Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

گناہ کا کفارہ بن جانا!

!PROPITIATION
(اشعیا 53 باب پر واعظ نمبر 11 )
(SERMON NUMBER 11 ON ISAIAH 53)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
21 اگست، 2011 ، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, August 21, 2011

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے؛ اور غمگین کرے: اور حالانکہ خُداوند اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیتا ہے‘‘ (اشعیا 53:‏10).

خُوشخبری کے تمام نقاط نہایت عمدگی سے ڈاکٹر جے. وِلبر چَعیپمین کے گیت ’’ایک دن!‘‘ کے کورس میں پیش کیے گئے تھے۔

جیتے جی، یسوع نے مجھے پیار کیا؛ مر کر، اُس نے مجھے بچا لیا؛
دفن ہوکر، وہ میرے گناہوں کو بہت دور اُٹھا لے گیا؛
مُردوں میں سے جی اُٹھ کر، اُس نے آزادانہ ابد تک کا انصاف کیا؛
ایک دن وہ آرہا ہے، اے جلالی دِن!
   (’’ایک دِن!‘‘ شاعر ڈاکٹر جے. وِلبر چعیپمین، 1859۔1918).

گذشتہ اِتوار کی صبح، اشعیا 53:‏9 کی ایک تفسیر کو بیان کرتے ہوئے میں نے انجیل کے دوسرے موضوع پر تبلیغ کی تھی۔ پولوس رسول انجیل کی دوسری بات پر ہماری توجہ مسیح کے دفن کیے جانے کی طرف مبذول کراتا ہے جب اُس نے کہا،

’’اور کہ وہ دفن ہوا‘‘ (1 ۔ کرنتھیوں 15:‏4).

انجیل کا یہ ایک حصّہ ہمارے معمول میں بہت کم توجہ پاتا ہے، اِس کے باوجود یہ بہت اہم ہے۔ پولوس رسول نے رومیوں 6:‏3۔5 میں اس کو زیادہ تفضیل سے بیان کیا،

’’کیا تم نہیں جانتے، کہ ہم میں سے جن لوگوں نے مسیح یسوع کی زندگی میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا تو اُس کی موت میں شامل ہونے کا بپتسمہ بھی لیا؟ چنانچہ موت میں شامل ہونے کا بپتسمہ لے کر اُس کے ساتھ دفن بھی ہوئے: تاکہ جس طرح مسیح اپنے آسمانی باپ کی جلالی قوت کے وسیلہ سے مُردوں میں سے زندہ کیا گیا، اُسی طرح ہم بھی نئی زندگی میں قدم بڑھائیں۔کیونکہ اگر ہم مسیح کی طرح مر کے اُس کے ساتھ پیوست ہوگئے، تو بے شک اُس کی طرح زندہ ہو کر بھی اُس کے ساتھ پیوست ہوں گے‘‘ (رومیوں 6:‏3۔5).

’’اس لیے، مسیح میں بپتسمہ لینے کا مطلب مسیح کے ساتھ مرنا بھی ہے، مسیح کے ساتھ دفن ہونا، اور پھر میسح کے ساتھ نئی زندگی میں جی اُٹھنا‘‘ (نئے عہد نامے پر نافذ العمل تبصرہ The Applied New Testament Commentary، کِنگز وے اشاعت خانہ، 1997، صفحہ 568). پس، مسیح میں ہمارے دونوں بپتسمے یعنی روحانی بپتسمہ اور اُس کی تصویر، اور پانی میں بپتسمہ، زور دیتے ہیں یسوع کی موت، دفن کیے جانے اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے پر۔ جیسا کہ ڈاکٹر چعیپمین نے اِسے بہت معنی خیز انداز میں کہا ہے،

جیتے جی، یسوع نے مجھے پیار کیا؛ مر کر، اُس نے مجھے بچا لیا؛
دفن ہوکر، وہ میرے گناہوں کو بہت دور اُٹھا لے گیا؛
مُردوں میں سے جی اُٹھ کر، اُس نے آزادانہ ابد تک کا انصاف کیا؛
ایک دن وہ آرہا ہے، اے جلالی دِن!

انجیل کے یہ تمام نقاط اشعیا ترِیپن باب میں بہت ڈرامائی اور زور آور انداز میں اُجاگر ہوتے ہیں۔ آیت نمبر دس میں انسان کے گناہ کا کفارہ بن جانے کے لیے خُدا نے مسیح کی موت مقرر کی ہے۔

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے؛ اور غمگین کرے: اور حالانکہ خُداوند اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیتا ہے. . .‘‘
       (اشعیا 53:‏10).

اِس تلاوت میں، اہم موضوع ’’پردے کے پیچھے‘‘ چھپ جاتا ہے جو دراصل ہمیں یہ ظاہر کراتا ہے کہ خُدا باپ نے اپنے لاڈلے اکلوتے بیٹے کو اُس کی چاہت کی ہولناکیوں میں سے گزار کر بھیجا تو خُدا باپ گنہگاروں کی نجات کے لیے کام کر رہا تھا۔ گتسمنی کے باغ سے لیکر اور کلوری کی صلیب تک خُدا ہی ہمارے نجات دہندہ کے مصائب کا حقیقی مصنف تھا، کیونکہ تلاوت کلامِ پاک کہتی ہے،

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے؛ اور غمگین کرے: اور حالانکہ خُداوند اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیتا ہے. . .‘‘
       (اشعیا 53:‏10).

تلاوتِ کلامِ پاک خُدا باپ پر مرکوز ہے اور خُدا نے ہماری نجات کے لیے یسوع کے ساتھ کیا کِیا،

’’خُدا نے یُسوعؔ کو مقرؔر کیاکہ وہ اپنا خُون بہائے اور انسان کے گناہ کا کفارہ بن جائے‘‘ (رومیوں 3:‏25).

ڈاکٹر ڈبلیو. اے. کرِسویل نے کہا کہ ’’صلیب پر انسان کے گناہ کا کفارہ بن جانا مسیح کا کام تھا، جس سے اُس نےگناہ کے خلاف خُدا کی راستبازی کے تقاضوں کو پورا کیا، اور اِس طرح اُس نے دونوں کو یعنی خُدا کے انصاف کی ضروریات کو پورا کیا اور انسان کے جرم کو ختم کیا‘‘ (ڈبلیو. اے. کرِسویل، پی ایچ. ڈی.، کرِسولی مطالعہ بائبل The Criswell Study Bible، تھامس نیلسن اشاعت خانہ، 1979، صفحہ 1327، رومیوں 3:‏25 پر یاداشت ).

’’خُدا نے یُسوعؔ کو مقرؔر کیاکہ وہ اپنا خُون بہائے اور انسان کے گناہ کا کفارہ بن جائے‘‘ (رومیوں 3:‏25).

اِس آیت کے بارے میں اصلاحِ مطالعہ بائبل The Reformation Study Bible کہتی ہے، ’’میسح انسان کے گناہ کے کفارے کی قربانی کے طور پر مرا تھا جو کہ گنہگاروں کے خلاف الہٰی فیصلے کی تسلی کرتا ہے، اور درگزر کرنے اور راستبازی کو پھیلاتا ہے۔ لیکن پولوس یہ ظاہر کرنے میں محتاط ہے کہ [خُدا کے بیٹے کی] قربانی دینا خُدا باپ کا ہمیں پیار کرنے کا سبب نہیں ہے۔ اِس کا اُلٹ درست ہے – خُدا کا پیار سبب بنا کہ اُس [خُدا باپ ] نے اپنا بیٹا قربان کر دیا‘‘ (اصلاحِ مطالعہ بائبل The Reformation Study Bible، لِیگونیئر منسٹریز، 2005، صفحہ 1618، رومیوں 3:‏25 پر یاداشت).

’’کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اس قدر محبت کی، کہ اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا‘‘
      (یوحنا 3:‏16).

’’جس نے اپنے بیٹے کو بچائے رکھنے کے بجائے، اُسے ہم سب کے لیے قربان کر دیا‘‘ (رومیوں 8:‏32).

پس، یہ گنہگاروں کے لیے خُدا کا پیار ہے جو اِس حیرت انگیز پیشن گوئی کے پیچھے کار فرما ہے کہ مسیح اپنی موت اور مصائب کے لیے ’’خُدا کے مقرر انتظام اور علمِ سابق[جو اِس مقصد کے تحت بنی تھی] کے مطابق‘‘حوالے کیا جائے گا (اعمال 2:‏23). یہی وجہ ہے کہ

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے؛ اور غمگین کرے: اور حالانکہ خُداوند اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیتا ہے. . .‘‘
       (اشعیا 53:‏10).

خُدا باپ مسیح کے مصائب اور موت کا حقیقی سبب تھا۔ ہماری تلاوتِ کلام پاک میں سے اِس حقیقت کا غلط نتیجہ اخذ مت کیجیے، کیونکہ یہ ہمیں واضح طور پر آشکارہ کرتی ہے جس کا یوحنا 3:‏16 میں اِعلان کرتا ہے، ’’ کہ اُس [خُدا باپ] نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دیا‘‘ (یوحنا 3:‏16)، تاکہ اُس کا گناہ کے خلاف غُصّے کا ازالہ ہو جائے، اور مسیح کے خُون کے ذریعے سے گنہگاروں کو نجات مِل جائے! کلامِ پاک کی تلاوت کو مذید پڑھنے سے ، ہم دیکھتے ہیں (1) خُدا نے اُس کو کُچلا؛ (2) خُدا نے اُسے غم میں مبتلا کیا؛ (3) خُدا نےاُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیا۔

1۔ اوّل، خُدا نے اُس کو کُچلا۔

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے‘‘ (اشعیا 53:‏10).

لفظ ’’کُچلے‘‘ کے ترجمے کا مطلب ’’پیسنا ‘‘ ہے۔ ’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے پیس ڈالے۔‘‘ ڈاکٹر ایڈورڈ جے. ینگ نے کہا، [مسیح] کی معصومیت کے باوجود، خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے [اور پیس ڈالے]۔ یسوع کی موت بدکاروں کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ خُداوند کے ہاتھوں میں تھی۔ یہ بات جنہوں نے یسوع کو مار ڈالا اُنہیں اِس ذمہ داری سے برّی الزمہ نہیں کرتی ہے، لیکن وہ حالات کے ہاتھوں بے بس تھے۔ وہ وہی کر رہے تھے جس کی اُنہیں کرنے کی اجازت خُداوند نے دی تھی‘‘ (ایڈورڈ جے. ینگ، اشعیا کی کتاب The Book of Isaiah، ولیم بی. عیئرڈمینز اِدارہ تجارتی اشاعت خانہ ، 1972، جلد 3، صفحات 353۔354).

جیسا کہ میں بتا چکا ہوں، مسیح کے بارے میں یہ واضح طور پر رومیوں 3:‏25 میں ظاہر کیا گیا ہے،

’’ خُداوند اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیتا ہے‘‘ (رومیوں 3:‏25) ،

اور یوحنا 3:‏16 میں درج ہے ، کہ

’’کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اس قدر محبت کی، کہ اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا‘‘
       (یوحنا 3:‏16)

تاکہ گناہ کے خلاف اُس [خُداوند] کے غصے کا اِزالہ ہو ، اور گنہگار انسان کے لیے نجات ممکن ہو

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے [پیس ڈالے]‘‘
       (اشعیا 53:‏10).

مجھے یقین ہے خُداوند باپ نے اپنے بیٹے [یسوع]کو کُچلنا اور پیسنا گتسمنی کے باغ سے ہی شروع کر دیا تھا۔ متی کی طرف سے ہمیں کہا جاتا ہے، کہ گتسمنی کے باغٖ میں، خُداوند نے کہا، ’’میں چرواہے کو ماروں گا‘‘ (متی26:‏31). مرقس کی انجیل بھی ہمیں بتاتی ہے کہ، گتسمنی میں، ’’میں چرواہے کو ماروں گا‘‘ (مرقس 14:‏27). اِسی وجہ سے، میں بالکل قائل ہوں کہ خُداوند نے یسوع کو مارا، اُسے کُچلا، اور گتسمنی کے اندھیرے میں ہمارے گناہوں کے لیے یسوع کو متبادل کے طور پر گُناہ کی قربانی کے لیے کُچلنا شروع کیا۔ سپرجیئن نے اِس بارے میں بتایا تھا جب اُس نے کہا،

یہی وہ وقت تھا کہ ہمارے خُداوندکو باپ کے ہاتھ سے ایک یقینی پیالہ لیناتھا۔ اب یہ آزمائیش نا یہودیوں نے، نا یہودہ نے، نا سوئے ہوئے شاگردوں نے، نہ شیطان نے [گتسمنی میں] کی تھی، بلکہ یہ ایک پیالہ تھا جو لبریز کیا تھا اُس ایک نے جسے یسوع اپنے باپ کے طور پر جانتا تھا. . . ایک پیالہ جس نے یسوع کی جان کو حیرت زدہ کر دیا اور اُس کو دِل کی گہرائیوں سے تکلیف میں مبتلا کردیا۔ یسوع اِس پیالے کو ٹال [واپس کر] دینا چاہتا تھا، اس لیے آپ یہ یقین کریں کہ یہ ایک کڑوا گھونٹ [ایک پیالہ] گھونٹ تھاجو کہ جسمانی تکلیف سے کہیں زیادہ ہولناک تھا، چونکہ وہ اِس سے پیچھے نہیں ہٹا تھا. . . یہ سب کچھ ناقابلِ فہم طور پر بھیانک تھا، حیرناک طور پر دھشت سے بھرپور، جو [یسوع کے] پاس باپ کے ہاتھوں آیا تھا۔ یہ اُن تمام شکوک کو رفع کردیتا ہے کہ یہ سب کیا تھا، کیونکہ ہم نے پڑھا، ’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے. . . ‘‘ خُدا نے ہم تمام کی بدکاریاں یسوع پر [ٹھہرائیں] لاد دیں۔ ’’خُدا نے مسیح کو جو گناہ سے واقف نہ تھا، ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا۔ یہ، پھر سبب ہے اِس بات کا جس نے نجات دہندہ کو اس قدر غیرمعمولی دباؤ میں مبتلا کیا. . . یسوع کو گنہگاروں [کی جگہ پر] مصائب برداشت کرنے ضروری تھے۔ یہی ہے [گتسمنی میں] اُن اذیتوں کا راز جن کو آپ کے سامنے [مکمل طور پر بیان کرنا] میرے لیے ممکن نہیں ہے، لہٰذا یہ سچ ہے کہ –

’یہ خُداوند ہی ہے، اور اکیلا خُداوند،
کہ جسے یسوع کے غم مکمل معلوم ہیں۔‘

(سی. ایچ. سپرجیئن، ’’گتسمنی میں اذیت The Agony in Gethsemane،‘‘ میٹروپولیٹن کی عبادت گاہ کی واعظ گاہ سے The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پِلگرِم اشاعت خانہ، 1971دوبارہ اشاعت، جلد بیسویں، صفحات 592۔593).

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے [پیس ڈالے]‘‘
       (اشعیا 53:‏10).

انسانی گناہ کے بوجھ تلے، جو گتسمنی میں یسوع پر اُنڈیل[ڈال] دیا گیا تھا، مسیح دل شکستہ [پیس گیا] تھا، آپ کے گناہ کے بوجھ تلے وہ کُچلا گیا تھا، یہاں تک کہ

’’پھر وہ سخت و کرب میں مبتلا ہو کر اور بھی دلسوزی سے دعا کرنے لگا اور اُس کا پسینہ خُون کی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپکنے لگا‘‘ (لوقا 22:‏44).

ابھی تک کسی انسانی ہاتھ نے یسوع کو چُھوا تک نہیں تھا۔ وہ ابھی تک گرفتار بھی نہیں کیا گیا تھا، نا ہی ابھی تک وہ پیٹاگیا، کوڑے لگوایا گیا، یا مصلوب کیا گیا تھا۔ جی نہیں، یہ خُدا باپ تھا جس نے یسوع کو گتسمنی میں کُچلا اور پیس ڈالا تھا۔ یہ خُدا باپ تھا جس نے کہا، ’’ میں چرواہے کو ماروں گا‘‘ (متی 26:‏31). یہی ہے جس کی پیشن گوئی خُدا نے اشعیا کی معرفت کی،

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے‘‘ (اشعیا 53:‏10).

کوئی زبان غُصّے کو بیان نہیں کر سکتی جو اُس نے برداشت کیا،
   وہ غُصّہ جو میری وجہ سے تھا:
گناہ کا صرف صحرا ؛ جو تمام اُس نے برداشت کیا،
   تاکہ گنہگار کو نجات دلا دے!
(’’غصّے کا پیالہ The Cup of Wrath ‘‘ شاعر البرٹ مِڈلین، 1825۔1909؛
   بطرزِ ’’او میرے لیے تو نے کُھلا چُھوڑ دیا O Set Ye Open Unto Me‘‘).

2۔ خُدا نے اُسے غم میں مبتلا کیا۔

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے؛ اور غمگین کرے. . .‘‘
       (اشعیا 53:‏10).

دوبارہ، یہ خُدا ہی تھا جس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو غموں میں سے گزارا جن کا یسوع نے اپنی موت اور شدید چاہت کے دوران تجربہ کیا۔ ڈاکٹر جان گِل نے کہا،

اُس نے اُسے غموں میں مبتلا کیا [اُس کا مصائب برداشت کرنا[ . . . جب اُس نے اُسے نہیں بخشا، بلکہ موت تک کے لیے اُس کو بدکار لوگوں کے ہاتھوں میں سونپ دیا: اُسے باغ میں ہی غمگین کر دیا گیا تھا، جب غموں سے اُس کی جان نکلی جا رہی تھی؛ اور صلیب پر، جب کِیلوں سے اُسے اُس پر ٹھوکا گیا، [اور] لوگوں کے گناہوں کا بوجھ اُس پر لادا گیا، اور اُس کے باپ کا غصّہ، اُس پر ؛ اور جب اُس نے اپنا چہرہ اُس سے چھپایا، جس سے وہ چیخ پڑا، اے میرے خُدا، اے میرے خُدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟. . . اُسے جسم اور ذہن دونوں طرح سے درد میں مبتلا ہونے کی [اجازت دے رہا ہے] (جان گِل، ڈی. ڈی. ، پرانے عہد نامے کی تفسیر An Exposition of the Old Testament ، بپتسمہ والے معیاری بیئرر The Baptist Standard Bearer ، دوبارہ اشاعت 1989 جلد پنجم، صفحہ 315).

یسوع نے جان بوجھ کر درد اور پسنے کے مصائب کو، کوڑے کھانے اور مصلوب ہونے کو برداشت کیا، ہمارے گناہوں کےلیے رضاکارانہ طور پر مصائب برداشت کیے، کیونکہ اُس نےکہا،

’’کیونکہ میں آسمان سے اس لیے نہیں اُترا کہ اپنی مرضی پوری کروں بلکہ اس لیے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی پر چلُوں‘‘ (یوحنا 6:‏38).

’’جب وہ خُدا کے مقرر انتظام اور علمِ سابق کے مطابق پکڑوایا گیا‘‘
      (اعمال 2:‏23).

’’مسیح نے جو ہمارے لیے لعنتی بنا‘‘ (غلاطیوں 3:‏13).

’’اور وہ ہمارے گناہوں کا کفارہ ہے‘‘ (1۔ یوحنا 2:‏2).

’’خُدا نے یُسوعؔ کو مقرر کیاکہ وہ اپنا خُون بہائے اور انسان کے گناہ کا کفارہ بن جائے اور اُس پر ایمان لانے والے فائدہ اٹھائیں‘’ (رومیوں 3:‏25).

کوئی زبان غُصّے کو بیان نہیں کر سکتی جو اُس نے برداشت کیا،
   وہ غُصّہ جو میری وجہ سے تھا:
گناہ کا صرف صحرا ؛ جو تمام اُس نے برداشت کیا،
   تاکہ گنہگار کو نجات دلا دے!
(’’غصّے کا پیالہ The Cup of Wrath ‘‘ شاعر البرٹ مِڈلین، 1825۔1909 ).

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے؛ اور غمگین کرے. . .‘‘
       (اشعیا 53:‏10).

3۔ سوئم، خُدا نے اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیا۔

آئیے کھڑے ہوجائیے اور باآوازِ بلند تلاوتِ کلام پاک کو پڑھیئے، ’’گناہ کےلیے ایک قربانی‘‘ کے اختتام تک۔

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے؛ اور غمگین کرے: اور حالانکہ خُداوند اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیتا ہے. . .‘‘ (اشعیا 53:‏10).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

تلاوتِ کلامِ پاک کے آغاز میں ’’پھر بھی‘‘ کے الفاظ پر غور کیجیے۔ یہ آیت نو کی طرف واپس حوالہ دیتے ہیں، ’’حالانکہ اُس نے کبھی ظلم نہ کیا، نہ ہی اُس کے منہ سے مکر کی کوئی بات نکلی۔ پھر بھی. . . ‘‘ (اشعیا 53:‏9۔10الف). اگرچہ یسوع نے کبھی گناہ نہیں کیا تھا، ’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے؛ اور اُسے غمگین کرے. . . ‘‘ ڈاکٹر گائےبیلائین Dr. Gaebelein کا تبصرہ کہتا ہے، ’’[مسیح کی] شخصی راستبازی کے لیے آیت 10الف کا اپنی من مانی کی بے عزتی کا واضح اظہار بذات خود تقریباً صدمہ انگیز ہے۔ لیکن پھر پڑھنے والے کو اِن مصائب کی متبادل قدرت کی یاد آتی ہے. . . یکدم خُداسخت گیر نظر نہیں آتا بلکہ حیرت انگیز طور پر شفیق نظر آتا ہے‘‘ (فرینک ای. گائے بیلائین، ڈی.ڈی.، جنرل ایڈیٹر، مفسر کا بائبل پر تبصرہ The Expositor’s Bible Commentary، ژونڈروان، 1986، جلد ششم، صفحہ 304).

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے؛ اور غمگین کرے: اور حالانکہ خُداوند اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیتا ہے. . .‘‘ (اشعیا 53:‏10).

’’جس نے اپنے بیٹے کو بچائے رکھنے کے بجائے، اُسے ہم سب کے لیے قربان کر دیا‘‘ (رومیوں 8:‏32).

’’وہ خُود ہی اپنے بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ لیے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا. . . اُسی کے مار کھانے سے تم نے شفا پائی‘‘ (1۔ پطرس 2:‏24).

’’خُدا نے مسیح کو جو گناہ سے واقف نہ تھا، ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا تاکہ ہم مسیح میں خُدا کی راستبازی میں ہو جائیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:‏21).

’’ خُداوند اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیتا ہے‘‘ (اشعیا 53:‏10).

کوئی زبان غُصّے کو بیان نہیں کر سکتی جو اُس نے برداشت کیا،
   وہ غُصّہ جو میری وجہ سے تھا:
گناہ کا صرف صحرا ؛ جو تمام اُس نے برداشت کیا،
   تاکہ گنہگار کو نجات دلا دے!
(’’غصّے کا پیالہ The Cup of Wrath ‘‘ شاعر البرٹ مِڈلین، 1825۔1909 ).

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے؛ اور غمگین کرے: اور حالانکہ خُداوند اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیتا ہے. . .‘‘ (اشعیا 53:‏10).

مسیح گناہ کے لیے خُدا کا نزرانہ تھا۔ مسیح آپ کی جگہ پر آپ کے متبادل کے طور پر مرا۔ مسیح نے آپ کے بدلے میں مصائب برداشت کیے، گناہ کے کفارے کے طور پر، آپ کے گناہ کا جرمانہ ادا کرنے کے لیے، آپ پر سے خُدا کا غصّہ ہٹانے کے لیے اور اپنے آپ پر سب کچھ لینے کے لیے۔ جب آپ اُس کے ہاتھوں اور پیروں کے ناخن کھینچے ہوئے دیکھتے ہیں، تو یہ آپ کی وجہ سے ہیں۔ وہ بے انصافی کے لیے انصاف کی موت مرا، تاکہ آپ کو خُداکی حضوری میں دیانتداری سے معافی کی حالت میں لائے۔ سپرجیئن نے کہا،

گناہ کے لیے انسان کو دائمی آگ کی سزا سُنائی گئی تھی؛ جب خُدا نے مسیح کو متبادل کے طور پر لیاتو یہ سچ ہے، اُس نے مسیح کو دائمی آگ میں نہیں بھیجا، لیکن اُس نے اُسے غمگین کیا، اس قدر مایوس، یہاں تک کہ یہ ہمیشہ کی آگ کے لیے ایک جائز ادائیگی تھی. . . کیونکہ مسیح نے اُس گھنٹے میں ہمارےماضی، حال اور آنے والے وقت کے تمام گناہ اُٹھا لیے تھے، اور اُن کے لیے وہیں پر اُس کو اُسی وقت سزا ملی تھی، تاکہ ہمیں کبھی بھی سزا نہ ملے، کیونکہ اُس نے ہماری جگہ [تکلیفیں] برداشت کیں۔ پھر آپ کو نظر آیا، یہ کیسے تھا کہ خُدا باپ نے اُسے کُچلا؟ جب تک وہ ایسا نہ کرتا، [جہنم میں] ہمارے [مستحق] مصائب برداشت کرنے کے لیے مسیح کی اذیتیں نہیں ہو سکتی تھیں (سی. ایچ. سپرجیئن، ’’مسیح کی موت‘‘ نئی پارک سٹریٹ کی واعظ گاہ سے The New Park Street Pulpit ، پِلگرِم اشاعت خانہ، دوبارہ اشاعت 1981 ، جلد چہارم، صفحہ 69۔70).

پھر بھی مسیح کی موت تمام لوگوں کو جہنم کی اذیتوں سے نہیں بچاتی۔ صرف وہی بچتے ہیں جو میسح میں تبدیل ہوتے ہیں۔ وہ صرف گنہگاروں اور گنہگاروں کےلیے مرا، اُن کے لیے جو خُود اپنے آپ میں یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ گنہگار ہیں، اور مسیح کو ڈھونڈتے ہیں کہ اُنہیں معاف کردے۔

آپ کے گناہ کا احساس اور آپ کی ضرورت کا احساس یسوع کے لیے وہ نشانات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ اُس کی موت آپ کے گناہ کو شفا دے گی۔ وہ جو یسوع کی موت کو سوچنے کے لیے ایک لمحے کو رکتے ہیں، اور پھر اُس کے بارے میں بھول جاتے ہیں، وہ خود اپنے گناہوں کے لیے دائمی سزا ہمیشہ کے لیے پاتے رہتے ہیں، کیونکہ اُنھوں نے صلیب پر مسیح نے جو ادائیگی کی اُسے مسترد کیا۔

اس لیے یسوع کی موت کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ ہر وقت سوچیں۔ کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو ہمیشہ کے لیے بدنصیبی آپ کا انتظار کرتی ہے،

’’جو ایمان لائے اور بپتسمہ لے وہ نجات پائے گا لیکن جو ایمان نہ لائے وہ مجرم قرار دیا جائے گا‘‘ (مرقس 16:‏16).

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَینDr. Kreighton L. Chan ۔ اشعیا 53:‏1۔10 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
“Propitiation” (by Augustus Toplady, 1740-1778).
’’گناہ کا کفارہ بن جانا‘‘ (شاعر اگستُس ٹوپلاڈے Augustus Toplady 1740۔1778).

لُبِ لُباب

گناہ کا کفارہ بن جانا!

!PROPITIATION
(اشعیا 53 باب پر واعظ نمبر 11 )
(SERMON NUMBER 11 ON ISAIAH 53)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’پھر بھی یہ خُداوند کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے؛ اور غمگین کرے: اور حالانکہ خُداوند اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیتا ہے‘‘ (اشعیا 53:‏10).

(1۔ کرنتھیوں 15:‏4؛ رومیوں 6:‏3۔5؛ 3:‏25؛
یوحنا 3:‏16؛ رومیوں 8:‏32؛ اعمال 2:‏23)

1۔  اوّل، خُدا نے اُس کو کُچلا، اشعیا 53:‏10الف؛ متی 26:‏31؛ مرقس 14:‏27؛ لوقا 22:‏44 .

2۔  خُدا نے اُسے غم میں مبتلا کیا، اشعیا 53:‏10ب؛ یوحنا 6:‏38.

3۔  سوئم، خُدا نے اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیا، اشعیا 53:‏10ج؛
اشعیا 53:‏9۔10الف؛ رومیوں 8:‏32؛ 1۔پطرس 2:‏24؛ 2۔کرنتھیوں 5:‏21؛
مرقس 16:‏16 .