Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسترد کردہ پیغام

(اشعیا 53 باب پر واعظ نمبر 2)
THE REJECTED REPORT
(SERMON NUMBER 2 ON ISAIAH 53)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
3 مارچ، 2013 ، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, March 3, 2013

’’ہمارے پیغام پر کون ایمان لایااور خُداوند کا بازو کس پر ظاہر ہوا؟‘‘ (اشعیا 53:‏1).

اشعیا مسیح کی انجیل کے بارے میں بول رہا ہے۔ گذشتہ اِتوار میں نے باب نمبر 52 کی آخری تین آیات میں سے تبلیغ کی تھی، جہاں نبی نے مسیح کے مصائب کی پیشن گوئی کی تھی، جہاں اُس کی ’’شکل و صورت بگڑ کے آدمیوں کی سی نہ رہ گئی تھی‘‘ (اشعیا 52:‏14)۔ یہ یسوع کی ایک تصویر ہے، ہمارے گناہوں کے لیے مار کھایا ہوا اور مصلوب کیا گیا، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، ’’اعلٰی و ارفع اور عزت بخشنے والا، اور … بہت اوج پائے گا‘‘ (اشعیا 52:‏13)۔ لیکن اب، ہمارے کلام میں، نبی اس حقیقت پر نوحہ کرتا ہے کہ بہت کم انجیل کے اس پیغام پر یقین کریں گے۔

ڈاکٹر ایڈورڈ جے۔ یَنگ Dr. Edward J. Young عہدِ عتیق کے ایک عالم تھے، مجھ سے پہلے پادری ڈاکٹر ٹِیموتھی لِن Dr. Timothy Lin کے ہم جماعت اور دوست۔ ہمارے کلام پر تبصرہ کرتے ہیں،

’’ہمارے پیغام پر کون ایمان لایااور خُداوند کا بازو کس پر ظاہر ہوا،‘‘

ڈاکٹر یَنگ نے کہا کہ یہ، ’’سوال سے زیادہ ایک پکار ہے۔ یہ منفی جواب کا تقاضا نہیں کر رہا ہے، لیکن یہ دُنیا میں سچا مذہبی عقیدہ رکھنے والی [کم تعداد] کو توجہ دلانے کے لیے سادگی سے بنایا گیا ہے … نبی اپنے لوگوں کا نمائیندہ [ہے]، بول رہا ہے اور افسردگی کا اظہار کر رہا ہے کہ بہت کم ایمان رکھتے ہیں‘‘ (ایڈورڈ جے۔ یَنگ، پی ایچ۔ ڈی۔، اشعیا کی کتاب The Book of Isaiah، ولیم بی۔ عیردمانز اشاعتی کمپنی، 1972، جلد 3 صفحہ 240).

’’ہمارے پیغام پر کون ایمان لایااور خُداوند کا بازو کس پر ظاہر ہوا،‘‘

لفظ ’’پیغام‘‘ کے معنی ہیں ’’بات جو سنی گئی‘‘ یا عوام میں اعلان کیا ہوا پیغام۔‘‘ لوتھر Luther نے اِس کا ترجمہ ایسے کیا ’’ ہماری تبلیغ‘‘ (یَنگ، ibid.)۔ ’’ کس نے ہماری تبلیغ پر یقین کیا ہے؟‘‘ کلام میں اِس کے متوازی اظہار ہے، ’’اور خُداوند کا بازو کس پر ظاہر ہوا؟‘‘ ’’خُداوند کا بازو‘‘ ایک مقولہ ہے جو خُداوند کی قوت کا حوالہ دیتا ہے۔ کس نے ہماری تبلیغ پر یقین کیا ہے؟ اور خُداوند کا بازو کس پر ظاہر ہوا؟ کس سے مسیح کی بچانے کی قوت ظاہر کی گئی ہے؟

’’ہمارے پیغام پر کون ایمان لایااور خُداوند کا بازو کس پر ظاہر ہوا؟‘‘
       (اشعیا 53:‏1).

یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ آپ کو پہلے انجیل کی تبلیغ پر یقین کرنا چاہیے، اور پھر مسیح میں خُداوند کی قوت کے وسیلے سے تبدیل ہوں۔ اور اِس کے باوجود نبی کا سوال وہی ظاہر کر رہا ہے کہ بہت کم یقین کریں گے اور تبدیل ہونگے۔

’’ہمارے پیغام پر کون ایمان لایااور خُداوند کا بازو کس پر ظاہر ہوا؟‘‘
       (اشعیا 53:‏1).

1۔ اوّل، بہت کم نے یقین کیا اور مسیح کی زمینی منادی کے دوران تبدیل ہوئے۔

یسوع لعزر کی قبر پر آیا تھا۔ وہ آدمی چار دِنوں سے مردہ پڑا تھا۔ یسوع نے اُن سے کہا، ’’ پتھر کو ہٹا دو‘‘ (یوحنا 11:‏39)۔ لعزر کی بہن اُس کو رُکنا چاہتی تھی۔ اُس نے کہا، ’’اے خُداوند اس میں سے تو بدبو آنےلگی ہے کیونکہ اُسے قبر میں چار دن ہو گئے ہیں‘‘ (ibid.)۔ لیکن اُنہوں نے یسوع کی فرمانبرداری کی اور وہ پتھر ہٹا دیا جس نے قبر کا منہ ڈھانپا ہوا تھا۔ پھر یسوع ’’نے بلند آواز سے پکارا ، اے لعزر، باہر آجا۔ اور وہ مردہ لعزر باہر نکل آیا، اُس کے ہاتھ اور پاؤں کفن سے بندھے ہوئے تھے اور چہرے پر ایک رومال لپٹا ہوا تھا۔ یسوع نے اُن سے کہا ، اسے کھول دو اور جانے دو‘‘ (یوحنا 11:‏43۔44)۔

’’تب سردار کاہنوں اور فریسیوں نے عدالتِ عالیہ کا اِجلاس طلب کیا اور کہنے لگے، ہم کیا کر رہے ہیں؟ [ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟] یہ آدمی تو یہاں معجزوں پر معجزے کیے جارہا ہے‘‘ (یوحنا 11:‏47)۔

اُنہوں نے دیکھا کہ کس قدر معجزات اُس نے کیے، اور خوفزدہ تھے کہ تمام عام لوگ اُن کے بجائے اُس[یسوع] کی پیروی کریں گے۔

’’پس اُنہوں نے اُس دِن سے یسوع کے قتل کا منصوبہ بنانا شروع کردیا‘‘
       (یوحنا 11:‏53)۔

سردار کاہنوں اور فریسیوں نے مل کر اجلاس منعقد کرنے شروع کردیے تاکہ یسوع سے چھٹکارا پانے کا بہترین طریقہ دریافت کر سکیں، ’’اُس کو قتل کرنے کا منصوبہ۔‘‘ یوحنا رسول نے کہا،

’’اگرچہ یسوع نے اُن کے درمیان اتنے معجزے دکھائے تھےپھر بھی وہ اُس پر ایمان نہ لائے: تاکہ یسعیاہ [اشعیا] نبی کا کہا پورا ہو ، اے خُداوند، ہمارے پیغام پر کون ایمان لایا اور خُداوند کی قوت کس پر ظاہر ہوئی؟‘‘ (یوحنا 12:‏37۔38)۔

انہوں نے اُسے[یسوع کو] معجزاتی طور پر پانچ ہزار کو کھانا کھلاتے دیکھا۔ اُنہوں نے اُسے کوڑھیوں کو شفا دیتے اور اندھوں کو بینائی دیتے ہوئے دیکھا۔ اُنہوں نے اُسے بدروحوں کو نکالتے، اور مفلوج کو تندرست و توانا صحت کے ساتھ اُٹھتے دیکھا۔ اُنہوں نے اُسے ایک بیوہ کے بیٹے کو مردوں میں سے زندہ کرتے ہوئے دیکھا۔ اُنہوں نے اُس کو پانی کو مَے میں بدلتے ہوئے ہی صرف نہیں دیکھا بلکہ اُس کو سُنا بھی تھا۔

اُن کے عبادت خانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری سناتا تھا اور لوگوں کو اُن کی ہر بیماری اور ہر تکلیف سے نجات دیتا تھا‘‘ (متی 9:‏35)۔

اور اِس کے باوجود، جب اُس نے لعزر کو مردوں میں سے زندہ کیا، ’’اُنہوں نے اُس دِن سے یسوع کے قتل کا منصوبہ بنانا شروع کردیا‘‘ (یوحنا 11:‏53)۔

’’اگرچہ یسوع نے اُن کے درمیان اتنے معجزے دکھائے تھےپھر بھی وہ اُس پر ایمان نہ لائے: تاکہ یسعیاہ [اشعیا] نبی کا کہا پورا ہو ، اے خُداوند، ہمارے پیغام پر کون ایمان لایا اور خُداوند کی قوت کس پر ظاہر ہوئی؟‘‘ (یوحنا 12:‏37۔38)۔

جی ہاں، بہت کم لوگوں نے یقین کیا اور مسیح کی زمین پر منادی کے دوران تبدیل ہوئے تھے۔

2۔ دوئم، رسولوں کے زمانے کے دوران بہت کم نے یقین کیا اور تبدیل ہوئے تھے۔

مہربانی سے رومیوں 10:‏11۔16 کھولیئے۔ آیئے کھڑے ہوئیں اور اس عظیم حوالے کو پڑھیں۔

’’چناچہ پاک کلام یہ کہتا ہے کہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے گا وہ کبھی شرمندہ نہ ہوگا۔ کیونکہ یہودی اور غیر یہودی میں کوئی فرق نہیں اِس لیے کہ ایک وہی سب کا خُداوند ہے اور سب کو جو اُس کا نام لیتے ہیں کثرت سے فیض پہنچاتا ہے۔جو کوئی خُداوند کا نام لے گا نجات پائے گا۔ مگر جس پر وہ ایمان نہیں لائےاُسے پکاریں گے کیسے؟ جس کا ذکر تک اُنہوں نے نہیں سُنا اُس پر ایمان کیسے لائیں اور جب تک کوئی اُنہیں خوشخبری نہ سُنائے وہ کیسے سنیں گے۔ اور جب تک وہ بھیجے نہ جائیں خوشخبری کیسے سنائیں گے؟ چناچہ لکھا ہے، کہ اُن کے قدم کیسے خوشنما ہیں جو اچھی چیزوں کی خوشخبری لاتے ہیں! لیکن سب نے اُس خوشخبری پر کان نہیں دھرا۔ چناچہ یسعیاہ [اشعیا] کہتا ہے، خُداوند، ہمارے پیغام کا کس نے یقین کیا؟’’ (رومیوں 10:‏11۔16)۔

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

غور کریں کہ کلام کا یہ حوالہ 12 آیت میں کہتا ہے،

’’کیونکہ یہودی اور غیر یہودی میں کوئی فرق نہیں: اِس لیے کہ ایک وہی سب کا خُداوند ہے اور سب کو جو اُس کا نام لیتے ہیں کثرت سے فیض پہنچاتا ہے‘‘ (رومیوں 10:‏12).

یسوع کے اوپر آسمان پر جانے کے بعد تیس 30 سال سے تھوڑا کم عرصہ پہلے یہ پولوس رسول کی طرف سے لکھا گیا تھا۔ یوں پولوس نے اعمال کی کتاب کے بعد کے حصے کے دوران رومیوں کی کتاب لکھی تھی۔ وہ دونوں یہودیوں اور غیر یہودیوں سے مخاطب تھا، جبکہ یسوع نے لگ بھگ بلخصوص یہودیوں سے بات چیت کی تھی۔ پولوس کہتا ہے، ’’یہودیوں اور یونانیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔‘‘ تمام انسانوں کو مسیح کی ضرورت ہے!

اور اُس وقت تک، پولوس نے اپنے زیادہ تر غیر یہودی سامعین کو وہی باتیں کہی تھیں جو یسوع نے کہی تھیں، اشعیا 53:‏1 سے حوالہ دیتے ہوئے، اس حقیقت پر افسردہ ہوتے ہوئے کہ نسبتاً کم تعداد میں صرف غیر یہودیوں نے یقین کیا – اور اشعیا 53:‏1 کا حوالہ دیتے ہوئے ظاہر کیا کہ نبی نے کہا تھا، کہ اکثر غیر یہودی خوشخبری کی طرف صرف تھوڑا سا زیادہ دھیان دے سکیں گے با نسبت یہودیوں کے۔ پولوس نے یہ ظاہر کرنے کے لیے اشعیا کے شکوے کا حوالہ دیا تھا۔

’’ہمارے پیغام پر کون ایمان لایااور خُداوند کا بازو کس پر ظاہر ہوا؟‘‘
       (اشعیا 53:‏1).

غیر یہودی ، یہودیوں کے مقابلے میں خوشخبری کو زیادہ قبول کرتے تھے۔ پھر بھی اس کےباوجود، پولوس اور دوسرے رسولوں کی تبلیغ کے زمانے کے دوران صرف غیر یہودیوں کی نسبتاً کم تعداد نے یسوع میں یقین کیا۔ اگرچہ رسولوں کے دور میں بہت بڑی تجدید نو ہوئی تھی ۔ جیسا کہ ہم اعمال کی کتاب میں دیکھتے ہیں۔ اس کے باوجود پھر بھی وہ شاندار تجدیدِ نو نسبتاً کم تعداد میں صرف غیر یہودیوں کو مسیح کی نجات کی طرف لےکر آئی۔ بشارتِ انجیل مشکل تھی، یہاں تک کہ رومیوں کے درمیان بھی!

مسیح اور رسولوں دونوں نے بہت کم لوگوں کو تبدیل ہوتے دیکھا تھا۔ یوں، پہلی صدی کے مسیحی فیصلہ کن طور پر اقلیت میں تھے، اُور اُس وقت کی ستم زدہ اور اذیت زدہ اقلیت! اور یوں، یوحنا اور پولوس نے زیادہ تر لوگوں کی خوشخبری کی مخالفت کی وضاحت کے لیے ہمارے کلام کو دہرایا ہے – یہ واضح کرنے کےلیے کہ کیوں زیادہ تر وہ جنہوں نے اُنہیں سُنا تھا تبدیل نہیں ہوئے تھے۔

’’ہمارے پیغام پر کون ایمان لایااور خُداوند کا بازو کس پر ظاہر ہوا؟‘‘
       (اشعیا 53:‏1).

یہ بات اب تک کی مسیحی تاریخ کے تمام ادوار میں درست رہی ہے۔ ہمیشہ، ہر دور میں، صرف ایک چھوٹی اقلیت کے لوگوں نے خوشخبری پر یقین کیا اور حقیقی طور پر تبدیل ہوئے۔ اور یہ آج کی اِس دنیا میں ابھی تک درست ہے۔ کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ جو ہمیں ہمارے آخری موضوع پر لے آتا ہے۔

3۔ سوئم، آج چند یقین کرتے ہیں اور تبدیل ہوتے ہیں۔

اس دُکھوں سے بھرپور سوال کاسامنا آج ہمارے اپنے دور میں ہمیں اکثر اشعیا کے رنج و غم میں چیخ و پکار کی حقیقت کے ساتھ کرنا پڑتا ہے۔

’’ہمارے پیغام پر کون ایمان لایااور خُداوند کا بازو کس پر ظاہر ہوا؟‘‘
       (اشعیا 53:‏1).

افسوس کے ساتھ، ہمیں ضرور یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج لوگ انجیل کی تبلیغ پر یقین کرتے ہیں، اور چند ہی مسیح کی قوت سے بچائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے عزیز ترین رشتہ دار بھی اکثر مسیح کی خوشخبری کو مسترد کر دیتےہیں۔ اور آپ میں سے اکثر جانتے ہیں کہ اُن میں سے صرف چند ہی جنہیں ہم تبلیغ سننے کےلیے گرجہ گھر میں لاتے ہیں کبھی تبدیل ہوتے ہیں۔ اس پر میں صرف تین باتیں کہوں گا:

(1)  اوّل، بائبل ہمیں کہاں بتاتی ہے کہ زیادہ تر لوگ بچائے جائیں گے؟ ایسا نہیں ہے۔ حقیقت میں، یسوع نے اس کے برعکس کہا ہے۔ اُس نے کہا،

’’تنگ دروازے سے داخل ہو کیونکہ وہ دروازہ چوڑا اور وہ راستہ کشادہ ہے جو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے اور اُس سے داخل ہونے والے بہت ہیں کیونکہ وہ دروازہ تنگ اور وہ راستہ سُکڑا ہے جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں‘‘ ( متی 7:‏13۔14)۔

اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں! ہمیں اپنے ذہن میں یہ ضرور رکھنا چاہیے کہ کب ہماری انجیلی بشارت کی کوششوں کے نتیجے میں جب ہم نے زیادہ کے لیے اُمید کی تھی تو کم لوگوں نے اپنے آپ کو مذہبی طور پر تبدیل کیا۔


اور پھر دوسری بات جو میں کہوں گا وہ یہ ہے۔

(2)  ہمارا انجیلی بشارت کا مقصد اس بات پر منحصر نہیں کرتا کہ کتنے اپنے آپ کو مذہبی طور پر تبدیل کریں گے۔ چاہے ردعمل کم ہو یا زیادہ، ہمارا مقصد اس بات پر کبھی بھی مرکوز نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے لوگوں نے اپنے آپ کو مذہبی طور پر بدلا ہے۔ ہمارے مقصد کا انحصار خُداوند کی فرمانبرداری میں ہے۔ ہماری آنکھیں ہمیشہ خُداوند پر مرکوز رہنی چاہیے، اور ہماری اُس پرفرمانبرداری کےلیے جب ہم انجیلی بشارت کے لیے جائیں؛ اور ہماری آنکھیں ہمیشہ خُداوند پر مرکوز رہنی چاہیے، اور ہماری اُس پرفرمانبرداری کےلیے جب ہم انجیل کی تبلیغ کریں! مسیح نے ہمیں بتایا،

’’ساری دنیا میں جا کر تمام لوگوں میں انجیل کی منادی کرو‘‘ (مرقس 16:‏15).

یہ ہے جو یسوع نے ہمیں کرنے کے لیے کہا ، اور ہمیں یہ ضرور کرنا ہے چاہے لوگ سُنیں یا نہ؛ چاہے وہ مذہبی طور پر تبدیل ہوں یا نہ ہوں۔ ہمیں انجیل کی بشارت ضرور دینی ہے کیونکہ یسوع نے ہمیں ایسا کرنے کے لیے کہا ہے! ہماری جیت کا انحصار انسانوں کے ردعمل سے نہیں ہے! جی نہیں! ہماری کامیابی کا انحصار یسوع کے لیے فرمانبردار ہونے پر ہے۔ اِس لیے ہم انجیلی بشارت کے لیے ضرور جائیں گے چاہے وہ انجیل پر یقین کریں یا نہ کریں۔


اور پھر تیسری بات ہے جو اسی میں سے نکلتی ہے۔

(3)  کیا آپ مسیح پر یقین رکھتے ہیں؟کیا آپ مسیح میں تبدیل ہوئے ہیں؟ کیا آپ مسیح میں ایمان کے ساتھ آئے ہیں؟ بے شک اگر آپ کے خاندان میں سے اور آپ کے جو دوست ہیں اُن میں سے بھی کوئی تبدیل نہیں ہوا ہے، توکیا آپ مسیح کو تلاش کریں گے؟ کیا آپ اُس کے پاس جائیں گے؟ یاد رکھیں کہ مسیح نے کہا،

’’جو ایمان لائے اور بپتسمہ لے وہ نجات پائے گالیکن جو ایمان نہ لائے وہ مجرم قرار دیا جائے گا‘‘ (مرقس 16:‏16).

کیا آپ یسوع کے پاس آئیں گے، تبدیل ہونگے، اور پھر بپتسمہ لیں گے؟ یا آپ اُس ہجوم میں شامل ہونگے جنہوں نے نجات دہندہ کو مسترد کیا، اور دائمی طور پر جہنم کے شعلوں میں غائب ہوگئے؟

’’لیکن جو ایمان نہ لائے وہ مجرم قرار دیا جائے گا‘‘ (مرقس 16:‏16).

یہ میری دُعّا ہے کہ آپ اُس ہجوم میں شامل نہیں ہونگے جو جہنم واصل ہوگا، لیکن یہ کہ آپ اِس مقامی گرجہ گھر میں ہمارے ساتھ شامِل ہو جائیں گے۔ دنیا میں سے باہر آئیں! یسوع کے پاس ایمان کے وسیلے سے آئیں! اِس مقامی گرجہ گھر میں آئیں۔ اور ہمیشہ کے لیے ابدی زندگی میں یسوع کی راستبازی اور خون کے ساتھ بچائے جائیں۔

’’ہمارے پیغام پر کون ایمان لایااور خُداوند کا بازو کس پر ظاہر ہوا؟‘‘
       (اشعیا 53:‏1).

آپ بھی اُن میں سے ایک ہوں جو یقین کرتے ہیں اور مذہبی طور پر بدلتے ہیں! آپ بھی اُن چند میں سے ایک ہوں جو انجیل پر یقین کریں جب اُس کی تبلیغ کی جاتی ہو۔ آپ بھی کہیں، ’’ جی ہاں، یسوع میرے گناہوں کے کفارے کے لیے فوت ہوا۔ جی ہاں وہ مردوں میں سے جی اُٹھا ۔ جی ہاں میں اُس کے پاس ایمان کے ساتھ آتا ہوں۔‘‘ آپ بھی اُن چند میں سے ایک ہوں جن پر خُداوند کا بازو ظاہر ہوتا ہے، جیسے کہ آپ یسوع پر اعتماد کے وسیلے سے نجات کا تجربہ کرتے ہیں۔ ’’خُدا کا برّہ جو جہاں کے گناہوں کو اُٹھا لے جاتا ہے‘‘ (یوحنا 1:‏29). آپ بھی اُن میں سے ایک ہوں جو یسوع کے پاس جائے اور اُس کے قیمتی خُون سے اپنے گناہوں کو دھو کر پاک صاف ہو جائے۔ آپ کو بھی خُداوند فضل عطا کرے تاکہ آپ ہمارے پیغام پر یقین کریں اور خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے گناہ سے نجات کا تجربہ کریں! آمین!

مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور اپنے اپنی گیتوں کی شیٹ پر سے گیت نمبر سات ’’میں آ رہا ہوں، اے خُداوند،‘‘ گائیں۔

میں تیری خوش آمدید کی آواز سُنتا ہوں،اے خُداوند، جو مجھے تیرے پاس بُلاتی ہے
   تیرے قیمتی خون میں پاک صاف ہونے کے لیے جو کلوری سے بہتا ہے۔
میں آ رہا ہوں، اے خُداوند! ابھی تیرے پاس آ رہا ہوں!
   مجھے دھو ڈال، کلوری پر جو خون بہا اُس میں مجھے پاک صاف کر ڈال۔

بے شک کمزور اور لائق مذمت آ رہا ہوں، تو ہی میری قوت کی یقین دھانی ہے؛
   تو ہی میرے گھٹیاپن کو مکمل پاک صاف کرتا ہے، جب تک سب کچھ بے داغ اور خالص نہ ہوجائے۔
میں آ رہا ہوں، اے خُداوند! ابھی تیرے پاس آ رہا ہوں!
   مجھے دھو ڈال، کلوری پر جو خون بہا اُس میں مجھے پاک صاف کر ڈال۔
(’’میں آ رہا ہوں، اے خُداوند I Am Coming, Lord‘‘
      شاعر لوئیس ہارٹ سوح Lewis Hartsough،‏ 1828۔1919)۔

اگر آپ یسوع کے وسیلے سے اپنے گناہ سے پاک صاف ہونے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات کرنا چاہیں، تو مہربانی سے اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پُرسکون مقام پر لے جائیں گے جہاں ہم بات چیت کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے آئیں اور اُن کے لیے دعا کریں جنہوں نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے مسٹر ایبل پرھودھومیMr. Abel Prudhomme نے دعا کی تھی۔ اشعیا52:‏13۔53:‏1
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ نے :Mr. Benjamin Kincaid Griffith گایا تھا:
’’کانٹوں کا ایک تاج‘‘ (شاعر ایف۔ سٹانفِل Ira F. Stanphill،‏ 1914۔1993)

لُبِ لُباب

مسترد کردہ پیغام

(اشعیا 53 باب پر واعظ نمبر 2)
THE REJECTED REPORT
(SERMON NUMBER 2 ON ISAIAH 53)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’ہمارے پیغام پر کون ایمان لایااور خُداوند کا بازو کس پر ظاہر ہوا؟‘‘ (اشعیا 53:‏1).

(اشعیا 52:‏14، 13)

1.  اوّل، بہت کم نے یقین کیا اور مسیح کی زمینی منادی کے دوران تبدیل ہوئے،
یوحنا 11:‏39، 43 ۔44، 53؛ 12:‏37۔38؛ متی 9 :‏35 .

2.  دوئم، رسولوں کے زمانے کے دوران بہت کم نے یقین کیا اور تبدیل ہوئے تھے،
 رومیوں 10:‏11۔16 .

3.  سوئم، آج چند یقین کرتے ہیں اور تبدیل ہوتے ہیں، متی 7:‏13۔14؛ مرقس 16:‏15 ، 16؛
یوحنا 1:‏29 .