Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

نجات دہندہ کی فتح

(اشعیا 53 باب پر واعظ نمبر 12 )
!THE SAVIOUR’S TRIUMPH
(SERMON NUMBER 12 ON ISAIAH 53)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز جونیئرکی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
14 اپریل، 2013 ، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, April 14, 2013

’’وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا، اور اُس کی عمر دراز ہوگی، اور اُس کے ہاتھ کے وسیلے سے خُداوند کی مرضی پوری ہوگی‘‘ (اشعیا 53:‏10).

اشعیا 53:‏10 آیت کا پہلا حصّہ مسیح کی گناہ کے کفارے کی قربانی کی موت کے بارے میں بتاتا ہے۔ میں نے اِس پر گذشتہ اِتوار منادی کی تھی۔ اِس آیت کے پہلے آدھے حصے میں خُدا باپ اپنے بیٹے کے مصائب کے پیچھے ایک نمائندے کے طور پر بتایا گیا ہے۔ وہ جو درحقیقت اِن کے ہونے کا سبب تھا۔ ڈاکٹر میرِل ایف. اُونگر Dr. Merrill F. Unger نے کہا، ’’خُداوند نے اُسے غموں میں مبتلا کر کے پیس ڈالا‘‘ (میرِل ایف. اُونگر، پی ایچ. ڈی. ، پرانے عہد نامے پر اُونگر کا تبصرہ Unger’s Commentary on the Old Testament ، مُوڈی اشاعت خانہ، 1981، جلد دوئم، صفحہ 1299). اشعیا53:‏10 کا پہلا حصہ کہتا ہے،

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے؛ اور غمگین کرے: اور حالانکہ خُداوند اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیتا ہے. . .‘‘ (اشعیا 53:‏10الف).

کئیل اور ڈیلیژزچ Keil and Delitzsch کا پرانے عہد نامے پر تبصرہ کہتا ہے،

یہ لوگ تھے جنہوں نے [مسیح] پر اِس قدر چکنا چور کر دینے والے مصائب مسلط کیے، اس قدر گہرا غم؛ لیکن سب سے بڑا [سبب] خُدا تھا، جس نے لوگوں کے گناہ [کے کاموں] کو اپنی خُوشی، اپنی مرضی اور پہلے سے متعین شدہ صلاح بنایا تھا (عئیرڈمینز، دوبارہ اشاعت 1973، جلد ہفتم، حصّہ دوئم، صفحہ 330).

لیکن اب ہم اشعیا53:‏10 کے دوسرے حصّے میں دیکھتے ہیں کہ مسیح کے مصائب برداشت کرنےکا کیا نتیجہ نکلا تھا۔ اُس کی چاہت اور موت نے اُس کے دوبارہ جی اُٹھنے کی فتح اور زمین پر اپنے لوگوں کی جیت کے لیے بنیادوں کا کام کیا تھا! مہربانی سے کھڑے ہو جائیے اور آیت کا دوسرا آدھا حصّہ پڑھیے جو اِن الفاظ سے شروع ہوتا ہے، ’’ وہ دیکھ پائے گا۔‘‘

’’. . . وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا، اور اُس کی عمر دراز ہوگی، اور اُس کے ہاتھ کے وسیلے سے خُدا کی مرضی پوری ہوگی‘‘ (اشعیا53:‏10ب( .

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ تلاوت میں تین حیرت انگیز نتائج پر غور کیجیے جو کہ مسیح کے مصائب سے سامنے آئے!

1۔ اوّل، وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا!

’’وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا‘‘ (اشعیا 53:‏10).

یہ یسوع کی موت کا پہلا نتیجہ ہے۔ ’’وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا۔‘‘ یہ مسیح کی روحانی اولاد، اُس کی تجسیم[نسل] کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لاکھوں لوگوں نے مسیح کو قبول کیا اور ’’اُس کی اولاد‘‘ بن گئے۔ یسوع نے اِس کی پیشن گوئی کی جب اُس نے کہا،

’’لوگ مشرق، مغرب، شمال اور جنوب سے آکر خُدا کی بادشاہی کی ضیافت میں شرکت کریں گے‘‘ (لوقا 13:‏29).

پینتیکوست کے دِن سے لیکر ، پوری دُنیا سے اَن گنت تعداد میں لوگ مسیح میں شامل ہوئے۔ اور آخر میں، جب مسیح آسمان سے اِس دُنیا میں آتا ہے،

’’اُس کی اولاد زمین کی وارث ہوگی‘‘ (زبور 25:‏13).

لیکن مسیح کو انتظار کرنے کی ضرورت نہیں تھی جب تک کہ وہ دوسری مرتبہ اپنی اولاد دیکھنے کے لیے نہ آتا۔ اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے فوراً بعد، اُس نے اُنہیں دیکھا اور اُنہوں نے اُسے دیکھا! پولوس رسول نے کہا،

’’اور کیفا [پطرس] کو اور پھر دوسرے رسولوں کو دکھائی دیا: اُس کے بعد پانچ سو سے زائد مسیحی بھائیوں کو ایک ساتھ دکھائی دیا. . . اُس کے بعد سب رسولوں کو دکھائی دیا۔ اور سب سے آخر میں مجھے بھی دکھائی دیا‘‘ (1۔کرنتھیوں 15:‏5۔8).

اُس کی اولاد نے اُسے دیکھا۔ جیسا کہ یوحنا رسول لکھتا ہے،

’’اُس زندگی کے کلام کے بارے میں جو ابتدا میں تھا، ہم نے اُسے سُنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ غور سے دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے اُسے چھوأ بھی ہے‘‘ (1۔یوحنا 1:‏1).

اور اُس نے اپنی اولاد کو دیکھا، جب وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا،

’’پھر. . . یسوع آیا اور اُن کے بیچ میں کھڑا ہوا، اوراُنہیں کہنے لگا، تم پر سلامتی ہو۔ یہ کہہ کر اُس نے اپنے ہاتھ اور اپنی پسلی اُنہیں دکھائی۔ پھر شاگرد اُسے دیکھ کر خُوشی سے بھر گئے‘‘ (یوحنا20:‏19۔20).

’’وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا۔‘‘

اُنہوں نے اُسے دیکھا اور اُس نے اُنہیں دیکھا – اور وہ اُس کی اولاد تھے، اُس کی روحانی نسل! جب وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا، اُس نے اپنی اولاد دیکھی!

یسوع کے آسمان پر واپس اُٹھائے جانے کے بعد، روح القُدس کی قوت حرکت میں آئی اور تین ہزار لوگ تبدیل ہوئے۔ دوبارہ یہ وعدہ اشعیا نبی کی معرفت پورا ہوا تھا۔ جنت سے نیچے دیکھتے ہوئے، یسوع نے اپنی اولاد دیکھی۔ اوریہ اسی طرح اعمال کی کتاب میں شروع سے آخر تک تھا۔ جی اُٹھے مسیح نے جلال کے ساتھ اپنے تخت سے نیچے دیکھا اور کثیر تعداد میں لوگوں کو دیکھا جو اُس پر بھروسہ کرتی تھی اور اُس کی اولاد بنی۔

اور اسی طرح یہ زمانوں سے ہوتا آیا ہے۔ یسوع جنت سے نیچے دیکھتا ہے اور تمام دُنیا کے چہرے پر اپنی اولاد کو بڑھتے ہوئے دیکھتا ہے؛ یوں اشعیا نبی کی معرفت یہ پیشن گوئی پوری ہوتی ہے، کہ وہ آئیں گے ’’لوگ مشرق، مغرب، شمال اور جنوب سے آکر خُدا کی بادشاہی کی ضیافت میں شرکت کریں گے ‘‘ (لوقا 13:‏29).

جی ہاں، وہ وعدہ کروڑوں مرتبہ تاریخ میں اور پوری دُنیا کے ہر کونے میں پورا کیا گیا ہے۔

’’وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا۔‘‘

اور جب آپ ایمان کے وسیلے سے یسوع کے پاس آتے ہیں، تو وہ آپ کو بھی ضرور دیکھے گا! مسیح میں تبدیلی کے لمحے پر آپ اُن کثیرالاتعداد لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جو اُس کی اولاد ہیں – زمین پر اور آسمان میں۔

’’وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا۔‘‘

ہم کیسے خوشی منائیں کہ جی اُٹھا مسیح اس قدر شاندار اور بابرکت نظارہ دیکھ پاتا ہے – تمام قوموں اور نسلوں کے مرد اور عورتیں اُس پر یقین رکھتے ہیں، اور اُس میں ہمیشہ کے لیے اپنے آپ کو سموتے جا رہے ہیں! جی ہاں،

’’وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا۔‘‘

اور اُس آخری فتح پر، جب مسیح اِس زمین پر اپنی بادشاہی قائم کرنے اپنے جلال میں آئے گا، جب وہ خُداؤں کے خُدا اور بادشاہوں کے بادشاہ کے طور پردوبارہ حکومت کرنے آئے گا،

’’اُس کی اولاد زمین کی وارث ہوگی‘‘ (زبور 25:‏13).

اور ’’وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا،‘‘ کیونکہ خُدا کے منہ سے یہ بات نکلی تھی! یسوع حکومت کرے گا۔‘‘ اسے گائیں!

جہاں سورج ہوگا یسوع کی حکومت ہوگی
   اُس کا کامیاب سفر چلتا رہے گا؛
اُس کی بادشاہی ساحل سے ساحل تک پھیلی ہے،
   جب چاند بڑھے گا اور گھٹے گا نہیں۔
(’’یسوع حکومت کرے گاJesus Shall Reign ‘‘ شاعر آئزک وآٹزIsaac Watts
     ، ڈی. ڈی.، 1674۔1748).

2۔ دوئم، اُس کی عمر دراز ہوگی!

ہم اپنی تلاوت اشعیا53:‏10 میں واپس دیکھتے ہیں کہ اِس میں یسوع کے مصائب اور موت کے بارے میں ایک اور بہت عظیم نتیجہ ہے۔

’’وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا، اور اُس کی عمر دراز ہوگی. . . ‘‘ اشعیا53:‏10) .

یسوع کی موت کا دوسرا اثر ہے، ’’اُس کی عمر دراز ہوگی،‘‘ کیونکہ جب وہ صلیب پر مرا تھا تو اُس کی زندگی کا اختتام نہیں ہوا تھا۔ موت اُسے قبر میں زیادہ عرصہ تک نہ رکھ پائی تھی۔ تیسرا دِن آیا، اور فاتحانہ مسیح دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ اُس نے دوبارہ نہ مرنے کے لیے، موت کی بیڑیوں کو توڑ ڈالا، اور قبر میں سے باہر نکل آیا! ’’کیونکہ گناہ کے اعتبار سے تو مسیح ایک ہی بار مرا لیکن خُدا کے اعتبار سے وہ ہمیشہ زندہ ہے‘‘ پھر کبھی نہ مرنے کے لیے! (رومیوں 6:‏10).

’’کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ جب مسیح مُردوں میں سے زندہ کیا گیاتو بھر کبھی نہیں مرے گا؛ موت کا اُس پر پھر کبھی نہیں اختیار ہوگا‘‘ (رومیوں 6:‏9).

’’تین غمگین دِن۔‘‘ اسے گائیے!

وہ تین غمگین دِن جلد ہی گزر گئے؛
وہ جلال کے ساتھ مُردوں میں سے جی اُٹھتاہے:
تمام شان و شوکت ہمارے زندہ خُدا کی! ہیلیلویاہ!
ہیلیلویاہ! ہیلیلویاہ! ہیلیلویاہ!
   (تصادم ختم ہوتا ہے The Strife is O’er,‘‘
      ، مترجم فرانسس پُاٹ Francis Pott‏، 1832۔1909).

’’اُس کی عمر دراز ہوگی،‘‘

’’ مگر یسوع ابد تک قائم رہنے والا. . . وہ اُن کی [ہماری] شفاعت کرنے کے لیے ہمیشہ زندہ ہے‘‘ (عبرانیوں 7:‏24، 25).

سپرجئین نے کہا، آسمانوں کی بُلندیوں سے وہ اپنی اولاد کی کثیر تعداد کو زمین پر [نیچے] دیکھتا ہے. . . ہمارے خُداوند یسوع مسیح کی اولاد اتنی ہی ہے جتنے آسمان پر ستارے، اور اتنی ہی ہے جتنی گرمیوں کی مٹی‘‘ (سی. ایچ. سپرجئین، میٹروپولیٹن کی عبادت گاہ کی واعظ گاہ سے The Metropolitan Tabernacle Pulpit ، پِلگرِم اشاعت خانہ، دوبارہ اشاعت 1978، جلد 51، صفحہ 565).

’’وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا، اور اُس کی عمر دراز ہوگی. . . ‘‘ اشعیا53:‏10) .

3۔ سوئم، اُس کا کام فروغ پائے گا!

آئیں کھڑے ہوجائیں اور باآوازِ بلند پوری تلاوت پڑھیں، اور جملے کی اِس جُز پر خصوصی توجہ دیں جو اِن الفاظ کے ساتھ شروع ہوتا ہے، ’’مرضی پوری ۔‘‘

’’. . . وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا، اور اُس کی عمر دراز ہوگی، اور اُس کے ہاتھ کے وسیلے سے خُدا کی مرضی پوری ہوگی‘‘ (اشعیا53:‏10) .

یسوع کی موت کا یہ تیسرا نتیجہ ہے، ’’اور اُس کے ہاتھ کے وسیلے سے خُدا کی مرضی پوری ہوگی۔‘‘ سپرجئین نے کہا،

ایک ہزار نو [انیس] سو سالوں سے زیادہ گزر چکے ہیں جب سے وہ مُردوں میں سے اپنی نئی زندگی کے لیے جی اُٹھتاہے، پھر بھی وہ ابھی تک زندہ ہے؛ اور ہم جانتے ہیں کہ اُس کے دِن جب تک دُنیا ہے قائم رہیں گے، جی ہاں، اور آخر تک، یہاں تک کہ باپ بھی، جب وہ بادشاہی خُدا کے حوالے کرے گا، پھر بھی اُس کی عمر دراز ہوگی۔ ’’اے خُدا، تیرا تخت، ہمیشہ سے ہمیشہ تک ہے،‘‘ تُو ہی باقی رہے گا، بےشک پہاڑ فنا ہو جائیں، اور چاہے آسمان پھٹے پرانے کپڑوں کے مانند لپٹ جائیں (سپرجئین، ibid.).

’’اور اُس کے ہاتھ کے وسیلے سے خُدا کی مرضی پوری ہوگی‘‘ (اشعیا53:‏10 ( .

بہترین خوشی، مرضی، خُدا کا مقصد، ’’اُس کے ہاتھ کے وسیلےسے پورا ہوگا۔‘‘خُدا باپ نے یسوع سے کہا،

’’میں تجھے غیر قوموں کےلیے بھی نور بناؤں گا، تاکہ تُو میری نجات زمین کے کناروں تک لے جائے‘‘ (اشعیا 49:‏6).

’’قومیں تیری روشنی کی طرف آئیں گی. . . مختلف قوموں کا مال و زر تیرے پاس لایا جائے گا‘‘ (اشعیا 60:‏3،5).

’’دیکھ وہ بہت دور سے آئیں گے: اور کچھ شمال کی جانب سے اور کچھ مغرب کی طرف سے؛ اور کچھ آسوان [چین] کے علاقے سے‘‘ (اشعیا 49:‏12).

’’اور اُس کے ہاتھ کے وسیلے سے خُدا کی مرضی پوری ہوگی‘‘
       (اشعیا53:‏10 ) .

کچھ عرصہ قبل ہم نے چین پر ایک نمائیشی فلم دیکھی تھی جسے شہیدوں کی آواز The Voice of the Martyrs نے تقسیم کیاتھا۔ یہ ایک موزس ژائیMoses Xie [شیےShay ] نامی بوڑھے چینی کی گواہی دکھاتی ہے۔ ’’تہذیبی انقلاب‘‘کے دوران، اُس کو کئی سالوں تک اشتراکیت پسندوں نے زنجیروں میں جکڑ کر قید میں رکھا کیونکہ کہ اُس نے مسیح کی خوشخبری کی منادی کی تھی۔ نااُمیدی کی گہرائیوں میں وہ خُود کشی کرنے کےلیے تیار تھا۔ پھر ، اُس نے کہا، یسوع کی آواز نے اُس کے دل میں کہا، ’’میرے بچے، میرا فضل ہی تمہارے لیے کافی ہے۔‘‘ ژائی بھائی نے کہا کہ اُس نے یہ آواز تین مرتبہ اپنے دل میں سُنی۔ جب تیسری دفعہ یہ آواز اُس سے ہمکلام ہوئی تو وہ زاروقطار رونے لگا۔ ’’میرے بچے، میرا فضل ہی تمہارے لیے کافی ہے۔‘‘جب وہ مسیح کی قوت کے بارے میں جس نے اُسے اشتراکیت پسندوں کی قید میں بچایا، بتا رہا تھا تو اُس کی آنکھیں تشکر کے آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔

پھر فلم میں منظر تبدیل ہوتا ہے اور ایک چھوٹا سا سین دیکھایا جاتا ہے جس میں ہزاروں لاکھوں اشتراکیت پسندوں کو لفظی طور پر ماؤ ٹی آئی سُتنگ Mao Tse Tung, جو کہ ایک ظالم اشتراکیت پسند آمر حکمران تھا اور جس نے ہٹلر سے زیادہ لوگوں کو قتل کیا تھا کی پرستش کرتے ہوئے دیکھایا۔ جب وہ ماؤ ٹی آئی سُتنگ کی تعریف میں اُس کا جاپ پڑھ رہے تھے، میں نے سوچا، ’’ ہم مسیحی وہاں ہونگے جب تم اشتراکیت پسند چلے جاؤ گے۔‘‘ جب چینی اشتراکیت پسند گروہ تاریخ میں راکھ کا ڈھیر ہوگا، مسیحیت تب بھی وہاں ہوگی، ہمیشہ کی طرح حیرت ناک، کیونکہ یہ آج بہترین تعداد سے بڑھ رہی ہے۔ ’’ہم مسیحی وہاں ہونگے جب تم چلے جاؤ گے۔‘‘ اور ایسا پوری دُنیا میں ہے۔ مسیح کے دشمنوں کے لیے، وہ جہاں کہیں بھی ہوں، ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں، ’’ ہم مسیحی وہاں ہونگے جب تم اشتراکیت پسند چلے جاؤ گے!‘‘ کیونکہ ’’اُس کے ہاتھ کے وسیلے سے خُدا کی مرضی پوری ہوگی‘‘!

لوگوں کی نظروں میں آج مسیحی چاہے حقیر اور کمتر ہوں۔ ہمیں بےشک حقیر جانا جائے یا بے شک ہمارا مذاق اُڑایا جائے، جیسا ہمارے نجات دہندہ کے ساتھ کیا تھا۔ لیکن مسیح مُردوں میں سے زندہ ہوا ہے، اور ’’اُس کے ہاتھ کے وسیلے سے خُدا کی مرضی پوری ہوگی۔‘‘ اس لیے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سچی مسیحیت کو کتنا حقیر جانا جائے یا مسترد کیا جائے، یہ ’’اُس کے ہاتھوں سے فروغ پائے گی۔‘‘ اور آخر میں،

’’دُنیا کی بادشاہی ہمارے خُداوند، اور اُس کے مسیح کی [ہو چکی] ہے؛ اور وہ ہمیشہ تک بادشاہی کرتا رہے گا‘‘ (مکاشفہ 11:‏15).

پھر، میرے بھائیو، ہم دیکھیں گے کہ یسوع کی موت نے کیا کچھ حاصل کیا، کیونکہ ’’ اُس کے ہاتھ کے وسیلے سے خُدا کی مرضی پوری ہوگی۔‘‘ یسوع تمام زمین پر حکومت کرنے کے لیے دوبارہ آرہاہے!

جہاں سورج ہوگا یسوع کی حکومت ہوگی
   اُس کا کامیاب سفر چلتا رہے گا؛
اُس کی بادشاہی ساحل سے ساحل تک پھیلی ہے،
   جب چاند بڑھے گا اور گھٹے گا نہیں۔
(’’یسوع حکومت کرے گاJesus Shall Reign ‘‘ شاعر آئزک وآٹز
     Isaac Watts، ڈی. ڈی.، 1674۔1748).

وہ دوبارہ آ رہا ہے، وہ دوبارہ آ رہا ہے،
   وہی والا یسوع، جسے لوگوں نے مسترد کیا؛
وہ دوبارہ آ رہا ہے، وہ دوبارہ آ رہا ہے،
   عظیم جلال اور قوت کے ساتھ، وہ دوبارہ آرہا ہے!
(’’وہ دوبارہ آ رہا ہے He Is Coming Again ‘‘ شاعر میبل جانسٹن کیمپ
      Mabel Johnston Camp‏، 1871۔1937).

اب، میں جانتا ہوں کہ آج صبح یہاں آپ میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو حیرت زدہ ہیں کہ ہم کیوں اِس قدر ہیجان انگیز ہیں۔ آپ سوچ رہے ہیں، یہ لوگ کسی چیز کے بارے میں اِس قدر جذبہ شوق سے سرشار ہیں؟ یہ کیوں اِن باتوں پر تالیاں بجا رہے ہیں؟‘‘ میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ میں سے کچھ جو کافی مدت سے اِس گرجہ گھر سے وابستہ رہ چکے ہیں اور جو بالکل ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔ آپ سوچتے ہیں، ’’کیا ہمیں پھر دوبارہ سے اِس تمام میں سے گزرنا پڑے گا؟ ہم یہ پہلے بھی سُن چکے ہیں۔ کیوں پھر اِس قدر ہیجان انگیز ہوں؟ کیوں پھر اِس قدر سرمست ہوں؟ کیا آپ صرف دعوت نامہ پیش نہیں کر سکتے اور اِس سے فارغ نہیں کر سکتے؟‘‘ میں جانتا ہوں آپ میں سے کچھ ایسے ہی محسوس کرتے ہیں۔ ’’کیوں اِس قدر ہیجان انگیز ہوں؟‘‘ آپ کے لیے یہ ایک اِسرار ہے۔ آپ اُس بیقراری میں شامل نہیں ہو سکتے ہیں!

میں بے اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ میں باسکٹ بال کا شیدائی نہیں ہوں۔ میرے لیے باسکٹ بال کے کھیل کے بارے میں کوئی ہنگامہ خیزی نہیں ہے! میرے لیے یہ دُنیا میں سب سے زیادہ بوریت میں ڈال دینے والی چیز ہے۔ لیکن آپ میں سے کچھ کے لیے یہ بہت ہنگامہ خیز ہے۔ یہ تضاد کیوں ہے؟ یہ تضاد انتہائی سادہ ہے۔ آپ باسکٹ بال کی شیدائی ہیں، اور میں شیدائی نہیں ہوں! یہ اتنا ہی سادہ ہے جتنا کہ وہ۔ آپ ہنگامہ خیزی کو محسوس کر سکتے ہیں اور میں اِسے محسوس نہیں کر سکتا ہوں۔ ہم کیوں مختلف طور پر محسوس کرتے ہیں میں اِس کی وجوہات میں نہیں جا رہا ہوں۔ آپ کے ماضٰی میں کوئی بات آپ کو سرمست کر دیتی ہے جب آپ لیکرز Lakers کی ٹیم کو کھیلتا ہوا دیکھتے ہیں۔ میں اِس پر آپ کے ساتھ بحث نہیں کر سکتا۔ یہاں یا تو میری انتہائی فطرت میں کوئی تبدیلی ہونی ہوگی ورنہ میں وہ محسوس نہیں کر سکوں گا جو آپ محسوس کرتے ہیں۔

یہی طریقہ مسیح کی فتح کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہم مسیح کے مرُدوں میں سے جی اُٹھنے اور آمد ثانی کے بارے میں ہیجان خیزی محسوس کر سکتے ہیں۔ آپ اِس کے بارے میں سرمستی محسوس نہیں کر سکتے ہیں۔ ہم مسیح کے مداح ہیں، اور آپ مسیح کے مداح نہیں ہیں! آپ کی انتہائی قدرت کو وہ محسوس کرنے کے لیے بدلنا ہوگا جو ہم محسوس کرتے ہیں جب میسح کی فتح کے بارے میں سوچتےہیں۔ بائبل اِس کے بارے میں بتاتی ہے جب یہ کہتی ہے، ’’جس میں خُدا کا پاک روح نہیں وہ خُدا کی باتیں قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اُس کے نزدیک بےوقوفی کی باتیں ہیں ‘‘ (1۔ کرنتھیوں2:‏14)۔ چونکہ آپ ’’قدرتی آدمی‘‘ ہیں اِس لیے مسیح کی فتح آپ کے لیے غیر اہم محسوس ہوتی ہے۔ آپ اِس کے بارے مٰں دیوانے ہو ہی نہیں سکتے۔ آپ کی انتہائی فطرت کو مسیح کی فتح کے بارے میں پُرجوش ہونے کے لیے بدلنا ہوگا! آپ کو وہ محسوس کرنے کے لیے جو ہم محسوس کرتے ہیں مسیح میں بدلنا ہوگا!

آپ جانتے ہیں کہ آپ کو ویسے محسوس کرنا چاہیے جیسے ہم محسوس کرتے ہیں، لیکن آپ اپنے آپ کو ویسا محسوس نہیں کروا سکتے جیسا کہ آپ کو محسوس کرنا چاہیے! اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنی شدید کوشش کرتے ہیں، آپ اپنے آپ کو ویسا محسوس نہیں کروا سکتے جیسا ہم مسیح کی فتح کے بارے میں کرتے ہیں! آپ کو اِس طریقے سے محسوس کرنا چاہیے، لیکن آپ ایسا کر ہی نہیں سکتے چاہے آپ کتنی ہی شدید کوشش کر لیں۔ آپ اُس قسم کے شخص ہو ہی نہیں سکتے جیسے آپ کو ہونا چاہیے۔ یہی ہے جس کا مطلب ہوتا ہے گناہ کی سزایابی کے تحت ہونا!

آپ کو یسوع کے پاس آنا چاہیے اور کہنا چاہیے، ’’اے خُداوند، میں ویسا نہیں ہو سکتا جیسا تو مجھے بنانا چاہتا ہے! میں کھویا ہوا ہوں! میں رُسوا ہوں۔ میں خُود کو بدل نہیں سکتا ہوں! یسوع، مجھے بچا!‘‘ اور جب آپ اِس طریقے سے محسوس کرتے ہیں، تو آپ بچائے جانے کے قریب ہوتے ہیں۔ گناہ کے تحت سزایابی میسح کے لیے تبدیل ہونے سے پہلے آتی ہے!

اور آپ میں سے اُن کے لیے جو ابھی تک مسیح میں تبدیل نہیں ہوئے ہیں، ہم آپ کے ساتھ مل کر التجا کرتے ہیں کہ جی اُٹھے مسیح پر بھروسہ کریں۔ ہم آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ اُس کے قیمتی خون کے وسیلے سے اپنے گناہوں کو دھو کر پاک صاف ہو جائیں۔ ہم شدید خواہش کرتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ آئیں اور نجات دہندہ کی پیروی کریں چاہے اِس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے! ہم جیتنے والی سائیڈ پر ہیں، کیونکہ ’’اُس کے ہاتھ کے وسیلے سے خُدا کی مرضی پوری ہوگی۔‘‘ اِس لیے میں شدید خواہش کرتا ہوں کہ آپ یسوع پر بھروسہ کریں، مسیح میں تبدیل ہوں، اور جیتنے والی سائیڈ پر ہوں!

پھر ، آؤ اور اس مقدس گروہ میں شامل ہوں،
   اور جلال میں شامل ہوں،
اور اُس آسمانی زمین پر پنپنے کے لیے،
   جہاں لازوال خوشیاں ملتی ہیں۔
صرف اُسی پر بھروسہ کریں، صرف اُسی پر بھروسہ کریں،
   اب صرف اُسی پر بھروسہ کریں۔
وہ آپ کو بچائے گا، وہ آپ کو بچائے گا،
   [مسیح] اب آپ کو بچائے گا۔
(’’صرف یسوع پر بھروسہ کریںOnly Trust Him ‘‘
   شاعر جان ایچ. سٹاکسٹنJohn H. Stockton ‏، 1813۔1877).

اِس کورس کو دوبارہ گائیں۔ جب کہ ہم ’’صرف یسوع پر بھروسہ کریں‘‘ گاتے ہیں، اگر آپ ابھی تک بچائے نہیں گئے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنی نشست سے اُٹھیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک اور کمرے میں لے جائیں گے، جہاں ہم دعا اور بات چیت کر سکتے ہیں۔ ابھی جائیں جبکہ ہم گاتے ہیں۔

صرف اُسی پر بھروسہ کریں، صرف اُسی پر بھروسہ کریں،
   اب صرف اُسی پر بھروسہ کریں۔
وہ آپ کو بچائے گا، وہ آپ کو بچائے گا،
   وہ ابھی آپ کو بچائے گا۔

مسٹر لی Mr. Lee، مہربانی سے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے ردعمل کا اظہار کیا دعا میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَینDr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: اشعیا 53:‏1۔10 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
      (تصادم ختم ہوتا ہے The Strife is O’er,‘‘ ، مترجم فرانسس پُاٹFrancis Pott ‏، 1832۔1909).

لُبِ لُباب

نجات دہندہ کی فتح

(اشعیا 53 باب پر واعظ نمبر 12 )
!THE SAVIOUR’S TRIUMPH
(SERMON NUMBER 12 ON ISAIAH 53)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز جونیئرکی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا، اور اُس کی عمر دراز ہوگی، اور اُس کے ہاتھ کے وسیلے سے خُداوند کی مرضی پوری ہوگی‘‘ (اشعیا 53:‏10).

1۔  اوّل، وہ اپنی اولاد دیکھ پائے گا! اشعیا 53:‏10الف؛ لوقا 13:‏29؛
زبور 25:‏13؛ 1۔ کرنتھیوں 15:‏5۔8؛ 1۔ یوحنا 1:1؛ یوحنا 20:‏19۔20 .

2۔  دوئم، اُس کی عمر دراز ہوگی! اشعیا 53:‏10ب؛ رومیوں 6:‏10، 9؛
عبرانیوں 7:‏24، 25 .

3۔  سوئم، اُس کا کام فروغ پائے گا! اشعیا 53:‏10ج؛ 49:‏6؛ 60:‏3، 5؛ 49:‏12؛
مکاشفہ 11:‏15؛ 1۔ کرنتھیوں2:‏14 ۔