Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

بائبل آسمان کے بارے میں سوالات کے جوابات دیتی ہے

BIBLE ANSWERS TO QUESTIONS ABOUT HEAVEN
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
12 مئی، 2013، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, May 12, 2013

’’مگر جیسا کہ پاک کلام میں لکھّا ہے کہ جو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سُنا، نہ کسی انسان کے خیال میں آیا اُسے خدا نے اُن کے لیے تیّار کیا ہے جو اُس سے محبّت رکھتے ہیں۔ مگر خُدا نے اُنہیں ہم پر اپنے پاک رُوح کے وسیلہ سے ظاہر کیا، کیونکہ پاک رُوح سب باتیں یہاں تک کہ خدا کی گہری باتیں بھی جانتا ہے‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:‏9۔10).

اِن آیات میں یقینی طور پر آسمان کے لیے ایک حوالہ ہے! یہ مجھے حیرت انگیز لگتا ہے کہ کچھ تبصرہ نگار اُسے قبول نہیں کرتے ہیں۔ انسانی آنکھ نے آسمان کو نہیں دیکھا ہے۔ انسانی کان نے کسی کو آسمان سے باتیں کرتے ہوئے نہیں سُنا ہے۔ انسان کا دِل آسمان کے جلال کو تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر ھنری ایم۔ مورس Dr. Henry M. Morris نے کہا کہ آیت آسمان کے بارے میں بات کرتی ہے اور،

’’نئے آسمان اور نئی زمین‘‘ کا جلال (اشعیا66:‏22) انسانی تصور سے بہت پرے ہیں، کیونکہ وہ ہمارے لیے خود مسیح کے وسیلے سے ’’تیار کیے گئے‘‘ ہیں (یوحنا14:‏2، 3)۔ [مگر] اِن میں سے کچھ آسمانی جلال بلاشُبہ ہم پر یوحنا رسول کے ذریعے سے آشکارہ کیے جا چکے ہیں، مکاشفہ21:‏22 (ھنری ایم۔ مورس، پی ایچ۔ ڈی۔ Henry M. Morris, Ph.D.، مطالعۂ بائبل کے محافظ The Defender’s Study Bible، عالمی اشاعت خانے World Publishing، 1995، صفحہ 1256؛ 1۔ کرنتھیوں2:‏9، 10 پر ایک غور طلب بات)۔

ڈاکٹر آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسکی Dr. R. C. H. Lenski نے کہا کہ تلاوت

کا اکثر استعمال ہوا ہے آسمان کے حوالے کے ساتھ اور اُس فضل و کرم کے حوالے کے ساتھ جو ہمارے لیے آنے والی زندگی میں منتظر ہے۔ یہ استعمال بلاشُبہ، جائز ہے ... (آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسکی، پی ایچ۔ ڈی۔، کرنتھیوں کے نام مقدس پولوس کے پہلا اور دوسرا مراسلہ St. Paul’s First and Second Epistles to the Corinthians، اُوگسبرگ اشاعتی گھر Augsburg Publishing House، اشاعت 1963، صفحہ104؛ 1۔کرنتھیوں2:‏9 پر تبصرے)۔

کسی بھی دُنیاوی نظر نے آسمان کے جلال کو کبھی نہیں دیکھا ہے۔ کسی بھی دُنیاوی کان نے وہاں پر فرشتوں کو گاتے ہوئے نہیں سُنا ہے۔ آسمان کی باتیں، دوسری روحانی حقیقتوں کے درمیان صرف خُدا کے خاص الہام کے وسیلے سے ہی جانی جا سکتی ہیں۔ اِسی لیے آیت 10 میں ہم پڑھتے ہیں، ’’مگر خُدا نے اُنہیں روح القدوس کے وسیلے سے ہم پر آشکارہ کیا…‘‘ (1۔ کرنتھیوں2:‏10)۔ بائبل ہم پر وہ آشکارہ کرتی ہے جو ہم کسی بھی دوسرے طریقے سے دریافت نہیں کر سکیں گے۔ اور جب خُداوند ہمارے ذہنوں کو منور کرتا ہے، تو ہم اُس پر یقین کریں گے جو اُس نے کلام پاک میں اُن روحانی باتوں کے بارے میں آشکارہ کیا ہے، جن میں آسمان بھی شامل ہے۔ نئے عہد نامے پر لاگو تبصرہ The Applied New Testament Commentary (کنگزوے پبلشرز لمیٹڈ Kingsway Publications, Ltd.، 1997) یہ باشعور تبصرہ پیش کرتی ہے،

پولوس یہاں اشعیا64:‏4 سے حوالہ دیتا ہے۔ وہ کیا ہے جو خُدا نے اُن کے لیے تیار کیا ہے جو اُس کو پیار کرتے ہیں – مگر جو اُن سے چُھپایا گیا ہے جو اُسے پیار نہیں کرتے؟ یہ نجات، دائمی زندگی اور جلال ہے؛ یہ ہے جو خُدا نے اُن کے لیے تیار کیا ہے جو اُس سے محبت کرتے ہیں۔ اور جو خُدا نے اُن کے لیے تیار کیا ہے جو اُس سے محبت کرتے ہیں وہ جو ہم تصور کر سکتے ہیں اُس کے مقابلے میں بہت زیادہ اور انتہائی شاندار ہے (ibid.، صفحہ 631؛ 1۔ کرنتھیوں2:‏9 پر غور طلب بات)۔

’’مگر جیسا کہ پاک کلام میں لکھّا ہے کہ جو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سُنا، نہ کسی انسان کے خیال میں آیا اُسے خدا نے اُن کے لیے تیّار کیا ہے جو اُس سے محبّت رکھتے ہیں۔ مگر خُدا نے اُنہیں ہم پر اپنے پاک رُوح کے وسیلہ سے ظاہر کیا... ‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:‏9۔10).

روح القدّوس نے آسمان کے بارے میں بائبل میں وہ باتیں آشکارہ کی ہیں جو کہ ہم کسی اور طریقے سے جان ہی نہیں سکیں گے۔ یہاں ہیں چند باتیں جو کہ بائبل اِس بارے میں آشکارہ کرتی ہے کہ مسیحیوں کے ساتھ مستقبل میں کیا ہوگا۔

I۔ اوّل، کیا ہوتا ہے جب ایک مسیحی مرتا ہے؟

بائبل کہتی ہے،

’’ہم اطمینان سے ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ اِس جسمانی گھر کو چھوڑ کر خداوند کے گھر میں رہنے لگیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:‏8).

یہ ظاہر کرتی ہے کہ جس لمحے ایک مسیحی مرتا ہے اُس کی روح مسیح کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ پولوس رسول نے اِس کے بارے میں کہا ’’جی تو چاہتا ہے کہ دُنیا کو خیر باد کہہ کر مسیح کے پاس جا رہوں‘‘ (فلپیوں1:‏23)۔ یہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ مسیحی روحوں کی حیثیت سے مسیح کے ساتھ ہونے کے لیے جاتے ہیں۔ وہ اُس کی دوسری آمدثانی تک اپنے جسموں کے ساتھ جُدائی کے بعد دوبارہ اکٹھے نہیں ہو سکیں گے۔ اِس کے باوجود ہم قابلِ شناخت ہوں گے، جیسے کہ ابراہام اور لعزر کی روحیں تھیں (لوقا16:‏22۔25)۔ ایمان کا ویسٹمنسٹر اعتراف Westminster Confession of Faith کہتا ہے، انسانوں کے اجسام موت کے بعد خاک میں خاک ہو جاتے ہیں، اور بگڑادیکھتے ہیں؛ لیکن اُن کی روحیں (جو کہ نہ سو سکتی ہیں اور نہ مر سکتی ہیں)، ایک لافانی شے رکھتے ہوئے جو خُدا نے اُنہیں دی ہوتی ہے فوراً خُدا کے پاس واپس چلی جاتی ہیں۔ راستباز کی جانیں، اپنے جسموں کی مکمل نجات کے انتظار میں، پاکیزگی میں کامل بنائی جانے کی وجہ سے ... جلال اور نور میں ... قبول کی جاتی ہیں‘‘ (32:‏1)۔

مُردوں کی روحیں درمیانی حالت میں چلی جاتی ہیں۔ وہ ’’روحانی نیند‘‘ میں نہیں چلی جاتی ہیں جیسا کہ ساتویں دِن آمد مسیح کا عقیدہ رکھنے والے The Seventh Day Adventists غلط تعلیم دیتے ہیں۔ لوقا16:‏22۔26 آشکارہ کرتی ہے کہ مسیح کے واپس آسمان پر اُٹھائے جانے سے پہلے ’’مُردوں کی دُنیا [برزخ] Hades‘‘ (پرانے عہد نامے میں ’’شیول Sheol‘‘) دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ یہ کھوئے ہوؤں اور نجات پائے ہوؤں کے مسکن تھے۔ امیرآدمی مُردوں کی دُنیا کے اُس حصے میں تھا جو ’’کرب و اذیت‘‘ کی جگہ کے طور پر جانی جاتی ہے۔ لعزر مُردوں کی دُنیا کے دوسرے حصے میں تھا جس کو یسوع نے ’’فردوس‘‘ کہا ہے۔ لعزر اور امیر آدمی دونوں مکمل طور پر شعور میں تھے، جو کہ ساتویں دِن مسیح کی آمد کے ماننے والوں Seventh Day Adventist کی تعلیم کو غلط ثابت کرتی ہے۔

جب یسوع مسیح آسمان میں واپس اُٹھایا گیا تھا تو وہ اپنے ساتھ ’’فردوس‘‘ اور اُس میں نجات پائی ہوئی روحوں کو ’’تیسری دُنیا ... فردوس میں‘‘ اوپر لے گیا (2۔ کرنتھیوں12:‏2،4)۔ افسیوں4:‏8 اور 9 آیات اِس منتقلی کو بیان کرتی ہیں۔ مسیح نے ’’قیدیوں کو رہائی دلائی‘‘ – ’’زمین کے نیچے کے علاقوں میں اُترنے‘‘ کے بعد وہ ’’آسمان پر چڑھ‘‘ گیا تھا۔ مسیح کرب و اذیت کی جگہ میں نہیں گیا تھا جیسا کہ کچھ دوسرے پینتیکوسٹل Pentecostals غلط تعلیم دیتے ہیں۔ مسیح مُردوں کی جگہ [برزخ] کے منقسم حصے ’’فردوس‘‘ میں اُترا تھا اور وہاں پر موجود تمام نجات پائی ہوئی روحوں کو اپنے ساتھ لے کر وہ واپس آسمان پراُوپر ’’تیسرے آسمان‘‘ میں خُدا کے لیے چڑھ گیا تھا۔

آج کھوئے ہوئے فوراً برزخ میں کرب و اذیت کی جگہ میں جاتے ہیں جب وہ مرتے ہیں۔ آج، نجات پائے ہوئے فوراً مسیح کے ساتھ ہونے کے لیے ’’تیسرے آسمان‘‘ میں جاتے ہیں (2۔کرنتھیوں12:‏2؛ 5:‏6)۔

’’ہم اطمینان سے ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ اِس جسمانی گھر کو چھوڑ کر خداوند کے گھر میں رہنے لگیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:‏8).

سیکوفیلڈ مطالعۂ بائبل The Scofield Study Bible اِس تمام کے بارے میں لوقا16:‏23 پر اپنی غور طلب بات میں ایک اچھی وضاحت پیش کرتی ہے (صفحات1098،1099 )۔

جان میک آرتھر John MacArthur پرانے عہد نامے میں ’’فردوس‘‘ کی اِس وضاحت کی اِس کو ’’ایک مخصوص خانہ‘‘ یا ایک ’’قبضے میں رکھنے والا حوض‘‘ کہہ کر بےقدری کرتے ہیں۔ ایسا ہی وہ دوسرے موضوعات پر کرتے ہیں، جیسا کہ مسیح کا خون، ڈاکٹر میک آرتھر نظریات کی مذمت کے لیے نام بگاڑنے کا ایک طریقہ استعمال کرتے ہیں جو کہ اُن کے اپنے والد کا انداز تھا جو وہ سیکوفیلڈ مطالعۂ بائبل میں سے تبلیغ کرتے تھے۔ 1۔ پطرس3:‏18، 19 پر اپنی غور طلب باتوں میں ڈاکٹر میک آرتھر قبول کرتے ہیں کہ مسیح کی روح پاتال میں بندھی شیاطین کی روحوں کے پاس گئی تھی اور اعلان کیا تھا کہ اُس نے اُن پر فتح پا لی تھی۔‘‘ لیکن کیا صرف یہی سب تھا جو مسیح نے وہاں کیا تھا؟ افسیوں4:‏9 بھی کہتی ہے کہ وہ وہاں گیا تھا، اور افسیوں4:‏8 میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ’’اُس نے قیدیوں کو اسیری سے نجات دلائی۔‘‘ میک آرتھر کہتے ہیں کہ اُنہوں نے کلام پاک کے ساتھ سیکوفیلڈ بائبل کے غلط نظرئیے کو ’’بے نقاب‘‘ کیا ہے، لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کیا ہے۔ اُنہوں نے صرف نام بگاڑنے کو اور ولبر ایم۔ سمتھ Wilbur M. Smith کے ایک حوالے کو جو سیاق و سباق سے باہر اور غلط لاگو کیا گیا استعمال کیا ہے (جان میک آرتھر، ڈی۔ڈی۔ John MacArthur, D.D.، آسمان کا جلال The Glory of Heaven، کراس وے کُتب خانے Crossway Books، 1996، صفحہ 70)۔

ولبر سمتھ نے سیکوفیلڈبائبل کے اُس باب میں جس کا حوالہ میک آرتھر نے دیا نقطۂ نظر کو بے نقاب نہیں کیا تھا۔ ڈاکٹر سمتھ نے اُس باب میں صرف وقتی عذاب کے جھوٹے مذہبی عقیدے اور روح کے سونےکے ساتھ تعلق رکھتے ہوئے بات کی تھی۔ ڈاکٹر میک آرتھر کے لیے سیکوفلیڈ کے نقطعۂ نظر کو غلط ثٓابت کرنے کے لیے ولبر سمتھ کی جانب سے حوالے کا استعمال کرنا جب کہ ڈاکٹر سمتھ بالکل بھی سیکوفیلڈ کے نقطعۂ نظر کا حوالہ نہیں دے رہے تھے، اُس باب میں جس کا حوالہ میک آرتھر نے دیا کہیں بھی نہیں، یہ قابل اعتبار ہونے کے مقابلے میں بہت کم تھا، کم از کم چالبازی تھی۔ (ولبر ایم۔ سمتھ، ڈی۔ ڈی۔ Wilbur M. Smith, D.D.، آسمان کا بائبلی عقیدہ The Biblical Doctrine of Heaven، موڈی پریس Moody Press، اشاعت1977، صفحات 155۔170)۔

ایک مسیحی کے ساتھ کیا ہوتا ہے جب وہ مرتا ہے اِس سے تعلق رکھتے ہوئے بائبل کیا تعلیم دیتی ہے اِس کے لیے ہم سیکوفیلڈ کے نقطعۂ نظر کو ایک معتبر اور قابل بھروسہ وضاحت قرار دیتے ہیں۔ سیکوفیلڈ مطالعۂ بائبل کی بنیادی تعلیمات کو دوسرے بہت سوں کے ذریعے سے بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ دیکھیں جے۔ وھائٹ پینتیکوست، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Dwight Pentecost, Th.D.، آنے والی باتیں Things to Come، ژونڈروان اشاعت گھر Zondervan Publishing House، اشاعت 1964، صفحہ 558۔ دیکھیں ھنری ایم۔ مورس Henry M. Morris, Ph.D.، مطالعۂ بائبل کے محافظ The Defender’s Study Bible، عالمی اشاعت گھر World Publishing، اشاعت1995، افسیوں4:‏8، 9 . دیکھیں ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell (ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل، پی ایچ۔ڈی۔W. A. Criswell, Ph.D. ، پعیگ پیٹرسن Paige Patterson, Ph.D.، آسمان Heaven، ٹئنڈیل اشاعتی گھر Tyndale House Publishers، 1991، صفحہ60)۔ یہ بھی دیکھیں ھنری سی۔ تھائسن پی ایچ۔ ڈی۔ Henry C. Thiessen, Ph.D.، سلسلہ بہ سلسلہ علم الہٰیات میں تعارفی لیکچرز Introductory Lectures in Systematic Theology، عئیرڈمینز پبلشنگ کمپنی Eerdmans Publishing Company، اشاعت 1963، صفحات488، 489)۔ ڈاکٹر تھائسن Dr. Thiessen نے کہا،

این۔ ٹی۔ [نیا عہدنامہ] اشارہ دیتا ہے کہ وہاں مُردوں کی دُنیا Hades میں دو خانے تھے: ایک بدکاروں کے لیے اور ایک نیکوکاروں کے لیے۔ وہ ایک جو راستبازوں کے لیے تھا فردوس کہلاتا تھا۔ وہ ایک جو بدکاروں کے لیے تھا اُس کا کوئی نام نہیں ہے، لیکن اُس کو بطور کرب و اذیت کی جگہ کے بیان کیا گیا ہے... مسیح کے مُردوں میں سے اُٹھائے جانے کے بعد ... ایمانداروں کو مرنے پر مسیح کی موجودگی میں جانے کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے... وہ اب بھی فردوس میں ہی جاتے ہیں، لیکن فردوس اب اُوپر ہے (2۔ کرنتھیوں12:‏2۔4) ... جب مسیح جی اُٹھا تھا، وہ اپنے ساتھ مُردوں کی دُنیا Hades میں سے تمام راستبازوں کی روحوں کو ... لے گیا تھا (افسیوں4:‏8؛ زبور68:‏18)۔ اُس وقت سے لیکر اب تک تمام ایماندارمرنے پر مسیح کی موجودگی میں جاتے ہیں، جبکہ ایمان نہ رکھنے والے مُردوں کی جگہ Hades کے لیے جاتے ہیں، جیسا کہ او۔ ٹی [پرانے عہدنامے] کے دور میں ہوتا تھا (تھائسن Theissen، ibid.، صفحہ489)۔

یہ ہے جو ایک مسیحی کی روح کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ مرتا ہے۔

II۔ دوئم، کب مسیحی اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھا بدن پائیں گے؟

درمیانی حالت کے مقابلے میں مسیح کی آمد ثانی پر خوش کہنے کے آسمان میں اُٹھایا جانا زیادہ مشہور ہے، اِس لیے میں اِس پر کم وقت خرچ کروں گا۔ 1۔ تسالونیکیوں4:‏15۔17 کو سُنیے۔

’’اِس لیے خدا کے اپنے کلام کے مطابق ہم تم سے کہتے ہیں کہ ہم جو خداوند کے آنے پر زندہ بچے ہوں گے اُن سے بڑھ کر نہیں ہوں گے جو پہلے سو چُکے ہیں۔ کیونکہ خداوند خُود بڑی للکار اور مُقرّب فرشتہ کی آواز اور خدا کے نرسنگے کے پھونکے جانے کے ساتھ آسمان سے اُترے گا اور وہ سب جو مسیح میں مر چُکے ہیں زندہ ہو جائیں گے۔ پھر ہم جو زندہ باقی ہوں گے اُن کے ساتھ بادلوں پر اُٹھالیے جائیں گے تاکہ ہوا میں خداوند کا استقبال کریں اور ہمیشہ اُس کے ساتھ رہیں‘‘ 1۔ تھسلنیکیوں 4:‏15۔17).

ڈاکٹر جان ایف۔ والورد Dr. John F. Walvoord نے کہا،

      مسیح کی آمد ثانی پر آسمان پر بادلوں میں استقبال کے لیے اُٹھائے جانے پر اہم حوالہ 1۔ تسالونیکیوں4:‏13۔18 میں ہے۔ پولوس اِس منظر کو یوں بیان کرتا ہے جیسے خُداوند جسمانی طور پرزمین سے اوپر ہوا میں آسمان سے آ رہے ہیں، اور ایک نرسنگے کے پھونکے جانے کا فرمان کرتے ہیں جو اُن مسیحیوں کے لیے ایک اشارہ ہوگا جو زندہ کیے جانے کے لیے مر چکے ہیں۔ ایک لمحے کے بعد، مسیحی جو ابھی تک زندہ ہیں وہ بھی اُن کے ساتھ جو خُداوند کو ہوا میں ملنے کے لیے زندہ کیے جا چکے ہیں میسح کی آمد ثانی پر آسمان پر بادلوں میں استقبال کے لیے اُٹھائے جائیں گے۔ ایک دفعہ جب وہ ہوا میں خُداوند کو مل لیں گے، وہ باپ کے گھر میں جانے کی پیشن گوئی کو پورا کرنے کے لیے آسمان میں جاتے ہیں (یوحنا14:‏2۔3)۔ پہلا کرنتھیوں 15 آیت مسیح کی آمد ثانی پر آسمان پر بادلوں میں استقبال کے لیے اُٹھائے جانے کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم کرتی ہے، آیت کہتی ہے کہ دونوں طرح کے انسانی اجسام [مسیحی] جو مر چکے ہیں اور وہ جو ابھی تک زندہ ہیں فوراً بدل دیے جائیں گے اُن اجسام میں جو آسمان میں جانے کےلیے قابل ہوں گے، 15:‏51۔52 (جان ایف۔ والوورد، پی ایچ۔ ڈی۔ John F. Walvoord, Ph.D.، دی ریپچر، پیشن گوئی کا مطالعۂ بائبل The Rapture, Prophecy Study Bible، اے ایم جی پبلیشرز
AMG Publishers،‏ 2000، صفحہ 1152)۔

III۔ سوئم، کیا مسیحیوں کا انصاف کیا جائے گا؟

جی ہاں، مسیحیوں کا اُن کے اعمال کے لیے انصاف کیا جائے گا۔ 2۔ کرنتھیوں5:‏10۔11 کو سُنئیے۔

’’کیونکہ ہم سب کو مسیح کی عدالت میں پیش ہونا ہے تاکہ ہر شخص اپنے اچھّے یا بُرے اعمال کا جو اُس نے دُنیا میں کیے ہیں، بدلہ پائے۔ ہم خداوند کے خوف کو سامنے رکھ کر دُوسروں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خدا ہمیں اچھی طرح جانتا ہے اور مجھے اُمید ہے کہ تُم بھی ہمیں اچھی طرح جانتے ہوگے‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:‏10۔11).

ڈاکٹر اروِن لُٹزر Dr. Erwin Lutzer نے کہا،

ہمارا نجات دہندہ انتظام کرے گا اُس کا جو دُرست اور مناسب ہے، لیکن ہماری نافرمانی کی جانب پلک تک بھی نہیں چھپکائے گا... اگر ہم پولوس کے الفاظ کی اہمیت کا سامنا کریں، تو ہمیں مسیح کی جانب سے ممکن ہے کہ ایک سنجیدہ ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے اور انعامات اور رعایات یا استحقاق کا نقصان ہو... وہ جو وفادار ہیں مسیح کے ساتھ حکمرانی کی رعایت پائیں گے (مکاشفہ3:‏21)؛ وہ جو نہیں ہیں اُن کی سرزش ہو گی اور اُنہیں [زمینی بادشاہت میں] کم ذمہ داریاں دی جائیں گی... تمام دائمی حالت سے مسرور ہوں گے اور ہمارے خُداوند کے لیے تعظیم اور تعریف کا باعث ہوں گے (اروِن لُٹزر، ڈی۔ڈی۔ Erwin Lutzer, D.D.، مسیح کی انصاف کی کرسی، پیشن گوئی کا مطالعۂ بائبل The Judgment Seat of Christ, Prophecy Study Bible، ibid.، صفحہ1247)۔

IV۔ چہارم، بادشاہت کے زمانے کے دوران مسیحی کیا کریں گے؟

مہربانی سے مکاشفہ 20:‏1۔7 ۔

’’پھر میں نے ایک فرشتہ کو آسمان سے اُترتے دیکھا۔ اُس کے پاس اتھاہ گڑھے کی کنجی تھی اور وہ ہاتھ میں ایک زنجیر لیے ہُوئے تھا۔ اُس نے اژدہا یعنی اُس پُرانے سانپ کو، جو کہ اِبلیس اور شیطان ہے پکڑا اور اُسے ایک ہزار سال کے لیے باندھ دیا اور اتھاہ گڑھے میں ڈال دیا اور اُسے بند کرکے اُس پر مُہر لگادی تاکہ وہ قوموں کو گمراہ نہ کرسکے جب تک کہ ہزار برس پورے نہ ہو جائیں۔ اِس کے بعد اُس کا کچھ عرصہ کے لیے کھولا جانا لازمی ہے۔ پھر میں نے تخت دیکھے جن پر وہ لوگ بیٹھے ہُوئے تھے جنہیں اِنصاف کرنے کا اِختیار دیا گیا تھا۔ اور میں نے اُن لوگوں کی رُوحیں دیکھیں جن کے سر یسُوع کی گواہی دینے اور خدا کے کلام کی وجہ سے کاٹ دیئے گئے تھے۔ اُن لوگوں نے نہ تو اُس حیوان کو نہ اُس کی مُورت کو سجدہ کیا تھا، نہ اپنی پیشانی یا ہاتھوں پر اُس کا نشان لگوایا تھا۔ وہ زندہ ہوگئے اور ایک ہزار برس تک مسیح کے ساتھ بادشاہی کرتے رہے۔ اور باقی مُردے ایک ہزار برس پورے ہونے تک زندہ نہ ہُوئے۔ یہ پہلی قیامت ہے۔ مبارک اور مُقدّس ہیں وہ لوگ جو پہلی قیامت میں شریک ہیں۔ اُن پر دُوسری مَوت کا کوئی اِختیار نہیں، بلکہ وہ خدا اور مسیح کے کاہن ہوں گے اور ہزار برس تک اُس کے ساتھ بادشاہی کرتے رہیں گے۔ جب ہزار برس پورے ہو چُکیں گے تو شیطان اپنی قید سے رہا کر دیا جائے گا‘‘ (مکاشفہ 20:‏1۔7).

یہ حوالہ قبل از ہزارسالہ مذہب کے نظریے premillwnnialism کی تعلیم دیتا ہے۔ ابتدائی مسیحی یہ کہنے میں دُرست تھے کہ مکاشفہ 20:‏1۔7 اصلی ہے۔ مسیح اِس زمین پر واپس آئے گا اور یروشلم میں داؤد کے تخت کو قائم کرتے ہوئے اپنی بادشاہت قائم کرے گا۔ سچے مسیحی 1,000 سالوں کے لیے زمین پر اُس کی بادشاہت قائم کرنے کے لیے تیسرے آسمان سے مسیح کے پیچھے نیچے آئیں گے۔ یہ زکریا14:‏4۔9 میں بیان کیا گیا ہے۔

’’اس دِن وہ کوہِ زیتون پر جو یروشلیم کے مشرق میں ہے کھڑا ہوگا، اور کوہِ زیتون بیچ سے دو حِصّوں میں پھٹ جائے گا اور مشرق سے مغرب تک ایک بڑی وادی ہو جائے گی کیونکہ آدھا پہاڑ شمال کو سرک جائے گا اور آدھا جنوب کو۔ تُم میرے پہاڑ کی وادی سے بھاگو گے کیونکہ یہ آضل تک بڑھ جائے گی۔ جس طرح تُم شاہِ یہوداہ عزیّاہ کے عہد میں زلزلے سے بھاگے تھے۔ تب خداوند میرا خدا آئے گا اور تمام مُقدّس لوگ اس کے ساتھ ہوں گے۔ اس دِن روشنی نہ ہوگی، نہ سردی نہ کہرا ہوگا۔ یہ ایک نرالا دِن ہوگا جس کا نہ دِن ہوگا نہ رات۔ ایک ایسا دِن جو خدا ہی کو معلوم ہے۔ جب شام ہوگی تو روشنی ہوگی۔ اس روز یروشلیم سے آبِ حیات جاری ہوگا۔ آدھا مشرقی سمندر میں اور آدھا مغربی سمندر کی طرف جائے گا جو سردیوں اور گرمیوں میں جاری رہے گا۔ خداوند ساری دنیا کا بادشاہ ہوگا: اس روز ایک ہی خداوند ہوگا اور اس کا نام واحد ہوگا‘‘ (زکریاہ 14:‏4۔9).

مکاشفہ کی کتاب کہتی ہے،

’’[اُس نے] ہمیں ہمارے خدا کے لیے بادشاہ اور کاہن بنا دیا: اور ہم زمین پر حکمرانی کریں گے‘‘ (مکاشفہ 5:‏10).

V۔ پنجم، زمین پر مسیح کی 1,000 سالہ بادشاہی کے بعد کیا ہوگا؟

مسیح کی زمینی بادشاہت کی اختتام پر، یہ دُنیا اور کائنات آگ میں ہڑپ ہو جائے گی۔ 2۔ پطرس3:‏10۔13 کو سُنئیے۔

’’لیکن خدا کا دِن چور کی طرح آجائے گا؛ اُس دِن آسمان بڑے شوروغُل کے ساتھ غائب ہو جائیں گے اور اجرام فلکی شدید حرارت سے پگھل کر رہ جائیں گے اور زمین اور اُس پر کی تمام چیزیں جل جائیں گی۔ جب تمام اشیاء اِس طرح تباہ و برباد ہونے والی ہیں تو تمہیں کیسا ہونا چاہیے؟ تمہیں تو نہایت ہی پاکیزگی اور خدا ترسی کی زندگی گزارنا چاہیے۔ اور خدا کے اُس دِن کا نہایت مُشتاق اور منتظر رہنا چاہیے جس کے باعث افلاک جل کر تباہ ہو جائیں گے اور اجرامِ فلکی شدید حرارت سے پگھل کر رہ جائیں گے؟ لیکن ہم خدا کے وعدوں کے مطابق نئے آسمان اور نئی زمین کے انتظار میں ہیں جن میں راستبازی سکونت کرتی ہے‘‘ (2۔ پطرس 3:‏10۔13).

اُس وقت خُدا ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین تخلیق کرے گا۔ مکاشفہ21:‏1 کو کھولیے۔

’’پھر میں نے ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین دیکھی: کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور کوئی سمندر بھی موجود نہ تھا‘‘ (مکاشفہ 21:‏1).

تب مقدس شہر، وہ نیا یروشلم، نیچے آ جائے گا۔ وہ مسیح کی دائمی بادشاہت کا دارلحکومت ہوگا۔ نئے یروشلم کی قامت کے لیے مکاشفہ21:‏16 کو کھولیے۔

’’وہ شہر مُربّع شکل کا تھا یعنی اُس کا طول اور عرض برابر تھا۔ اُس نے چھڑی سے شہر کی پیمایش کی تو وہ تقریباً دو ہزار دو سَو کِلو میٹر نکلا۔ اُس کی لمبائی، چوڑائی اور اُونچائی برابر تھی‘‘ (مکاشفہ 21:‏16).

نیا یروشلم پندرہ سو میل لمبا، پندرہ سو میل چوڑا اور پندرہ سو میل اونچا ہے۔ یوں وہ شہر ریاست ہائے متحدہ United States کے مشرقی ساحل سے لے کر دریائے مسی سپی تک ایک طرف سے اور ایک طرف کینیڈا کی سرحد سے لے کر دوسری طرف میکسکو کے خلیج تک کے برابر ہوگا۔ لمبائی اور چوڑائی کے علاوہ، وہ شہر پندرہ سو میل اونچا ہوگا۔ اُس کی سینکڑوں منزلیں چوٹی تک جا رہی ہوں گی۔ ڈاکٹر پال لی ٹعین Dr. Paul Lee Tan نے اندازہ لگایا ہے کہ نئے یروشلم میں ’’حیران کُن طور پر 72 ارب باسیوں کے لیے جگہ‘‘ ہوگی (پیشن گوئی کا مطالعۂ بائبل Prophecy Study Bible، ibid.، صفحہ 751)۔ مسٹر گریفتھ Mr. Griffith، مہربانی سے ’’موتیوں جیسا سفید شہر Pearly White City‘‘ کا تیسرا بند گائیں۔

اُس شہر میں دِلوں کے کوئی درد نہیں ہیں،
   آنکھوں کو کوئی آنسو کبھی تر نہیں کرتے،
وہاں فردوس میں کوئی مایوسی نہیں ہے،
   آسمان میں کوئی حسد اور تصادم نہیں؛
تمام مقدسین کُلی طور پرمتبرک ہیں،
   وہ وہاں پر انتہائی اچھے اتفاق رائے سے رہتے ہیں؛
میرا دِل اب اُس شہر پر آ گیا ہے،
   اور کسی دِن اِس کی برکت میں مَیں شامل ہوؤں گا۔
اُس معمور شہر میں، موتیوں جیسے سفید شہر میں،
   میرے پاس ایک محل، لبادہ اور تاج ہوگا،
میں اب دیکھ رہا ہوں، انتظار کر رہا ہوں اور چاہت کر رہا ہوں،
   اُس سفید شہر کے لیے جو یوحنا نے نیچے آتے دیکھا تھا۔
(’’موتیوں جیسا سفید شہر The Pearly White City‘‘ شاعر آرتھر ایف۔ اِنگلر
     Arthur F. Ingler‏، 1902)۔

ڈاکٹر ٹعین Dr. Tan یہ بھی کہتے ہیں، عبرانیوں12:‏22۔24 شہر کے باسیوں کی فہرست فراہم کرتا ہے‘‘ (ibid.)۔ اُنہوں نے کہا، ’’نئے یروشلم میں [شامل ہونگے] فرشتے، کلیسا، منصف خُدا، پرانے عہد نامے کے مقدسین، اور یسوع ثالثی‘‘ (ibid.)۔ حیرت کی بات ہے، ڈاکٹر تعین فہرست میں ذکر کی گئی آخری بات کا تذکرہ کرنا بھول گئے۔ عبرانیوں12:‏22۔24 کو کھولیئے۔ فہرست میں آخری بات کیا ہے؟ ’’چھڑکا ہوا خون۔‘‘ میں نہیں جانتا کیوں ڈاکٹر ٹعین نے ’’چھڑکے ہوئے خون‘‘ کا تزکرہ نہیں کیا۔ لیکن جان میک آرتھر John MacArthur نے اپنی کتاب آسمان کا جلال The Glory of Heaven میں یسوع اور ’’چھڑکے ہوئے خون‘‘ کا تزکرہ نہیں کیا۔ ڈاکٹر میک آرتھر کہتے ہیں عبرانیوں 12 ’’آسمان کے بارے میں‘‘ ایک ’’سحر آمیز‘‘ حوالہ ہے۔ پھر وہ عبرانیوں12:‏22۔23 کا حوالہ دیتے ہیں۔ لیکن وہ تمام کی تمام 24 آیات کو چھوڑ دیتے ہیں! (دیکھیں جان ایف۔ میک آرتھر John F. MacArthur، آسمان کا جلال The Glory of Heaven، کراس وے کُتب Crossway Books، 1996، صفحہ104)۔ میری سمجھ میں نہیں آ سکتا کہ کیوں ایک شخص ’’یسوع ثالثی‘‘ اور ’’چھڑکے ہوئے خون‘‘ کا تزکرہ نہیں کرتا ہوگا۔ میرے لیے آسمان میں یسوع اور اُس کا خون تمام باتوں میں سب سے اہم ہے!

یسوع کے بغیر ہمارے پاس کیا اُمید ہے؟ اُس کے قیمتی خون کے بغیر ہمارے پاس کیا اُمید ہے؟ میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ ایک مسیح کے بغیر اور خون کے بغیر انجیل سچی انجیل نہیں ہے! عظیم سپرجئین Spurgeon نے کہا،

یہاں کچھ ایسے مبلغین بھی ہیں جو یسوع مسیح کون کے بارے میں تبلیغ نہیں کرتے ہیں، اور اُن سے تعلق رکھتے ہوئے میرے پاس آپ کو کہنے کے لیے ایک بات ہے – اُنہیں سُننے کے لیے کبھی مت جائیں! اُنہیں کبھی بھی مت سُنیں! ایک منادی جس میں خون نہیں ہوتا ہے بے جان ہے، اور ایک مردہ منادی کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی ہے،‘‘ 2 ۔ اگست 1874)۔

جب تک مجھ میں سانس ہے، میں جی اُٹھے اور مصلوب مسیح، اور اُس کے قیمتی خون کے وسیلے سے گناہ سے پاک صاف ہونے کی پرانی انجیل کی تبلیغ کروں گا! ’’آسمانی یروشلم‘‘ میں ’’نئے عہد نامے کے ثالثی یسوع‘‘ اور ’’چھڑکے ہوئے خون‘‘ کو دیکھ کر ہم خوشی منائیں گے۔ اور تمام ابدیت کے لیے ہم تعریف کریں گے ’’اُس کی جس نے ہم سے محبت کی، اور خود اپنے خون میں ہمیں ہمارے گناہوں سے پاک صاف کیا‘‘ (مکاشفہ1:‏5)۔

اب اِس صبح میں آپ سے پوچھتا ہوں، کیا آپ آسمان کے لیے تیار ہیں؟ آپ کے گناہ یسوع کے خون کے وسیلے سے پاک صاف ہونے چاہیے، ورنہ آپ وہاں کبھی بھی داخل نہ ہو پائیں گے۔ آپ کو یسوع پر بھروسہ کرنا چاہیے، ’’خُدا کا برّہ، جو جہاں کے گناہ اُٹھا لے جاتا ہے‘‘ (یوحنا1:‏29)۔ یسوع کے پاس ایمان کے ساتھ آئیں۔ گناہ سے منہ موڑیں اور یسوع، خُدا کے برّے پر بھروسہ کریں۔ وہ اپنے قیمتی خون کے ساتھ آپ کو آپ کے تمام گناہ سے پاک صاف کرے گا! مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور حمد و ثنا کا گیت نمبر 6 ’’کیا آپ خون میں پاک صاف ہوئے ہیں؟‘‘ اپنے گیتوں کے ورق میں سے گائیں۔

کیا آپ یسوع کے پاس پاک صاف ہونے کی قوت کے لیے جا چکے ہیں؟
   کیا آپ برّے کے خون میں پاک صاف ہوئے ہیں؟
کیا آپ اِس لمحے مکمل طور پر اُس کے فضل میں بھروسہ کر رہے ہیں؟
   کیا آپ برّے کے خون میں پاک صاف ہوئے ہیں؟
کیا آپ خون میں دُھلے ہوئے ہیں، برّے کے روح کو پاک صاف کرنے والے خون میں؟
   کیا آپ کے کپڑے بے داغ ہیں؟ کیا وہ برف کی مانند سفید ہیں؟
کیا آپ برّے کے خون میں پاک صاف ہوئے ہیں؟

جب دُلہا آئے گا تو کیا آپ کے لبادے سفید ہوں گے؟
   کیا آپ برّے کے خون میں پاک صاف ہوئے ہیں؟
کیا آپ کی روح محل کی روشنی کے لیے تیار ہوگی؟
   کیا آپ برّے کے خون میں پاک صاف ہوئے ہیں؟
کیا آپ خون میں دُھلے ہوئے ہیں، برّے کے روح کو پاک صاف کرنے والے خون میں؟
   کیا آپ کے کپڑے بے داغ ہیں؟ کیا وہ برف کی مانند سفید ہیں؟
کیا آپ برّے کے خون میں پاک صاف ہوئے ہیں؟

اُن کپڑوں کو ایک طرف رکھ دیں جو گناہ کے ساتھ داغ دار ہیں،
   اور برّے کے خون سے پاک صاف ہو جائیں۔
ناپاک روحوں کے لیے وہاں پر ایک چشمہ بہہ رہا ہے،
   اوہ برّے کے خون میں ضرور پاک صاف ہو جائیں!
کیا آپ خون میں دُھلے ہوئے ہیں، برّے کے روح کو پاک صاف کرنے والے خون میں؟
   کیا آپ کے کپڑے بے داغ ہیں؟ کیا وہ برف کی مانند سفید ہیں؟
کیا آپ برّے کے خون میں پاک صاف ہوئے ہیں؟
   (’’کیا آپ برّے کے خون میں پاک صاف ہوئے ہیں؟‘‘ شاعر علیشاہ اے۔ ھوفمین
     Elisha A. Hoffman‏، 1839۔1929)۔

ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے آئیں اور اُن کے لیے دعا کریں جنہیں نجات پانے کی ضرورت ہے

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: عبرانیوں12:‏22۔24 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’موتیوں جیسا سفید شہر‘‘ (شاعر آرتھر ایف۔ اِنگلر Arthur F. Ingler‏، 1902)

لُبِ لُباب

بائبل آسمان کے بارے میں سوالات کے جوابات دیتی ہے

BIBLE ANSWERS TO QUESTIONS ABOUT HEAVEN

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’مگر جیسا کہ پاک کلام میں لکھّا ہے کہ جو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سُنا، نہ کسی انسان کے خیال میں آیا اُسے خدا نے اُن کے لیے تیّار کیا ہے جو اُس سے محبّت رکھتے ہیں۔ مگر خُدا نے اُنہیں ہم پر اپنے پاک رُوح کے وسیلہ سے ظاہر کیا، کیونکہ پاک رُوح سب باتیں یہاں تک کہ خدا کی گہری باتیں بھی جانتا ہے‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:‏9۔10).

(اشعیا66:‏22؛ یوحنا14:‏2، 3؛ مکاشافہ21:‏22؛ اشعیا64:‏4)

I.   اوّل، کیا ہوتا ہے جب ایک مسیحی مرتا ہے؟ 2۔ کرنتھیوں5:‏8؛ فلپیوں1:‏23؛
لوقا16:‏22۔26، 2۔ کرنتھیوں12:‏2، 4؛ افسیوں4:‏8، 9؛ 2۔ کرنتھیوں5:‏6، 8 .

II۔  دوئم، کب مسیحی اپس کے جی اُٹھے بدن کو قبول کر پائیں گے؟ 1۔تسالونیکیوں4:‏15۔17 .

III۔ سوئم، کیا مسیحیوں کا انصاف ہوگا؟ 2۔ کرنتھیوں5:‏10۔11؛ مکاشفہ3:‏21۔

IV۔ چہارم، بادشاہت کے زمانے کے دوران مسیحی کیا کریں گے؟ مکاشفہ20:‏1۔7؛
زکریا14:‏4۔9؛ مکاشفہ5:‏10۔

V۔  پنجم، زمین پر مسیح کی 1,000 سالہ بادشاہت کے بعد کیا ہوگا؟ 2۔پطرس3:‏10۔13؛
مکاشفہ21:‏1، 16؛ عبرانیوں12:‏22۔24؛ مکاشفہ1:‏5؛ یوحنا1:‏29۔