدہ کریں کس قدر شدت کے ساتھ رسول اِس کا اظہار کرتا ہے۔ ’’وہ انسانی نیت،‘‘ وہ کہتا ہے، ’’خُدا کی مخالفت کرتی ہے۔‘‘ وہ ایک اِسم [ایک نام] کا استعمال کرتا ہے، اِسم صفت کا نہیں [یا تفصیل]۔ وہ نہیں کہتا ہے کہ یہ محض خُدا کی مخالفت کے لیے ہے، بلکہ یہ ایک مثبت مخالفت ہے۔ یہ کالی نہیں ہے بلکہ تاریکی ہے؛ یہ مخالفت پر نہیں ہے، بلکہ خود مخالفت ہے؛ یہ مسخ شدہ نہیں ہے، بلکہ بدکاری ہے؛ یہ باغی نہیں ہے، یہ بغاوت ہے؛ یہ بدکار نہیں ہے، بلکہ خود بدکاری ہے ... یہ مخالفت پر نہیں ہے، یہ اصل میں خود مخالفت ہے (سی۔ ایچ۔ سپرجئین، ’’انسانی نیت کی خدا کی مخالفت کرتی ہے،‘‘ نئی پارک سٹریٹ کی واعظ گاہ The New Park Street Pulpit ، پلگرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت1981، جلد اوّل، صفحہ150)۔

’’انسانی نیت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں8:‏7)، خُدا کے لیے مخالفت کرنا ہے۔

کُلیدی لفظ ’’مخالفت‘‘ ہے۔ یونانی لفظ ’’ایختھرا echthra‘‘ – ’’دشمنی،‘‘ ’’مزاحمت‘‘ (سٹرانگ کی مکمل اور جامع کانکورڈینس Strong’s Exhaustive Concordance، نمبر2190)۔ NIV بائبل اور NASV بائبل دونوں ’’ایختھرا echthra‘‘ کا ترجمہ بطور ’’مخالفhostile ‘‘ کے کرتے ہیں، لیکن دونوں کے یہ نئے ترجمے اِس کا بطور ’’مخالف ہے‘‘ کے غلط ترجمہ کرتے ہیں۔ یہ غلط ہے۔ اِس کا ترجمہ کرنے کا درست طریقہ ہوگا،

’’جسمانی نیّت خدا کے خلاف دشمنی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7)،

جیساکہ رائی نیکر واضح کرتے ہیں (ایف۔ رائی نیکر F. Rienecker، یونانی نئے عہد نامے کے لیے زباندانی کی کُلید A Linguistic Key to the Greek New Testament، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1980، صفحہ 365)۔ آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسیکی R. C. H. Lenski، ایک لوتھرن تبصرہ نگار جو کہ لوتھر Luther کے وفادار ہیں، نے بھی کہا،

[ایک کھوئے ہوئے شخص کی] [وہ] مکمل سوچ، پولوس کہتا ہے، [’’ایختھرا echthra‘‘] ہے، جس کا مطلب ذاتی عناد ... ناپسندیدگی ہوتا ہے، اور خُدا کے خلاف مخالفت کی راہ دکھاتا ہے (آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسیکی، رومیوں کے نام مقدس پولوس کے مراسلے کی تفسیر The Interpretation of St. Paul’s Epistle to the Romans، اُوگسبرگ اشاعتی گھرAugusburg Publishing House، دوبارہ اشاعت 1961، صفحہ 506)۔

’’جسمانی نیّت خدا کی [دشمنی، عناد، ناپسندیدگی، مزاحمت] مخالفت کرتی ہے‘‘
       (رومیوں 8:‏7).

اِس تلاوت سے ہم بے شمار نقاط نکال سکتے ہیں جو انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، اور جو کہ کھوئے ہوئے گنہگاروں کو یہ دکھانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں کہ کیوں وہ مسیح کی پرواہ نہیں کرتے؛ کیوں وہ مسیح کو مسترد کرتے ہیں، اور مسیح میں غیر تبدیل شُدہ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں،

’’کیونکہ جسمانی نیّت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

I۔ اوّل، خُدا کی مخالفت عالمگیری ہے۔

میں جانتا ہوں کہ ایک اوسط آدمی آج اِس پر یقین نہیں کرتا ہے۔ ہم بیسویں صدی کی نفسیات سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ کچھ لوگ ’’نیک‘‘ ہیں اور دوسرے ’’بُرے‘‘ ہیں۔ میں نے ایک دفعہ ایک نوجوان آدمی سے پوچھا وہ کیوں سوچتا ہے کہ اُسکا بھائی مسیح میں تبدیل ہو گیا اور وہ نہیں ہوا۔ اُس نے کہا کہ اُس کے بھائی کے پاس ’’ایک نیک دِل‘‘ تھا۔ یہ جدید ’’پُاپ pop‘‘ نفسیات ہے۔

لیکن آپ دیکھیں کہ یہ بائبل میں نہیں ہے۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ تمام کی تمام نسل انسانی آدم میں خراب ہو گئی تھی۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ

’’سب نے گناہ کیا، اور خدا کے جلال سے محروم ہیں‘‘ (رومیوں 3:‏23).

بائبل کہتی ہے،

’’کوئی راستباز نہیں، ایک بھی نہیں‘‘ (رومیوں 3:‏10).

بائبل کہتی ہے

’’بنی آدم کے دل بدی سے اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں‘‘ (واعظ 9:‏3).

’’خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:‏5).

یہی وجہ ہے کہ یہ ہر کسی کے لیے سچ ہے کہ،

’’ہم نے اُس سے جیسے وہ ہمارے چہرے تھے منہ چھپا رکھا تھا‘‘
       (اشعیا 53:‏3)،

اور

’’کوئی سمجھدار نہیں، کوئی خدا کا طالب نہیں‘‘ (رومیوں 3:‏11).

کیوں؟

’’کیونکہ جسمانی نیّت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

ڈاکٹر گِل Dr. Gill نےکہا،

یہ مخالفت عالمگیری ہے، ’یہ تمام لوگوں میں اُن کی روحانی طور پر غیر اصلاح پسندی میں ہے یا تو براہ راست یا بلا واسطہ، چھپا ہوا یا زیادہ ہی سامنے ... یہ ذہن میں قدرتی ہے یہ گہرائی میں جڑ پکڑ چکا ہے، اور خُدا کے فضل اور قوت کے بغیر ناقابلِ مفاہمت ہے (جان گِل، ڈی۔ ڈی۔ John Gill, D.D.، نئے عہد نامے کی ایک تفسیر An Exposition of the New Testament، بپتسمہ دینے والے معیاری بئیرر The Baptist Standard Bearer، دوبارہ اشاعت 1989، جلد دوئم، صفحہ 483)۔

’’کیونکہ جسمانی نیّت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

II۔ دوئم، خُدا کی مخالفت کی مختلف طریقوں سے تصدیق کی جاتی ہے۔

بائبل کہتی ہے،

’’خدا نے نوعِ اِنسان کو راست کار بنایا، لیکن اِنسان نے بہت سی بندشیں تجویز کیں‘‘ (واعظ 7:‏29).

اِس کا مطلب ہے کہ لوگوں کے پاس خدا کے لیے اپنی مخالفت ظاہرکرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ اشعیا نبی نے کہا،

’’ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی‘‘ (اشعیا 53:‏6).

نسل انسانی میں خدا کی جانب دشمنی بہت سی اشکال میں کی جاتی ہے، اور یہ عالمگیری ہے۔

کبھی کبھی اِس مخالفت کی تصدیق بیرونی بغاوت سے ہوتی ہے۔ یہاں اِس دُنیا میں لوگ ہیں جو یسوع مسیح سے نفرت کرتے ہیں۔ یہاں، دُنیا کے بہت سے حصوں میں، لوگ ہیں جو مسیحیوں کے ساتھ ہولناک سلوک کرتے ہیں، یوں مسیح کی جانب بیرونی طور پر اپنی ناپسندیدگی اور دشمنی ظاہر کرتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک چینی آدمی نے ایک جھاڑو سے میرے سر پر ضرب پہنچانے کی کوشش کرتے ہوئے مجھے اپنی کریانہ کی دکان میں سے باہر نکال دیا تھا، کیونکہ میں اُس کے بچے کو گرجہ گھر لے جانے کے لیے لینے آیا تھا۔ میں اب اُس کے بارے میں ہنس سکتا ہوں، لیکن یہ اُس وقت انتہائی خوفزدہ کر دینے والا تھا۔ فریسیوں نے مسیح کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور غیر قوموں نے پولوس کو موت تک سنگسار کرنے کی کوشش کی تھی۔ کبھی کبھی انسان کی خُدا کی جانب مخالفت اِس طرح کی بیرونی بغاوت سے دکھائی دے جاتی ہے۔

اور کسی وقت میں لوگ خُدا کے لیے اپنی مخالفت سرد مہری سے ظاہر کرتے ہیں۔ یہ بیرونی بغاوت کے بالکل متضاد ہے – لیکن اِس کا منبع وہی ہے۔ وہ لڑکا جو ایک کے بعد دوسرے واعظ کےلیے بیٹھتا ہے، اپنی روح کے بارے میں بغیر کسی سوچ کے، بالکل اُتنا ہی مسیح کے مخالف ہے جتنا کہ ایک ہندہ یا بُدھ مت جو ایک مسیحی کو قتل کرتا ہے۔ اُس کے دِل کی سرد اندرونی خستگی ظاہر کرتی ہے کہ وہ بھی خُدا کا ایک اور دشمن ہے، شہر کے جم غفیروں سے کوئی مختلف نہیں ہے۔

سرد مہری کی سب سے بڑی مثال گورنر پینطس پیلاطوس تھا۔ اُس نے مسیح کے خلاف بُرا بھلا نہیں کہا۔ اُس نے اُس کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کی۔ اُس نے صرف اپنے ہاتھ دھوئے اور وہاں سے چلا گیا – سرد اور الگ طریقے سے۔ لیکن اُس کی سردمہری سے اُس نےاپنی اندرونی دشمنی ظاہر کر دی تھی،

’’کیونکہ جسمانی نیّت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

III۔ سوئم، خُدا کی مخالفت پر صرف مسیح میں خدا کے فضل کے وسیلے سے فتح پائی جا سکتی ہے۔

گناہ میں گرنے کی وجہ سے، انسان مکمل طور پر آدم میں اِس قدرمسخ شُدہ ہے، کہ وہ خُدا کی طرف ایک قابل رحم مخالف کی حالت میں چھوڑ دیا گیا ہے، قطعی طور پر مسخ شُدہ، خُدا کےساتھ سارے باہمی رابطوں سے کٹا ہوا، اپنے دِل میں اپنے خالق سے مکمل مخالفت کے ساتھ۔ اِس کے علاوہ، انسان اِس گناہ سے بھرپور حالت میں، کوئی خواہش نہیں رکھتا، نا ہی اپنی نجات کے لیے کچھ بھی کرنے کا باعث بننے کی کوئی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر لینسیکی Dr. Lenski نے کہا،

خود اپنی ذہنی پیداوار کی وجہ سے جسمانی نیت والا[مسیح میں غیر تبدیل شُدہ] انسان خود کو زندگی اور سکون سے علٰحیدہ کر لیتا ہے کیونکہ اُس کی تمام سوچیں (اور ایسے ہی اُس کے تمام اعمال) خُدا کی مخالفت [مزاحمت] کرتی ہیں، جو کہ زندگی اور سکون ایک واحد سرچشمہ ہے۔ کیسے پھر ماسوائے موت کے کچھ اور [اُس کےلیے] چھوڑا جائے؟ اپنی عداوت [اپنی دشمنی] کی وجہ سے وہ جو جسمانی نیت والا ہے خود [اپنے لیے] موت [چُنتا] ہے (آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسیکی R. C. H. Lenski، ibid.، صفحہ506)۔

1689 کی لندن کی بپتسمہ دینے والی ایمان کی دستاویز The London Baptist Confession of Faith of 1689 کہتی ہے،

اِس اصلی بدکاری سے [جو آدم کے گناہ میں گرنے سے منتقل ہوئی] ہم قطعی طور پر بیمار سے، اپاہج اور تمام اچھائی کے برعکس بنائے گئے ہیں، اور کُلّی طور پرتمام بُرائی کے لیے مائل ہوتے ہیں (1689 کی لندن کی بپتسمہ دینے والی ایمان کی دستاویز The London Baptist Confession of Faith of 1689، چیپل لائیبرری، جُزn.d. ، صفحہ 11)۔

یہ کیا ہے ماسوائے ہماری تلاوت کے ایک پائیدار بیان کے، جو ہمارے بپتسمہ دینے والے آباؤ اجداد نے 1689 میں پیش کیا تھا؟

’’کیونکہ جسمانی نیّت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

لندن کی بپتسمہ دینے والی دستاویز کہتی ہے کہ ایک مسیح میں غیر تبدیل شُدہ انسان ’’قطعی طور پر بیمار سا، اپاہج، اور تمام اچھائی کے برعکس، اور مکمل طور پر برائی کی جانب مائل ہوتا ہے‘‘ (ibid.)۔ اِن الفاظ کے ساتھ ہمارے بپتسمہ دینے والے آباؤاِجداد نے ہماری تلاوت کی تشریح کر دی تھی،

’’کیونکہ جسمانی نیّت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

کیسے ایک کھویا ہوا بشر خُدا کی جانب ایسی مخالفت اور عداوت کی قابل رحم اور جان لیوا حالت سے فرار پا سکتا ہے؟ صرف یسوع مسیح میں خُدا کے فضل کی دخل اندازی سے۔

مگر کیسے فضل ایک گنہگار کی جو کہ اپنے دِل کی اتھاہ گہرائیوں سے خُدا کے خلاف ہے حیثیت بدل سکتا ہے اور دخل اندازی کر سکتا ہے؟ لوتھر نے ایک بہت اچھی وضاحت پیش کی ہے کہ کیسے خُدا کا فضل ایک بشر کو مسیح میں تبدیل کر سکتا جو کہ خُدا کی جانب فطرتاً عناد رکھتا ہے۔ اِس بات سے تعلق رکھتے ہوئے کہ مسیح میں تبدیلی کے وقت بشر پر کیا گزرتی ہے، لوتھر Luther نے کہا،

اگر آپ مسیح میں تبدیل ہونگے، تو یہ ضروری ہے، کہ آپ [پریشان] ہو جاتے ہیں، یعنی کہ، آپ کے پاس ایک خبردار کر دینے والا اور لرزا دینے والا ضمیر ہوتا ہے۔ تب، اِس حالت کے بن چکنے کے بعد، آپ کو اُس وجہ تسکین کو گرفت میں کرنا چاہیے جو خود آپ کے کسی عمل کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ خُدا کے عمل سے ہوتی ہے۔ اُس [خُدا] نے دھشت زدہ گنہگاروں کو خُدا کی رحمت کا اعلان کرنے کے لیے اپنے بیٹے یسوع کو اِس دُنیا میں بھیجا۔ یہ مسیح میں تبدیلی کا طریقہ ہے۔ باقی تمام طریقے جھوٹے طریقے ہیں (مارٹن لوتھر Martin Luther, Th.D.، جو لوتھر کہتا ہے What Luther Says، کونکورڈیا اشاعتی گھر Concordia Publishing House، دوبارہ اشاعت 1994، نمبر1014، صفحہ 343)۔

میں اِس ایک بات پر لوتھر کے ساتھ مکمل طور پر متفق ہوں،

’’کیونکہ جسمانی نیّت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

ایک باغی گنہگار کےلیے ایک حقیقی مسیحی میں تبدیل ہونے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ہمیں لوتھر کی بتائی ہوئی مسیح میں تبدیلی میں سے گزرنا چاہیے۔ ’’باقی دوسرے تمام طریقے جھوٹے طریقے ہیں۔‘‘ میں دِل کے ساتھ اِس موضوع پر لوتھر کے ساتھ متفق ہوں۔ خُدا سے عناد رکھے ہوئے ایک کھوئے ہوئے شخص کے لیے بچائے جانے کے لیے کوئی اور دوسرا راستہ نہیں ہے ماسوائے یسوع مسیح کے لیے ایک ایسی انقلابی تبدیلی میں سے گزرنے کے، جس نے کہا،

’’سچّی بات تو یہ ہے کہ اگر تُم تبدیل ہو... تُم آسمان کی بادشاہی میں ہر گز داخل نہ ہوگے‘‘ (متی 18:‏3).

اِس لیے میں لوتھر کی مسیح میں تبدیلی کی وضاحت کو مختلف جُزیاتی نقاط میں پیش کروں گا۔

1.  لوتھر کا بیان اِس حقیقت پر مشتمل ہے کہ کھوئے ہوئے گنہگار نے اپنی زندگی، کسی بھی حقیقی طریقے میں، خُدا کی سوچ کے بغیر گزار دی ہے۔ خُدا اُس کے خیالات میں نہیں رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ گرجہ گھر میں بھی ہوتا ہے۔ اُسکو خُدا کا کوئی حقیقی تجربہ نہیں ہوتا ہے۔

2.  لیکن، اب، خُدا کا فضل اُس پر نازل ہوتا ہے اور اُسے اُس کی کھوئی ہوئی حالت کے لیے [پریشان] کرتا ہے۔ وہ صرف ایک سے دوسرے دِن میں اپنی زندگی گزار رہا تھا۔ لیکن اب وہ ہمیشہ کی زندگی دیکھتا ہے! وہ عذاب دیکھتا ہے! وہ خود اپنی موت کو دیکھتا ہے! وہ قیامت کے روز اپنے آپ کو خُدا کی حضوری میں کھڑے ہوئے دیکھتا ہے۔ وہ خُدا سے خوف کھاتا ہے۔ یہ جذبات صرف خُدا کے فضل سے ہی پیدا ہوتی ہے۔

3.  وہ دیکھا ہے کہ اُس نے خُدا کو ٹھیس پہنچائی ہے، کہ اُس نے خُدا کو نظر انداز کیا ہے، کہ وہ خُدا کو پیار نہیں کرتا ہے، کہ اُس نے خُدا کے اپنے ذہن اور اپنی زندگی سے باہر دھکیل دیا ہے۔

4.  وہ دیکھتا ہے کہ اپنے گناہوں کی خلاصی کے لیے وہ کوئی اچھا کام یا بات نہیں کر سکتا ہے۔ اُس کواحساس ہو جاتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں جو وہ کہتا ہے اور ایسا کچھ بھی نہیں جو وہ سیکھتا ہے کہ اُس کے اُس گناہ کا ازالہ کر دے جو اُس سے سرزد ہوا ہے، کیونکہ بائبل کا مطالعہ اور دعا گناہ کو دور نہیں کر سکتے۔ صرف یسوع ایسا کر سکتا ہے۔

5.  آخر بہت عرصے میں، جب دوسری تمام چالیں اور داؤ ناکام ہو جاتے ہیں، تو وہ شاید آخر کار یسوع کی طرف منہ موڑ لیتا ہے – کیونکہ دوسرا سب کچھ ناکام ہوتا ہے۔ غور کریں کی دشمن گنہگار یسوع کی طرف منہ نہیں موڑتا ہے جب تک کہ وہ خُدا کی روح کے وسیلے سے ایسا کرنے کے لیے مجبور نہیں کیے جاتے۔ کوئی بھی سچے طور پر یسوع کے لیے نہیں آتا جب تک کہ ایسا کرنے کے لیے وہ خُدا کی طرف سے مجبور نہیں کیا جاتا۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan نے کہا، میرے لیے خُدا کئی مہینوں کی بے خوابی کی راتوں کے مقابلے سے گزرنے کے بعد حقیقی بنا تھا۔ میں اپنی زندگی کے اِس دورانیے کو صرف دو سالوں کی ذہنی اذیت کے طور پر بیان کر سکتا ہوں۔ میں اِس وقت کے دوران ایک طرف کھینچا جاتا تھا اور پھر دوسری طرف ... اندرونی جدوجہد ... لیکن میں نے یسوع کے خلاف باطنی طور پر لڑائی جاری رکھی تھی۔ میں [یسوع] کو نہیں چاہتا تھا کیونکہ میں نے محسوس کیا کہ وہ میرے سے بلند اور عظیم تھا۔ میں اُس [کے پاس آنے] کے لیے بہت مغرور تھا (سی۔ ایل۔ کیگن، پی ایچ۔ ڈی۔ C. L. Cagan, Ph.D.، ڈاروِن سے تخلیق تک From Darwin to Design، وائٹیکر گھر Whitaker House، 2006، صفحات 41، 19)۔

شریعت کے وسیلے سے ڈاکٹر کیگن کے باغی دِل کا ٹوٹا جانا تھا، اور یسوع، خُدا کے بیٹے، کے ذریعے سے اُن کو تبدیل ہونا ہی تھا۔ اب وہ گیت جو مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے گایا اُس بات کو بجا طور پر بیان کرتا ہے جو مسٹر کیگن نے محسوس کی۔ اِس کو دوبارہ گائیں، مسٹر گریفتھ۔

کچھ بھی نہیں اِن ہاتھوں نے جو کچھ بھی کیا
   اِس مجرم انسان کو بچا سکتا ہے؛
کچھ بھی نہیں اِس مشقت زدہ جسم نے جو برداشت کیا
   میری روح کی تکمیل کر سکتا ہے۔

کچھ بھی نہیں جو میں کرتا ہوں یا محسوس کرتا ہوں
   مجھے خُدا کے ساتھ امن پہنچا سکتا ہے؛
نا ہی تو میری تمام دعائیں اور آہیں اور آنسو
   میرے ناخوشگوار بوجھ کو برداشت کر سکتے ہیں۔

تنہا تیرا ہی کام ہے، او مسیح،
   جو گناہ کا یہ بوجھ ہلکا کر سکتا ہے؛
واحد تیرا ہی خون، اے خُدا کے برّے،
    مجھ میں اندرونی سکون برپا کر سکتا ہے۔
(’’کچھ بھی نہیں اِن ہاتھوں نے جو کچھ بھی کیا Not What These Hands Have Done‘‘
      شاعر ھوریٹیئس بونار Horatius Bonar‏، 1808۔1889)۔

کوئی بھی نہیں ماسوائے یسوع کے ایک کھوئے ہوئے گنہگار کو قادر مطلق خُدا کے فیصلے سے بچا سکتا ہے۔ میں آپ کے ساتھ التجا کرتا ہوں کہ یسوع کے پاس آئیں اور بچائے جائیں!

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا مسٹر ایبل پرودھومیMr. Abel Prudhomme نے کلام پاک سے تلاوت کی تھی: رومیوں8:‏5۔9 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’کچھ بھی نہیں اِن ہاتھوں نے جو کچھ بھی کیا Not What These Hands Have Done‘‘
(شاعر ھوریٹیئس بونار Horatius Bonar‏، 1808۔1889)۔

لُبِ لُباب

لوگ کیوں نہیں مسیح کے حوالے ہوتے

WHY MEN DO NOT YIELD TO CHRIST

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونئیر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جسمانی نیّت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:‏7).

I۔   اوّل، خُدا کی مخالفت عالمگیری ہے، رومیوں3:‏23، 10؛
واعظ9:‏3؛ پیدائش6:‏5؛ اشعیا53:‏3؛ رومیوں3:‏11۔

II۔  دوئم، خُدا کی مخالفت کی مختلف طریقوں سے تصدیق کی جاتی ہے،
واعظ7:‏29؛ اشعیا53:‏6 .

III۔ سوئم، خُدا کی مخالفت پر صرف مسیح میں خدا کے فضل کے وسیلے
سے فتح پائی جا سکتی ہے، رومیوں8:‏7؛ متی18:‏3 .