Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

یعقوب کی مصر کے لیے ہجرت

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 73 )
JACOB’S PILGRIMAGE TO EGYPT
(SERMON #73 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
3 مارچ، 2013، خُداوند کے دِن کی شام
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, March 3, 2013

یعقوب کے بیٹے خوراک خریدنے کے لیے مصر کے لیے چلے گئے تھے، کیونکہ کنعان کی سرزمین میں ایک عظیم قحط پڑا تھا۔ جب وہ وہاں تھے، اُن کی حیرت میں اضافے کے لیے اُنہوں نے پایا کہ اُن کا چھوٹا بھائی یوسف مصر کی تمام سرزمین پر گورنر بنایا جا چکا تھا۔ اُنہوں نے یوسف کو ایک غلام کی حیثیت سے بیچ ڈالا تھا، لیکن خُداوند خُدا اُس کے ساتھ تھا اور اُس نے اُسے انتہائی قوت کے ساتھ سرفراز کیا تھا۔ اب بھائی واپس آئے اور اُنہوں نے اپنے باپ یعقوب کو یہ خوشخبری سُنائی کہ یوسف ابھی تک زندہ تھا۔ شروع میں یعقوب نے اپنے بیٹوں کا یقین نہیں کیا تھا، لیکن جلد ہی اُنہوں نے اُسے قائل کرلیا کہ یہ سچ تھا، اور یعقوب نے کہا،

’’مجھے یقین ہوگیا؛ میرا بیٹا یوسف اب تک زندہ ہے: اب تو میں مرنے سے بیشتر اُسے جا کر دیکھ لوں گا‘‘ (پیدائش45:‏28)۔

یہ بات ہمیں ہماری آج شام کی تلاوت تک لے جاتی ہے۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور پیدائش 46:‏1۔4 کھولیں۔

’’تب اسرائیل اپنا سب کچھ لے کر روانہ ہوا اور جب وہ بیر سبع پہنچا تو اُس نے باپ اضحاق کے خُدا کے لیے قربانیاں گزرانیں۔ اور خُدا نے رات کو رویا میں اسرائیل کے ساتھ باتیں کیں اور کہا، اے یعقوب، اے یعقوب۔ اور اُس نے جواب دیا، میں حاضر ہوں۔ اور اُس نے کہا، میں خُدا تیرے باپ کا خُدا ہوں: مصر میں جانے سے نہ ڈر کیونکہ میں وہاں تجھ سے ایک بڑی قوم پیدا کروں گا۔ میں تیرے ساتھ مصر چلوں گا اور پھر وہاں سے تجھے یقیناً دوبارہ واپس بھی لے آؤں گا: اور (تیرے انتقال پر) یوسف کے اپنے ہاتھ تیری آنکھیں بند کریں گے‘‘ (پیدائش46:‏1۔4)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ مہربانی سے اپنی بائبل کو اِس جگہ سے کھلا ہی رہنے دیں۔

چالیس سال پہلے جب میں ایک انتہائی آزاد خیال سینمری میں پڑھائی کر رہا تھا، اُنہوں نے ہمیں بتایا کہ اُن آیات میں یعقوب اور اسرائیل کے نام آگے اور پیچھے ردوبدل ہو گئے تھے، کیونکہ اِنہیں مختلف مصنفین، یا ’’مُرّتب کرنے والوں‘‘ نے لکھا تھا۔ جو ’’ای‘‘ مصنف تھا وہ اُس ہمیشہ ’’یعقوب‘‘ کہتا تھا، جبکہ بعد میں مُرّتب کرنے والے ’’آر‘‘ نے ’’اسرائیل‘‘ کا نام ڈال دیا۔ میں نے اُن سے پوچھا، ’’آپ یہ کیسے جانتے ہیں؟‘‘ وہ کبھی بھی مجھے اپنے نظرئیے سے قائل کرنے کے قابل نہ ہو سکے تھے۔ ڈاکٹر ایچ۔ سی۔ لیوپولڈ Dr. H. C. Leupold، جولوتھرن تبصرہ نگار تھے، اُنہوں نے اِس آزاد خیال نظرئیے کو مسترد کر دیا تھا، اور کہا، ’’اِس قسم کی نازک چالوں سے تقریباً کچھ بھی ثابت کیا جا سکتا ہے‘‘ (ایچ۔ سی۔ لیوپولد، ڈی۔ڈی۔، پیدائش کا تبصرہ Exposition of Genesis ، بیکر کتاب گھرBaker Book House، اشاعت 1985، جلد دوئم، صفحہ 1106؛ پیدائش 46:‏1۔4 پر تبصرہ)۔

ڈاکٹر لیوپولڈ نے تجویز پیش کی تھی کہ دو ناموں کو جان بوجھ کراستعمال کیا گیا تھا – یعقوب ایک شخص کی طرف اشارے کے لیے، اور اسرائیل اُس کی نسل میں سے قوم کے لیے۔ یہ شاید دُرست بھی ہو سکتا ہو، لیکن مجھے یوں لگتا ہے کہ سپرجئین کی وضاحت ناموں کی آگے پیچھے تبدیلی کی مرکزی وجہ ہے۔ سپرجئین نے کہا کہ اُس کا ’’یعقوب‘‘ کا پرانا نام یہاں استعمال ہوا تھا جب وہ اخلاقی طور پر گر گیا تھا، اور اُس کا ’’اسرائیل‘‘ کا نیا نام اُس وقت استعمال ہوا تھا جب اُس میں نئی روح نے جنم لیا تھا، جیسا کہ ہم پیدائش 45:‏27 اور 28 میں دیکھتے ہیں: ’’... اُن کے باپ یعقوب کی جان میں جان آئی: اور اسرائیل نے کہا، مجھے یقین ہوگیا: میرا بیٹا یوسف اب تک زندہ ہے: اب تو میں مرنے سے بیشتر اُسے جا کر دیکھ لوں گا‘‘ (پیدائش 45:‏27، 28)۔ میں قائل ہو گیا ہوں کہ یہی نام کے بدلنے کے وضاحت کا طریقہ ہے۔ ’’یعقوب‘‘ کا مطلب ’’وہ شخص جوچکمے سے کسی کو ہٹا کر اُس کی جگہ لے لے۔‘‘ جب وہ اپنی پرانی فطرت سے متاثر ہو گیا تھا، خُداوند نے اُسے ’’یعقوب‘‘ بُلایا۔ لیکن جب اُس نے ’’حیات نو‘‘ پائی وہ اپنی نئی قدرت سے متاثر ہوا تھا، اور اِسی لیے ’’اسرائیل‘‘ کہلایا۔ یہ وضاحت کلام پاک کے لیے سچ ہے، اور یہ زندگی کے لیے سچ ہے – جیسا کہ ہر مسیحی تجربے سے یہ جانتا ہے۔ سپرجئین نے کہا، ’’’یعقوب‘ اُس کی پیدائشی قدرت کا نام تھا؛ ’اسرائیل‘ اُس کی نئی اور روحانی قدرت کا نام تھا‘‘ (سی۔ ایچ۔ سپرجئین، میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ Metropolitan Tabernacle Pulpit ، گنتی2، 116، صفحہ 1)۔ اپنی نئی قدرت میں، وہ ایمان کے ساتھ خُداوند کی فرمانبرداری کے لیے تیار تھا، اور اپنے بیٹے یوسف کے لیے مصر جانے کے لیے تیار تھا۔ لیکن اپنی پرانی قدرت میں وہ جانے کے لیے خوفزدہ تھا۔ اِس لیے خُداوند کو اُسے جانے سے پہلے تسلی دینی تھی۔ یوں ہم یعقوب کی مصر کے لیے ہجرت میں ایمان اور خوف کو دیکھیں گے۔ اِس وضاحت کے ساتھ، ہم فوراً تلاوت پر چلتے ہیں، جہاں ہم اپنی مسیحی زندگیوں میں مدد کے لیے دو عظیم سچائیوں کو جانتے ہیں۔

I۔ اوّل، ہم یعقوب کے ایمان کے بارے میں جانتے ہیں۔

جب یعقوب اور اُس کے خاندان نے یوسف کو ملنے کے لیے اپنے سفر کا آغاز کیا، وہ بیرسبع میں رُکے، جب کہ ابھی وہ کنعان کی سرزمین میں ہی تھے۔ وہ وہاں رُکے جبکہ یعقوب نے خُداوند کو قربانیاں گزرانیں۔ مہربانی سے کھڑے ہوں اور پیدائش 46:‏1 باآوازِ بُلند پڑھیں۔

’’تب اسرائیل اپنا سب کچھ لے کر روانہ ہوا اور جب وہ بیر سبع پہنچا تو اُس نے باپ اضحاق کے خُدا کے لیے قربانیاں گزرانیں‘‘ (پیدائش 46:‏1).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

آرتھر ڈبلیو۔ پنک Arthur W. Pink نے کہا، ’’یوں، اُس کے مصر کے لمبے سفر کو شروع کرنے کے بعد خُدا کے لیے قربانیوں کا گزراننا یعقوب کے ریکارڈ میں پہلی بات کا اندراج ہے۔ تجربوں کے سکول میں کئی سالوں کے نظم وضبط نے ... اُسے سیکھایا تھا کہ خُدا کو پہلا درجہ دے؛ [اِس سے پہلے کہ] وہ یوسف کو ملنے کے لیے آگے جاتا اُس نے اپنے باپ اضحاق کے خُدا کی عبادت کے لیے تاخیر نہ کی!‘‘ (پیدائش میں حصول Gleanings in Genesis، موڈی اشاعت خانہ Moody Press، اشاعت 1981، صفحہ 313)۔

شروع میں میرے اپنے مسیحی تجربے میں مَیں نے لوگوں کو کہتے سُنا کہ بعض باتوں کو کرنے کےلیے اُن کی ’’راہنمائی‘‘ پاک روح کے ذریعے سے ہوئی تھی، جیسے کہ کسی دوسرے گرجہ گھر کے لیے رُکنیت کا تبدیل کرنا۔ لیکن میں نے بار بار دیکھا، کہ اِس کا عام طور پر بُرا اثر ہوتا ہے۔ شروع میں مَیں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں کوئی یکدم تبدیلیاں نہیں کروں گا، اور کہ میں اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلوںمیں خُدا کو پہلے سامنے رکھوں گا۔ یہاں تک کہ اگر مجھے وہاں جہاں میں رہ رہا تھا، رہنے میں اچھا محسوس نہیں ہوتا تھا، میں اُس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں کروں گا جب تک کہ میرے گرجہ گھر کے میرے پادری، اور دوسرے مُقدّم مسیحی، جس کسی تبدیلی سے بھی میرا سامنا تھا اُس کے متعلق نصیحت نہ دیتے۔ حالانکہ یوں کرنا کبھی کبھی انتہائی دشوار گزار محسوس ہوتا تھا؛ میں خُود اپنی خواہشات اور محسوسات کی پیروی کرنے میں بہت زیادہ محتاط رہوں گا، اور خُدا کو پہلے سامنے رکھوں گا؛ اور ہمیشہ عبرانیوں 13:‏17 کے بارے میں سوچنے کے لیے ہمیشہ احتیاط کروں گا،

’’اپنے رہبروں کے فرمانبردار اور تابع رہو کیونکہ وہ تُم لوگوں کے رُوحانی فائدہ کے لیے بیدار رہ کر اپنی خدمت انجام دیتے ہیں۔ اُنہیں اِس خدمت کا حساب خدا کو دینا ہوگا۔ اگر وہ اپنا کام خُوشی سے کریں گے تو تمہیں فائدہ ہوگا لیکن اگر اُسے اپنے لیے تکلیف سمجھیں گے تو تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا‘‘ (عبرانیوں 13:‏17)،

اور 1۔ تسالونیکیوں 5:‏12، 13،

’’پیارے بھائیو! ہم تُم سے درخواست کرتے ہیں کہ اُن لوگوں [کی قدر کرو] کو جانو جو تمہارے درمیان سخت محنت کر رہے ہیں اور خداوند میں تمہارے [اوپر اختیار رکھتے ہیں] پیشوا ہیں اور تمہیں نصیحت کرتے ہیں۔ اُن کی خدمت کے سبب سے محبت کے ساتھ اُن کی خُوب عزت کرو اور آپس میں پیار اور محبت سے رہو‘‘ (1۔ تھسلنیکوں 5:‏12،‏13).

میں ہمیشہ اپنے پادری ڈاکٹر ٹموتھی لِنDr. Timothy Lin اور میرے مشیر اور گُرو ڈاکٹر مرفی لم Dr. Murphy Lum سے صلاح مشورہ لیتا تھا، جب مجھے زندگی کے بڑے فیصلوں کا سامنا ہوتا تھا۔ میں نے عزم کیا تھا کہ میں اُن کی صلاح پر چلوں گا بےشک وہ مجھے اُس وقت درست بھی نہ لگ رہی ہوتی تھی۔ ایسا کرنا بار بار ایک اچھی بات ثابت ہوتی رہی تھی۔ بائبل کہتی ہے،

’’اپنے پُورے دل سے خداوند پر اعتقاد رکھ اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر؛ اپنی سب روشوں میں اسےپہچان، اور وہ تیری راہیں ہموار کرے گا۔ تُو اپنی ہی نگاہ میں دانشمند نہ بن؛ خداوند سے ڈر اور بدی سے دُور رہ۔ اس سے تیرا جسم تندرست رہے گا اور تیری ہڈیاں تقویت پائیں گی۔ اَے میرے بیٹے! خداوند کی تربیت کو حقیر نہ جان اور اُس کی تنبیہہ کا بُرا نہ مان، کیونکہ خداوند جس سے محبت رکھتا ہے اُسے ملامت بھی کرتا ہے، جیسے باپ اُس بیٹےکی ملامت کرتا ہے جسے وہ عزیز رکھتا ہے۔ مبارک ہے وہ آدمی جو حکمت پاتا ہے، اور وہ جو دانش حاصل کرتا ہے‘‘ (امثال 3:‏5۔8،‏11۔13).

یعقوب کے ایمان نے بیرسبع کے مقام پر خُدا کے لیے قربانی گزراننے اور اُسے رُکنے کے لیے رہنمائی کی تھی، اور جیسا کہ اُس نے کیا، خُدا نے اپنی کامل مرضی اُس پر واضح کر دی تھی، حالانکہ شروع میں یعقوب اُس کی فرمانبرداری کے لیے خوفزدہ تھا۔

حیرت کی بات ہے، کہ جس وقت میں یہ لکھ رہا تھا، اتفاق سے مجھے اپنی میز پر سے ایک چھوٹی سے کتاب اُٹھانے کا موقع ملا جس کا میں سوچتا ہوں کہ اِس واعظ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ صفحہ 17 پر گر کر کُھل گئی تھی اور میں نے ایک بوڑھے مغربی پادری کی ایک صلاح پڑھی جو سالوں پہلے لکھی گئی تھی – اُس کے مرنے سے پہلے۔ ڈاکٹر ڈبلیو۔ حرشل فورڈ Dr. W. Herschel Ford نے کہا،

      امثال3:6 وضاحت کرتی ہے کہ راہنمائی، ’’اپنی سب روشوں میں اُسے پہچان اور وہ تیری راہیں ہموار کرے گا۔‘‘ میں یہ ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جب میں نے اُس کی قیادت کی پیروی کی میں نے سکون اور فتح پائی ہے۔ جب میں نے اُس کی پیروی کرنے سے انکار کیا میں نے دُکھ اور شکست پائی۔
      آج یہاں بہت سے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ فرض کریں کہ آپ کو کسی اور شہر میں ملازمت ملتی ہے جس میں تنخواہ میں معقول اضافہ ہے۔ تو کیا آپ اُس نئی نوکری کو قبول کرنے میں جلد بازی کریں گے یا خُداوند کی مرضی کا انتظار کریں گے؟ آپ کی تعلیم یا آپ کے بچوں کے بارے میں فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنکے یا آپ کے لیے کون سا سکول بہتر ہے؟ بچوں کے بارے میں فیصلے کرنے ہیں۔ آپ کو اُنہیں کتنی آزادی دینی چاہیے، آپ کو اُن پر کتنی پابندی عائد کرنی چاہیے؟ نئے گھر یا نئی گاڑی کے بارے میں فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔ اچھا تو پھر، وہ عظیم راہیں ہموار کرنے والا التوا میں ڈال دیا جاتا ہے .... ہم خُداوند خُدا سے آگے بھاگنے کی کرتے ہیں، ہم اپنی شان و شوکت اور کامیابی خود ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم اپنی راہ پر چلتے ہیں۔ اور اکثر اوقات ہمارا اختتام ٹوٹے ہوئے دِل کے ساتھ ہوتا ہے (ڈبلیو۔ حرشل فورڈ، ڈی۔ڈی۔، زندگی اور زندگی گزارنے پر سادہ سے واعظ Simple Sermons on life and Living، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، اشاعت ‏1971، صفحات 17، 18)۔

میں نےکہا تھا وہ ’’حیران کُن‘‘ تھا کہ میں نے وہ کتاب اُٹھائی تھی اور وہ اُس صفحہ پر کھل کر گر گئی تھی، بالکل جب میں یہ لکھ رہا تھا۔ میں اِس قسم کی باتوں میں کوئی ایسا یقین کرنے والا نہیں ہوں، لیکن میں یہ ضرور سوچتا ہوں کہ خُدا نے میری توجہ اُن صفحات کی جانب کروائی تھی تاکہ آپ ڈاکٹر فورڈ کی نصیحت سُن سکتے۔ وہ اہم بات جو اُنہوں نے کہی انتظار کرنا تھا، زندگی کے فیصلے اپنانے میں جلد بازی کرنا نہیں تھا۔ اُنہوں نے کہا، ’’راہیں ہموار کرنے والی عظیم ہستی کو التوا میں رکھتے ہیں۔‘‘ اور میں اِس میں اضافہ کروں گا کہ اپنے پادری کی نصیحت کو کھوجنے کی حکمت، اور اپنے گرجہ گھر میں بوڑھے میسحی راہنماؤں کو التوا میں رکھتے ہیں۔ میں آپ کے مقامی گرجہ گھر سے باہر کسی رہنماؤں کے لیے نہیں جاؤں گا۔ کچھ مبشر آپ کی پریشانی کو استعمال کریں گے کہ آپ کو اپنے گرجہ گھر میں لانے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کریں، جو کہ انتہائی غیر اخلاقی ہے۔ اِس کے علاوہ، صرف خود آپ کے اپنے گرجہ گھر کے رہنماؤں کو ہی آپ کے ضروریات کی مکمل تفضیل معلوم ہوتی ہے۔ یعقوب بیرسبع پر رُکا تھا، خُداوند خُدا کو قربانیاں گزرانی تھیں، اور اُس کی راہنمائی کے لیے انتظار کیا۔ وہ یعقوب کا ایمان تھا!

II۔ دوئم، ہمیں یعقوب کے خوف کے بارے میں پتا چلتا ہے۔

اب ہم اِس وجہ کو دریافت کرتے ہیں کہ یعقوب مصر کے لیے اپنی ہجرت پر رُکا تھا۔ وہ بیرسبع پر ہچکچایا تھا کیونکہ وہ خوفزدہ تھا۔ آیت تین میں ہم پڑھتے ہیں کہ خُدا نے اُس سے کہا، ’’مصر جانے کے لیے خوف مت کر‘‘ (پیدائش46:‏3)۔ وہ بیرسبع پر قربانیاں گزراننے کے لیے ٹھہرا تھا کیونکہ وہ مصر جانے کے لیے خوفزدہ تھا، اور اُس نے خُدا کی مرضی اُس پر واضح ہونے کے لیے انتظار کیا تھا۔

سپرجئین نے کہا کہ یعقوب بیرسبع پر رُکا تھا اور خُدا کے لیے قربانیاں گزرانی تھیں خُدا سے یہ جاننے کی کوشش کرنے کے لیے کہ آیا اُسے واقعی مصرکے لیے جانا چاہیے۔ میں جانتا ہوں کہ سرکش لوگ کسی کو بھی جو ہچکچاتے ہیں اور غلط ہونے کے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں نیچا دکھاتے ہیں ۔ اسی لیے اِس قدر کُھلی باتیں کرنے والے مسیحی غلطیوں میں اُلجھ جاتے ہیں جن سے وہ کبھی بھی باہر نہیں نکل پاتے۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ اُن کی مانند نہ بنیں۔ سپرجئین نے کہا، ’’خُداوند خُدا اپنے بچوں میں درست ہونے کے لیے بیتابی دیکھنے سے پیار کرتا ہے کیونکہ وہ تشویش اُن کی درست رہنمائی میں ایک بہت بڑا مقام ہے ... ہم احتیاط سے بھرپور بنائے گئے ہیں: معاملات کو مقدس مقام کے ترازو میں تولنے کے لیے ہماری مدد کی جاتی ہے، اور پھر ہمارا اطمینان بخش [جذبات سے خالی]، پُرسکون فیصلہ اپنا ارادہ بناتا ہے، اور ہم وہ راستہ چُنتے ہیں جو خُدا کے جلال کے لیے سب سے اچھا ہوتا ہے‘‘ (میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ Metropolitan Tabernacle Pulpit، جلد 35ِ، واعظ نمبر2، 116،صفحہ 639)۔

یعقوب کا خوف قدرتی تھا کیونکہ وہ ایک بوڑھا آدمی تھا۔ بوڑھے لوگوں کو تبدیلیاں کرنا پسند نہیں ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ وہ جو ابھی تک نوجوان ہیں اُن کے مقابلے میں زیادہ بالغ عمر کے لوگ کم غلطیاں کرتے ہیں۔ اور یہ ہی اہم وجوہات میں سے ایک ہے کہ نوجوان لوگوں کو اُن سے جو اُن کے مقامی گرجہ گھر میں بوڑھے مسیحی ہیں مشاورت کرنی چاہیے۔ جب آپ اپنے گرجہ گھر کے بزرگوں سے مشورہ کرتے ہیں اور اُن کی نصیحت پر دھیان دیتے ہیں تو آپ کوئی غلطی کرنے سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔

پھر بھی، یعقوب بلا شک و شبہ مصر جانے کے لیے خوفزدہ تھا کیونکہ اُسے یاد تھا کہ خُدا نے اُس کے دادا ابراھام سے کیا کہا تھا۔ یعقوب نے سوچنا شروع کردیا تھا کہ ایک سو سال پہلے مصر ہی شاید وہ سرزمین تھی جو ابراھام کے لیے ’’بہت بڑی ہولناک تاریکی‘‘ کے ایک تجربے کا سبب بنی تھی (پیدائش 15:‏12)۔ اِس لیے اُس نے مصر میں جانےکے لیے ہچکچاہٹ کی تھی کیونکہ اُسے خوف تھا کہ کہیں اُس کی آل اولاد وہاں پر چار سو سالوں کےلیے کسی بیماری کے زیر اثر نہ آ جائے۔

اِس کے علاوہ، یعقوب نے بلا شک و شبہ خوف کیا تھا کہ مصر میں اُس کے خاندان کو بہت سی نئی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جب لوگ اپنے بچوں کو ایک دیہات سے ایک بہت برے شہر میں لے کر جاتے ہیں تو وہ اکثر ایک خوف محسوس کرتے ہیں، کیونکہ کوئی سا بھی بڑا شہر بہت بڑی بڑی آزمائشوں کی جگہ ہوتا ہے۔ اور اِس کے باوجود مجھے یاد ہے کہ کیا اُس عظیم مشنری سی۔ ٹی۔ سٹڈ C. T. Studd نے کہا، ’’واحد محفوظ ترین جگہ وہ ہوتی ہے، جہاں خُدا کی مرضی ہوتی ہے۔‘‘ جب خُدا نے یعقوب سے کہا، ’’مصر جانےکے لیے خوف مت کر‘‘ وہ وہاں ایمان سے گیا تھا۔ اور مصر ہی رہنے کے لیے واحد محفوط ترین جگہ تھی، کیونکہ یعقوب اور اُس کے خاندان کے وہاں ہونے کے لیے یہی خُدا کی مرضی تھی۔

مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ کیسے میں نے لاس اینجلز میں اپنا آبائی گرجہ گھر چھوڑا تھا، اور سان فرانسسکو میں ایک انتہائی آزاد خیال سیمنری کے لیے چلا گیا تھا۔ میں انتہائی خوف کے ساتھ گیا تھا، کیونکہ میں پہلے سے ہی جانتا تھا کہ اُس دور میں گولڈن گیٹ علم الہٰیات کی سیمنری کس قدر آزاد خیال اور بے اعتقادی تھی۔ لیکن میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ میں ایک زیادہ قدامت پسند سیمنری کے لیے جاتا۔ میرے پادری نے لاس اینجلز میں اُس آزاد خیال سیمنری میں جانے کے لیے کہا تھا۔ اُنہوں نے مجھے کہا تھا کہ وہ مجھے نقصان نہیں پہنچائے گی۔ ایک طرح سے وہ درست تھے۔ اُس نے تقریباً مجھے تباہ کر دیا تھا، لیکن اُس نے مجھے ’’نقصان‘‘ نہیں پہنچایا تھا! میں وہ مبلغ نہ ہوتا جو آج میں ہوں اگر میں وہاں نہ گیا ہوتا۔ میں کسی اور نوجوان آدمی کو آزاد خیال سیمنری میں جانے کے لیے تجویز نہیں کروں گا۔ لیکن وہ میرے جانے کے لیے بالکل درست جگہ تھی!

خُداوند خُدا نے یعقوب سے کہا، ’’میں تیرے ساتھ مصر چلوں گا اور پھر وہاں سے تجھے یقیناً دوبارہ واپس بھی لے آؤں گا: اور (تیرے انتقال پر) یوسف کے اپنے ہاتھ تیری آنکھیں بند کریں گے‘‘ (پیدائش 46:‏4)۔ یہی بالکل تھا جو خُداوند خُدا نے میرے لیے کیا۔ وہ میرے ساتھ آزاد خیال، بےدین سیمنری میں گیا، اور وہ یقیناً مجھے وہاںسے دوبارہ واپس بھی لے آیا! وہ سیمنری میرا مصر اور میرا گتسمنی تھی۔ لیکن خُداوند خُدا مجھے اِس میں سے گزار کر لے گیا، اور اُس تجربے سے مجھے قوت بخش کیا۔ ایک پرانا گیت اِسے بخوبی نبھاتا ہے!

’’بھروسے کے لیے جس جان پر یسوع نے اعتماد کیا،
   میں نہیں کروں گا، میں نہیں کروں گا، اُسے دشمنوں کے لیے تنہا؛
وہ جان، بے شک ساری جہنم اُسے لرزانے کے لیے کوشش کر لے،
   میں کبھی بھی نہیں، کبھی نہیں، کبھی بھی نہیں ساتھ چھوڑوں گا!

جب گہرے پانیوں میں سے گزرنے کے لیے میں تجھے بُلاتا ہوں،
   تو اُداسیوں کے دریائے لبریز نہیں ہونے چاہئیں؛
کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوؤں گا، تیری آزمائشوں کو برکت دینے کے لیے،
   اور تیری شدید ترین پریشانیوں میں تجھے پاک کروں گا۔

جب شدید آزمائیشوں کے راستے سے تو گزرے گا،
   میرا فضل مکمل طور پر تیری ڈھال ہوگا؛
کہ شعلے تجھے نقصان نہیں پہنچائیں؛ میں نے واحد تدبیر کی ہے
   تیری گندگی کو ہڑپنے کے لیے، اور تیرے سونے کو کُندن بننے کے لیے۔‘‘
(کیسی مضبوط ایک بنیاد How Firm a Foundation،‘‘ حمدوثنا کے گیتوں کی ریِپون کی
       سلیکشن میں ’’K‘‘ “K” in Rippon’s Selection of Hymns‏، 1787)۔

لیکن اِس حوالے کا ایک دوسرا اطلاق بھی ہے جو میں آپ کو پیش کرنا چاہتا ہوں۔ آپ میں سے کچھ یسوع کے پاس آنے کے لیے خوفزدہ ہیں۔ آپ کونجات دہندہ پر بھروسہ کرنے کا ایک خوف ہے۔ مجھے آپ کوشدید ممکن ترین شرائط میں کہہ لینے دیجیے – کہ خوف شیطان سے ہوتا ہے! یہ خُدا کی طرف سے نہیں ہوتا ہے؛ یہ ایک آسیبی خوف ہوتا ہے، آپ کو قید اور غلامی میں رکھنے کے لیے شیطان کی طرف سے بھیجا ہوا! خُداوند خُدا نے یعقوب سے کہا، ’’مصر میں جانے سے خوف مت کر ... ‘‘ (پیدائش46:‏3)۔ گناہ کے تحت سزایابی میں جانے کے لیے خوف مت کریں۔ اپنے دِلوں کو وہاں جانے دیجیے، اور دیکھیں کے آپ کے دِل میں گناہ اصلی مصر کا اخلاقی زوال ہے۔

اور یسوع نجات دہندہ کے پاس جانے کے لیے خوف مت کریں۔ یاد رکھیں کہ یوسف یسوع کی تشبیہہ ہے! خُدا آپ کے ساتھ سزایابی کے لیے جائے گا۔ خُداوند آپ کے ساتھ یسوع ہمارے یوسف کے لیے جائے گا، اور خُداوند آپ کو دوبارہ گناہ میں سے نکال کر لے آئے گا! مہربانی سے کھڑے ہو جائیے اور آیت تین اور چار پڑھیں۔

’’اُس نے کہا، میں خُدا تیرے باپ کا خُدا ہوں: مصر میں جانے سے نہ ڈر کیونکہ میں وہاں تجھ سے ایک بڑی قوم پیدا کروں گا۔ میں تیرے ساتھ مصر چلوں گا اور پھر وہاں سے تجھے یقیناً دوبارہ واپس بھی لے آؤں گا: اور (تیرے انتقال پر) یوسف کے اپنے ہاتھ تیری آنکھیں بند کریں گے‘‘ پیدائش 46:‏3،‏4).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ میں تیرے ساتھ مصر چلوں گا اور پھر وہاں سے تجھے یقیناً دوبارہ واپس بھی لے آؤں گا: اور (تیرے انتقال پر) یوسف کے اپنے ہاتھ تیری آنکھیں بند کریں گے‘‘! یوسف یعقوب کی آنکھوں پر اُس کے موت کے وقت اُنہیں بند کرنے کے لیے اپنے ہاتھ رکھے گا۔ لیکن یسوع، ہمارا یوسف، آپ کی آنکھوں پر اپنے ہاتھ رکھے گا اور آپ ایمان کی آنکھ سے دیکھیں گے! ’’خوف مت کریں‘‘ – کیونکہ یسوع آپ کو آپ کے گناہوں سے بچائے گا! خُدا آپ سے آج رات کہہ رہا ہے،

’’ بھروسے کے لیے جس جان پر یسوع نے اعتماد کیا،
   میں نہیں کروں گا، میں نہیں کروں گا، اُسے دشمنوں کے لیے تنہا؛
وہ جان، بے شک ساری جہنم اُسے لرزانے کے لیے کوشش کر لے،
   میں کبھی بھی نہیں، کبھی نہیں، کبھی بھی نہیں ساتھ چھوڑوں گا!‘‘

یسوع کے پاس ایمان کے ساتھ آئیں۔ خوف کرنے کے لیے وہاں بالکل کچھ بھی نہیں ہے – کچھ بھی خوف کرنے کے لیے نہیں ہے!

’’مسیح یسُوع گنہگاروں کو نجات دینےک کے لیے دُنیا میں آیا‘‘
       (1۔ تیموتاؤس 1:‏15).

ہم کس قدر دعا کرتے ہیں کہ آپ ابھی اُس پر بھروسہ کریں، بالکل آج ہی کی رات!

’’میں تیرے ساتھ مصر چلوں گا اور پھر وہاں سے تجھے یقیناً دوبارہ واپس بھی لے آؤں گا: اور (تیرے انتقال پر) یوسف کے اپنے ہاتھ تیری آنکھیں بند کریں گے‘‘ (پیدائش 46:‏4).

اگر آپ اپنی نجات کے بارے میں ہمارے ساتھ بات چیت کرنا چاہیں، تو مہربانی سے اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پُرسکون مقام پر لے جائیں گے جہاں ہم آپ سے یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے بات چیت کر سکتے ہیں تب تک مسٹر گریفتھ گاتے ہیں، ’’کیسی مضبوط ایک بنیاد How Firm a Foundation۔‘‘

’’بھروسے کے لیے جس جان پر یسوع نے اعتماد کیا،
   میں نہیں کروں گا، میں نہیں کروں گا، اُسے دشمنوں کے لیے تنہا؛
وہ جان، بے شک ساری جہنم اُسے لرزانے کے لیے کوشش کر لے،
   میں کبھی بھی نہیں، کبھی نہیں، کبھی بھی نہیں ساتھ چھوڑوں گا!

جب گہرے پانیوں میں سے گزرنے کے لیے میں تجھے بُلاتا ہوں،
   تو اُداسیوں کے دریائے لبریز نہیں ہونے چاہئیں؛
کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوؤں گا، تیری آزمائشوں کو برکت دینے کے لیے،
   اور تیری شدید ترین پریشانیوں میں تجھے پاک کروں گا۔

جب شدید آزمائیشوں کے راستے سے تو گزرے گا،
   میرا فضل مکمل طور پر تیری ڈھال ہوگا؛
کہ شعلے تجھے نقصان نہیں پہنچائیں؛ میں نے واحد تدبیر کی ہے
   تیری گندگی کو ہڑپنے کے لیے، اور تیرے سونے کو کُندن بننے کے لیے۔‘‘

ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے آئیں اور اُن کے لیے دعا مانگیں جنہوں نے ردعمل کا اظہار کیا۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: پیدائش 45:‏25۔46:‏4۔
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’کیسی مضبوط ایک بنیاد How Firm a Foundation‘‘ (حمدوثنا کے گیتوں کی ریِپون کی
سلیکشن میں ’’K‘‘ “K” in Rippon’s Selection of Hymns، ‏1787)۔

لُبِ لُباب

یعقوب کی مصر کے لیے ہجرت

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 73 )
JACOB’S PILGRIMAGE TO EGYPT
(SERMON #73 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’تب اسرائیل اپنا سب کچھ لے کر روانہ ہوا اور جب وہ بیر سبع پہنچا تو اُس نے باپ اضحاق کے خُدا کے لیے قربانیاں گزرانیں۔ اور خُدا نے رات کو رویا میں اسرائیل کے ساتھ باتیں کیں اور کہا، اے یعقوب، اے یعقوب۔ اور اُس نے جواب دیا، میں حاضر ہوں۔ اور اُس نے کہا، میں خُدا تیرے باپ کا خُدا ہوں: مصر میں جانے سے نہ ڈر کیونکہ میں وہاں تجھ سے ایک بڑی قوم پیدا کروں گا۔ میں تیرے ساتھ مصر چلوں گا اور پھر وہاں سے تجھے یقیناً دوبارہ واپس بھی لے آؤں گا: اور (تیرے انتقال پر) یوسف کے اپنے ہاتھ تیری آنکھیں بند کریں گے‘‘ (پیدائش46:‏1۔4)۔

(پیدائش45:‏27، 28)

I۔   اوّل، ہم یعقوب کے ایمان کے بارے میں سیکھتے ہیں، پیدائش 46:‏1؛ عبرانیوں13:‏17؛
1۔تسالونیکیوں 5:‏12، 13؛ امثال 3:‏5۔8، 11۔13 .

II۔  دوئم، ہم یعقوب کے خوف کے بارے میں سیکھتے ہیں، پیدائش46:‏3؛ 15:12؛ 46:‏4؛
1۔تیموتاؤس 1:15 .