Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

آپ کیا سوچتے ہیں یسوع کون ہے؟

?WHO DO YOU THINK JESUS IS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خداوند کے دِن کی شام، 11 مئی، 2003
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, May 11, 2003

’’مگر تُم مجھے کیا کہتے ہو؟‘‘ (متی 16:15).

پطرس نے جواب دیا، ’’تو زندہ خُدا کا بیٹا مسیح ہے‘‘ (متی16:16)۔ ’’یسوع نے جواب دیا اور اُس سے کہا، اے یوناہ کے بیٹے شمعون، تومبارک ہے کیونکہ یہ بات کسی انسان نے نہیں بلکہ میرے آسمانی باپ نے تجھ پر ظاہر کی ہے‘‘ (متی16:17)۔

’’مگر تم مجھے کیا کہتے ہو؟‘‘ (متی16:15)۔ یسوع نے کہا کہ پطرس نے دُرست جواب دیا تھا: کہ وہ مسیح ہے (یونانی میں مسیحا)، زندہ خُدا کا بیٹا۔

بہت سے خصوصی طور پر ہمارے زمانے میں، دوسری باتیں کرتے ہیں۔ وہ یسوع کے سوال میں دوسرے جوابات دیتے ہیں، ’’مگر تم مجھے کیا کہتے ہو؟‘‘ ہم غور کریں گے،

(1)    یسوع کے دشمن اُس کے بارے میں کیا کہتے تھے۔
(2)   خود یسوع نے اپنے بارے میں کیا کہا۔
(3)   آپ اُن میں سے کس پر یقین کریں گے؟

I۔ اوّل، یسوع کے دشمن اُس کے بارے میں کیا کہتے تھے۔

’’مگر تُم مجھے کیا کہتے ہو؟‘‘ (متی 16:15).

یسوع کے بہت سے دشمن تھے جب اُس نے زمین پر زندگی گزاری – اور اُس کے بعد۔ درج ذیل کچھ باتیں ہیں جو اُس کے بارے میں اُس کے دشمنوں نے کہیں۔

1. کچھ نے کہا وہ دیوانہ تھا – ایک پاگل آدمی۔

’’یہ باتیں سُن کر یہودیوں میں پھر اِختلاف پیدا ہُوا۔ اُن میں سے کئی ایک نے کہا کہ... وہ پاگل [دیوانہ] ہو گیا ہے۔ اُس کی کیوں سُنیں‘‘ (یوحنا10:19۔20).

’’اور جب اُس کے عزیزوں کو خبر ہُوئی [لوگوں کے بڑے بڑے ہجوم اُس کو سُننے کے لیے جمع ہو رہے تھے] تو وہ اُسے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے آئے کیونکہ اُن کا کہنا تھا کہ وہ آپے میں نہیں [اُس کا دماغ ماؤف ہو گیا ہے]‘‘ (مرقس 3:21).

یہ ہے جو آج کے دِن تک کچھ دہریے اور انتہائی شکی لوگ یسوع کے بارے میں کہتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ وہ محض ایک بدحواس آدمی تھا۔ وہ وہی بات کرتے ہیں جو یوحنا10:20 میں اُن لوگوں نے کی تھی، ’’وہ... پاگل ہے؛ اُس کی کیوں سُنیں؟‘‘

2. کچھ نے کہا اُس میں بدروح ہے، یا وہ بدروحوں کے اثر میں ہے۔

’’لوگوں نے جواب دیا اور کہا، تجھ میں ضرور کوئی ابلیس [بد رُوح] ہے‘‘ (یوحنا 7:20).

’’تب یہودیوں نے اُسے جواب دیا، اگر ہم کہتے ہیں، ... تجھ میں ابلیس ]بد رُوح[ ہے تو کیا یہ ٹھیک نہیں؟‘‘ (یوحنا 8:48).

’’لیکن فِریسیوں نے یہ بات سُن کر کہا: یہ بد رُوحوں کے سردار بعلزبول [شیطان کا ایک نام] کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے‘‘ (متی 12:24).

’’لیکن فِریسیوں نے کہا کہ یہ تو بدرُوحوں کے سردار کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے‘‘ (متی 9:34).

ایسے آج بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ یسوع کی قوت اور معجزے دراصل جادوگری تھے – اور کہ وہ شیطان کے اثر اور قوت کے تحت تھا۔ کچھ لوگ ہیں جو جادوگری اور شیطان کی پرستش کرتے ہیں جو آج یسوع کے بارے میں یہ کہتے ہیں۔

3. کچھ نے کہا کہ وہ اک دھوکے باز تھا – کہ اُس نے جان بوجھ کر لوگوں کو چکمہ اور دھوکہ دیا۔

’’اگلے دِن یعنی تیاری کے دِن کے بعد سردار کاہن اور فِریسی مل کر پیلاطُس کے پاس پہنچے اور کہنے لگے: خداوند! ہمیں یاد ہے کہ اُس دھوکے باز نے اپنے جیتے جی کہا تھا کہ میں تین دِن کے بعد زندہ ہو جاؤں گا‘‘ (متی27:62۔63).

آج وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ یسوع کچھ بھی نہیں تھا ماسوائے ایک دھوکے باز کے، کہ اُس نے لوگوں سے دغا بازی کی، اور جان بوجھ کر اُن سے چالبازی کی۔

4. کچھ نے کہا وہ کفر بکنے والا ایک شخص تھا۔

’’تب سردار کاہن نے اپنے کپڑے پھاڑ کر کہا: اُس نے کفربکا ہے، اب ہمیں گواہوں کی کیا ضرورت ہے؟ تُم نے ابھی ابھی اُس کا کفرسُنا ہے۔ تمہاری کیا رائے ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا: وہ قتل کے لائق ہے‘‘ (متی 26:65۔66).

اب بھی وہ لوگ ہیں جو آج یہی کہتے ہیں۔

5. کچھ تو اُس کے بارے میں کچھ بھی کہنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ یسوع کے بارے میں کہ وہ کون تھا یا کیا تھا کوئی فیصلہ کرنا ہی نہیں چاہتے۔

’’پیلاطُس نے اُن سے کہا، پھر میں یسوع کا جو مسیح کہلاتا ہے کیا کروں؟ سب بول اُٹھے کہ اُسے صلیب دی جائے.... [پھر پیلاطوس] نے پانی لے کر لوگوں کے سامنے اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا، میں اِس راستباز کے خُون سے بری ہوتا ہُوں۔ تُم جانو اور تمہارا کام‘‘ (متی 27:22۔24).

بہت سے لوگ رومی گورنر پیلاطوس کی مانند ہیں۔ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع ایک ’’راستباز شخص‘‘ تھا، لیکن وہ اُس کے بارے میں زیادہ سوچ کر پریشان ہونا نہیں چاہتے ہیں۔ وہ صرف اِس تمام معاملے سے اپنے ہاتھ دھو لینا چاہتے ہیں، اور یسوع کے بارے میں زیادہ سوچے بغیر اپنی زندگیاں گزار دینا چاہتے ہیں۔ لاس اینجلز میں بہت سے لوگ پیلاطوس کی مانند ہیں۔ وہ بس صرف یسوع کے بارے میں بہت زیادہ سوچنا ہی نہیں چاہتے۔

کچھ کہتے ہیں وہ دیوانہ تھا۔ کچھ کہتے ہیں وہ آسیب زدہ اور ایک جادوگر تھا، کچھ کہتے ہیں وہ ایک دھوکے باز تھا، کچھ کہتے ہیں کفر بکنے والا ایک شخص تھا، کچھ اُس کے بارے میں کچھ کہنے کے لیے ہی تیار نہیں ہیں۔ لیکن آج رات یسوع آپ سے پوچھتا ہے،

’’مگر تُم مجھے کیا کہتے ہو؟‘‘ (متی 16:15).

II۔ دوئم، خود یسوع نے اپنے بارے میں کیا کہا۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ یسوع کے دشمنوں نے اُس کے بارے میں کیا کہا۔ آئیں اب دیکھتے ہیں خود یسوع نے اپنے بارے میں کیا کہا۔

1. مہربانی سے اپنی بائبل میں سے یوحنا8:56 کھولیں،

’’تمہارے باپ ابرہام کو بڑی خوشی سے میرے دِن کے دیکھنے کی اُمید تھی۔ اُس نے وہ دِن دیکھ لیا اور خُوش ہوگیا۔ پھر یہودیوں نے اُس سے کہا، تیری عمر تو ابھی پچاس سال کی بھی نہیں ہُوئی۔ کیا تُو نے ابرہام کو دیکھا ہے؟ یسُوع نے اُن سے جواب میں کہا، میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ ابرہام کے پیدا ہونے سے پہلے میں ہُوں۔ اِس پر اُنہوں نے پتھر اُٹھائے کہ اُسے سنگسار کریں لیکن یسُوع اُن کی نظروں سے بچ کر ہیکل سے نکل گیا‘‘ (یوحنا 8:56۔59).

اُنہوں نے پتھر اُٹھائے اور اُس کو سنگسار کرنے کی کوشش کی کیونکہ یسوع نے خُدا کے اُس نام کو اپنے لیے استعمال کیا۔ موسیٰ نے خُدا سے اُس کا نام پوچھا تھا، ’’اور خُدا نے موسیٰ سے کہا، میں جو ہوں سو میں ہوں‘‘ (خروج3:14)۔ عبرانی میں جو الفاظ واول نہیں ہیں وہ ’’یاوھےYahweh‘‘ یا انگریزی میں ’’یہوواہJehovah ‘‘ بناتے ہیں۔ اِس کا مطلب ’’میں ہوں‘‘ ہوتا ہے۔ خُدا کے نام ’’میں ہوں‘‘ کا مطلب ہے کہ وہ خود حقیقی اور دائمی ہے۔ وہ خروج 3:14 جانتے تھے، اور یسوع کو یہ کہنے پر کہ وہ ’’ابراہام کے پیدا ہونے سے پہلے میں ہوں،‘‘ یہوواہ تھا قتل کرنا چاہتے تھے (یوحنا8:58)۔ یسوع نے خُدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

2. مہربانی سے یوحنا10:29 کھولیں۔ یسوع نے کہا،

’’میرا باپ جس نے اُنہیں میرے سپرد کیا ہے سب سے بڑا ہے۔ کوئی شخص اُنہیں میرے باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا۔ میں اور باپ ایک ہیں۔ یہودیوں نے پھر اُسے سنگسار کرنے کے لیے پتھر اُٹھائے۔ لیکن یسُوع نے اُن سے کہا کہ میں نے تمہیں اپنے باپ کی طرف سے بڑے بڑے معجزے دکھائے ہیں۔ اُن میں سے کس معجزہ کی وجہ سے مجھے سنگسار کرنا چاہتے ہو؟ یہودیوں نے جواب دیا، ہم تجھے کسی معجزہ کے لیے نہیں بلکہ اِس کفر کے لیے سنگسار کرنا چاہتے ہیں کہ محض آدمی ہوتے ہُوئے تُو اپنے آپ کو خدا بناتا ہے‘‘ (یوحنا 10:29۔33).

یسوع نے کہا، میں اور میرا باپ ایک ہیں‘‘ (آیت30)۔ یہ تثلیث کی پہلی اور دوسری ہستی کے درمیان روح رواں کے اتحاد کو ظاہر کرتا ہے۔ اُنہوں نے بالکل واضح طور پر سمجھ لیا تھا کہ یسوع کا کیا مطلب تھا، جیسا کہ ہم آیت تینتیس میں دیکھتے ہیں، ’’آدمی ہوتے ہوئے تو اپنے آپ کو خُدا بناتا ہے۔‘‘ اُن کے ذہنوں میں کوئی شک نہیں تھا کہ اُس نے خُدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایکولیم پے دئیس Ecolampadius نے تبصرہ کیا، ’’وہ نہیں کہتا ہے کہ ہم مردانہ جنس میں ایک ہیں – یعنی ایک ہستی؛ بلکہ نیوٹر جنس میں ایک ہیں – یعنی قدرت، قوت اور شاہانت میں ایک ہیں۔‘‘ باپ اور بیٹا ایک ہی روحessence یا ’’مادہ substance‘‘ کے ہیں، جیسا کہ ایتھانیسئین Athanasian عقیدے میں لکھا ہے۔ ’’ آگسٹین Augustine رائے دیتے ہیں کہ تنہا یہ آیت (یوحنا10:30) ہی دونوں عقیدوں سابیلیعنز Sabellians اور ایریعنز Arians [جو یہوواہ کی گواہی دینے والوں کے جیسا ہے] کو رد کر دیتی ہے۔ یہ سابیلیعنز کو خاموش کرا دیتی ہے، جب وہ دو الگ الگ ہستیوں کی بات کرتی ہے [’میں اور میرا باپ‘]، جو کہتے ہیں کہ خُدائے قادرمطلق میں ایک ہی ہستی ہے۔ یہ ایریعنز کو خاموش کرا دیتی ہے جب وہ کہتی ہے کہ باپ اور بیٹا ’ایک‘ ہیں، جو کہتے ہیں کہ بیٹا باپ سے کمتر ہے‘‘ (جے۔ سی۔ رائیلی J. C. Ryle، یوحنا پر تفسیراتی خیالات Expository Thoughts on John، بینر آف ٹرتھ Banner of Truth، 1869 کے ایڈیشن کی دوبارہ اشاعت، جلد دوئم، صفحہ 240)۔

3. اب یوحنا14:7 کھولیے،

’’اگر تُم نے واقعی مجھے جانا ہوتا تو میرے باپ کو بھی جانتے۔ اور اب تُم اُسے جان گئے ہو بلکہ اُسے دیکھ بھی چُکے ہو۔ فِلپس نے اُس سے کہا، اَے خداوند! ہمیں باپ کا دیدار کرادے، بس یہی ہمارے لیے کافی ہے۔ یسوع نے اُسے جواب دیا، فِلپُس! میں اتنے عرصہ سے تُم لوگوں کے ساتھ ہُوں، کیا تُو مجھے نہیں جانتا؟ جس نے مجھے دیکھا ہے اُس نے باپ کو دیکھا ہے۔ تُو کیسے کہتا ہے کہ ہمیں باپ کا دیدار کرادے؟ کیا تجھے یقین نہیں کہ میں باپ میں ہُوں اور باپ مجھ میں ہے؟ میں جو باتیں تُم سے کہتا ہُوں وہ میری طرف سے نہیں بلکہ میرا باپ مجھ میں رہ کر اپنا کام کرتا ہے۔ جب میں کہتا ہُوں کہ میں باپ میں ہُوں اور باپ مجھے میں ہے تو یقین کرو...‘‘ (یوحنا 14:7۔11).

یسوع نے کہا، ’’جس نے مجھے دیکھا ہے اُس نے باپ کو دیکھا ہے‘‘ (آیت 9)۔ جے سی۔ رئیلی تبصرہ کرتے ہیں، ’’تثلیث میں ہستیوں کے درمیان اِس قدر قریبی اور معتمد اتحاد ہے کہ وہ جو بیٹے کو دیکھتا ہے باپ کو دیکھتا ہے۔ اور اِس کے باوجود ہمیں شدید احتیاط کے ساتھ جان لینا چاہیے کہ ہم نہیں دیکھ پاتے، جیسے کچھ بدعتی، ’ہستیوں کی غلط پہچان‘ کرتے ہیں۔ باپ بیٹا نہیں ہے، اور بیٹا باپ نہیں ہے‘‘ (رائیلی، گذشتہ حوالے سے پیوستہ op. cit.، جلد سوئم، صفحہ72)۔ جب یسوع نے کہا، ’’جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا،‘‘ وہ بنیادی طور پر ہمیں بتا رہا ہے، ’’خُدا کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا لیکن اُس اکلوتے بیٹے نے جو باپ کے پہلو میں ہے اُسے ظاہر کیا‘‘ (یوحنا1:18)۔ یسوع کو ’’اُس ہستی کے جلال کا عین نقش‘‘ کہا گیا ہے (عبرانیوں1:3)۔ یسوع اور باپ کا اتحاد، پاک تثلیث کی پہلی اور دوسری ہستی کی حیثیت سے یوحنا14:7۔11 میں دیکھا گیا ہے۔

4. اب یوحنا 5:17 کھولیے،

’’مگر یسُوع نے اُن سے کہا، میرا باپ اب تک اپنا کام کر رہا ہے اور میں بھی کر رہا ہُوں۔ اِس وجہ سے یہودی اُسے قتل کرنے کی کوشش میں پہلے سے بھی زیادہ سرگرم ہوگئے کیونکہ اُن کے نزدیک یسُوع نہ صرف سبت کے حکم کی خلاف ورزی کرتا تھا بلکہ خدا کو اپنا باپ کہہ کر پُکارتا تھا گویا وہ خدا کے برابر تھا‘‘ (یوحنا 5:17۔18).

جوش میکدویل Josh McDowell نشاندہی کرتے ہیں ’’کہ یہودی خدا کا ’میرے باپ‘ کی حیثیت سے حوالہ نہیں دیتے۔ اگر وہ دیتے، تو وہ ’آسمان میں‘ کے ساتھ بیان کو قابل بنائیں گے۔ تاہم، یسوع نے یہ نہیں کیا۔ اُس نے دعویٰ کیا کہ یہودی غلط تعبیر نہیں نکال پائے جب اُس نے خُدا کو ’میرا باپ‘ کہا۔ اُس کا دعویٰ خُدا بحیثیت اُس کے باپ کے منفردانہ تعلق کا تھا۔ بالکل جیسے ایک انسانی باپ کے بیٹے کو مکمل انسان ہونا چاہیے، خُدا کے بیٹے کو بھی مکمل خُدا ہونا چاہیے‘‘ (جوش میکدویل Josh McDowell، ایک نیا ثبوت جو ایک فیصلے کا تقاضہ کرتا ہے The New Evidence That Demands a Verdict، تھامس نیلسن Thomas Nelson، 1999، صفحہ142)۔ اُنہوں نے اِسے مکمل طور پر سمجھ لیا تھا۔ اُنہوں نے اُس کوقتل کرنے کا سوچ لیا تھا کیونکہ اُس نے ’’خود کو خُدا کے برابر‘‘ کیا تھا (آیت18)۔ جے۔ سی۔ رائیلی نشاندہی کرتے ہیں کہ ’’ایک بات انتہائی واضح ہے: سوسی نیئینزSocinians [یہوواہ کی گواہی والے] چاہے کچھ بھی کہیں، ہمارے خداوند نے بالکل واضح طور پر الوہیت کا دعویٰ قائم کیا، اور یہودیوں نے واضح طور پر اُس کو سمجھ لیا تھا کہ اُس کا مطلب وہ انسان ہونے کے ساتھ ساتھ خُدا تھا‘‘ (رائیلی، گذشتہ حوالے سے منسلک op. cit.، صفحہ310)۔ یسوع نے مذید اور تبصرہ اپنی بات کے ساتھ اپنے تعلق پر دیا جب اُس نے 26 ویں آیت میں کہا، ’’کیونکہ جیسے باپ اپنے آپ میں زندگی رکھتا ہے ویسے ہی اُس نے اپنے بیٹے کو بھی اپنے میں زندگی بخشنے کا شرف بخشا ہے‘‘ (یوحنا5:26)۔ خُدا باپ اور خُدا بیٹے کے پاس یکساں زندگی یا روح ہے۔ یوحنا1:4 کہتی ہے، ’’اُس میں زندگی تھی۔‘‘ یسوع نے باپ کے ساتھ برابری کا دعویٰ کیا تھا۔

5. آخر میں، متی26:62 کو کھولیے،

’’اِس پر سردار کاہن کھڑا ہوکر یسُوع سے پُوچھنے لگا، تو نے جواب نہیں دیا؟ تیرے پاس اِس اِلزام کا کیا جواب ہے؟ مگر یسوع خاموش رہا۔ سردار کاہن نے پھر پوچھا: تجھے زندہ خُدا کی قسم ہمیں بتا کہ کیا تو خُدا کا بیٹا مسیح ہے؟ یسوع نے جواب دیا: تو نے خود ہی کہہ دیا ہے پھر بھی میں تمہیں بتاتا ہوں کہ آیندہ تم ابنِ آدم کو قادرِ مطلق کی دائیں طرف بیٹھا اور آسمان کے بادلوں پر آتا دیکھو گے۔ تب سردار کاہن نے اپنے کپڑے پھاڑ کر کہا: اُس نے کفر بکا ہے، اب ہمیں گواہوں کی کیا ضرورت ہے؟ تم نے ابھی ابھی اُس کا کفر سُنا ہے۔ تمہاری رائے کا ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا وہ قتل کے لائق ہے۔ اِس پر اُنہوں نے اُس کے منہ پر تھوکا، اُسے مکے مارے اور بعض نے طمانچے مار کر کہا: اے مسیح: اگر تو نبی ہے تو بتا کہ کسی نے تجھے مارا ہے؟ (متی26:62۔68)۔

یسوع نے کہا کہ وہ خُدا کے ساتھ بیٹھا ہوگا، ’’قادر مطلق کے داہنے ہاتھ پر۔‘‘ اِسی وجہ سے اُنہوں نے اُس کو مصلوب کر دیا۔

تب، یہ اُن باتوں میں سے کچھ ہیں جو یسوع نے اپنے بارے میں کہیں۔ ’’ابراہام کے پیدا ہونے سے پہلے میں ہوں‘‘، میں اور میرا باپ ایک ہیں‘‘، جس نے مجھے دیکھا ہے اُس نے باپ کو دیکھا ہے‘‘، ’’خود کو خُدا کے برابر کیا‘‘، آیندہ تم ابن آدم کو قادر مطلق کے دائیں طرف بیٹھا دیکھو گے۔‘‘ یہ باتیں ہیں جو یسوع نے اپنے بارے میں کہیں۔ اب وہ آپ سے پوچھتا ہے،

’’مگر تُم مجھے کیا کہتے ہو؟‘‘ (متی 16:15).

III۔ سوئم، آپ اِن میں سے کس پر یقین کریں گے؟

کیا آپ یقین کریں گے کہ وہ ایک آسیب زدہ پاگل آدمی اور دھوکہ دینے والا دغا باز تھا؟ یا کیا آپ ایمان لائیں گے کہ پاک تثلیث کی دوسری ہستی خُدا بیٹا ہے؟

’’مگر تُم مجھے کیا کہتے ہو؟‘‘ (متی 16:15).

یسوع نے اپنی خُدائی کا جو ثبوت دیا وہ اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا تھا۔ متی20:18 کھولیے،

’’دیکھو ہم یروشلم جا رہے ہیں جہاں ابنِ آدم سردار کاہنوں اور شریعت کے عالموں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ وہ اُس کے قتل کا حکم صادر کر کے اُس کو غیریہودیوں کے حوالے کر دیں گے اور وہ ابن آدم کی ہنسی اُڑائیں گے اُسے کوڑے ماریں گے اور مصلوب کر دیں گے لیکن وہ تیسرے دِن زندہ کیا جائے گا‘‘ (متی20:18۔19)۔

پولوس رسول نے کہا کہ مسیح

’’پاکیزگی کی روح کے اعتبار سے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث بڑی قدرت کے ساتھ خُدا کا بیٹا ٹھہرا‘‘ (رومیوں1:4)۔

جب تھوما نے جی اُٹھے مسیح کا سامنا کیا تھا تو وہ یسوع کے قدموں میں گر پڑا تھا اور چلا اُٹھا تھا،

’’اے میرے خُداوند اور اے میرے خُدا‘‘ (یوحنا20:28)۔

یسوع آج رات کو آپ سے پوچھتا ہے،

’’مگر تُم مجھے کیا کہتے ہو؟‘‘ (متی 16:15).

اگر آپ کہتے ہیں کہ وہ ایک دیوانہ اور دھوکے باز ہے، تو آپ کے پاس کیا اُمید رہ جاتی ہے؟ اگر یسوع نجات دہندہ نہیں ہے، تو پھر زندگی میں کوئی اُمید نہیں ہے – صرف موت آپ کا انتظار کرتی ہے – خالی پن کی کبھی نہ ختم ہونے والی دائمیت۔ لیکن اگر یسوع دُرست تھا، اور وہ خُدا بیٹا ہے، تو پھر آپ کو اُس کے پاس آنا چاہیے، اور اُس پر ایمان رکھنا چاہیے، اور اُس کے خون کے وسیلے سے اپنے گناہوں سے پاک صاف ہو جانا چاہیے۔ کیا آپ اُس کو مسترد کریں گے – اور بغیر اُمید اور زندگی گزار کر مر جائیں گے؟ یا کیا آپ اُس پر بھروسہ کریں گے اور نجات پائیں گے؟

’’مگر تُم مجھے کیا کہتے ہو؟‘‘ (متی 16:15).

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چیعن Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: متی16:13۔17 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’میرے تمام گناہ کے لیے For All My Sin‘‘ (شاعر نارمن جے۔ کلیٹن Norman J. Clayton، 1943)۔

لُبِ لُباب

اآپ کیا سوچتے ہیں یسوع کون ہے؟

?WHO DO YOU THINK JESUS IS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’مگر تُم مجھے کیا کہتے ہو؟‘‘ (متی 16:15).

(متی16:16۔17)

I. یسوع کے دشمن اُس کے بارے میں کیا کہتے ہیں، یوحنا10:19۔20؛ مرقس3:21؛ یوحنا7:20؛ یوحنا8:48؛ متی12:24؛ متی9:34؛ متی27:62۔63؛ متی26:65۔66؛ متی27:22، 24 .

II. یسوع نے خود اپنے بارے میں کیا کہا، یوحنا8:56۔59؛ خروج3:14؛ یوحنا10:29۔33؛ یوحنا14:7۔11؛ یوحنا1:18؛ عبرانیوں1:3؛ یوحنا5:17۔18؛ یوحنا5:26؛ یوحنا1:4؛ متی26:62۔68 .

III. آپ اِن میں سے کس پر یقین کریں گے؟ متی20:18۔19؛ رومیوں1:4؛ یوحنا20:28؛ متی16:15 .