Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

کفّارے کی تفصیل

(اشعیا 53 باب پر واعظ نمبر 9 )
A DESCRIPTION OF THE ATONEMENT
(SERMON NUMBER 9 ON ISAIAH 53)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ 7 اپریل، 2013 ، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, April 7, 2013

’’گرفتار کر کے اور مجرم قرار دے کر وہ اُسے لے گئے۔ کون اُس کی نسل کا بیان کرے گا؟ کیونکہ وہ زندوں کی زمین میں سے کاٹ ڈالا گیا؛ اور میرے لوگوں کے گناہوں کے سبب اُس پر مار پڑی۔ ‘‘ (اشعیا 53:‏8).

اِس سے گذشتہ آیت میں اشعیا نے ہمیں مسیح کی خاموشی کے بارےبتایا تھا،

’’ وہ برّہ کی طرح ذبح ہونے گیا، جس طرح ایک بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے گونگی [خاموش] رہتی ہے، اسی طرح اُس نے بھی اپنا مُنہ نہ کھولا‘‘ (اشعیا 53:‏7).

ڈاکٹر ایڈورڈ جے ینگ نے کہا، یسوع کی اپنے مصائب میں صبر آمیز خاموشی پر زور دینے کے بعد، نبی اب اُن مصائب کے بارے میں مذید تفصیل کے ساتھ بیان پیش کرتا ہے ‘‘ (ایڈورڈ جے۔ ینگ، پی ایچ. ڈی. ، اشعیا کی کتاب The Book of Isaiah، عیئرڈ مینز، 1972، جلد سوئم، صفحہ 351).

’’گرفتار کر کے اور مجرم قرار دے کر وہ اُسے لے گئے: کون اُس کی نسل کا بیان کرے گا؟ کیونکہ وہ زندوں کی زمین میں سے کاٹ ڈالا گیا: اور میرے لوگوں کے گناہوں کے سبب اُس پر مار پڑی۔‘‘ (اشعیا 53:‏8).

آیت قدرتی طور پر تین نقاط میں تقسیم ہوتی ہے جو کہ بیان کرتے ہیں (1) مسیح کے مصائب (2) مسیح کی نسل اور (3) ہمارے گناہوں کے لیے مسیح کا تبدلیاتی کفارہ۔

1۔ اوّل، تلاوتِ کلامِ پاک مسیح کے مصائب کی تفصیل پیش کرتی ہے۔

’’گرفتار کر کے اور مجرم قرار دے کر وہ اُسے لے گئے. . . کیونکہ وہ زندوں کی زمین میں سے کاٹ ڈالا گیا‘‘ (اشعیا 53:‏8).

مسیح گتسمنی کے باغ میں گرفتار کیا گیا۔ سردار کاہنوں کے پاس ہیکل کے سپاہی اُسے لے کر گئے۔ اُنہوں نے اُسے سردار کاہن کائفا کے سامنے پیش کیا، اور قدیم یروشلم کی اعلٰی ترین مذہبی شریعی یہودیوں کی عدالتِ عالیہ [سین ہیڈرئین] کے سامنے پیش کیا۔ اس عدالت میں جھوٹے گواہوں نے یسوع پر تہمتیں اور مذمتیں لگائیں۔ یسوع نے کہا،

’’آئیندہ تم ابنِ آدم کو قادرِ مطلق کے دائیں طرف بیٹھا اور آسمان کے بادلوں پر آتا دیکھو گے‘‘ (متی 26:‏64).

پھر سردار کاہن نے کہا،

’’تمہاری کیا رائے ہے؟ اُنہوں [اقتدارِ اعلٰی کی عدلیہ کے لوگوں] نے جواب دیا اور کہا، وہ قتل کے لائق ہے۔ پھر اُنہوں نے اُس کے منہ پر تھوکا، اُسے مُکّے مارے [پیٹا]: اور بعض نے طمانچے مارے‘‘ (متی 26:‏66۔67).

’’صبح ہوتے ہی سارے سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں نے مشورہ کر کے یسوع کے قتل کا فیصلہ کر لیا‘‘ (متی 27:‏1)

لیکن اُن کے پاس رُومی قانون کے تحت ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا، اور اس لیے،

’’اور اُسے باندھ کر لے گئے، اور[ رُومی] حاکم پیلاطُس کے حوالے کر دیا‘‘

(متی 27:‏2).

پیلا طُوس نے یسوع سے پوچھا،

’’اور اُس نے یسوع کو کوڑے لگوا لیے، اُس نے یسوع کو اُن کے حوالہ کیا تاکہ اُسے صلیب پر چڑھایا جائے‘‘ (متی 27:‏26).

اور یوں، تلاوتِ کلامِ پاک کا یہ حصّہ مکمل ہوا تھا،

’’گرفتار کر کے اور مجرم قرار دے کر وہ اُسے لے گئے [سردار کاہن اور پھر پیلاطُس کے سامنے]. . . کیونکہ وہ زندوں کی زمین میں سے کاٹ ڈالا گیا [صلیب پر اُس کی موت سے] ‘‘ (اشعیا 53:‏8).

یہودیوں اور پیلاطُس کے ذریعے سے یسوع کی قید کلامِ پاک کے الفاظ کی تکمیل کرتی ہے، ’’اُسے قید کے لیے لے جایا گیا۔‘‘ کائفا کے سامنے، اور پھر پیلاطُس کے سامنے پیشیوں نے اس عبارت کی تکمیل کی، ’’اور فیصلے سے۔‘‘ اُسے قید کے لیے لے جایا گیا تھا اور فیصلے کے لیے دور کلوری نامی ایک پہاڑی پر، جہاں اُسے مصلوب کیا گیا تھا اور وہ صلیب پر مرا تھا، اور یوں عبارت کی تکمیل ہوتی ہے، ’’وہ زندوں کی زمین میں سے کاٹ ڈالا گیا۔‘‘

ڈاکٹر جان گِل (1697۔1771) نے کہا،

یسوع کو رنج و الم اور فیصلے نے مار ڈالا تھا؛ یعنی کہ، اُس کی زندگی انتہائی بیہمانہ [پُرتشدد] طریقے سے لی گئی، جو انصاف کے ایک دکھاوے کے تحت تھی؛ جبکہ [حقیقت میں] یہ [بدترین] انصاف اُس کے ساتھ ہوا تھا؛ اُ س کے خلاف ایک غلط فیصلہ عائد کیا گیا تھا، جھوٹے گواہوں [کو رشوت دی گئی کہ جھوٹا حلف اُٹھائیں، اور یوں یسوع کے خلاف جھوٹے بیانات دینے کا ایک عمل شروع ہوا]، اور بدکردار ہاتھوں کے ساتھ اُس کی زندگی لے لی گئی [جیسا کہ درج ہے] اعمال 8:‏32 آیت میں، [’’وہ برّہ کی طرح ذبح ہونے گیا، جس طرح ایک بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے گونگی [خاموش] رہتی ہے، اسی طرح اُس نے بھی اپنا مُنہ نہ کھولا‘‘] ۔ اُس کی تحقیر میں اُس کا فیصلہ دیا گیا: اُس کو عام انصاف [نہیں ملا] (جان گِل، ڈی.ڈی.، پرانے عہد نامے پر ایک تفسیر An Exposition of the Old Testament ، دی بپٹسٹ سٹینڈرڈ بیئررThe Baptist Standard Bearer ، 1989 دوبارہ اشاعت، جلد پنجم، صفحہ 314).

جیسا کہ ہماری تلاوتِ کلامِ پاک کہتی ہے،

’’گرفتار کر کے اور مجرم قرار دے کر وہ اُسے لے گئے. . . کیونکہ وہ زندوں کی زمین میں سے کاٹ ڈالا گیا‘‘ (اشعیا 53:‏8).

2۔ دوئم، تلاوتِ کلامِ پاک مسیح کی نسل کی تفصیل پیش کرتی ہے۔

تلاوتِ کلامِ پاک کے درمیان میں ایک جملہ ہے جس کی وضاحت پیش کرناکسی حد تک مشکل ہے،

’’گرفتار کر کے اور مجرم قرار دے کر وہ اُسے لے گئے: کون اُس کی نسل کا بیان کرے گا؟ کیونکہ وہ زندوں کی زمین میں سے کاٹ ڈالا گیا. . . ‘‘ (اشعیا 53:‏8).

’’کون اُس کی نسل کا بیان کرے گا؟‘‘ ڈاکٹر گِل نے کہا کہ یہ جملہ ’’اُس زمانے کے بارے میں [یا اُس نسل کے بارے میں جس میں یسوع رہتا تھا] بتاتا ہے، اور اُس وقت کے لوگوں کے بارے میں جن میں وہ رہتا تھا، جن کی اُس کے ساتھ بربریّت، اور بدکاری جس کے وہ قصور وار تھے اس قدر ہے کہ اُس کا [مکمل طور پر] منہ سے مسلمہ بیان پیش کرنا، یا [مکمل طور پر] تحریری انداز میں بیان کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے‘‘ (گِل، ibid.). جب ہم اُس ظلم اور ناانصافی کے بارے میں پڑھتے ہیں جو اُنہوں نے بے ضرر خُدا کے بیٹے کے ساتھ کی تھی تو یہ ہمیں دُکھ و درد میں مبتلا کر دیتا ہے، اور ہمارے دلوں کو رُلاتا ہے! جیسا کہ جوزف ہارٹ (1712۔1768) نے اپنی غمگین حمد میں لکھا ہے،

دیکھیئے یسوع کس قدر صبر سے کھڑا ہے،
   [ اس قدر ہولناک جگہ پر] ذلت کی حالت میں!
جہاں گنہگاروں نے قادرِ مطلق کے ہاتھوں کو باندھ دیا،
   اور اُن کے خالق کے منہ پر تھوک دیا۔

کانٹوں سے اُس کی پیشانی پر گہرے گھاؤ لگے تھے،
   بدن کے ہر حصّے پر خون کی دھاریں بہہ رہی تھیں،
یسوع کی کمر پر گِرہ دار کوڑوں کی ضربیں تھیں،
   لیکن اُس کے دل کو تیز کوڑوں نے چیر دیا تھا۔

ملعون صلیب پر برہنہ کیلوں سے ٹھُکا ہوا،
   زمین اور اوپر آسمان پر دیکھا جا سکتا تھا،
زخموں اور خون کا ایک منظر تھا،
   زخمی محبت کی ایک پیشن گوئی کی نشانی!
(’’یسوع کی شدید چاہت His Passion ‘‘ شاعر جوزف ہارٹ، 1712۔1768؛
     بطرزِ ’’ ’اُس شب کو، اور زیتون کی چوٹی پر‘‘).

جان ٹریپ (1601۔1669) نے کہا، ’’ کون اُس کی نسل کی وضاحت یا بیان پیش کر سکتا ہے؟ [کون بیان کر سکتا ہے] اُس زمانے کے لوگوں کی بدکاریوں کو جن میں وہ رہا؟’’ (جان ٹریپ، نئے اور پرانے عہد نامے پر ایک تبصرہ A Commentary on the Old and the New Testaments، ٹرانسکی اشاعت خانہ، 1997دوبارہ اشاعت، جلد سوئم، صفحہ 410).

انسانی اصطلاح میں، یہ بیان کر نا مشکل ہے، کہ کیوں وہ یہودی رہنما یسوع کا مصلوب کرنا چاہتے تھے، اور کیوں رومی سپاہیوں نے ’’اُس کے سر پر سرکنڈا مارا، اور اُس پر تھوکا … اور اُس کو مصلوب کر نے کے لیے لے گئے‘‘ (مرقس15:‏19۔20)۔

’’اگرچہ وہ اُسے موت کی سزا کے لائق ثابت نہ کرسکے، پھر بھی اُنہوں نے پیلاطُس سے درخُواست کی کہ اُسے قتل کیا جائے‘‘ (اعمال 13:‏28).

جیسا کہ جان ٹریپ نے بیان کیا ہے، ’’کُون اُس کی نسل کی وضاحت یا بیان پیش کر سکتا ہے؟. . . اُس زمانے کے لوگوں کی بدکاریوں کو جن میں وہ رہا۔‘‘

’’گرفتار کر کے اور مجرم قرار دے کر وہ اُسے لے گئے: کون اُس کی نسل کا بیان کرے گا؟ کیونکہ وہ زندوں کی زمین میں سے کاٹ ڈالا گیا. . . ‘‘ (اشعیا 53:‏8).

ڈاکٹر ینگ نے کہا، ’’فعل [قرار دینا] کسی بات کو سنجیدہ طور پر سوچنا یا غور و فکر کے منظقی نتیجہ کے معنی دیتا ہے . . . وہ ضرور [یسوع کی موت کا مطلب] سوچ سمجھ چکے تھے، لیکن وہ جانتے نہیں تھے‘‘ (ینگ، ibid.، صفحہ 352).

آج بھی یہ کس طرح مختلف ہے؟ لاکھوں لوگوں نے یسوع کی صلیب پر موت کے بارے میں سنجیدگی سے سوچے بغیر سُنا ہوا ہے۔ ’’اُنہوں نے ضرور سوچ سمجھ لیا تھا، لیکن جانا نہیں تھا۔‘‘ کون مسیح کی صلیبی موت کے بارے میں گہرائی سے سوچتا ہے؟ کیا آپ؟ کیا آپ مسیح کے موت کے بارے میں سوچنے میں وقت صرف کرتے ہیں اور اُس کی موت آپ کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟

’’کون اُس کی نسل کو بیان کر … سکتا ہے؟ اُس دور کے لوگوں کی مکاری جس میں اُس نے زندگی گزاری،‘‘ جان ٹریپ John Trapp نے کہا۔ اور اِس کے باوجود وہ لوگ جنہوں نے یسوع کو مصلوب کیا تھا آج کل کے مسیح میں غیر تبدیل شُدہ لوگوں سے واقعی میں بہت ملتے جلتے ہیں۔ جب ’’مسیح کی شدید چاہت The Passion of Christ‘‘ ہمارے سینما گھروں میں چلی تو بہت سے خبروں کے تبصرہ نگاروں نے کہا کہ اُس فلم کا اُن لوگوں پر جنہوں نے اُسے دیکھا گہرا اثر ہوا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ انجیل میں دلچسپی کی حیات نو کو بھڑکا دے گا۔ اُن میں سے کچھ نے کہا کہ یہ نوجوان لوگوں کے بہت بڑے ہجوموں کو گرجہ گھروں میں جانے کا سبب بن جائے گی۔

وہ فلم 2004 میں منظر عام پر آئی تھی۔ یہ نو سال پہلے کی بات تھی۔ وہ تبصرہ نگار درست تھے اِس بات کو دیکھنے کے لیے ہمارے پاس انتہائی کافی وقت رہا ہے۔ فلم میں مسیح کی اذیتوں کی منظرکشی کی ناخوشگوار حقیقت نے واقعی اُن پر جنہوں نے اِسے دیکھا ایک نفسیاتی تاثر چھوڑا ہے۔ لیکن ہم اب دیکھ سکتے ہیں کہ اِس نے اُن پر جنہوں نے اِسے دیکھا کوئی دیرپا تاثر نہیں چھوڑا۔ وہ بالکل وہیں واپس اپنی اُسی خود مرکزی اور گناہ سے بھرپور زندگیوں میں لوٹ گئے۔

آپ نے دیکھا، یہ ہے گناہ کا انتہائی نچوڑ۔ مسیح میں غیرتبدیل شُدہ لوگوں، مسیح کی اذیتوں پر صرف تھوڑا سا ہی رنج و الم کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ لیکن، بہتر طور پر کہا جائے، تو یہ صرف ایک معمولی سی ندامت ہے۔ وہ واپس گھنٹوں تک ’’انٹرنیٹ پر مغزماری کے لیے‘‘ چلے جاتے ہیں، اپنے زیادہ پیسوں کے لالچ کے لیے، اپنی بےدین زندگیوں کے لیے، اپنی کبھی نہ ختم ہونے والی ویڈیو گیمز کے لیے، اتوار کو گرجہ گھر میں حاضر نہ ہونے کے لیے، اُن خُدا کے بارے میں جس نے اُنہیں بنایا بہت کم سوچنے کے لیے، اور اُس مسیح کے لیے جس نے اُنہیں بچانے کے لیے صلیب پر اذیتیں برداشت کیں اُس کے بارے میں کم سوچنے کے لیے واپس چلے جاتے ہیں۔ ’’کون اُس کی نسل کو بیان کر سکتا ہے؟‘‘ کیوں وہ نسل جو اُس وقت زندہ تھی جب یسوع کو مصلوب کیا گیا تقریباً ویسی ہی ہے جیسی کہ آپ کی نسل ہے! وہ خود کو پیار کرنے والے، بےدین عیاش، جن کی زندگی کا مقصد ماسوائے گناہ سے بھرپور لطف اندوزی کے کچھ بھی نہیں تھا۔ اور کیا یہ ہی آپ کی نسل کی بھی ایک جامع تصویر نہیں ہے؟ اور اگر آپ واقعی ہی میں خود کے ساتھ مخلص ہیں تو کیا یہ آپ کی بھی ایک مکمل تفصیل نہیں ہے؟ آخر کو، آپ کتناوقت خُدا کے بارے میں سوچنے میں گزارتے ہیں؟ آپ ہر روز کتنا وقت دعا میں گزارتے ہیں؟ مسیح کی خون سے بہتی ہوئی مصلوبیت آپ کی روزمرّہ زندگی میں کتنا اثر ڈالتی ہے؟ اگر آپ اپنے ساتھ مخلص ہیں، تو میرے خیال میں آپ اُس نسل سے جس نے مسیح کو مسترد کیا تھا، اُس مصلوب کیا تھا، اور اپنی خودغرصانہ زندگیوں کو بسر کرنے کے لیے چلے گئے تھے اُن سے واقعی میں بالکل بھی مختلف نہیں ہیں۔ یہی گناہ کا نچوڑ ہے۔ یہی گناہ کی اصل فطرت ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ آپ ایک گنہگار ہیں، اور کہ آپ بھی ہر طرح سے اُتنے ہی قصوروار ہیں جتنے کے جو مسیح کے دور میں تھے وہ ہیں۔ بےشک اگر آپ یہاں ہر اتوار کو گرجہ گھر کے لیے آتے ہیں، تو بھی آپ میں صرف ’’بےدینی کی ایک وضع‘‘ ہے (2۔تیموتاؤس3:‏5)۔ کیا یہ آپ کے بارے میں درست نہیں ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آپ نے ’’گناہ کیا اور خُدا کے جلال سے محروم رہے‘‘؟ (رومیوں3:‏23)۔ اور چونکہ وہ تمام باتیں آپ کے لیے دُرست ٹھہرتی ہیں، تو آپ کیسے قادرمطلق خُدا کے غضب اور فیصلے سے بچ سکتے ہیں؟ محترم جناب آئعین ایچ۔ میورے Rev. Iain H. Murray نے، اپنی حال ہی کی کتاب جو ڈاکٹر مارٹن لائیڈ۔جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones کی زندگی پر لکھی میں کہا،

      ڈاکٹر لائیڈ۔جونز کے لیے خُدا کے سامنے انسان کے جرائم کے حقیقی خطرے میں ہونے کے کیفیت کی منادی کرنے کا مطلب الہٰی قہر کی یقینی کی منادی کرنا ہے، قہر جو پہلے ہی سے مسیح میں غیر تبدیل شُدہ پر پڑ چکا ہے اور جس نے ابھی جہنم میں گناہ کی سزا میں عائد ہونا ہے... اُس جگہ جہاں اُن کا ’کیڑا مرتا نہیں اور اُن کی آگ بجھتی نہیں ہے‘
(آئعین ایچ۔ میورے Iain H. Murray، مارٹن لائیڈ۔جونز کی زندگی
 The Life of Martyn Lloyd-Jones، سچائی پر بھروسہ کرنے
 والوں کا بینر The Banner of Truth Trust، 2013، صفحہ 317)۔

3۔ سوئم، تلاوتِ کلامِ پاک مسیح کے مصائب کے گہرے معنوں کو بیان کرتی ہے۔

مہربانی سے کھڑے ہو جایئے اور اشعیا 53:‏8 کو با آوازِ بُلند پڑھیئے، آخری حصّے پر انتہائی توجہ دیجیے، ’’اور میرے لوگوں کے گناہوں کے سبب اُس پر مار پڑی۔‘‘

’’گرفتار کر کے اور مجرم قرار دے کر وہ اُسے لے گئے: کون اُس کی نسل کا بیان کرے گا؟ کیونکہ وہ زندوں کی زمین میں سے کاٹ ڈالا گیا: اور میرے لوگوں کے گناہوں کے سبب اُس پر مار پڑی۔ ‘‘ (اشعیا 53:‏8).

آپ تشریف رکھ لیجیے۔

ڈاکٹر میریل ایف۔ اُونگر Dr. Merril F. Unger نے کہا،

سترہ صدیوں تک [اشعیا53 کی مسیحانہ تاویل] مسیحی [اور] یہودی سربراہوں کے درمیان واحد تاویل تھی۔ [بعد میں یہودیوں نے] میسح میں اِس کی شاندار تکمیل کی وجہ سے جان بوجھ کر باب کے اِس نظریے کو قبول کرنے سے انکار کردیا (اُونگر Unger، ibid.، صفحہ 1293)۔

آج بے شمار یہودی عالمین کا کہنا ہےکہ یہ پورے کا پورا ترپن باب یہودی لوگوں کے مصائب کی طرف اشارہ کرتا ہے، ناکہ مسیح کی طرف۔ بے شک جھوٹے مسیحیوں کے ہاتھوں یہودیوں نے شدید تکالیف برداشت کی ہیں، لیکن یہ ہماری تلاوتِ کلامِ پاک کا صیحیح معنی نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ واضع طور سے کہتا ہے، ’’اور میرے لوگوں کی لاقانونیت [گناہوں] کے سبب سے اُس پر مار پڑی‘‘ (اشعیا 53:‏8). جملے کے اِس جُز پر، ’’اور میرے لوگوں کے گناہوں کے سبب سے اُس پر مار پڑی،‘‘ ڈاکٹر ہنری ایم. مورِس نے کہا، ’’وہ ’میرے لوگوں‘ کے لیے مرا تھا – یعنی کہ، اسرائیل – یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ اِس حوالے میں [مسیح] اسرائیل نہیں ہے، جیسا کہ بہتوں نے مبینہ طور پر کہا‘‘ (ہنری ایم. مورِس، پی ایچ. ڈی. ، مطالعہ بائبل کا محافظ The Defender’s Study Bible، ورڈ اشاعت خانہ، 1995، صفحہ 767). پس، حقیقی مطلب یہ نہیں ہے کہ یہودی لوگوں کو مار پڑی تھی، بلکہ اس کے بجائے اُن کی جگہ پر مسیح کو مار پڑی تھی، اُن کے گناہوں کے لیے، اُن کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے، اور ہمارے بھی۔ اُسے ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مصلوب کیا گیا تھا!

ڈاکٹر جان گِل نے کہا کہ یہ الفاظ ’’اور میرے لوگوں کے گناہوں کے سبب سے اُس پر مار پڑی،‘‘یہودی لوگوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں اور چُنیدہ مسیحیوں پر بھی – جو ظاہر کرتے ہیں کہ مسیح کو دونوں اسرائیل کے گناہوں اور ’’اُس کے لوگوں‘‘ جو مسیح ہیں کے گناہوں کے سبب سے مار پڑی (گِل، ibid.، صفحہ 314). میرے خیال سے ڈاکٹر گِل نے اُن الفاظ کے حقیقی معنی پیش کیے ہیں،

’’اور میرے لوگوں کے گناہوں کے سبب سے اُس پر مار پڑی‘‘
       (اشعیا 53:‏8).

مسیح کو صلیب پر مار پڑی تھی اُس [یسوع] کے لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے، وہ چاہے یہودی ہوتے یا غیر اقوام کے لوگ ہوتے۔ یسوع کی موت متبادل تھی، مسیح کا ہمارے گناہوں کے کفارے کے لیے مرنا۔ خُدا کے غُصے کو گنہگاروں سے پرے ہٹانے کے لیے، یہ رضاجوئی یا تشفی حاصل کرنا ہے،

لیکن اِس کی ایک شرط ہے۔ مسیح کے لیے کہ ہمارے گناہوں کا کفارہ مؤثر طریقے سے ادا کرے، ضرور ہے کہ آپ کو یسوع پر ایمان کے ساتھ بھروسہ کرنا ہوگا۔ صلیب پر مسیح کے گناہوں کے کفارے کی ادائیگی ایسے کسی شخص کو نہیں بچائے گی جو یسوع پر بھروسہ کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ یہ صرف اُسی وقت ہوتا ہے جب آپ اپنے آپ کو یسوع کے حوالے کر دیتے ہیں کہ خُدا کے پاس ریکارڈ میں سے آپ کے گناہ نجات دہندہ کے خُون سے دُھل جاتے ہیں۔

اِس آیت میں موجود تمام حقائق آپ جان سکتے ہیں اور پھر بھی گمشدہ رہتے ہیں۔ شیاطین کو اِن حقائق کی مکمل معلومات ہیں، لیکن یہ اُنہیں بچاتی نہیں ہے۔ یعقوب رسول نے کہا، ’’یہ تو شیاطین [بدروحیں] بھی مانتے ہیں، اور تھرتھراتے ہیں‘‘ (یعقوب 2:‏19). شیاطین کو مسیح کی تلافاتی موت کے بارے میں صرف ’’سرسری معلومات‘‘ ہیں۔ آپ کو اس سے بھی آگے بڑھنا ہوگا اگر آپ بچائے جانا چاہتے ہیں۔ آپ کو اصل میں خود کو مسیح کے حوالے کرنا چاہیے اور اُس پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ آپ خُدا کے فضل کے عمل سے تبدیل ہونا چاہیے، نہیں تو آپ یسوع کی صلیبی موت کے بارے میں یاد کی ہوئی اپنی سوچوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔

ڈاکٹر اے.ڈبلیو. ٹُوزر Dr. A. W. Tozer کو سنیئے جیسا کہ وہ ’’فیصلہ سازیت‘‘ کے خلاف، اور حقیقی تبدیلی کی حمایت میں بولتے ہیں۔ ڈاکٹر ٹُوزر نے کہا،

مذہبی تبدیلی کے مکمل معاملات میکینکی اور روح کے بغیر کیے گئے ہیں۔ ایمان شاید اب اخلاقی زندگی کو مدِنظر رکھے بغیر ، اور آدمیاتی انّا کو شرمندہ کیے بغیر بھی رکھا جاتا ہے۔ مسیح کو شاید اُسے قبول کرنے والے کی روح میں مخصوص پیار پیدا کیے بغیر بھی ’’قبول‘‘کیا جاتا ہے (اے.ڈبلیو.ٹُوزر، ڈی.ڈی.، اے.ڈبلیو.ٹُوزر کی بہترین The Best of A. W. Tozer، بیکر کتاب گھر، 1979، صفحہ 14).

’’ مذہبی تبدیلی کے مکمل معاملات میکینکی اور روح کے بغیر کیے گئے ہیں‘‘ – اور، میں مذید یہ ضرور کہوں گا کہ یہ اکثر غیر مسیحانہ ہوتا ہے! ’’فیصلہ ساز‘‘ آپ کو صرف ایک تیز دُعا پڑھانا چاہتے ہیں، بپتسمہ دینا چاہتے ہیں، اور اِس کام سے فارغ ہونا چاہتے ہیں۔ اکثر مسیح کی موت اور دوبارہ جی اُٹھنے کا تزکرہ شازونادر ہی ہوتا ہے۔ اکثر اِنہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے! جو بائبل ہمیں تعلیم دیتی ہےوہ یہ نہیں ہے۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ آپ کو اپنے گناہ کے جرم کا احساس کرنا چاہیے، اور یہ سمجھنا چاہیے کہ آپ کے پاس گناہ اور اُس کے اثرات سے بچنے کی اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہے کہ مسیح کے پاس آئیں، اپنے آپ کو لاچارگی سے اُس کے سامنے سرنگوں کریں، اور اپنی ذات کی انتہائی گہرائیوں سے اُس پر بھروسہ کریں۔ پھر اور صرف پھر، آپ تجربے کے ساتھ جان پائیں گے کہ اشعیا نبی کا مطلب کیا تھا جب اُس نے کہا،

’’اور میرے لوگوں کے گناہوں کے سبب سے اُس پر مار پڑی‘‘
       (اشعیا 53:‏8).

جب آپ ایمان کے وسیلے سے مسیح پر بھروسہ کرتے ہیں، تو یسوع کا خُون آپ کے تمام گناہ دھو ڈالتا ہے اور آپ مسیح میں تبدیل ہوجاتے ہیں – لیکن اِس سے پہلے یہ آپ کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ نہیں، اِس سے پہلے یہ کبھی نہیں ہو سکتا! اگر آپ نجات پانا چاہتے ہیں تو آپ کو یسوع مسیح پر ضرور بھروسہ کرنا چاہیے!

آئیے ہم اکٹھے کھڑے ہوں۔ اگر آپ یسوع پر بھروسہ کرنے کے بارے میں ہمارے سے بات کرنا چاہیں، تو مہربانی سے اپنی نشست ابھی چھوڑیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پُرسکون کمرے میں لے جائیں گے جہاں مسیح کے حوالے ہونے اور اُس کے پاک خون کے وسیلے سے اپنے گناہ کو پاک صاف ہو جانے کے بارے میں ہم آپ سے بات کر سکتے ہیں! مسٹر لی Mr. Lee، مہربانی سے آئیں اور اُن کے لیے دعا کریں جنہوں نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَینDr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: اشعیا 53:‏1۔8 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا
’’مقدس گناہ بخشنے والا Blessed Redeemer‘‘(شاعر ایویز بی. کرسچنسن
Avis B. Christiansen ).

لُبِ لُباب

کفّارے کی تفصیل

(اشعیا 53 باب پر واعظ نمبر 9 )
A DESCRIPTION OF THE ATONEMENT
(SERMON NUMBER 9 ON ISAIAH 53)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’گرفتار کر کے اور مجرم قرار دے کر وہ اُسے لے گئے۔ کون اُس کی نسل کا بیان کرے گا؟ کیونکہ وہ زندوں کی زمین میں سے کاٹ ڈالا گیا؛ اور میرے لوگوں کے گناہوں کے سبب اُس پر مار پڑی۔ ‘‘ (اشعیا 53:‏8).

(اشعیا 53:‏7)

1۔اوّل، تلاوتِ کلامِ پاک مسیح کے مصائب کی تفصیل پیش کرتی ہے،
اشعیا 53:‏8الف؛ متی 26:‏64، 66۔67؛ 27:‏1۔2، 26؛ اعمال 8:‏32۔

2۔ دوئم، تلاوتِ کلامِ پاک مسیح کی نسل کی تفصیل پیش کرتی ہے،
اشعیا 53:‏8ب؛ مرقس 15:‏19۔20؛ اعمال 13:‏28؛ 2۔تیموتاؤس 3:‏5؛
رومیوں 3:‏23 .

3۔ سوئم، تلاوتِ کلامِ پاک مسیح کے مصائب کے گہرے معنوں کو بیان کرتی ہے۔ ،
اشعیا 53:‏8ج؛ یعقوب 2:‏19 .