Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

شیطانی کشمکش اور تبدیلی

DEMONIC CONFLICT AND CONVERSION
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
‏ 26 مئی، 2013، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, May 26, 2013

’’ابھی وہ آہی رہا تھا کہ بدرُوح نے اُسے مروڑ کر زمین پر دے پٹکا۔ لیکن یسُوع نے بدرُوح کو جھڑکا اور لڑکے کو شفا بخشی اور اُسے اُس کے باپ کے حوالے کردیا‘‘ (لوقا 42:9).


ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیوں یہ واقعہ تمام تینوں اناجیل میں پیش کیا گیا ہے (متی14:17۔21؛ مرقس14:9۔29؛ لوقا37:9۔43)۔ یقیناً یہ شاگردوں کی بے چارگی کو ظاہر کرنے کے لیے الٰہی ہدایات سے درج کیا گیا ہے۔ مسیح نے اِس سے قبل اُنہیں بدروحیں نکالنے کے لیے بھیجا تھا (متی8:10)۔ لیکن اب وہ ایسا کرنے کے بالکل بھی قابل نہیں تھے۔ مسیح نے کہا کہ اُن کی ناکامی کی وجہ اُن کی بے اعتقادی تھی (متی20:17)۔ یہی سبق ہے جو ہم عموماً اِس حوالے سے سُنتے ہیں، ایک واعظ جو شاگردوں کی بے اعتقادی پر مرکوز کیا گیا۔ یہ سب کچھ بے شک سچ ہے، اِس کے باوجود اِس میں اِس کے علاوہ بھی اور بہت کچھ ہے۔

لیکن اُس نوجوان کے بارے میں کیا خیال ہے جو آسیب زدہ تھا؟ کیا اُس کے تجربے کے بارے میں دیے جانے کے لیے کوئی بھی واعظ نہیں ہے؟ بے شک ہے! سی۔ ایچ۔ سپرجئین C. H. Spurgeon نےایک اچھا واعظ پیش کیا ہے، جس میں اُنہوں نے کہا،

یہ لڑکا جو شیطانی روح کے قبضے میں تھا، ہر مسیح میں غیر تبدیل شُدہ شخص کی سب سے موزوں علامت [تصویر] ہے ... مسیح کے پاس لڑکے کا آنا ایمان کے بچائے جانے کی ایک تصویر ہے، کیونکہ ایمان مسیح کے پاس آ رہا ہے [اور] بدروح کا نکالا جانا اور تروڑنا مڑورنا جس کا کہ میری تلاوت میں ذکر کیاگیا ہے آنے والے کی روحوں کے دشمن کے ساتھ کشمکش کی ایک تصویر ہے۔ ’’ ابھی وہ آہی رہا تھا کہ بدرُوح نے اُسے مروڑ کر زمین پر دے پٹکا۔‘‘ ہمارا موضوع ... جانی پہچانی حقیقت ہوگا؛ وہ آنے والے گہنگار، جب وہ نجات دہندہ کے پاس پہنچتے ہیں، اکثر شیطان کے ذریعے سے جکڑے جاتے ہیں اور مروڑ کر زمین پر پٹکے جاتے ہیں، اِس طرح کہ وہ اپنے ذہنوں میں انتہائی شدت کے ساتھ تکلیف برداشت کرتے ہیں، اور بہت آسانی سے مایوسی میں ہمت ہارنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں (سی۔ ایچ۔ سپرجئین C. H. Spurgeon، ’’آنے والے کی شیطان کے ساتھ کشمکش The Comer’s Conflict With Satan‘‘ ‏ نیو پارک سٹریٹ کی واعظ گاہ سے The New Park Street Pulpit ، دوبارہ اشاعت 1981، جلد دوئم، صفحہ 369)۔

اِسی طرح سے ہمیں اِس مخصوص تلاوت کو لاگو کرنا چاہیے:

’’ابھی وہ آہی رہا تھا کہ بدرُوح نے اُسے مروڑ کر زمین پر دے پٹکا۔ لیکن یسُوع نے بدرُوح کو جھڑکا اور لڑکے کو شفا بخشی اور اُسے اُس کے باپ کے حوالے کردیا‘‘ (لوقا 42:9).

نوجوان شخص ہر مسیح میں غیر تبدیل شُدہ کو ظاہر کرتا ہے۔ تڑورمروڑ جانا اور پٹکے جانا جس کا اُس نے تجربہ کیا شیطانی کشمکش جو تبدیلی میں رونما ہوتی ہے کو ظاہر کرتا ہے۔ نوجوان آدمی کا یسوع کے پاس آنا ایمان کے بچائے جانے کی تصویر ہے۔

I.   اوّل، وہ نوجوان شخص ہر مسیح میں غیر تبدیل شُدہ شخص کی نمائندگی کرتا ہے۔

’’ابھی وہ آہی رہا تھا کہ بدرُوح نے اُسے مروڑ کر زمین پر دے پٹکا...‘‘ (لوقا 42:9).

مسیح میں غیر تبدیل شُدہ لوگوں کی بہت بڑی اکثریت آسیب زدہ نہیں ہے۔ اِس کے باوجود وہ تمام کے تمام شیطان کی قوت کے تحت ہیں۔ بائبل کہتی ہے کہ شیطان

’’...اُن بے اعتقادوں کی عقل کو اندھا کردیا ہے‘‘ (2۔ کرنتھیوں 4:4).

ڈاکٹر ھنری ایم۔ مورس Dr. Henry M. Morris نے 2۔ کرنتھیوں4:4 کے بارے میں کہا،

یوحنا نے بیان کیا تھا کہ ’’ساری دُنیا اُس شریر کے قبضے میں ہے [لفظی طور پر شیطان]‘‘ (1۔ یوحنا19:5)۔ جب یہاں تک کہ ذہین ترین دانشور بھی مسیح کی آسانی سے سمجھ میں آ جانے والی انجیل کو سمجھنے [یا] قبول کرنے کے قابل نظر نہیں آتے... یہ اِس لیے ہے کیونکہ اُن کے دماغ اِن شاندار سچائیوں کے لیے اندھے کر دیے گئے ہیں۔ ہمیں خُدا سے ’’اُن کی آنکھیں کھولنے کے لیے اور اُنہیں تاریکی میں سے نور میں موڑنے‘‘ کے لیے دعا کرنی چاہیے، اعمال26:18 (ھنری ایم۔ مورس، پی ایچ۔ ڈی۔ Henry M. Morris, Ph. D.، دفاعی مطالعۂ بائبل The Defender’s Study Bible ، ورلڈ پبلشنگ World Publishing، 1995، صفحہ 1280؛ 2۔ کرنتھیوں4:4 پر غور طلب بات)۔

دوبارہ، افسیوں2:2، بائبل کہتی ہے،

’’تُم اُن میں پھنس کر دُنیا کی رَوِش پر چلتے تھے اور ہوا کی عملداری کے حاکم شیطان کی پیروی کرتے تھے جس کی رُوح اب تک نافرمان لوگوں میں تاثیر کرتی ہے‘‘ (افسیوں 2:2).

ڈاکٹر میکجی نے افسیوں2:2 میں اُس آیت پر تبصرہ کیا،

آج [شیطان] جھانسہ دینے کےلیے اور دھوکا دینے کے لیے اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں رہنمائی کے لیے قوی ہے (جے۔ ورنن میکجی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D. ، بائبل کے ذریعے سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلشرز Thomas Nelson Publishers، ‏ 1983 ، جلد پنجم، صفحہ 232، افسیوں1:2۔2 پر غور طلب بات)۔

ڈاکٹر جان گِل Dr. John Gill نے کہا کہ یہ جملہ ’’جس کی رُوح اب تک نافرمان لوگوں میں تاثیر کرتی ہے‘‘ کا مطلب ہے کہ ’’اِن [نافرمان لوگوں] پر شیطان کا شدید اثر ہے ... جب کے ذہنوں اور دِلوں کو یہ بھر دیتا ہے ... اُس کے پیچھے چلنے کے لیے اور یہ شاید اُن کی روحانی طور پر غیر اصلاح پسندی میں کہا گیا‘‘ج (جان گِل، ڈی۔ ڈی۔ John Gill, D. D.، نئے عہد نامے کی ایک تفسیر An Exposition of the New Testament، بپتسمہ دینے والے معیاری بئیرر The Baptist Standard Bearer، دوبارہ اشاعت1989، جلد سوئم، صفحہ70؛ افسیوں 2:2 پر ایک غور طلب بات)۔

’’ابھی وہ آہی رہا تھا کہ بدرُوح نے اُسے مروڑ کر زمین پر دے پٹکا...‘‘ (لوقا 42:9).

شیطان لوگوں کو یسوع کے پاس آنے سے روکنے کے لیے مختلف قسم کے حربے استعمال کرتا ہے۔ وہ شاید آپ کو کہے کہ آپ کو مسیح میں تبدیل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ خاص طریقہ تھا جس سے اُس نے مسیح کی زمینی منادی کے دوران فریسیوں کو دھوکہ دیا تھا۔ اُنہوں نے خود پر بھروسہ کیا تھا کہ وہ راستباز تھے‘‘ (لوقا9:18)۔ ہمارے آج کے دِنوں میں بھی لوگوں کو یسوع کے پاس آنے سے روکنے کے لیے، یہ ایک بہت بڑا فریب ہے، جسے شیطان اکثر استعمال کرتا ہے۔ یہ خیال شاید آپ کے ذہن میں آئے، ’’میں کافی نیک ہوں۔ میں گرجہ گھر آتا ہوں۔ میں ایک پاک صاف زندگی گزارتا ہوں۔ مجھے پھر کیوں کسی اور چیز کی ضرورت ہے؟ وہ خود پر بھروسہ کرتے تھے کہ وہ راستباز تھے۔‘‘ جب کسی کے ذہن میں یہ خیال مضبوطی سے بیٹھ جائے تو اُس کی مدد نہیں کی جا سکتی ہے۔ اُس کو قائل کرنے سے کہ وہ پہلے سے ہی کافی نیک ہے شیطان اُس کے ذہن کو اندھا کر دیتا ہے (2۔ کرنتھیوں4:4) اور اُس کو اپنا بطور اسیر غلام بنا کر رکھتا ہے (2۔ تیموتاؤس26:2)۔

ایک نوجوان عورت نے کہا کہ اُس نے سوچا ’’نجات شاید کمائی جاتی تھی، اور نیک ہونے سے ہی ہے کہ آپ اپنی نجات پاتے ہیں۔ میں نے ہر بات میں جو میں نے کی [جدوجہد] کی… مجھے یقین تھا کہ میں نے نجات پا لی تھی۔ میں اپنے والدین کی فرمانبردار تھی۔ میرے دوستوں کا حلقہ معقول تھا اور ہر اتوار کو [گرجہ گھر] جاتی تھی ... میں نے ڈاکٹر ہائیمرز Dr. Hymers کو ہفتوں سُنا، لیکن کبھی بھی حقیقتاً غور نہیں کیا کہ گنہگار، وہ شخص جو اپنے گناہوں کو تسلیم کرنے کے لیے انتہائی متکبر ہے ... میں تھی۔ میں نے جدوجہد کی۔‘‘ ہائے، کیسی جدوجہد کی! اُس لڑکی کی جان میں جو جدوجہد تھی کہ آیا اُس کو شیطان کے جھوٹ پر یقین کرنا چاہیے یا نہیں کہ وہ یسوع کے بغیر کافی نیک تھی!

’’ابھی وہ آہی رہا تھا کہ بدرُوح نے اُسے مروڑ کر زمین پر دے پٹکا...‘‘ (لوقا 42:9).

ایک اور طریقہ شیطان لوگوں کو یسوع کے پاس آنے سے روکتا ہے یہ ہے کہ وہ اُنہیں کہتا ہے تم بعد میں مسیحی بننے کا فیصلہ کر سکتے ہو۔ ایک لڑکی نے کہا، ’’میری مسیحی ہونے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ مجھے اور بہت سی باتوں سے نمٹنا ہے۔ آخر کار، زندگی بُلا رہی تھی... میں نے کہیں گہرائی میں یقین کیا تھا کہ میں فیصلہ کر لوں گی کہ کب اور کہاں مجھے مسیح پر بھروسہ کرنا ہو گا۔‘‘ زندگی بُلا رہی تھی۔‘‘ ہائے، کس قدر شیطانی سوچ! ’’مجھے اور بہت سی باتوں سے نمٹنا تھا۔‘‘ ہائے کس قدر شیطانی فریب! میں کہیں گہرائی میں ...‘‘ ہائے، جی ہاں، ’’گہرائی میں۔‘‘ سطحی طور پر نہیں۔ وہ نہیں جو آپ دوسروں سے کہتے ہیں۔ شیطان ’’باطن میں ’’گہرائی میں‘‘ بات کرتا ہے۔ میں نے گہرائی میں یقین کیا کہ میں کب اور کہاں یسوع پر بھروسہ کروں گی فیصلہ کر لوں گی۔‘‘ یہ ایک شیطانی جھوٹ ہے! ہماری تلاوت میں اُس نوجوان آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا وہ یسوع کے پاس ’’کب اور کہاں‘‘ وہ چاہتا تھا آیا ہوگا؟ وہ شاید کبھی بھی یسوع کے پاس نہیں آیا ہوتا اگر اُس نے ایسا اُسی لمحے نہ کیا ہوتا، جب یسوع نے اُس کو بُلایا تھا!

’’ابھی وہ آہی رہا تھا کہ بدرُوح نے اُسے مروڑ کر زمین پر دے پٹکا...‘‘ (لوقا 42:9).

اِس کے باوجود شیطان کا ایک اور ہتھیار آپ کو یہ بتانا ہے کہ آپ ’’سیکھ‘‘ سکتے ہیں کیسے مسیح میں تبدیل ہونا ہے۔ ایک اور نوجوان عورت نے کہا، میں مایوس تھی اور خود سے پوچھا، ’میں یسوع کے پاس کیسے جاتی ہوں؟‘ اُس وقت، میں نے اِس بات کا احساس نہیں کیا تھا کہ اِس میں کوئی ’کیسے‘ نہیں ہوتا۔ یہ سوچ کر کہ میں کسی نہ کسی طرح خود ہی سے یسوع کے پاس آ [سکوں] گی، میں نے سی۔ ایچ۔ سپرجئین C. H. Spurgeon کی لکھی ہوئی چھوٹی سی کتابسب کچھ فضل کے بارے میں All of Grace پڑھی ... یہ اُمید کرتے ہوئے کہ میں کسی نہ کسی طرح مسیح میں تبدیل ہو ہی جاؤں گی۔ مجھے کتاب میں سے یسوع کے پاس آنے کے لیے کوئی طریقہ ڈھونڈنا یاد ہے ... میں نے سوچا کہ شاید کتاب مجھے یسوع پر کیسے بھروسہ کرنے کے لیے ’مراحل‘ پیش کر دے گی۔ تاہم، کتاب نے میری کوئی مدد نہ کی۔ اُس رات میں نے سونے کے لیے جانے سے پہلے، خُدا سے دعا مانگی، جس میں اُس سے یسوع کے پاس جانے کے لیے مدد مانگی۔‘‘

ہائے، اُس کی گواہی میں کس قدر ہدایات اور معلومات ہیں! ’’میں یسوع کے پاس کیسے آؤں؟‘‘ ’’ یہ سوچ کر کہ میں کسی نہ کسی طرح خود ہی سے یسوع کے پاس آ [سکوں] گی، میں نے سی۔ ایچ۔ سپرجئین C. H. Spurgeon کی لکھی ہوئی چھوٹی سی کتاب سب کچھ فضل کے بارے میں All of Grace پڑھی۔‘‘ اُس کا دماغ مکمل تذبذب سے بھر گیا تھا! مجھے یوں لگتا ہے کہ اُس کتاب کے عنوان، سب کچھ فضل کے بارے میں All of Grace کو ہی اُس جھوٹے گمان کو درست دینا چاہیے کہ وہ خود سے یسوع کے پاس آ سکتی ہے! سب کچھ فضل کے بارے میں All of Grace کے عنوان ہی کو شیطانی خیالات کو دُرست کر دینا چاہیے، ’’یہ مجھے خود ہی کرنا چاہیے!‘‘ پھر اُس نے کہا، ’’ مجھے کتاب میں سے یسوع کے پاس آنے کے لیے کوئی طریقہ ڈھونڈنا یاد ہے ... میں نے سوچا کہ شاید کتاب مجھے یسوع پر کیسے بھروسہ کرنے کے لیے ’مراحل‘ پیش کر دے گی۔ ہائے، ’’بے شک ’’مراحل‘‘! ’’مراحل‘‘ ہیں جو جدید ’’فیصلہ ساز‘‘ پیش کریں گے۔ سپرجئین نے ایسے کوئی ’’مراحل‘‘ نہیں پیش کیے تھے۔ ’’تاہم، کتاب نے میری کوئی مدد نہیں کی۔‘‘ جی نہیں، اِس نے یقیناً اُس ’’مراحل‘‘ کو سیکھنے کے لیے اُس کی کوئی مدد نہیں کی تھی، کیونکہ ایسے کوئی ’’مراحل‘‘ وجود ہی نہیں رکھتے! لیکن کیا ہم اِس بات کا یقین کر سکتے ہیں کہ سپرجئین کی کتاب نے اُس کی کوئی مدد نہیں کی تھی؟ اُس نے کہا، ’’اُس رات اِس سے پہلے کہ میں سونے کےلیے جاتی، میں نے خُدا سے دعا مانگی، اُس سے مانگا کہ میری یسوع کے پاس آنے کے لیے مدد فرما۔‘‘ میرے خیال میں سپرجئین نے اُس کے احساس سے زیادہ اُس کا فائدہ کر دیا تھا! اُس چھوٹی سی کتاب میں سپرجئین نے کہا،

مسیح میں تبدیل شُدہ عموماً کہتے ہیں کہ وہ انجیل کو نہیں جانتے تھے جب تک کہ فلاں اور فلاں ایک دِن؛ اور اِس کے باوجود اُنہوں نے اِسے سالوں تک سُنا تھا۔ انجیل انجانی ہے، بیان کرنے کی [کمی] سے نہیں، بلکہ ذاتی الٰہام کی غیر موجودگی سے [یعنی غیبی ہدایات]۔ یہی تو پاک روح دینے کے لیے تیار ہے، اور ضرور اُنہیں دے گا جو اُس سے مانگیں گے (سی۔ ایچ۔ سپرجئین C. H. Spurgeon، سب کچھ فضل کے بارے میں All of Grace ، پلگرم پبلیکیشنز Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت 1978، صفحہ77)۔

یہ بچانے والا سچ ہے جو شیطان ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ کھوئے ہوؤں سے چُھپا رہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ وہ یسوع کے پاس آئیں اور بچائے جائیں۔

دوبارہ، شاید شیطان آپ کے ذہن میں خوف لے آئے۔ کیا آپ یسوع کے پاس آنے سے خوفزدہ ہیں؟ اگر آپ ہیں، تو آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ یہ ایک خوف ہے جو شیطان کے پاس سے آتا ہے۔

’’ابھی وہ آہی رہا تھا کہ بدرُوح نے اُسے مروڑ کر زمین پر دے پٹکا...‘‘ (لوقا 42:9).

II۔    دوئم، نوجوان شخص کا یسوع کے پاس آنا ایمان کے بچائے جانے کی ایک تصویر ہے۔

مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور ساری تلاوت پڑھیں، لوقا42:9۔

’’ابھی وہ آہی رہا تھا کہ بدرُوح نے اُسے مروڑ کر زمین پر دے پٹکا۔ لیکن یسُوع نے بدرُوح کو جھڑکا اور لڑکے کو شفا بخشی اور اُسے اُس کے باپ کے حوالے کردیا‘‘ (لوقا 42:9).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

آپ کو نہیں سوچنا چاہیے کہ مسیح میں تبدیلی میں تمام کی تمام کشمکش شیطانی ہوتی ہے۔ زیادہ تر پریشانی جو مسیح میں غیر تبدیل شُدہ گنہگار محسوس کرتے ہیں پاک روح کی طرف سے ہوتی ہے، جس کا پہلا کام ہی’’دُنیا کو مجرم قرار دینا ہے ... گناہ کی، کیونکہ لوگ مجھ [یسوع] پر ایمان نہیں لاتے‘‘ (یوحنا8:16، 9)۔

ہم کیسے پاک روح کے وسیلے سے گناہ کے تحت سزایابی اور شیطان کے ’’مروڑنے‘‘ کے درمیان فرق بتا سکتے ہیں؟ سپرجئین نے اِس فرق کی بہت واضح تشریح پیش کی تھی:

اب میں بیچارے گنہگار کو شیطان کو پہچاننے کا ایک ذریعہ دوں گا، تاکہ وہ جان جائے کہ آیا اُس کے گناہ کے تحت سزایابیاں پاک روح سے ہیں، یا محض اُس کے کانوں میں جہنم کی چیخ و پکار ہے۔ پہلی جگہ پر، آپ کو شاید ہمیشہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ جو شیطان کی طرف سے آتا ہے وہ آپ کو خود اپنی ذات میں دیکھنے کو کہے گا مسیح میں دیکھنے کو نہیں کہے گا۔ پاک روح کا کام ہے کہ ہماری آنکھوں کو ہماری طرف سے ہٹا کر یسوع مسیح کی جانب موڑے، مگر دشمن کا کام اِس کے بالکل اُلٹ ہے۔ دس میں سے نو، شیطان کی سمجھ سے بالا تر بُرائی کی طرف مائل کرنے والے اعمال کا تعلق خود ہماری ذات کے ساتھ ہوتا ہے... ’’آپ توبہ کافی نہیں کرتے ہیں‘‘ – یہ ذاتی ہے۔ ’’آپ مسیح کو اپنانے میں اِس قدر تذبذب کا شکار ہیں‘‘ – یہ ذاتی ہے۔ یوں شیطان ہم میں جگہ بنانی شروع کرتا ہے؛ جبکہ پاک روح ذات کو سرے سے نکال دیتا ہے، اور ہمیں بتاتا ہے کہ ہم ’’کچھ بھی نہیں‘‘ ہیں، مگر ’’یسوع ہی سب کچھ ہے۔‘‘ شیطان ذات کی لاش بناتا ہے اور اِس کو استعمال کرتا ہے، اور چونکہ یہ مسح ہو چکی ہوتی ہے، اِس لیے ہمیں انتہائی یقین کے ساتھ بتاتی ہے کہ ہم بچائے ہی نہیں جا سکتے۔ لیکن یاد رکھیئے، گنہگار، یہ مسیح پر آپ کی گرفت نہیں ہے جو آپ کو بچاتی ہے – یہ مسیح [خود] ہے۔ اِسی لیے، اپنے ہاتھ پر اِس قدر ناز مت کریں جس کے ساتھ آپ مسیح کو پکڑتے ہیں، جس قدر [خود] مسیح پر کرنا چاہیے؛ خود اپنی اُمید پر انحصار مت کریں، بلکہ [خود] مسیح پر انحصار کریں، جو آپ کی اُمید کا منبع ہے؛ اپنے ایمان پر انحصار مت کریں، بلکہ مسیح پر انحصار کریں جو آپ کے ایمان کا منصف اور اُس کو مکمل کرنے والا ہے؛ اور اگر آپ ایسا کرتے ہیں، تو دس ہزار شیطان بھی آپ کو شکست نہیں دے سکتے، لیکن جب تک آپ خود اپنی ذات پر انحصار کرتے رہیں گے، اُن شیطانی روحوں میں سے [چھوٹی ترین] کمینی ترین بھی آپ کو اپنے پیروں تلے کُچل دے گی... یاد رکھیں، یسوع مسیح آپ کو بھی بچا سکتا ہے۔ اُس کے نام پر یقین کریں، آپ قائل ہوئے گنہگارو، مسیح پر یقین کریں۔ (سی۔ ایچ۔ سپرجئین، ’’آنے والے کی شیطان کے ساتھ کشمکش The Comer’s Conflict With Satan،‘‘ نئی پارک سٹریٹ واعظ گاہ The New Park Street Pulpit ، پلگرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت1981، جلد دوئم، صفحات 374۔376)۔

’’ابھی وہ آہی رہا تھا کہ بدرُوح نے اُسے مروڑ کر زمین پر دے پٹکا۔ لیکن یسُوع نے بدرُوح کو جھڑکا اور لڑکے کو شفا بخشی اور اُسے اُس کے باپ کے حوالے کردیا‘‘ (لوقا 42:9).

مجھے یاد ہے اُن میں سے ایک لڑکی نے اپنی گواہی میں کہا،

آخر کار اُس اتوار کو میں نے بیمار سا محسوس کیا، جسمانی طور پر نہیں، بلکہ میرے گناہوں سے اِس قدر بیمار۔ میں نے اِس قدر شرمندگی اور شرمساری محسوس کی... میں اُس اتوار کو تفتیشی کمرے میں گئی اور میں ڈاکٹر کیگنDr. Cagan کو اپنا چہرہ تک دکھانے کے لیے اِس قدر شرمسار تھی ... میں نے خود اپنے آپ سے اِس قدر گھن محسوس کی... پھر ڈاکٹر کیگن نے مجھ سے پوچھا، ’’کیا آپ مسیح کو اپنائیں گی؟‘‘... اُس دِن میں نے اپنے آپ کو یسوع کے حوالے کر دیا۔ میں نےمکمل طور پر اپنے آپ کو یسوع کے حوالے کر دیا... اُس دِن یسوع نے مجھے بچا لیا۔ اُس نے مجھے قبول کیا اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ ماضی میں مَیں نے اُس کو کس قدر مسترد کیا۔ یسوع مسیح نے مجھے کُلی طور پر گلے سے لگا لیا۔ اُس دِن یسوع نے میرے گناہوں کو پاک صاف کر دیا۔

خدا کرے کہ آپ بھی یسوع مسیح میں سچی تبدیلی کا تجربہ کریں! وہ آپ کو تمام شیطانی دھوکوں سے نجات دلائے گا اور آپ کی روح کو بچائے گا۔ خُدا آپ کو یسوع کا تھامے رکھنے کے لیے اور بچائے جانے کے لیے ایمان عطا کرے!



(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک کی تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: لوقا37:9۔43 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’تب یسوع آیا Then Jesus Came ‘‘ (الفاظ لکھے ڈاکٹر اُوسولڈ جے۔ سمتھ Dr. Oswald J. Smith
، 1889۔1986؛ موسیقی ترتیب دی ہومر روڈھیور Homer Rodeheaver نے، 1880۔1955)۔

لُبِ لُباب

شیطانی کشمکش اور تبدیلی

DEMONIC CONFLICT AND CONVERSION

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’ابھی وہ آہی رہا تھا کہ بدرُوح نے اُسے مروڑ کر زمین پر دے پٹکا۔ لیکن یسُوع نے بدرُوح کو جھڑکا اور لڑکے کو شفا بخشی اور اُسے اُس کے باپ کے حوالے کردیا‘‘ (لوقا 42:9).

(متی14:17۔21؛ مرقس14:9۔29؛ لوقا37:9۔43؛ متی8:10؛ 20:17)

I.   اوّل، نوجوان آدمی ہر مسیح میں غیر تبدیل شُدہ شخص کی نمائندگی کرتا ہے،
لوقا42:9الف؛ 2۔کرنتھیوں4:4؛ 1۔ یوحنا19:5؛ اعمال 18:26؛
افسیوں 2:2؛ لوقا9:18؛ 2۔ تیموتاؤس26:2۔

II.  دوئم، نوجوان آدمی کا یسوع کے لیے آنا ایمان کے بچائے جانے کی ایک تصویر ہے،
لوقا 42:9ب؛ یوحنا 8:16، 9 .