Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسیح کی تدفین کی متضاد منطق

(اشعیا 53 باب پر واعظ نمبر 10 )
THE PARADOX OF CHRIST’S BURIAL
(SERMON NUMBER 10 ON ISAIAH 53)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
7 اپریل، 2013 ، خُداوند کے دِن کی شام
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, April 7, 2013

’’اور وہ شریروں کے درمیان دفنایا گیا، لیکن ایسی قبر میں رکھا گیا جو کسی دولت مند کے لیے بنائی گئی تھی؛ حالانکہ اُس نے کبھی ظلم نہ کیا، نہ ہی اُس کے منہ سے کوئی مکر کی بات نکلی‘‘ (اشعیا 53:‏9).

مسیح کی تدفین پر آپ نےکتنے واعظ سُنے ہیں؟ میں نے کبھی ایک بھی نہیں سُنا، حالانکہ میں 53برس سے منادی کر تا رہا ہوں اور 57 برس سے گرجہ گھر سے منسلک ہوں۔ میں تو مسیح کی تدفین پر ایک بھی واعظ یاد نہیں کر سکتا جو میں نے پڑھا ھی ہو! ہمیں اس سے کہیں زیادہ سُن چُکنا چاہیے۔ آخر کار، یسوع کی تدفین اتنی غیر اہم نہیں ہے۔ درحقیقت یہ انجیل کا دوسرا موضوع ہے!

’’کتابِ مقدس کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے قربان ہوا‘‘ (1۔کرنتھیوں15:‏3).

وہ انجیل کا پہلا موضوع ہے۔

’’اور یہ کہ وہ دفن ہوا‘‘ (1۔کرنتھیوں 15:‏4).

یہ انجیل کا دوسرا موضوع ہے۔

ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم انجیل کی منادی کرتے ہیں اگر ہم کبھی اُس کے دوسرے موضوع کا تزکرہ تک نہیں کرتے؟ لیکن، پھر، آج کچھ واعظ یا تو پہلے موضوع یا تیسرےموضوع پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ یہی جدید تبلیغ کی بڑی کمزوریوں میں سے ایک ہے۔ ہمیں انجیل کو مرکز ی بنانا چاہیے۔ ہمیں اپنی تبلیغ میں مسیح کو مذید تعظیم دینی چاہیے، اور اُسے اور اُس کے کفارے کے عمل کو واضع ترین اہمیت دینی چاہیے۔

بُہترے اس حقیقت پر افسوس کرتے ہیں کہ آج کل پہلے جیسی عظیم تبلیغ بہت کم رہ گئی ہے۔ جس سے میں مکمل طور پر متفق ہوں۔ آج بہت کم اچھی تبلیغ رہ گئی ہے، بلاشبہ بہت ہی کم! لیکن کیوں یہ سچ ہے؟ ایسا زیادہ تر اِس لیے ہے کیونکہ یہاں انجیل کی منادی بہت کم ہے۔ پادری کھوئے ہوؤں کو انجیل کی منادی سُنانے کے بجائے، ’’مسیحیوں کو تعلیم‘‘ دیتے ہیں، حالانکہ بے شک اُن کے گرجہ گھر کھوئے ہوئے لوگوں سے حقیقتاً بھرے پڑے ہوں! اس طرح کہلائے جانے والے ’’مسیحیوں‘‘ کو دی جانے والی ’’اخلاقی تعلیم‘‘ کبھی بھی عظیم تبلیغ نہیں مانی جا سکتی! جب مسیح مرکز نہیں ہے، تو منادی کبھی عظیم ہو ہی نہیں سکتی!

انجیل کا علم ہونا،مسیح کے بارے میں حقائق جاننے سے کہیں زیادہ ہے۔ انجیل کا حقیقی علم خود مسیح کو جاننا ہے۔ یسوع نے کہا،

’’ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ واحد اور سچے خُدا کو جانیں، اور یسوع مسیح کو بھی جانیں جسے تُو نے بھیجا ہے‘‘ (یوحنا 17:‏3)۔

جارج رِیکر بَیری George Ricker Berry نے کہا کہ یوحنا 17:‏3 میں لفظ ’’جاننا‘‘ کے ترجمے کا مطلب ہے کہ ’’تجربے کے ساتھ . . . جاننا‘‘ (نئے عہد نامے کی یونانی سے انگریزی میں لُغت Greek-English New Testament Lexicon). حقیقی مسیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ مسیح کو تجربے سے جانے۔ محض حقائق کا علم آپ کو نجات نہیں دے پائے گا۔ آپ کو ہمارے گناہوں کے لیے اُس کے موت کو تجربے کے وسیلے سے جاننا چاہیے۔ آپ کو اُس کی تدفین تجربے سے جاننی چاہیے۔ آپ کو اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا تجربے سے جاننا چاہیے۔ یہی راستہ نجات کی جانب جاتا ہے۔ دائمی زندگی کا یہی راستہ ہے۔

’’اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ واحد اور سچے خُدا کو جانیں، اور یسوع مسیح کو بھی جانیں جسے تُو نے بھیجا ہے‘‘ (یوحنا 17:‏3)۔

اگر آپ ایسے تجربات سے نہیں گزرے ہیں، تو مجھے اُمید ہے میں نے آپ کو بےچینی کا احساس دلایا ہے۔ اس لیے یہ سوال پیدا ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ ایک حقیقی مسیحی نہیں ہیں، کیونکہ آپ نے مسیح میں حقیقی تبدیلی کا تجربہ نہیں کیا ہے۔ آپ اُس وقت تک پریشانی اور بے چینی میں رہنے والے ہیں جب تک کہ آپ اپنا ذہن بدل نہ لیں، یسوع کے قدموں میں گر یں اور صرف اُسی میں سچی نجات پائیں۔

مسیح کو جاننے کےلیے، آپ کو صلیب تک جانا چاہیے، اور ایمان کے وسیلے سے اُس یسوع پر نظر ڈالنی ہے جو ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مصلوب ہوا۔ اور کہ آپ کو ایمان کے وسیلے سے مسیح کے مقبرے میں جانا چاہیے اور

’’موت میں شامل ہو نے کا بپتسمہ لے کر اُس کے ساتھ دفن بھی ہوں‘‘ (رومیوں 6:‏4الف)،

تاکہ جس طرح مسیح اپنے آسمانی باپ کی جلالی قوت کے وسیلے سے مُردوں میں سے زندہ کیا گیااُسی طرح ہم بھی ’’نئی زندگی میں قدم بڑھائیں‘‘ (رومیوں 6:‏4ب(۔

اس لیے ہم یسوع کی تدفین کو جاننے کے لیے ہماری تلاوتِ کلامِ پاک کی طرف واپس آتے ہیں، تاکہ ہم اِس کا تجربہ یسوع کے ساتھ کر سکیں۔

’’اور وہ شریروں کے درمیان دفنایا گیا، لیکن ایسی قبر میں رکھا گیا جو کسی دولت مند کے لیے بنائی گئی تھی؛ حالانکہ اُس نے کبھی ظلم نہ کیا، نہ ہی اُس کے منہ سے کوئی مکر کی بات نکلی‘‘ (اشعیا 53:‏9).

اِس آیت میں ہم مسیح کی تدفین کی متضاد منطق پاتے ہیں، اِس کی پہیلی بظاہر ایک تضاد ہے۔ اور پھر ہم اِس پہیلی کا حل پاتے ہیں۔

1۔ اوّل، یسوع کی تدفین کی متضاد منظق۔

’’اور وہ شریروں کے درمیان دفنایا گیا، لیکن ایسی قبر میں رکھا گیا جو کسی دولت مند کے لیے بنائی گئی تھی. . . ‘‘ (اشعیا 53:‏9).

یسوع کے زمانے میں، ’’ شریر‘‘ [فاسق یا بدکردار] مجرم ہوتے تھے۔ ’’امیر‘‘ معزز تصور کیے جاتے تھے۔ تو پھر کیسے یسوع کی قبر شریروں کے ساتھ تھی اور ایک ہی وقت میں ایسی قبر میں رکھا گیا تھا جو کسی دولت مند کے لیے بنائی گئی تھی‘‘؟ اِس بات نے قدیم یہودی تبصرہ نگاروں کو تذبذب میں ڈال دیا تھا۔ یہ اُن کے ذہن میں ایک متضاد منطق تھی، جو بظاہر اُلٹ تھی۔

لیکن یہ مُعّمہ یوحنا کی انجیل میں حل کیا گیا ہے۔ یسوع صلیب پر دو چوروں کے درمیان مرا تھا، ایک اُس کے دائیں اور دوسرا اُس کے بائیں ہاتھ تھا۔ ہماری تلاوت کلامِ پاک میں اُن کا حوالہ بطور ’’شریروں‘‘ [بدکرداروں] کے دیا گیا ہے۔ یسوع پہلے فوت ہوا تھا، جبکہ دونوں چور کچھ دیر بعد تک زندہ رہے تھے۔

’’یہ [فسح کی] تیاری کا دِن تھا اور اگلا دِن خصوصی سبت تھا۔ یہودی نہیں چاہتے تھے کہ سبت کے دن لاشیں صلیبوں پر ٹنگی رہیں لہٰذا اُنہوں نے پِیلاطُوس کے پاس جا کر درخواست کی مجرموں کی ٹانگیں توڑ کر اُن کی لاشوں کو نیچے اُتار لیا جائے‘‘ (یوحنا 19:‏31).

سپاہیوں نے دونوں چوروں کی ٹانگیں توڑیں۔ یہ اِس لیے کیا گیا تھا تا کہ وہ مذید زندہ رہنے کے لیے سانس نہ لیں اور، اس طرح، جلد مر جائیں۔ لیکن جب وہ یسوع کے پاس آئے، جو کہ بیچ والی صلیب پر لٹک رہا تھا، تو وہ پہلے ہی مر چُکا تھا۔ اُن میں سے ایک نے یسوع کی پسلی کو ایک نیزے سے چھیدا تا کہ یسوع کی موت کو یقینی کرے۔ پانی اور خُون اُبل کر باہر نکلا، جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ دل کے دورے سے مرا تھا۔

اُس نے ہاتھی دانت کے تخت پر حکومت نہیں کی تھی،
   وہ کلوری کی صلیب پر مرا تھا؛
گنہگاروں کے لیے اُس نے وہاں اپنا سب کچھ شمار کیا لیکن ہار گیا،
   اور اُس نے اپنی بادشاہی کا صلیب پر سے جائزہ لیا۔
اُس کا تخت ایک بوسیدہ صلیب بن گئی،
   اُس کی بادشاہی صرف دلوں میں تھی؛
اُس نے اپنا پیار گہرے لال رنگ سے لکھا تھا،
   اور اپنے سر پر کانٹوں کا تاج پہنا تھا۔
(’’ایک کانٹوں کا تاج A Crown of Thorns‘‘ شاعر عرّہ ایف۔ سٹانفِل
     Ira F. Stanphill‏ ، 1914۔1993).

لیکن پھر غیر متوقع طور پر کچھ ہواتھا۔ دو بہت ممتاز آدمی یسوع کے جسم کا دعویٰ کرنے سامنے آئے۔ وہ ایک امیر آدمی اور یہودی سین ہیڈرن [قدیم یروشلم کی مذہبی اور اعلٰی عدلیہ کی کونسل] کا رُکن ، آریماتھیا کا یوسف تھا، اور یہودیوں کا حکمران نیکودیمس تھا، جو اس سے قبل ایک رات کو یسوع کے پاس آیا تھا (موازنہ کیجیئے یوحنا 3:‏1۔2). وہ دونوں خُفیہ شاگرد بنے بنے رہے تھے، لیکن اب وہ پہلی مرتبہ سرِعام سامنے آتے ہیں۔ اُنہوں نے اصل میں ایسا کر کے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی تھی۔ ڈاکٹر میکجی نے کہا،

اِن دونوں آدمیوں کے لیے اس قدر زیادہ تنقید نہ کی جائے۔ وہ درپردہ رہے تھے لیکن، اب جبکہ خُداوند کے تمام شاگرد بھیڑوں کی مانند تِتر بِتر ہو گئے تھے اور روپوش ہو گئے تھے، تو یہ دونوں آدمی منظر عام پر سامنے آئے (جے. ورنن میکجی، ٹی ایچ.ڈی.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن، 1983، جلد چہارم ، صفحہ 494).

آریماتھیا کے یوسف اور نیکودیمس نے یسوع کا جسم لیا تھا۔ یوسف ایک امیر شخص تھا اور اُس نے یسوع کے جسم کو اپنے نئے مزار میں رکھا تھا،

’’اور اُسے اپنی نئی قبر میں جو چٹان میں کُھدوائی تھی رکھ دیا۔ پھر وہ ایک بڑا سا پتھر قبر کے منہ پر لُڑھکا کرچلا گیا‘‘ (متی 27:‏60).

یوں مسیح کی تدفین کی متضاد منطق کی وضاحت کی گئی۔ جی ہاں، یسوع نے اپنی قبر شریروں کے ساتھ بنائی، صلیب پر دو چوروں کے درمیان اپنے مرنے سے۔ لیکن وہ دفنایا گیا تھا ‘’ ایک ایسی قبر میں جو کسی دولت مند کے لیے بنائی گئی تھی‘‘ (اشعیا 53:‏9)، ایک امیر آدمی کے مزار میں۔ میسح نے ایک بدذات غُنڈے کی موت کا تجربہ کیا تھا، لیکن اُس کو دولت مند کے لیے بنائی گئی قبر میں دفنا کر عزت دی گئی تھی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے خُداوند کی بے عزتی کا اختتام ہو رہا تھا۔ اُس کے جسم کو دو چوروں کے ساتھ ایک مشترکہ قبر میں نہیں پھینک دیا گیا تھا۔ اُس کو اُسی عزت و احترام کے ساتھ ایک امیر اور عزت دار شخص کے مزار میں رکھا گیا تھا جس کا وہ مستحق تھا۔ اور اِس طرح یہ متضاد منطق، جو اکثر بوڑھے ربّیوں کو جو اُس کا مطالعہ کرتے تھے مخمسے میں ڈال دیتی تھی، ہماری تلاوت نے بہت سادہ بنا دیا تھا۔

’’اور وہ شریروں کے درمیان دفنایا گیا، لیکن ایسی قبر میں رکھا گیا جو کسی دولت مند کے لیے بنائی گئی تھی. . . ‘‘ (اشعیا 53:‏9).

لیکن یہاں ایک اور وجہ بھی ہے کہ کیوں مسیح نے اپنی قبر بدکار کے ساتھ اور امیر کے ساتھ بنائی تھی۔ جیسا کہ میں نے کہا، یہودی لوگ مجرموں اور قانون شکنوں کو ’’بدکاروں‘‘ کے طور پرسوچتے تھے، اور وہ ’’امیروں‘‘ کو معزز لوگ کے طور پر سوچتے تھے۔ یہ حقیقت کہ یسوع نے ’’اپنی قبر دونوں‘‘ گروہوں کے ساتھ بنائی ظاہر کرتی ہے کہ قدیم ربّی ’’بدکاروں‘‘ اور ’’امیروں‘‘ کو علیحدہ کرنے کے معاملے میں غلط تھے۔ وہ دو گروہ کبھی بھی تھے ہی نہیں۔ دونوں گروہ گنہگار ہی تھے۔

اور وہ آج بھی سچ ہی ہے۔ معزز لوگ بھی اُن ہی کے برابر گنہگار ہیں جنہیں وہ ’’بدکار‘‘ کہتے ہوں گے۔ جیسے ہی میں واعظ کا یہ حصہ لکھنے کے لیے بیٹھا ٹیلی فون پر کاروبار کرنے والے ایک شخص نے مجھے فون کیا، وہ ایک ’’قدامت پسند‘‘ مذہبی جماعت کے لیے چندہ مانگ رہا تھا۔ فون کرنے والے نے کہا، ’’آپ کے خیال میں پیش کیے جانے والے معاملوں میں سے کونسا معاملہ جس کا سامنا امریکہ کو ہے سب سے اہم ہے – اسقاط حمل، اسرائیل کی معاونت میں ناکامی، یا ہم جنس شادی؟‘‘ میں نے کہا، ’’اُن میں سے کوئی بھی نہیں۔ سب سے اہم معاملہ جس کا امریکہ کو سامنا ہے یہ ہے کہ ہمارے پادری اپنے گرجہ گھر کے اراکین کے گناہ پر تبلیغ نہیں دیتے ہیں۔‘‘ میرے کہنے کا کیا مطلب تھا؟ میرا مطلب تھا کہ اسقاط حمل، ہم جنس شادی اور اسرائیل کی معاونت میں ناکامی بیماری کی علامتیں ہیں،اصل بیماری نہیں ہیں، بالکہ بیماری کی صرف علامتیں ہیں۔ آپ بیماری کی علامتوں کا علاج کرنے پر کام کر سکتے ہیں، لیکن اِس سے کوئی دیرپا بہتری نہیں ہوگی جب تک کہ آپ بنیادی بیماری کے ساتھ نمٹ نہیں لیتے۔ اور وہ بیماری گناہ ہے – گناہ جو دونوں آزاد خیال اور قدامت پسندوں کو قتل کر رہا ہے؛ گناہ جو دونوں عوامیّت کے حامی اور جمہوری حکومت کے حامیوں کو تباہ کر رہا ہے؛ گناہ جو دونوں ’’بدکاروں‘‘ اور ’’امیروں‘‘ پر لعنتی کر رہا ہے۔

گناہ دِل میں پنہاں ہوتا ہے۔ انسان کے اپنے باطنی اعمال ہی نہیں بالکہ دِل بھی غلط ہوتا ہے۔ گناہ اُس کی گہری ترین خواہشات اور خیالات کو قابو کرتا ہے۔ آپ کا گناہ سے بھرپور دِل آپ کو اُن چیزوں کے بارے میں جو غلط ہیں سوچنے کے لیے کہتا ہے۔ پھر آپ کے گناہ سے بھرپور فطرت خُدا کے خلاف بغاوت کرنے کے لیے تحریک دیتی ہے اور اُس گناہ کو سرزد کرنے کے لیے کہتی جس کے بارے میں آپ سوچ رہے تھے۔ گناہ آپ کے باطنی زندگی پر حکومت کرتا ہے اور آپ کی رہنمائی بااختیار کے خلاف بغاوت کے لیے کرتا ہے، خُدا کے خلاف بغاوت کے لیے۔ آپ کے دِل کی خُدا کے خلاف بغاوت اِس قدر شدید ہوتی ہے کہ چاہے کچھ بھی کر لیں اُسے بدل نہیں سکتے ہیں، یا آپ پر اُس کا کنٹرول توڑسکیں۔ آپ کو اُس جگہ پر لانا چاہیے جہاں آپ رسول کے ساتھ کہہ سکیں، ’’ہائے میں کیسا بدبخت آدمی ہوں، اِس موت کے بدن سے مجھے کون چُھڑائے گا؟‘‘ (رومیوں7:‏24)۔ صرف تب ہی آپ یسوع کا ’’بدکاروں‘‘ اور ’’امیروں‘‘ کے ساتھ اُس کی موت میں قبر بنانے کی اہمیت کو سمجھ پائیں گے۔ آپ کا چاہے کیسا بھی ماضی رہا ہو، مسیح مرا اور وہ دفنایا گیا تاکہ آپ کے گناہ دونوں معاف کیے اور مٹائے جائیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر جے۔ وِلبر چےپمین Dr. J. Wilbur Chapman نے اپنے حمدوثنا کے گیتوں میں سے ایک میں اِس بیان کیا، ’’مدفون، وہ میرے گناہ اُٹھا کر بہت دور لے گیاBuried, He carried my sin far away ‘‘ (’’ایک دِن One Day‘‘ شاعر ڈاکٹر جے۔ وِلبر چےپمین، 1859۔1918)۔ صرف مسیح ہی آپ کے گناہ معاف کر سکتا ہے! صرف مسیح ہی آپ کے گناہ سے باغی دِل کو بدل سکتا ہے!

’’اور وہ شریروں کے درمیان دفنایا گیا، لیکن ایسی قبر میں رکھا گیا جو کسی دولت مند کے لیے بنائی گئی تھی. . . ‘‘ (اشعیا 53:‏9).

2۔ دوئم، متضاد منطق کی وضاحت سمجھائی گئی۔

ہماری تلاوت کا دوسرا حصہ بتاتا ہے کہ کیوں مسیح، حالانکہ وہ چوروں کے ساتھ بے عزتی کی موت مرا تھا، لیکن اعزاز اور احترام کے ساتھ دفنایا گیا تھا۔ مہربانی سےکھڑے ہو جایئے اور دوسرا حصّہ پڑھیے جو اِن الفاظ سے شروع ہوتا ہے، ’’ حالانکہ اُس نے کبھی ظلم نہ کیا. . . ‘‘ (اشعیا 53:‏9).

’’اور وہ شریروں کے درمیان دفنایا گیا، لیکن ایسی قبر میں رکھا گیا جو کسی دولت مند کے لیے بنائی گئی تھی؛ حالانکہ اُس نے کبھی ظلم نہ کیا، نہ ہی اُس کے منہ سے کوئی مکر کی بات نکلی‘‘ (اشعیا 53:‏9).

آپ تشریف رکھ لیجیے۔

یہ مسیح کے عزت بخش جنازے کی وجہ پیش کرتی ہے۔ یہ عزت یسوع کو اس لیے ملی تھی کیونکہ اُس نے کوئی ظلم نہیں کیا تھا؛ یا کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ وہ چوری یا جبر، قتل یا کسی قسم کی ظلمت کا قصور وار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔ اُس نے کبھی کو ئی ہجوم اکٹھا نہیں کیا تھا، یا کبھی رُومی یا یہودی دونوں میں سے کسی حکومت کے خلاف فساد برپا کیا تھا۔ نہ ہی اُس کے منہ سے کفر کی کوئی بات نکلی۔ اُس نے کبھی جھوٹے عقائد کی تعلیم نہیں دی۔ اُس نے کبھی لوگوں کو دھوکہ نہیں دیا جس کا اُس پر الزام لگایا گیا تھا۔ جو کہ سراسر ایک جھوٹ تھا۔ اُس نے کبھی بھی کسی کو خُدا کی حقیقی عبادت سے دور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ آُس نے مسلسل موسیٰ کےقانون اور انبیاء کو برقرار رکھا اور اُن کا احترام کیا، وہ اُن کے مذہب یا اُن کی ریاست کا دشمن نہیں تھا۔ بِلا شُبہ، وہ کسی گناہ کا قصور وار نہیں تھا۔ پُولوس رسول نے کہا کہ مسیح،

’’اُس نے نہ تو کبھی گناہ کیا نہ اُس کے منہ سے کوئی مکر کی بات نکلی‘‘ (1۔پطرس 2:‏22).

ڈاکٹر ینگ نے کہا، ’’[مسیح] کو آُس کی ذلت کی موت کے بعد ایک معزز طریقے سے دفنایا گیا تھا کیونکہ اُس کی کامل معصومیت کی وجہ سے۔ [چونکہ] اُس نے اپنے مجرم دشمنوں کی طرح برتاؤ نہیں کیا تھا، اِس لیے اُس کو اُن کے ساتھ [ایک] ذلت آمیز طور پر نہیں دفنایا گیا، بلکہ ایک اعزاز کے ساتھ ایک ایسی قبر میں رکھا گیا جو کسی دولت مند کے لیے بنائی گئی تھی۔‘‘

اِس سے مجھے سر ونسٹن چرچِل کی یاد آ جاتی ہے، جنہوں نے دیہی علاقے کی گرجہ گھر کے صحن میں اپنے باپ کے ساتھ ایک معزز دفنانے کی جگہ چُنی تھی، بجائے اس کے کہ جو وہ سمجھتے تھے ایک بہت کم عزت والی جگہ اُن کے باپ اور اُن کے اپنے دشمنوں کے درمیان، اُن لوگوں کے درمیان جنہوں نے انگلستان کے ساتھ غداری کی، اُن لوگوں کے ہٹلر اور اُس کی نازی سرکار کو خوش کرے والے خطرناک حد تک ناقابِل اعتبار اعمال کے باوجود، پھر بھی اُن لوگوں کو انتہائی شان و شوکت اور تقریب کے ساتھ ویسٹ منسٹر میں خانقاہ سے ملحق گرجہ گھر میں دفنایا گیا۔ حالانکہ چرچل ایک نئے سرے سے جنم لیا ہوا مسیحی نہیں تھا، وہ ایک معزز آدمی تھا۔

یسوع، بِلا شُبہ، تمام ہستیوں میں سب سے عظیم تھا۔ جی ہاں، وہ تھا اور ایک ایسا انسان ہے، ’’ یسوع مسیح جو انسان ہے‘‘ (1۔تیموتاؤس 2:‏5). اُس کی عظمت اس حقیقت میں پنہاں نظر آتی ہے کہ اُس نے اپنی زندگی جانتے بوجھتے ہوئے خُدا باپ کی نظروں میں ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے قربان کر دی۔ اپنے مصلوب ہونے سے کچھ دیر پہلے یسوع نے کہا،

’’اس سے زیادہ محبت کوئی نہیں کرتا کہ اپنی جان اپنے دوستوں کے لیے قربان کر دے‘‘ (یوحنا 15:‏13).

اُس کا تخت ایک بوسیدہ صلیب بن گئی،
   اُس کی بادشاہی صرف دلوں میں تھی؛
اُس نے اپنا پیار گہرے لال رنگ سے لکھا تھا،
   اور اپنے سر پر کانٹوں کا تاج پہنا تھا۔

اور اب، میرے دوستوں، آپ اُس یسوع کے ساتھ کیا کرو گے جو مسیح کہلاتا ہے؟ جیسا کہ سی. ایس. لوئیس C. S. Lewis نے لکھا ہے، اس کی دو ممکن وجوہات ہیں – آپ اُس کے منہ پر تھوک سکتے ہیں اور اُسے ایک شیطان کے طور پر قتل کرسکتے ہیں؛ یا آپ اُس کے قدموں میں گر کر اُسے خُداوند اور خُدا کہہ سکتے ہیں۔‘‘ آپ کے لیے اِن میں سے کونسا ہوگا؟ تیسرا انتخاب صرف یہ رہ جاتا ہے کہ اُس کو مکمل طور پر نظر انداز کردیں، اور اپنی زندگی میں بڑھتے جائیں جیسے اُس کے تکلیف اور مصائب کوئی معنی ہی نہیں رکھتی۔ مجھے اُن کے لیے انتہائی دُکھ محسوس ہوتا ہے جو نجات دہندہ کے ساتھ اس قدر رسوائی کا سلوک کرتے ہیں۔ میں دُعا کرتا ہوں کہ آپ اُن میں سے ایک نہ ہوں۔ یہ وہ ہیں جن کے بارے میں ٹی. ایس. ایلیٹ T. S. Eliot نے کہا ’’کُھوکھلے آدمیThe Hollow Men‘‘ – ایسے انسان جوصرف لمحاتی تسکین کے لیے جیئے۔ جی ہاں، میں دعا کرتا ہوں کہ آپ اُن میں سے ایک نہ ہوں، کیونکہ اُن کے لیے جہنم میں جگہ اٹل ہے۔

اس سے پہلے کہ میں گتسمنی بھول جاؤں؛
   اس سے پہلے کہ میں اُس کی کرب و اذیت کو بھول جاؤں؛
اس سے پہلے کہ میں میرے لیے اُس کا پیار بھول جاؤں،
   مجھے کلوری کی راہ دکھا دے۔
(’’ مجھے کلوری کی راہ دکھا دےLead Me to Calvary ‘‘ شاعر جینی ای.
   ہیوزےJennie E. Hussey‏، 1874۔1958).

میں دُعا کرتا ہوں کہ آپ یسوع کے پاس آئیں، اُس پر اپنے تمام دل کے ساتھ بھروسہ کریں، اور سچی مسیحی تبدیلی میں موت سے گزر کر زندگی میں داخل ہوں۔

آئیے اکٹھے کھڑے ہو جائیں۔ اگر آپ یسوع کے وسیلے سے اپنے گناہ سے پاک صاف ہونے کے بارے میں ہم سے بات کرنا چاہیں، تو مہربانی سے ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب قدم بڑھائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پُرسکون جگہ پر لے جائیں گے جہاں ہم بات کر سکتے ہیں۔ مسٹر لی Mr. Lee، مہربانی سے آئیں اور اُن کے لیے دعا کریں جنہوں نے ردعمل کا مظاہرہ کیا۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَینDr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: اشعیا 53:‏1۔9 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’کانٹوں کا ایک تاج A Crown of Thorns‘‘ (شاعر عرہ ایف۔ سٹینفل
Ira F. Stanphill‏، 1914۔1993)\
’’مجھے کلوری کی راہ دیکھا دے Lead Me to Calvary‘‘ (شاعر جینی ای۔
یوزے Jennie E. Hussey‏، 1874۔1958)۔

لُبِ لُباب

مسیح کی تدفین کی متضاد منطق

(اشعیا 53 باب پر واعظ نمبر 10 )
THE PARADOX OF CHRIST’S BURIAL
(SERMON NUMBER 10 ON ISAIAH 53)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اور وہ شریروں کے درمیان دفنایا گیا، لیکن ایسی قبر میں رکھا گیا جو کسی دولت مند کے لیے بنائی گئی تھی؛ حالانکہ اُس نے کبھی ظلم نہ کیا، نہ ہی اُس کے منہ سے کوئی مکر کی بات نکلی‘‘ (اشعیا 53:‏9).

(1۔ کرنتھیوں 15:‏3۔4؛ یوحنا 17:‏3؛ رومیوں6:‏4)

1۔ اوّل، یسوع کی تدفین کی متضاد منظق، اشعیا 53:‏9الف؛ یوحنا 19:‏31؛
متی 27:‏60؛ رومیوں7:‏24 .

2۔ دوئم، متضاد منطق کی وضاحت سمجھائی گئی، اشعیا 53:‏9ب؛ 1 پطرس 2:‏22؛
1تیموتاؤس 2:‏5؛ یوحنا 15:‏13 .